Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Showing posts with label Khwarji. Show all posts
Showing posts with label Khwarji. Show all posts

Thursday, October 31, 2019

مسلح اسلامی تحریکیں اور ریاستی نظام...ڈاکٹرحسن عسکری in Armed Rebellious Groups in Muslim world



11ستمبر 2001ء کو رونما ہونے والی دہشت گردی کو گیارہ سال گزر چکے ہیں۔ اس عرصہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں دہشت گردی کا نیا واقعہ نہیں ہوا لیکن باقی دنیا کے متعلق یہ بات نہیں کہی جا سکتی ۔ دنیا میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ امریکہ اور کچھ دوسرے ممالک نے انتہا پسندی اور دہشت گردی میں ملوث تنظیموں اور افراد کیخلاف کارروائیاں کیں اور کچھ کو غیر موثر کیا لیکن انتہا پسندی اوردہشت گردی کے رجحانات کا خاتمہ نہ ہو سکا۔
انتہا پسندانہ مذہبی اور معاشرتی سوچ بدلنے اورتشدد اور دہشت گردی کو استعمال کرنے والی تحریکیں اور تنظیمیں غیر ریاستی ہیں جو کہ مسلمان اکثریت والے ممالک یا ایسے ممالک میں سرگرم ہیں جہاں مسلمانوں کی بڑی آبادی موجود ہے ۔ یہ تحریکیں ایک مذہبی اور سیاسی ایجنڈے کے حوالے سے کام کرتی ہیں اور اسلام کی ایک مخصوص سوچ اور توضیح کے علم بردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ اپنے آپ کو صحیح اسلام کا علم بردار تصور کرتے ہوئے جبر اور قوت سے اپنی ترجیحی اسلامی سوچ کونافذ کرنے کو درست سمجھتی ہیں۔ ان تحریکوں کے قائدین غیر مسلم اور مسلم حکومتوں اور افراد کے خلاف مسلح جدوجہد کو درست سمجھتے ہیں جو ان کے خیال میں اسلام اور ان کی جدوجہد کے مخالف ہیں۔ان تحریکوں کے دو نشانے ہیں ۔اول وہ مغربی ممالک اور حکومتیں خصوصاً امریکہ جن کو وہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن سمجھتے ہیں ۔
دوم : ان تحریکوں نے اسلامی ممالک کی ان حکومتوں اور شہریوں کو نشانہ بنایا ہے جنہیں وہ امریکہ کا حمایتی تصور کرتی ہیں ۔ ان تحریکوں کی متحرک قیادت کی یہ کوشش بھی ہے کہ وہ اپنی مرضی کا اسلام نافذ کریں اور جو لوگ ان کی اسلامی سوچ کو قبول نہیں کرتے ان کے خلاف تشدد کا استعمال جائز سمجھتا جاتا ہے ۔
یہ تحریکیں نہ صرف امریکہ اور مغرب کی مخالف ہیں بلکہ ان کی کوشش ہے کہ اسلامی ممالک میں اپنی عملداری کو بڑھایا جائے اور علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کرکے اس حکومت وقت کو چیلنج کیا جائے جو ان کی بالادستی کو قبول نہیں کرتی ۔اگر امریکہ اسلامی ممالک خصوصاً افغانستان اور پاکستان سے نکل جائے تو ان تحریکوں کا صرف ایک مقصد حاصل ہوتا ہے ۔ دوسرے مقصد کا حصول باقی رہ جاتا ہے وہ یہ کہ علاقے اور حکومت پر قبضہ کرکے اپنی مرضی کا اسلام نافذ کیا جائے ۔ لہٰذا امریکہ کے افغانستان سے چلے جانے اور پاکستان میں امریکی کردار کے محدود ہونے کے بعد بھی مسلح اسلامی تحریکیں افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے لئے جدوجہد کو جاری رکھیں گی اسی طرح یمن، سومالیہ، سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں میں یہ تحریکیں حکومت وقت کو دباؤ میں رکھنے کے لئے سرگرم رہیں گی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں انتہا پسندانہ اسلامی تحریکوں کا سلسلہ 2014ء کے بعد بھی جاری رہے گا اور متعلقہ اسلامی ممالک میں اندرونی امن اور استحکام کے مسائل موجود رہیں گے ۔
ان تحریکوں کی مذہبی اور سیاسی سوچ اسلام کے سلفی اور وہابی مکتبہ فکر سے متاثر ہے ۔ بعض اسلامی ممالک جیسے پاکستان، ہندوستان اور افغانستان میں ان مکاتب فکر سے متاثر مقامی مکاتب فکر بھی سرگرم نظر آتے ہیں ۔
جو تحریکیں مسلح جدوجہد میں مصروف ہیں وہ قوت کے استعمال کو درست سمجھتی ہیں لیکن ان مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے بہت سے علماء اور عام لوگ تشدد اور جبر کے استعمال کو درست نہیں سمجھتے آخر الذکر افراد ان تحریکوں کے طریقہ کار سے اختلاف کرنے کے باوجود ان کے مقاصد یعنی ایک مخصوص انداز کے سخت گیر اسلامی نظام سے ہمدردی رکھتے ہیں ۔
امریکہ اور مختلف اسلامی ریاستوں کی کوششوں کے باوجود مسلح اسلامی تحریکوں پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ مستقبل قریب میں ان تحریکوں پر کنٹرول ممکن نہیں ہو گا۔
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ تحریکیں کسی ایک جگہ سے کنٹرول نہیں ہوتیں اور نہ ہی ایک قیادت کے ماتحت کام کرتی ہیں ۔ ان تحریکوں کے آپس میں روابط ہوتے ہیں اور وہ ایک دوسرے سے تعاون بھی کرتی ہیں لیکن یہ تمام تحریکیں ایک وحدانی اکائی نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے بعض مقامی تحریکوں میں جھگڑے بھی ہوتے ہیں ان تحریکوں کے طریقہ کار میں مقامی صورتحال کی وجہ سے فرق ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ تحریکیں زیر زمین ہوتی ہیں خصوصاً وہ جو مسلح جدوجہد میں مصروف ہوتی ہیں یا یہ تحریکیں اپنے لئے ”محفوظ خطے “قائم کرتی ہیں جن پر مقامی ریاستی حکام کا عمل دخل محدود ہوتا ہے یا بالکل نہیں ہوتا ۔ ان تحریکوں اور تنظیموں کی قیادت اپنے محفوظ علاقوں میں موثر انتظامیہ کے طور پر کام کرتی ہے جس میں متعلقہ تحریک یا تنظیم کے مسلح کارکن مقامی مذہبی رہنما اور کچھ مصلحت پسند افراد شامل ہوتے ہیں ۔
جب تک یہ تحریکیں محفوظ علاقے نہ بنائیں مسلح جدوجہد کے چلنے کا امکان نہیں ہوتا اس قسم کے محفوظ علاقے کسی ملک کی سرزمین کے ان حصوں میں قائم کئے جاتے ہیں جہاں متعلقہ ریاستی اداروں کی عمل داری نہ ہو یا ریاستی ادارے ایک پالیسی کے تحت ان کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہیں ۔ان تحریکوں کے قائم رہنے کی کئی اور وجوہات ہیں ۔
اول : ریاستی اداروں کی حکمرانی کی کمزوریوں کی وجہ سے بہت سے اسلامی ممالک انتظامی، معاشرتی اور اقتصادی بحران کا شکار ہیں ۔ ان ممالک کی حکومتیں انسانی مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہیں جس کی وجہ سے ریاستی اداروں پر لوگوں کا اعتماد بہت کم ہے ۔ اس ناکامی کی وجہ سے ان حکومتوں کے لئے کافی مشکل ہے کہ وہ اسلامی تحریکوں کی اپیل کو غیر موثر کردیں ۔
دوم : ان ممالک میں تیس سال سے کم عمر کے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے ان کے لئے عملی زندگی کے آغاز کے مواقع بہت محدود ہیں لہٰذا ان نوجوانوں میں حکومتی اداروں اور سیاسی عمل سے عدم وابستگی کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے ۔ ان حالات میں انہیں اسلام کے علاوہ کوئی ایسا نظریاتی فریم ورک نہیں ملتا جس کی طرف وہ متوجہ ہوں ۔ کچھ نوجوان ان تحریکوں سے منسلک ہو جاتے ہیں لیکن زیادہ تر ان تحریکوں سے علیحدہ رہتے ہوئے ان کی حمایت کرتے ہیں ۔ اس طرح ان اسلامی تحریکوں کو معاشرے میں پذیرائی اور حمایت حاصل رہتی ہے ۔
سوم : اسلامی ممالک میں بڑھتے ہوئے امریکہ مخالف جذبات نے بھی ان تحریکوں کی حمایت میں اضافہ کیا ہے ۔ امریکہ اور مغرب کی دہشت گردی کے خاتمہ کی پالیسی نے کئی ممالک خصوصاً افغانستان اور پاکستان میں عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں (خصوصاً نوجوانوں ) کی توجہ مختلف اسلامی تحریکوں کی طرف ہو گئی ہے ۔
چہارم : اسلامی ممالک میں بہت سی وجوہات کی بنا پر مذہبی قدامت پسندی کو فروغ ملا ہے اور بہت سے لوگ ملکی معاملات اور خارجہ پالیسی کو خالصتاً مذہبی انداز میں دیکھتے ہیں ۔ اس وجہ سے باقی دنیا کی طرف منفی رجحانات کو فروغ ملا ہے ۔ مغربی دنیا سے دو طرفہ بنیادوں پر تعلقات چلانا کافی مشکل ہو گیا ہے ۔ اس محدود بین الاقوامی سوچ اور مذہبی قدامت پسندی کے فروغ کی وجہ سے بھی مسلح اسلامی تحریکوں کے لئے ہمدردی میں اضافہ ہوا ہے ۔یہ مسلح اور ریڈیکل اسلامی تحریکیں کئی اسلامی ممالک کی حکومتوں کو چیلنج کرسکتی ہیں ۔ تشدد اور دہشت گردی سے خوف وہراس اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں لیکن آج کے جدید دور میں ریاستی نظام چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔
وہ اسلامی ممالک جہاں یہ تحریکیں سرگرم ہیں ایک ایسے مشکل دور سے گزر رہے ہیں جس کاخاتمہ عنقریب نظر نہیں آتا ۔ یہ تحریکیں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوں گی اور نہ ریاستی نظام کو سکون سے چلنے دیں گی۔ اس طرح اسلامی دنیا اندرونی خلفشار اور سیاسی اور مذہبی کشمکش کا شکار رہے گی۔ ان مشکلات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغربی ممالک اسلامی ممالک پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ قائم رکھ سکیں گے ۔
http://search.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=21755

