Featured Post

Terrorism and solution? دہشت گردی اور اس کا حل جوابی بیانیہ ؟

اِس وقت جو صورت حال بعض انتہا پسند تنظیموں نے اپنے اقدامات سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے پوری دنیا میں پیدا کر دی ہے، یہ اُسی فکر کا...

Tuesday, December 24, 2013

ردِّ بدعات ومنکرات Bidah, Prohibition of Inovations in Islam

خانہ ساز تاریخ کی ستم ظریفی بلکہ سنگدلی یہ ہے کہ ان پر شرک وبدعت اور فروغِ منکرات کی پھبتی کسی گئی، طَعن وتَشنیع کا نشانہ بنایا گیا، لیکن یہ سب اِتِّہامات واِلزَامات محض مفروضوں کی بنیاد پر عائد کیے گئے ، نہ کوئی حوالہ دیا گیا اور نہ ہی اُن کے فتاویٰ اور تصانیف کو پڑھنے کی کوشش کی گئی۔ بقولِ شاعر ؎

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے

امام احمد رضا قادری نَوَّراللہ مَرقدَہٗ کثیرالجہات،جامع العلوم اورجامع الصفات شخصیت تھے۔ وہ اپنے عہد کے عظیم مُفسِّر ، محدِّث ، فَقِیہ ،مُتَکلّم، مؤرّخ اور مُصلح تھے

اہلسنت وجماعت کو قبوری، قبر پرست اور قبروں کو سجدہ کرنے والے کہا جاتارہا ہے ،امام احمد رضاقادری لکھتے ہیں:''مسلمان ! اے مسلمان!اے شریعتِ مصطفوی کے تابعِ فرمان! جان کہ سجدہ حضرتِ عزّتِ جلّ جلالہٗ کے سوا کسی کے لیے نہیں ، اس کے غیر کو سجدۂ عبادت تو یقیناً اجماعاً شرکِ مہین وکفر مبین اور سجدۂ تَحِیَّۃ (تعظیمی) حرام وگناہِ کبیرہ بالیقین ، اِس کے کفر ہونے میں اِختلافِ عُلمائِ دین، ایک جماعتِ فُقہاء سے تکفیر منقول‘‘۔
سجدۂ عبادت تو بہت دور کی بات ہے ، اُنہوں نے سجدۂ تعظیمی کے حرام ہونے پر قرآن وسنت کی نُصوص سے استدلال کرکے ''اَلزُّبْدَۃُ الزَّکِیَّہ فِی حُرْمَۃِ السَّجْدَۃِ التَّحِیََّۃ‘‘ کے نام سے ایک باقاعدہ رسالہ لکھا ۔ امام احمد رضانے فقہِ حنفی کے مُسلّمہ فتاویٰ واَئِمَّۂ اَحناف کے حوالے سے لکھا:''عالموں اور بزرگوں کے سامنے زمین چُومنا حرام ہے اور چُومنے والا اور اِس پر راضی ہونے والا دونوں گناہگار ، کیونکہ یہ بت پرستی کے مُشابِہ ہے‘‘۔ مزید لکھتے: ہیں '' زمین بوسی حقیقۃً سجدہ نہیں کہ سجدے میں پیشانی رکھنا ضرور ہے ، جب یہ اس وجہ سے حرام اور مُشابِہِ بت پرستی ہوئی کہ صورۃً قریبِ سجود ہے ، تو خود سجدہ کس درجہ سخت حرام اور بت پرستی کا مُشابہ ِ تامّ ہوگا ، وَالْعَیَاذُبِاللّٰہ تَعَالٰی ‘‘ ۔ 
مزید لکھتے ہیں:'' مزارات کو سجدۂ (تعظیمی) یااس کے سامنے زمین چومنا حرام اور حدِّ رکوع تک جھکنا ممنوع ‘‘، اولیائِ کرام کے مزارات کی بات تو چھوڑیے ،وہ لکھتے ہیں :'' زیارتِ روضۂ انور سیدِ اطہر ﷺ کے وقت نہ دیوارِ کریم کو ہاتھ لگائے، نہ چُومے، نہ اُس سے چمٹے، نہ طواف کرے، نہ زمین کو چومے کہ یہ سب بدعتِ قبیحہ ہیں‘‘۔ شَرحِ لُباب کے حوالے سے لکھا:'' رہا مزار کو سجدہ، تووہ حرامِ قطعی ہے، تو زائر جاہلوں کے فعل سے دھوکہ نہ کھائے بلکہ علمائِ باعمل کی پیروی کرے ، مزار کو بوسے میں (علماء کا )اختلاف ہے اور چُھونا، چِمٹنا اِس کے مثل،اَحوَط(یعنی شریعت کا محتاط ترین حکم) منع اور عِلّت(یعنی ممانعت کا سبب ) خلافِ ادب ہونا‘‘۔ فقہی حوالے کے ساتھ مزید لکھا:'' مزار کو سجدۂ (تعظیمی) تو درکنار، کسی قبر کے سامنے اللہ عزّ وجل کو سجدہ جائز نہیں،اگر چہ قبلے کی طرف ہو (یعنی یہ بت پرستی کے مشابہ ہے)، قبرستان میں نماز مکروہ ، کہ اس میں کسی قبر کی طرف رُخ ہوگا اور قبر کی طرف نماز مکروہ ہے ، البتہ قبرستان میں مسجد یا نماز کی جگہ بنی ہو تو اس میں حرج نہیں ہے۔ قبر کی اونچائی کی بابت ان سے سوال ہواتولکھا:''خلافِ سنت ہے، میرے والدِ ماجد، میری والدۂ ماجدہ اور بھائی کی قبریں دیکھیے، ایک بالشت سے اُونچی نہ ہوںگی‘‘۔
امام احمد رضاقادری سے مزاراتِ اولیاء کرام کے طواف کی بابت سوال ہواتو اُنہوں نے لکھا:''بلاشبہ غیرکعبۂ مُعَظّمَہ (بشمول روضۂ رسول)کا طوافِ تعظیمی ناجائز ہے اورغیر خداکو (تعظیماً ) سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے اور بوسۂ قبر میں علماء کو اختلاف ہے اورمحتاط ترین قول ممانعت کاہے،خصوصاً مزاراتِ طیّبہ اولیائے کرام کہ ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ کم ازکم چار ہاتھ کے فاصلے پرکھڑاہو،یہی ادب ہے،پھر تَقبِیل(چومنا) کیسے مُتصَوّر ہوسکتاہے، یہ وہ ہے جس کا فتویٰ عوام کودیاجاتاہے اور تحقیق کا مقام دوسراہے‘‘ ۔
امام احمد رضا سے سوال ہواکہ بعض وظائف میں آیات اور سورتوں کو مَعکوس (اُلٹ) کرکے پڑھنا کیساہے ؟اُنہوں نے فرمایا:''حرام اور اَشدّ حرام ،کبیرہ اور سخت کبیرہ (گناہ )،کفرکے قریب ہے،یہ تودرکنارسورتوں کی صرف ترتیب بدل کر پڑھنا ،اِس کی نسبت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کیاایسا کرنے والا ڈرتانہیں کہ اللہ اس کے قلب کو اُلٹ دے ،چہ جائیکہ آیات کو بالکل معکوس (اُلٹ ) کرکے مُہمل(بے معنیٰ) بنادینا‘‘۔
آج کل جاہل پیرومُرشِد بنے ہوئے ہیں،دین کے علم سے بے بہرہ ہیں،اپنی جہالت کا جواز اِس طرح کی باتیں بناکر پیش کرتے ہیں کہ طریقت باطنی اور روحانی اَسرارورمُوزکا نام ہے،علماء توصرف الفاظ اورظاہرکو جانتے ہیں،اُن کے دل نورسے خالی ہیں،گویا طریقت اور شریعت کو ایک دوسرے کی ضد قراردیتے ہیں،امام احمد رضا قادری نے لکھا: ''شریعت اصل ہے اورطریقت اُس کی فرع،شریعت مَنبع ہے اورطریقت اس سے نکلاہوا دریا،طریقت کی جدائی شریعت سے مُحال ودشوارہے،شریعت ہی پرطریقت کا دَارومَدَارہے ،شریعت ہی اصل کاراورمَحَکّ ومعیار ہے،شریعت ہی وہ راہ ہے جس سے وصول اِلَی اللہ ہے ،اس کے سوا آدمی جوراہ چلے گا، اللہ تعالیٰ کی راہ سے دور پڑے گا ،طریقت اس راہ کا روشن ٹکڑا ہے،اِس کا اُس سے جداہونا محال ونامناسب ہے۔طریقت میں جوکچھ منکشف ہوتاہے،شریعتِ مُطہرہ ہی کے اِتّباع کا صدقہ ہے،جس حقیقت کو شریعت رَد فرمائے،وہ حقیقت نہیں،بے دینی اورزَندقہ ہے‘‘۔امام احمد رضا قادری سے پوچھاگیا کہ ایک شخص شریعت کا عامل نہیں ہے،اَحکامِ شریعت کا تارک ہے،اُس کا مُؤاخَذہ کیاجائے توکہتاہے:''اَحکامِ شریعت تووصول الی اللہ کا ذریعہ ہیںاورمیں تو واصل ہوچکا ہوں،یعنی منزلِ حق پرپہنچا ہواہوں،لہٰذا میں اب اَحکام کا مُکلّف(جواب دہ ) نہیں ہوں،اُنہوں نے امام الصوفیاء حضرت عبدالوہاب شعرانی اورسیّدُ الطائفہ جنید بغدادی رحمہما اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بتایاکہ:''ہاں! واصل (پہنچاہوا)توضرور ہے مگر جہنم میں‘‘۔مزید لکھتے ہیں: '' صوفیائے کرام فرماتے ہیں :صوفیِ بے علم مسخرۂ شیطان اَست۔ وہ جانتاہی نہیں شیطان اُسے اپنی باگ ڈور پر لگالیتاہے،حدیث میںارشاد ہوا:'' بغیر فقہ کے عابد بننے والا ایساہے جیسے چکی میں گدھا ‘‘ کہ محنتِ شاقّہ کرے اورحاصل کچھ نہیں ‘‘۔
لغت میں بدعت ہرنئی چیزکو کہتے ہیں اوراصطلاح شرع میں ''دین میں ایسی چیز اختراع کرناجس کی اصل دین میں نہ پائی جائے،بدعت ہے،یعنی ہروہ چیز جوکسی دلیلِ شرعی کے مُعارِض (مُتصادم) ہو،بدعت ِ شرعیہ ہے‘‘۔
امام احمد رضا سے سوال ہواکہ کیا فلاحِ آخرت کے لیے مُرشِد ضروری ہے،اُنہوں نے جواب میں لکھا کہ یہ ضروری نہیں ہے،ایک مُرشِد عام ہوتاہے،فلاح ظاہر ہو یا فلاحِ باطن ،اس مُرشِد سے چارہ نہیں،جواس سے جداہے،بلاشبہ کافر ہے یا گمراہ اور اس کی عبادت تباہ وبرباد۔اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے فرمایا: عوام کارہنما۔۔۔کلامِ عُلماء ، علماء کا رہنما۔۔۔ کلامِ اَئِمَّہ ،اَئِمَّہ کا رہنما۔۔۔ کلام ِرسول اور رسول اللہ کا رہنما۔۔۔ کلام اللہ عَزَّوَجلّ ۔ شیخ ایصال اور مُرشِد کامل کے لیے انہوں نے چارکڑی شرائط بیان کی ہیںجن پر لفظاً ومعناً پورااترنا ہرایک کا منصب نہیں ہے ۔اس لیے اُنہوں نے بیعت کا معنی ومفہوم،بیعت کی اقسام ثلاثہ یعنی بیعتِ برکت،بیعتِ ارادت اور بیعتِ منفعت اوران کی تفصیل اوراَحکام بیان کیے ہیں،جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ماہِ صفرالمظفرکے آخری بدھ کے بارے میں لوگوں میں رائج رسومات کی بابت لکھتے ہیں:''آخری چہارشنبہ کی کوئی اصل نہیں،نہ اس دن صحت یابی حضور سید عالم ﷺ کا کوئی ثبوت بلکہ مرض اقدس جس میں وفات مبارکہ ہوئی،اس کی ابتدا اسی دن سے بتائی جاتی ہے اورایک حدیث مرفوع میں آیاکہ ''ابتدائی اِبتَلائے سیدنا ایوب علیہ الصلوٰۃ والسلام اِسی دن تھی اور اسے نَحِس سمجھ کر مٹی کے برتن توڑدینا گناہ اور مال کا ضائع کرناہے۔ بہرحال یہ سب باتیں بے اصل وبے معنی ہیں‘‘۔ 
پیرزادہ علامہ سید محمد فاروق القادری رحمہ اللہ تعالیٰ نے ''فاضلِ بریلوی اوراُمورِ بدعات‘‘کے عنوان سے ایک گرانقدرکتاب تالیف مرتب کی ہے،علمی ودینی ذوق رکھنے والوں کواس کا بغورمطالعہ کرنا چاہیے۔

