Featured Post

Terrorism and solution? دہشت گردی اور اس کا حل ؟

دہشت گردی ایک اختلافی نظریہ ہے جس کی بہترین وضاحت اس قدیم کہاوت سے ہوتی ہے؛ “ایک شخص کا دہشت گرد دوسرے کے نزدیک آزادی کا مجاہد ہے”...

Tuesday, February 14, 2017

National Counter-terrorism Narrative

Image result for narrative of terrorism
The most common approach to deal with insurgencies, terrorism, or internal violence is to use the forces to establish law and order in the affected areas. .In most of the cases, this has not been a successful strategy. Even when these measures are successful in defeating the extremism or terrorism, the human cost associated with military operations is very high. The way out of the current impasse is to promote culture of tolerance and moderation through good governance which is essentially a strategy of social, political and economic reforms .Peshawar school massacre of 16 December 2014 in which nearly 150 children lost their lives, was a watershed event in the history of Pakistan. Prime Minister of Pakistan while announcing the National Action Plan on 25 December 2014 has very rightly said that the December 16 massacre has drawn a line. On one side are coward terrorists and on the side stands the whole nation. This incident changed the thinking of the whole nation. A consensus was developed between the civil and military leadership to clear the country from the menace of terrorism. The uncertain and ambiguous narrative on counter terrorism was replaced with a new united national narrative to curb terrorism. Earlier the diverse and divided counter terrorism narrative created societal confusions and polarizations. As a result, successive Pakistani governments have failed to get public support against terrorists.>>>>>>
National Counter-terrorism Narrative : Islamabad Policy Research Institute



.
  ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~
مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
More:

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~




Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace


انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ، کلچر ، برداشت ، سلامتی 
سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
Visited by Millions لاکھوں افراد کا وزٹ 


Frequently Asked Questions <<FAQ>>


سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا "وہاٹس اپپ براڈکاسٹ" وصول کرنے کے لیے اپنا نام اور موبائل نمر923004443470+ پر بھیجیں   
Join 'Peace-Forum' at Social Media or receive WhattsApp Broadcast, by sending your Name and Cell# at +923004443470


  


Facebook Page



Wednesday, February 1, 2017

دہشت گردی اور وہابی، سلفی تعلق؟ , Terrorism linked with Wahabi, Salfi Ideology?


  • What is Wahhabism? The reactionary branch of Islam said to be 'the main source of global terrorism:
آج دنیا کے ہر خطّے میں اسلام کے اصلی چہرے "اسلام ناب محمدی" کو مسخ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دہشت گردی، قتل غارت، بھرے گھروں کا ویراں ہوجانا، ڈر، خوف و وحشت جیسے تمام مفاہیم کو اسلام کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دنیا میں بہت سارے سادہ لوح انسان دشمن کے اس بے بنیاد پروپیگنڈے کا شکار ہوچکے ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تمام چیزیں اسلام کا لازمہ ہیں جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام تو حقیقت میں امن، قربانی، ایثار اور پیار و محبت کی ایک روحانی دنیا ہے کہ جس کے حقیقی مفاہیم سے ابھی تک زمانہ ناآشنا ہے۔ اسلام امن و آشتی کا گہوارہ اور بہترین احساسات و اصول و ضوابط کا ایک مضبوط قلعہ ہے کہ جس کے اندر ڈر، خوف، بدامنی و قتل و غارت جیسی کسی چیز کا وجود نہیں۔ اگر آج بھی کوئی اسلام کے ان تمام احساسات کو قریب سے درک کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ اربعین حسینی ؑ کے موقعے پر کربلا کی طرف نگاہ کرے۔ یہاں اسے حقیقی اسلام و تعلیمات اسلام مجسّم صورت میں نظر آئیں گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ کون سے عناصر ہیں کہ جنہوں نے اسلام کو یہاں لاکر کھڑا کر دیا کہ آج لوگوں کے ذہنوں میں دہشت گردی و اسلام ایک ہی سکّے کے دو رخ محسوس ہوتے ہیں؟ کیوں آج دہشتگردی کے مفہوم کے ساتھ ہی اسلام کا مفہوم ذہن میں آتا ہے؟ کیا یہ نقصان اسلام کو صرف خارجی دشمن نے پہنچایا؟ یا پھر اسلام ہی کے اندر رہ کر اس کے داخلی و اندرونی دشمن نے؟ کہ جس کو آج تک امت مسلمہ پہچان ہی نہ پائی ہو۔

تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ طولِ تاریخ میں اسلام کا سامنا ہمیشہ اِن دونوں دشمنوں سے رہا ہے، بلکہ اگر اس طرح کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اسلام کے نشیمن پہ غیروں سے زیادہ اپنوں نے بجلیاں گرائیں۔ ہمیشہ سے جو غفلت امت مسلمہ سے ہوئی وہ یہی ہے کہ مسلمانوں نے اپنے خارجی و بیرونی دشمن پر تو نظر رکھی مگر اندرونی دشمن کی طرف اصلاً توجہ نہ دی، جس کا نتیجہ آج ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح اگر آج بھی مسلمانوں نے اپنے اندرونی دشمن کو نہ پہچانا اور اسے اسلام کی صفوں سے باہر لا کھڑا نہ کیا تو کل شائد اس سے بھی زیادہ بدتر حالات کا سامنا کرنا پڑے۔ اس وقت مسلمانوں پر واجب ہے کہ تلاش کریں کہ ہماری صفوں میں موجود وہ کون لوگ ہیں کہ جنہوں نے اسلام کے سیاسی، نظریاتی، سماجی، معاشرتی و تعلیمی اصولوں پر کاری ضربیں لگائیں ہیں اور اسلام ِخالص کو تبدیل کرنے کی کوششیں کیں اور کر رہے ہیں۔ آج اسلام کے اندر جو فتنے جنم لے رہے ہیں، ان کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ تمام علماء اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان آٹھویں صدی ہجری تک انبیاء(ع)، اولیاء و صالحین امت کے بارے میں کلمہ وحدت کے قائل تھے۔ پیغمبراکرم (ص) کی زیارت کو مستحب و ان سے توسل کو حکم قرآن و اسلام سمجھتے تھے۔ بعد ازاں اسی آٹھویں صدی ہجری میں اسلام کے اندر ایک فتنہءِ عظیم نے جنم لیا کہ جس کے افکار و پیروکار آج بھی کثرت سے دنیا میں موجود ہیں۔ اس فتنے کو دنیا نے سلف و سلفیت کے نام سے جانا۔ ابتداء اسلام ابھی تک اسلام کو جسقدر اخلاقی، سماجی و نظریاتی نقصان اس فتنہءِ سلفیت نے پہنچایا، تاریخ میں اس جیسی کوئی مثال نہیں ملتی۔

