Featured Post

Global Terrorism - عالمی دھشتگردی

There is no commonly accepted definition of "terrorism". Being a charged term, with the connotation of something "mo...

Friday, March 22, 2019

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘




فکری جمود اور انٹلیکچوئیل لاپرواہی : پیغام پاکستان- دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی  کے خلاف پاکستان کے علماء کا متفقہ بیانیہ


پاک فوِج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کہ سکتے ہیں کہ کافی حد تک سرخرو ہو گئی، اگرچہ یہ جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی کیونکہ دوسرے محاذ پر فکری ، نظریاتی جنگ پاکستان کے انٹلیکچوئیلز ، علماء ، سیاست دانوں، حکمرانوں اور میڈیا نے لڑنی ہے، مگر ان کی ترجیحات مختلف ہیں۔
فوج دہشت گردوں کو مارتی رہے گی مگر نظریاتی میدان خالی پا کر دشمن نئے دہشت گرد ریکروٹ کرتا رہے گا۔ یہ جنگ کبھی ختم نہ یو گی جب تک بظریاتی محاز پر پاکستان کے انٹلیکچوئیلز ، علماء ، سیاست دانوں، حکمرانوں اور میڈیا اپنا کردار ادا نہ کریں گے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہاولپور میں ایک استاد کا مزہبی جنونی کے ہاتھون قتل ناحق خبر دے رہا ہے کہ معاشرے میں انتشار فکر کتنا شدید ہو چکا ہے- ایک نیشنل ایکشن پلان ہوتا تھا اور ایک پیغام پاکستان ۔ نیشنل ایکشن پلان پارلیمان نے دیا ، آج اہل سیاست یا میڈیا ہاوسز میں سے کسی کو نیشنل ایکشن کے فکری پہلو یاد ہوں تو حقیقی معنوں میں ایک بریکنگ نیوز ہو گی۔ پیغام پاکستان، سینکڑوں جید علماء کے دستخطوں سے جاری ہوا تھا اور مدارس کے تمام وفاق اس پر متفق تھے۔ معلوم نہیں کہ ان ایک سو اسی جید علماء اور چار وفاقوں میں سے کسی نے کبھی پیغام پاکستان پر بات کرناگورا کی ہو، جمعہ کا کوئی خطبہ یا کسی محفل میں ایک مختصر سا کوئی بیان؟ میڈیا پر چیِخ چیِخ کر چلانے والے انکرز کے منہ بھی اس ٹانک پر بند ہین۔ ایوان صدر میں ایک تقریب سجائی گئی تھی اور خواجہ آصف سے لے کر احسن اقبال تک اہل سیاست قطار اندر قطار وہاں موجود تھے ، اس کے بعد نہ کبھی خود ممنون حسین صاحب نے پیغام پاکستان پر کوئی بات کی نہ اہل سیاست کو یاد رہا کہ اس تقریب کا مضمون کیا تھا۔ سماج کی فکری تہذیب سے بے نیازی کا یہ منطقی نتیجہ ہے جو بہاولپور میں ہمارے سامنے آیا۔ برادر م خورشید ندیم کے ادارہ علم و تحقیق نے پیغام پاکستان کے حوالے سے اگلے روز اسلام آباد میں اہل صحافت کے لیے ایک نشست کا اہتما م کیا جس میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین ڈاکٹر قبلہ ایااز اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر ضیاء الحق نے اظہار خیال فرمایا۔ پیغام پاکستان کا مسودہ چونکہ ادارہ تحقیقاتی اسلامی نے تیار کیا تھا اور اس وقت اسلامی نظریاتی کونسل اسے لے کر چل رہی ہے تو اشتیاق ہوا کہ ان صاحبان علم کی بات سنی جائے ، ان کی خدمت میں کچھ سوال رکھے جائیں ، کیا عجب الجھنیں کچھ دور ہو جائیں۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب اور برادرم خورشید ندیم کا کہنا تھا پیغام پاکستان ایک بیانیہ ہے اب اسے پالیسی بننا چاہیے اور پالیسی یہ تب ہی بن سکتا ہے جب پارلیمان اس کی روشنی میں قانون سازی کرے۔ میرا سوال یہ ہے کہ انہیں کس نے یہ خبر دی کہ پیغام پاکستان ایک بیانیہ ہے؟ بیانیہ تو بہت دور کی بات ، اہل وطن کی غالب اکثریت کو تو شاید معلوم ہی نہ ہو پیغام پاکستان کیا چیز ہے۔نیز یہ کہ اس پیغام پاکستان میں آخر وہ کون سی ایسی نئی چیز ہے جو پاکستان کے آئین اور قانون میں موجود نہیں اور جس پر قانون سازی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔انسانی جان اور مال کے تحفظ سے لے کر پرائیویٹ آرمی یعنی نجی جہاد تک سب کی ممانعت تو آئین میں ویسے ہی موجود ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ فکری جمود کا شکار معاشرے کیا صرف قانون سازی سے درست ہو سکتے ہیں؟ ایک الجھن یہ ہے کہ جب سینکڑوں جید علماء اس پر دستخط کر چکے اور چاروں وفاق بھی اس پر متفق ہیں تو کیا وجہ ہے انتہا پسندی کو روکنے کے لیے کسی عالم یا کسی مذہبی رہنما نے کبھی پیغام پاکستان کا حوالہ نہیں دیا؟ اگر چاروں وفاق اس پر متفق ہیں تو اسے کسی وفاق کے نصاب کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا؟ اہل مذہب اگر ایک چیز کو درست سمجھتے ہیں اور اس پر دستخط کر چکے ہیں تو اب اس بات کا بر سر منبر کھل کر اظہار کیوں نہیں کرتے؟ کیا فہم دین کے باب میں قوم کی رہنمائی ان کا دینی فریضہ بھی نہیں ہے؟ میری رائے میں پیغام پاکستان کا تعلق قانون سازی سے زیادہ اس سماج کی فکری تہذیب سے ہے۔ جب تک یہ کام نہیں ہو گا انتہا پسندی اور انتشار فکر سے نجات ممکن نہیں۔ بہاولپور میں ایک استاد کا قتل بتا رہا ہے کہ یہاں اہل فکر مدارس کے باب میں متفکر رہے لیکن جدید تعلیمی اداروں کی حالت زیادہ پریشان کن ہے۔ انتشار فکر نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، اب جدید اور قدیم کی بحث بے معنی ہو چکی ہے۔اس انتشار فکر سے نکلنا ہو گا اور پیغام پاکستان اس کوشش کا ابتدائی اور پہلا با معنی نقش ہے جس میں اداروں کی تطہیر اور تعمیر کی بات بھی کی گئی اور اس کی روشنی میں اگلے مرحلے میں ’ ڈی ریڈیکلائزیشن آف کیمپسز‘ کے منصوبے پر بھی کام شروع ہو چکا ہے۔ آ ئی آر آئی نے مختلف جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ اس ضمن میں مشاورت شروع کر رکھی ہے۔ معلوم نہیں آگے چل کر یہ کوشش کیا صورت اختیار کرتی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ادارہ تحقیقات اسلامی کی یہ کوشش بہت مبارک ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ جامعات میں مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے جتھے بنا رکھے ہیں ۔ان جتھوں کا ناامہ اعمال ہمارے سامنے ہے۔ ’’ ڈی ریڈیکلائزیشن‘‘ کے اس عمل میں یہ گروہ مزاحمت کریں گے ، یہاں ریاست کو قوت کے ساتھ بروئے کار آنا ہو گا۔لیکن یہ عمل حکیمانہ انداز میں آگے نہ بڑھا تو نقصاندہ بھی ہو سکتا ہے۔توازن کا قائم رہنا ضروری ہے ۔’ڈی ریڈیکلائزیشن ‘ کی یہ کوشش رد عمل میں سیکولر انتہا پسندی کی طرف نہ چلی جائے اس کا خاص خیال رکھنا ہو گا۔کیونکہ اس صورت میں ’ ریڈیکلائزیشن‘ بھی بڑھ جائے گی اور فکری انتشار بھی۔ اسلامی نظریاتی کونسل اور ادارہ تحقیقات اسلامی نے بھاری پتھر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ صف نعلین میں کھڑے ہم طالب علم کامیابی کی دعا ہی کر سکتے ہیں ۔ [ماِخوز از تحریر : آصف محمود]