Tuesday, December 4, 2018

Jihad and Fisad نفاذاسلام کاآغاز اور جہاد


آج دنیا بھر میں جہاد کے پھیل جانے کی دلچسپ کہانی سنانے بیٹھا ہوں...... مگر ایک بات جو کافی عرصے سے لکھنے کی کوشش ہے مگر وہ رہ جاتی ہے......اسکا کچھ تذکرہ ہوجاۓ...... مجاہدین کوجن چیزوں نےسخت نقصان پہنچایاہے....... ان میں سےایک یہ ہےکہ....... جہا دشروع کرتےہی اسلام نافذ کرنےکی بہت جلدی کی جاتی ہے....... اوراسلام کےبھی صرف وہ احکام نافذکرنےمیںتیزی دکھائی جاتی ہےجوفرائض کےدرجہ میں نہیں آتے....... 
اسلام میں سب سےپہلےکلمہ طیبہ....... یعنی ایمان اورعقیدہ کی اہمیت ہے....... اس کےبعد فرائض کادرجہ آتاہے....... اقامت صلوۃ،زکوۃ،حج،رمضان المبارک کےروزے...... اورجہادفی سبیل اللہ...... 
اگرکوئی مسلمان ان دومیں پختہ ہوجاۓ یعنی کلمہ اورفرائض...... توپھراسکےلئےباقی احکام پرعمل آسان ہوجاتاہے......
 مگردیکھایہ گیاکہ...... اسلام نافذ کرنےکا کام نائیوں،حجاموں کی دکانوں پربم پھاڑنے، یاویڈیو کی دکانوں کواڑانےسےہوتا ہے...... 
اگرآپ عوام کےساتھ جوڑ،محبت اورحسن سلوک کےساتھ پیش نہیں آتےتوپھرآپ کاجہاد زمین پرنہیں جم سکتا.......
 کچھ کم علم لوگ جن کودین کی بنیادی باتوں کا بھی علم نہیں ہے....... وہ جومسئلہ بھی سنتےہیںبس وہی انکےنزدیک دین اورعلم کی انتہا ہوتاہے....... 
داڑھی کاسنا تواب داڑھی منڈانے والوںکےلیےگولی ...... پردےکا سنا تواب بےپردہ عورتوں کےلیےتیزاب...... فلموںکا سنا تواب ویڈیووالوں کےلیےسزاۓموت......
 یہ بہت خطرناک صورتحال ہے......
 اسی طرح مال غنیمت کےمسائل میں بھی بہت غلطی ہے...... لوگوں سےزبردستی چندہ ،تاوان یازکوۃ وصول کرنے سےجہاد کوبےحد نقصان پہنچاہے...... 
ایک زمانہ کشمیرکےہرپہاڑپرایک "امیرالمؤمنین" بیٹھا تھا...... بکروال اپنےریوڑ لیکرنکلتےتوہر پہاڑپربیٹھایہ "حاکم" بکریاں گن کر"زکوۃ" نکال لیتا...... اوریوں جہاد کےاہم ترین معاونین "بکروال برادری" مجاہدین سے بدظن ہوگئی...... 
بے شک داڑھی منڈاناگناہ ہے...... بےشک ویڈیوکی دکانیں اسلامی معاشرے کےلیے خطرناک ہیں...... بےشک اسلام میں پردہ کاحکم ہے...... لیکن یہ وہ احکامات نہیں ہیں کہ جن سے...... نفاذاسلام کاآغاز کیاجاۓاورانہی مسائل کوسب کچھ سمجھاجاۓ.....
اوران غلطیوں پرقتل جیسے بھیانک فیصلے کیے جائیں......یا سکولوں کواڑانا ہی جہاد سمجھاجاۓ......

