Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Monday, December 19, 2016

دہشت گردی: ایک فکری مطالعہ

Image result for ‫دہشت گردی‬‎

عدالتی کمیشن کی رپورٹ منظرِ عام پر آنے سے نیشنل ایکشن پلان کی افادیت ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ اس بار ہدف چوہدری نثار علی خان ہیں۔ یہ معاملہ ایک فرد کا نہیں، اس سے زیادہ ریاست اور اس سے بھی آگے بڑھ کر سماج کا ہے۔ برادرم سلمان عابدکی کتاب ''دہشت گردی۔۔۔۔ایک فکری مطالعہ‘‘ اسی کی شرح اور بیان میں لکھی گئی ہے۔
جولائی 2016 ء میں نیکٹا کی ایک ورکشاپ میں، دن بھر کے غور و خوض کے بعد، دہشت گردی کی روک تھام کے لیے حتمی تجاویز مرتب کی گئیں۔ آخری اجلاس سے وزیر داخلہ نے بھی خطاب کیا۔ ان کے ایک جملے نے مجھے چونکا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس معاشرے کا وہ طبقہ ہے جسے سمجھنے میں لوگوں کو سب سے زیادہ غلط فہمی ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے مدارس کے محاسن کا ذکر کیا۔ مدارس کے معاشرتی کردار کے بعض مثبت پہلوئوں کا مجھے بھی اعتراف ہے مگر اس تقریر سے میرے اس تاثر کو مزید تقویت ملی کہ ریاست کی اعلیٰ ترین سطح پر بھی، ابھی اصل مقدمہ پوری طرح واضح نہیں۔ یہ ابہام سماج کے دیگر طبقات کو بھی اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ پھر یہ ابہام صرف دینی مدارس کے سماجی کردار تک محدود نہیں، اس کی نوعیت ہمہ جہتی ہے۔ سلمان عابد کی کتاب اس کو بہت تفصیل کے ساتھ بیان کر تی ہے۔ 
ہم 2014ء تک، طویل عرصہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری جنگ نہیں ہے۔ عقل دہائی دیتی رہی کہ جو جنگ ہمارے گھر کے آنگن میں لڑی جا رہی ہے، جس میں اس قوم کے لوگ مر رہے ہیں، جس نے ہمارے ملک کو فساد سے بھر دیا ہے، وہ ہماری کیسے نہیں ہے؟ تعصبات نے اس طرح ہماری آنکھیں بند کر دیں کہ ہم نے محض اس بات پر دہشت گردوں کو مجاہد مان لیا کہ وہ امریکہ کے خلاف ہیں۔ چونکہ وہ امریکہ کے خلاف لڑ رہے ہیں،اس لیے ان پر یہ مباح ہے کہ اہلِ اسلام کو قتل کریں اور مسلمان ممالک کو فساد سے بھر دیں۔ پاکستان کی فوج سے لڑتے لڑتے وہ اگر مر جائیں تو شہید ہیں۔ تیرہ سال ہمارے اہلِ مذہب نے یہ مقدمہ پیش کیا اوراس قوم میں ابہام پیدا کیا۔ پھر 2014 ء میں، ایک اور 16 دسمبر آیا جس نے ہماری آنکھیں کھولیں اور ہم نے اس جنگ کو ریاست اور سماجی سطح پر، بادلِ نخواستہ اپنی جنگ مان لیا۔
اس جنگ کو اپنانے کے بعد، اگلا مرحلہ یہ تھا کہ اسے کس حکمتِ عملی کے ساتھ لڑا جا ئے؟ نیشنل ایکشن پلان اسی سوال کے جواب میں مرتب ہوا۔ اس میں جرم و سزا کے نظام کی اصلاح سے لے کرمدارس کی رجسٹریشن، فوجی عدالتوں کے قیام سے لے کر مذہبی نفرت پر مبنی لٹریچر کے خاتمے، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سے لے کر مذہبی جبر کے استیصال تک،بہت سے اہم نکات شامل تھے۔ حکومت نے اس پلان پر قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کیا اور تمام اہم سیاسی ومذہبی جماعتوں نے اس کی توثیق کی۔
اس پلان کے بیس نکات بتا رہے ہیں کہ یہ ایک ریاستی یا حکومتی نہیں، سماجی مسئلہ ہے۔ اس پر عمل در آمد اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک ریاستی ادارے، سول سوسائٹی، مدارس کے ذمہ داران، میڈیا اور تمام طبقاتِ زندگی کے لوگ اس پر عمل درآمد میں شریک نہیں ہو تے۔ اس سارے عمل کو ایک بیانیے میں ترتیب دینا،ان طبقات کو جمع کرنا اور ان کے سماجی کردارکی تفہیم ِنو کرنا، حکومت ہی کی ذمہ داری تھی۔ اب واضح ہے کہ یہ کام ان خطوط پر نہیں ہو سکا، جن پر ہونا چاہیے تھا۔ اس کی وجہ وہ ابہام ہے جو حکومتی سطح پر ابھی تک موجود ہے اور ہم سماج کو اس سے نکال نہیں سکے۔
سلمان عابد نے اپنی اس کتاب میں ان سب پہلوئوں کو الگ الگ مو ضوع بنایا ہے۔ انہوں نے میڈیا کے کردار پر ایک باب باندھا ہے۔ اسی طرح علاقائی سیاست اور مذہبی تعبیرات سمیت، ایک ایک نکتے کو لے کر اس پر اپنے خیالات کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے مزید یہ کام بھی کیا کہ ان مو ضوعات پر، چند برسوں کے دوران میں معاصر اہلِ دانش نے جو کچھ لکھا، بڑی حد تک، اس کا ایک خلاصہ بھی دے دیا ہے۔ انہوں نے لکھنے والوں کے خیالات میں موجود اختلافات کو بھی ان کے دلائل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ یوں یہ کتاب جہاں مصنف کے خیالات کا بیان ہے، وہاں ایک عہد کے فکری کام کا محاکمہ بھی ہے۔
اس کتاب کی ایک اور خوبی بعض اہم معلومات کو جمع کرنا ہے۔ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ مختلف سالوں میں پاکستان میں دہشت گردی کے کتنے واقعات ہوئے۔کتنے افراد لقمہ اجل بنے اور کتنے زخمی ہوئے۔ فرقہ وارانہ جھگڑے کتنے ہوئے۔ مذہبی اداروں اور عبادت گاہوں پر کتنے حملے ہوئے۔ اسی طرح، اس کتاب سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں کتنی مذہبی جماعتیں پائی جاتی ہیں۔ ایک ایک مسلک کے کتنے گروہ ہیں۔ یہ جماعتیں کب قائم ہوئیں، ان کے سربراہ کون ہیں۔ ان معلومات کا ماخذ 'پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز‘ کی مختلف رپورٹس ہیں۔ اسی طرح نیشنل ایکشن پلان سمیت بعض اہم دستاویزات کو بھی کتاب میں شامل کر دیا گیا ہے۔
یہ بات دلچسپ ہے کہ حکومتی سطح پر اس طرح کے مصدقہ اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ عدالتی کمیشن نے بھی اس کی نشان دہی کی ہے۔کمیشن نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس نے تمام وفاق ہائے مدارس سے، ان سے وابستہ مدارس کی تعداد کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ تعداد 26,465 ہے۔ یہی سوال جب وزارتِ مذہبی امور سے پوچھا گیا تو پتا چلا کہ یہ تعداد 11,852 ہے۔ وزارت نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہمیں وفاق المدارس کی طرف سے ابھی کوئی جواب نہیں ملا۔ گویا کمیشن کو جواب مل گیا لیکن وزارت کو نہیں مل سکا۔ اس سے بھی حکومتی حسنِ کارکردگی کاا ندازہ ہوتا ہے۔
وزیر داخلہ اگر یہ کہتے ہیں کہ مدارس کے بارے میں سب سے زیادہ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں تو اس کا سبب یہ ہے کہ ریاستی سطح پر دینی تعلیم کے اس عمل کو سمجھنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی۔ مدارس کا نصاب کیا ہے، تعلیمی ماحول کیسا ہے، مذہبی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ان کا تعلق کیا ہے، فرقہ واریت کے حوالے سے ان کا کردار کیا ہے، القاعدہ اور داعش کی تعبیر سے کتنے لوگ اتفاق رکھتے ہیں، ان کے اہتمام میں کتنے جرائد نکلتے ہیں اور ان میں کس طرح کے مضامین شائع ہو تے ہیں، ان سوالات کے حوالے سے کوئی مطالعہ نہیں ہوا۔ یہی سبب ہے کہ کوئی وزیر داخلہ کی طرح خوش گمان ہو یا کسی ناقد کی طرح بدگمان، سب کی رائے خام ہے کیونکہ اس کی بنیاد غیر مصدقہ اور ادھوری معلومات پر ہے۔ سلمان عابد ہمیں بڑی حد تک مصدقہ معلومات فراہم کرتے ہیں۔
سلمان عابدنے جس یک سوئی سے ملک کے حقیقی مسائل کو سنجیدگی اور تواترکے ساتھ اپنے کالموں اور سوچ بچارکا موضوع بنایا ہے، وہ قابلِ رشک ہے۔ قبولیتِ عامہ کے مطالبے سے صرفِ نظر کرتے ہوئے، جس ریاضت کے ساتھ، انہوں نے اپنی قومی ذمہ داری پر نظر رکھی ہے، وہ داد کی مستحق ہے۔ اس ریاضت اور یکسوئی کا ایک مظہر ان کی یہ کتاب بھی ہے۔ برادرم فرخ گوئندی کے ادارے 'جمہوری پبلیکیشنز‘ نے اس کتاب کو جس خوش ذوقی کے ساتھ شائع کیا ہے، اس پر وہ بھی تحسین کے لائق ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے 
افادیت کے ضمن میں اٹھنے والی نئی بحث نے اس کتاب کی اہمیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
خورشید ندیم 
- See more at: http://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2016-12-19/17916/71696070#tab2

