Featured Post

Global Terrorism - عالمی دھشتگردی

There is no commonly accepted definition of "terrorism". Being a charged term, with the connotation of something "mo...

Thursday, August 1, 2019

Politics of Religion & Extremism must be Avoided مولانا فضل الرحمٰن


Molana Fazlur Rahman is power hungry crook,  opportunist and a greedy religious politician. [all these traits are normal among politicians but he has more of them].  He has been dreaming to be Prime Minister of Pakistan since long. He is ready to to go to any extent to fulfill this egocentric dream. 
تاریخی طور پر علماء سیاست اور طاقت و حکمرانی میں عمل دخل سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھتے تھے اور ان کی توجہ دین کی تعلیم و تبلیغ پر رہی- مگر آج کل پاکستان میں علماء سیاست میں داخل ہو کر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنےلیے دین اسلام کو ڈھال کے طور پر استمال کرتے ہیں.علماء کی ساکھ   (credibility) خراب ہوتی ہے، لوگ ان کی درست مذہبی باتوں پر بھی دھیان دینا چھوڑ دیتے ہیں، یہ اسلام کے ساتھ زیادتی ہے.... مزید آخر میں ......

The story of of his request to the US Ambassador to help him to become the Prime Minister is well known. He told earlier to “the powers to be”, to make him PM,  once reminded that due to his extremists and religious tilt he may not be acceptable to the international establishment particularly USA, he responded that, should he be given an opportunity, he will come up to the expectations of everyone including USA, would do whatever is expected. Once cautioned that his followers who had been listening to his anti American speeches would tear him apart.  Molana replied that it should be left to him, he knows how to handle those fools!
After 2018 elections Molana has been cut to size in politics, this is first time that he is out of power. It is difficult for him to reconcile with this reality. He is instrumental in in using main opposition parties to give tough time to the government and establishment. The two main political parties are finding it difficult to defend their leadership from corruption cases, hence its a mutually beneficial political arrangement. Molana is too pleased to be the coordinator opportunist. Use of religious card by Molana was not well received by main political parties especially PPP.
Molana is so desperate for power that, he is is mobilizing and using young Madrissa students for political gains. 
He is using religion as a tool to defame the PM and government. He is is falsely accusing the PM and the government to be Qadiani and pro Qadiani. This is a very serious allegation it should not be taken lightly as we know that religious motivation leads to extremism and terrorism. This is Takfeer, [False accusation of Kufr to a Muslims, falls back upon the accuser]. People are very sensitive to Qadiani issue, slander is religiously incorrect and a grave sin.
Similarly the concept of Takfeer was used br TTP and other terror groups. Pakistan has already lost over 70000 lives and suffered a loss of over 125 billion dollars.
The enemy across the border and Anti Pakistan forces look forward for religious extremists to use them as tool to create unrest in Pakistan. The case of of Iraq, Syria, Yemen is just fresh. ISI/ Daesh was used as a tool very effectively to destabilize those countries. 
Pakistan army is the biggest hurdle to the nefarious designs of Anti Pakistan forces. We cannot afford another religiously motivated unrest in the country.  
Previously we experienced long March and Dharna by Molana Tahir Ul Qadri which was tactfully handled by Zardari government. But there is lot of difference here, Maulana Fazlur Rahman is not Maulana Tahir Ul Qadri.  
Molana Fazlur Rahman is very shrewd politician who has been in power in KPK, Balochistan and part of Federal Government.  He has representation at National and provincial assemblies.  He is a politician with active and strong base in political and religious fields. He should not be taken lightly. In desperation he can go to any extent. His recent Anti Pakistan and anti Army speeches indicate his state of mind.
There is a need to watch him very carefully and to handle him politically with tact,  avoiding any bloodshed which he desires.  We don't need another Lal Masjid or Takfiri Taliban Part II.

