Featured Post

Terrorism and solution? دہشت گردی اور اس کا حل جوابی بیانیہ ؟

اِس وقت جو صورت حال بعض انتہا پسند تنظیموں نے اپنے اقدامات سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے پوری دنیا میں پیدا کر دی ہے، یہ اُسی فکر کا...

Wednesday, January 17, 2018

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘




تمام مسالک کے علماء کے دستخطوں سے تیار کر دہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ کے متفقہ فتویٰ پر ۹۲۸۱ علماء نے دستخط کیے اور اس بات پر اتفاق کیا کہ:

پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ، 

ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی اسلامی شریعت کی رُو سے ممنوع ہے

خود کش حملے حرام ہیں 

جبکہ ان کے مرتکب اسلام کی رُو سے باغی ہیں

پاکستان کی حکومت یا افواج کے خلاف مسلح کاروائیاں بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں اور یہ شرعاً بالکل حرام ہیں۔

National narrative on extremism, terrorism launched:
In an important development implying the entire nation is on the same page to confront the security challenges, the government Tuesday launched the first ever national narrative on extremism and terrorism. A ceremony to this effect was held at Aiwan-e-Sadr and attended amongst others by religious scholars of all schools of thought, parliamentarians, educationists and other segments of the society. Titled ‘Paigham Pakistan’, the document envisages Fatwa against militancy duly endorsed by religious scholars of all schools of thought. Under the auspices of International Islamic University, the document has been prepared after consultations amongst different segments of the society including religious scholars, parliamentarians, intellectuals and policy makers. The narrative declares armed struggle against the country, its government or armed forces illegal. The document acknowledges that it is the responsibility of the government to fully implement Islamic provisions of the constitution. However, taking up arms to achieve this purpose amounts to Fasaad fil Arz.
Quoting verses of holy Quran and Hadith, the document says suicide is unacceptable in Islam and a grave sin. Supporting such attacks has also been declared like supporting a collection of sins. Rejecting terrorism and extremism in all its forms and manifestations, It says that those involved in activities against the government in the name of implementation of Shariah are in fact committing high treason against an Islamic state as per the Islamic injunctions. The document fully supports the anti terror operations against the terrorist elements. Keep reading >>>>.

خود کش حملے اورنفاذ شریعت کے نام پر ریاست کے خلاف مسلح تصادم حرام ہی؛علماء کا فتویٰ طاقت کے بل بوتے پر اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنا فساد فی الارض ہے، جہاد صرف ریاست کا اختیار ہے، فتویٰ انتہا پسندی، تشدد، فرقہ پرستی اور لسانی تعصبات جیسے عوامل کا قلع قمع ضروری ہے-
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے ادارہ تحقیقات اسلامی کی کاوشوں سے یہ بیانیہ فتوی کی شکل میں جاری ہوا-

جاری متفقہ فتوی و اعلامیہ میں کہا گیا کہ طاقت کے بل بوتے پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنافساد فی الارض کے مترادف ہے اور دینی شعائر اور نعروں کو نجی عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا قرآن و سنت کی رو سے درست نہیں۔ ’’ پیغام پاکستان‘‘ کی دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہادکا وہ پہلو جس میں جنگ و قتال شامل ہیں ، اس کو شروع کرنے کا اختیار صرف اسلامی ریاست کا ہے اور سرزمین پاکستان اللہ تعالیٰ کی مقدس امانت ہے جسے کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں۔

علماء و مفتیان دین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اسلامی ریاست میں پر امن طریقے سے رہنے والے غیر مسلموں کو قتل کرنا جائز نہیں بلکہ گناہ کبیرہ ہے اور اسلام کی رُو سے خواتین کا احترام اور ان کے حقوق کی پاسداری مردوں کے لیے لازم ہے ۔ متفقہ فتوی میں یہ بھی درج ہے کہ مسلح بغاوت میں شرکت یا اس کی حمایت نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی کھلی نا فرمانی ہے۔

مفقہ فتویٰ و اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مختلف مسالک کا نظریاتی اختلاف ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس اختلاف کو علمی اور نظریاتی حدود میں رکھنا واجب ہے۔ متفقہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علماء مشائخ سمیت تمام طبقات ریاست اور افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس ضمن میں پوری قوم ان سے غیرمشروط تعاون کا اعلان کرتی ہے۔

دستاویز میں درج ہے کہ پر امن بقائے باہمی کا فروغ ، پر امن معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے، اس لیے اسلام کے اصولوں کے مطابق جمہوریت ، مساوات، برداشت اور امن و انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل ضروری ہے ۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے غیر مسلم شہری اپنے تہواروں اور اپنی عبادت گاہوں میں اپنے مذاہب کے مطابق عبادت کرنے کا پورا اختیار رکھتے ہیں ۔

اسلامی تعلیمات اور آئین پاکستان کی روشنی میں تشکیل کردہ یہ قومی بیانیہ ہمیں قومی تعمیر کے مراحل تیز رفتاری سے طے کرنے میں مدد دے گا۔ 

انتہا پسندی، تشدد، فرقہ پرستی اور لسانی تعصبات جیسے عوامل قوم کو تقسیم کر رہے ہیں جن کا قلع قمع کرنا ضروری ہے۔ 
وحدت فکر کے ذریعے ہی وحدت عمل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور اسلامی یونیورسٹی و ادارہ تحقیقات اسلامی اس عظیم فریضہ پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

 تخریبی فکر کا مقابلہ کرنے کے لیے تعمیری فکر اور دینی بیانیہ کی ضرورت ہے۔ 

اس بیانیہ کی بھرپور تشہیر کی جائے گی تا کہ یہ ملک کے چپے چپے اور پوری دنیا تک پہنچ جائے۔ قومی بیانیہ کی ترویج اشاعت میں پاکستانی سفارتخانے اہم کردار ادا کریں گے۔