Related :

مزید پڑھیں:

    Saturday, December 17, 2016

    Facilitators of Terrorists خوارج اور سہولت کار

    Image result for ‫خوارج کے سہولت کار‬‎


    Read in English >>>  http://goo.gl/LVjX3

    بعض لوگ خوارج کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں اور انہیں برا نہیں جانتے، جب کہ بعض لوگ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے خوارج کی پشت پناہی اور support کرتے ہیں اور اپنے طرز عمل سے شرپسندوں اور دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، اُن کے لیے ماسٹر مائنڈ (master mind) کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں اور ان کی مالی و اخلاقی معاونت (financial & moral support) کرکے انہیں مزید دہشت پھیلانے کی شہ دیتے ہیں، یہ عمل بھی انتہائی مذموم ہے۔

    خوارج کی پشت پناہی کرنے والوں کے لیے قَعْدِيَۃ (عملاً بغاوت میں شریک نہ ہونے والے کی) اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

    شارح صحیح البخاری حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

    ’’والقعدية‘‘ قوم من الخوارج، کانوا يقولون بقولهم، ولا يرون الخروج بل يزينونه.

    (عسقلاني، مقدمة فتح الباري: 432)

    ’’اور قَعْدِيَۃ خوارج کا ہی ایک گروہ ہے۔ یہ لوگ خوارج جیسے عقائد تو رکھتے تھے مگر خود مسلح بغاوت نہیں کرتے تھے بلکہ (وہ خوارج کی پشت پناہی کرتے ہوئے) اسے سراہتے تھے۔‘‘

    حافظ ابن حجر عسقلانی مقدمۃ فتح الباری میں ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

    والخوارج الذين أنکروا علی علي رضی الله عنه التحکيم وتبرء وا منه ومن عثمان رضی الله عنه وذريته وقاتلوهم فإن أطلقوا تکفيرهم فهم الغلاة منهم والقعدية الذين يزينون الخروج علی الأئمة ولا يباشرون ذلک.

    (عسقلاني، مقدمة فتح الباري: 459)

    ’’اور خوارج وہ ہیں جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلۂ تحکیم (arbitration) پر اعتراض کیا اور آپ رضی اللہ عنہ سے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے اور ان کی اولاد و اَصحاب سے برات کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ جنگ کی۔ اگر یہ مطلق تکفیر کے قائل ہوں تو یہی ان میں سے حد سے بڑھ جانے والا گروہ ہے جبکہ قَعْدِيَۃ وہ لوگ ہیں جو مسلم حکومتوں کے خلاف مسلح بغاوت اور خروج کو سراہتے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، لیکن خود براہ راست اس میں شامل نہیں ہوتے۔‘‘

    اِسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی اپنی ایک اور کتاب ’’تھذیب التھذیب‘‘ میں خوارج کی پشت پناہی کرنے والوں کے بارے میں لکھتے ہیں:

    ’’والقعد‘‘ الخوارج کانوا لا يرون بالحرب، بل ينکرون علی أمراء الجور حسب الطاقة، ويدعون إلی رأيهم، ويزينون مع ذالک الخروج، ويحسنونه.