http://takfiritaliban.blogspot.com


نمود اور بقا کے لیے قوموں کو ایک کم از کم اتفاقِ رائے درکار ہوتاہے ۔ قومی دفاع کے معاملات پر آباد ی کے تمام طبقات یک زبان ہوتے ہیں ۔ افغانستان سے تابوت امریکہ پہنچتے ہیں تو کوئی اخبار اس کی تصویر چھاپتا ہے اور نہ کوئی مبصر ٹی وی پہ واویلا کرتا ہے-
قومی سلامتی سے متعلق کوئی بھی تجزیہ شائع کرنے سے پہلے نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ اجازت طلب کرتے ہیں-
بھارت میں پریس بظاہر آزاد ہے لیکن خارجہ پالیسی پہ خامہ فرسائی کرنے والے احتیاط کی آخری حدود کو ملحوظ رکھتے ہیں ۔ مستقل طور پر باہم الجھتی رہنے والی کوئی قوم اس دشمن کا سامنا کیسے کرسکتی ہے ، جو اسے صفحہ ء ہستی سے مٹا دینے کے درپے ہے ۔

حضرت مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد کا گھیرائو کرنے کی تیاریوں میں ہیں ۔ ۔حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ العالی کا ایجنڈا صرف یہ ہے کہ کسی بھی قیمت پر اس پارٹی کی حکومت اکھاڑ پھینکی جائے ، جس نے انہیں سیاسی میدان سے تقریباًبے دخل کر دیا ہے ۔ یہ وہی صاحب ہیں ، امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن سے جنہوں نے کہا تھا کہ وزیرِ اعظم بننے میں ان کی مدد کی جائے ۔ ڈیڑھ عشرے قبل دلّی کے دورے پر تشریف لے گئے تو تجویز کیا کہ ایک گول میز کانفرنس بلا کر پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش کی کنفیڈریشن بنا دی جائے ۔ قاضی حسین احمد مرحوم نے تاویل کرنے کی کوشش کی تو سیکرٹری جنرل منور حسن نے احتجاج کی آواز بلند کی ۔ پارٹی کو ان کا دفاع کرنے سے روک دیا ؛ہرچند کہ پختون خواہ کی حکومت میں وہ ان کے حلیف تھے ۔ اسی ہنگام کابینہ کے ایک اجلاس میں جنرل پرویز مشرف نے بتایا کہ جنابِ مولانا کو بھارتی حکومت سے نقد داد ملی ہے ۔ مذہبی امور کے وزیر محمود غازی مرحوم اس دنیا سے چلے گئے لیکن مشرف کابینہ کے کچھ ارکان اب بھی دادِ سیاست دے رہے ہیں ۔ حکومت سے نجات پانے کی بے تابانہ خواہش میں حضرت مولانا اب ختمِ نبوت کا رڈ برتنے پہ اتر آئے ۔ مخالفین سوال کرتے ہیں کہ قادیانیوں کے باب میں نرم گوشہ تو ان کے حلیف نواز شریف نے دکھایا تھا حلف کی عبارت میں ترمیم انہوں نے کی تھی ۔ قادیانیوں کو بھائی انہوں نے کہا تھا ۔ اپنے بازوئے شمشیر زن رانا ثناء اللہ کو ان کی دلجوئی کا حکم آنجناب نے دیا تھا ۔ تب ان کی غیرتِ ایمانی کیوں نہ جاگی (ہارون رشید ، دنیا نیوز)

Related :

Jihad, Extremism


    -----------------------
     مذہبی سیاست کی حقیقت

    تاریخی طور پر علماء سیاست اور طاقت و حکمرانی میں عمل دخل سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھتے تھے اور ان کی توجہ دین کی تعلیم و تبلیغ پر رہی- مگر آج کل پاکستان میں علماء سیاست میں داخل ہو کر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنےلیے دین اسلام کو ڈھال کے طور پر استمال کرتے ہیں.علماء کی ساکھ   (credibility) خراب ہوتی ہے، لوگ ان کی درست مذہبی باتوں پر بھی دھیان دینا چھوڑ دیتے ہیں، یہ اسلام کے ساتھ زیادتی ہے.