…………………..

National Narrative Against Terrorism

دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘


تمام مسالک کے علماء کے دستخطوں سے تیار کر دہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ کے متفقہ فتویٰ پر ۹۲۸۱ علماء نے دستخط کیے اور اس بات پر اتفاق کیا کہ:
پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ، 
یاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی اسلامی شریعت کی رُو سے ممنوع ہے
خود کش حملے حرام ہیں 
جبکہ ان کے مرتکب اسلام کی رُو سے باغی ہیں
پاکستان کی حکومت یا افواج کے خلاف مسلح کاروائیاں بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں اور یہ شرعاً بالکل حرام ہیں۔

National narrative on extremism, terrorism launched:
In an important development implying the entire nation is on the same page to confront the security challenges, the government Tuesday launched the first ever national narrative on extremism and terrorism. A ceremony to this effect was held at Aiwan-e-Sadr and attended amongst others by religious scholars of all schools of thought, parliamentarians, educationists and other segments of the society. Titled ‘Paigham Pakistan’, the document envisages Fatwa against militancy duly endorsed by religious scholars of all schools of thought. Under the auspices of International Islamic University, the document has been prepared after consultations amongst different segments of the society including religious scholars, parliamentarians, intellectuals and policy makers. The narrative declares armed struggle against the country, its government or armed forces illegal. The document acknowledges that it is the responsibility of the government to fully implement Islamic provisions of the constitution. However, taking up arms to achieve this purpose amounts to Fasaad fil Arz.
Quoting verses of holy Quran and Hadith, the document says suicide is unacceptable in Islam and a grave sin. Supporting such attacks has also been declared like supporting a collection of sins. Rejecting terrorism and extremism in all its forms and manifestations, It says that those involved in activities against the government in the name of implementation of Shariah are in fact committing high treason against an Islamic state as per the Islamic injunctions. The document fully supports the anti terror operations against the terrorist elements  
Download: Paigham-e-Pakistan (English)  .... (Urdu, اردو )



خود کش حملے اورنفاذ شریعت کے نام پر ریاست کے خلاف مسلح تصادم حرام ہی؛علماء کا فتویٰ طاقت کے بل بوتے پر اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنا فساد فی الارض ہے، جہاد صرف ریاست کا اختیار ہے، فتویٰ انتہا پسندی، تشدد، فرقہ پرستی اور لسانی تعصبات جیسے عوامل کا قلع قمع ضروری ہے-

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے ادارہ تحقیقات اسلامی کی کاوشوں سے یہ بیانیہ فتوی کی شکل میں جاری ہوا-



جاری متفقہ فتوی و اعلامیہ میں کہا گیا کہ طاقت کے بل بوتے پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنافساد فی الارض کے مترادف ہے اور دینی شعائر اور نعروں کو نجی عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا قرآن و سنت کی رو سے درست نہیں۔ ’’ پیغام پاکستان‘‘ کی دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہادکا وہ پہلو جس میں جنگ و قتال شامل ہیں ، اس کو شروع کرنے کا اختیار صرف اسلامی ریاست کا ہے اور سرزمین پاکستان اللہ تعالیٰ کی مقدس امانت ہے جسے کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں۔