Saturday, December 21, 2013

جہاد یا فساد Jihad or Fisad



Javed Ahmad Ghamidi response to letter by Taliban


The Taliban’s Line of Reasoning


The self-appointed warriors of God known to the world as the Taliban have killed countless innocent people in the last ten years. They insist that they are doing all this for God and in submission to His directives. They have restated this stance of after their cowardly attack on Malalah Yusufsai. In support of this stance, they present the Qur’an and Hadith and certain incidents that occurred in the lifetime of the Prophet Muhammad (sws). Since people are generally unaware of religion and religious disciplines, they may be influenced by this line of reasoning. We, therefore, would like to present some facts in the following paragraphs in consideration of this scenario.


1. No doubt jihad is a directive of Islam. The Qur’an requires of its followers that if they have the strength, they should wage war against oppression and injustice. The primary reason for which this directive is to curb persecution which is the use of oppression and coercion to make people give up their religion. Those having insight know that Muslims are not given this directive of jihad in their individual capacity; they are addressed in their collective capacity regarding this directive. They are not individually addressed in the verses of jihad which occur in the Qur’an. Thus in this matter only the collectivity has the right to launch any such armed offensive. No individual or group of Muslims has the right to take this decision on their behalf. It is for this reason that the Prophet (sws) is reported to have said: A Muslim ruler is a shield; war can only waged under him.1 Even a little deliberation is enough for a person to conclude whether the Taliban are following this principle or blatantly violating it.


2. The directive of jihad given by Islam is war for the cause of God; therefore, it cannot be waged while disregarding moral restrictions. Ethics and morality supersede everything in all circumstances and even in matters of war and armed offensives, the Almighty has not allowed Muslims to deviate from moral principles. Hence, it is absolutely certain that jihad can only be waged against combatants. It is the law of Islam that if a person attacks through his tongue, then this attack shall be countered through the tongue and if he financially supports the warriors then he will be stopped from this support; however, unless a person picks up arms to wage war, his life cannot be taken. So much so, if right in the battle field the enemy throws down his arms and surrenders, he shall be taken a prisoner; he cannot be executed after this. The words of the verse which mention the directive of jihad are: “and fight in the way of Allah with those who fight against you and do not transgress bounds [in this fighting]. Indeed, God does not like the transgressors,” (2:190). The Prophet (sws) forbade the killing of women and children during war.2 The reason for this is also that if they have embarked upon jihad with the army, it is not in the capacity of combatants. At best, they can boost the morale of the combatants and urge them through the tongue to fight.


This then is the shari‘ah of God. But what are the Taliban doing? Men of learning like Mawlana Hasan Jan, Mawlana Sarfaraz Na‘imi and Dr Muhammad Faruq Khan never undertook to wage war against them. Malalah Yusufza’i is an innocent girl. She never took up arms against them. In spite of this, the Taliban insist that all these people deserve death. Is this merely because they had dared to differ with them? There is no doubt that in the presence of political authority in a place that authority has the right to punish criminals; it also is true that in this regard there cannot be any difference between a man and a woman. The Qur’an very explicitly states that whether a woman or a man is guilty of theft both will be punished and both have the same punishment. The same is true for an adulterer and an adulteress. However, when did the Taliban have political authority on the persons just mentioned and when did these persons commit crimes which are punishable by death as per the Islamic shari‘ah? The Qur’an very explicitly states that the death punishment can be meted out only in cases of murder and spreading anarchy in the land and not in any other crime. Who among the people pointed out above is guilty of murdering someone or was guilty of spreading anarchy by threatening the life, wealth or honour of someone? In reality, the Taliban themselves are guilty of these crimes and testify to their confessions every day.


3. Polytheism, disbelief and apostasy are indeed grave crimes; however, no human being can punish another human being for these crimes. This is the right of God alone. In the Hereafter too, He will punish them for these crimes and in this world it is He Who does so if He intends to do so. The matter of the Hereafter is not under discussion here. In this world, this punishment takes place in the following manner: when the Almighty decides to reward and punish people in this very world on the basis of their deeds, He sends His messenger towards them. This messenger conclusively communicates the truth to these people such that they are left with no excuse before God to deny it. After that the verdict of God is passed and those people who even after the conclusive communication of the truth insist on disbelief and polytheism are punished in this world. This is an established practice of God which the Qur’an describes in the following words: “And for each community, there is a messenger. Then when their messenger comes, their fate is decided with full justice and they are not wronged.” (10:47)


This punishment is generally given in the manner it was given to the people of Noah (sws), the people of Hud (sws), the people of Salih (sws), the people of Lot (sws), the people of Shu‘ayb (sws) and to some other nations. However, if a messenger has a substantial number of companions and after migrating from their people, they are also able to gain political authority at some place, then this punishment is implemented through the swords of the messenger and his companions. It is this second situation which arose in the case of Muhammad (sws). Thus the active adversaries among his opponents first met their fate; after this a general order of killing the rest of the adversaries was given. For them the declaration of this punishment came in 9th hijrah on the day of hajj-i akbar. Following are the words of this directive mentioned in the Qur’an: “Then when the sacred months [after the hajj-i akbar] have passed, kill these Idolaters wherever you find them, and [for this objective] capture them and besiege them, and lie in wait for them in each and every ambush. But if they repent and are diligent in the prayer, and give zakāh, then leave them alone.” (9:5)


This is the punishment of God which was meted out to the Idolaters of Arabia. When such a punishment descends on the perpetrators, no exception is given to women and children and they are destroyed the way the nations of Noah (sws) Hud (sws), Salih, Lot (sws) and Shu‘ayb (sws) were destroyed. It is thus mentioned in various narratives that when troops were sent to implement this punishment, he was asked what to do about the women and children of the Idolaters who would also be there; at this, the Prophet (sws) replied that they were from among them.3 It was these people about whom he had directed that if they embraced faith at that time and then became apostates and later adopted disbelief they would deserve this same punishment of death.4


In spite of conclusive communication of the truth, the punishment of these people was deferred till 9 AH because they were not active adversaries and there was a chance that they might repent and hence be saved from punishment. On the other hand, people who besides their rejection of the truth became open and active adversaries were not given this respite. They were killed whenever it became possible. Abu Rafi‘, Ka‘b ibn Ashraf, ‘Abdullah ibn Khattal, his slave-girls and from among the prisoners of the battles of Badr and Uhud ‘Uqbah ibn Abi Mu‘it, Nadr ibn al-Harith and Abu ‘Izzah et al. were killed for this very reason.


This was the verdict of God which is necessarily implemented after conclusive communication of the truth by His messengers. It is about this verdict that the Qur’n has said: “You shall never see any change in this practice of God,” (17:77). Its nature is the same as of the sacrifice of Ishmael (sws) and the incident of Khidr. It is not related to us human beings. Just as we cannot drill a hole in the boat of a poor person to help him and cannot kill a disobedient boy nor embark upon slaughtering any of our sons on the basis of a dream as Abraham (sws) did, similarly, we cannot undertake this task except if a revelation comes from God or if He directly gives an order. Everyone knows that the door to this has permanently been closed.
The incidents which the Taliban are presenting to support their measures are of the nature just described. This is nothing but audacity to generalize for themselves what specifically rests in the hands of God. There can be no greater a crime than this on God’s earth. Every believer should seek God’s refuge from this.




1. Abū ‘Abdullāh Muhammad ibn Ismā‘īl al-Bukhārī, Al-Jāmi‘ al-sahīh, 2nd ed. (Riyād: Dār al-salām, 1999), 489, (no. 2957).
2. Al-Bukhārī, Al-Jāmi‘ al-sahīh, 498, (no. 3015); Abū al-Husayn ibn Hajjāj Muslim al-Nīsabūrī, Al-Jāmi‘ al-sahīh, 2nd ed. (Riyād: Dār al-salām, 2000), 303, (no. 1744).
3. Al-Bukhārī, Al-Jāmi‘ al-sahīh, 497, (no. 3012); Muslim, Al-Jāmi‘ al-sahīh, 303, (no. 1745).
4. Al-Bukhārī, Al-Jāmi‘ al-sahīh, 498, (no. 3017).