    آپﷺ نے فرمایا میرے بعد جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے والے بادشاہ ہوں گے جو ان کے جھوٹ کو تسلیم کرے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری نہ کرے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں ۔ ( تفسیر ابن کثیر 18:45)

    وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دینی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)

    ” تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو او ر میرے غضب سے بچوباطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو”  (قرآن٤٢- ٢:٤١)

    “تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے؟  (قرآن٢:٤٤)

    ٱتَّخَذُوٓا۟ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَٰنَهُمْ أَرْبَابًۭا

    ” انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو الله کے سوا رب بنا لیا ہے..” (سورۃ التوبہ،آیت 31)

    اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾

    کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے کیا آپ اس کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں؟ [سورة الفرقان (25) آیات (43)]

    بدترین علماء
    وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقَی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْمُہۤ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہ، مَسَاجِدُ ھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اٰدِیْمِ السْمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)

    ” اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے (ظالموں کی حمایت و مدد کی وجہ سے ) دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔” (بیہقی)

    یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطۂ حیات اور نظام علم ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں ” رسم قرآن” سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرأت سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔

    مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔

    اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دنی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)

    افتراق کی سبب دو چیزیں ہیں، عہدہ کی محبت یا مال کی محبت۔ سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا:

    ”ماذئبان جائعان أرسلا في غنم بأفسد لھا من حرص المرء علی المال و الشرف لدینہ” دو بھوکے بھیڑئیے ، بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور عہدہ کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دہ ہے۔   (الترمذی:۲۳۷۶ وھو حسن)

    منافق کی نشانیاں
    عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِیہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِنْہُنَّ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِنْ النِّفَاقِ حَتَّى یَدَعَہَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا عَاہَدَ غَدَرَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ. [صحیح البخاری:340 الإیمان، صحیح مسلم:58 الإیمان]

    ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چار خصلتیں ہیں، جس شخص میں وہ پائی جائیں گی وہ خالص منافق ہو گا، اور جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی اس میں نفاق کی ایک خصلت پائی جائے گی حتی کہ اسے ترک کر دے، [ وہ خصلتیں یہ ہیں ]

    (١)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے 

    (٢) جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے 

    (٣) جب کوئی عہد کرے تو بے وفائی کرے اور

    (٤) جب جھگڑا کرے تو ناحق چلے۔

    [صحیح البخاری:340 الإیمان، صحیح مسلم:58 الإیمان]

    جھوٹے ظالم ،خائین ، احمق حکمرانوں کے مددگاروں کو رسول اللہ ﷺ کی تنبیہ!

    مسند احمد میں ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ (رض) سے آپ نے فرمایا :

    اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے حضرت کعب نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ کیا ہے؟

    فرمایا وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو 

    میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے 

    نہ میرے طریقوں پر چلیں گے

    پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں

    یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آسکتے

    اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے  ۔۔۔۔۔ (ماخوذ از تفسیر ابن کثیر 1:76)

    اور اللہ کا فرمان ہے:

    مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا (قرآن 4:85)

    مفہوم : جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے


    تاریخی طور پر علماء سیاست اور طاقت و حکمرانی میں عمل دخل سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھتے تھے اور ان کی توجہ دین کی تعلیم و تبلیغ پر رہی- مگر آج کل پاکستان میں علماء سیاست میں داخل ہو کر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنےلیے دین اسلام کو ڈھال کے طور پر استمال کرتے ہیں.علماء کی ساکھ   (credibility) خراب ہوتی ہے، لوگ ان کی درست مذہبی باتوں پر بھی دھیان دینا چھوڑ دیتے ہیں، یہ اسلام کے ساتھ زیادتی ہے.

    Sunday, May 5, 2019

    جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی An ongoing war



    ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں کشت وخون کے ذریعے دہشت گردوں نے اپنی سافٹ ٹارگٹ ڈھونڈنے اور تباہ کن حملے کرنے کی صلاحیت ثابت کر دی ہے۔ دہشت گردوں نے مقامی تنازعات کو ہوا دے کر شہ سرخیوں میں رہنے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ 

    THE Easter Sunday carnage in Sri Lanka demonstrates how terrorists can find a soft belly and hit it hard. They have learnt the art of exploiting local conflicts to set off a perfect storm, thereby holding on to the limelight and maintaining relevance in the eyes of those who share their ideology. They channel the anger and grievances of local radicals, who then do the rest in their own way.  Al Qaeda developed a multilayered strategy of engaging local affiliates, serving as a nucleus while the latter could also pursue their independent local agendas. It seems that the militant Islamic State (IS) group has transformed this strategy by developing a nucleus-free global terrorist network, thus enhancing the impact of terrorism. The fear is that it will not remain local or regional in the near future. A global threat would require altogether different countering approaches.  It would require a comprehensive review of local conflicts and their scales, ideological and political factors, and the sense of humiliation and victimhood among marginalised communities. Equally important will be to explore vulnerabilities of individuals and communities to adopt extreme or violent measures to express their anger.... Keep reading  >>>>>