علماء و مفتیان دین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اسلامی ریاست میں پر امن طریقے سے رہنے والے غیر مسلموں کو قتل کرنا جائز نہیں بلکہ گناہ کبیرہ ہے اور اسلام کی رُو سے خواتین کا احترام اور ان کے حقوق کی پاسداری مردوں کے لیے لازم ہے ۔ متفقہ فتوی میں یہ بھی درج ہے کہ مسلح بغاوت میں شرکت یا اس کی حمایت نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی کھلی نا فرمانی ہے۔

مفقہ فتویٰ و اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مختلف مسالک کا نظریاتی اختلاف ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس اختلاف کو علمی اور نظریاتی حدود میں رکھنا واجب ہے۔ متفقہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علماء مشائخ سمیت تمام طبقات ریاست اور افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس ضمن میں پوری قوم ان سے غیرمشروط تعاون کا اعلان کرتی ہے۔

دستاویز میں درج ہے کہ پر امن بقائے باہمی کا فروغ ، پر امن معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے، اس لیے اسلام کے اصولوں کے مطابق جمہوریت ، مساوات، برداشت اور امن و انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل ضروری ہے ۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے غیر مسلم شہری اپنے تہواروں اور اپنی عبادت گاہوں میں اپنے مذاہب کے مطابق عبادت کرنے کا پورا اختیار رکھتے ہیں ۔

اسلامی تعلیمات اور آئین پاکستان کی روشنی میں تشکیل کردہ یہ قومی بیانیہ ہمیں قومی تعمیر کے مراحل تیز رفتاری سے طے کرنے میں مدد دے گا۔ 

انتہا پسندی، تشدد، فرقہ پرستی اور لسانی تعصبات جیسے عوامل قوم کو تقسیم کر رہے ہیں جن کا قلع قمع کرنا ضروری ہے۔ 
وحدت فکر کے ذریعے ہی وحدت عمل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور اسلامی یونیورسٹی و ادارہ تحقیقات اسلامی اس عظیم فریضہ پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

 تخریبی فکر کا مقابلہ کرنے کے لیے تعمیری فکر اور دینی بیانیہ کی ضرورت ہے۔ 

اس بیانیہ کی بھرپور تشہیر کی جائے گی تا کہ یہ ملک کے چپے چپے اور پوری دنیا تک پہنچ جائے۔ قومی بیانیہ کی ترویج اشاعت میں پاکستانی سفارتخانے اہم کردار ادا کریں گے۔

 دہشت گردی کے خلاف ملک کے تمام طبقات متحد ہیں ۔  دہشت گردی اور اسلام میں تضاد ہے کیوں کہ اسلام عمل کا دین ہے اور دہشت گردی تباہی کی طرف لے کر جاتی ہے۔

پوری قوم سول اور ملٹری اداروں کی پشت پر کھڑی ہے تا کہ دہشت گردی کے عفریت سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔ 

امن و استحکام کے بغیر ترقی نا ممکن ہے اور دوسروں پر سازشوں کے الزامات لگانے کے بجائے ہمیں خود احتسابی کو اپنانا ہو گا۔ 

’ پیغام پاکستان‘‘ کی تشکیل اور رونمائی ایک تاریخی عمل ہے جس سے پوری دنیا کو یہ پیغام ملا ہے کہ پاکستانی قوم دہشت گری کو ختم کرنے کے لیے متحد ہے۔

سزا دینے اور کسی بھی قوت کے خلاف اعلان جنگ کرنے کا اختیار صرف اور صرف ریاست کا حق ہے۔ 

متشدد سوچ اور دہشت گردی کے خلاف اس بیانیہ کی اشد ضرورت تھی لیکن اس ضمن میں عملی اقدامات کا کردار کلیدی ہے۔  پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اوراس بیانیے کو ملک سمیت دنیا بھر کے کونے کونے تک پہنچایا جانا چاہیے۔

اس موقع پر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ صدر پاکستان نے قومی ضرورتوں کی بنیاد پر اسلامی یونیورسٹی کو ادارہ تحقیقات اسلامی کے ذریعے مذہبی، سماجی اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ملکر قومی بیانیہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی جسے جامعہ نے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا ہے۔
اپنی تقریر میں انہوں نے ’’ پیغام پاکستان‘‘ کے اہم نکات کا ذکر کیا اور کہا کہ قومی استحکام اور ترقی کے لیے اس بیانیہ کی تشکیل ایک مسلسل عمل ہے جو قومی تقاضوں کی بنیا د پر آگے بڑھتا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ پیغام پاکستان‘‘ کی ترویج و اشاعت کے لیے تفصیلی منصوبہ بندی کی گئی ہے اس ضمن میں’’دختران وطن‘‘،’’ بین المسالک ہم آہنگی‘‘، ’’بھائی چارہ ‘‘، ’’بین المسالک مکالمہ ‘‘جیسے پراجیکٹ شروع کیے جا رہے ہیں۔

