Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Showing posts with label TPP. Show all posts
Showing posts with label TPP. Show all posts

Friday, February 7, 2014

Sharia.. Threat or Blessing.. نفاذِ شریعت کی دھمکی؟

نفاذِشریعت کیا کوئی دھمکی ہے جس سے مخالفین کو ڈرانا مقصود ہے؟
شریعت تو انسانوں کے لیے اللہ کی رحمت ہے۔یہ وہ راستہ ہے جو ابن آدم کی دنیاوی زندگی کے لیے آسودگی کا پیغام اوراُخروی زندگی کے لیے نجات کی نویدہے۔نادان دوستی کا یہ کرشمہ ہے کہ اسے یوں بیان کیا جا تا ہے جیسے یہ کوئی سزا ہو۔بدقسمتی سے لوگ دین کی حکمت سے واقف ہیں نہ پیغمبروں کی حکمت عملی سے۔یوں یہ اللہ کے آخری رسولﷺ کے اس ارشاد کے مصداق ہیں جس میں آپؐ نے فرمایا:لوگوں کو خوش خبری سناؤ، انہیں خوف زدہ نہ کرو۔جب سے لوگوں نے دین کو دعوت کی بجائے نظام سمجھنا شروع کیا ہے،انہیں نفاذِ شریعت کی تو فکر ہے، دعوتِ دین کی نہیں۔اسی کا ایک مظہر یہ ہے کہ لوگ معصوم انسانوں کا قتل کرتے اور اپنے تئیں گمان کرتے ہیں کہ وہ نفاذِشریعت کے پیامبر ہیں۔
انسانوں کو دین کی ضرورت کیوں ہے؟پیغمبر کیوں مبعوث ہوتے ہیں؟کیا اس لیے کہ وہ ایک ریاست بنائیں اور اجتماعیت کو اختیار کریں؟ کیا اس لیے کہ وہ ایک معاشرتی نظام ترتیب دیں؟ انسانی سماج کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ سب باتیں انسان کی فطرت میں مو جود ہیں۔ان کے لیے وحی کی ضرورت ہے نہ پیغمبروں کی۔یہ کام تو وہ بھی کرلیتے ہیں جو خدا سے واقف ہیں نہ اس کی وحی سے۔انسان اپنے مادی اور سماجی تقاضوں کا علم فطرت سے سیکھتا ہے۔اللہ کی ساری مخلوقات اسی طرح زندہ رہتی اور اپنی نسل کو بڑھاتی ہیں۔دین انسان کو یہ سکھانے آتا
ہے کہ مادی وجود کے ساتھ اس کا ایک اخلاقی وجود بھی ہے۔یہ اخلاقی وجود اسے دوسری مخلوقات سے ممتاز بنا تا ہے۔انسان کو اس آ زمائش میں مبتلا کیا گیا ہے کہ وہ اس وجود کی تطہیر کرے۔ یہ تطہیر کیسے ہو؟ یہ سکھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر بھیجے ہیں۔ پیغمبروں نے ایک تو اس بات کی خبر دی کہ اخلاقی وجود کی تطہیر اور تزکیے کے ساتھ اس کی اُخروی نجات وابستہ ہے۔اس کے ساتھ انہوں نے اپنا اسوہ پیش کیا کہ یہ تطہیر کیسے ہوگی۔یہی دین کی دعوت ہے اورپیغمبر اسی کے داعی ہوتے تھے۔ اس کا شعور بھی اگرچہ انسان کی فطرت میں مو جود ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے اس کی یاد ددہانی کا بھی اہتمام فرما یا ہے۔