Monday, December 9, 2013

جہاد اور جماعت اسلامی Jihad, Modudi and Jamat Islami


سید منور حسن کے اس دھماکہ خیز بیان کے بعد کہ ریاست کے باغی حکیم اللہ محسود کو شہید کی حیثیت حاصل ہے‘ ایک بلاوجہ کی بحث چھڑ گئی۔ مناسب ہوتا کہ سید صاحب اپنے دلخراش بیان سے رجوع فرما لیتے۔ لیکن جماعت اسلامی کا زیادہ تر ریکارڈ یہی ہے کہ یہ عوام الناس کے عمومی رحجان کے خلاف موقف اختیار کرتی ہے اور پھر اکثریت کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے کبھی عوام میں مقبولیت حاصل نہیں ہوئی اور اس نے کبھی کوئی الیکشن نہیں جیتا ۔ سید صاحب نے ایک ایسے وقت میں تکلیف دہ بیان جاری کیا جب کہ پاک فوج اپنے وطن اور عوام کی حفاظت کے لئے باغیوں اور عوام دشمنوں کے خلاف برسرپیکار ہے اور پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کی سب سے بڑی تنظیم کے سربراہ کی امریکی ڈرون کے حملے میں ہلاکت کو شہادت قرار دے ڈالا۔ اس بات کا موقع محل سے کوئی تعلق نہیں۔ عوام اپنی فوج اور ریاست کے باغیوں کے بارے میں واضح خیالات رکھتے ہیں۔ انہیں ایک نئی بحث میں الجھانے کا مطلب صرف ایک ہو سکتا ہے کہ بے گناہ شہریوں کی شہادتوںاور وطن کی حفاظت کے لئے عوام کے اندر جو یکجہتی پائی جاتی ہے‘ اس کی جگہ انتشار پھیلایا جائے اور ظاہر ہے انتشار کا فائدہ ہمیشہ دشمن اٹھاتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف کو داد دینا پڑے گی کہ فوج کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر سید صاحب نے جو زخم لگایا تھا‘ انہوں نے بلاتاخیر اس پر مرہم رکھنے کے لئے شہدا کی یادگار پر پھول چڑھائے اور دعا مانگی۔ جنرل کیانی ان کے ساتھ تھے۔ وزیراعظم کی اس بروقت حاضری نے لاکھوں شہیدوں کے پسماندگان اور ساتھیوں کے شکستہ دلوں کو پھر سے مضبوط کیا۔ ان کے ماند پڑتے حوصلوں کو تقویت دی اور اسلام کے نام پر گمراہی پھیلانے کی جو کوشش کی جا رہی تھی‘ اسے مٹی میں ملا دیا۔ نوازشریف کے بروقت اقدام نے اس زہریلے بیان کے اثرات ماند کر دیئے‘ جو محض دلوں کو دکھانے کے اذیت پسندانہ طرزعمل کا نتیجہ تھا۔ یہاں پر مجھے قاضی حسین احمد بہت یاد آئے۔ جماعت اسلامی کی زندگی میں اگر اسے کبھی منتخب ایوانوں میں قابل ذکر نشستیں ملیںیا شریک اقتدار ہونے کا وقت آیا‘ تو یہ سارے واقعات قاضی حسین احمد مرحوم کے زمانے میں ہوئے۔ وہ ہمیشہ عوامی رحجانات کا لحاظ رکھتے۔ شدید مخالفانہ بیانات کے جواب میں انتہائی شائستگی سے کام لیتے۔ یہاں تک کہ جو مولانا فضل الرحمن آج جماعت اسلامی سے دوردور رہتے ہیں‘ ان کے ساتھ متحدہ محاذوں میں شامل رہے اور مخلوط حکومتوں میں بھی شرکت کی۔ اب میں ایک تاریخی انٹرویو کا حوالہ پیش کروں گاجو سید ابوالاعلیٰ مودودی نے 17اگست 1948ء کو دیا تھا۔ جب قائد اعظمؒ حیات تھے۔ یہ انٹرویو جماعت اسلامی کے ترجمان سہ روزہ ’’کوثر‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ کل ایک کالم میں اس کا سرسری سا ذکر آیا۔ آج میں ریاست کے باغیوں کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے بارے میں مولانا مودودی مرحوم کے خیالات نقل کر تے ہوئے ان کے جانشینوں کو کچھ یاد دلانا چاہتا ہوں۔ مولانا سے سوال ہوا تھا کہ ’’ایک ذمہ دار خطیب نے آپ پر الزام عائد کیا ہے کہ آپ نے کشمیر میں شہید ہونے والوں کی موت کوحرام قرار دیا اور انہیں جہنمی کہا۔ کیا واقعتا ایسا ہے؟‘‘ جواب تھا’’یہ بات میں نے کبھی نہیں کہی۔ جو کچھ میں نے کہا ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ جب تک حکومت پاکستان نے حکومت ہند کے ساتھ معاہدانہ تعلقات قائم کر رکھے ہیں‘ پاکستانیوں کے لئے کشمیر میں‘ ہندوستانی فوجوں سے لڑنا ازروئے قرآن جائز نہیں۔ میرے اس قول کو لے کر ایک منطقی ہیرپھیر کے ذریعے یہ نتیجہ نکال لیا گیا ہے کہ جب ایسا کرنا جائز نہیں‘ تو جو لوگ وہاں لڑ کر مارے جاتے ہیں‘ وہ ضرور حرام موت مرتے ہیں اور جہنمی ہیں۔ پھر اپنے نکالے ہوئے اس نتیجے کو زبردستی مجھ پر تھوپ دیا گیا کہ یہ میرا قول ہے۔یہ دراصل تکفیر بازوں کا پرانا حربہ ہے کہ کسی شخص کی کہی ہوئی اصل بات پر اگر لوگوں کو اشتعال نہ دلایا جا سکے‘ تو اس میں سے ایک دوسری بات خود نکال کر‘ اس کی طرف منسوب کر دی جائے۔ درآنحالیکہ اس نے وہ بات نہ کہی ہو۔مثلاً ایک گروہ کے نزدیک‘ ایک چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور دوسرے کے نزدیک نہیں ٹوٹتا۔ اب بڑی آسانی سے اول الذکر گروپ پر تھوپ دیا جا سکتا ہے کہ وہ موخرالذکر گروہ کے تمام لوگوں کی نمازوں کو باطل قرار دیتا ہے۔ اس طرح کھینچ تان سے کام لے کر بارہا مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑایا جا چکا ہے اور مجھے افسوس ہے کہ فتنہ پردازی کا یہ فن اب تک تازہ ہے۔ (تازہ کیا؟ نشوونما پا کر پاکستان میں انتشار کو مسلسل فروغ دے رہا ہے۔ ناجی)سیدھی سی بات یہ ہے کہ میں اس معاملے میں اپنی ایک رائے رکھتا ہوں اور دلائل کے ساتھ اسے ظاہر کر دیتا ہوں۔ دوسرے علما کچھ اور رائے رکھتے ہیں اور وہ بھی اپنی رائیں بیان کر دیتے ہیں۔ اب جسے میری رائے پر اطمینان ہو‘ وہ اس پر عمل کرے اور جسے دوسرے علما کے فتوے پر بھروسہ ہو‘ وہ اس پر عمل کر لے۔ کسی کی عاقبت کے متعلق پیش گوئی کرنا اور کسی کو جنت اور کسی کو دوزخ بانٹنا میرا کام ہے اور نہ کسی دوسرے عالم کا۔ یہ خدا کا کام ہے کہ وہ اپنے جس بندے کو چاہے جنت دے دے اور جسے چاہے دوزخ میں جگہ دے۔ میں کسی مسئلے پر جس حد تک اظہار رائے کر سکتا ہوں‘ وہ صرف اس قدر ہے کہ ایساکرنا شرعاً صحیح ہے یا نہیں اور اپنی رائے پر بھی مجھے اصرار نہیں ہو گا کہ ضرور اسی کو مانا جائے۔ اگر کوئی عالم دین دیانتداری کے ساتھ اس رائے سے اختلاف رکھتا ہو اور خود عمل کرے یا اس کے فتویٰ پر کوئی دوسرا شخص عمل کر دے تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ البتہ میں جس سچ چیز کو صحیح سمجھتا ہوں‘ اس پر خود عمل کرتا ہوں اور دو سروں کو وہی رائے دے سکتا ہوں اور جب تک اس کے خلاف کوئی دلیل مجھے مطمئن نہ کر دے‘ اپنی رائے دیانتاً واپس نہیں لے سکتا۔ اجتہادی مسائل میں علما کا قدیم سے یہی طریقہ چلا آ رہا ہے اور کبھی کسی ذمہ دار عالم نے اپنی اجتہادی رائے کے متعلق ایسا اصرار نہیں کیا کہ جو لوگ کچھ دوسری رائے رکھتے ہیں‘ ان کے عمل کوباطل قرار دیں اور ان کے جنتی یا جہنمی ہونے کا پیشگی فیصلہ صادر کریں۔‘‘(یہی سید منور حسن نے کیا ہے۔ انہوں نے خدائی اختیار استعمال کرتے ہوئے‘ ایک دہشت گرد کو شہید قرار دے دیا‘ جس کا مقام جنت ہوتا ہے اور پاک فوج کے جانیں قربان کرنے والے سپاہیوں اور افسروں کو شہادت کا درجہ دینے سے انکار کر دیا۔ناجی) یہاں پر آ کر مولانا سے دریافت کیا گیا کہ آپ کے متعلق یہ بات کہی جاتی ہے کہ’’ آپ جہاد کشمیر کو جہاد ہی نہیں مانتے۔ اگر ایسا ہے تو آپ کی رائے کی بنیاد کیا ہے؟‘‘ مولانا نے فرمایا ’’میں بارہا اس بات کو واضح کر چکا ہوں کہ کشمیر کے لوگوں کو اپنی مدافعت کے لئے لڑنے کا پورا حق حاصل ہے اور ان کی لڑائی جہاد کے حکم میں ہے۔ اب جو لوگ کوئی غلط بات مجھ سے منسوب کرتے ہیں۔ وہ خود اس کے ذمہ دار ہیں۔‘‘ مولانا سے پوچھا گیا کہ ’’آپ کے متعلق اس بات کا بھی عام چرچا کیا جا رہا ہے کہ آپ کشمیری مجاہدین کو مدد دینے کے خلاف ہیں۔ چنانچہ اس طرح کی باتوں سے پاکستانیوں میں بھی اور آزاد قبائل میں بھی بہت بددلی پھیلائی جا رہی ہے؟‘‘ مولانا کا جواب تھا ’’آزاد قبائل کے جو لوگ پاکستان کے شہری نہیں ہیں۔ وہ قطعاً کسی ایسے معاہدے کے پابند نہیں جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہے۔ وہ اگر کشمیری مجاہدین کی امداد کے لئے جائیں‘ تو ان کو حق پہنچتا ہے اور ان کا اسلامی فرض ہے کہ وہ‘ ان کی مدد کریں۔ البتہ انہیں یہ کام حسن نیت کے ساتھ کرنا چاہیے اور اسلامی حدود کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔رہا پاکستان کے لوگوں کی طرف سے امداد کا سوال‘ تو میں نے اس معاملے میں جو کچھ رائے ظاہر کی ہے‘ وہ جنگی امداد کے متعلق ہے اور جنگی امداد میں صرف دو چیزیں آتی ہیں۔ ایک اسلحہ فراہم کرنا۔ دوسرا لڑنے کے لئے آدمی بھیجنا۔ یہ دو قسم کی مدد دینا میں اس وقت تک جائز نہیں سمجھتا‘ جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ دونوں حکومتوں کے درمیان کسی طرح کے معاہدانہ تعلقات نہیں تھے یا اب نہیں رہے۔ان دو قسم کی اعانتوں کے سوا ہم آزاد کشمیر کے لوگوں اور ان کی مدد کرنے والوں کو غلہ‘ کپڑا‘ دوائیں‘ مرہم پٹی کا سامان‘ طبی امداد کے لئے ڈاکٹر اور تیماردار سب کچھ بھیج سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر وہ پاکستان میں آکر اسلحہ خریدیں تو ان کے ہاتھ وہ بھی فروخت کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں خود جماعت اسلامی بھی خاموشی کے ساتھ کچھ نہ کچھ کر رہی ہے اور یہ چیز اصولاً معاہدانہ تعلقات کے خلاف نہیں ہے۔‘‘ 