عالمی برادری کو یہ باور کراناچاہتے ہیں کہ پاکستان پر امن ملک ہے اور اس کے امن کو سبو تاژ کرنے والوں کی قبیح سازشیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی۔
بین المذاہب مکالمہ عصر ِحاضر کی اہم ضرورت ہے۔ قبل ازیں ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر محمد ضیاء الحق نے ’’پیغام پاکستان‘‘ کی تشکیل کے مراحل اور اس ضمن میں ادارے کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد و
دیگر اداروں کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔




    https://salaamone.com/narrative-against-terrorism/


    Brief Intro Paigham-e-Pakistan
    Paigham-e-Pakistan is a national narrative to counter violence, extremism and terrorism. It was launched and promulgated by more than 5000 Ulemas of all schools of thought. A unanimous FATWA and Joint Declaration was passed by 31 prominent Ulemas on 26 May 2017. The communiqué containing 22 pts resolution was transformed into a comprehensive book (Urdu and English) titled as “Paigham-e-Pakistan”, which was launched on 16 Jan 2018. The book addresses the imp issues of peaceful Co-existence, Tolerance, Takfir and Jihad in lt of Quran and Sunnah. Please, do like this FB and Twitter page of Paigham-E-Pakistan and aĺso share the posts of the page...its responsibility of every Pakistani.
    Download Urdu Version of Paigham-e-Pakistan https://t.co/4CMP72AonK
    Download English Version of Paigham-e-Pakistan https://t.co/u3VNcUXtHu

    Saturday, March 16, 2019

    New Zealand: Christian Terrorists killed 49 Muslim Worshippers in Mosques – Analysis and Updates


    Fifty people have been killed and at least 20 others grievously injured when white supremacist Christian gunmen entered two mosques in Christchurch, New Zealand, and opened indiscriminate fire at worshippers, including women and children, who had gathered for Friday prayers. This is the worst attack in the Pacific country’s history....  Keep reading  ..... [.....] 

    Updates ….. […….]

    نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں دہشت گرد حملے، 49 افراد جاں بحق ……[……..]


    کرائسٹ چرچ: حملہ آور کو روکنے والا پاکستانی کون تھا؟

    نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مسجد کے اندر دہشت گرد حملے کی ایک وائرل وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص حملہ آور کو روکتا ہے اور اس کوشش میں شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ حملہ آور کو روکنے کی کوشش کو ترک نہیں کرتا۔

    نیوزی لینڈ مسجد حملہ آور

    نیوزی لینڈ: حملہ آور کون ہے؟

    آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے نیوزی لینڈ کی مسجد پر حملہ کرنے والے شخص برینٹن ٹارنٹ کو دائیں بازو کا ایک دہشت گرد قرار دیا ہے۔ نیوزی لینڈ کے پولیس کمشنر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلوی پولیس یا سکیورٹی اداروں کے پاس اس شخص کے بارے میں کوئی تفصیلات یااطلاعات نہیں تھیں۔ حملہ آور جس نے سر پر لگائے گئے کیمرے کی مدد سے النور مسجد میں نمازیوں پر حملے کو فیس بک پر لائیو دیکھایا، اپنے آپ کو اٹھائیس سالہ آسٹریلین برینٹن ٹارنٹ بتایا۔ اس فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح النور مسجد کے اندر مرد، عورتوں اور بچوں پر اندھادھند فائرنگ کر رہا ہے-نیوزی لینڈ کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے کے سلسلے میں پولیس نے ایک گھر پر چھاپہ مارا ہے۔ملک کی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ واضح طور پر ایک دہشت گرد حملہ ہے۔اپنی ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ کرائسٹ چرچ کی مساجد میں جو بھی ہوا ہے وہ ایک نا قابلِ قبول عمل ہے اور ایسے واقعات کی نیوزی لینڈ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

    مسلمانوں کےخلاف نفرت پھیلانےوالےسیاستدان اور میڈیا بھی ’ذمہ دار‘


    کرائسٹ چرچ حملے: مساجد میں ہونے والے حملوں پر بعض انڈین جشن کیوں منا رہے ہیں؟

    کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں قتل عام کے واقعے کی جہاں ساری دنیا میں مذمت کی جا رہی ہے وہیں انڈیا کے بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جشن منایا جا رہا ہے۔

    اس بات کا اعتراف 'انتہا پسندی' اور 'دہشت گردی' کے لیے مسلمانوں کو ہمیشہ مورد الزام ٹھیرانے والے پاکستانی نژاد کینیڈا کی معروف شخصیت طارق فتح نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی کی ہے۔

    انھوں نے لکھا: 'جس ظالمانہ انداز میں بعض ہندوستانی نیوزی لینڈ میں ہونے والے قتل عام کا جشن منا رہے ہیں وہ قابل نفرت ہے۔
    رورو یا روزی نام کی ایک دوسری صارف نے 'نیوزی لینڈ ٹریرسٹ اٹیک' نامی ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا: 'جو کچھ ہوا اس پر اسلام فوبیا زدہ جاہل لوگ بہت زیادہ خوش ہیں۔ ذرا تو انسانیت کا مظاہرہ کریں۔ آپ کو شرم آنی چاہیے۔ وہ معصوم تھے۔ انتہا پسندوں کو عام مسلمانوں کا مترادف قرار دینا بند کریں۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں۔'
    کرائسٹ چرچ مساجد میں ہونے والے حملے اور اس پر بعض جگہ خوشی منانے کے معاملے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں واقع جواہر لعل نہرویونیورسٹی میں استاد اور ماہر عمرانیات ڈاکٹر تنویر فضل نے کہا کہ سوشل میڈیا کا مسئلہ ذرا پیچیدہ ہے۔

    'اول تو سارے اکاؤنٹس ویریفائڈ نہیں ہیں اور بہت سی باتیں فیک اکاؤنٹس سے پھیلائی جاتی ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض حلقے میں اس پر خوشی پائی جاتی ہے اور وہ اس کے اظہار سے گریز بھی نہیں کرتے۔'