انسان جب تک ایک فرد ہے،اس کی ذمہ داری اپنے وجود کا تزکیہ ہے۔اگر وہ مل کر ایک اجتماعیت تشکیل دیتے ہیں توپھر ان کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی تطہیر بھی کریں۔ پیغمبر یہی بات کہنے کے لیے بھیجے گئے۔ ان کا کام تذکیر ہے۔ انہوں نے اسی کی یاد دہانی کرائی۔ لوگ مان لیں تو اسی میں ہی ان کی بھلائی ہے اور اگر نہ مانیں توانہیں زبر دستی اس کا پابند نہیں بنا یا جا سکتا۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسولﷺ کو ارشاد فرمائی:آپ تذکیر کرنے والے ہیں،آپ ان پر داروغہ نہیں۔(الغاشیہ21:88)
مسلمان جب کوئی ریاست قائم کرتے ہیں تویہ ان کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ دین کے ان احکامات کو ریاستی سطح پہ نافذ کریں جن کا تعلق ریاست سے ہے۔اجتماعیت کی دو صورتیں ہوتی ہیں... ایک معاشرہ اور ایک ریاست۔معاشرہ ایک نظامِ اقدار سے قائم رہتا ہے اور ریاست قانون سے۔اقدار وعظ و نصیحت اور شعوری تربیت سے فروغ پاتی ہیں‘ یہ کام جبر سے نہیں ہوتا۔ہرمعاشرے میں سماجی ادارے یہ کام کرتے ہیں۔ہمارے تہذیبی پس منظر میں گھر، مدرسہ،خانقاہ، مسجد اور دوسرے ادارے یہ فریضہ انجام دیتے ہیں۔قانون اس نظامِ اقدار کا پابند اور اس کا عکس ہوتا ہے‘ اس لیے قانون اس وقت تک مو ثر نہیں ہو تا جب تک نظام ِ اقدار مستحکم نہ ہو جائے۔ ہمارے ہاں لوگ ریاست اور سماج کے اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھتے۔وہ سماجی تشکیل کا کام بھی قانون سے لینا چاہتے اور اسے نفاذِ شریعت کا نام دیتے ہیں۔یہ پیغمبروں کی حکمت عملی سے بے خبری کی دلیل ہے۔
اللہ کے آخری رسولؐ نے پہلے ایک سماج بنایا۔ جب ایک نظام ِ اقدار مستحکم ہو گیا تب اللہ تعالیٰ نے قانون نازل کر ناشروع کیا۔مکہ کے تیرہ سال کوئی قانون نہیں اترا۔قرآن مجید کی مکی آیات میں کوئی قانون بیان نہیں ہوا۔شریعت اس وقت نازل ہونا شروع ہوئی جب مدینہ میں مسلم سماج مستحکم ہو گیا۔ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ نے اس کی حکمت بیان فرمائی۔کہا اگر لوگوں سے ابتدا ہی میں یہ کہہ دیا جا تا کہ بدکاری چھوڑ دیں تو وہ کبھی اس پر آ مادہ نہ ہوتے۔تمام اخلاقی معاملات میں اللہ کے رسولؐ کی حکمتِ عملی یہی رہی کہ پہلے سماج کو حساس بنایا‘ اس کے بعد قانون دیا جس کے لیے سماج تیار ہو چکا تھا۔