 مجاہدین کو چاہیےدین کاپختہ علم حاصل کریںی اپختہ علم والے علماء کرام کی اتباع کریں...... اپنی توجہ جنگ پررکھیں ان احکامات کونافذ کرنےکاوقت بعدمیں آۓ گا......
اپنےاعمال کابھی محاسبہ کریںکہ دوسروں کوجن چھوٹی باتوں پر قتل کرتے ہیں کہیں خود ان سے بڑی غلطیوں میں مبتلا تو نہیں......
( مولانا محمد مسعود ازہر صاحب کی تازہ ترین تحریر "رنگ و نور" سے اقتباس)

 http://dunya.com.pk/news/authors/detail_image/x4611_66031164.jpg.pagespeed.ic.E0_f597_Vt.jpg

دہشت گردوں کا معاشرے میں زندہ اور موجود رہنا علماء اور عوام کی اسلام اور قرانی تعلیمات سے نا واقفیت اور کم علمی ہے.   اگر
  میڈیا پر دہشت گردی کی ویڈیو کوریج کے نیچے صرف قرآن کی وہ آیات جو قتل ناحق سے منع کرتی ہیں پشتو اور اردو ترجمے کے ساتھ  پٹی چلا دیں تو کم از کم جو طالبان دہشت گردوں کے ھمدرد ہیں جن کو جاہل قسم کے علماء نے دھوکے میں رکھا ہے ان کا دماغ میں واضح ہو گا کے کون قرآن پر عمل کر رہا ہے ور کون قرآن کو رد کر رہا ہے .

کچھ آیات اور ترجمہ درج زیل ہے :

اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی"
 مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے در پے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں. جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں اُن کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں، یہ ذلت و رسوائی تو اُن کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں اُن کے لیے اس سے بڑی سزا ہے
5: 31-32 سورة المائدة

 وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ
اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کردیا ہے ہرگز ناحق قتل نہ کرنا
(Quran;17:33)

وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا

اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے
.(Quran;4:93)

 وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۗ
 فتنہ قتل سے بھی بڑا گناه ہے
[Qur'an;2:217]

أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا

 یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے
 (Quran;18:105)

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّـهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۗ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ

اور ان سے جب کبھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، گو ان کے باپ دادے بےعقل اور گم کرده راه ہوں
(Quran;2:170) Also see Quran;32:21, 43:22,23)

إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ

جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے
“(Quran; 5:33)

وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّـهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ‌ فِيهَا اسْمُ اللَّـهِ كَثِيرً‌ا ۗ وَلَيَنصُرَ‌نَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُ‌هُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ

 اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں۔ اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بےشک خدا توانا اور غالب ہے (Quran 22:40)

مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ

جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبا ل اُسی پر ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا
(Quran;17:15)

مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا

جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہ
.(Quran;4:85)

Saturday, December 17, 2016

Facilitators of Terrorists خوارج اور سہولت کار

Image result for ‫خوارج کے سہولت کار‬‎


Read in English >>>  http://goo.gl/LVjX3

بعض لوگ خوارج کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں اور انہیں برا نہیں جانتے، جب کہ بعض لوگ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے خوارج کی پشت پناہی اور support کرتے ہیں اور اپنے طرز عمل سے شرپسندوں اور دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، اُن کے لیے ماسٹر مائنڈ (master mind) کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں اور ان کی مالی و اخلاقی معاونت (financial & moral support) کرکے انہیں مزید دہشت پھیلانے کی شہ دیتے ہیں، یہ عمل بھی انتہائی مذموم ہے۔

خوارج کی پشت پناہی کرنے والوں کے لیے قَعْدِيَۃ (عملاً بغاوت میں شریک نہ ہونے والے کی) اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

شارح صحیح البخاری حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

’’والقعدية‘‘ قوم من الخوارج، کانوا يقولون بقولهم، ولا يرون الخروج بل يزينونه.

(عسقلاني، مقدمة فتح الباري: 432)

’’اور قَعْدِيَۃ خوارج کا ہی ایک گروہ ہے۔ یہ لوگ خوارج جیسے عقائد تو رکھتے تھے مگر خود مسلح بغاوت نہیں کرتے تھے بلکہ (وہ خوارج کی پشت پناہی کرتے ہوئے) اسے سراہتے تھے۔‘‘

حافظ ابن حجر عسقلانی مقدمۃ فتح الباری میں ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

والخوارج الذين أنکروا علی علي رضی الله عنه التحکيم وتبرء وا منه ومن عثمان رضی الله عنه وذريته وقاتلوهم فإن أطلقوا تکفيرهم فهم الغلاة منهم والقعدية الذين يزينون الخروج علی الأئمة ولا يباشرون ذلک.

(عسقلاني، مقدمة فتح الباري: 459)

’’اور خوارج وہ ہیں جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلۂ تحکیم (arbitration) پر اعتراض کیا اور آپ رضی اللہ عنہ سے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے اور ان کی اولاد و اَصحاب سے برات کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ جنگ کی۔ اگر یہ مطلق تکفیر کے قائل ہوں تو یہی ان میں سے حد سے بڑھ جانے والا گروہ ہے جبکہ قَعْدِيَۃ وہ لوگ ہیں جو مسلم حکومتوں کے خلاف مسلح بغاوت اور خروج کو سراہتے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، لیکن خود براہ راست اس میں شامل نہیں ہوتے۔‘‘

اِسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی اپنی ایک اور کتاب ’’تھذیب التھذیب‘‘ میں خوارج کی پشت پناہی کرنے والوں کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’والقعد‘‘ الخوارج کانوا لا يرون بالحرب، بل ينکرون علی أمراء الجور حسب الطاقة، ويدعون إلی رأيهم، ويزينون مع ذالک الخروج، ويحسنونه.