    (عسقلاني، تهذيب التهذيب، 8: 114)

    ’’اور قَعْدِيَۃ (خوارج کی پشت پناہی کرنے والے) وہ لوگ ہیں جو بظاہر خود مسلح جنگ نہیں کرتے بلکہ حسبِ طاقت ظالم حکمرانوں کا انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو اپنی فکر و رائے کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مسلح بغاوت اور خروج کو (مذہب کا لبادہ اوڑھا کر) سراہتے ہیں اور دہشت گرد باغیوں کو اِس کی مزید ترغیب دیتے ہیں۔‘‘

    شارح صحیح البخاری حافظ ابن حجر عسقلانی کے درج بالا اقتباسات سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ قَعْدِيَۃ بھی خوارج میں سے ہی ہیں۔ لیکن یہ گروہ کھل کر اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتا اور پسِ پردہ رہ کر خوارج کی باغیانہ اور سازشی سرگرمیوں کے لیے منصوبہ بندی (planning) کرتا ہے۔ گویا یہ گروہ ماسٹر مائنڈ کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ اِس گروہ کا کام دلوں میں بغاوت اور خروج کے بیج بونا ہے، خاص طور پر جب یہ گفتگو کسی ایسے فصیح و بلیغ شخص کی طرف سے ہو جو لوگوں کو اپنی چرب زبانی سے دھوکہ دینے اور اسے سنتِ مطہرہ کے ساتھ گڈ مڈ کرنے کی صلاحیت بھی 

    رکھتا ہو۔

    https://manhajahlussunah.wordpress.com/2013/09/08/خوارج-کی-پشت-پناہی-کرنے-والے-بھی-خوارج-ہ/
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فاسق فجر  مسلمان حکمران اور  تکفیر  و خروج  (بغاوت )
    1۔ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
    «عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ»
    ایک مسلمان پر سمع واطاعت فرض ہے چاہے اسے پسند ہو یا نا پسند ہو، الا یہ کہ اگر اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے ، اگر امیر اسے نافرمانی کا حکم دے تو نہ تو اس پر سننا ہے او نہ ماننا۔
    (بخاری 7144، مسلم: 1839 الفاظ مسلم کے ہیں)
    2۔ حذیفۃ بن الیمانؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہا آپ ﷺ نے فرمایا: 
    عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا بِشَرٍّ، فَجَاءَ اللهُ بِخَيْرٍ، فَنَحْنُ فِيهِ، فَهَلْ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: هَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: فَهَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: كَيْفَ؟ قَالَ:«يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ» قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ» 
    میرے بعد ایسے امام ہوں گے جو نہ تو میری سنت پر چلیں گے اور نہ میرے طریقے کی پیروی کریں گے۔۔۔۔
    (مسلم:1847)
    3۔ علقمہ بن وائل اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئےفرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
    عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ، فَجَذَبَهُ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، وَقَالَ: «اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ» 
    سلمۃ بن یزید الجعفیؓ نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا، وہ کہتے ہیں کہ : ہم نے کہا:
    اے اللہ کے نبی اگر ہم پر ایسے امراء مسلط ہوجائیں جو ہم سے اپنا حق مانگیں اور ہمارا حق روکیں تو ایسی صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔
    (مسلم:1846)
    4۔ام سلمۃؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نےفرمایا:
    «سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: «لَا، مَا صَلَّوْا» 
    عنقریب ایسے امراء ہوں گے جن کی بعض باتیں تمہیں اچھی لگیں گی اوربعض بری ، چنانچہ تو جوان کی غلط باتوں کو پہچان لے اس کا ذمہ بری ہوگیا، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (صحیح مسلم:1854)
     ان روایات میں جن حکام کا ذکر ہے، وہ اسلام کے مطابق وہ مسلمانوں کے حاکم ہی رہے اور انہی سے برتاو کے بارے اسلام نے باقاعدہ رہنمائی کی ہے۔
    تکفیری کہتا ہے کہ ؛  حاکم چلیں جیسا بھی ٹھیک ہے، ہمیں اس کے ساتھ شریعت کے مطابق ہی چلنا چاہیے لیکن یہاں مسئلہ حاکم کے شرعی یا غیر شرعی ہونے کا نہیں ہے۔۔۔۔اور نہ ہی ہم اس بنیاد پر ان کی تکفیر اور ان سے جنگ کرتے ہیں، بلکہ ہماری لڑائی تو اس “باطل نظام ”  کی وجہ سے ہے، جو انہوں نے قائم کر رکھا ہے اور مسلط کر رکھا ہے۔ اور جتنی بھی احادیث ہیں وہ حکام کے بارے ہیں مگر نظام کا ان میں تذکرہ نہیں ہے!
     یہ بتا دیں کہ باطل نظام کی تعریف کیا ہوتی ہے؟؟؟
    خارجی :  وہ نظام جو قرآن و سنت کے خلاف ہو، کافروں کی خواہشات کے مطابق ہو وغیرہ وغیرہ
     وہی احادیث مبارکہ  اور وہ مقامات دکھائے، جہاں باقاعدہ اسکے مطابق ‘‘غیر شرعی‘‘ حکمرانوں کے علاوہ اسی کی تعریفات کے عین مطابق باطل نظاموں کا بھی تذکرہ موجود ہے، لیکن اس کے باوجود ایک عام مسلم مومن کو حاکم سے کیسا برتاو رکھنا چاہیے، اس جانب خوب رہنمائی کی گئی ہے۔
    عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا بِشَرٍّ، فَجَاءَ اللهُ بِخَيْرٍ، فَنَحْنُ فِيهِ، فَهَلْ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: هَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: فَهَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: كَيْفَ؟ قَالَ:«يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ» قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ» 
    میرے بعد ایسے امام ہوں گے جو نہ تو میری سنت پر چلیں گے اور نہ میرے طریقے کی پیروی کریں گے۔۔۔۔
    (مسلم:1847)
    قَالَ ﷺ : «يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ» 
    قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟
    قَالَ ﷺ : «تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ» 
    آپﷺ نے فرمایا:   ایسے لوگ (حاکم) پیدا ہوں گے جن کے جسم انسانوں کے ہوں گے اور دل شیطان کے۔
    میں نے کہا:  اے اللہ کے رسول! اگر میں ایسے لوگوں کو پالوں تو کیا کروں؟
    آپﷺ نے فرمایا:
    حاکم وقت کی سنو اور اس کی اطاعت کرو، اگرچہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے اور تمہارا سارا مال لے لے۔ پھر بھی تم اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔۔۔۔۔۔۔
    (مسلم:1847)
    3۔ ام سلمۃؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نےفرمایا:
    «سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: «لَا، مَا صَلَّوْا»
    عنقریب ایسے امراء ہوں گے جن کی بعض باتیں تمہیں اچھی لگیں گی اوربعض بری ، چنانچہ تو جوان کی غلط باتوں کو پہچان لے اس کا ذمہ بری ہوگیا،۔۔۔۔۔۔۔۔
    (صحیح مسلم:1854)
    میں نے کہا جناب ، اپنی آنکھیں اور دماغ کھول کر دیکھ لیں کہ رسول اللہ ﷺ ، جہاں حکام کے خود فاسق و فاجر اور ظالم ہونے کا بتلا رہے ہیں ، وہی انکے نظاموں کو بھی واضح فرما رہے ہیں کہ وہ قرآن و سنت کو چھوڑ کر دیگر نظاموں پر حکومتیں چلائیں گے۔ آپ ﷺ نے حتی کہ یہاں تک فرما دیا کہ ان کے دل شیطان کے ہوں گے، یعنی وہ شیطانی طریقہ کار اور نظاموں کو نہ صرف دلدادہ بلکہ انہیں مسلط بھی کریں گے۔
    لہذا ، آپ کے دونوں ہی دعوے (حاکم غیر شرعی ہے پھر بعد میں نظام باطل ہے، اس لئے ہم انکی اطاعت سے نکلتے ، انکی تکفیر اور پھر خروج کرتے ہیں ) بے دلیل اور نفسانی خواہشات پر مبنی ہیں اور اسلام ان سے بری ہے۔
    اور پھر میں نے اسے یہ  رسالہ ” حکام وقت کی اطاعت احادیث نبویہ کی روشنی میں “ ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا، کہ جاؤ اور اسے پڑھو، زندگی رہی تو آئندہ ضرور ملاقات ہوگی۔اللہ حافظ
    https://alfitan.com/2016/08/29/موجودہ-حکام-اور-انکے-باطل-نظام-ایک-خار/
     داعش نے احکام تکفیر میں بہت ٹھوکریں کھائی ہیں۔ اس نے جہالت وغلو کی بناء پر مسلمانوں کی تکفیر کی اور انہیں مرتد ٹھہرایا اور پھر اسی کی بناء پر ان کی جان ومال کو لوٹنا حلال سمجھ لیا۔ حالانکہ اصل غلطی ان کی اپنی تھی کہ انہوں نے اپنے غالی عقائد کی بناء پر اصلی کافر جیسے دشمن سے قتال کی نصوص کو اپنے بنائے ہوئے مرتدوں پر فٹ کردیا۔