سلف لغت میں گذشتہ کو کہا جاتا ہے جیسے القوم السّلاف یعنی گذشتگان[1] اسی طرح سلفی سلف کی طرف منسوب ہے۔ ایک قول کی بناء پر سلفی و سلفیت سے مراد دین، عقیدہ و شریعت کو سمجھنے کے لئے گذشتگان[یعنی صحابہ و صلحاء امت] کی طرف رجوع کرنا ہے [2]، جبکہ ایک دوسرے قول کی بناء پر سلفی و وہابی میں کوئی فرق نہیں، دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ان کے عقائد و نظریات باطل ہیں۔ یہ جزیرۃ العرب میں وہابی جبکہ باہر سلفی کہلائے[3]۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن تیمیہ نامی شخص نے اس فتنے کو جنم دیا۔ اس کا اصل نام ابوالعباس احمد بن عبدالحکیم ہے۔ یہ 661ھ میں شام کے شہر حرّان میں پیدا ہوا۔ یہی وہ پہلا شخص ہے کہ جس نے پہلی دفعہ سلف صالح یعنی صحابہ کرام و تابعین عظام کی پیروی کا دعویٰ کرتے ہوئے زیارت پیغمبر (ص) کو حرام قرار دے کر مسلمانوں کے درمیان پرچم بغاوت بلند کیا، جبکہ حقیقت میں اس کا صحابہ کرام و تابعین عظام کے نظریات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسی کو سلفیت کا بانی بھی کہا جاتا ہے، لیکن اگر تاریخ کا دقت سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس فکر نے ابن تیمیہ سے پہلے ہی جنم لے لیا تھا۔ جیسا کہ حاکم نیشاپوری کی روایت کے مطابق سب سے پہلا شخص کہ جس نے تبّرک، توسل و زیارت پیغمبر اکرم (ص) کو حرام قرار دیا اور قبر رسول خدا (ص) کو پتھر سے تعبیر کیا، وہ مروان بن حکم اموی ہے[4]۔

اسی طرح حجاج بن یوسف کا شمار بھی انھیں افراد میں ہوتا ہے۔ مبرد [5] کی روایت کے مطابق حجاج کوفہ میں خطبہ دیتے ہوئے رسول اکرم (ص) کی قبر کی زیارت کرنیوالوں کے متعلق یوں کہتا ہے "افسوس ہے ان لوگوں پر جو بوسیدہ ہڈیوں کا طواف کرتے ہیں۔ انہیں کیا ہوگیا ہے، یہ امیر کے قصر کا طواف کیوں نہیں کرتے، کیا نہیں جانتے کہ کسی بھی شخص کا خلیفہ اس کے رسول سے افضل ہوتا ہے [6]"۔ ذہبی {748ھ} [7] حجاج کے بارے یوں لکھتے ہیں "وہ ظالم، جبار، ناصبی، خبیث و سفّاک تھا۔ ہم اس پر سب و شتم کرتے ہیں اور اسے نہیں مانتے [8]"، جبکہ مروان کے بارے ذہبی یوں رقم کرتے ہیں "مروان کے اعمال بہت قبیح تھے، ہم خدا سے سلامتی کے طلبگار ہیں ۔۔۔۔الی الآخر[9]"۔ یہی وہ فکرِ باطلہ تھی کہ جو چلتی چلتی ابن تیمیہ و اسکے پیروکاروں تک پہنچی اور ان لوگوں نے اس فکر کو دل و جان سے قبول کیا۔ خود ابن تیمیہ اور اس کے باطل نظریات کے رد میں علماء اسلام میں سے بہت سارے جید علماء نے قلم اٹھایا ہے۔ جیسا کہ تقی الدین سبکی کی ایک کتاب کہ جسکا نام ہی "الدرۃ المضیئۃ فی الرد علی ابن تیمیہ" ہے۔[10] ذہبی اس بارے میں کہتے ہیں کہ "یقیناً ابن تیمیہ نے عالم اسلام کے نیک افراد کو ذلیل کیا اور اس کے اکثر پیروکار کم عقل، دروغ گو، کند ذہن و مکار ہیں۔" [11] حصنی دمشقی {829ھ} یوں لکھتے ہیں "ابن تیمیہ کافر و زندیق ہے ۔۔۔الی الآخر[12]۔ اسی طرح ابن حجر ہیثمی {973ھ} یوں بیان کرتے ہیں "ابن تیمیہ ایسا شخص ہے کہ جسے خداوند متعال نے اسکے اعمال کی وجہ سے اپنی رحمت سے دور رکھا، اسے گمراہ، اندھا و بہرہ بنا دیا اور اسے ذلیل و رسوا کیا۔" [13] اسی طرح بہت سارے علماء نے اس کے افکارِ باطلہ کو اپنی کتب یا فتاویٰ کے ذریعے رد ّکیا ہے۔ جن میں سرفہرست تاج الدین، تقی الدین سبکی، ابن حجر عسقلانی {852ھ}، ابن شاکر {764ھ}، ملا علی قاری حنفی {1016ھ}، اور شیخ محمود کوثری مصری {1371ھ} ہیں۔ [14]

ابن تیمیہ کے افکار ہی تھے کہ جن کی بنا پر امت اسلامیہ کو نظریاتی و عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ جو ان کے نظریئے کا حامل ہو وہ مسلمان، باقی تمام انسانیت کفر و گمراہی کے اندھیروں میں ہے۔ مگر اس پر مسلسل علماء اہل سنت و دیگر مکاتب فکر کے علماء کی شدید مخالفت کی وجہ سے ابن تیمیہ کے منحرف عقائد و نظریات ایک بڑی تباہی کی بنیاد ڈال کر بتدریج پس پردہ ہوتے چلے گئے۔ ایسا محسوس ہونے لگا کہ گویا ان نظریات کا وجود اب نہیں رہا۔ جیسے ہی امت مسلمہ نے اس سے غفلت برتی اور اس پہلو سے صرفِ نظر کیا، تو یہ سستی و غفلت سبب بنی کہ اس فتنے نے 12ویں صدی ہجری میں ایک دفعہ پھر جنم لیا اور ساتھ ہی مسلمانوں کی وحدت پر ایک دفعہ پھر کاری ضرب لگائی۔ 12ویں صدی ہجری میں محمد بن عبدالوھاب نجدی نے ایک دفعہ پھر ابن تیمیہ کی فکر کو نہ صرف یہ کہ زندہ کیا بلکہ آل سعود کے زیر سایہ اسے عملی جامہ بھی پہنایا۔ محمد بن عبدالوھاب کی ولادت فتنوں کی سرزمیں نجد میں ہوئی۔ محمد بن عبدالوھاب نے جس تحریک کا آغاز کیا کہ جو حقیقت میں تحریک ابن تیمیہ کا ہی تسلسل ہے، اسے وھابیت کے نام سے شہرت ملی۔[15] یہ وہی تحریک ہے کہ جس کے متعلق صاحب ِکتاب "السلفیۃ و الوھابیۃ" نے کہا ہے کہ "سلفی و وہابی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں۔" [16] جبکہ دوسری طرف شیخ نجدی [17] کے والد، دادا، چچا و بھائی محمد بن سلیمان کا شمار اہل سنت کے صحیح العقیدہ حنبلی علماء میں ہوتا ہے۔ یہ تمام شیخ نجدی کے عقائد و نظریات کے سخت مخالف و اسکی تحریک سے بیزار تھے۔