(عسقلاني، تهذيب التهذيب، 8: 114)

’’اور قَعْدِيَۃ (خوارج کی پشت پناہی کرنے والے) وہ لوگ ہیں جو بظاہر خود مسلح جنگ نہیں کرتے بلکہ حسبِ طاقت ظالم حکمرانوں کا انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو اپنی فکر و رائے کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مسلح بغاوت اور خروج کو (مذہب کا لبادہ اوڑھا کر) سراہتے ہیں اور دہشت گرد باغیوں کو اِس کی مزید ترغیب دیتے ہیں۔‘‘

شارح صحیح البخاری حافظ ابن حجر عسقلانی کے درج بالا اقتباسات سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ قَعْدِيَۃ بھی خوارج میں سے ہی ہیں۔ لیکن یہ گروہ کھل کر اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتا اور پسِ پردہ رہ کر خوارج کی باغیانہ اور سازشی سرگرمیوں کے لیے منصوبہ بندی (planning) کرتا ہے۔ گویا یہ گروہ ماسٹر مائنڈ کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ اِس گروہ کا کام دلوں میں بغاوت اور خروج کے بیج بونا ہے، خاص طور پر جب یہ گفتگو کسی ایسے فصیح و بلیغ شخص کی طرف سے ہو جو لوگوں کو اپنی چرب زبانی سے دھوکہ دینے اور اسے سنتِ مطہرہ کے ساتھ گڈ مڈ کرنے کی صلاحیت بھی 

رکھتا ہو۔

https://manhajahlussunah.wordpress.com/2013/09/08/خوارج-کی-پشت-پناہی-کرنے-والے-بھی-خوارج-ہ/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاسق فجر  مسلمان حکمران اور  تکفیر  و خروج  (بغاوت )
1۔ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
«عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ»
ایک مسلمان پر سمع واطاعت فرض ہے چاہے اسے پسند ہو یا نا پسند ہو، الا یہ کہ اگر اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے ، اگر امیر اسے نافرمانی کا حکم دے تو نہ تو اس پر سننا ہے او نہ ماننا۔
(بخاری 7144، مسلم: 1839 الفاظ مسلم کے ہیں)
2۔ حذیفۃ بن الیمانؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہا آپ ﷺ نے فرمایا: 
عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا بِشَرٍّ، فَجَاءَ اللهُ بِخَيْرٍ، فَنَحْنُ فِيهِ، فَهَلْ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: هَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: فَهَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: كَيْفَ؟ قَالَ:«يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ» قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ» 
میرے بعد ایسے امام ہوں گے جو نہ تو میری سنت پر چلیں گے اور نہ میرے طریقے کی پیروی کریں گے۔۔۔۔
(مسلم:1847)
3۔ علقمہ بن وائل اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئےفرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ، فَجَذَبَهُ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، وَقَالَ: «اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ» 
سلمۃ بن یزید الجعفیؓ نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا، وہ کہتے ہیں کہ : ہم نے کہا:
اے اللہ کے نبی اگر ہم پر ایسے امراء مسلط ہوجائیں جو ہم سے اپنا حق مانگیں اور ہمارا حق روکیں تو ایسی صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔
(مسلم:1846)
4۔ام سلمۃؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نےفرمایا:
«سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: «لَا، مَا صَلَّوْا» 
عنقریب ایسے امراء ہوں گے جن کی بعض باتیں تمہیں اچھی لگیں گی اوربعض بری ، چنانچہ تو جوان کی غلط باتوں کو پہچان لے اس کا ذمہ بری ہوگیا، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(صحیح مسلم:1854)
 ان روایات میں جن حکام کا ذکر ہے، وہ اسلام کے مطابق وہ مسلمانوں کے حاکم ہی رہے اور انہی سے برتاو کے بارے اسلام نے باقاعدہ رہنمائی کی ہے۔
تکفیری کہتا ہے کہ ؛  حاکم چلیں جیسا بھی ٹھیک ہے، ہمیں اس کے ساتھ شریعت کے مطابق ہی چلنا چاہیے لیکن یہاں مسئلہ حاکم کے شرعی یا غیر شرعی ہونے کا نہیں ہے۔۔۔۔اور نہ ہی ہم اس بنیاد پر ان کی تکفیر اور ان سے جنگ کرتے ہیں، بلکہ ہماری لڑائی تو اس “باطل نظام ”  کی وجہ سے ہے، جو انہوں نے قائم کر رکھا ہے اور مسلط کر رکھا ہے۔ اور جتنی بھی احادیث ہیں وہ حکام کے بارے ہیں مگر نظام کا ان میں تذکرہ نہیں ہے!
 یہ بتا دیں کہ باطل نظام کی تعریف کیا ہوتی ہے؟؟؟
خارجی :  وہ نظام جو قرآن و سنت کے خلاف ہو، کافروں کی خواہشات کے مطابق ہو وغیرہ وغیرہ
 وہی احادیث مبارکہ  اور وہ مقامات دکھائے، جہاں باقاعدہ اسکے مطابق ‘‘غیر شرعی‘‘ حکمرانوں کے علاوہ اسی کی تعریفات کے عین مطابق باطل نظاموں کا بھی تذکرہ موجود ہے، لیکن اس کے باوجود ایک عام مسلم مومن کو حاکم سے کیسا برتاو رکھنا چاہیے، اس جانب خوب رہنمائی کی گئی ہے۔
عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا بِشَرٍّ، فَجَاءَ اللهُ بِخَيْرٍ، فَنَحْنُ فِيهِ، فَهَلْ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: هَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: فَهَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: كَيْفَ؟ قَالَ:«يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ» قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ» 
میرے بعد ایسے امام ہوں گے جو نہ تو میری سنت پر چلیں گے اور نہ میرے طریقے کی پیروی کریں گے۔۔۔۔
(مسلم:1847)
قَالَ ﷺ : «يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ» 
قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟
قَالَ ﷺ : «تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ» 
آپﷺ نے فرمایا:   ایسے لوگ (حاکم) پیدا ہوں گے جن کے جسم انسانوں کے ہوں گے اور دل شیطان کے۔
میں نے کہا:  اے اللہ کے رسول! اگر میں ایسے لوگوں کو پالوں تو کیا کروں؟
آپﷺ نے فرمایا:
حاکم وقت کی سنو اور اس کی اطاعت کرو، اگرچہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے اور تمہارا سارا مال لے لے۔ پھر بھی تم اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔۔۔۔۔۔۔
(مسلم:1847)
3۔ ام سلمۃؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نےفرمایا:
«سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: «لَا، مَا صَلَّوْا»
عنقریب ایسے امراء ہوں گے جن کی بعض باتیں تمہیں اچھی لگیں گی اوربعض بری ، چنانچہ تو جوان کی غلط باتوں کو پہچان لے اس کا ذمہ بری ہوگیا،۔۔۔۔۔۔۔۔
(صحیح مسلم:1854)
میں نے کہا جناب ، اپنی آنکھیں اور دماغ کھول کر دیکھ لیں کہ رسول اللہ ﷺ ، جہاں حکام کے خود فاسق و فاجر اور ظالم ہونے کا بتلا رہے ہیں ، وہی انکے نظاموں کو بھی واضح فرما رہے ہیں کہ وہ قرآن و سنت کو چھوڑ کر دیگر نظاموں پر حکومتیں چلائیں گے۔ آپ ﷺ نے حتی کہ یہاں تک فرما دیا کہ ان کے دل شیطان کے ہوں گے، یعنی وہ شیطانی طریقہ کار اور نظاموں کو نہ صرف دلدادہ بلکہ انہیں مسلط بھی کریں گے۔
لہذا ، آپ کے دونوں ہی دعوے (حاکم غیر شرعی ہے پھر بعد میں نظام باطل ہے، اس لئے ہم انکی اطاعت سے نکلتے ، انکی تکفیر اور پھر خروج کرتے ہیں ) بے دلیل اور نفسانی خواہشات پر مبنی ہیں اور اسلام ان سے بری ہے۔
اور پھر میں نے اسے یہ  رسالہ ” حکام وقت کی اطاعت احادیث نبویہ کی روشنی میں “ ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا، کہ جاؤ اور اسے پڑھو، زندگی رہی تو آئندہ ضرور ملاقات ہوگی۔اللہ حافظ
https://alfitan.com/2016/08/29/موجودہ-حکام-اور-انکے-باطل-نظام-ایک-خار/
 داعش نے احکام تکفیر میں بہت ٹھوکریں کھائی ہیں۔ اس نے جہالت وغلو کی بناء پر مسلمانوں کی تکفیر کی اور انہیں مرتد ٹھہرایا اور پھر اسی کی بناء پر ان کی جان ومال کو لوٹنا حلال سمجھ لیا۔ حالانکہ اصل غلطی ان کی اپنی تھی کہ انہوں نے اپنے غالی عقائد کی بناء پر اصلی کافر جیسے دشمن سے قتال کی نصوص کو اپنے بنائے ہوئے مرتدوں پر فٹ کردیا۔