    Related :

    Jihad, Extremism

      Tuesday, November 1, 2016

      فتنہ اور مسلمانوں کے قتال کی ممانعت: Killing of Muslims Prohibited on pretext of Finah

      فتنہ اور مسلمانوں کے قتال کی ممانعت:
      ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہا کہ آیت " وان طائفتان من المومنین اقتتلو الخ،" کو پیش نظر رکھ کر آپ اس وقت کی باہمی جنگ میں شرکت کیوں نہیں کرتے؟
      "وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ ۚ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ"049:009﴾
      "اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے پس وہ رجوع لائے تو دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے "(الحجرات 49:9)
       آپ نے فرمایا تم لوگوں کا یہ طعنہ اس سے بہت ہلکا ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کر کے جہنمی بن جاؤں جیسے فرمان الٰہی ہے ومن یقتل مومنا متعمدا الخ، اس نے کہا اللہ تعالٰی کا فرمان ہے کہ فتنہ باقی ہو تب تک لڑائی جاری رکھو ۔ آپ نے فرمایا یہی ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا ۔ اس وقت مسلمان کم تھے، انہیں کافر گرفتار کر لیتے تھے اور دین میں فتنے ڈالتے تھے یا تو قتل کر ڈالتے تھے یا قید کر لیتے تھے ۔ جب مسلمان بڑھ گئے وہ فتنہ جاتا رہا ۔ اس نے جب دیکھا کہ آپ مانتے نہیں تو کہا؛
       اچھا حضرت علی اور حضرت عثمان کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں؟ 
       آپ نے فرمایا حضرت عثمان کو اللہ نے معاف فرمایا لیکن تمہیں اللہ کی وہ معافی بری معلوم ہوتی ہے ۔ حضرت علی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے اور آپ کے داماد تھے، یہ ہیں آپ کی صاحبزادی ، یہ کہتے ہوئے ان کے مکان کی طرف اشارہ کیا ۔ 
       ابن عمر ایک مرتبہ لوگوں کے پاس آئے تو کسی نے کہا کہ اس فتنے کے وقت کی لڑائی کی نسبت جناب کا کیا خیال ہے ؟ 
       آپ نے فرمایا جانتے بھی ہو فتنے سے کیا مراد ہے؟
        آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کافروں سے جنگ کرتے تھے، اس وقت ان کا زور تھا، ان میں جانا فتنہ تھا، تمہاری تو یہ ملکی لڑائیاں ہیں اور روایت میں ہے کہ حضرت ابن زبیر کے زمانے میں دو شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ آپ کے سامنے ہے آپ حضرت عمر کے صاحبزادے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ۔ آپ کیوں میدان جنگ میں نہیں اترے؟ 
        فرمایا اس لئے کہ اللہ نے ہر مومن کا خون حرام کر دیا ہے انہوں نے کہا کیا فتنے کے باقی رہنے تک لڑنا اللہ کا حکم نہیں؟ 
        آپ نے فرمایا ہے اور ہم نے اسے نبھایا بھی یہاں تک کہ فتنہ دور ہو گیا اور دین سب اللہ ہی کا ہو گیا ، اب تم اپنی اس باہمی جنگ سے فتنہ کھڑا کرنا اور غیر اللہ کے دین کے لئے ہو جانا جاہتے ہو ۔ ......
      ایک صحیح رویت میں ہے کہ حضرت اسامہ ایک شخص پر تلوار لے کر چڑھ گئے جب وہ زد میں آ گیا اور دیکھا کہ تلوار چلا جاہتی ہے تو اس نے جلدی سے لا الہ الا اللہ کہدیا لیکن اس کے سر پر تلوار پڑ گئی اور وہ قتل ہو گیا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا بیان ہوا تو آپ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کیا تو نے اسے اس کے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کیا ؟ 
      تو لا الہ الا اللہ کے ساتھ قیامت کے دن کیا کرے گا؟ 
      حضرت اسامہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ تو اس نے صرف اپنے بچاؤ کیلئے کہا تھا ۔ آپ نے فرمایا کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ بتا کون ہو گا جو قیامت کے دن لا الہ الا اللہ کا مقابلہ کرے ۔ بار بار آپ یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آنے لگا کہ کاش کہ میں آج کے دن سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا؟
       پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ اب بھی باز نہ رہیں تمہاری مخالفت اور تم سے لڑائی نہ چھوڑیں تو تم یقین مانو کہ اللہ تعالٰی تمہارا موالا، تمہارا مالک، تمہارا مددگار اور ناصر ہے 
       (تفسیر ابن کثیر)

      Related :

      Jihad, Extremism

        Wednesday, October 5, 2016

        Radical Salafism: Osama's ideology By Bernard Haykel


        Image result for radical salafist ideology

        Radical Salafism is the ideology of Osama bin Laden's al-Qaeda organization. Its particular world view can be understood by looking at the roots of this ideology in Islamic intellectual history and by realizing that its teachings have been marginal to and opposed by mainstream Islamic thought.

        Muslims in the modern period are either Sunni (90%) or Shi'iah (10%). The distinction pertains to a dispute over the spiritual and political leadership of the Muslim community after the death of Prophet Mohammad (PBUH). In matters of politics, two principles are strongly identified with the Sunnis:

        1) they are loath to declare fellow Muslims infidels, a practice called takfir;

        2) they prohibit war against Muslim rulers, however tyrannical these may be, so long as Islam remains the religion of state and Islamic law is enforced. Sunnis argue that adherence to these two principles is crucial in order to maintain social order and to avoid warfare amongst Muslims which might lead to the demise of Islam itself.