ہمارے ہاں اسلام پسند چو نکہ ریاستی پس منظر(State Paradigm) میں سوچنے کے عادی ہیں، اس لیے نفاذِ شریعت سے ان کی مراد قانون سازی اور ریاستی جبرہوتا ہے۔پاکستان اس کا تجربہ کر چکا۔ یہاں اسلامی قانون سازی کے باب میں کوئی کمی نہیں لیکن سماج کہاں کھڑا ہے، ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔اس ملک میں تیس سال ہوگئے حدود قوانین کو نافذہوئے‘ اب تک عدالتوں کو کوئی ایک گواہ ایسا نہیں مل سکا جو شریعت کے مطابق گواہی دینے کا اہل ہو۔ نتیجہ یہ ہے کہ کسی کو حدود قوانین کے تحت سزا نہیں دی جا سکی۔ سماج جب تیار نہیں ہوتا تو اس میں کوئی قانون نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔دین کے جید علمایہ بات جانتے ہیں۔ مو لا نا مودودی نے لکھاتھاکہ جب سماج اخلاقی طور پر کمزور ہو تو اس میں سزا دینے کی جلدی نہیں کر نی چاہیے بلکہ ایسے سماج میں تو اُن لو گوں کو سر یا خان بہادر کا خطاب دینا چاہیے جو خود کو پاکیزہ رکھتے ہیں۔
جو ذہن دین کو محض نظام سمجھتا ہے، وہ اس بات کو سمجھنے سے معذور ہو تا ہے۔دین ہدایت ہے، دین خیر خواہی ہے۔ دین دراصل دعوت ہے۔جب ہم دین کو دعوت سمجھتے ہیں تو ہمارے اندر داعیانہ مزاج پیدا ہو تا ہے۔یہ مزاج ان لوگوں کے بارے میں خیر خواہی کے جذبات پیدا کرتا ہے جو اس ہدایت سے محروم ہیں‘ جن پر اس ہدایت کے فائدے واضح نہیں۔اس سے وہ پیغمبرانہ سوزپیدا ہوتا ہے جس کے تحت پتھر مارنے والوں کو بھی دعا دی جا تی ہے۔پھر داعی اس خیال میں گھلتا چلا جاتا ہے کہ لوگ جہنم کی طرف بڑھ رہے ہیں اور وہ ان کی ہدایت کے لیے بے چین ہو جا تا ہے۔ آج نفاذِ شریعت کا علمبردارمختلف رائے رکھنے والے کو اپنا حریف سمجھتا ہے۔ وہ ان کے سامنے شریعت کو ایسے پیش کرتا ہے جیسے انہیں دھمکی دے رہا ہے۔ یہ ذہن سماج کی اہمیت سے واقف نہیں ہے اوریہ چاہتا ہے کہ بالجبر اسے شریعت کا پابند بنائے۔اس حوالے سے بھی ہمارے سامنے افغانستان کا تجربہ مو جود ہے۔طالبان نے یہ کام جبر سے کیا۔ان کے جانے کے بعد اگلے دن کابل کے سینماؤں میں اتنا رش ہوا کہ لوگوں نے کھڑکیاں اور دروازے توڑ دیے۔
شریعت ایک خیر ہے‘ یہ کوئی دھمکی نہیں۔نفاذ ِ شریعت کی خواہش بہت محمود ہے لیکن یہ محض قانون اور جبر کا نام نہیں ہے۔یہ ایک داخلی تبدیلی کاناگزیر نتیجہ ہے۔ہماری کوشش اس داخلی تبدیلی کے لیے ہو نی چاہیے۔اس کے بعد سماج خود شریعت کی خواہش کرے گا۔یہ اُسی وقت ہوگا جب ہم دین کو نظام کے بجائے دعوت اور خود کو داروغہ کے بجائے داعی سمجھیں گے۔