    اس طرح یہ تنظیمیںنظریاتی ہم آہنگی کے باعث مقامی افراد کو اپنا گرویدہ بھی کر لیتی ہیں۔ عالمی دہشت گردوں کو نوجوانوں کے غم و غصہ اور تحفظات کو ابھار کر ہتھیار اٹھانے کا حوصلہ دینے کے سوا اور کرنا بھی کیا ہوتا ہے۔ باقی کام تو مقامی افراد خود کرتے ہیں۔ القاعدہ نے مقامی ہمدردوں کو تنازعات میں متحرک کرنے کے لئے کثیر الجہتی حکمت عملی وضع کر رکھی ہے ۔القاعدہ دنیا بھرمیں اپنے ہمدردوں اور ماننے والوں کی توقعات کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایسی تنظیموں کو متحرک کرنے کے بعد مقامی ایجنڈے کے تحت آزادانہ جدوجہد کے لئے خود مختاری دے دی جاتی ہے۔ بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ اب القاعدہ نے بغیر کسی مرکز کے دنیا بھر میں مقامی دہشت گرد تنظیموں کو فعال اور متحرک کرنے کی حکمت عملی مرتب کر لی ہے ۔ خوف یہ بھی ہے کہ یہ تنظیمیں مستقبل میں علاقائی اور مقامی نہ رہیں گی بلکہ یہ مقامی تنظیمیں ہی مجموعی طور پر عالمی امن کے لئے خطرہ بن جائیں گی۔ ظاہر ہے اس نئے خطرے سے نمٹنے کے لئے بالکل مختلف حکمت عملی کی ضرورت ہو گی سب سے اہم کرنے کا کام نئی حکمت عملی مرتب کرنا ہو گا۔ 

    دنیا بھر میں مقامی تنازعات کی شدت‘ ان کی نظریاتی اساس اور سیاسی پہلوئوں کا ازسر نو مفصل جائزہ لیا جائے اور مقامی سطح پر اقلیتوں کے تحفظات اور ان سے روا رکھی جانے والی ناانصافیوں کو دیکھا جائے تواس کے ساتھ یہ سمجھنا بھی ضروری ہو گا کہ آخر کیوں کچھ لوگ غم و غصہ کے باعث تشدد پسندی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ آج کے حالات میں داعش اکثر و بیشتر علاقوں میں اپنا کنٹرول کھو چکی ہے مگر آج بھی متنازعہ علاقوں اورسائبر سپیس میں اس کی گرفت مضبوط ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان کے بعد سری لنکا نظریاتی پراپیگنڈے کا دوسرا شکار سامنے آیا ہے۔ افغانستان اور بنگلہ دیش کے حالات بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ داعش مسلسل اس خطے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے کیونکہ اس خطے میں طبقاتی اور مذہبی کشمکش کی صورت میں داعش کو دہشت گردی کے فروغ کے لئے زرخیز زمین میسر ہے اس لیے داعش آسانی سے یہاں اپنے سیل بنا لیتی ہے کسی کو بھی یہ اندازہ نہ تھا کہ سری لنکا کے حملہ آوروں کے تعلقات بھارتی ریاست کیرالہ میں داعش کے ہمدردوں کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔2015ء کے بعد یہاں سے دو درجن کے لگ بھگ خواتین وحضرات بچوں سمیت القاعدہ میں شمولیت کے لئے عراق اور شام کا رخ کر چکے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں بھارتی ریاستوں مہاراشٹر اور تامل ناڈو میں بھی داعش کے فٹ پرنٹس ملے ہیں یہ تنظیم مقبوضہ کشمیر میں بھی گزشتہ تین برسوں سے قدم جما رہی ہے۔ 