    انھوں نے مزید کہا کہ 'انتہا پسندی یا دہشت گردی کے حوالے سے اب تک جو بیانیہ تھا وہ مغربی بیانیہ تھا اور ہم سب کہیں نہ کہیں اسے من و عن اٹھا چکے ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں انڈیا میں جو ایک ڈسکورس چل نکلا ہے وہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے واقعے سے مسلمانوں کو جوڑا جائے اور اس کا مرکز پاکستان کو بنایا جائے۔'

    انھوں نے مزید کہا: 'میں اس ضمن میں کسی کا نام لینا مناسب نہیں سمجھتا لیکن ہمارے بعض صحافی اور دانشور ایسے ہیں جو اس خیال کو ظاہر کرنے میں ذرا بھی گریز نہیں کرتے کہ دہشت گردی اور اسلام میں فرق نہیں کیا جانا چاہیے۔'

    انھوں اس جانب بھی اشارہ کیا کہ جب یورپی ممالک یا کسی اور جگہ حملہ ہوتا ہے اور اس میں مسلمان شامل ہوتے ہیں تو اسے دہشت گردانہ حملہ کہا جاتا ہے لیکن جب کوئی دوسرے مذہب کا ہوتا ہے تو اسے مخبوط الحواس یا جنونی شخص کہا جاتا ہے۔

    'یہ لون وولف (تنہا بھیڑیا بھی ہوسکتا ہے یا پھر اس کے پس پشت کوئی منظم گرہ بھی ہو سکتا ہے۔'
    انھوں نے کہا کہ اسی بیانیے کا نتیجہ ہے کہ 'ہمارے سامنے اس قسم کی چیز آئے دن آتی رہتی ہے لیکن اس معاملے میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس کو اس طرح دیکھا یا بیان کیا جانا چاہیے۔'

    کولکتہ کے محمد حسیب نے اپنے فیس بک صفحے پر گھنشیام لودھی نامی صارف کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:

    'خوشی کے آنکھ میں آنسو کی بھی جگہ رکھنا

    برے زمانے کبھی پوچھ کر نہیں آتے'

    گھنشیام لودھی نے لکھا: 'نیوزی لینڈ کی مسجد پر حملہ، سوچا خبر کر دوں کہ خوشی اکیلے نہیں سنبھلتی۔'

    ترک وزیراعظم رجب طیب اردغان نے بھی ٹوئٹ میں لکھا کہ یہ حملہ نسل پرستی اور اسلام مخالف جذبات کی تازہ مثال ہے۔انھوں نے لکھا کہ وہ النور مسجد میں ہونے والے حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔
    دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر رضوان قیصر نے کہا کہ 'انگریزی میں اس کے لیے ایک لفظ وکیریئس پلیزر ( vicarious pleasure) ہے۔ یعنی ہندوستان میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات سے خوش ہیں کہ دنیا میں ان کے ہم نوا افراد ہیں اور ان پر کوئی آنچ آئے بغیر وہ ان کا کام کر رہے ہیں۔ یہاں پر پچھلے دنوں جس طرح سے ’بیف لنچنگ‘ اور دوسرے طرح کا مسلم مخالف تشدد کا ماحول بنا یہ اس کا مظہر ہے۔'
    رضوان قیصر نے مزید کہا کہ 'ہندوستان میں اسلام فوبیا کا ماحول نہیں بننا چاہیے کیونکہ یہاں مسلمان ہزاروں سال سے آباد ہیں۔ یہاں جو تشدد کا ماحول بنا ہے تو ان کو لگتا ہے کہ ان کا کام کسی اور نے کردیا اس لیے وہ اس کا جشن منا رہے ہیں۔'
    انھوں نے مزید کہا کہ 'ساری دنیا میں ایک نفرت کا ماحول نظر آتا ہے۔ آئے دن ہم سنتے ہیں کہ امریکہ میں کسی یونیورسٹی میں کسی سکول میں کسی نے معصوموں کو گولی کا نشانہ بنایا۔ نیوزی لینڈ واقعے کے حملہ آور آسٹریلیا سے تعلق رکھتے ہیں اور وہاں حالیہ برسوں میں مذہبی اور نسلی رجحان پروان چڑھتا نظر آیا ہے جس میں یہ دیکھا گيا ہے کہ انھوں نے ہندوستانی نژاد کے لوگوں پر حملہ کیا ہے۔‘

    Sunday, September 16, 2018

    Oppression of Muslims in China 穆斯林在中国的压迫 چین میں مسلمانوں پر ظلم و جبر اور امت مسلمہ کی خاموشی ؟


    Xi Jinping’s government has decided to declare Islam a contagious “ideological illness,” and quarantine 1 million Uighurs in reeducation camps, according to an estimate from the United Nations. In interviews, former inmates from these camps say that they were made to renounce their faith, sing Communist Party songs, consume pork, and drink alcohol; other reports suggest some of the truly “ideologically sick” have been tortured and killed.
    Read full at Source :  http://nymag.com/…/china-muslims-camps-uighur-communist-par…
    چین میں  یغور نسل سے تعلق رکھنے والے 20 لاکھ  مسلمانوں کو ’’انسداد انتہا پسندی ‘‘ کے لیے قائم کیمپوں میں اسلام سے دور کرنے اور کمیونسٹ دھریہ ملحد بنانے کے لئیے کیمپوں میں رکھا جارہا ہے‘‘ یہ انفارمیشن اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کی ایک رپورٹ سے ملی ہے- مگر افسوس کا مقام ہے کہ امت مسلمہ اس ظلم و جبر پر خاموش ہے؟  پڑھتے جائیں >>>>>
    中国是巴基斯坦的好朋友,但我们必须为中国穆斯林兄弟的人权发声! 据联合国估计,习近平政府决定宣布伊斯兰教是一种具有传染性的“意识形态疾病”,并在劳教所内隔离100万维吾尔族人。在采访中,来自这些营地的前囚犯说,他们被迫放弃信仰,唱共产党歌曲,吃猪肉,喝酒;其他报道表明,一些真正“意识形态病态”的人遭受了折磨和杀害。 阅读Source的完整内容