        Osama bin Laden and his followers are Sunni Muslims of the Salafi branch. Salafism is a minoritarian tendency within Islam that dates back to the 9th century - under the name of Ahl al-Hadith - and whose central features were crystallized in the teachings of a 14th century Islamic scholar, Taqi al-Din Ahmad Ibn Taymiyya (d. 1328). Ibn Taymiyya's importance lies in that he was willing to hereticize fellow Muslims who did not share his views and, more important, he declared permissible war against Muslims rulers who did not apply the Shari'ah (he advocated war against the Mongols who had declared themselves to be Muslims but did not apply Islamic law).

        Salafism's hallmark is a call to modern Muslims to revert to the pure Islam of the Prophet Muhammad's generation and the two generations that followed his. Muslims of this early period are referred to as al-Salaf al-Salih (the pious forefathers) whence the name Salafi. Salafism's message is utopian, its adherents seeking to transform completely the Muslim community and to ensure that Islam, as a system of belief and governance, should eventually dominate the globe.

        Salafis are not against technological progress nor its fruits; they do, however, abhor all innovations in belief and practice that are not anchored in their conception of the pristine Islamic age. They refer to such reprehensible innovations as Bid'a, a term of deligitimization in Islamic law or the Shari'ah.

        According to the Salafis, Muslims can only be certain that they are not practising reprehensible innovations if they adhere to a strictly literal interpretation of the sources of revelation, and those are the Qur'an and the Sunna (the Sunna is the practice of Prophet Mohammad and can be found exclusively in the canonical collections of accounts of his sayings and doings (hadith)). Salafis claim to be the only Muslims capable of providing this literal interpretation; all other Muslims would therefore be - to a lesser or greater extent - deviant innovators.

        Another salient feature of Salafism is an obsession with God's oneness while condemning all forms of polytheism (shirk) and unbelief (kufr). Certain Sufi practices (Sufis are mystics of Islam), such as visiting the graves of great Sufi masters, are condemned by the Salafis as diminishing true belief in Allah. The world, according to the Salafis, is unequivocally divided between the domains of belief (iman) and unbelief, and it is incumbent on Muslims to be certain that they remain in the domain of belief.

        This they can do only if they are Salafis. Nothing less than eternal salvation is at stake. The Salafi world view is rigid and Manichaean. In its radical form Salafism leads to the practice of takfir. This is exactly what Osama bin Laden did in his November 4 statement: Muslims who are not with him are, by definition, infidels.

        The mantle of Ibn Taymiyya's teachings was most famously taken up by a movement in central Arabia in the 18th century. Known to its enemies as the Wahhabi movement,  whose adherents called themselves the Muwahhidun (The believers in the oneness of God). The Wahhabi's had a powerful reformist message and were able to galvanize the tribes of central Arabia into a powerful military period.

        So great was their zeal to focus all the belief and religious practices of fellow Muslims on God alone, that the Wahhabis destroyed in 1805 tombs in Medina, including a failed attempt at destroying the cupola over the tomb of Prophet Muhammad.

        Such excesses, including the declaration of fellow Muslims to be infidels whose blood could be shed, horrified the wider Muslim world leading the Ottoman Sultan to send an Egyptian military force and destroy the fledgling Wahhabi state. This was accomplished in 1818. The example the Wahhabi sect, however, left an indelible mark on the world of Islam and the like-minded would look to their experience as a model to be emulated.

        King Abd al-Aziz ibn Sa'ud, commonly known as Ibn Sa'ud, the founder of the present Saudi kingdom, based his rule and conquests on Salafi doctrine, and this remains the ideology of Saudi Arabia today. But Ibn Sa'ud realized quickly that embedded in this ideology was the potential for radical extremism and he vanquished militarily his own radicals, otherwise known as the Ikhwan, in 1930.

        The radical Salafis raised their heads again in November 1979 when one of their leaders, Juhayman al-Utaybi, led a revolt in Makkah that seized control of the Great Mosque for two weeks. As they had done in 1930, the Saudi authorities attacked al-Utaybi and his followers, killing every last one in a bloody battle in the Makkan sanctuary.

        However, it is important to know two features that distinguish the official Salafism of the Saudi kingdom from the teachings of these radical Salafis. The Saudis believe that: 1) war against an Islamic ruler is not permitted, and 2) declaring fellow Muslims to be infidels is also not permitted. For this reason, the Saudi minister of Islamic Affairs stated on October 19, in the aftermath of the WTC attacks, that "obedience to Islamic rulers is obligatory for Muslims."

        A principal reason radical Salafis like Osama bin Laden advocate violence against the Saudi state and the United States relates to the presence of US troops on Saudi soil. By permitting this, Osama says the Saudis are no longer adhering to Islamic law and consequently war against them is permissible. Osama bin Laden bases his claim about the illegality of the presence of US troops on a statement of Prophet Mohammad in which the Prophet says: "Expel the polytheists from the Arabian peninsula."

        Literally understood, the injunction is clear. Non-Salafis, i.e., the vast majority of Muslims, disagree with Osama's judgement. The non-Salafis counter with another statement of the Prophet in which he says: "Expel the Jews of Hijaz from the peninsula of the Arabs." The reference to the Jews is to be read as a synecdoche  (for non-Muslims: Hijaz is a region of Arabia and this second Prophetic statement narrows the more general first statement. In other words, non-Muslims are permitted to reside in Arabia, but not in Hijaz, the region of the twin sanctuaries of Makkah and Medina.)

        Such differences in abstruse legal opinions, however, do not explain Osama bin Laden's massive appeal among Muslims today. It is his genius at manipulating images and symbols, as well as his ability to tap into a wellspring of legitimate Muslim and Arab resentment of US foreign policies, that explains his success. Muslims live under the yoke of authoritarian regimes - regimes that have succeeded in destroying the fabric of traditional Muslim education and networks of knowledge and socialization.

        Most Muslims therefore do not appreciate or understand legal arguments like the one stated above. What Muslims react to enthusiastically is Osama's role as a leader and symbol of Muslim resistance to domestic and western oppression. This reaction is fuelled by a century of arguments promoted by the Arab regimes that all the problems of the Arab and Muslim worlds are due to foreign intrigue, and are not because of any policies or actions of the Arab and Muslim leaders themselves. This reasoning explains, for example, the eagerness with which so many Arabs and Muslims have accepted the conspiratorial theories that the attacks of September 11 were the work of Jews and Zionists.

        Thus far, moderate Sunni Muslims have been reluctant to condemn Osama bin Laden in light of the events of September 11. This is a consequence of the quiescent political culture Sunnis subscribe to: pointing fingers at fellow believers might lead to a state of chaotic disorder they fear most. Moreover, the present conflict involves unbelievers and Muslims prefer not to air their differences in public. Another reason for this conspicuous silence is that moderates feel the evidence Osama bin Laden in the attacks has not been provided by the US government.