 دہشت گردی کے خلاف ملک کے تمام طبقات متحد ہیں ۔  دہشت گردی اور اسلام میں تضاد ہے کیوں کہ اسلام عمل کا دین ہے اور دہشت گردی تباہی کی طرف لے کر جاتی ہے۔

پوری قوم سول اور ملٹری اداروں کی پشت پر کھڑی ہے تا کہ دہشت گردی کے عفریت سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔ 

امن و استحکام کے بغیر ترقی نا ممکن ہے اور دوسروں پر سازشوں کے الزامات لگانے کے بجائے ہمیں خود احتسابی کو اپنانا ہو گا۔ 

’ پیغام پاکستان‘‘ کی تشکیل اور رونمائی ایک تاریخی عمل ہے جس سے پوری دنیا کو یہ پیغام ملا ہے کہ پاکستانی قوم دہشت گری کو ختم کرنے کے لیے متحد ہے۔

سزا دینے اور کسی بھی قوت کے خلاف اعلان جنگ کرنے کا اختیار صرف اور صرف ریاست کا حق ہے۔ 

متشدد سوچ اور دہشت گردی کے خلاف اس بیانیہ کی اشد ضرورت تھی لیکن اس ضمن میں عملی اقدامات کا کردار کلیدی ہے۔  پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اوراس بیانیے کو ملک سمیت دنیا بھر کے کونے کونے تک پہنچایا جانا چاہیے۔

اس موقع پر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ صدر پاکستان نے قومی ضرورتوں کی بنیاد پر اسلامی یونیورسٹی کو ادارہ تحقیقات اسلامی کے ذریعے مذہبی، سماجی اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ملکر قومی بیانیہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی جسے جامعہ نے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا ہے۔
اپنی تقریر میں انہوں نے ’’ پیغام پاکستان‘‘ کے اہم نکات کا ذکر کیا اور کہا کہ قومی استحکام اور ترقی کے لیے اس بیانیہ کی تشکیل ایک مسلسل عمل ہے جو قومی تقاضوں کی بنیا د پر آگے بڑھتا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ پیغام پاکستان‘‘ کی ترویج و اشاعت کے لیے تفصیلی منصوبہ بندی کی گئی ہے اس ضمن میں’’دختران وطن‘‘،’’ بین المسالک ہم آہنگی‘‘، ’’بھائی چارہ ‘‘، ’’بین المسالک مکالمہ ‘‘جیسے پراجیکٹ شروع کیے جا رہے ہیں۔

عالمی برادری کو یہ باور کراناچاہتے ہیں کہ پاکستان پر امن ملک ہے اور اس کے امن کو سبو تاژ کرنے والوں کی قبیح سازشیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی۔
بین المذاہب مکالمہ عصر ِحاضر کی اہم ضرورت ہے۔ قبل ازیں ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر محمد ضیاء الحق نے ’’پیغام پاکستان‘‘ کی تشکیل کے مراحل اور اس ضمن میں ادارے کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد و دیگر اداروں کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
Related :

    Tuesday, December 12, 2017

    اسلامی فوجی اتحاد اور دہشت گردی کے خلاف مکمل جنگ کی ضرورت

    مصر کے صوبے شمالی سیناء میں العریش کے نزدیک ایک مسجد پر دہشت گردوں کا حملہ گذشتہ ہفتے الریاض میں دہشت گردی مخالف اسلامی فوجی اتحاد کے وزرائے دفاع کے اجلاس کا سب سے نمایاں موضوع رہا ہے۔
    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزرائے دفاع کے اجلاس سے خطاب کرتےہوئے دو نکات پر زوردیا: اتحاد کے اکتالیس رکن ممالک کے درمیان روابط کا فروغ اور اسلام کے تشخص کو سخت گیروں کے ہاتھوں داغ دار ہونے سے بچانا۔اس اجلاس کا مرکزی موضوع تو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے عسکری اور سراغرسانی کے شعبوں میں تعاون اور ہر جگہ دہشت گردی کا تعاقب تھا۔ سعودی ولی عہد نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ روئے زمین سے دہشت گردوں کا مکمل استیصال کیا جائے گا۔
    یہ وزارتی اجلاس اپنے نتائج کے اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل رہا ہے۔2015ء کے آخر میں تشکیل پانے والے عسکری اتحاد نے باضابطہ طور پر تنظیمی اور عملی بنیادوں پر کام کا آغاز کردیا ہے اور اس کے اثرات ہم آنے والے دنوں میں دیکھیں گے۔
    اس وقت معاشروں کو لاحق مختلف روگوں میں سے دہشت گردی سب سے بد ترین ہے۔اس کے علاوہ غُربت ، قحط اور دیگر مختلف امراض لاحق ہیں لیکن دہشت گردی ایک ایسا بنیادی خطرہ ہے جس طرح کی کوئی اور ہلاکت آفریں آفت ہوسکتی ہے۔ہم کوئی نصف صدی تک خونیں دہشت گردی کی بات کرتے رہے ہیں لیکن اب دانشورانہ ، ثقافتی اور تعلیمی سطح پر حکمت عملیوں پر غور کیا جارہا ہے کہ ہم کیسے دہشت گردی کی اس لعنت کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس سے بچ سکتے ہیں لیکن اس سمت میں ابھی تک حکومتی اور ادارہ جاتی سطح پر کام نہیں ہوا ہے۔
    دنیا کے ممالک کی حکومتیں برسوں سے دہشت گردی کا مقابلہ سکیورٹی اور سراغرسانی کے شعبوں میں کام کے ذریعے کرتی چلی آرہی ہیں مگر وہ ایک سیل کا قلع قمع کرتی ہیں تو دوسرا دوستانہ ماحول میں سر اٹھا لیتا ہے۔دہشت گردوں کے سیل ختم کرنے والا فوجی ادارہ بھی دراصل وہی فریق ہے جو اُن نرسریوں کا تحفظ کرتا ہے جو سرکاری تعلیمی اداروں اور مذہبی اداروں میں ان سیلوں کی آبیاری کرتی ہیں۔یہ ایک ایسی سچائی ہے جس کا دلیری سے مقابلہ کیا جانا چاہیے تاکہ اسی سوراخ سے بار بار ڈسنے سے بچا جاسکے اور جہاں سے پہلے ڈنک کھایا جاتا ہےوہاں دوبارہ ہاتھ نہ رکھا جائے اور العریش کی طرح کے قتل عام کے واقعے کا دوبارہ اعادہ نہ ہو ۔مصر میں نمازیوں کے قتل عام کے اس ہولناک واقعے نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پرانی حکمت عملی سے متعلق بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے ۔