    Related :

    Jihad, Extremism

      Sunday, September 9, 2018

      سب کا پاکستان ایک خواب Inclusive Pakistan


      ماہرین اس بات پر گہرائی سے غور و فکر کر رہے تھے کہ ایک ایسا ملک جس کے پاس مذہبی قومی نسلی تعصبات سے بالاتر ہو کر شہریوں کو باہم شیر و شکر کرنے والا آئین ہو اس ملک کے بدترین مذہبی تعصب میںمبتلا ہونے کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں ۔

      AFTER the despicable Gojra riots in Punjab’s Faisalabad district that targeted Christians living in the area, a few Muslim scholars attempted to grapple with the issue of constitutionalism in Pakistan. The disturbances had badly damaged the country’s image. It was 2009 when Pakistan faced the maximum number of attacks for any year. The scholars were trying to understand how a country with such an inclusive Constitution could suffer some of the worst forms of religious bigotry. Keep reading at the end .....

      کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ماضی میں ریاست کی طرف سے علاقائی حالات کے باعث ملک میں مذہبی عصبیت کے فروغ دینے کا ردعمل ہے۔ کچھ اس صورت حال کو نظریاتی انتہا پسندی کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو کچھ کا خیال ہے کہ اس کی وجہ عسکری اور سیاسی قیادت میں عدم توازن کے باعث معاملہ پر توجہ نہ دیا جانا ہے۔ تاہم تمام مباحثے پاکستانی معاشرہ میں انتہا پسندی کی وجوہات کا احاطہ کرنے میں بری طرح ناکام ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر اس قسم کے غورو فکر کے نتیجے میں اس بات پر اتفاق دکھائی دیتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ میں شدت پسندی اور تقسیم کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ معاشرہ اور ریاست مجموعی طور پر جدت پسندی اور قدامت پسندی کے مابین بری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔ 

      گوجرہ ہنگاموں‘ جن میں عیسائی برادری کو ٹارگٹ کیا گیا تھا‘ کے بعد کچھ مسلمان دانشوروں نے اس معاملہ پر قابو پانے کے لیے آئینی حدود میں رہتے ہوئے کوششوں کا آغاز کیا تھا۔ فیصل آباد واقعہ نے ملک کا بین الاقوامی سطح پر تاثر بری طرح متاثر کیا تھا۔2009ء تو ایسا سال تھا جس میں اقلیتوں پر سب سے زیادہ حملے ہوئے۔ 

      ایک عام پاکستانی ایک مخصوص فریم میں رہتے ہوئے ترقی پسند بننا چاہتا ہے۔ ریاست بھی بین الاقوامی کمیونٹی میں اپنے اداروں میں اصلاحات کے بغیر اہم مقام کی خواہاں ہے یہ ظاہری تضاد ہمارے رویوں میں دوغلا پن پیدا کر رہا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک شخص اپنے گزشتہ موقف سے ہٹے بغیر ہی مکمل یوٹرن 
      لے لیتا ہے۔ اسی سنڈروم میں بظاہر ہماری نئی حکومت مبتلا محسوس ہوتی ہے۔ 

      اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے ریاست نے ایسے اقدامات بھی کئے ہیں جن سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کی تصحیح کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور معاشرہ میں اجتماعیت کے رویہ کے فروغ کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس طرح کی ایک کوشش رواں برس کی ابتدا میں پیغام پاکستان کی صورت میں کی گئی۔ پیغام پاکستان معاشرہ میں بڑھتی انتہا پسندی اور تشدد کے خلاف متبادل بیانیہ ہے جو مذہبی علماء کے فتوئوں پر مشتمل ہے۔ 

      اس ڈیکلریشن میں ملک بھر کے 1800سے زائد علماء کا اتفاق ہوا تھا ۔پیغام پاکستان کو ریاست اور معاشرہ کی مشترکہ اجتماعی سوچ کا عکاس قرار دیا جا رہا تھا اور یہ کام آئین پاکستان اور قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کیا گیا تھا۔ پیغام پاکستان کے بعد ہی سکیورٹی اداروں نے تعلیمی اداروں میں شعور کی بیداری کی مہم کا آغاز کیا تھا جس کو پاکستان کا روڈ میپ قرار دیا جا رہا تھا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اس ڈیکلریشن کو چند کالعدم تنظیموں نے یرغمال بنانے کی کوشش بھی کی۔ ان تنظیموں کی قیادت اس ڈیکلریشن کی افتتاحی تقریب کے وقت صدارتی محل میں بھی موجود تھی تاہم اس پیغام کو پھیلانے کیلئے ملک بھر میں سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ بظاہر یہ ایک مثبت عمل محسوس ہو رہا تھا کہ کالعدم تنظیمیں اور تشدد پسند تنظیمیں بھی پیغام پاکستان کی پاسداری اور حمایت پر آمادہ ہیں مگر اس کا ایک نقصان یہ ہوا کہ ردعمل میں ایک فرقہ نے اس ڈیکلریشن کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ اس ڈیکلریشن کی صورت میں کالعدم تنظیموں کو محفوظ راستہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ جو اس وقت شدید دبائو میں تھیں۔ 