        Finally, the fear of violent retaliation by the radical Salafis has kept many silent. Moderate Muslims, many of whom have been and continue to be oppressed by Arab and Muslim governments, do exist and must be encouraged to take centre stage. We can take heart from the fact that most Muslims have not heeded Osama's call to kill innocent Americans wherever and whenever they find them.

        In short, the battle being waged today is at heart an internal Islamic one and may take a very long time to end. It is part of a larger battle about the very nature of Islamic society and politics, and one in which there are many sides (moderate Muslims, state-sponsored Muslims, radical and moderate Salafis, secular nationalists, and Shi'ah

        The writer teaches Islamic law at New York University
          
        Copyright Notice
        This article is copyright 2001 DAWN, and may be redistributed provided that the article remains intact, with this copyright message clearly visible. This article may not under any circumstances be resold or redistributed for compensation of any kind without prior written permission from DAWN. If you have any questions about these terms, or would like information about licensing materials from DAWN, please contact us via telephone: +92 (21) 111-444-777, +92 (21) 567-0001 or email: webmaster@dawn.com

        DAWN is located on the World Wide Web at http://dawn.com

        This entire Website including all its contents, graphical images and other elements are the intellectual property of the Pakistan Herald Publications Ltd. (P.H.P.L.) - publishers of the DAWN newspaper.

        This site is for use by individuals and may not be used for any commercial purposes. No part of this site may be redistributed or otherwise published without written consent of P.H.P.L.


        Manichaen: a believer in religious or philosophical dualism
        the vast majority: i.e. of the entire Muslim population, Salafi's comprise less than 1% of them

        synecdoche: a figure of speech by which a part is put for the whole (as fifty sail for fifty ships), the whole for a part (as society for high society), the species for the genus (as cutthroat for assassin), the genus for the species (as a creature for a man), or the name of the material for the thing made (as boards for stage)

        "massive" (sic). We hardly think bin Laden has "massive" appeal. We disagree with the author here. 

        Related :

        Jihad, Extremism

          Saturday, October 1, 2016

          اَہْلُ السُّنَّۃ وَالْجَمَاعَۃ‘‘ کون؟ Who are real Sunni Muslim? Salafi, Wahabi, ISIS, Daesh Excluded

          اہل  سنت  والجماعت انٹرنیشنل  کانفرنس  چیچنیا گروزنی  میں  داعیش ، اور اس طرح کے دشت گرد  جتھوں  سے  لا تعلقی  کا  اعلان  کر دیا -
          Image result for SUNNI CONFERENCE IN GROZNY:

          Over 200 Sunni scholars from around the world accepted the invitation of Yemeni Sufi preacher, Alhabib Ali al-Jafri, to attend a conference in Grozny, the capital city of the Chechen Republic, Russia on 25-27 August 2016. The aim of the conference was to define the term “Ahl al-Sunna wa’l-Jama‘ah”, which is often used to describe an umbrella under which an assortment of Muslim sects stand and each claims a legitimacy to represent the true interpretation of Islam via the following of the sunna (tradition) of Prophet Muhammad. Among the notable personalities in the conference was a very high level delegation from Egypt, headed by the Grand Imam of al-Azher, Dr. Ahmed al-Tayyib, who gave a speech on the first day of the conference. The Egyptian delegation also included the former Grand Mufti of Egypt, Shaykh Ali Gum‘a, The current Grand Mufti, Shaykh Shawqi Allam, and, to make it even more official, a high government religious affairs representative, Shaykh Ousama al-Azhari. There was also the Grand Mufti of Syria, and a number of popular intellectuals such as Dr. Adnan Ibrahim.  Important was deliberate exclusion of Saudi Arabia from the conference. The conveners of the conference on identifying who the true Sunnis are made it clear that Saudi scholars and their Wahhabi version of Islam were not invited and not welcome to attend. Also excluded were all Salafis, the Muslim Brotherhood, and all terrorist groups that use violence in the name of Islam. To add insult to the injury, the conference, having excluded the Wahhabis and Salafis from the Sunni community, declared in its final communiqué the inclusion of Sufis, Ash‘aris and Maturidis – all of whom are disputed by Wahhabis and Salafis as true Sunnis. They disassociated from ISIS, DAesh and militant terrorist groups using nam of Sunnis falsely.....
           The agenda was to take an uncompromising stand against the growing Takfiri terrorism that is playing havoc across the world. The globally renowned Sunni Islamic scholars and clergy unanimously took a stand that the Takfiri terrorists, who loudly claim to belong to 'Sunni' Islam, are not from among the Ahlus Sunnah (the Islamic terminology for the mainstream Sunni Muslims in the world). Keep reading >>>>

          Image result for SUNNI CONFERENCE IN GROZNY:
          انحرافی فکر کا فتنہ ہر دور میں سر اٹھاتا رہا ہے ،یہ لوگ ہردور میں اپنی فکر کو قرآن وسنت کی طرف منسوب کرکے صحیح مَنہَجِ علمی کو مٹانے کی کوشش کرتے رہے ہیں- ان کی وجہ سے عام لوگوں کا امن وسکون غارت ہوجاتا ہے ،ایسی ہی گمراہ فکر کے حاملین قدیم دور کے خوارج تھے جن کاتسلسل ہمارے عہد کے وہ خوارج ہیں جو اپنے آپ کو سَلَفیت کی طرف منسوب کرتے ہیں اور مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں ۔ داعش اور اُن کی انتہا پسندانہ فکر کی حامل ساری تنظیموں میں یہ چیز بھی مشترک ہے کہ وہ دین کی مُسَلَّمہ اور مُتفقہ تعلیمات میں تحریف کرتے ہیں ، انتہا پسند ہیں ،جہالت پر مبنی باطل تاویلات کو دین سے منسوب کرتے ہیں ،اس کے نتیجے میں مسلمانوں میں فکری انتشار پیدا ہوتا ہے۔ اِن باطل تاویلات کے بَطن سے تکفیری اور تباہ کُن فکر،خوں ریزی اور تخریب وفساد جنم لیتا ہے اور اسلام کا نام بدنام ہوتا ہے۔اِن کی برپاکردہ جنگوںاور حق سے تجاوز کا تقاضا ہے کہ دینِ حنیف کے حاملین برملا اِن سے برائت کا اعلان کریں اور یہ رسول اللہﷺ کی اس حدیث کا مصداق ہوگا:''بعد میں آنے والوں میں سے اس دین کے حامل وہ انتہائی منصف مزاج علماء ہوں گے، جواِس دین کو انتہا پسندوں کی تحریف ، باطل پرستوں کی بے اصل باتوں اور جاہلوں کی تاویلوں سے پاک کریں گے،(شرح مشکل الآثار:3884) ‘‘۔
          اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ کانفرنس ایسا سنگِ میل ثابت ہوگی جو اِلحادی فکر کی اصلاح کرے گی اور انتہا پسندوں کے باطل اجتہاد ات وتاویلات کے ذریعے اھل السّنّۃ والجماعۃ کے لیے جو خطرات پیدا ہوچکے ہیں ،اُن سے نجات کا باعث ہوگی۔اس کا احسن طریقہ یہ ہے کہ ہماری بڑی درس گاہوں میں اس اِنحرافی فکر کو رد کرنے کے لیے مضبوط علمی استدلال کا طریقہ اختیار کیا جائے اورتکفیر اور انتہاپسندی سے نجات پانے کے لیے امن وسلامتی کے اسلامی پیغام کو پورے عالَمِ انسانیت کے لیے عام کیا جائے تاکہ ہمارے ممالک سب کے سب ہدایت کے سرچشمے اور مَنارۂ نور بنیں -