    مہلک فتوے

    دہشت گردی کے مہلک فتووں کے ا جرا کا سلسلہ جاری ہے ۔انتہا پسند مفتی مختلف پلیٹ فارمز سے نمودار ہوتے ہیں اور لوگ سے خطاب کرتے ہیں۔مسلم علماء کی بین الاقوامی یونین کو جرائم آلود کیا جانا اس ضمن میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔بعض دانش مند لوگوں نے اس یونین کے خطرناک کردار کا ادراک کر لیا تھا اور انھوں نے قبل ازوقت ہی اس کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ان میں شیخ عبداللہ بن بیاہ اور بعض دوسرے علماء شامل ہیں۔
    اس یونین کا کردار ابھی تک مشتبہ ہے۔اس نے تباہ کن فتاویٰ جارے کیے ہیں جن سے دہشت گردوں کو غیر مسلح شہریوں کو موت کی نیند سلانے کے اجازت نامے مل گئے تھے۔جب اس یونین کے سربراہ یوسف القرضاوی سے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران میں خود کش بم دھماکوں کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انھوں نے اس کا جواب کچھ یوں دیا تھا:’’اس کا انحصار افراد نہیں بلکہ گروپ پر ہے‘‘۔ انھوں نے گروپ کے فیصلے کی اہمیت پر زوردیا تھا اور کہا تھا کہ یہ فیصلہ افراد کے بجائے گروپ کے مفادات پر مبنی ہونا چاہیے۔
    اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ فتوے اسی طرح کسی روک ٹوک یا پابندی کے بغیر جاری ہوتے رہیں گے؟
    1951ء میں مفکر ایرک ہوفر نے اپنی مشہور کتاب ’’ حقیقی معتقد‘‘ شائع کی تھی۔مسلح اسلامی گروپوں کے ظہور سے قبل انھوں نے انتہا پسند وں کی نفسیاتی حالت کے بارے میں گفتگو کی تھی اور یہ انتہا پسند اپنے لیے مرنے کی سوچ اور عقیدہ رکھتے تھے۔انھوں نے یوسف القرضاوی کے گروپ اور افراد کے بارے میں بیانات پر بھی گفتگو کی ہے۔
    ہوفر لکھتے ہیں:’’ ایک فرد کو اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار کرنے کی غرض سے اس کو ذاتی شناخت سے محروم کردیا جائے۔اس کو جارج ہانس ، ایفان اور تداؤ بنا دیا جائے ۔ یعنی ایک انسانی ایٹم ، جس کا وجود پیدائش اور موت سے جڑا ہوا ہے۔ اس نتیجے کو حاصل کرنے کا سب سے انتہا پسندانہ طریق یہ ہے کہ فرد کو ایک اجتماعی جسم میں ضم کردیا جائے۔ اس طرح کا مکمل مجذوب شخص خود کو اور دوسروں کو انسان ہی نہیں سمجھتا ہے۔اس سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ وہ کون ہے؟ تو اس کا رٹا رٹایا خود کار جواب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک جرمن ، روسی ، جاپانی ، عیسائی اور مسلمان ہے اور وہ ایک خاص قبیلے یا خاندان کا فرد ہے۔اس کا اجتماعی جسم کے سوا کوئی انفرادی مقصد یا منزل نہیں ہوتی ہے۔جب تک یہ جسم زندہ رہتا ہے تو وہ مر نہیں سکتا ہے۔ایک احساس ملکیت سے عاری شخص کے لیے محض سادہ زندگی کوئی قدرو قیمت نہیں رکھتی ہے‘‘۔