محمد بن عبدالوھاب کی تعلیمی سرگرمیوں پر اگر دقیق نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ شیخ نجدی کے تمام استاد انتہائی متعّصب و غیر مقلد تھے۔ ابن تیمیہ کی کتابوں و افکار سے مکمل طور پر متاثر تھے اور یہی تعلیم شیخ نجدی کو بھی دی۔ چنانچہ علامہ علی طنطاوی اس بارے میں یوں لکھتے ہیں کہ "مدینہ میں شیخ نجدی کی ملاقات دو ایسے اشخاص سے ہوئی کہ جو اس کی زندگی کا رخ بدلنے میں بہت موثّر ثابت ہوئے، ان میں سے ایک کا نام عبداللہ بن ابراہیم بن سیف تھا کہ جس کا اوڑھنا، بچھونا ابن تیمیہ و اسکے پیروکاروں کی کتابیں تھیں۔[18] اسی طرح ایک اور جگہ یوں بیان کرتے ہیں کہ"شیخ نجدی کہتا ہے کہ ایک دن ابن سیف نے مجھے کہا کہ کیا میں تمھیں وہ ہتھیار دکھاوں کہ جو میں نے مجمع والوں کے لئے تیار کیا ہے؟ شیخ نجدی نے کہا؛ ہاں، ابن سیف اسے ایک کمرے میں لے گیا کہ جو ابن تیمیہ کی کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ اسی طرح شیخ نجدی کا ایک اور استاد محمد حیات سندھی تھا کہ جو حضور (ص) و بزرگان ِ دین کی تعظیم و شفاعت کا سخت منکر تھا۔ جو آیات کافرین کے بارے میں ہوتیں، انھیں مسلمانوں پر چسپاں کرتا۔ علامہ علی طنطاوی مزید لکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ شیخ نجدی نے جو تمام لوگوں کو کافر قرار دیا ہے، یہ ہندوستان کے اسی غیر مقّلد عالم کی تعلیم کا اثر ہے۔"[19] اسی تعلیم و نظریاتِ باطلہ کو بنیاد بنا کر شیخ نجدی نے جزیرہ العرب میں نہتے مسلمانوں کا قتل ِ عام کیا۔ مسلمانوں کی تکفیر، ان کے قتلِ عام اور انکے اموال لوٹنے کی اباحت میں شیخ نجدی خود لکھتے ہیں "اور تم کو معلوم ہوچکا ہے کہ ان لوگوں {مسلمانوں} کا توحید کو مان لینا، انہیں اسلام میں داخل نہیں کرتا۔ ان لوگوں کا انبیاء (ع) و فرشتوں سے شفاعت طلب کرنا اور ان کی تعظیم سے اللہ کا قرب چاہنا، ہی وہ سبب ہے کہ جس نے ان کے ان کے قتل و اموال لوٹنے کو جائز کر دیا ہے۔[20]

جن نظریات و افکار کو شیخ نجدی نے بیان کیا اور ان کی ترویج کی، وہ بعین ہی ابن تیمیہ کے نظریات ہیں۔ شیخ نجدی نے بھی ابن تیمیہ کی طرح توسّل سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "انبیاء (ع) کی عزّت و جاہ کے وسیلے سے دعا مانگنا کفّار سے مماثلت کی وجہ سے کفر ہے۔"[21] مزید یہ کہ شیخ نجدی نے نہ صرف یہ کہ شفاعت سے انکار کیا ہے بلکہ شیخ نجدی کے نزدیک حضور (ص) سے شفاعت طلب کرنا ایسا کفر ہے کہ جس کے بعد شفاعت طلب کرنیوالے کا قتل کرنا اور اسکا مال و اسباب لوٹنا مباح ہوجاتا ہے [22] جبکہ اس کے برعکس علماء اسلام اور بالخصوص امام اہل سنت محمد بن اسماعیل البخاری نے رسول خدا (ص) کے لئے شفاعت مطلقہ کا نظریہ اختیار کیا ہے[23] اور یہی مفہوم آیات قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول خدا (ص) کو نہ صرف یہ کہ شفاعت کا اختیار ہے بلکہ شفاعت کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے "اور اللہ تعالٰی سے ان لوگوں کی شفاعت کیجیئے، بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔[24] مزید یہ کہ شیخ نجدی نے تمام علماء اسلام کے اتفاق کے خلاف انبیاء (ع) و صلحاء ِامت سے استمداد و استغاثہ {یعنی مدد طلب کرنے کو} یدعون من دون اللہ کا جامہ پہنا کر عبادت غیر خدا قرار دیا[25] جبکہ اس کے برعکس امام بخاری، قاضی عیاض و دیگر محدثین یوں تحریر کرتے ہیں کہ "ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمر کا پیر سْن ہوگیا، اس سے کسی نے کہا کہ جو تم میں سب زیادہ محبوب ہو، اس کا نام لو۔ عبداللہ نے بلند آواز سے کہا؛ یامحمد (ص)، تو ان کا پاوں اسی وقت ٹھیک ہوگیا۔[26]

شیخ نجدی اپنے باطل افکار کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے عوامِ اہل سنت و علماء اہلسنت کے قتل کو جائز قرار دیا۔ اس بارے میں علامہ ابن عابدین شامی متوفی {1252ھ} کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ "محمد بن عبدالوھاب کی مثال خوارج جیسی ہے کہ جنہوں نے حضرت علی (ع) کے خلاف خروج کیا تھا۔ اس کا اعتقاد یہ تھا کہ مسلمان صرف وہ ہیں کہ جو اسکے موافق ہیں اور جو ان کے مخالف ہیں، وہ مسلمان نہیں بلکہ مشرک ہیں۔ اسی بنا پر اس نے اہل سنت اور علماء اہل سنت کے قتل کو جائز رکھا۔[27] شیخ نجدی کے افکار کو باطل ثابت کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ شیخ نجدی کے منابع مدّاعی نبوت، مسلیمہ کذّاب، سجاح، اسود عسنی، طلیحہ اسدی و ابن تیمیہ جیسے گمراہ کن لوگوں کی کتابیں ہیں کہ جن کا شیخ نجدی بڑے شوق سے مطالعہ کیا کرتا تھا۔[28] لہذا یہی منابع و شخصیات سبب بنیں کہ شیخ نجدی گمراہی کے گھپ اندھیروں کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ اب خود رسول گرامی (ص) کی ذات بھی اس کے لئے قابل احترام نہ رہی۔ شیخ نجدی کے نزدیک رسول خدا (ص) پر تنقید کرنا ہی توحید کو محفوظ رکھنے کا واحد ذریعہ تھا۔" کبھی رسول خدا (ص) کو طارش یعنی چھِٹی رساں یا ایلچی کہتا، تو کبھی کہتا کہ واقعہ حدیبیہ میں بہت جھوٹ بولے گے تھے۔ اسکا اپنے حلقہ احباب کے اندر توہین رسالت کرنا اسقدر عام ہوگیا کہ ایک دفعہ اس کے سامنے اس کے ایک شخص نے کہا کہ "میری لاٹھی محمد (ص) سے بہتر ہے، کیونکہ یہ سانپ وغیرہ مارنے کے کام آتی ہے اور محمد (ص) فوت ہوچکے ہیں، اب ان میں کوئی نفع باقی نہیں رہا۔ وہ محض ایک ایلچی تھے، جو اس دنیا سے جا چکے۔"[29] شیخ نجدی ان باتوں سے خوش ہوتا۔ اگر غور و فکر کے دامن کو پکڑا جائے تو یہ افکار کوئی نیا مکتب نہیں، بلکہ اْسی حجاج بن یوسف و ابن تیمیہ کے مکتب کا تسلسل ہے۔