      تحریک لبیک پاکستان کا شمار بھی ان جماعتوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پیغام پاکستان کی تائید و حمایت نہیں کی۔ بہت سے مذہبی حلقوں کا خیال تھا کہ کالعدم تنظیمیں اہل سنت والجماعت اور جماعت الدعوہ اس دستاویزکو عوام میں اپنی قانونی حیثیت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ’’ پیغام پاکستان‘‘ ملک میں کوئی واضح تاثر پیدا کرنے میں ناکام رہا۔ جہاں تک پیغام پاکستان کے مواد کا تعلق ہے‘یہ جامع اور مذہبی دلائل سے بھر پور ہے مثال کے طور پر اس میں پاکستانی معاشرہ کی تنظیم نو کی بات کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستانی نہ دوسروں کے مذاہب کی تذلیل کریں گے نا ہی ان مذاہب کے پیشوائوں کی بے توقیری اور توہین کی جائے گی۔ مسلمانوں پر لازم ہو گا کہ وہ دوسرے مذاہب کے افرادکو تبلیغ اور دلائل سے قائل کر کے اسلام کی جانب راغب کریں گے۔ 

      جبکہ دیگر مذاہب کو اپنے مذہبی عقائد اور عبادات کی مکمل آزادی ہو گی۔ پیغام پاکستان میں آئین پاکستان میں مذہبی آزادی کی شقوں کوبھی قرآن و سنت کے عین مطابق اور ہم آہنگ قرار دے کر ان کی تائید کی گئی ہے۔ 
      پیغام پاکستان میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ریاست اخلاقی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے دیگر تمام مذاہب کو مذہبی آزادی کی گارنٹی دیتی ہے۔
      ان حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ ریاست کی نظر میں تمام شہری برابر ہوں گے، سب کو مساوی مواقع حاصل ہوں گے۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہوں گے، ان کو برابر سماجی معاشی حقوق‘ سیاسی انصاف‘ آزادی اظہار اورعبادت کی آزادی حاصل ہو گی۔ اسی طرح اس ڈیکلریشن میں فرقہ وارانہ تعصب ‘مسلح تصادم اور بزور طاقت دوسروں پر اپنے مخصوص عقائد مسلط کرنے کی مذمت بھی کی گئی ہے۔ اس ڈیکلریشن ‘جس پر تمام علماء کے دستخط موجود ہیں‘ میں یہ لکھا گیا ہے کہ وہ معاشرہ میں جمہوری اصول کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے اس سماج کی بنیاد رکھنے میں اپنا حصہ ڈالیں گے جس میں آزادی ‘ مساوات، برداشت، ہم آہنگی اور باہمی احترام موجود ہو اور انصاف کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے کے رویے کو فروغ دینے میں معاونت فراہم کریں گے۔ 

      ڈیکلریشن کے تناظر میں دیکھا جائے تو پیغام پاکستان یہ دعویٰ کرتا دکھائی دیتا ہے کہ آج کے جدید دور میں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مجموعی طور پر قانون سازی بھی اسلامی قوانین اور تعلیمات کی روشنی میں کی گئی ہے۔ ڈیکلریشن کی تفصیل میں اہم شقیں شامل ہیں مگر مجموعی طور پر مذہبی حلقے اس دستاویز کو اپنے مدارس اور مساجد میں ضابطہ کار کے طور پر لاگو کرنے سے احتراز کرتے محسوس ہوتے ہیں۔

      پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک کامیاب جنگ لڑی ہے مگر بدقسمتی سے بہت سے مذہبی رہنما اس جنگ کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دینے پر تلے ہوئے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک مخصوص اور مقبول فرقہ کے خلاف جنگ تھی۔ اس بیانیہ کے ذریعے ملک میں مختلف تشدد پسند تنظیموں کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہی بیانیہ دوسرے مسالک اور مذاہب کے خلا ف نفرت کو بڑھوتری، معاشرہ میں تقسیم اور تشدد پسند مذہبی گروہ کو تقویت دے رہے ہیں۔ جبکہ ملکی ادارے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے اس بیانیہ کے رد کے لیے اقدامات کے حوالے سے گریزاں ہیں۔ پاکستان اس وقت مختلف اقسام کی انتہا پسندی کی زد میں ہے۔ مخصوص مذہبی رہنما اور گروپ معاشرہ کو ایک تباہی کے دھانے اور بحران کی طرف لے جانے کی قیادت کر رہے ہیں ریاست ہمیشہ سے سٹیٹس کوکو برقرار رکھنے اور بحران کو قابو کرنے میں جتی ہوئی ہے مگر اب تک ریاست کی یہ حکمت عملی موثر ثابت نہیں ہو سکی۔ ریاستی سطح پر صورتحال اس سے بھی بدتر ہے مگر معاشرہ کی سطح پر تشدد کی مذمت کی جاتی ہے۔ اس کے پیچھے خاص طور پر مختلف عقائد کے حامل لوگوں کے خلاف نفرت کی سوچ کارفرما ہے جو کبھی کبھار معاشرہ میں ظاہر ہوتی ہے۔ جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ عقائد کی بنیاد پر امتیاز کی یہ فکر کسی ایک طبقہ فرقہ یا تعلیمی پس منظر یا گروہ تک محدود نہیں یہاں تک کہ یہ صورتحال اپنی ہیئت میں بھی متضاد محسوس ہوتی ہے۔عوام الناس میں مذہبی تعصب اس حد تک سرایت کر چکا ہے کہ نفرت کا یہ بیانیہ اکثریتی مائنڈ سیٹ کو فروغ دے رہا ہے۔ [Muhammad Amir Rana]