    نفسیاتی تجزیہ

    یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے افراد ان کے گروپ میں ڈھل جاتے ہیں اور وہ ایک ایسی ڈھال بن جاتے ہیں جس کو دوسرے اپنے طے شدہ مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔حتیٰ کہ وہ خود کو دوسرے لوگوں کے درمیان دھماکوں سے اڑا دیتے ہیں۔انتہا پسندوں کو ایک اہم مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ان کی نمائندگی اعتدال پسند کرتے ہیں۔
    قرآن اور تلوار کے موضوع پر جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے لیڈر یوسف العائری کا لیکچر ہوفر کے پیش کردہ نفسیاتی تجزیے کی ایک مثال ہے۔
    ہوفر اپنی کتاب میں مزید لکھتے ہیں :’’ ایک حقیقی پیروکار کی اصل صلاحیت یہ ہے کہ وہ اپنی آنکھیں اور کان بند رکھے تاکہ وہ ان حقائق کو سن اور دیکھ نہ سکے جو اس کی غیر ثانی وفاداری اور مضبوطی کا ذریعہ ہیں۔اس کو خطرے سے ڈرایا جاسکتا ہے اور نہ رکاوٹوں سے اس کا دل چھوٹا کیا جاسکتا ہے اور نہ تضادات سے اس کو مخمصے کا شکار کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ان کے وجود سے انکاری ہوتا ہے۔عقیدے کی مضبوطی ،جیسا کہ برگساں نے نشان دہی کی ہے،پہاڑ کے حرکت پذیر ہونے سے ظاہر نہیں ہوتی ہے بلکہ پہاڑ کو حرکت کرتا ہوا نہ دیکھنے سے ظاہر ہوتی ہے۔
    اسلامی عسکری اتحاد نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے جو ویژن پیش کیا ہے، وہ امیدافزا ہے۔بالخصوص اس تناظر میں بھی جب ہم دانش ورانہ اور نظری سطحوں پر دہشت گردی کو شکست دینے میں ناکام رہے ہیں۔ہم میں خونریزی اور ہلاکتوں کے بارے میں تو کافی حساسیت پائی جاتی ہے اور ہم تجزیوں اور وضاحتوں سے بھی تھک ہار چکے ہیں۔
    اب وقت آگیا ہے کہ حکومتیں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ، مختلف پلیٹ فارموں اور پوڈیمز کو صاف کریں، دہشت گردوں کی کمین گاہوں اور خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں اور تعلیم کو ایلیمنٹری سے اعلیٰ سطح تک از سر نو استوار کریں۔اس کے لیے بہت سی کوششیں درکار ہوں گی لیکن اتحاد کے رکن اکتالیس ممالک کے لیے اجتماعی طور پر یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ جب یہ سب کام ہوجائے گا تو پھر ہی ہم یہ امید کرسکیں گے کہ اب ایسے قتل عام کا اعادہ نہیں ہوگا جس میں بے گناہ لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ ہمیں دہشت گردی کے خلاف ایک مکمل جنگ کی ضرورت ہے۔
    پال ڈوموشیل اپنی کتاب ’’ دا بیرن سیکریفائس‘‘ ( بنجر قربانی) میں لکھتے ہیں: ’’تشدد کو افراد کی جانب سے بڑھائے جانے والے تنازعات اور مقابلوں میں مدغم کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جتنا یہ دوسروں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے،اتنا ہی اس کو پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے ،جتنی اس میں چکا چوند ہوتی ہے،اتنی اس میں تشویش بھی پنہاں ہوتی ہے‘‘۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فہد سلیمان الشقیران ایک سعودی لکھاری اور محقق ہیں۔ وہ الریاض فلاسفر گروپ کے بانی سربراہ ہیں۔ان کی تحریریں العربیہ ڈاٹ نیٹ اور پان عرب اخبار الشر ق الاوسط میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

    Related :

    Jihad, Extremism

      Wednesday, August 30, 2017

      ظالم فاسق فاجر حکمران - علماء اور مسلمانوں کا رویہ Rebellion against Oppressor, Sinner Muslim rulers


      فاسق مسلمان حکمران کے خلاف خروج فتنہ و فساد جائز نہیں:
      فاسق مسلمان حکمران کے خلاف تو خروج جائز نہیں ہے لیکن ظالم یا بے نماز مسلمان حکمران کے خلاف خروج کا جواز چند شرائط کے ساتھ مشروط ہے لیکن فی زمانہ ان شرائط کا حصول مفقود ہونے کی وجہ سے ظالم اور بے نماز مسلمان حکمران کے خلاف خروج بھی جائز نہیں ہے۔

      ایسے حکمرانوں کو وعظ و نصیحت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر واجب ہے لیکن ا للہ کے رسول ۖ کے فرامین کے مطابق کسی فاسق و فاجرمسلمان حکمران کے خلاف خروج حرام ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کا اجتماعی ضرر اور فتنہ و فساد ہے۔ ہاں اگر کسی پر امن طریقے مثلاً احتجاجی سیاست وغیرہ سے ان حکمرانوں کی معزولی اوران کی جگہ اہل عدل کی تقرری ممکن ہو تو پھر ان کی معزولی اور امامت کے اہل افراد کی اس منصب پر تقرری بھی اُمت مسلمہ کا ایک فریضہ ہو گی-فاسق و فاجرحکمرانوں کے خلاف خروج کی حرمت کے دلائل درج ذیل ہیں۔ آپ کا ارشاد ہے:١) ''ألا من ولی علیہ وال فرآہ یأتی شیئاً من معصیة اللہ فلیکرہ ما یأتی من معصیة اللہ ولا ینزعن یدا من طاعة.'' (صحیح مسلم' کتاب الامارة' باب خیار الأئمة و شرارھم)
      ''خبردار! جس پر بھی کوئی امیر مقررہوا اور وہ اس امیر میں اللہ کی معصیت پر مبنی کوئی کام دیکھے تو وہ امیر کے گناہ کو تو ناپسند کرے لیکن اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے۔''٢) ''من کرہ من أمیرہ شیئا فلیصبر علیہ فنہ لیس من أحد من الناس یخرج من السلطان شبرا فمات علیہ لا مات میتة جاھلیة.''(صحیح مسلم' کتاب الامارة' وجوب ملازمة جماعة المسلمین عند ظھور الفتن ؛ صحیح بخاری' کتاب الفتن' قول النبی سترون بعدی أمورا تنکرونھا)

      جسے اپنے امیر میں کوئی برائی نظر آئے تو وہ اس پر صبر کرے کیونکہ کوئی بھی شخص جب حکمران کی اطاعت سے ایک بالشت برابر بھی نکل جاتا ہے اور اسی عدم اطاعت پر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔٣) '' ومن خرج علی أمتی یضرب برھا وفاجرھا ولا یتحاش عن مؤمنھا و لا یفی لذی عھد عھدہ فلیس منی ولست منہ.'' (صحیح مسلم' کتاب الامارة' وجوب ملازمة جماعة المسلمین عند ظھور الفتن)

      ''اور جو شخص بھی میری امت پر خروج کرے اور اس کے نیک و بدکار دونوں کو مارے اور امت کے مومن سے کو بھی اذیت دینے سے نہیں بچتا (جیسا کہ آج کل کے خود کش حملوں میں معصوم اور دیندار شہریوں کی بھی ہلاکت ہو جاتی ہے)۔ اور نہ ہی کسی ذمی کے عہد کا لحاظ کرتا ہے تو نہ ایسے شخص کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔ ''٤) 