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے انٹرویو کی بنیاد پر لکھے گئے کالم کی پہلی قسط آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ دوسری قسط کی ابتدا انہی کے الفاظ سے کر رہا ہوں۔’’ذاتی طور پر میری اور بحیثیت مجموعی جماعت اسلامی کی مستقل پالیسی یہ ہے کہ ہم اپنے اصل مقصد یعنی نظام اسلامی کے قیام کے سوا کسی اور مسئلے کو اپنی جدوجہد کا محور نہیں بناتے۔ دوسرے مسائل اگر پیش آتے ہیں‘ تو ان پر زیادہ سے زیادہ بس اتنا ہی کیا جاتا ہے کہ ہم اپنے نزدیک جو کچھ حق سمجھتے ہیں‘ اس کو بیان کر دیتے ہیں۔‘‘ جماعت اسلامی نے شہادت کے مسئلے پر اپنے موجودہ امیر کے دفاع میں جو بیان جاری کیا ہے‘ اسے بانی جماعت کے مندرجہ بالا الفاظ کی روشنی میں پڑھئے اور آپ کو بانی جماعت اور اس کی موجودہ قیادت کا فرق معلوم ہو جائے گا۔ اب میں جہاد کشمیر کے حوالے سے مولانا کے مزید کچھ خیالات پیش کرتا ہوں۔ ’’سوال: کہا جا رہا ہے کہ آپ نے اور آپ کی جماعت نے جہاد کشمیر کو کمزور کرنے کے لئے ایک مستقل معرکہ شروع کر رکھا ہے اور اس سے محاذ کشمیر کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں خلل آ رہا ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ شرعاً آپ کے لئے ایسی مہم جاری کرنا لازم ہے؟ جواب:یہ مہم جاری کرنے کا الزام قطعاً بے بنیاد ہے۔ میں نے تو ایک شخص کے اصرار پر ایک پرائیویٹ صحبت میں محض اپنی رائے ظاہر کر دی تھی۔ اس کے بعد اس رائے کو پھیلانے کی پوری مہم ان لوگوں نے خود اپنے ذمے لے لی‘ جنہیں کشمیر کو بچانے کی اتنی فکر نہیں جتنی مجھے بدنام کرنے کی فکر ہے۔ ذاتی طور پر میری اور بحیثیت مجموعی جماعت اسلامی کی مستقل پالیسی یہ ہے کہ ہم اپنے اصل مقصد یعنی نظام اسلامی کے قیام کے سوا کسی اور مسئلے کو اپنی جدوجہد کا محور نہیں بناتے۔ دوسرے مسائل اگر پیش آتے ہیں تو ان پر زیادہ سے زیادہ بس اتنا ہی کیا جاتا ہے کہ ہم اپنے نزدیک جو کچھ حق سمجھتے ہیں‘ اس کو بیان کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد اس کی تبلیغ اور اس کے لئے کوئی جدوجہد نہ میں خود کرتا ہوں اور نہ جماعت کے لوگ۔ میں نے پچھلے چند مہینوں میں متعدد تقریریں کی ہیں جنہیں ہزاروں آدمیوں نے سنا ہے اور کوئی سامع یہ شہادت نہیں دے سکتا کہ مسئلہ کشمیر کے متعلق میں نے کچھ بھی اظہار رائے کیا ہو۔ صرف لائل پور میں چند الفاظ مجبوراً اس لئے کہے تھے کہ مجمع عام میں مجھ سے سوال کیا گیا اور میں نے جب کہا کہ سائل صاحب نجی صحبت میں مجھ سے آ کر دریافت کر لیں‘ تو اصرار کیا گیا کہ مجمع عام ہی میں جواب دیا جائے۔ جماعت کے دوسرے لوگوں کے متعلق میں نے پوری طرح تحقیق کر لیا ہے کہ انہوں نے نہ بطور خود اس مسئلہ کو کسی کے سامنے چھیڑا ہے‘ نہ کہیں اس کی تبلیغ کی ہے لیکن اس کا کیا علاج کیا جائے؟ جب ہم نظام اسلامی کی دعوت پیش کرنے کے لئے لوگوں کے سامنے جاتے ہیں تو فتنہ پسند لوگ جان بوجھ کر خود اس سوال کو چھیڑتے ہیں۔ معذرت کی جائے تو اصرار کرتے ہیں اور جب مجبوراً جواب دیا جائے تو الزام عائد کرتے ہیں کہ تم نے اس کے لئے مہم شروع کر رکھی ہے‘ حالانکہ مہم خود ان لوگوں نے شروع کر رکھی ہے‘ جو اخبارات میں اور خطبوں اور تقریروں میں اس سوال کو چھیڑتے چلے جا رہے ہیں۔ سوال:یہ بات آپ کے علم میں آ چکی ہو گی کہ تقریر و تحریر کے ذریعے عام طور پر کہا جا رہا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کوئی معاہدانہ تعلقات نہیں ہیں اور اس بات کے کہنے والوں میں بعض پبلک اہمیت رکھنے والے حضرات بھی شامل ہیں۔ نیز یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قرآن کی جس آیت سے آپ نے استدلال کیا ہے اس میں لفظ ’’میثاق‘‘ آیا ہے دوسری طرف عدم محاربہ (Non Aggression) کے معاہدے یا حلیفانہ (Alliance) کے لئے استعمال ہوتا ہے نہ کہ چند اشیا کے تجارتی تبادلے کے سمجھوتوں کے لئے۔ سوال یہ ہے کہ آخر آپ کس بنا پردونوں کے درمیانہ معاہدانہ تعلقات ہونے کی رائے رکھتے ہیں؟ جواب:میں جس بنا پر یہ رائے رکھتا ہوں وہ یہ ہے کہ اولاً دونوں حکومتوں کی پیدائش ہی ایک معاہدے کے ذریعے سے ہوئی ہے جو برطانوی حکومت کی پیش کردہ تجویز کو قبول کر کے مسلمانوں اور ہندوئوں کے نمائندوں نے باہم طے کیا تھا۔ اس معاہدے میں یہ بات آپ سے آپ شامل تھی کہ دونوں مملکتیں ایک دوسرے کی دشمن اور ایک دوسرے کے خلاف برسرجنگ نہیں ہیں‘ بلکہ پرامن طریقے سے ملک کی تقسیم پر متفق ہو رہی ہیں۔ اس کے بعد دونوں حکومتوں کے درمیان فوراً سفارتی تعلقات قائم ہو گئے اور ہائی کمشنروں کا تبادلہ ہوا۔ سفارتی تعلقات ہمیشہ سے حالت جنگ (STATE OF WAR) کے نہ ہونے کی دلیل سمجھے جاتے رہے ہیں اور آج بھی سمجھے جاتے ہیں۔ پھر دونوں حکومتوں کے درمیان مالی اور تجارتی معاملات اور مہاجرین کے مختلف مسائل‘ اغوا شدہ عورتوں کی بازیافت اور کرنسی کے معاملات کے متعلق مسلسل سمجھوتے ہوتے رہے ہیں اور یہ تمام سمجھوتے اس بات کی دلیل ہیں کہ ان کے درمیان حالت جنگ قائم نہیں ہے ۔ دنیا کی کوئی قوم بھی کسی دوسری قوم سے مالی اور تجارتی لین دین اس حالت میں نہیں کرتی جبکہ وہ اسے اپنے خلاف برسرجنگ سمجھتی ہو۔ اس کے بعد ابھی اپریل 1948ء میں دونوں حکومتوں کے درمیان کلکتے کا معاہدہ ہوا ہے‘ جس میں اور مسائل پر سمجھوتہ کرنے کے ساتھ اس امر پر بھی سمجھوتہ طے ہوا تھا کہ دونوں حکومتیں اپنے اپنے ملک کے اخبارات کو ہدایات کریں گی کہ وہ کوئی ایسی بات شائع نہ کریں جس سے یہ معنی نکلتے ہوں کہ ان دونوں کے درمیان جنگ ناگزیر ہے یا اعلان جنگ ہونا چاہیے۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ دونوں حکومتیں باہم مصالحانہ تعلقات رکھتی ہیں اور انہیں جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں اس سمجھوتے کا حوالہ دیتے ہوئے پنڈت نہرو کی معاندانہ تقریروں کے خلاف حکومت پاکستان نے احتجاج کیا ہے کہ یہ تقریریں میثاق کلکتہ کی اسپرٹ(یہاں کچھ بے ربطی ہے میں قیاساً تین الفاظ شامل کر رہا ہوں)’’ کے خلاف ہیں‘‘۔ شکایت کی بنیاد ہی یہ ہے کہ ریاستوں کے متعلق تقسیم کے معاہدے ہیں لہٰذا جو بات طے ہوئی تھی‘ اس کی رو سے ریاست جونا گڑھ پاکستان میں شرکت کی دستاویز پر دستخط کرنے کے بعد پاکستان کاحصہ ہو چکی ہے اور اس کی پروا نہ کرتے ہوئے انڈین یونین نے اس پر زبردستی قبضہ کیا ہے۔ آخر انڈین یونین کے اس فعل کو بدعہدی قرار دینے کے سوا کیا کہا جاتا؟کہ دونوں کے درمیان کوئی معاہدانہ تعلق تھا جس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ یہ ساری باتیں بھی اگر کسی کے نزدیک معاہدے کی تعریف میں نہ آتی ہوں تو وہ اپنی رائے کا مختار ہے۔ میں اب تک یہی سمجھتا ہوں کہ دونوں حکومتوں کے درمیان ایسے معاہدانہ تعلقات ہیں جن کو قائم رکھتے ہوئے ہم انڈین یونین کے خلاف شرعاً کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ’’میثاق‘‘ کا اعلان صرف اس معاہدے پر ہوتا ہے جس میں عدم محاربہ کی تصریح ہو یا جس میں باہم حلیفانہ تعلق کا عہدوپیمان ہو‘ وہ نہ قرآن سے کوئی دلیل پیش کر سکتے ہیں‘ نہ لغت عرب سے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے اور انبیاء سے جو اقرار لئے تھے ان کے لئے لفظ ’’میثاق‘‘ ہی کو استعمال کیا ہے۔ آخر ان دونوں میں سے کون سا مفہوم ان مواقع پر مراد ہے؟‘‘ قارئین!آپ جانتے ہیں کہ گزشتہ نصف صدی میں میرا تعلق اس مکتبہ فکر سے رہا ہے‘ جو پاکستان کو ترقی پسند‘ خوشحال اور مستحکم ملک کی حیثیت میں دیکھنے کے خواہش مند تھے۔ میرا شعبہ صحافت رہا اور جتنی میری بساط تھی‘ اس کے مطابق مندرجہ بالا مقاصد حاصل کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرتا رہا۔ اسی مکتبہ فکر کی سیاست میں بھی حصہ لیا مگر میں زندگی میں اپنے خوابوں کی تعبیر نہیں دیکھ پایا۔ مستقبل قریب میں بھی اس کی امید نہیں۔ مولانا مودودیؒ ایک دوسری طرز فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے لئے ایک ایسی معاشرت چاہتے تھے‘ جس میں وہ اپنی دینی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اسی مقصد کے لئے انہوں نے اپنی جماعت قائم کی لیکن خواب ان کے بھی پورے نہ ہوئے۔ پاکستان کا خواب قائد اعظمؒ نے دیکھا تھا۔ جغرافیائی اعتبار سے تو ان کا خواب پورا ہو گیا ۔ لیکن وہ پاکستان میں کیسا نظام حیات چاہتے تھے؟ اس کی انہوں نے کبھی جامع تعریف نہیں کی اور نہ ہی اس موضوع پر کوئی مکمل تحریر چھوڑی۔ نتیجہ یہ ہے کہ قائداعظمؒ کا نام لینے والے اپنے اپنے خیالات کو ان سے منسوب کر کے‘ اپنا اپنا نظریہ پاکستان پیش کرتے رہتے ہیں۔ مشرقی پاکستان کی اکثریت اپنے نظریئے کے مطابق خطے کو علیحدہ کر کے پاکستان سے الگ ہو گئی۔ باقی ماندہ پاکستان میں رہنے والوں نے اپنے اپنے ذہن کے مطابق قیام پاکستان کے جداجدا مقاصد مرتب کر رکھے ہیں۔ کاش! قائد اعظمؒ زندگی میں پاکستان کو ایک دستور دے جاتے یامسلم لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی میں اتفاق رائے سے نئی ریاست کو چلانے کے لئے متصورہ نظام کے بنیادی نکات رہنما اصولوں کی صورت میں مرتب کر لیے جاتے‘ جن پر نئی ریاست کے امور کو چلانا مقصود ہوتا۔ ان میں سے کوئی بھی کام نہ ہوا۔ اس موضوع پر پھر کبھی لکھوں گا۔ مولانا مودودی سے جس موضوع پر زیربحث انٹرویو لیا گیا‘ وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ نئی نسل کے لئے میں مکمل انٹرویو روزنامہ ’’دنیا‘‘ کے سنڈے میگزین میں شائع کر رہا ہوںتاکہ یہ تاریخی دستاویز زیادہ لوگوں کے ہاں محفوظ ہو جائے۔
By Nazir Naji
http://dunya.com.pk/index.php/author/nazeer-naji/2013-11-15/5015/62691861#tab2
http://e.dunya.com.pk/magazine/index.php?e_name=LHR&m_date=2013-12-01