Related :

Jihad, Extremism

    Tuesday, March 25, 2014

    Ignorance, Jahiliyyah is curse

    بے حسی، بے حسی
    اللہ کے آخری رسولﷺ کا وہ فرمان ایک بار پھر یاد کیجیے: ''جسے شرم نہیں، وہ 
    اپنی مرضی کرے‘‘۔

    ان کے بارے میں اور کیا عرض کیجیے جو ثالث کو حَکَم مانتے ہی نہیں۔ طالبان ہی کیا، جس موضوع پر بھی وہ جو چاہیں، کچھ بھی ارشاد فرمائیں۔ سیدنا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کو حکمران تسلیم کرنے سے انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ یہی نہیں، ان کی بات سننے سے بھی۔ وہ کہا کرتے تھے ''ان الحکم الا للہ‘‘ ۔ ان کا جواب وہی تھا جو طالبان کا ہے... شریعت، شریعت، قرآن، قرآن۔ حدیث رسولﷺ یہ ہے اور ان میں سے کسی کو یاد نہ آئی''ھوالمعطی و انا القاسم‘‘ ''وہ عطا کرنے والا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں‘‘۔ اسّی فیصد قوانین حدیث سے آئے ہیں، سیرت سے۔ جہالت کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔

    اب کراہت ہونے لگی۔ طالبان اگر ان کے بھائی ہیں تو ہمارا کوئی واسطہ ان سے نہیں۔ قاتل اور درندے انسانوں کے بھائی کیسے ہو گئے؟ صرف مینگورہ شہر سے دو سو لڑکیاں انہوں نے اغوا کیں اور بعض کی جبراً شادیاں کر دیں۔ سیدنا علی ابن ابی طالبؓ نے جناب عبداﷲ ابن عباسؓ کو خارجیوں کے پاس روانہ کیا۔ ''بلوغ الارب‘‘ میں لکھا ہے کہ دو سو برس کی عمر پانے والے صحرا نشین خطیب نے جو امیر معاویہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، انہیں ''تمام علم اور تمام حلم‘‘ کہا تھا۔ اللہ کے آخری رسولﷺ انہیں عزیز رکھتے۔ عہد زریں کے کبار اہل علم میں ان کا شمار تھا۔ فقہ کے باب میں محتاط ترین عمر فاروق اعظم ؓ ان سے مشورہ کیا کرتے۔
    ہماری تو اب کون سنے گا؟ کیا وہ ''تلبیس ابلیس‘‘ کے مؤلف
    علّامہ ابن جوزی کی سننے پر آمادہ نہیں؟ غزالیؒ نے جن سے سیکھا اور جو فریب نفس پر لکھنے والوں میں مسلم تاریخ کی سب سے بڑی اتھارٹی مانے جاتے ہیں۔ 

    انہوں نے یہ لکھا ہے:''ابن عباسؓ نے روایت کیا، خوارج الگ ہوئے تو ایک احاطے 
    میں جمع ہوئے اور وہ چھ ہزار تھے۔ سب نے اتفاق کیا کہ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب ؓ پر خروج کریں گے۔ لوگ ایک ایک دو دو برابر آتے اور خبر دیتے: امیرالمومنین یہ گروہ آپ پر خروج کرنے والا ہے۔ فرماتے: انہیں چھوڑو۔ میں ان سے قتال نہیں کرتا جب تک وہ مجھ سے قتال نہ کریں۔ وقت قریب ہے کہ جب وہ خود ایسا کریں گے۔ پھر ایک روز نماز ظہر سے پہلے میں نے آپ ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: اے امیرالمومنینؓ ظہر کی نماز میں ٹھنڈے وقت تک تاخیر کیجیے، میرا ارادہ ہے کہ اس گروہ میں جا کر ان سے گفتگو کروں۔ آپ ؓنے فرمایا: مجھے ان کی طرف سے آپ کی ذات پر خوف ہے۔ میں نے عرض کیا: جی نہیں آپ مجھ پر خوف نہ کیجیے۔ میں ایک ملنسار شخص تھا، کسی کو ایذا نہ دیتا تھا۔ میں نے بیش قیمت حلہ پہنا اور خارجیوں کے ہاں پہنچا۔ دوپہر کا وقت تھا۔ میں نے وہاں ایسی قوم کو دیکھا جن سے بڑھ کر عبادت میں کوشش کرنے والی قوم میں نے نہ دیکھی تھی۔ ان کی پیشانیوں پر سجدے کی کثرت سے زخم پڑ گئے تھے۔ ان کے ہاتھ گویا اونٹ کے دست تھے، زمین پر ٹکے رہنے سے غبار آلود، بدن پر حقیر قمیص، ازاریں ٹخنوں سے بہت اونچی۔ شبوں کو عبادت میں جاگنے سے چہرے خشک۔ میں نے کہا، میں مہاجرین و انصار کے پاس سے آیا ہوں اور رسول اﷲﷺ کے داماد کے پاس سے۔ انہی لوگوں پر قرآن نازل ہوا اور یہ لوگ قرآن کے معنی تم سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ نے کہا: یہ قریش سے ہے، تم قریش سے مناظرہ مت کرو کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے قریش کے حق میں فرمایا کہ ''بل ھم قوم خصمون‘‘ یہ لوگ حجت باز ہیں۔ پھر ان میں سے دو تین بولے: ہم ان سے مباحثہ کریں گے۔ تب میں نے کہا کہ تم لوگ وہ الزامات بیان کرو جو تم نے رسول اﷲﷺ کے داماد اور مہاجرین و انصار پر لگائے ہیں۔