http://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2014-02-08/5986/30216157#tab2

Sunday, November 10, 2013

Can a Terrorist, killer of innocent people be called Shaheed Martyr?



Any leader who die for the power is not Shaheed, Only who is killed for the cause of Allah is Shaheed. The terrorists who kills innocent Muslims violates Quran how can he be Shaheed? Moulana Fazal says even "DOG KILLED BY USA IS SHAHEED" ..... MUAZ ALLAH ... THEY HAVE GONE SO LOW TO EQUATE DOG WITH SHUHADA OF ISLAM ... HAZRAT HAMZA, OMAR, USMAN, ALI. HUSSAIN R.A AND MILLIONS . MUST REPENT .....
They are creation of USA, now they hate them, yet are serving the cause of USA, India, Israel and enemies of Islam, Muslims and Pakistan ......


About Shaheed Allah has mentioned:
Surah No. 2, Al Baqr, Ayat No. 154

وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ

Translation :
Those who are killed in the cause of Allah: Do not call them dead." In fact ! they are living, though you can not perceive that life.
Surah No. 3, Al Imraan, Ayat No. 169
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
Translation :
Do not think of those who are killed in Allah's cause as dead. Nay! they are alive, and they are given sustenance from their Sustainer.
NOW WE CAN EASILY DEDUCE AS TO WHO IS KILLING MUSLIMS FOR THE CAUSE OF ALLAH. WHO SAYS:

جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی"- سورة المائدة، آیت Quran 5:32
if anyone whoever slays a soul, unless it be for manslaughter or for mischief in the land, it is as though he slew all mankind; and whoever keeps it alive, it is as though he kept alive all mankind[Quran 5:32]
SO FOR THOSE WHO CLEARLY VIOLATE COMMANDMENTS OF ALLAH , HOW CAN THEY BE CALLED SHAHEED. THIS REFLECTS OUR IGNORANCE OF COMPLICITY ?

طالبان دہشت گردوں کے ھمدرد ہیں جن کو جاہل قسم کے علماء نے دھوکے میں رکھا ہے ان کا دماغ میں واضح ہو گا کے کون قرآن پر عمل کر رہا ہے ور کون قرآن کو رد کر رہا ہے .

کچھ آیات اور ترجمہ درج زیل ہے :

اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی"

مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے در پے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں. جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں اُن کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں، یہ ذلت و رسوائی تو اُن کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں اُن کے لیے اس سے بڑی سزا ہے

5: 31-32 سورة المائدة

وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ

اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کردیا ہے ہرگز ناحق قتل نہ کرنا

(Quran;17:33)

وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا

اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے

.(Quran;4:93)

وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۗ

فتنہ قتل سے بھی بڑا گناه ہے

[Qur'an;2:217]

أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے

(Quran;18:105)

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّـهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۗ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ

اور ان سے جب کبھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، گو ان کے باپ دادے بےعقل اور گم کرده راه ہوں

(Quran;2:170) Also see Quran;32:21, 43:22,23)

إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ

جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے

“(Quran; 5:33)

وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّـهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ‌ فِيهَا اسْمُ اللَّـهِ كَثِيرً‌ا ۗ وَلَيَنصُرَ‌نَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُ‌هُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ

اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں۔ اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بےشک خدا توانا اور غالب ہے (Quran 22:40)

مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ

جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبا ل اُسی پر ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا

(Quran;17:15)

مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا

جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہ

.(Quran;4:85)

اگر آپ متفق ہینن تو شئیر کریں

 http://dunya.com.pk/news/authors/detail_image/x4951_12000479.jpg.pagespeed.ic.06dTBfcpfY.jpg
شائد میڈیا چینلز اور حکومت تک بات پہنچ جائے . بحر حال آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا .
From FACEBOOK



http://takfiritaliban.blogspot.com

Saturday, November 9, 2013

Pakistani Taliban and Mullah Fazal Ullah Mullah Radio

Updates on TTP: >>>>>

Target: Pakistan: New TTP chief

WITH a single appointment, the TTP has sent across a host of unwelcome messages. First, it has signalled that its... >>>>>>>
"Jihad ? " by Taliban against Muslims and Islam 
A damaged mosque is seen at the site of a bomb attack in the Spin Tal region of Hangu district, bordering North Waziristan in October 3, 2013. (Reuters )

The divides over drones

WHAT the drone strike last week has achieved is that it has removed the recent confusion in the opposing camps in... >>>>>>>

Reality and self-delusion

HERE’S some folk wisdom from Kentucky that is good advice for sensible people: there’s no education to be had... >>>>>>

To what end?: Talks with the Taliban

THE government wanted it and the opposition has granted it, but no one has quite been able to explain any of it:... >>>>>
http://dunya.com.pk/news/authors/detail_image/x4952_23718742.jpg.pagespeed.ic.XRYcEmikDY.jpg
http://dunya.com.pk/news/authors/detail_image/x4955_17306692.jpg.pagespeed.ic.axExwU3-Zr.jpg
http://dunya.com.pk/news/authors/detail_image/x4951_12000479.jpg.pagespeed.ic.06dTBfcpfY.jpg