Aljihad Fil Islam By Syed Abulala Maududi Pages: 600

Idara Tarjuman ul Quran http://tazkeer.org/scan/?itemid=1664
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
Who can declare Jihad?
1) Just as punishments of amputation of hands and flogging despite being unmistakable injunctions of the Qur'an cannot be implemented by individuals, similarly Jihad cannot be done by people on their own. In both cases, an Islamic State is a precondition. However, while people are willing to accept the condition of the State for the implementation of punishment, they are not willing to accept the condition for the purpose of Jihad. What he says is that if the leader of the Jihad movement cannot be given the right to enforce Islamic punishments on his soldiers on committing crimes, how can he be allowed to lead them to fight and risk their lives?

2) The scholar also claims that the understanding that an Islamic State with an Amir is a necessary condition for doing jihad is an understanding which almost all earlier scholars agreed to. This is so because it was realised by the scholars that the permission to do Jihad, like in the case of punishments, was given to the prophet, Allah's mercy be on him, and his companions only after he had migrated to Madina where he was able to create an Islamic State. It is only in the recent times that there has emerged a tendency amongst religious leaders to lead people in Jihad without the power of the State.

3) If the condition of Islamic state is not recognised and it is conceded that any well-meaning Muslim leader can declare Jihad against the enemies, then there is a potential danger of the creation of conditions of utter chaos and bloodshed in the name of Jihad. One religious group may consider another as worthy of being fought against. In fact, many of such groups have sometimes shown the tendency of doing 'Jihad' against fellow Muslim groups as well, because they don't consider those others as Muslims. Most of the killings in the Sunni-Shia disputes take place in the name of Jihad. This tendency has not only led to unnecesary bloodshed, it has also badly damaged the good name of Islam, because many people blame Islam for whatever is going on in the name of Jihad.

I find all these arguments of the scholar convincing and worthy of our attention. I therefore am inclined to believe that even if Muslims of the present times are being subjected to difficulties by non-Muslims, they should endure them patiently and continue to live as good Muslims. This attitude is likely to bring many non-Muslims closer to Islam. If matters go beyond limits, they should either migrate to an Islamic State or urge that state to declare Jihad against the tyrant rulers who are causing hardship for Muslims. However, under no circumstances should stray groups of Muslims resort to armed struggle for independence. They can, however, defend themselves with arms if attacked by the enemy.
Views: 1405
http://www.khalidzaheer.com/qa/255
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Who Can Declare Jihad?


Muhammad Munir 


Department of Law, International Islamic University, Pakistan

April 14, 2012

Research Papers, Human Rights Conflict Prevention Centre (HRCPC) Vol. XII. no. 1-2 (2012), pp. 1279-1294. 

Abstract:      

Non-state Islamic actors are engaged in their war against the West, Muslim states, and in some cases against their own states. Among the propaganda campaign raised by these Jihadis for winning support of fellow Muslims is that jihad can be declared by any jihadi group within a Muslim state and there is no need for the head of such a Muslim state for such a declaration. How does Islamic law look at the complex relations between jihadis operating from within a Muslim state and whether the state might be blamed for their attacks and other activities outside such a state? This paper explains relationship between jihadi groups inside a Muslim state which has necessary military and political authority but which has not given any explicit permission to such groups to operate. It is concluded that classical Islamic law does not authorize the operations of jihadi groups without the permission of the Imam. In addition, under Islamic law such a state is responsible for the acts of jihadi groups operating from its territory.
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Monday, November 11, 2013

​ امریکہ کیوں تحریک طالبان سے امن کے خلاف ہے ?Why USA is against peace with Pakistani Taliban