    یہ بہت بڑا المیہ ہو گا اگر داعش کشمیر کی جدوجہد میں نقب لگانے میں اورکشمیر میں کوئی بڑی کارروائی کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے ۔ تو خطہ کا امن ایک بار پھر عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ القاعدہ اور داعش کی سب سے بڑی خواہش ہے کیونکہ اس طرح ان تنظیموں کو خطہ میں اپنے قدم مضبوط کرنے کا موقع مل جائے گا۔ داعش میں القاعدہ کے ہمدردوں کی ایک اچھی خاصی تعداد شامل ہو چکی ہے جو اس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔دہشت گردوں کے قدم اکھاڑ چکا ہے۔ تاہم چند ایک مقامی اور علاقائی دہشت گردوں کے گروہ ابھی تک باقی ہیں جو دہشت گردی کے عالمی نیٹ ورک کے ساتھ مل کر آج بھی پاکستان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔آئی ایس پاکستان میں داعش کی نمائندہ علاقائی تنظیم ہے سری لنکا میں نیشنل توحید جماعت (NIJ)نے آئی ایس کو مقامی سطح پر بنیاد فراہم کی۔ آئی ایس 2015ء کے بعد پہلے ہی پاکستان میں 22دہشت گرد تنظیموں سے وابستگی اور تعلق پیدا کر چکی ہے اور ان تنظیموں کی طرف سے پاکستان میں بڑے حملے بھی ہوئے ہیں۔ ان حالات میں سکیورٹی اداروں کو بہت زیادہ محتاط اور نئی حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے ان حالات میں ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ جب پاکستان ان تنظیموں کے خلاف کریک ڈائون کرے گا تو ان تنظیموں بلخصوص جیش محمد اور جماعت دعوۃ کے سخت گیر ارکان مل کر نئی تنظیم بنا سکتے ہیں یا پھر القاعدہ کے ساتھ نتھی ہو کر القاعدہ تحریک طالبان پاکستان اور دولت اسلامیہ کو مضبوط کر سکتے ہیں اس اندیشے کے پیش نظر حکومت کو ان کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈائون کرتے وقت مربوط حکمت عملی مرتب کرنا ہو گی۔اس مربوط حکمت عملی کا انتظار کیا جا رہا تھا البتہ گزشتہ دنوں ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں عندیہ دیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے قابل عمل حکمت عملی رواں برس جنوری میں طے کر لی گئی تھی اور فروری میں اس منصوبے کے لئے فنڈز میں مختص کر دیے گئے ہیں تاہم پریس کانفرنس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان تنظیموں کو منتشر کرنے یا قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے کیا اصول وضع کئے گئے ہیں انہوں نے یہ ضرور کہا ہے کہ پاکستان میں تمام مدارس کو حکومتی کنٹرول میں لیا جا رہا ہے اور ان کو وزارت تعلیم کے ماتحت کیا جا رہا ہے۔

     ابھی تک تو ہمیں یہ بھی علم نہیں کہ نئی حکمت عملی کے بارے میں متعلقہ وارتوں سے مشاورت کب ہوئی اور وفاقی کابینہ سے اس کی منظوری کب لی گئی۔ ہاں یہ اطلاعات ضرور ہیں کہ سکیورٹی ادارے مختلف مذہبی طبقات سے مشاورت ضرور کرتے رہے ہیں چند ماہ قبل تمام مذہبی طبقات کی مشاورت سے متفقہ موقف پیغام پاکستان بھی سامنے آیا تھا۔ تاہم ان تمام معاملات کا پالیسی کی سطح پر سول حکومت اور ایوانوں میں بحث کے لئے پیش ہونا باقی ہے۔ مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنا بہرحال ایک سیاسی ایشو بن چکا ہے گزشتہ حکومت نے مذہبی علماء سے اس حوالے سے طویل مشاورت بھی کی تھی اور کسی حتمی نتیجے پر بھی پہنچ گئی تھی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی دائرہ اختیار میں جا چکی ہے تو وفاقی حکومت مدارس کو وفاقی کنٹرول میں کس طرح رکھ سکتی ہے ؟ بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ حکومت خود بھی سکیورٹی کے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے سے گریزاں محسوس ہوتی ہے ۔ سکیورٹی کا مسئلہ بھی اقتصادیات اور احتساب کی طرح توجہ کا متقاضی ہے کیونکہ محض ایک طاقت ور دہشت حملہ سیاسی اہداف کوتہہ وبالا اور اقتصادی کامیابیوں کو بھی زمین بوس کر دیتا ہے خطہ کے حالات پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہیں اور داعش کا خطرہ بڑھاتا اور نئی جہتوں اور اشکال میں ظاہر ہو رہا ہے خطہ کے ممالک بشمول ہماری حکومت کو اس مسئلہ پر توجہ دینا ہو گی کیونکہ اس کے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے انجام کو نہیں پہنچ سکتی۔ 