          --------------------------------------

          ’’اَہْلُ السُّنَّۃ وَالْجَمَاعَۃ‘‘ کون؟

          25تا27اگست 2016ء کو ریاستِ چیچنیا کے دارالحکومت ''گروزنی‘‘میں علمائے اسلام کی ایک عالمی کانفرنس''اَلْمُؤْتَمَرُ الْعَالَمِی لِعُلَمَائِ الْمُسْلِمِیْن‘‘ منعقد ہوئی۔اس کانفرنس کاموضوع تھا:''مَنْ ھُمْ اَھْلُ السُّنَّۃ وَالْجَمَاعَۃ ؟‘‘،یعنی ''اَہلُ السُّنَّۃ والجماعۃکون ہیں؟‘‘،بالفاظِ دیگر اہلُ السُّنَّۃ والجماعۃ کی متفقہ تعریف مقصود تھی۔اس کانفرنس میں شیخ الازہر ڈاکٹر محمد احمد الطیب ، جامعہ الازہر کے ریکٹر شیخ ابراہیم،مفتی اعظم چیچنیا شوکی الیَم،ڈاکٹر شیخ سعید عبداللطیف فُودہ (اردن)، شیخ الحبیب علی الجُفری (یمن)، شیخ ابوبکر (کیرالہ،انڈیا) اور دیگر علمائے کِبار شریک تھے۔چیچنیا کے صدر رمضان قدیروف نے اس کانفرنس کی صدارت کی ۔ کانفرنس کی قرارداد اور اعلامیہ حسبِ ذیل ہے :
          اہل السنۃ والجماعۃ اعتقادی یعنی کلامی مسائل میں اَشاعِرہ (جو امام ابوالحسن الاشعری کی طرف منسوب ہیں)،ماتُریدیہ (جو امام ابومنصور ماتریدی کی طرف منسوب ہیں)اور ''اَھْلُ الْحَدِیْثِ الْمُفَوِّضَہ‘‘شامل ہیں (یعنی وہ اہلِ حدیث جو اعتقادی مسائل میں صفاتِ الٰہی سے متعلق آیاتِ متشابہات پر ایمان لاتے ہیں اور اُن کے مرادی یا حقیقی معنی کو اللہ تعالیٰ کے علم کی طرف تفویض کردیتے ہیں،یعنی وہ ان الفاظ کے ظاہری معنی مراد نہیں لیتے ۔ان آیاتِ متشابہات میں اللہ تعالیٰ کے لیے ''یَدْ،وَجْہ،ساق، نفس، عَین اور جہت وغیرہا‘‘ کلمات آئے ہیں ۔پس جن اہلِ حدیث نے اِن کلمات کو اعضاء وجوارح (Organs)کے معنی میں لیا ہے، اس کانفرنس کی قرارداد کی رُو سے انہیں ''اہلُ السُّنَّۃ والجماعۃ‘‘ سے خارج قرار دیا گیا ہے، اس فکر کے حاملین کو علمائے علم الکلام نے ''مُجَسِّمین‘‘ سے تعبیر کیا 
          ہے)۔ ان میں چار فقہی مذاہب کے ماننے والے حنفیہ ،مالکیہ، شافعیہ اور حنابلَہ شامل ہیںاور ان کے علاوہ سید الطائفہ امام جُنید اورعلم ،اَخلاق اور تزکیہ میں اُن کے طریقِ اصلاح کے حامل ائمّہ ھُدیٰ شامل ہیں۔یہ علمی مَنہَج اُن علوم کا احترام کرتا ہے جو، وحیِ ربّانی کو سمجھنے کے لیے خادم کا درجہ رکھتے ہیں اور نفس وفکر کی اصلاح ،دین کو تحریف اور بے مقصد باتوں سے محفوظ رکھنے اور اموال اور آبرو کی حفاظت اور نظامِ اخلاق کی حفاظت کرنے میں ،اس دین کی اَقدار اور مقاصد کو واضح کرتے ہیں۔
          قرآنِ کریم کی حدود ہیںاور یہ تمام دینی علوم اس معنی میں بطورِ خادم اُس کا احاطہ کیے ہوئے ہیںکہ جو اُس کے معنی ومراد کو سمجھنے میں مددگار ہوتے ہیں اورحیات ،تمدُّن ،آداب واخلاق ،رحمت وراحت ،ایمان وعرفان اور دنیا میں امن وسلامتی کے فروغ سے متعلق قرآن میں ودیعت کیے ہوئے اِن علوم کا استخراج (Deduction) کرتے ہیں اور اِس کے سبب اقوامِ عالَم ،مختلف طرزِ بودوباش رکھنے والوں اورمختلف تہذیب وتمدُّن کے حاملین پر یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ دین تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے اور دنیا اور آخرت کی سعادت کا باعث ہے ۔
          اَھْلُ السنّۃ والجماعۃ کامَنْہَج تمام مَناہِجِ اسلام میں سے زیادہ جامع ،زیادہ ثِقہ ،زیادہ مضبوط ، علمی کُتب اور تدریس کے اعتبار سے شرعِ شریف کے مقاصدکے ادراک اور عقلِ سلیم کے لیے صحیح تعبیر کا حامل ہے اور تمام علوم اورحیاتِ انسانی کے تمام شعبوں میں بہترین ربط اور حسنِ تعلق کا آئینہ دار ہے۔اَہل السّنّہ والجماعہ کی علمی درس گاہوں نے صدیوں سے ہزاروں عُلَماء اورفُضَلاء پیدا کیے ہیں جو سائبیریا سے نائجیریا تک اور طنجہ(جبرالٹر کے بالمقابل مراکش کاساحلی شہر) سے جکارتا تک پھیلے ہوئے ہیں اور اِفتاء، قَضاء، تدریس اورخطابت کے شعبوں میں اعلیٰ ترین مناصب پر فائز رہے ہیں ۔اِن کی برکت سے انسانی معاشرت کو امان ملی ،فتنوں اور جنگوں کی آگ بجھی ،ممالک میں قرار وسکون آیا اور علم وعلوم کی اشاعت ہوئی۔
          اَھل السنّۃ والجماعۃ اپنی پوری تاریخ میں اسلام کی صحیح تعبیر کر کے انحرافی فکر سے اِس کی حفاظت کرتے رہے ہیں ،وہ مختلف فرقوں کے نظریات اور مفاہیم کا جائزہ لیتے ہیں اور اُن کے لیے علم، نقد وجرح اورثبوت کے معیارات مقرر کرتے ہیں ،اِلحاد وانحراف کی کوششوں کا سدِّ باب کرتے ہیں ،تحقیق وتنقیح کے شِعار کے ذریعے خطا وصواب میں امتیاز کرنے کے لیے علوم کی ترویج کرتے ہیں ۔انہی کے منہَجِ علمی کے فروغ کے باعث انتہا پسندی کا سدِّ باب ہوااور امتِ محمدیہ کے تمدُّن کو فروغ ملا ۔اسی طبقے میں اسلام کے وہ عَبقری علماء پیدا ہوئے، جنہوںنے الجبرا،ریاضی، جیومیٹری، لوگارتھم، انجینئرنگ ،طب و جراحت، فارمیسی، حیاتیات، ارضیات، کیمیا، طبیعیات، فلکیات ،صوتیات وبصریات اور دیگر علوم میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں ۔