ہمارے میڈیہ کے بیشتر مبصرین بڑے سادہ لوح ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ امریکہ کی سوچ وہی ہے جو ان کے خیال میں اس کی سوچ ہے اور یہ بدلتی بھی نہیں۔ حقیقت یہ ہے  کہ امریکہ کی سوچ اس کی اپنی ہوتی ہے اور وہ حالات کے ساتھ بدل بھی جاتی ہے۔ مبصرین کا ایک اور مسئلہ بھی ہے، جس کی بنا پر بھانت بھانت کی بولیاں بولتے ہیں۔ پورا سچ کوئی نہیں بول رہا ہوتا کیوں کہ ہر ایک کا اپنا اپنا ایجنڈہ ہے۔
سوچنے کی اصل بات یہ ہے کہ امریکہ کیوں ڈرون حملے بند نہیں کر رہا۔ ظاہر ہے کہ وہ تحریک طالبان کو کمزور کرنے کے لیئے اس کے لیڈروں کو چن چن کر قتل کر رہا ہے۔ حکیم اللہ محسود کے پیشرو اور جانشین دونوں اس کی زد میں آتے رہے اور آتے رہیں گے۔
پہلے مختصر طور پر تحریک طالبان کا پس منظر۔ تحریک طالبان امریکہ اور ہندوستان کا مشترکہ منصوبہ تھا۔ مقصد یہ تھا کہ پہلے "اسلامی امارت وزیرستان" بنائی جائے۔ پھر اسے باقی فاٹا تک پھیلایا جائے۔ اس کے بعد پورے صوبہ کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح جو ملک وجود میں آئے اس کا نام "پختون خوا" رکھا جائے۔ اسے ہندوستان اور افغانستان فوری طور پر تسلیم کر لیں۔ امریکہ بھی عملی طور پر ساتھ دے۔ اس طرح وہ افغانستان سے نکل کر وہاں مستقل طور پر بیٹھ جائے گا اور پھر امریکہ اور ہندوستان مل کر تمام ہمسایہ ممالک (ایران، وسطی ایشیا، روس، چین اور پاکستان) میں اپنے اپنے مفادات کے لیئے مداخلت کرتے رہیں۔
امریکہ نے افغانستان میں پائوں جماتے ہی عوامی نیشنل پارٹی سے کہا کہ وہ شمال مغربی سرحدی صوبہ کا نام بدل کر "پختون خوا" رکھوائے، جو بعد میں نئے ملک کا نام بن جائے گا۔ (علیحدگی کے لیئے نام پہلا قدم ہوتا ہے۔ عوامی لیگ نے 1956 کے آئین کے مسودہ پر بحث کے دوران "مشرقی پاکستان" کا نام "بنگلہ دیش" رکھنے کے لیئے ترمیم پیش کی تھی۔)
امریکہ تحریک طالبان پاکستان کو پیسہ اور اسلحہ دینے لگا اور ہندوستان دہشت گردی کی تربیت دینے اور منصوبہ بندی کرنے میں لگ گیا۔ جب سوات پر طالبان کا قبضہ ہو گیا تو دونوں ملکوں کو اپنا مقصد پورا ہوتا نظر آیا۔ ان کا اندازہ ٹھا کہ فوج صورت حال سے نبٹ نہیں سکے گی اور نہ ہی سوات کے بے گھر ہونے والے لاکھوں لوگ واپس جا سکیں گے۔ جلد ہی سندھ دریا کے شمال میں سارا علاقہ ان کے کنٹرول میں آ جائے گا۔ صوبہ میں عوامی نیشنل پارٹی نے طالبان کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی سے گریز کیا۔ (پارٹی کو اسی لیئے حکومت دلائی گئی تھی۔)
امریکہ کا اب کیا منصوبہ ہے؟
امریکہ کی خصوصیت ہے کہ کسی منصوبہ کی ناکامی پر پالیسی بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگاتا۔ جب ہماری فوج نے نہ صرف سوات سے طالبان کو نکال دیا بلکہ لاکھوں افراد کو تھوڑی سی مدت میں ان کے گھروں میں بحال کر دیا تو امریکہ کو یقین ہو گیا کہ فوج کے ہوتے ہوئے "پختون خوا" کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ دوسری طرف، اسے نظر آیا کہ تحریک طالبان افغان طالبان اور بچی کھچی القاعدہ کی مدد کر رہی ہے تو وہ اس کا دشمن ہو گیا۔ صورت حال یوں بنی کہ امریکہ کھلم کھلا تحریک طالبان کو ختم کرنے کے لیئے کوشش کرنے لگا۔ ڈرون حملوں کا آغاز بھی اسی لیئے ہوا۔
تاہم ہندوستان بدستور جہاں تک ہو سکا اپنے وسائل سے تحریک کی مدد کرتا رہا، کہ نیا ملک نہ سہی لیکن دہشت گردی سے پاکستان کو کمزور تو کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی جمیعت علماء اسلام (فضل الرحمان گروپ) اور دوسرے ایجنٹوں کے ذریعہ مذہبی لوگوں کو قائل کرنے لگا کہ تحریک طالبان کامیاب ہو گئی تو پاکستان ان کی خاہش کے مطابق اسلامی ملک بن جائے گا۔ سیکولر حکومتوں سے نالاں بہت سے سادہ لوح افراد پراپیگنڈہ کا شکار ہو گئے۔ مذہبی جماعتوں سے خّوف زدہ حکومتیں تحریک کے خلاف کاروائی سے گریز کرتی رہیں۔ فوج کے مصلحت کوش سربراہ نے بھی عالم بے عمل ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کوئی کاروائی نہ کی، حالانکہ دہشت گردوں نے نہ صرف بہت سے فوجی ٹھاکانوں بلکہ جی۔ ایچ۔ کیو۔ تک پر حملے کیئے۔ سیاسی لوگ کہتے ہیں کہ پرویز مشرف نے فاٹا میں فوج بھیجی اور ڈرون حملوں کی بھی غیررسمی طور پر اجازت دی۔ لیکن یہ سوال نہیں کرتے کہ جنرل کیانی نے چھ سال میں دونوں فیصلے منسوخ کیوں نہ کیئے۔ غلط فیصلہ ہو گیا تو کیا اسے واپس لینا ممکن نہیں تھا؟
تحریک طالبان کیوں ڈرون حملے بند کرانے کے لیئے کوشاں ہے؟
تحریک طالبان کو ہماری فوجی کاروائیوں سے کہیں زیادہ نقصان ڈرون حملوں سے ہو رہا ہے۔ جہاں ہماری فوج نہیں پہنچ سکتی وہاں ڈرون اس کے سرکردہ افراد کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ ان کی وجہ سے مختلف گروہوں کے سربراہ ایک دوسرے سے نہ مل سکتے ہیں اور نہ ان کے درمیان رابطہ آسان ہے۔ طالبان اتنے پریشان ہیں کہ مذاکرات کے لیئے ان کی سب سے اہم شرط ہے کہ ڈرون حملے بند کرائے جائیں۔
تحریک طالبان کو نظر آ رہا ہے کہ امریکہ کے چلے جانے کے بعد ہندوستان بھی ہاتھ کھینچ لے گا۔ جب ایک طرف نہ پیسہ ملے گا اور نہ اسلحہ اور دوسری طرف اوپر سے ڈرون اور نیچے سے فوج انھیں نشانہ بنائے گی تو کب تک بچیں گے۔ چنانچہ بیشتر طالبان چاہتے ہیں کہ گھروں کو چلے جائیں۔ البتہ کچھ گروپ اغوا برائے تاوان اور دوسرے جرائم کے سہارے زندہ رہنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ اگر انھیں مقبوضہ کشمیر میں داخل کرا دیا جائے تو وہ وہاں وہی کچھ ہندوستان کے خلاف کریں گے جو ہمارے خلاف کر رہے ہیں۔ ہندوستان کی فلمی زبان مں "پیسہ لے کر سالہ کچھ بھی کرے گا۔"
تحریک طالبان کے ہندوستان کے زیراثر گروہوں کی امن کی خاہش بھی ایک چال ہے۔ ان کی بڑی شرائط دیکھیں: ڈرون حملے بند کیئے جائیں، فوج فاٹا سے نکل جائے اور مذاکرات آئیِن کے تحت نہ ہوں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انھیں نئے سرے سے جتھہ بندی اور منصوبہ بندی کے لیئے مہلت مل جائے تاکہ وہ الگ ملک کے لیئے کوشش کرتے رہیں۔
امن کے بدلہ ہمیں کیا ملے گا؟
کچھ بھی نہیں! بس کچھ طالبان گھروں کو چل دیں گے، بغیر ہتھیار ڈالے۔ خود کش حملوں کے ختم ہونے کی بھی ضمانت نہ ہوگی کیوں کہ کچھ گروپ ہندوستان کی سرپرستی میں دہشت گردی جاری رکھ سکتے ہیں۔
پھر سیاست کار کیوں امن کے لیئے بے چین ہیں؟ وہ چاہتے ہیں کہ بغیر کچھ کیئے امن ہو جائے۔ انھیں احساس نہیں کہ باغیوں سے کبھی مذاکرات نہیں کیئے جاتے اور نہ ان کی امن کی پیشکش قبول کی جاتی ہے۔ سری لنکا میں 30 سال تک تامل باغیوں کے خلاف کاروائی ہوتی رہی۔ اس وقت ختم ہوئی جب بغاوت کا پوری طرح خاتمہ ہو گیا۔
اگر کبھی کوئی امن معاہدہ ہو بھی گیا، جس میں بیشتر گروپ شامل ہوں، تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ تحریک طالبان دہشت گردی اور خودکش حملے بند کر دے گی اور دوسری طرف حکومت کسی قسم کی فوجی کاروائی نہیں کرے گی۔
امریکہ کیا چاہے گا؟
یہ "بقاء باہمی" امریکہ کو قبول نہیں ہوگی۔ وہ جاتے ہوئے حکومت طالبان کے حوالہ نہیں کرے گا (گو انھیں حکومت میں شریک بنانے کی کوشش کر سکتا ہے) ممکن ہوا تو اپنی کچھ فوج بھی چھوڑ جائے گا۔ امن کی صورت میں اسے خطرہ رہے گا کہ تحریک طالبان افغان طالبان کو ہر قسم کی مدد دیتی رہے گی، جس سے اس کے لیئے مشکلات پیدا ہوتی رہیں گی۔ چنانچہ امریکہ چاہتا ہے کہ امن مذاکرات نہ ہوں بلکہ ہماری فوج بھرپور کاروائی کرے اور تحریک طالبان کو پوری طرح کچل دے۔ ہماری فوج بھی اس کی ہم خیال لگتی سسہے۔ اس طرح امریکہ کا مقصد پورا ہو جائے گا اور ہمیں دہشت گردی سے نجات مل جائے گی۔ نہ امن معاہدہ ہوگا اور نہ ڈرون حملے بند ہوں گے۔ البتہ سیاست کار شور مچاتے رہیں گے، خاص طور پر فرقہ ورانہ جماعتوں کے۔
الله حافظ!
محمّد عبد الحمید 
مصنف، "غربت  کیسے مٹ سکتی ہے" (کلاسک پبلشر، لاہور)
"دنیا" میں میرے کالموں کے لیئے www.mahameed-dunya.blogspot.com
 

Sunday, November 10, 2013

Can a Terrorist, killer of innocent people be called Shaheed Martyr?