شیخ نجدی کی نحوست و بدبختی اسقدر بڑھ گی تھی کہ اب اس کو رسول خدا (ص) پر درود پڑھنا سخت ناپسند تھا اور درود سننے سے اس کو سخت تکلیف ہوتی تھی۔ صرف یہاں تک ہی نہیں بلکہ کہا کرتا تھا کہ کسی فاحشہ عورت کے کوٹھے میں ستار بجانے میں اسقدر گناہ نہیں ہے کہ جسقدر مسجد کے میناروں سے حضور (ص) پر درود پڑھنے کا ہے۔[30] یہ ہیں وہ نظریات کہ جن کو شیخ نجدی نے عالم اسلام کے کونے کونے تک پہنچایا۔ دوسری طرف دنیا کے ہر خطّے میں موجود حق پرست علماء نے اس کے خلاف بھرپور قلم اٹھایا اور حتی الامکان اس کے نظریات ِ فاسدہ کا قلع قمع کرنے کی کوشش کی۔ شیخ ابی حامد مرزوق نے اپنی کتاب [31] میں تقریباً 42 ان علماء کی فہرست مہیا کی ہے کہ جنہوں نے محمد بن عبدالوھاب کے عقائد باطلہ کے رد ّمیں بڑی بڑی کتب تحریر کیں ہیں، تاکہ اس منحوس فتنے کے اثرات سے امت اسلامیہ محفوظ رہ سکے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فتنہ وھابیت، علماء اسلام کی شدید مخالفت کے باوجود، فتنہ ابن تیمیہ کی طرح ختم کیوں نہ ہوا؟ یہ آئے روز بڑھتا کیوں چلا گیا؟ اس کے پیچھے کیا محرکات و اسباب کارفرما تھے اور ہیں؟ آخر کیوں یہ اسلام و مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن، ابھی تک ہماری صفوں میں کھڑا ہے؟ تاریخ اس بات کا ایک ہی جواب دیتی ہے کہ فتنہ وہابیت بھی دوسرے فتنوں کی دب جاتا اور بلآخر ختم ہو جاتا، مگر جیسے ہی یہ فتنہ اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا کہ عین اسی وقت اقتدار میں موجود خاندان آل سعود نے اسلام کے اس دشمن کو سہارا دیا اور اپنی آغوش میں پال کر بڑا کیا۔

اس بارے میں مفتی محمد عبدالقیوم یوں بیان کرتے ہیں کہ "محمد بن عبدالوھاب کا ظہور 1143ھ میں ہوا۔ اسکی تحریک 1150ھ میں مشہور ہوئی۔ اس نے پہلے اپنے عقیدے کا اظہار نجد میں کیا اور مسلیمہ کذّاب کے شہر درعیہ کے امیر محمد بن سعود کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔ پھر ابن سعود نے اپنی رعایا پر زور ڈالا کہ وہ شیخ نجدی کی دعوت کو قبول کریں۔ پس اہل درعیہ نے مجبوراً دعوت قبول کرلی۔ شیخ نجدی کی دعوت پھیلتی گی، حتی کہ عرب کے قبائل یکے بعد دیگرے دعوت پر لبیک کہتے گئے۔"[32] ایک اور جگہ مفتی عبدالقیوم یوں لکھتے ہیں کہ "شیخ نجدی نے اپنے دین کو پھیلانے کا کام محمد بن سعود کے ذمے سونپ دیا۔ وہ شرق و غرب میں اس کی دعوت پھیلاتا اور سرعام کہتا کہ تم سب لوگ مشرک ہو، تمہارا قتل کرنا، مال و اسباب لوٹنا جائز ہے۔ محمد بن سعود کے نزدیک مسلمان ہونے کا معیار فقط شیخ نجدی کی بیعت تھی۔ محمد بن سعود علی الاعلان کہا کرتا تھا کہ آئمہ اربعہ {امام شافعی، امام مالک، امام احمد اور امام ابو حنیفہ} کے اقوال غیر معتبر ہیں اور جنہوں نے مذاہب اربعہ میں کتابیں لکھیں ہیں، وہ لوگ خود بھی گمراہ تھے اور دوسرں کو بھی گمراہ کیا۔"[33] محمد بن سعود نے اس ذمہ داری کو اتنے خلوص سے ادا کیا کہ شیخ نجدی نے محمد بن سعود کی خاطر "کشف الشبہات" نامی ایک رسالہ تحریر کیا کہ جس میں کھل کر اپنے عقائد فاسدہ کا اظہار کیا۔ اس میں اس نے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا، اور کہتا تھا کہ پچھلے 6 سو سالوں سے تمام لوگ کافر و مشرک ہیں۔ ابن سعود نے اس رسالے کو اپنی مملکت کی حدود میں نافذ کیا اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت دیتا اور شیخ نجدی کے ہر حکم کی تکمیل کرتا۔

پس محمد بن عبدالوھاب "نجدی" قوم میں ایک نبی کی شان سے رہتا تھا۔[34] اسی طرح پھر محمد بن سعود کے بعد عبدالعزیز بن سعود اور پھر سعود بن عبدالعزیز، یہ تمام خاندانِ آل سعود کے وہ ظالم و سفّاک افراد ہیں کہ جنہوں نے وہابیت کی بنیادوں کو مضبوط بنایا اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے۔ لہذا آج 12 ربیع الاول 1437ھ۔ق میں سعودی حکومت کا لاکھوں عاشقانِ رسول (ص) کو رسول خدا (ص) کی ذات گرامی پر درود پڑھنے کے جرم میں مسجد نبوی، صحن جبرائیل سے باہر نکال دینا کوئی نئی بات نہیں [35] کیونکہ یہ آج بھی وہی خاندانِ آلسعود ہے کہ جس نے کل وھابیت کی آبیاری کی تھی۔ یہ آج بھی اسی شیخ نجدی کے پیروکار ہیں کہ جس نے امت کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ آج دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشتگردی، قتل و غارت کا بازار گرم ہے تو یہ سب سلف و سلفیت اور وہابیت جیسے افکار کے مرہونِ منت ہے۔ القاعدہ ہو، لشکرجھنگوی، طالبان ہوں یا پھر داعش یہ سب انھیں افکار کے سائے میں پلے بڑھے ہیں۔ ان کے نزدیک دنیا کا ہر انسان کافر و مشرک ہے۔ لہذا کل کی طرح آج بھی یہ اسلام کے حقیقی چہرے کو تبدیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مقام فکر تو یہ ہے کہ وہ خاندانِ آل سعود کہ جس کا عقائد اہل سنت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، وہ پوری اہل سنت کمیونٹی کی سرپرستی کا دعویٰ کس منہ سے کرسکتا ہے۔ الغرض یہ کہ آج دنیا کے کسی خطے میں بھی اگر اسلام کو مشکلات و دشواری کا سامنا ہے، تو اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ آج امت مسلمہ اپنے اندرونی دشمن کو نہیں پہچانا اور اسے اپنی صفوں سے باہر نہیں نکالا، یا پھر پوری امت مسلمہ، نہ جانے کن مصلحتوں کا شکار ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج مسلمانوں کو اپنے خارجی دشمن کے ساتھ ساتھ، اپنے اندرونی دشمن پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔ آخر میں آل سعود کے بارے میں بس اتنا کہوں گا کہ اسلام نے ان کے مزاج، فطرت اور عادات کا کچھ نہیں بگاڑا، یہ ظہورِ اسلام سے پہلے جیسے تھے، آج بھی ویسے ہی ہیں، بقولِ اقبال
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