          انحرافی فکر کا فتنہ ہر دور میں سر اٹھاتا رہا ہے ،یہ لوگ ہردور میں اپنی فکر کو قرآن وسنت کی طرف منسوب کرکے صحیح مَنہَجِ علمی کو مٹانے کی کوشش کرتے رہے ہیں،ان کی وجہ سے عام لوگوں کا امن وسکون غارت ہوجاتا ہے ،ایسی ہی گمراہ فکر کے حاملین قدیم دور کے خوارج تھے جن کاتسلسل ہمارے عہد کے وہ خوارج ہیں جو اپنے آپ کو سَلَفیت کی طرف منسوب کرتے ہیں اور مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں ۔ داعش اور اُن کی انتہا پسندانہ فکر کی حامل ساری تنظیموں میں یہ چیز بھی مشترک ہے کہ وہ دین کی مُسَلَّمہ اور مُتفقہ تعلیمات میں تحریف کرتے ہیں ، انتہا پسند ہیں ،جہالت پر مبنی باطل تاویلات کو دین سے منسوب کرتے ہیں ،اس کے نتیجے میں مسلمانوں میں فکری انتشار پیدا ہوتا ہے۔ اِن باطل تاویلات کے بَطن سے تکفیری اور تباہ کُن فکر،خوں ریزی اور تخریب وفساد جنم لیتا ہے اور اسلام کا نام بدنام ہوتا ہے۔اِن کی برپاکردہ جنگوںاور حق سے تجاوز کا تقاضا ہے کہ دینِ حنیف کے حاملین برملا اِن سے برائت کا اعلان کریں اور یہ رسول اللہﷺ کی اس حدیث کا مصداق ہوگا:''بعد میں آنے والوں میں سے اس دین کے حامل وہ انتہائی منصف مزاج علماء ہوں گے، جواِس دین کو انتہا پسندوں کی تحریف ، باطل پرستوں کی بے اصل باتوں اور جاہلوں کی تاویلوں سے پاک کریں گے،(شرح مشکل الآثار:3884) ‘‘۔
          اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ کانفرنس ایسا سنگِ میل ثابت ہوگی جو اِلحادی فکر کی اصلاح کرے گی اور انتہا پسندوں کے باطل اجتہاد ات وتاویلات کے ذریعے اھل السّنّۃ والجماعۃ کے لیے جو خطرات پیدا ہوچکے ہیں ،اُن سے نجات کا باعث ہوگی۔اس کا احسن طریقہ یہ ہے کہ ہماری بڑی درس گاہوں میں اس اِنحرافی فکر کو رد کرنے کے لیے مضبوط علمی استدلال کا طریقہ اختیار کیا جائے اورتکفیر اور انتہاپسندی سے نجات پانے کے لیے امن وسلامتی کے اسلامی پیغام کو پورے عالَمِ انسانیت کے لیے عام کیا جائے تاکہ ہمارے ممالک سب کے سب ہدایت کے سرچشمے اور مَنارۂ نور بنیں ۔
          یہ تفصیلات میں نے سہل انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ امتِ مسلمہ میں عالَمی سطح پر جو اضطراب ہے ، تمام مذہبی طبقات کو اس کا صحیح ادراک ہوجائے ۔میری دانست میں اِس کی ضرورت، دورِ حاضر میں بعض لوگوں کے خود وضع کیے ہوئے جہادی اور تکفیری کلچر کے نتیجے میں، محسوس کی گئی ہے ،کیونکہ اس تخریب وفساد کا نشانہ سب سے زیادہ خود مسلم ممالک بن رہے ہیں ۔اس کانفرنس کے اعلامیے سے روس اور ایران کی دلچسپی شام کے حالات کے تناظر میں واضح ہے اور چیچنیا میں بھی کسی نہ کسی سطح پر جہادی فکر موجود ہے،اگرچہ جوہر دودائیف کے زوال کے بعد اسے دبادیا گیا ہے۔حال ہی میں ایک امریکی پروفیسر عمر نے بتایا کہ خلیفہ کے لیے قرشی ہونے کی شرط کے سبب داعش کے لوگ افغان طالبان کے امیر کی بیعت سے کنارہ کش ہوگئے ہیں۔سعودی عرب کے علماء جو ایک وقت میں اس تصورِ جہاد کے حامی تھے اور وہاں سے اِن گروہوں کو اعانت بھی مل رہی تھی ،اب وہ برملا اِس سے برائت کا اعلان کر رہے ہیں اوراس طبقے کوتکفیری اور خارجی قرار دے رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ گروزنی کی اس عالمی کانفرنس کو اختلاف کی خلیج کو وسیع کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے بلکہ سعودی عرب سمیت تمام علمائے امت کو اِس سے استفادہ کرتے ہوئے دین کے مُسلَّمہ اور مُشتَرکہ اصولوں پر اجماع کے قیام کے لیے استعمال کیا جائے۔سعودی عرب جو اپنے دینی نظریات کے فروغ کے لیے بے پناہ سرمایہ خرچ کرتا تھا،اب وہ خود اِن فسادیوں کے نشانے پر ہے ۔لہٰذا انہیں اب یہ مصارف دین اور امت کی وحدت کے لیے استعمال کرنے چاہییں اور امت میں تفریق کے اسباب کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ حقیقی معنی میں اتحادِ امت کا خواب اپنی تعبیر کو پاسکے ۔
          See more at: 
          1. http://m.dunya.com.pk/index.php/author/mufti-muneeb-ul-rehman/2016-10-01/17013/43489424#sthash.076RTipP.dpuf
          2. http://m.huffingtonpost.in/entry/the-sunni-conference-at-grozny-muslim-intra-sectarian_us_57d2fa63e4b0f831f7071c1a
          3. http://www.firstpost.com/world/islamic-conference-in-chechnya-why-sunnis-are-disassociating-themselves-from-salafists-2998018.html

          Related 

          Jihad, Extremism