      ''مَنْ حَمَلَ عَلَیْنَا السَّلَاحَ فَلَیْسَ مِنَّا.''(صحیح بخاری' کتاب الفتن' باب قول النبی من حمل علینا السلاح فلیس منا)
      ''جس نے ہم پر(یعنی مسلمانوں پر) ہتھیار اٹھائے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔''٥) ''سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر.''(صحیح بخاری' کتاب الایمان' باب خوف المؤمن من أن یحبط عملہ)''کسی مسلمان کو گالی دینا فسق و فجور ہے اور اس کا قتل کفریہ فعل ہے۔''٦) '' اذا التقی المسلمان بسیفیھما فالقاتل والمقتول فی النار.''(صحیح بخاری' کتاب الایمان' باب قولہ تعالی وان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا)

      ''جب دو مسلمان آپس میں اپنی تلواروں(یعنی ہتھیاروں) سے آمنے سامنے ہوں تو قاتل ومقتول دونوں آگ میں ہوں گے۔''٧) ''لا ترجعوا بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض.''(صحیح بخاری' کتاب الفتن' باب قول النبیۖ لا ترجعوا بعدی کفارا)

      تم میرے بعد کافر مت بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگ جانا۔٨) عن عدیسة بنت ھبان بن صیفی الغفاری قالت: جاء علی بن أبی طالب لی أبی فدعاہ للخروج معہ' فقال لہ أبی: ان خلیلی و ابن عمک عھد لی اذا اختلف الناس أن اتخذ سیفا من خشب فقد اتخذتہ فن شئت خرجت بہ معک قالت: فترکہ.''(سنن الترمذی' کتاب الفتن عن رسول اللہ' باب جاء فی اتخاذ سیف من خشب فی الفتنة)

      '' عدیسہ بنت ھبان فرماتی ہیں کہ حضرت علی میرے والد صاحب کے پاس آئے اور انہیں اپنے ساتھ (حضرت معاویہ کے خلاف جنگ میں) نکلنے کی دعوت دی۔ تو میرے والد نے حضرت علی سے کہا : بے شک میرے دوست اور آپ کے چچازاد(یعنی محمد ۖ) نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ جب مسلمانوں میں باہمی اختلاف ہو جائے تو تم لکڑی کی ایک تلوار بنا لینا۔ پس میں نے لکڑی کی ایک تلوار بنا لی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں تو میں اس تلوار کے ساتھ آپ کے ساتھ جانے کو تیارہوں۔ عدیسہ بنت ھبان فرماتی ہیں: اس بات پر حضرت علی نے میرے والد کو ان کی حالت پر چھوڑدیا۔''علامہ ألبانی نے اس روایت کو 'حسن صحیح ' کہا ہے۔(صحیح ابن ماجة :٣٢١٤)٩)

       کسروا فیھا قسیکم و قطعوا أو تارکم و اضربوا بسیوفکم الحجارة فان دخل علی أحدکم فلیکن کخیر ابنی آدم۔(سنن أبی داؤد' کتاب الفتن و الملاحم' باب فی النھی عن السعی فی الفتنة)

      فتنوں کے زمانے میں اپنی کمانیں توڑ دو۔ اور ان کی تانت ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔ اور اپنی تلواریں پتھروں پر دے مارو۔ پس اگر تم میں کسی ایک پر کوئی چڑھائی کرے تو وہ آدم کے دو بیٹوں میں سے بہترین کی مانند ہو جائے۔ علامہ ألبانی نے اس روایت کو 'صحیح' کہا ہے۔ (صحیح ابن ماجة:٣٢١٥)

      حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اس بھائی کی مانند ہو جانا کہ جس نے قتل ہونا تو پسند کر لیا تھا لیکن اپنے بھائی کو قتل کرنے سے انکار کر دیا تھا جیسا کہ سورۃ المائدۃ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

      لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَ‌بَّ الْعَالَمِينَ ﴿٢٨﴾
      '' البتہ اگر تو نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تاکہ تو مجھے قتل کرے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف بڑھانے والا نہیں ہوں تاکہ تجھے قتل کروں۔ بے شک میں تمام جہانوں کے رب سے ڈرنے والا ہوں۔ بے شک میں یہ چاہتا ہوں کہ تم (یعنی قاتل) میرے اور اپنے گناہوں کے ساتھ لوٹ جاؤ اور اس کے سبب سے جہنم والوں میں سے ہوجاؤ۔''١٠)
      ''وان اللہ لیؤید ھذاالدین بالرجل الفاجر.''(صحیح بخاری' کتاب الجھاد والسیر' باب ن اللہ یؤید الدین بالرجل الفاجر)'
      'بے شک اللہ سبحانہ و تعالی اس دین اسلام کی تائیدو نصرت فاسق و فاجر آدمی کے ذریعے کرتا ہے۔''

      پڑھتے جائیں >>>>>>

      ~~~~~~~~~~~~~~~~

      يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا
      مومنو! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے
      “O ye who believe! obey ALLAH, and obey His Messenger and those who are in authority among you. And if you differ in anything refer it to ALLAH and His Messenger, if you are believers in ALLAH and the Last Day. That is best and most commendable in the end.”(Quran; 4:59)
      Waging war against Allah and His Messenger (pbuh) and creating disorder on land is very serious sin & crime with capital punishment:
      إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
      جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے
      “The only reward of those, who wage war against ALLAH and HIS Messenger and strive to create disorder in the land, is that they be slain or crucified or their hands and feet be cut off on account of their enmity, or they be expelled from the land. That shall be a disgrace for them in this world, and in the Hereafter they shall have a great punishment”(Quran; 5:33)

