    Related :

    Jihad, Extremism

      Monday, April 22, 2019

      Sri Lanka Terror Attack



      Coordinated bombings rock churches and hotels in Sri Lanka on Easter Sunday, killing at least 290 people, these are  the 6  things you need to know about Sri Lanka's bombings: 
      Sri Lanka's health minister has claimed that a local organisation was linked to the string of bombings that killed nearly 300 people and wounded 500 others.

      Rajitha Senaratne on Monday blamed President Maithripala Sirisena's government for failing to act on intelligence inputs shared 14 days before the multiple blasts that targeted churches and luxury hotels across the island nation.

      Speaking at a press conference in the capital Colombo, Rajitha Senaratne said that failure to act against National Thowheeth Jama’ath, a hardline Muslim local organisation, has devastated the entire country.

      "Unfortunately, despite all these revelations by the intelligence units we could not avert these attacks," Senaratne who is also the Cabinet spokesman, said.

      The government on Monday declared April 23 as a day of national mourning following the worst attack in the Indian Ocean island nation since its civil war ended a decade ago.

      Senaratne's criticism of President Sirisena, who heads the security forces, comes a day after Prime Minister Ranil Wickremesinghe acknowledged that "information was there" about possible attacks.

      "We must also look into why adequate precautions were not taken," he said on Sunday.

      Ties between the two leaders are at an all-time low following Sirisena's sacking of Wickremesinghe in October. The move triggered a weeks-long political crisis that ended only when the Supreme Court overturned that decision.
      https://www.aljazeera.com/news/2019/04/sri-lanka-minister-local-group-linked-deadly-attacks-190422090142634.html


      Muslim-Non-Muslim Relationship Charter by Quran: 



      -----------------------

      Terrorism, Suicide Bombing Un-Islamic, 1800 Islamic Scholars Declaration Issued, Endorsed by Al-Azhar, Cairo, Imam of Kaaba and International Scholars:


      The national document, which was  prepared by Islamic Research Institute”, International Islamic University, Islamabad after through research and deliberations in the light of Quran, Sunnah and Constitution of Islamic Republic of Pakistan, it is called “Paigham-e-Pakistan” [The Message of Pakistan].


      It was approved and promulgated by more than 1800 religious scholars of all major islamic groups from different schools of Islamic thought [number has now crossed over 5000]. A unanimous edict (فتوی ) and Joint Declaration was passed by 31 prominent Ulemas on 26 May 2017. The communiqué containing 22 points resolution was transformed into a comprehensive book (Urdu and English) titled as “Paigham-e-Pakistan” [The Message of Pakistan] “پیغام پاکستان ”, which was presented  on 16 Jan 2018.
      This document issued in the form of book, provides answers to  the important issues of peaceful Coexistence, Tolerance , Takfeer تکفیر and Jihad in light of Quran and Sunnah. Though prepared after consistent efforts by the  Islamic Research Institute, International Islamic University, Islamabad, the document belongs to the State of Pakistan, hence every citizen of Pakistan is inheritor of this document and responsible. Keep Reading .... [......]

        Sunday, April 7, 2019

        ABBAS: ISRAELIS HAVE NO RIGHT TO DESECRATE OUR HOLY SITES WITH THEIR FILTHY FEET

        Abbas: Israelis have no right to desecrate our holy sites with their filthy feet
        Palestinians won’t allow Israelis to “desecrate” Islamic and Christian holy sites in Jerusalem, Palestinian Authority President Mahmoud Abbas said on Wednesday, referring to the tensions surrounding visits by Jews to the Temple Mount.

        “Al-Aksa is ours and so is the Church of the Holy Sepulchre. They have no right to desecrate them with their filthy feet. We won’t allow them to do so and we will do whatever we can to defend Jerusalem,” Abbas said in his Ramallah office during a meeting with east Jerusalem activists.

        Abbas said the Palestinians were determined to prevent Israel from passing its scheme to “divide” the Aksa Mosque compound.

