Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Showing posts with label Shari'a. Show all posts
Showing posts with label Shari'a. Show all posts

Thursday, February 1, 2024

ظالم فاسق فاجر حکمران کے خلاف خروج , جنگ ؟ علماء اور مسلمانوں کا رویہ/ د فاسد مسلمان واکمن پر وړاندې فتنې او فساد روا نه دی / Rebellion against Oppressor, Sinner Muslim rulers

فاسق مسلمان حکمران کے خلاف خروج فتنہ و فساد جائز نہیں:
فاسق مسلمان حکمران کے خلاف تو خروج جائز نہیں ہے لیکن ظالم یا بے نماز مسلمان حکمران کے خلاف خروج کا جواز چند شرائط کے ساتھ مشروط ہے لیکن فی زمانہ ان شرائط کا حصول مفقود ہونے کی وجہ سے ظالم اور بے نماز مسلمان حکمران کے خلاف خروج بھی جائز نہیں ہے۔ جو حضرات انقلاب فرانس ، روس وغیرہ سے متاثر ہیں وہ فیصلہ کر لیں کہ مسلمان کو رسول کے احکام پر عمل کرنا ہے یا مغربی نظریات پر؟ 

ایسے حکمرانوں کو وعظ و نصیحت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر واجب ہے لیکن ا للہ کے رسول ۖ کے فرامین کے مطابق کسی فاسق و فاجرمسلمان حکمران کے خلاف خروج حرام ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کا اجتماعی ضرر اور فتنہ و فساد ہے۔ ہاں اگر کسی پر امن طریقے مثلاً احتجاجی سیاست وغیرہ سے ان حکمرانوں کی معزولی اوران کی جگہ اہل عدل کی تقرری ممکن ہو تو پھر ان کی معزولی اور امامت کے اہل افراد کی اس منصب پر تقرری بھی اُمت مسلمہ کا ایک فریضہ ہو گی-فاسق و فاجرحکمرانوں کے خلاف خروج کی حرمت کے دلائل درج ذیل ہیں۔ آپ کا ارشاد ہے:١) ''ألا من ولی علیہ وال فرآہ یأتی شیئاً من معصیة اللہ فلیکرہ ما یأتی من معصیة اللہ ولا ینزعن یدا من طاعة.'' (صحیح مسلم' کتاب الامارة' باب خیار الأئمة و شرارھم)
''خبردار! جس پر بھی کوئی امیر مقررہوا اور وہ اس امیر میں اللہ کی معصیت پر مبنی کوئی کام دیکھے تو وہ امیر کے گناہ کو تو ناپسند کرے لیکن اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے۔''٢) ''من کرہ من أمیرہ شیئا فلیصبر علیہ فنہ لیس من أحد من الناس یخرج من السلطان شبرا فمات علیہ لا مات میتة جاھلیة.''(صحیح مسلم' کتاب الامارة' وجوب ملازمة جماعة المسلمین عند ظھور الفتن ؛ صحیح بخاری' کتاب الفتن' قول النبی سترون بعدی أمورا تنکرونھا)

Saturday, January 23, 2016

Non implimentaion of Sharia , Ruler and Islam (Urdu)

شریعت نافذ نہ کرنے والا حکمران اور دائرئہ اسلام!