      Rebellion against Oppressor, Sinner Muslim rulers is not allowed:
      يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا
      مومنو! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے
      “O ye who believe! obey ALLAH, and obey His Messenger and those who are in authority among you. And if you differ in anything refer it to ALLAH and His Messenger, if you are believers in ALLAH and the Last Day. That is best and most commendable in the end.”(Quran; 4:59)
      Waging war against Allah and His Messenger (pbuh) and creating disorder on land is very serious sin & crime with capital punishment:
      إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
      جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے
      “The only reward of those, who wage war against ALLAH and HIS Messenger and strive to create disorder in the land, is that they be slain or crucified or their hands and feet be cut off on account of their enmity, or they be expelled from the land. That shall be a disgrace for them in this world, and in the Hereafter they shall have a great punishment”(Quran; 5:33)
      This verse [4:59] is the cornerstone of the entire religious, social and political structure of Islam, and the very first clause of the constitution of an Islamic state. It lays down the following principles as permanent guidelines:
      (1)    In the Islamic order of life, God alone is the focus of loyalty and obedience. A Muslim is the servant of God before anything else, and obedience and loyalty to Allah constitute the centre and axis of both the individual and collective life of a Muslim. Other claims to loyalty and obedience are acceptable only insofar as they remain secondary and subservient, and do not compete with those owed to God. All loyalties which may tend to challenge the primacy of man's loyalty to God must be rejected. This has been expressed by the Prophet ((صلي الله عليه وسلم)  in the following words: 'There may be no obedience to any creature in disobedience to the Creator.' (Muslim, 'Iman', 37; Ahmad bin Hanbal, Musnad, vol. 3, p. 472 - Ed.)
      (2)    Another basic principle of the Islamic order of life is obedience to the Prophet (peace be on him). No Prophet, of course, is entitled to obedience in his own right. Obedience to Prophets, however, is the only practical way of obeying Allah, since they are the only authentic means by which God communicates His injunctions and ordinances to men. Hence, we can obey God only if we obey a Prophet. Independent obedience to God is not acceptable, and to turn one's back on the Prophets amounts to rebellion against God. The following tradition from the Prophet (peace be on him) explains this: 'Whoever obeyed me, indeed obeyed God; and whoever disobeyed me, indeed disobeyed God.' (Bukhari, 'Jihad', 109; 'I'tisam', 2; Muslim, 'Amarah', 32, 33; Nasa'i, 'Bay'ah', 27; etc. - Ed.) This has been explained in more detail as we  further study the Qur'an.
      (3)    In the Islamic order of life Muslims are further required to obey fellow Muslims in authority. This obedience follows, and is subordinate to, obedience to God and the Prophet (peace be on him). Those invested with authority (ulu al-amr) include all those entrusted with directing Muslims in matters of common concern. Hence, persons 'invested with authority' include the intellectual and political leaders of the community, as well as administrative officials, judges of the courts, tribal chiefs and regional representatives. In all these capacities, those 'invested with authority' are entitled to obedience, and it is improper for Muslims to cause dislocation in their collective life by engaging in strife and conflict with them. This obedience is contingent, however, on two conditions: first, that these men should be believers; and second, that they should themselves be obedient to God and the Prophet (peace be on him). These two conditions are not only clearly mentioned in this verse they have also been elucidated at length by the Prophet (peace be on him) and can be found in the Hadith. Consider, for example, the following traditions: A Muslim is obliged to heed and to obey an order whether he likes it or not, as long as he is not ordered to carry out an act of disobedience to God (ma'siyah). When ordered to carry out an act of disobedience-to God he need neither heed nor obey.
      There is no obedience in sin; obedience is only in what is good (ma'ruf). (For these traditions see Bukhari, 'Ahkam', 4; 'Jihad', 108; Muslim, 'Amarah', 39; Tirmidhi, 'Jihad', 29; Ibn Majah, 'Jihad', 40; Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. 2, pp. 17 and 142 - Ed.)
      Prophet (pbuh) is reported to have said: “There will be rulers over you, some of whose actions you will consider good and others abominable. Who even disapproves of their abominable acts will be acquitted of all blame, and whoever resents them he too will remain secure (from all blame); not so one who approves and follows them in their abominable acts. They (i.e. the Companions) asked: 'Should we not fight against them?' The Prophet (peace be on him) said: 'No, not as long as they continue to pray.” (See Bukhari, 'Jihad', 108 - Ed.) This means that their abandonment of Prayer will be a clear sign of their having forsaken obedience to God and the Prophet (peace be on him). Thereafter it becomes proper to fight against them. In another tradition the Prophet (peace be on him) says: “Your worst leaders are those whom you hate and who hate you; whom you curse and who curse you. We asked: 'O Messenger of God! Should we not rise against them?' The Prophet (peace be on him) said: 'No, not as long as they establish Prayer among you: not as long as they establish Prayer among you.” (See Muslim, 'Amarah', 65, 66; Tirmidhi, 'Fitan', 77; Darimi, 'Riqaq, 78; Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. 6, pp. 24, 28 - Ed.) In this tradition the position is further clarified. The earlier tradition could have created the impression that it was not permissible to revolt against rulers as long as they observed their Prayers privately. But the latter tradition makes it clear that what is really meant by 'praying' is the establishment of the system of congregational Prayers in the collective life of Muslims. This means that it is by no means sufficient that the rulers merely continue observing their Prayers: it is also necessary that the system run by them should at least be concerned with the establishment of Prayer. This concern with Prayer is a definite indication that a government is essentially an Islamic one. But if no concern for establishing Prayer is noticed, it shows that the government has drifted far away from Islam making it permissible to overthrow it. The same principle is also enunciated by the Prophet (peace be on him) in another tradition, in which the narrator says: 'The Prophet (peace be on him) also made us pledge not to rise against our rulers unless we see them involved in open disbelief, so that we have definite evidence against them to lay before God' (Bukhari and Muslim).
      (4)    In an Islamic order the injunctions of God and the way of the Prophet (peace be on him) constitute the basic law and paramount authority in all matters. Whenever there is any dispute among Muslims or between the rulers and the ruled the matter should be referred to the Qur'an and the Sunnah, and all concerned should accept with sincerity whatever judgement results. In fact, willingness to take the Book of God and the Sunnah of His Messenger as the common point of reference, and to treat the judgement of the Qur'an and the Sunnah as the last word on all matters, is a central characteristic which distinguishes an Islamic system from un-Islamic ones. Some people question the principle that we should refer everything to the Book of God and the Sunnah of the Prophet (peace be on him). They wonder how we can possibly do so when there are numerous practical questions involved, for example, rules and regulations relating to municipal administration, the management of railways and postal services and so on which are not treated at all in these sources. This doubt arises, however, from a misapprehension about Islam. The basic difference between a Muslim and a non-Muslim is that whereas the latter feels free to do as he wishes, the basic characteristic of a Muslim is that he always looks to God and to His Prophet for guidance, and where such guidance is available, a Muslim is bound by it. On the other hand, it is also quite important to remember that when no specific guidance is available, a Muslim feels free to exercise his discretion because the silence of the Law indicates that God Himself has deliberately granted man the freedom to make his decision.
      Since the Qur'an is not merely a legal code, but also seeks to instruct, educate, admonish and exhort, the earlier sentence which enunciates a legal principle is followed by another which explains its underlying purpose and wisdom. Two things are laid down. First, that faithful adherence to the above four principles is a necessary requirement of faith. Anyone who claims to be a Muslim and yet disregards the principles of Islam involves himself in gross self-contradiction. Second, the well-being of Muslims lies in basing their lives on those principles. This alone can keep them on the straight path in this life, and will lead to their salvation in the Next. It is significant that this admonition follows immediately after the section which embodies comments about the moral and religious condition of the Jews. Thus the Muslims were subtly directed to draw a lesson from the depths to which the Jews had sunk, as a result of their deviation from the fundamental principles of true faith just mentioned. Any community that turns its back upon the Book of God and the guidance of His Prophets, that willingly follows rulers and leaders who are heedless of God and His Prophets, and that obeys its religious and political authorities blindly without seeking authority for their actions either in the Book of God or in the practice of the Prophets, will inevitably fall into the same evil and corruption as the Israelites.
      Bukhari and Muslim narrated from Abdullah ibn al-Abbas, “if someone dislikes his ruler, he must be patient, because if he comes against the ruler in a rebellious or destructive manner by only a hand span and dies, he dies in a state of pre-Islamic ignorance (jahiliyyah) and sin.” Adherence to above principles create stability avoid anarchy [fisad-fil-ardh] and establish peace and justice so vital for development and progress of Muslims.
      In reality, the corrupt ruler is imposed by Allah due to our own wrongdoings, thus it becomes necessary that we repent and seek Allah’s forgiveness coupled with good actions, as Allah Most High says: “Whatever misfortune happens to you, is because of the things your hands have wrought” (Quran;42:30)…….. And He says: “Thus do we make the wrongdoers turn to each other, because of what they earn” (Quran;6:129). Therefore, if a nation wants to free themselves from the oppression of their leader, they must refrain themselves from oppressing others.
      So what else Muslims should do? Prophet Muhammad  صلي الله عليه وسلم  said: "The best Jihad is to speak the truth before a tyrant ruler" (Bukhari). If this  act is performed at large scale in present time, it may be termed as a strong protest. People of Pakistan and other Islamic countries can reject the corrupt, tyrant and inefficient rulers through elections and elect good, pious Muslims who can establish justice and implement  Shari’ah. People of Egypt kicked out Husni Mubark through protests and elected a pious Muslim as their president.
      Which religion the Takfiri Taliban are following? Definitely their religious practice is not based on Quran and Sunnah of Prophet Muhammad صلي الله عليه وسلم .  They follow the religion based upon desires of their own delf [Nafas Ammarah] and interpretations of semi literate Mullahs of village mosques, which contradict Quran and Sunnah of Prophet Muhammad صلي الله عليه وسلم . They can be called Khawarij of this era.
      Any sane person with common sense can read following verses from Quran with translation to understand and distinguish truth from falsehood:
      مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ
      جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبا ل اُسی پر ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا
      Whoever is guided, is guided for his own good, and whoever goes astray does so to his own detriment. No sinner will bear the sins of anyone else.(Quran;17:15)
      مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا
      جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہ
      Whoever recommends and helps a good cause becomes a partner therein: And whoever recommends and helps an evil cause, shares in its burden: And Allah hath power over all things.(Quran;4:85)
      More: http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/illogical-logic-of-takfiri-taliban-to.html