منابع
[1] معجم مقاییس اللغۃ [مادہ سلف] ج ۲ ص ۳۹۰
[2] الصعوۃ الاسلامیہ ص ۲۵ قرضاوی
[3] حسن بن سقاف ص ۱۹ طبع دارالامام النووی اردن ،عمان
[4] مسند احمد بن حنبل ج ۵ ص ۴۲۲[مروان وجناب ابو ایوب انصاری والی روایت]
[5] مبرد کا شمار نحو کے مشہور علماء میں ہوتا ہے
[6] الکامل ج ۱ ص ۱۸۵ ، شرح ابن ابی الحدید ج ۱۵ ص ۲۴۲
[7] اس کا اہل سنت کے معتبر و بزرگ علماء میں شمار ہوتا ہے
[8] سیر اعلام النبلاء ج ۴ ص ۳۴۳
[9] میزان الاعتدال ج ۴ ص ۸۹
[10] تاریخ نجد و حجاز ص
[11] تکملۃ السیف الصیقل ص ۹ ، الاعلان بالتوبیح ص ۷۷
[12] النفی و التغریب {طبسی }۱۰۹ ، بحوث فی الملل و النحل ج ۴ ص ۵۰
[13] الدررالکامنۃ ج ۱ ص ۸۸ تا ۹۶
[14] طبقات الشافیعہ الکبریْ ج ۱۰ ص ۳۰۸
[15] تاریخ نجد و حجاز ص ۲۳ اما محمد ،فھو صاحب الدعوۃ التی عرفت باالوھابیۃ
[16] رجوع سابقہ حولہ نمبر ۳ حسن بن سقاف
[17] محمد بن عبدالوھاب کا مشہور لقب ہے ۔ جہاں بھی شیخ نجدی آئے اس سے مراد محمد بن عبدالوھاب ہی ہے
[18] علی طنطاوی جوہری مصری متوفی ۱۳۵۳ھ محمد بن عبدالوھاب ص ۱۵
[19] محمد بن عبدالوھاب ص ۱۶ ، ۱۷
[20] کشف الشّبہات ص ۲۰ ،۲۱ عربی "و عرفت ان اقرارھم بتوحید الربوبیۃ لم یدخلھم فی الاسلام و ان قصدھم الملائکۃ الانبیاء والالیاء یریدون شفاعتھم والتقرب الی اللہ بذلک ھو الذی احّل دماءھم و اموالھم"
[21] تاریخ نجد و حجاز ص ۶۸
[22] تاریخ نجد و حجاز ص ۸۲
[23] مفہوم حدیث ، صحیح بخاری ج ۱ ص ۴۷
[24] واستغفرلھم اللہ ان اللہ غفور رحیم {آیت قرآنی}
[25] محمد بن عبدالوھاب ص ۲۳
[26] الادب الفرد ص ۱۴۲ ، شفاج ج ۲ ص ۱۸
[27] ابن عابدین شامی رد المحتار ج ۳ ص ۴۲۷ ،۴۲۸
[28] تاریخ نجد و حجاز ص ۱۴۰
[29] تاریخ نجد و جحاز ص ۱۴۱ ، ۱۴۲
[30] ایضاً
[31] التّوسل بالنبی و جہلۃ الوہابیین ص ۴۴۹ تا ۲۵۳
[32] تاریخ نجد و جحاز ص ۱۳۲
[33] ایضاً ص۱۴۴
[34] ایضاً ص ۱۵۹ تا ۱۶۰
[35] ۹۲ نیوز جینل {۱۲ ربیع الاول }
آل سعود ۔۔۔ یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
islamtimes.org 
January 2, 2016
تحریر: ساجد علی گوندل
Sajidaligondal88@gmail.com

Related :

Jihad, Extremism

    Sunday, January 15, 2017

    Identify the real enemy

    ARE we still too naive to determine our enemy?
    Certainly not, but only if we have common sense and we keep our eyes wide open.
    We must also keep in mind that the enemy is non-traditional, in the sense that it does not only want to encroach on our physical spaces, but also ideological, social, cultural and political ones, in order to disrupt the social fabric.
    This enemy is more dangerous because it is internal; it lives within us and can hurt us from within.
    It can poison our thinking slowly, without being noticed.
    It wants to impose certain religious, ideological and social agendas against the collective will and order of the people.
    It employs violence to achieve its goals.
    Sometimes it only incites violence and creates an enabling environment for its violent ideological brothers.
    The state has to take constitutional, legal and security measures to deal with its enemies.
    But when our state functionaries appear to have lost the ability to recognise the enemy within us, it can be inferred that the enemy has accomplished its job. Keep reading 》》》》

    Related :

    Jihad, Extremism

      Friday, January 6, 2017

      Terrorism in Turkey and Solution استنبول میں دہشت کا راج اور علاج

      Image result for terror attack in turkey

      استنبول میں دہشت کا راج اور علاج

      Recent Terrorist Attacks in Turkey - The New York Times

      A Kurdish militant group claimed responsibility. A suicide bomber struck a main avenue in Istanbul, 
      killing at least four, including two Americans. Turkey said ISIS carried out the attack. ... 
      Three suicide attackers killed 45 people and wounded dozens more at Istanbul's main airport.
      ترکی کا شہر استنبول صدیوں تک مسلمانوں کی متحدہ حکمرانی کا مرکز رہا ہے۔ ترکی کو مشرق وسطیٰ میں بھڑکنے والی آگ سے دو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ کرد علیحدگی پسند بھی یہاں دھماکے کرنے لگ گئے ہیں اور خارجی فکر رکھنے والے گروہ بھی استنبول میں آئے روز دھماکے اور فائرنگ کر کے بے گناہ انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ پاکستان بھی انہی دو عناصر سے تخریب کاری کا شکار رہا ہے۔ اس میں ضربِ عضب کی وجہ سے ہم اہل پاکستان کو بہت حد تک امن ملا ہے مگر ابھی بھی دہشت گردی پوری طرح ختم نہیں ہو پائی۔ پاکستان اور ترکی کے تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ہیں لیکن میاں نوازشریف اور طیب اردوان کے دور میں اور بھی مثالی ہو گئے ہیں۔
      ترکی کے حکمران یقینا پاکستان کے تجربات سے فائدہ اٹھا رہے ہوں گے کہ پاکستان نے کس طرح دونوں طرح کی دہشت گردی کے خلاف کامیابی حاصل کی ہے لیکن میں یہاں جس حقیقت کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ نظریاتی جنگ ہے۔ 