        “There will be no Palestinian state without Jerusalem,” he stressed. “We are in Jerusalem and we will stay in it to defend our Islamic and Christian holy sites. We’re not going to leave our country.”

        | The Jerusalem post http://flip.it/ToJmlD

        Thursday, March 28, 2019

        Fighting extremism more important than fighting terrorism



        Declarations of victory are everywhere, and on the lips of everyone concerned with the war on terror in Syria. In my opinion, this is a temporary victory, and it is only a matter of time until another Daesh organization emerges.

        Daesh, the so-called state whose defeat was announced in Syria last week, was born in 2011 after the declaration of the end of the Al-Qaeda terrorist organization. It was announced that Al-Qaeda had been completely destroyed following its defeat in Baghdad and western Iraq.

        The number of those said to be members of Daesh who have been arrested in Syria has reached about 30,000. The number of those who joined the terrorist group during the Syrian war is thought to be more than 60,000, according to an estimate based on the number of detainees who left different parts of Syria after the launch of the international coalition’s attacks against them last summer.

        Like Al-Qaeda, Daesh is an idea, and ideas do not die easily in our region’s current environment, which is one of chaos and emptiness. 

        Al-Qaeda first appeared in Afghanistan after the Taliban took over and following the withdrawal of US troops in the early 1990s. From there, the idea of cross-border armed extremism spread to the countries of the region through the media, mosques and other incubators.

        Al-Qaeda strongly came into the picture in Iraq after the collapse of Saddam Hussein’s regime and the establishment of a weak temporary government in Baghdad under US administration. It was finally defeated in Iraq after thousands were killed in Anbar province, but it resurged under a new name and flag.

        In 2011, the peaceful and civil revolution started in Syria, and Abu Bakr Al-Baghdadi, who had established a “caliphate” and named it the Islamic State of Iraq, seized the opportunity to expand his so-called state across the border into Syria. He started to establish Daesh’s presence in Syria and chose Abu Mohammad Al-Julani for the task. But Al-Julani soon disagreed with his leader and instead founded the Al-Qaeda-linked Al-Nusra Front.

        Extremism has no religion and leads to terrorism. We have seen this in the way the racist right has turned to murder, such as in the recent crime that took place in two mosques in New Zealand. Extremism is one creed that nurtures itself.

        Al-Julani decided in 2016 to change the name of his organization to Jabhat Fateh Al-Sham (JFS). He said the aim was to “repel the pretexts of the international community, led by the US and Russia, which are bombing and displacing common Muslims in Syria under the pretext of targeting Al-Nusra Front.” The truth is that it was part of the game of forming alliances with Turkey and a number of other Syrian factions.

        Other terrorist movements emerged, including the Nour Al-Din Al-Zenki Movement, Liwa Al-Haqq, Jaysh Al-Sunna and the Ansar Al-Din Front. Even JFS changed its name again to Hayat Tahrir Al-Sham.

        Syria was not the only territory to be invaded by Al-Qaeda, as the organization’s branches are present in many areas. Al-Qaeda has a presence in the Arabian Peninsula, the Indian subcontinent and the Islamic Maghreb, in addition to the Al-Shabab organization and sleeper cells in Iraq and elsewhere.

        Therefore, declaring victory and the destruction of Daesh’s terrorist caliphate is an event confined to its place and time. 
        Terrorism will remain as an idea produced by extremism. This means that fighting extremism is more important than fighting terrorism, which is limited to the context of carrying arms.

        Organizations such as the Muslim Brotherhood remain a large school for producing dangerous ideas, even though among their followers and branches there are peaceful groups that are different from Al-Qaeda.


        Abdulrahman Al-Rashed is a veteran columnist. He is the former general manager of Al Arabiya news channel, and former editor-in-chief of Asharq Al-Awsat.
        Twitter: @aalrashed
        http://www.arabnews.com/node/1472431
        .............................

        Daesh’s deadly essence must be denied chance to thrive

        It is significant to note that hate is a driver of social destruction not only in terms of race and ethnic relations, but also between religions. Hate is intense, long-lasting and demands retaliation or redress. Hate, in other words, clouds reason. Clearly, hatred leads to extremism that manifests itself across a broad spectrum of belief systems and cultures, which Daesh’s essence thrives on. Deny them that space.  ... Keep reading ..... [........]


        Related :

        Jihad, Extremism