Any leader who die for the power is not Shaheed, Only who is killed for the cause of Allah is Shaheed. The terrorists who kills innocent Muslims violates Quran how can he be Shaheed? Moulana Fazal says even "DOG KILLED BY USA IS SHAHEED" ..... MUAZ ALLAH ... THEY HAVE GONE SO LOW TO EQUATE DOG WITH SHUHADA OF ISLAM ... HAZRAT HAMZA, OMAR, USMAN, ALI. HUSSAIN R.A AND MILLIONS . MUST REPENT .....
They are creation of USA, now they hate them, yet are serving the cause of USA, India, Israel and enemies of Islam, Muslims and Pakistan ......


About Shaheed Allah has mentioned:
Surah No. 2, Al Baqr, Ayat No. 154

وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ

Translation :
Those who are killed in the cause of Allah: Do not call them dead." In fact ! they are living, though you can not perceive that life.
Surah No. 3, Al Imraan, Ayat No. 169
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
Translation :
Do not think of those who are killed in Allah's cause as dead. Nay! they are alive, and they are given sustenance from their Sustainer.
NOW WE CAN EASILY DEDUCE AS TO WHO IS KILLING MUSLIMS FOR THE CAUSE OF ALLAH. WHO SAYS:

جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی"- سورة المائدة، آیت Quran 5:32
if anyone whoever slays a soul, unless it be for manslaughter or for mischief in the land, it is as though he slew all mankind; and whoever keeps it alive, it is as though he kept alive all mankind[Quran 5:32]
SO FOR THOSE WHO CLEARLY VIOLATE COMMANDMENTS OF ALLAH , HOW CAN THEY BE CALLED SHAHEED. THIS REFLECTS OUR IGNORANCE OF COMPLICITY ?

طالبان دہشت گردوں کے ھمدرد ہیں جن کو جاہل قسم کے علماء نے دھوکے میں رکھا ہے ان کا دماغ میں واضح ہو گا کے کون قرآن پر عمل کر رہا ہے ور کون قرآن کو رد کر رہا ہے .

کچھ آیات اور ترجمہ درج زیل ہے :

اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی"

مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے در پے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں. جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں اُن کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں، یہ ذلت و رسوائی تو اُن کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں اُن کے لیے اس سے بڑی سزا ہے

5: 31-32 سورة المائدة

وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ

اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کردیا ہے ہرگز ناحق قتل نہ کرنا

(Quran;17:33)

وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا

اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے

.(Quran;4:93)

وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۗ

فتنہ قتل سے بھی بڑا گناه ہے

[Qur'an;2:217]

أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے

(Quran;18:105)

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّـهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۗ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ

اور ان سے جب کبھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، گو ان کے باپ دادے بےعقل اور گم کرده راه ہوں

(Quran;2:170) Also see Quran;32:21, 43:22,23)

إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ

جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے

“(Quran; 5:33)

وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّـهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ‌ فِيهَا اسْمُ اللَّـهِ كَثِيرً‌ا ۗ وَلَيَنصُرَ‌نَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُ‌هُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ

اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں۔ اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بےشک خدا توانا اور غالب ہے (Quran 22:40)

مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ

جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبا ل اُسی پر ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا

(Quran;17:15)

مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا

جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہ

.(Quran;4:85)

اگر آپ متفق ہینن تو شئیر کریں

 http://dunya.com.pk/news/authors/detail_image/x4951_12000479.jpg.pagespeed.ic.06dTBfcpfY.jpg
شائد میڈیا چینلز اور حکومت تک بات پہنچ جائے . بحر حال آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا .
From FACEBOOK



http://takfiritaliban.blogspot.com

Saturday, November 9, 2013

Pakistani Taliban and Mullah Fazal Ullah Mullah Radio

Updates on TTP: >>>>>

Target: Pakistan: New TTP chief

WITH a single appointment, the TTP has sent across a host of unwelcome messages. First, it has signalled that its... >>>>>>>
"Jihad ? " by Taliban against Muslims and Islam 
A damaged mosque is seen at the site of a bomb attack in the Spin Tal region of Hangu district, bordering North Waziristan in October 3, 2013. (Reuters )

The divides over drones

WHAT the drone strike last week has achieved is that it has removed the recent confusion in the opposing camps in... >>>>>>>

Reality and self-delusion

HERE’S some folk wisdom from Kentucky that is good advice for sensible people: there’s no education to be had... >>>>>>

To what end?: Talks with the Taliban

THE government wanted it and the opposition has granted it, but no one has quite been able to explain any of it:... >>>>>
http://dunya.com.pk/news/authors/detail_image/x4952_23718742.jpg.pagespeed.ic.XRYcEmikDY.jpg
http://dunya.com.pk/news/authors/detail_image/x4955_17306692.jpg.pagespeed.ic.axExwU3-Zr.jpg
http://dunya.com.pk/news/authors/detail_image/x4951_12000479.jpg.pagespeed.ic.06dTBfcpfY.jpg

Wednesday, November 6, 2013

Wednesday, October 16, 2013

Who are the Khawarij in Pakistan? A critical note on TTP and their ideology


 

Read this post slowly and carefully and seek protection of Allah from Shaitan when you read this. No one will dare to tell you this in Pakistan.We Muslims of Pakistan will have to address the gravest threat to our faith, unity and ideology maturely now. We have many threats and enemies have surrounded us from all sides but the real threat is within. We will have to address and attack the Khawarij with full force. The entire nation must know who they are within the Pakistani nation.Our mission is to protect our Islamic ideology and Pakistani identity. We do not divide the millat inreligious or political sects nor we divide the Ummah on arrogance of Jahilia to divide them on ethnic, regionalor linguistic lines. We are only Muslims as an Ummah and Pakistanis as an identity within it.The biggest threat to Pakistan now is from Khawarij and their deviant murderous ideology. Indeed Khawarij are a great fitnah which our nation does not realize. Rasul Allah (sm) has advised and warned the Ummah strongly in over 100 Ahadees about Khawarij. Imam Ibn Taimiya says that Khawarij will always be present in Muslim society but you will only identify them when they pick up weapons and start to kill Muslims ruthlessly otherwise they would live like pious religious men with Quran and Salat within the Muslims. So it becomes extremely difficult to identity
Khawarij until it’s too late, when they wage their war against the Ummah.Understand this that Khawarij is NOT a sect. It is a mentality of anarchy and chaos. They are Takfiris who call Muslims as Kafirs and apply the verses of Quran on Muslims which have come for non-Muslims. They would side with Mushriks and wage war against Muslims. They would call Muslim leaders as Kafirs, Muslim state as Kafir but would never wage a war against Jews, Zionists and Hindus.They would be extremely religious with long beards and praying all night and fasting all day but they would be the "dogs of hell".

 In Muslims history, Khawarij have come from various sects in various times at various places.Sectarian differences and religious disagreements are present all over the Muslim world in entire history but they cannot be called Khawarij until they wage a war on the entire Muslim ummah and start to kill and slaughter the Muslims due to religious differences. Sects or groups can be
deviant, sinful, confused, “Gumrah” but to call them Khawarij, certain very strict conditions 
have to be met. This is critical to understand.In the past, Khawarij killed Hazrat Ali (RA). They waged a waragainst Sultan Salahuddin Ayyubi and today men like Ayman alZawahiri and Hakeem ullah mehsud are doing the same.Today, they are the TTP in Pakistan. They call Quaid e Azam as Kafir,Allama Iqbal as Kafir. Pakistan as Kafiristan and are on a mission todestroy or take over Pakistan to make it easy for the Hindus toslaughter us as they did in 1947. Khawarij are the most dangerousweapon in the hands of Hindus and Zionists.But who are the TTP and from where they have emerged? This iscritical to understand.Within the Muslims, there are many sects. Shias and Sunnis are twolarge ones but there are many sub sects within them also. For example in Pakistan, we have AsnaAshari Shias, Ismaili Shias, Ahl Hadees sect, Deobandis, Barelvis, Sufis etc. Within Sunnis, PirJamaat Ali Shah, ameer e millat was a Faqeer of Ahl sunnat wal Jamaat and the entire Muslimnation followed him to support Quaid e Azam. Raja sahib Mehmood abad and many top Muslimleague leaders were Shias and supported the Pakistan movement also. Muslim league wasformed by Sir Agha Khan, who was an Ismaili, even though in the times of Crusades andSalahuddin Ayyubi, the Ismaili sect was known to be Khawarij and Assasins but not today.
We do not approve of sectarian divides within Muslims but mentioning this just to explainour point.
 When Pakistan was created all Muslims from all sects supported Pakistan strongly except apolitical party Jamiat e Ulama e Hind from Deobandi school. They decided to side with theHindus and were thus called as Congressi Muslims in history. These are historical facts andcannot be denied. Till this day, despite the slaughter of millions of Muslims at the hands of Hindus, the Congressi Mullahs of Deoband India still support Hindus and Congress. AllamaIqbal had fiercely attacked the deobandi leader Maulvi Hussain Ahmed Madni and taunted him
harshly that they are following the path of “Abu Lahab”. Again, this entire episode is part of
Kalam e Iqbal and cannot be denied.
 Within the Deobandi school, two groups were created. One was pro-Pakistan and supportedQuaid e Azam. Other was anti-Pakistan and remain at war with Muslims to this day. MaulanaAshraf Ali Thanvi and Maulana Shabbir Ahmed usmani were blessed in this way that they brokeranks from Deoband and rebelled against JUH to join Quaid e Azam. Allama shabbir AhmedUsmani even saw Rasul Allah (sm) in his dream and Rasul Allah (sm) called Quaid e Azam ashis soldier and thus Allama Shabbir Ahmed Usmani became a loyal and faithful Deobandi to jointhe Pakistan movement. Maulana Ashraf Ali Thanvi resigned from Deoband and supported causeof Pakistan after Gandhi was invited in that Madrassa for speech. This is also a fact that whenthese two great scholars from Deoband broke ranks, they faced extreme anger, rage, resistance and humiliation from Congressi Mullahs of Deoband.
When Pakistan was created, Deoband was already divided into two camps. Pro-Pakistan Deobandi who made Pakistan their home with
love and over the years, have defended Pakistan, Pakistan’s ideology, Quaid e Azam and true Jihad in Afghanistan and Kashmir. Jamaat e Islami had also opposed Pakistan in the beginning but when Pakistan was created, they have always defended Pakistan at all levels and have even given blood for Pakistan, just like pro-Pakistan Deobandis.But, there was also a group of Congressi JUH mullahs of Deobandwho came to Pakistan and even though they still live in Pakistan,they have never accepted Pakistan as a state for Muslims. They always
speak against Pakistan’s ideology, against two nations
theory, against Allama Iqbal, call Quaid e Azam as Kafir and have now been armed by the NATO and RAW to wage war against Pakistan. They were here for the last 65 years but never had weapons, training camps and bases to start their war against Pakistanand Muslims. Now they have and thus we see this ruthless war against all Muslims
 –
against allsects, against all Pakistanis and against Pak army. TTP are anti-Pakistan deobandi gangs waging a war against Muslims and are the Khawarij of today. Their brothers and friends are present in political parties of Pakistan,in government, in media and in many deobandi scholars of Pakistan. Their militant arm is TTP but they also have many political, religious and government arms who silently spread
venom and poison against Pakistan’s ideology.
Remember the words of Mufti Mehmood, father of JUI chief Fazlur Rehman, when he said that “we were not part of the sin of making Pakistan”? This is the mentality we are talking about.