    خوارج نے کہا: وہ تین باتیں ہیں۔ ایک یہ ہے کہ علیؓ نے خدا کے معاملے میں لوگوں کو ثالث بنایا، حالانکہ اللہ فرماتا ہے ''ان الحکم الا ﷲ‘‘ حکم کسی کا نہیں سوائے اللہ کے۔ قول الٰہی کے بعد آدمی کو حَکَم سے کیا تعلق رہا۔ میں نے کہا کہ یہ تو ایک ہوا اور کیا ہے؟
      کہنے
    لگے: دوسرا اعتراض یہ کہ علیؓ نے لوگوں سے قتال کیا مگر نہ مخالفوں کو لونڈی غلام بنایا اور نہ ان کا مال لے کر غنیمت جہادی ٹھہرایا۔ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ علیؓ نے عہد نامہ لکھواتے وقت ''امیرالمومنین‘‘ کا لقب اپنے نام سے مٹا دیا۔ پس وہ اگر امیرالمومنین نہیں ہیں تو (نعوذباللہ) امیرالکافرین ہوئے۔ میں نے پوچھا: کیا کچھ اس کے سوا بھی کوئی اعتراض باقی ہے۔

     خوارج نے کہا کہ بس یہی کافی ہیں۔ میں نے کہا کہ پہلا قول تمہارا یہ کہ امر الٰہی میں علی ؓنے لوگوں کو حاکم بنایا ہے۔ اگر میں تم پر کتاب الٰہی سے ایسی آیات تلاوت کروں جن سے تمہارا قول ٹوٹ جائے تو کیا تم اپنے قول سے توبہ کر لو گے۔ کہنے لگے کہ ہاں! میں نے کہا کہ اللہ نے ایک خرگوش کے معاملے میں جس کی قیمت چوتھائی درہم ہوتی ہے، دو مردوں کے حکم پر اس کا فیصلہ راجح کر دیا۔ 
    میں نے آیت پڑھی: ''لاتقتلوا الصید وانتم حرم‘‘احرام کی حالت میں شکار سے ممانعت فرمائی۔ اور اگر کسی نے جرم کیا، مثلاً ایک خرگوش مارا تو فرمایا کہ تم میں دو عادل مرد اس موقع پر جہاں جانور مارا ہے اس کی قیمت کا فیصلہ کریں۔ اللہ نے عورت اور اس کے شوہر کے معاملے میں فرمایا: ''وان خفتم شقاق بینھما فابعثوا حکما من اھلہ و حکما من اھلھا‘‘ ''مرد کی برادری سے ایک مرد اور عورت کی برادری سے ایک مرد بھیجو، وہ دونوں ان کے معاملے میں فیصلہ کریں‘‘۔
    اب میں تم لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ بھلا مردوں کا فیصلہ کر کے خونریزی روکنا زیادہ افضل ہے یا کہ خرگوش اور ایک عورت کے معاملے میں؟ خوارج نے کہا کہ ہاں بے شک اصلاح میں افضل ہے۔ بڑی خونریزی کا اس طرح سدباب ہوا۔ میں
    نے کہا: اچھا تمہیں جواب مل گیا؟ کہنے لگے: ہاں۔ میں نے کہا:

     رہا تمہارا دوسرا قول کہ علی ؓ نے قتال کیا اور قیدی و غنیمت حاصل نہ کی۔ تو میں تم سے پوچھتا ہوں کہ تم ان لوگوں کو غلام اور کنیز بناتے جو رسول اﷲؐ کے اصحاب تھے؟ تم اسلام سے خارج ہو۔ اب بتاؤ کہ میں تمہارے اس اعتراض کے جواب سے بھی باہر ہوا کہ نہیں۔ کہنے لگے: جی ہاں۔

     میں نے کہا کہ رہا تمہارا یہ تیسرا قول کہ علیؓ نے امیرالمومنین کا لفظ اپنے نام سے مٹا دیا تو میں تمہارے پاس ایسے عادل گواہ لاتا ہوں جن کو تم مانتے ہو، جب حدیبیہ میں رسول اﷲﷺ نے مشرکوں کے ساتھ صلح ٹھہرائی تو ان کے سرداروں کے ساتھ عہد نامہ لکھوایا اور علیؓ سے فرمایا کہ لکھو ''یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمدؐ رسول اللہ اور ۔۔۔‘‘ تو مشرکوں نے کہا کہ واﷲ! یہ ہم نہیں جانتے کہ آپؐ اﷲ کے رسول ہیں۔ اگر ہم جانتے کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں تو ہم قتال نہ کرتے۔ تو آنحضرتﷺ نے فرمایا: ''اللہ جانتا ہے کہ میں اس کا فرستادہ ہوں‘‘ اے علیؓ ! اس کو مٹا دو اور یوں لکھو کہ یہ صلح نامہ محمد بن عبداللہ اور اہل مکہ نے لکھا۔۔۔‘‘۔ اب تم دیکھو کہ اللہ کے رسولؐ ،علیؓ سے بہتر ہیں، رسول اللہؐ کا لفظ اپنے نام سے 
    محو کرا دیا حالانکہ اس سے وہ رسول اللہ ہونے سے خارج نہیں ہو گئے۔ 

    ابن عباسؓ بیان کرتے تھے، اس مکالمے کا نتیجہ یہ ہوا کہ خوارج میں سے دو ہزار آدمی توبہ کر کے واپس آئے اور باقی اپنی گمراہی پر قتل ہوئے۔ 

    اللہ کے آخری رسولﷺ کا وہ فرمان ایک بار پھر یاد کیجیے:

     ''جسے شرم نہیں، وہ اپنی مرضی کرے‘‘۔
    By Haroon Rasheed: http://dunya.com.pk/index.php/author/haroon-ur-rahid/2014-03-25/6501/22515826#tab2

    Tuesday, December 24, 2013

    ردِّ بدعات ومنکرات Bidah, Prohibition of Inovations in Islam

    خانہ ساز تاریخ کی ستم ظریفی بلکہ سنگدلی یہ ہے کہ ان پر شرک وبدعت اور فروغِ منکرات کی پھبتی کسی گئی، طَعن وتَشنیع کا نشانہ بنایا گیا، لیکن یہ سب اِتِّہامات واِلزَامات محض مفروضوں کی بنیاد پر عائد کیے گئے ، نہ کوئی حوالہ دیا گیا اور نہ ہی اُن کے فتاویٰ اور تصانیف کو پڑھنے کی کوشش کی گئی۔ بقولِ شاعر ؎

    وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
    وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے

    امام احمد رضا قادری نَوَّراللہ مَرقدَہٗ کثیرالجہات،جامع العلوم اورجامع الصفات شخصیت تھے۔ وہ اپنے عہد کے عظیم مُفسِّر ، محدِّث ، فَقِیہ ،مُتَکلّم، مؤرّخ اور مُصلح تھے