Image result for sharia terrorism
عراق کے شہر کوفہ کی جامع مسجد میں حضرت علیؓ کے گھر کا دروازہ کھلتا تھا۔ امیر المؤمنین یہیںسے مسجد میں تشریف لایا کرتے تھے۔ سترہ رمضان کو جب آپ فجر کی نماز پڑھانے گھر کے دروازے سے مسجد میں داخل ہوئے اور انہیں دیکھتے ہی نماز کے قیام کی تکبیر بلند ہوئی تو شبیب ملعون نے تلوار کا وار کر دیا۔ امیرالمؤمنینؓ گر پڑے تو ملعون ابن ملجم مرادی تیزی سے آگے بڑھا،حملہ آور ہوا تو حضرت علیؓ کے سر مبارک اور ماتھے پر تلوار کا وار پڑا۔ حملہ کرتے ہوئے ملعون نے جو جملہ کہا وہ قابل غور ہے۔ کہنے لگا: ''اَلْحُکْمُ لِلّٰہِ لَا لَکَ یَا عَلِیْ وَلَا لِاَصْحَابِکَ‘‘ اے علی حکم اللہ کا ہے، نہ تیرا ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کا ہے (تاریخ ابن خلدون ج 2ص 617) قارئین کرام! غور فرمایئے! حضرت علیؓ نبوی راستے پر قائم خلیفہ راشد ہیں۔ ان کی حکمرانی میں کامل طور پر شریعت کا قانون نافذ تھا۔ اس کے باوجود اس دور کے خارجیوں نے ان پر معاذ اللہ، اللہ کی حاکمیت سے نکل جانے کا الزام عائد کر دیا اور کفر کا فتویٰ لگا کر گردن زدنی قرار دے دیا اور پھر شہید کرتے ہوئے اپنے تکفیری اور خارجی نظریے کے حامل نعرے کا اعلان بھی کر دیا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ باقی حکمرانوں کی ان کے ہاں کیا حیثیت ہو گی؟ خاص طور پر آج کے مسلم حکمرانوں کو ایسے خارجی لوگ کیا سمجھیں گے، بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اب ہم ان کی گمراہ سوچ کا جائزہ لیں گے کہ کتاب و سنت کی روشنی میں ایسی رائے اور سوچ کی کیا حیثیت ہے؟ 
سب سے پہلے ہم ان آیات کا ترجمہ لکھ رہے ہیں، جن کو سامنے رکھتے ہوئے خارجی ذہنیت کے لوگ مسلمان حکمرانوں کو کافر قرار دے کر دائرئہ اسلام سے خارج کرتے ہیں اور پھر مرتد ہو جانے کا فتویٰ لگا کر گردن زدنی قرار دیتے ہیں، پھر بغاوت کرتے ہوئے عسکری گروپ تشکیل دیتے ہیں اور حملے کر کے ارتداد کی سزا دیتے ہوئے خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے قرآن پر عمل کر دیا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں: اور جو لوگ اللہ کے اتارے ہوئے احکامات کے مطابق فیصلے نہ کریں وہی کافر ہیں۔ (المائدہ: 44) اسی طرح اگلی آیت میں اللہ نے ایسے لوگوں کو ظالم قرار دیا اور پھر اسی سورت کی آیت نمبر 47میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو فاسق قرار دیا۔
قارئین کرام! سورۃ المائدہ جس میں مندرجہ بالا تین آیات موجود ہیں وہاں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں اور مسیحی لوگوں کا تذکرہ کیا ہے اور ان پر اتاری گئی الہامی کتابوں تورات اور انجیل کا ذکر فرمایا ہے۔ ان آیات کی شرح اور تفسیر میں بخاری اور مسلم کی جو احادیث ہیں، مفسرین نے ان کا تذکرہ کیا ہے۔ ہم طوالت کے خوف سے وہ احادیث درج نہیں کر رہے۔ مفسرین نے ان کا ذکر کر کے یہی بتلایا ہے کہ یہودیوںنے رجم کی سزا کو بھی بدل دیا تھا اور قتل کے بدلے میں دیت کی رقم میں بھی امتیاز قائم کر دیا تھا کہ طاقتور اگر کمزور قبیلے کے شخص کو قتل کر دیتا تو دیت یعنی خون بہانے کی رقم آدھی لی جاتی تھی اور اگر کمزور کے ہاتھوں طاقتور قبیلے کا آدمی قتل ہو جاتا تو خون بہا یعنی دیت کی پوری رقم وصول کی جاتی تھی۔ یہ طرزِ عمل تورات میں درج قانون کے صریحاً خلاف تھا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ایسی تبدیلی کرنے والوں کو کافر، ظالم اور فاسق کہا اور یہ تبدیلی کرنے والے یہودونصاریٰ کے علماء اور حکمران تھے۔ نیز ان کے کفر کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ تو یہ تھی کہ تورات اور انجیل میں حضرت محمد کریمﷺ کا واضح ذکر تھا کہ آپ آخری رسولؐ ہیں، اس کے باوجود ان لوگوں نے تورات اور انجیل کی بات کو نہیں مانا اور اس سلسلے میں بھی تبدیلی اور تحریف کی اور حضورؐ کی نبوت و رسالت کا انکار کر دیا۔ یہ تھا ان کے کفر کا اصلی اور بنیادی سبب۔ چنانچہ اللہ کے رسولؐ کے معروف صحابی حضرت براء بن عازبؓ واضح کرتے ہیں کہ کافر، ظالم اور فاسق قرار دینے والی تینوں آیات کا تعلق ''ہی فِی الْکُفَّارِ کُلِّھَا‘‘ سب کا سب غیر مسلم لوگوں سے ہے۔ (مسند احمد: 18724)