      پاکستان میں دہشت گردی کہ جس کی اساس خارجی اور تکفیری سوچ تھی۔ بلوچستان اور کراچی میں علیحدگی پسندی کے تحت سیاست کے نام پر دہشت گردی اور بھتہ خوری تھی۔ پاکستان کے تمام مسالک کے دردمند اہل علم نے کتاب و سنت کی روشنی میں اسے مسترد کیا۔ اس پر کتابیں لکھیں، پمفلٹ لکھے، تقریریں کیں، بیانات دیئے۔ 
      نظریاتی اور علمی کام کو اب بھی جاری رہنا چاہئے اور ترکی کے علماء کو یہ کام کرنا چاہئے اور پاکستان کے جن علماء نے یہ نظریاتی اور علمی کام کیا ہے ان کے کام سے استفادہ کرنا چاہئے۔ ذرائع ابلاغ کو اس میدان میں بھرپور طریقے سے استعمال کرنا چاہئے۔ حکمرانوں کے گھسے پٹے پرانے جملے کہ ''دہشت گردوں کے حملے ہمارے عزائم کو کمزور نہیں کر سکتے‘‘ وغیرہ، محض مذاق بن کر رہ گئے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ بیان دینے والے اندر سے خود بھی خوفزدہ ہوتے تھے۔

       تبدیلی اس وقت آئی جب علماء نے علمی اور نظریاتی میدان میں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف شرعی دلائل کے انبار لگائے اور سکیورٹی فورسز نے بھرپور حملے کر کے ان کو جسمانی طور پر تباہ کیا اور خفیہ اداروں نے ان کے نیٹ ورک پر بھرپور کام کر کے ان کے جال کو تتر بتر کر دیا۔ 

      ہمارا موجودہ دور خارجی اور تکفیری فتنے کا دور ہے۔ اس فتنے کے خلاف اللہ کے رسولؐ کے فرمودات حدیث کی تمام کتابوں میں ''کتاب الفتن‘‘ کے باب میں موجود ہیں۔ ان احادیث کو سعودی عرب کے علماء بھی عوام کے سامنے شرح اور تفصیل کے ساتھ لائے ہیں۔ ترکی کے علماء کو بھی یہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ طیب اردوان صاحب سے گزارش ہے کہ اس پہلو پر بھی توجہ دیں تاکہ ترکی جیسا عالم اسلام کا اہم ترین ملک عراق، شام، لیبیا اور یمن جیسے حالات سے محفوظ و مامون رہے۔
       موجودہ حالات کو دیکھتا ہوں اور اللہ کے رسولﷺ کے ایک فرمان کو دیکھتا ہوں تو اپنے پیارے حضورﷺ پر درودسلام پڑھنا شروع کر دیتا ہوں کہ آپﷺ نے کس طرح ہمارے موجودہ دور کے خارجی اور تکفیری فتنہ بازوں کی نشاندہی فرما دی۔ ارشاد فرمایا :

      ''جو شخص مسلمانوں میں سے نکل کر (خارجی اور تکفیری بن کر) میری امت کے لوگوں پر چڑھ دوڑے۔ ان میں جو نیک لوگ ہیں ان کو بھی قتل کرے اور جو فاسق و فاجر ہیں ان کی گردنیں بھی اڑائے، نہ اس امت کے مومنوں کا خیال کرے اور نہ ہی ذمّیوں کا پاس کرے تو ایسا شخص میری امت میں سے نہیں ہے۔ مزید فرمایا! ایسے شخص کا مجھ سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی میرا اس سے کوئی تعلق ہے ‘‘(مسند احمد بن حنبل (10338-7931)
      غور فرمائیں، کیا پریڈ لائن کی مسجد اور دیگر مساجد میں نیک لوگ نہیں مارے گئے۔ کیا سینما گھروں، کلبوں اور دیگر مقامات پر گناہ گار لوگ نہیں مارے گئے اور کیا چرچ میں ذمّی اور اقلیتی لوگ قتل نہیں کئے گئے؟ جی ہاں! یہ سارا کچھ ہوا ہے تو پھر میرے حضورﷺ کا فرمان ایسے دہشت گردوں پر ہی منطبق اور لاگو ہوا ہے۔ چنانچہ واضح ہو گیا کہ یہی لوگ حضورﷺ کی امت سے نکلے ہیں۔ ان کا جو بھیانک کردار ہے اس کی وجہ سے یہ لاکھ حضورﷺ کا نام لیتے رہیں، حضورﷺ کی شریعت کی بات کرتے رہیں مگر ان کا حضور رحمت دو عالمؐ سے کوئی تعلق نہیں۔ 

      اللہ کے رسولﷺ مزید فرماتے ہیں! ''جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں ایک دروازہ ایسا ہے کہ اس سے وہ داخل ہو گا جو میری امت پر تلوار لہراتا ہے۔‘‘ (مسند احمد: 5689) قارئین کرام! مسلم اور مومن کا معنی ہی سلامتی اور امن بانٹنے والا ہے۔ مومن کیسا ہوتا ہے حضورﷺ نے آگاہ فرمایا!:

       ''مومن محبت کا مرکز ہوتا ہے اور وہ شخص جو لوگوں سے محبت نہ کرے اور لوگ بھی اس سے محبت نہ کریں تو اس میں کوئی خیر و بھلائی نہیں ہے۔‘‘ (مسند احمد، طبرانی کبیر: حسن) 

      صحیح مسلم اور مصنف عبدالرزاق میں حسن سند کے ساتھ یہ بھی حدیث ہے، حضورﷺ نے فرمایا! فتنوں کے زمانے میں سونے والا لیٹنے والے سے بہتر ہے، لیٹنے والا بیٹھنے والے سے بہتر ہے، بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے اچھا ہے اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہے، چلنے والا بھاگنے والے سے بہتر ہے اور پیدل چلنے والا سوار سے بہتر ہے جبکہ تیز سوار سے آہستہ چلنے والا سوار بہتر ہے‘‘
       یعنی علماء کی ذمہ داری ہے، حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ عام مسلمانوں میں خارجی اور تکفیری فتنے کا شعور پیدا کریں۔ انہیں آگاہی دیں تاکہ وہ مذہبی اور سیاسی خارجیوں کے فتنے میں نہ پڑیں، ان سے دور رہیں، حصہ دار نہ بنیں اور حکمران فتنہ بازی کی سرکوبی کریں۔ جی ہاں! دہشت گردی کی بیماری کا ہر پہلو سے علاج کیا جائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان ترکی اور سعودیہ ہی نہیں، سارا عالم اسلام اورپوری انسانیت کو اس سے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔
      - See more at: http://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2017-01-06/18129/74891353#tab2

      Related :

      Jihad, Extremism

        Thursday, January 5, 2017

        شدت پسندوں کی تقسیم Categories of Terrorists nd Reforming


         شدت پسندی کی مختلف سطحیں ہوتی ہیں اور ان سے مختلف طرح سے ڈیل کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں اور بہت سی چیزوں کی طرح عسکریت پسندی اور کالعدم تنظیموں کے حوالے سے بھی سوئپنگ سٹیٹمنٹس سے کام لیا جاتا ہے۔ اس ایشو کو زیادہ گہرائی میں جا کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ 

        Image result for categories of terrorists 


        Categories of Terrorist Groups

        There are many different categories of terrorism and terrorist groups that are currently in use. These categories serve to differentiate terrorist organizations according to specific criteria, which are usually related to the field or specialty of whoever is selecting the categories. Also, some categories are simply labels appended arbitrarily or redundantly, often by the media. For example, every terrorist organization is by definition "radical", as terror tactics are not the norm for the mainstream of any group. 