    اہلسنت وجماعت کو قبوری، قبر پرست اور قبروں کو سجدہ کرنے والے کہا جاتارہا ہے ،امام احمد رضاقادری لکھتے ہیں:''مسلمان ! اے مسلمان!اے شریعتِ مصطفوی کے تابعِ فرمان! جان کہ سجدہ حضرتِ عزّتِ جلّ جلالہٗ کے سوا کسی کے لیے نہیں ، اس کے غیر کو سجدۂ عبادت تو یقیناً اجماعاً شرکِ مہین وکفر مبین اور سجدۂ تَحِیَّۃ (تعظیمی) حرام وگناہِ کبیرہ بالیقین ، اِس کے کفر ہونے میں اِختلافِ عُلمائِ دین، ایک جماعتِ فُقہاء سے تکفیر منقول‘‘۔
    سجدۂ عبادت تو بہت دور کی بات ہے ، اُنہوں نے سجدۂ تعظیمی کے حرام ہونے پر قرآن وسنت کی نُصوص سے استدلال کرکے ''اَلزُّبْدَۃُ الزَّکِیَّہ فِی حُرْمَۃِ السَّجْدَۃِ التَّحِیََّۃ‘‘ کے نام سے ایک باقاعدہ رسالہ لکھا ۔ امام احمد رضانے فقہِ حنفی کے مُسلّمہ فتاویٰ واَئِمَّۂ اَحناف کے حوالے سے لکھا:''عالموں اور بزرگوں کے سامنے زمین چُومنا حرام ہے اور چُومنے والا اور اِس پر راضی ہونے والا دونوں گناہگار ، کیونکہ یہ بت پرستی کے مُشابِہ ہے‘‘۔ مزید لکھتے: ہیں '' زمین بوسی حقیقۃً سجدہ نہیں کہ سجدے میں پیشانی رکھنا ضرور ہے ، جب یہ اس وجہ سے حرام اور مُشابِہِ بت پرستی ہوئی کہ صورۃً قریبِ سجود ہے ، تو خود سجدہ کس درجہ سخت حرام اور بت پرستی کا مُشابہ ِ تامّ ہوگا ، وَالْعَیَاذُبِاللّٰہ تَعَالٰی ‘‘ ۔ 
    مزید لکھتے ہیں:'' مزارات کو سجدۂ (تعظیمی) یااس کے سامنے زمین چومنا حرام اور حدِّ رکوع تک جھکنا ممنوع ‘‘، اولیائِ کرام کے مزارات کی بات تو چھوڑیے ،وہ لکھتے ہیں :'' زیارتِ روضۂ انور سیدِ اطہر ﷺ کے وقت نہ دیوارِ کریم کو ہاتھ لگائے، نہ چُومے، نہ اُس سے چمٹے، نہ طواف کرے، نہ زمین کو چومے کہ یہ سب بدعتِ قبیحہ ہیں‘‘۔ شَرحِ لُباب کے حوالے سے لکھا:'' رہا مزار کو سجدہ، تووہ حرامِ قطعی ہے، تو زائر جاہلوں کے فعل سے دھوکہ نہ کھائے بلکہ علمائِ باعمل کی پیروی کرے ، مزار کو بوسے میں (علماء کا )اختلاف ہے اور چُھونا، چِمٹنا اِس کے مثل،اَحوَط(یعنی شریعت کا محتاط ترین حکم) منع اور عِلّت(یعنی ممانعت کا سبب ) خلافِ ادب ہونا‘‘۔ فقہی حوالے کے ساتھ مزید لکھا:'' مزار کو سجدۂ (تعظیمی) تو درکنار، کسی قبر کے سامنے اللہ عزّ وجل کو سجدہ جائز نہیں،اگر چہ قبلے کی طرف ہو (یعنی یہ بت پرستی کے مشابہ ہے)، قبرستان میں نماز مکروہ ، کہ اس میں کسی قبر کی طرف رُخ ہوگا اور قبر کی طرف نماز مکروہ ہے ، البتہ قبرستان میں مسجد یا نماز کی جگہ بنی ہو تو اس میں حرج نہیں ہے۔ قبر کی اونچائی کی بابت ان سے سوال ہواتولکھا:''خلافِ سنت ہے، میرے والدِ ماجد، میری والدۂ ماجدہ اور بھائی کی قبریں دیکھیے، ایک بالشت سے اُونچی نہ ہوںگی‘‘۔
    امام احمد رضاقادری سے مزاراتِ اولیاء کرام کے طواف کی بابت سوال ہواتو اُنہوں نے لکھا:''بلاشبہ غیرکعبۂ مُعَظّمَہ (بشمول روضۂ رسول)کا طوافِ تعظیمی ناجائز ہے اورغیر خداکو (تعظیماً ) سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے اور بوسۂ قبر میں علماء کو اختلاف ہے اورمحتاط ترین قول ممانعت کاہے،خصوصاً مزاراتِ طیّبہ اولیائے کرام کہ ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ کم ازکم چار ہاتھ کے فاصلے پرکھڑاہو،یہی ادب ہے،پھر تَقبِیل(چومنا) کیسے مُتصَوّر ہوسکتاہے، یہ وہ ہے جس کا فتویٰ عوام کودیاجاتاہے اور تحقیق کا مقام دوسراہے‘‘ ۔
    امام احمد رضا سے سوال ہواکہ بعض وظائف میں آیات اور سورتوں کو مَعکوس (اُلٹ) کرکے پڑھنا کیساہے ؟اُنہوں نے فرمایا:''حرام اور اَشدّ حرام ،کبیرہ اور سخت کبیرہ (گناہ )،کفرکے قریب ہے،یہ تودرکنارسورتوں کی صرف ترتیب بدل کر پڑھنا ،اِس کی نسبت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کیاایسا کرنے والا ڈرتانہیں کہ اللہ اس کے قلب کو اُلٹ دے ،چہ جائیکہ آیات کو بالکل معکوس (اُلٹ ) کرکے مُہمل(بے معنیٰ) بنادینا‘‘۔
    آج کل جاہل پیرومُرشِد بنے ہوئے ہیں،دین کے علم سے بے بہرہ ہیں،اپنی جہالت کا جواز اِس طرح کی باتیں بناکر پیش کرتے ہیں کہ طریقت باطنی اور روحانی اَسرارورمُوزکا نام ہے،علماء توصرف الفاظ اورظاہرکو جانتے ہیں،اُن کے دل نورسے خالی ہیں،گویا طریقت اور شریعت کو ایک دوسرے کی ضد قراردیتے ہیں،امام احمد رضا قادری نے لکھا: ''شریعت اصل ہے اورطریقت اُس کی فرع،شریعت مَنبع ہے اورطریقت اس سے نکلاہوا دریا،طریقت کی جدائی شریعت سے مُحال ودشوارہے،شریعت ہی پرطریقت کا دَارومَدَارہے ،شریعت ہی اصل کاراورمَحَکّ ومعیار ہے،شریعت ہی وہ راہ ہے جس سے وصول اِلَی اللہ ہے ،اس کے سوا آدمی جوراہ چلے گا، اللہ تعالیٰ کی راہ سے دور پڑے گا ،طریقت اس راہ کا روشن ٹکڑا ہے،اِس کا اُس سے جداہونا محال ونامناسب ہے۔طریقت میں جوکچھ منکشف ہوتاہے،شریعتِ مُطہرہ ہی کے اِتّباع کا صدقہ ہے،جس حقیقت کو شریعت رَد فرمائے،وہ حقیقت نہیں،بے دینی اورزَندقہ ہے‘‘۔امام احمد رضا قادری سے پوچھاگیا کہ ایک شخص شریعت کا عامل نہیں ہے،اَحکامِ شریعت کا تارک ہے،اُس کا مُؤاخَذہ کیاجائے توکہتاہے:''اَحکامِ شریعت تووصول الی اللہ کا ذریعہ ہیںاورمیں تو واصل ہوچکا ہوں،یعنی منزلِ حق پرپہنچا ہواہوں،لہٰذا میں اب اَحکام کا مُکلّف(جواب دہ ) نہیں ہوں،اُنہوں نے امام الصوفیاء حضرت عبدالوہاب شعرانی اورسیّدُ الطائفہ جنید بغدادی رحمہما اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بتایاکہ:''ہاں! واصل (پہنچاہوا)توضرور ہے مگر جہنم میں‘‘۔مزید لکھتے ہیں: '' صوفیائے کرام فرماتے ہیں :صوفیِ بے علم مسخرۂ شیطان اَست۔ وہ جانتاہی نہیں شیطان اُسے اپنی باگ ڈور پر لگالیتاہے،حدیث میںارشاد ہوا:'' بغیر فقہ کے عابد بننے والا ایساہے جیسے چکی میں گدھا ‘‘ کہ محنتِ شاقّہ کرے اورحاصل کچھ نہیں ‘‘۔
    لغت میں بدعت ہرنئی چیزکو کہتے ہیں اوراصطلاح شرع میں ''دین میں ایسی چیز اختراع کرناجس کی اصل دین میں نہ پائی جائے،بدعت ہے،یعنی ہروہ چیز جوکسی دلیلِ شرعی کے مُعارِض (مُتصادم) ہو،بدعت ِ شرعیہ ہے‘‘۔
    امام احمد رضا سے سوال ہواکہ کیا فلاحِ آخرت کے لیے مُرشِد ضروری ہے،اُنہوں نے جواب میں لکھا کہ یہ ضروری نہیں ہے،ایک مُرشِد عام ہوتاہے،فلاح ظاہر ہو یا فلاحِ باطن ،اس مُرشِد سے چارہ نہیں،جواس سے جداہے،بلاشبہ کافر ہے یا گمراہ اور اس کی عبادت تباہ وبرباد۔اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے فرمایا: عوام کارہنما۔۔۔کلامِ عُلماء ، علماء کا رہنما۔۔۔ کلامِ اَئِمَّہ ،اَئِمَّہ کا رہنما۔۔۔ کلام ِرسول اور رسول اللہ کا رہنما۔۔۔ کلام اللہ عَزَّوَجلّ ۔ شیخ ایصال اور مُرشِد کامل کے لیے انہوں نے چارکڑی شرائط بیان کی ہیںجن پر لفظاً ومعناً پورااترنا ہرایک کا منصب نہیں ہے ۔اس لیے اُنہوں نے بیعت کا معنی ومفہوم،بیعت کی اقسام ثلاثہ یعنی بیعتِ برکت،بیعتِ ارادت اور بیعتِ منفعت اوران کی تفصیل اوراَحکام بیان کیے ہیں،جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ماہِ صفرالمظفرکے آخری بدھ کے بارے میں لوگوں میں رائج رسومات کی بابت لکھتے ہیں:''آخری چہارشنبہ کی کوئی اصل نہیں،نہ اس دن صحت یابی حضور سید عالم ﷺ کا کوئی ثبوت بلکہ مرض اقدس جس میں وفات مبارکہ ہوئی،اس کی ابتدا اسی دن سے بتائی جاتی ہے اورایک حدیث مرفوع میں آیاکہ ''ابتدائی اِبتَلائے سیدنا ایوب علیہ الصلوٰۃ والسلام اِسی دن تھی اور اسے نَحِس سمجھ کر مٹی کے برتن توڑدینا گناہ اور مال کا ضائع کرناہے۔ بہرحال یہ سب باتیں بے اصل وبے معنی ہیں‘‘۔ 
    پیرزادہ علامہ سید محمد فاروق القادری رحمہ اللہ تعالیٰ نے ''فاضلِ بریلوی اوراُمورِ بدعات‘‘کے عنوان سے ایک گرانقدرکتاب تالیف مرتب کی ہے،علمی ودینی ذوق رکھنے والوں کواس کا بغورمطالعہ کرنا چاہیے۔