      مزید پڑھیں:
      1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE
      2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل



      Sunday, June 18, 2017

      Conquering minds


      FREED from Al Qaeda in 2001, the Tora Bora caves and the tunnels in Afghanistan have now fallen to violent extremists linked to the militant Islamic State (IS) group. This strategic ‘victory’ for the terrorist group came after the US dropped the so-called mother of all bombs in April on its hideouts, a network of tunnels in Afghanistan.

      The IS march in Afghanistan has once again proved that finding new physical spaces is not a major issue for the terrorists; many conflict-ridden, ungoverned, and poorly administered territories are available — from the sub-Saharan region to the tribal areas in the Arabian Peninsula, from the bordering region between Afghanistan and Pakistan to the Philippines.

      As the terrorists continue to mount threats to physical security, the response is also expected to remain focused on employing greater force. This is also making it more challenging for Muslim power elites to take on the terrorists in their ideological and intellectual spaces. The Trump administration’s renewed focus on hard approaches to countering terrorism could provide these elites with more excuses to continue living in their mental comfort zones.

      Ironically, the claimants of Muslims’ religious leadership, Saudi Arabia and Iran, are accusing each other of supporting terrorism. However, the Saudi and Iranian counterterrorism mantras and alliances are nothing more than efforts to secure their own petty political and strategic interests — at the cost of the lives of those these two countries claim to lead.

      The IS is a manifestation of the intellectual bankruptcy of the Muslim ruling elites.

      Their actions are not only bringing trouble to themselves but are also fuelling sectarian tensions in Muslim societies and polarising Muslim-majority nations by forcing them to choose sides. This is an appalling situation, mainly for many Muslim states including Pakistan, which are struggling to adjust to the strategic and economic meltdown in the Middle East.