        Separatist. Separatist groups are those with the goal of separation from existing entities through independence, political autonomy, or religious freedom or domination. The ideologies separatists subscribe to include social justice or equity, anti-imperialism, as well as the resistance to conquest or occupation by a foreign power. 

        Ethnocentric. Groups of this persuasion see race as the defining characteristic of a society, and therefore a basis of cohesion. There is usually the attitude that a particular group is superior because of their inherent racial characteristics. 

        Nationalistic. The loyalty and devotion to a nation, and the national consciousness derived from placing one nation's culture and interests above those of other nations or groups. This can find expression in the creation of a new nation, or in splitting away part of an existing state to join with another that shares the perceived "national" identity. 

        Revolutionary. Dedicated to the overthrow of an established order and replacing it with a new political or social structure. Although often associated with communist political ideologies, this is not always the case, and other political movements can advocate revolutionary methods to achieve their goals. 

        Political. Political ideologies are concerned with the structure and organization of the forms of government and communities. While observers outside terrorist organizations may stress differences in political ideology, the activities of groups that are diametrically opposed on the political spectrum are similar to each other in practice. 

        Religious. Religiously inspired terrorism is on the rise, with a forty-three percent increase of total international terror groups espousing religious motivation between 1980 and 1995. While Islamic terrorists and organizations have been the most active, and the greatest recent threat to the United States, all of the major world religions have extremists that have taken up violence to further their perceived religious goals. Religiously motivated terrorists see their objectives as holy writ, and therefore infallible and non-negotiable 

        Social. Often particular social policies or issues will be so contentious that they will incite extremist behavior and terrorism. Frequently this is referred to as "single issue" or "special interest" terrorism. Some issues that have produced terrorist activities in the United States and other countries include animal rights, abortion, ecology/environment, and minority rights. 

        Domestic. These terrorists are "home-grown" and operate within and against their home country. They are frequently tied to extreme social or political factions within a particular society, and focus their efforts specifically on their nation's socio-political arena. 

        International or Transnational. Often describing the support and operational reach of a group, these terms are often loosely defined, and can be applied to widely different capabilities. International groups typically operate in multiple countries, but retain a geographic focus for their activities. Hezbollah has cells worldwide, and has conducted operations in multiple countries, but is primarily concerned with events in Lebanon and Israel. 

        Transnational groups operate internationally, but are not tied to a particular country, or even region. Al Qaeda is transnational; being made up of many nationalities, having been based out of multiple countries simultaneously, and conducting operations throughout the world. Their objectives affect dozens of countries with differing political systems, religions, ethnic compositions, and national interests:


        ایک دلچسپ مثال کے ذریعے شدت پسندوں کی تقسیم سمجھنے کی کوشش کریں۔

        فرض کر لیں کہ ہم ایک خاندان کے بارے میں بات کر رہے ہیں، ان میں ایک نوجوان ایسا ہے جوجانوروں کے حقوق کا پرزورعلمبردارہے اور ان پر ظلم کرنے والوں کے خلاف ذہن رکھتا ہے۔یہ ایک معتدل طرز فکر ہے ۔
        اس نوجوان کا بڑا بھائی بھی بالکل وہی خیالات رکھتا ہے، مگر وہ حیوانات کے ساتھ بے رحمی برتنے والوں کے خلاف تحریک چلا رہا ہے۔ وہ پمفلٹس لکھتا اور لومڑیوں کی دم سے فر کوٹ بنانے والی فیکٹریوں کے باہر مفت بانٹتا ہے ، ان فرکوٹس ، جانوروں کی کھال سے بنائے جانے والے پرس وغیرہ کے بائیکاٹ کی اپیل کرتا ہے وغیرہ ۔ اسے ہم ایکٹو نوجوان سمجھتے ہیں،جو اپنے خیالات کا پرچار کرتا اور اس کے لئے رائے عامہ ہموار کرنے میں جتا رہتا ہے۔
        اسی خاندان کا ایک اور نوجوان اس حوالے سے زیادہ تیز اور جارحانہ خیالات کا حامل ہے۔ اس کے خیال میں جانوروں پر ظلم کرنے والے ظالم اور گناہ گار ہیں، ایسے لوگوں کا ایمان بھی خطرے میں ہے اور ان کی شدید مذمت ہونی چاہیے۔ یہ نوجوان سخت گیر فکر کا حامل ہے۔
        اس کا ایک بڑا بھائی بھی ویسے سخت گیر خیالات رکھنے کے ساتھ زیادہ سرگرم اور منہ پھٹ ہے۔ وہ جانوروں کی کھالوں کا کاروبار کرنے والے اداروں کے خلاف ریلیاں نکالتا، ان کے دفاتر کے باہر نعرے لگاتا اور برا بھلا کہنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ کیٹیگریز کے مطابق یہ نوجوان ریڈیکل ہے۔
        اسی خاندان کا ایک اور شخص ایک قدم آگے بڑھ کر مزاحمت کرتااوربے رحمی حیوانات کا ارتکاب کرنے والوں سے بھڑ جانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ کسی کو تھپڑ مکہ مار دیا ، گالیاں نکالیں اور ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ یہ ایک شدت پسند ہے ۔
        اس خاندان میں ایک ایسا جوشیلا نوجوان بھی ہے جس نے ایک فیکٹر ی پر گھریلو ساختہ بم سے حملہ کر دیا اور فائرنگ کر کے فیکٹری مالک کو قتل کر دیا۔ یہ دہشت گردہے۔
        اب یہ ساری مختلف کیٹیگریز ہیں۔ سخت گیر فکر سے شدت پسندی، ریڈیکل سے دہشت گردی تک ارتکاب کرنے والے مختلف حلقے۔ ان تمام کو ایک ہی طرح سے ڈیل نہیں کیا جا سکتانہ کرنا چاہیے۔ برطانیہ میں سیون سیون کے دھماکوں کے بعد شروع میں شدت پسند ذہن رکھنے والے مسلمانوں پر کریک ڈائون ہوا اور سب کو ایک ہی آنکھ سے دیکھا گیا۔ بعد میں ماہرین نے ریسرچ کر کے یہ نتائج نکالے کہ ان کی الگ الگ کیٹیگری بنا کر الگ الگ ڈیل کیا جائے۔
        ریسرچ کے مطابق اس کے امکانات موجود رہتے ہیںکہ کوئی سخت گیر فکر رکھنے والا نوجوان اپنی سوچ کے ارتقائی مراحل میں دہشت گردی تک پہنچ جائے، مگر اس کے بھی قوی امکانات ہیں کہ وہ صرف اپنی اسی کیٹیگری تک ہی محدود رہ جائے بلکہ اسے مکالمہ اورگفتگو سے مزید نرم کر کے ماڈریٹ بنایا جا سکے۔
        ایسا ایک تجربہ چند سال پہلے مصر میں کیا گیا۔ حسنی مبارک کے دور میں جیل میں بندمذہبی قیدیوں کے ساتھ ایک مکالمے کے عمل کا آغاز ہوا۔ ان دنوں جیل میں حزب التحریر، اخوان المسلمون، القاعدہ اور بعض شدت پسند تنظیموں کے لوگ قید تھے، ان میںاسامہ بن لادن کے نائب اور آج کل القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی سابقہ تنظیم کے جنگجو بھی شامل تھے۔ انہیں جیل میں کتابیں فراہم کی گئیں۔