    Saturday, November 9, 2013

    Pakistani Taliban and Mullah Fazal Ullah Mullah Radio

    Updates on TTP: >>>>>

    Target: Pakistan: New TTP chief

    WITH a single appointment, the TTP has sent across a host of unwelcome messages. First, it has signalled that its... >>>>>>>
    "Jihad ? " by Taliban against Muslims and Islam 
    A damaged mosque is seen at the site of a bomb attack in the Spin Tal region of Hangu district, bordering North Waziristan in October 3, 2013. (Reuters )

    The divides over drones

    WHAT the drone strike last week has achieved is that it has removed the recent confusion in the opposing camps in... >>>>>>>

    Reality and self-delusion

    HERE’S some folk wisdom from Kentucky that is good advice for sensible people: there’s no education to be had... >>>>>>

    To what end?: Talks with the Taliban

    THE government wanted it and the opposition has granted it, but no one has quite been able to explain any of it:... >>>>>
    http://dunya.com.pk/news/authors/detail_image/x4952_23718742.jpg.pagespeed.ic.XRYcEmikDY.jpg
    http://dunya.com.pk/news/authors/detail_image/x4955_17306692.jpg.pagespeed.ic.axExwU3-Zr.jpg
    http://dunya.com.pk/news/authors/detail_image/x4951_12000479.jpg.pagespeed.ic.06dTBfcpfY.jpg

    Saturday, September 8, 2012

    Opinion


    Ayaz Wazir
    Part - II
    It was an ordinary man from a small village in North Waziristan who, on a matter of much lower importance than what is happening to Islam now, took up arms against the British. The dominant imperial power of the time deployed more than ...

    Iftekhar A Khan
    Fleeting moments
    As the 11th anniversary of the attacks on the World Trade Centre nears, are we any closer to unravelling the mystery as to who carried them out? Conspiracy theories abound, no widely convincing outcome of the attacks has so far ...