      The IS is a manifestation of the intellectual bankruptcy of the Muslim ruling elites. The real challenge thus is not the expansion of the group in physical spaces, but the mindset of the ruling elites and their partners, ie the clergy, which is scared of new ideas. They don’t realise that their traditionalism and orthodoxy are eroding their own foundations.

      The need to evolve intellectual responses for countering extremism notwithstanding, a review of collective wisdom and its expressions is also important, mainly to measure a nation’s level of resilience and maturity. Parliament is the true representative of the collective wisdom of Pakistanis. It has recently suggested a neutral role for Pakistan in the Middle East crisis. Similar parliamentary advice came on the Yemen crisis. The policymakers and media of both Saudi Arabia and UAE criticised this stance.

      A statement circulating on social media, attributed to a top Saudi official, that criticised Pakistani neutrality and parliament, should not be surprising because many believe that our Arab brothers are not interested in Pakistan’s democratic credentials, but in the country’s military power.

      Let’s not forget that when parliament took a neutral position on Yemen, the UAE tried to punish Pakistan through developing a strategic partnership with India, although it knew that India could not support their misadventure in Yemen.

      Many opinion makers in Arab countries also accused Pakistan for ‘using’ parliament as an excuse to not send its troops for military adventures. Though in that case parliament proved a blessing for the establishment, the maturity it has shown over the issue is commendable. However, the actual challenge for parliament is to build intellectual and policy capital.

      One can debate the capacity of parliamentarians and the government’s somewhat indifferent attitude towards parliament, but this is still the institution which is keeping the country cohesive. This is the institution which should address the issue of extremism and the IS in our minds.

      Parliament can take the lead in nurturing the process of inclusive nation-building, by initiating debates on the extent to which diversity has been dissipated by policies of the past and incorporating the voices of different groups in the country. Parliament can draw an outline of a fresh national narrative. It can engage with all departments or institutions of the government, informing them of the consequences of their actions on social diversity.

      An active and effective parliament can fill the spaces which exist in our thoughts and that are exploited by multiple ideological players including the IS. It is recognised that terrorist groups are more afraid of non-violent, soft measures than hard measures. They exploit hard measures by pushing the narrative of the ‘victimhood of Islamic forces’ to justify both their existence and their violent acts. Their reaction is stronger if someone challenges their narrative; be it religious scholars, the media or opinion makers. There are plenty of examples available that they hit hard those who challenge their arguments.

      The content analysis of any militant publication would be helpful to understand the ideological paraphernalia of a terrorist group. For example, an old issue of Ahya-i-Khilafat (Revival of the Caliphate), a mouthpiece of the Tehreek-i-Taliban Pakistan, consisted of 15 articles including an interview with its leader and profile of a leading commander. Four articles were dedicated to their operations and so-called successes, two were against secularism, two detailed articles were meant to elaborate and glorify the caliphate system; but four articles were allocated to build their case against democracy and parliament. One article titled ‘I am a constitutional man’ was a satire on religious political leaders, ie what did it mean (for the militants) in religious terms when these leaders said they believed in a constitutional democracy.

      Parliament is a target of non-state actors and our Arab friends are also not happy with the institution on different grounds. One is not sure whether or not our parliamentarians know their importance and the role they have to play in developing a moderate and inclusive Pakistan. If parliament fails, it will fail the nation.

      Conquering minds: by Muhammad Amir Rana, The writer is a security analyst.
      https://www.dawn.com/news/1340229/conquering-minds
      ..........................................
      Terrorism is, in its broadest sense, the use of intentionally indiscriminate violence (terror or fear) in order to achieve a political, religious, or ideological aim. It is classified as fourth-generation warfare and as a violent crime. In modern times, terrorism is considered a major threat to society and therefore illegal under anti-terrorism laws in most jurisdictions[citation needed]. It is also considered a war crime under the laws of war when used to target non-combatants, such as civilians, neutral military personnel, or enemy prisoners of war. Keep reading >>>.

      This recent tirade of radical 'Islamist violence' (which I define as a hybrid between theological and political aggression by Islamic entities) against a predominantly Muslim target pool, as opposed to 'culturally diametric' Western societies, has baffled many. As always, the counter-narrative on social media has been fierce and relentless, and quite diversified in the least. The last week saw Facebook and Twitter feeds turn into sordid carousels of tummy-tickling memes about fused-out politicians and gut wrenching images of bloodied bodies at the same time.
      Unsurprisingly, the dramatic show of violence against innocents has regurgitated two interlinked pop-culture narratives (or perhaps 'counter-narratives') that have found strong currency in the past as 'valid counters to Islamophobia' – "terrorism has no religion”; and "these are not Muslims, they are psychopaths/criminals”. While they serve to immediately offset wholesale, irrational hatred against the global Muslim community after attacks by Islamist aggressors, the arguments are massively untenable in their own right.
      Islamophobic monologues are generally premised upon a superficial understanding of terrorism, but what worries me is that the above counter-narrative too is a rabbit in rhino's skin. Is this 'pop culture' discourse against Islamist terrorism (and the resultant cultural hatred) a propagation of the same old reductive public discourse that is devoid of nuance and heavy on emotions? >>>>
      http://peace-forum.blogspot.com/2016/07/understanding-terrorism-religion-socio.html


      Counter-terrorism (also spelled counterterrorism) (also called anti-terrorism) incorporates the practice, military tactics, techniques, and strategy that government, military, law enforcement, business, and intelligence agencies use to combat or prevent terrorism. Counter-terrorism strategies include attempts to counter financing of terrorism.

      If terrorism is part of a broader insurgency, counter-terrorism may employ counter-insurgency measures. The United States Armed Forces use the term foreign internal defense for programs that support other countries in attempts to suppress insurgency, lawlessness, or subversion or to reduce the conditions under which these threats to security may develop >>>.

      “THIS is a war of narratives ... there is a dire need to come up with counter-narratives ... the menace of terrorism cannot be dealt with without countering the extremist, militant ideologies.”  >>>>>

      Related :