        اس وقت کے مفتی اعظم مصر شیخ علی جمعہ نے اس مکالمہ میں دلچسپی لی اور قیدیوں کے لئے سہولت کار کے فرائض انجام دئیے۔ کئی ماہ تک یہ مکالمہ چلتا رہا۔ اخوان المسلمون تو خیر ایک جمہوری جماعت ہے جس نے مسلح جدوجہد سے انتہائی مشکل وقت میں بھی گریز کیا ،مگر وہ شدت پسند جنگجو جو پہلے مسلح جدوجہد سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہوتے تھے، ان میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی آئی اور ایک بڑے حلقے نے آئندہ کے لئے 

        پرامن جدوجہد کرنے کا اعلان کیا۔
        حزب التحریر کے کئی ممتاز لوگوں نے اپنی جماعت چھوڑ دی ، القاعدہ کا ایک حصہ الگ ہوگیا۔ یہ تبدیلی اس قدر بڑی اور نمایاں تھی کہ ایمن الزویری کو خود اس کے خلاف ایک کتاب لکھنی پڑی۔
        شیخ الازہر علی جمعہ کا کہنا تھا کہ مکالمہ کے ذریعے ہی ہم تبدیلی لاسکتے ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ ایک انتہا پسند اچانک ماڈریٹ ہوجائے ۔ اس میں تبدیلی مرحلہ وار آئے گی۔ شدت پسندی ترک کر نے کے باوجود وہ ایک سخت گیر فکر کا حامل تو رہے گا۔ اسے برداشت کرنا پڑے گا۔ جب سخت گیر فکر کاحامل سسٹم کا حصہ بن جائے تو بتدریج وہ نرم ہوتا جائے گا۔
        ہمارے ہاںکالعدم تنظیموں کی اصطلاح وسیع معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔ ہر وہ تنظیم جس پر حکومت پابندی لگا دے، وہ کالعدم کہلاتی ہے، مگر یاد رہے کہ ہر کالعدم تنظیم ضروری نہیں کہ ایک ہی سطح کی دہشت گرد تنظیم ہو۔ 

        ان میں سے کچھ سخت گیر فکر رکھنے والی تنظیمیں اور بعض مختلف مسالک کی گمراہی یا تکفیر کی قائل ہیں۔ اب جہاں تک دہشت گرد تنظیموں کا معاملہ ہے، تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی یا وہ مختلف سپلنٹر گروپ جو ریاست اور ریاستی اداروں، شہریوں پر حملہ آور ہوتے ، بے گناہ افراد کی ہلاکت کے خواہاں ہیں، ان کے ساتھ تو کسی قسم کی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ دہشت گرد کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ۔ تاہم بعض ایسی کالعدم تنظیمیں ہیں جن کی سخت گیر فکر اور دوسرے مسالک کے لئے ان کے تکفیری رویے کو دیکھتے ہوئے ان پر پابندی لگائی گئی۔ یہ پابندی لگانا درست تھا کہ اس سے ریاست کے عزم اور سخت گیر فکر کے لئے زیرو ٹالرنس کا پتہ چلتا ہے ۔تاہم اس حوالے سے معاملات کو سلیقے سے ہینڈل کرنے کی ضرورت ہے۔

        سخت گیر فکر والے لوگ لاکھوں میں ہوسکتے ہیں۔ ان سب کو اٹھا کر سمندر میں نہیں پھینکا جا سکتا۔ ان سب کو جیلوں میں بند کرنا بھی ممکن نہیں۔ اس کے لئے طریقہ کار یہی ہے کہ اہل علم ان کے ساتھ مکالمہ کا آغاز کر یں اور سوچ کی تبدیلی کی کوشش کریں۔
        دوسری طرف ان کالعدم تنظیموں میںسے جو لوگ سسٹم کا حصہ بننے کو تیار ہیں، وہ پرامن سیاسی جدوجہد کرنا چاہتے اور الیکشن، جمہوریت، آئین کو تسلیم کر رہے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔
        امریکہ میں ٹرمپ جیسے لوگ اور یورپ میںتارکین وطن کے لئے نفرت آمیز سوچ رکھنے والی انتہائی رائٹ کی سیاسی جماعتوں کو نہ صرف برداشت کیا گیابلکہ اب کئی جگہوں پر اقتدار میں آ رہی ہیں۔
        ہمارے ہاں مولانا صوفی محمد اور ان جیسے بے لچک لوگوں پر سب سے بڑا اعتراض بھی یہی تھا کہ یہ ریاست کے آئین ، جمہوری سسٹم اور انتخابات وغیرہ ہی کو نہیں مان رہے تو انہیں کس طرح قبول کیا جائے ؟ یہ اعتراض درست تھا، مگر اب جو لوگ سسٹم کو تسلیم کر کے ، الیکشن لڑنے پر آمادہ ہیں، سیاسی عملیت پسندی انہیں اپنے ماضی کے شدت پسندانہ موقف کو چھوڑ دینے پر مجبور کر رہی ہے، انہیں آنے دینا چاہیے۔

        جھنگ سے مولانا حق نواز جھنگوی کے بیٹے کا ایم پی اے بننا خوش آئند ہے، جمعیت علما ئے اسلام جیسی مین سٹریم جماعت کے وہ حصے بنے ہیں، یہ بھی مثبت علامت ہے۔ اسے نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی نہیں سمجھنا چاہیے۔

        سانحہ کوئٹہ کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے اسلام آباد میں مولانا لدھیانوی کے جلسے کے حوالے سے غیر ضروری حساسیت کا مظاہرہ کیا۔ مولانا لدھیانوی سمیت ایسے بہت سے لوگ ہیں جو سسٹم کا حصہ بن چکے ہیں ۔ ان کے سابق شدت پسند ساتھی اس پر انہیں مطعون کررہے ہیں۔ شدت پسندی سے گریز کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کر کے ہم انتہا پسندوں کے ہاتھ مضبوط کریں گے۔
        (عامر ہاشم خاکوانی، دنیا ڈاٹ کام)

        http://m.dunya.com.pk/index.php/author/amir-khakwani/2017-01-05/18115/52573841

        Terrorism and solution? دہشت گردی اور اس کا حل ؟

        دہشت گردی ایک اختلافی نظریہ ہے جس کی بہترین وضاحت اس قدیم کہاوت سے ہوتی ہے؛ “ایک شخص کا دہشت گرد دوسرے کے نزدیک آزادی کا مجاہد ہے”...