        Inclusive Pakistan


      AFTER the despicable Gojra riots in Punjab’s Faisalabad district that targeted Christians living in the area, a few Muslim scholars attempted to grapple with the issue of constitutionalism in Pakistan. The disturbances had badly damaged the country’s image. It was 2009 when Pakistan faced the maximum number of attacks for any year. The scholars were trying to understand how a country with such an inclusive Constitution could suffer some of the worst forms of religious bigotry.
      The debates put forth many explanations, from how the state’s strategic priorities had backfired to how a hostile regional environment was fuelling bigotry. Some weighed in on the ideological aspect of extremism, and others on how it goes unchecked amid the civil-military divide. However, the debates failed to fully present the reasons behind the exclusive nature of Pakistani society.
      In totality, nevertheless, the discussion exposed the dichotomies and paradoxes in our social milieu. The state and society are largely caught between modernisation and conservatism: an average Pakistani wants to be progressive but within a conservative framework. The state desires to stand tall in the international community, but without reforming its institutions.
      Certain religious leaders and groups are pushing society towards chaos.
      To satisfy its own conscience, the state sometimes takes initiatives that give an impression as if it has decided to break with the past and move towards an inclusive society. A similar attempt was made early this year in the shape of the Paigham-i-Pakistan (message of Pakistan), a counter-narrative declaration or fatwa against increasing religious intolerance and violence.
      A unanimous declaration by 1,800 religious scholars across the country, the Paigham-i- Pakistan was projected as a reflection of the Pakistani state and society’s collective thinking, and prepared in accordance with the injunctions of the Holy Quran, the Sunnah and the Constitution. Following this, the security institutions launched a countrywide awareness campaign in educational institutions about Paigham, which was presented as a blueprint of an inclusive Pakistan.
      Interestingly, a few banned organisations tried to hijack the declaration. Their leadership was not only present at the launch of the declaration held at President House, but even at organised seminars to spread the ‘message’.
      It might seem a positive development that banned sectarian and militant organisations became the Paigham-i-Pakistan’s custodians. However, it proved counterproductive, as opponent sectarian groups outright rejected the document, labelling it an attempt to provide safe passage to those banned organisations, which were under severe pressure at the time. The Tehreek-i-Labbaik Pakistan (TLP) is among those which have not endorsed the Paigham-i-Pakistan. Many believed that banned groups like Ahle Sunnat Wal Jamaat and Jamaatud Dawa were using it to acquire legitimacy in the public domain.
      So far, the Paigham-i- Pakistan has failed to create any significant impact.
      As far as the contents of the declaration are concerned, it seems very comprehensive and well argued. For example, it talks about the reconstruction of Pakistani society and says: “Pakistanis neither demean other religions nor humiliate the founders of other religions. It is imperative for Muslims to bring others towards Islam only through convincing argumentation while practising their own religion independently and freely.” The Paigham also endorses the constitutional clauses on religious freedom and declares them as being in accordance with the basic principles of Islam. It says: “All citizens are guaranteed fundamental rights within the parameters of law and ethics. These rights include equality in status and opportunities, equality before the law, socioeconomic and political justice, the rights of expression, belief, worship and freedom of assembly.”
      Similarly, the declaration condemns sectarian hatred, armed sectarian conflict and the imposition of one’s ideology on others by force. The religious scholars who signed the declaration pledged they would work for a society based on the principles of democracy, liberty, equality, tolerance, harmony, mutual respect and justice to achieve a congenial atmosphere for peaceful coexistence.
      Describing the context of the declaration, the Paigham-i-Pakistan claims that maximum legislation according to Islamic teachings and principles has taken place in this country. However, the religious clergy is still reluctant to adopt the document as a manual for their mosques and madressahs. As mentioned earlier, controversies created by a few religious groups have also compromised Paigham-i-Pakistan, reflecting the religious clergy’s narrow vision.
      Pakistan has fought a successful war against terrorism, but it is unfortunate that many religious leaders and groups have given a sectarian colour to the war, saying it was against particular sects. This narrative has provided political and social space to new radical forces in the country. It has also empowered new hate narratives against minority sects, communities, and religions. These leaders and groups have nurtured a new blend of extremism, while state institutions remain in tactical denial where it comes to countering the terrorists’ anti-Pakistan arguments.
      Pakistan is caught in a vicious cycle of extremism, where state institutions and leaderships have become hostage to hate narratives. Certain religious leaders and groups are pushing society towards chaos. The state wants to both maintain the status quo and control the chaos, but its strategies have not proved effective yet.
      On the societal level, the situation is even worse and often takes the form of discrimination against weak religious communities. While militant violence is condemned, the underlying mindset, especially where it pertains to people of different faiths, is rarely addressed. This makes faith-based discrimination seem like a pervasive phenomenon, not restricted to any one class, ethnicity, educational background, or group; so much so that even the solutions to such issues are deemed controversial in nature.
      The state is hesitant to control religious hatred. Deep-rooted hate narratives have developed a majoritarian mindset, which creates insecurity among the very tiny religious minorities. Even ‘naya Pakistan’ has not yet shown the courage to break the vicious cycle of this hatred.
      By Amir Rana , The writer is a security analyst.[edited]

      US government misleading Americans on Afghanistan: New York Times report • Salaam One سلام

      US government misleading Americans on Afghanistan: New York Times report

      The US government misleads its public to justify the 17-year-old war in Afghanistan, routinely using inflated data to justify its stay, The New York Times reported on Saturday. The report compares the US government`s data with those provided by various international aid agencies and with NYT`s own research and concludes that Washington does not want Americans to know the real situation in Afghanistan.
      While the US government says the Taliban control or contest 44 per cent of districts in Afghanistan, the NYT report claims that the insurgents actually control or contest about 61pc area. Since 2017, the Taliban have held more Afghan territory than at any stage since the American invasion in October 2001.