The Khawarij of today are threatening all Muslims who are opposed to suicide bombings and war against Pakistan.Majority of deobandis in Pakistan are pro-Pakistan and are NOT khawarij butare too afraid to speak against these takfiri Fasadis. Great scholars from deoband who spoke against TTP and suicide bombings have been assassinated by these Kharjis. Great scholars of Ahl-Sunnat and Barelvis,Ahl-Hadees and Shias who have spoken against TTP have also been killed.
All sects in Pakistan have spoken passively and weakly against suicide bombings but no onedares to call TTP as Khawarij, except Dr. Tahir ul Qadri but then he had to leave the country forsecurity reasons. It is the most serious responsibility of Pakistani Deoband Ulama to speak against TTP and call them Khawarij. In a religious environment divided between sects, it is important that the scholars who belong to the sect of the TTP must speak out loudest. Pakistani iDeoband ulama must also condemn the Congressi Mullahs of India of JUH and ask them to do tauba for their rebellion against Rasul Allah (sm), for supporting slaughter of Muslims at the hands of Hindus and for waging a war against Medina e Sani Pakistan, as Allama Iqbal had said clearly that they were following the path of Abu Lahab.Khawarij of TTP are the biggest threats for all Muslims of all sects. It is NOT a sectarian issue. Itis an issue of a fitnah which have risen in Pakistan and incidentally this gang of killers belong to Congressi Deobandi school. In Libya, Syria and other places, these Khawarij are from other sects also. So, again, we say, it is NOT a sectarian issue. It is a religious issue of a deviant dangerous Takfiri ideology which is attacking all Muslims today in Pakistan. Ulama of Deoband have the most highest responsibility as TTP and their likes in Pakistan belong to Deoband school of Congressi Mullahs who have always opposed Pakistan. There are political terrorists in Pakistan also like MQM, ANP, BLA etc but they are terrorists but NOT Khawarij. Rasul Allah (sm) hadclearly given definition of Khawarij which only applies to TTP today, NOT to Afghan Mujahideen, NOT to Kashmiri Mujahideen, NOT to Hamas, NOT to Chechens, NOT to Hizbullah, NOT to Iraqi resistance. The so called Al-Qaeda and TTP are the same gangs of Khawarij. Understand this clearly and fight against them or be killed at their hands.
May Allah have mercy upon our souls and protect us from the Fitnah of Khawarij. May Allah protect Pakistan, Muslims and Pak army from their sharr. May Allah destroy them at the handsof Pakistan army and bring peace in the country. Ameen Ya Rabbul alimeen.
  1. http://www.scribd.com/doc/104336098/Who-Are-Khawarij-in-Pakistan-a-crtiical-note-on-TTP-and-their-ideology
  2. URDU - http://www.scribd.com/doc/104856868/Pakistan-Ke-Khawarij-Urdu-Version 
  3. Rise of the Tehrik-i-Taliban Pakistan
  4. Illogical Logic غیر منطقی منطق of Takfiri Taliban to kill innocent people in Pakistan- Refuted
  5. The Dreadful Doctrine of Terror : Takfeer عقيدة المروعة
     

Monday, October 7, 2013

Jihad and Fisad نفاذاسلام کاآغاز اور جہاد

میرمحترم مولانا محمد مسعود ازہر صاحب کی تازہ ترین تحریر سے اقتباس:-
آج دنیا بھر میں جہاد کے پھیل جانے کی دلچسپ کہانی سنانے بیٹھا ہوں...... مگر ایک بات جو کافی عرصے سے لکھنے کی کوشش ہے مگر وہ رہ جاتی ہے......اسکاکچھ تذکرہ ہوجاۓ...... مجاہدین کوجن چیزوں نےسخت نقصان پہنچایاہے....... ان میںسےایک یہ ہےکہ....... جہادشروع کرتےہی اسلام نافذکرنےکی بہت جلدی کی جاتی ہے....... اوراسلام کےبھی صرف وہ احکام نافذکرنےمیںتیزی دکھائی جاتی ہےجوفرائض کےدرجہ میںنہیںآتے....... اسلام میںسب سےپہلےکلمہ طیبہ....... یعنی ایمان اورعقیدہ کی اہمیت ہے....... اس کےبعدفرائض کادرجہ آتاہے....... اقامت صلوۃ،زکوۃ،حج،رمضان المبارک کےروزے...... اورجہادفی سبیل اللہ...... اگرکوئی مسلمان ان دومیںپختہ ہوجاۓیعنی کلمہ اورفرائض...... توپھراسکےلئےباقی احکام پرعمل آسان ہوجاتاہے...... مگردیکھایہ گیاکہ...... اسلام نافذکرنےکاکام نائیوں،حجاموںکی دکانوںپربم پھاڑنے،یاویڈیوکی دکانوںکواڑانےسےہوتاہے...... اگرآپ عوام کےساتھ جوڑ،محبت اورحسن سلوک کےساتھ پیش نہیںآتےتوپھرآپ کاجہادزمین پرنہیںجم سکتا....... کچھ کم علم لوگ جن کودین کی بنیادی باتوںکابھی علم نہیںہے....... وہ جومسئلہ بھی سنتےہیںبس وہی انکےنزدیک دین اورعلم کی انتہاہوتاہے....... داڑھی کاسناتواب داڑھی منڈانےوالوںکےلیےگولی...... پردےکاسناتواب بےپردہ عورتوںکےلیےتیزاب...... فلموںکاسناتواب ویڈیووالوںکےلیےسزاۓموت...... یہ بہت خطرناک صورتحال ہے...... اسی طرح مال غنیمت کےمسائل میں بھی بہت غلطی ہے...... لوگوںسےزبردستی چندہ،تاوان یازکوۃ وصول کرنے سےجہادکوبےحد نقصان پہنچاہے...... ایک زمانہ کشمیرکےہرپہاڑپرایک "امیرالمؤمنین" بیٹھاتھا...... بکروال اپنےریوڑ لیکرنکلتےتوہر پہاڑپربیٹھایہ "حاکم" بکریاں گن کر"زکوۃ" نکال لیتا...... اوریوںجہاد کےاہم ترین معاونین "بکروال برادری" مجاہدین سے بدظن ہوگئی...... بے شک داڑھی منڈاناگناہ ہے...... بےشک ویڈیوکی دکانیں اسلامی معاشرے کےلیے خطرناک ہیں...... بےشک اسلام میں پردہ کاحکم ہے...... لیکن یہ وہ احکامات نہیں ہیںکہ جن سے...... نفاذاسلام کاآغازکیاجاۓاورانہی مسائل کوسب کچھ سمجھاجاۓ......اوران غلطیوںپرقتل جیسے بھیانک فیصلے کیے جائیں......یاسکولوںکواڑاناہی جہادسمجھاجاۓ...... مجاہدین کو چاہیےدین کاپختہ علم حاصل کریںیاپختہ علم والے علماء کرام کی اتباع کریں...... اپنی توجہ جنگ پررکھیںان احکامات کونافذکرنےکاوقت بعدمیںآۓ گا......اپنےاعمال کابھی محاسبہ کریںکہ دوسروںکوجن چھوٹی باتوں پر قتل کرتے ہیں کہیں خود ان سے بڑی غلطیوں میں مبتلا تو نہیں......


(امیرالمجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر صاحب کی تازہ ترین تحریر "رنگ و نور" سے اقتباس)
 http://dunya.com.pk/news/authors/detail_image/x4611_66031164.jpg.pagespeed.ic.E0_f597_Vt.jpg

دہشت گردوں کا معاشرے میں زندہ اور موجود رہنا علماء اور عوام کی اسلام اور قرانی تعلیمات سے نا واقفیت اور کم علمی ہے.   اگر
  میڈیا پر دہشت گردی کی ویڈیو کوریج کے نیچے صرف قرآن کی وہ آیات جو قتل ناحق سے منع کرتی ہیں پشتو اور اردو ترجمے کے ساتھ  پٹی چلا دیں تو کم از کم جو طالبان دہشت گردوں کے ھمدرد ہیں جن کو جاہل قسم کے علماء نے دھوکے میں رکھا ہے ان کا دماغ میں واضح ہو گا کے کون قرآن پر عمل کر رہا ہے ور کون قرآن کو رد کر رہا ہے .

کچھ آیات اور ترجمہ درج زیل ہے :

اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی"
 مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے در پے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں. جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں اُن کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں، یہ ذلت و رسوائی تو اُن کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں اُن کے لیے اس سے بڑی سزا ہے
5: 31-32 سورة المائدة

 وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ
اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کردیا ہے ہرگز ناحق قتل نہ کرنا
(Quran;17:33)

وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا

اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے
.(Quran;4:93)

 وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۗ
 فتنہ قتل سے بھی بڑا گناه ہے
[Qur'an;2:217]

أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا

 یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے
 (Quran;18:105)

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّـهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۗ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ

اور ان سے جب کبھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، گو ان کے باپ دادے بےعقل اور گم کرده راه ہوں
(Quran;2:170) Also see Quran;32:21, 43:22,23)

إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ

جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے
“(Quran; 5:33)

وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّـهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ‌ فِيهَا اسْمُ اللَّـهِ كَثِيرً‌ا ۗ وَلَيَنصُرَ‌نَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُ‌هُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ

 اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں۔ اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بےشک خدا توانا اور غالب ہے (Quran 22:40)

مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ

جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبا ل اُسی پر ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا
(Quran;17:15)

مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا

جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہ
.(Quran;4:85)