قارئین کرام! مندرجہ بالا تینوں آیات کی تفسیر معلوم کرنے کے لئے جب ہم نے تفسیر ابن کثیر کو دیکھا تو امام ابن کثیر رحمہ اللہ آگاہ فرماتے ہیں کہ بڑے بڑے صحابہؓ جن میں حضرت براء بن عازب، حضرت حذیفہؓ بن یمان اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ جیسے مفسر کہ جن کے فہم قرآن میں اضافہ کے لئے اللہ کے رسولؐ نے دعا فرمائی وہ سب یہی فرماتے ہیں کہ کافر والی آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ بعد کے مفسرین اور موجودہ دور کے نامور مفسرین بھی اپنی تفاسیر میں اسی مؤقف کا اظہار کرتے اور لکھتے نظر آتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ مزید فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کو ماننے سے انکارکر دے اس نے کفر کیا اور وہ حکمران جو اقرار کرتا ہے مگر اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتا، تنقید نہیں کرتا، وہ ظالم اور فاسق ہے۔ ثابت ہوا موجودہ حکمران جو شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، تنفیذ نہیں کرتے، وہ گنہگار ہیں۔ ظلم کا ارتکاب تو کرتے ہیں، فسق یعنی گناہ سے دوچار تو ہوتے ہیں مگر مسلمان ہیں۔ خارجی لوگ یا خارجی ذہنیت سے متاثر لوگ جو ایسے گنہگار حکمرانوں کو کافر قرار دیتے ہیں وہ جہالت، لاعلمی اور حماقت کا اظہار کرتے ہیں۔ اور خارجیوں کا طرز عمل یہی ہے کہ وہ مسلمانوں کو گناہوں کی وجہ سے کافر قرار دے دیتے ہیں اور دائرئہ اسلام سے فوراً باہر کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح بخاری میں آگاہ کرتے ہیں کہ وہ آیات جو کافروں سے متعلق ہیں بعض لوگ ان آیات کو مسلمانوں پر لاگو کر دیتے ہیں اسی سے فتنہ پیدا ہوتا ہے۔
قارئین کرام! قرآن و حدیث کے مطابق اسلاف کا طریقہ یہ ہے کہ گناہ گار مسلمان حکمرانوں کو نصیحت کی جائے، ان کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انہیں سمجھایا جائے، اللہ کا خوف دلایا جائے۔ آج کے دور میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ پرامن احتجاج کر لیا جائے، کالم اور کتابیں لکھی جائیں، ملاقات کر کے اپنا فرض ادا کیا جائے جیسا کہ قیام پاکستان کے بعد ہمارے علماء کرتے آئے ہیں لیکن کفر کے فتوے لگانا، بغاوت کرنا اور عسکری گروپ بنا کر حملے کرنا یہ خارجیت ہے اور دہشت گردی کی بدترین روش ہے۔ یہ بغاوت ہے اور اسے کچلنا اور اس کی سرکوبی کرنا مسلمان حکمرانوں کی ڈیوٹی ہے، شرعی فریضہ ہے۔ وہ یہ شرعی فریضہ ادا نہ کریں گے تو گناہ گار ہوں گے۔ مسلمانوں کی ریاست، ان کی حفاظت اور جان ومال سب فتنے سے دوچار ہو جائیں گی لہٰذا ضرب عضب بالکل درست فیصلہ ہے۔ اس فیصلے سے خارجی فتنے کا قلع قمع ہوا ہے۔ دنیا میں میاں نوازشریف اور پاک فوج کے سالار راحیل شریف کے کردار کو نیک نامی ملی ہے
- See more at: http://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2016-01-22/14107/50330002#tab2

Related :

Jihad, Extremism

    Monday, March 3, 2014

    Real Sharia not like False Democracy

    پس چہ باید کرد
    طالبان نے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے اور ان سطور کی اشاعت تک حکومت بھی اپنی جانب سے اسی طرح کا اعلان کر چکی ہو گی اور بقول مولانا سمیع الحق ‘یہ واقعی حکومت کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ امن و امان کا مقصد حاصل کر سکے۔ایک مہینے کے لیے جنگ بندی کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر مذاکرات اس دوران کامیاب نہ ہوں تو اپریل میں گرمیاں شروع ہونے پر فوج کامیابی سے آپریشن شاید نہ کر سکے۔تاہم ‘طالبان شروع ہی سے بہ تکرار یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت مذاکرات کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے چنانچہ اب حکومت کو اپنی سنجیدگی ثابت بھی کرنا ہو گی کیونکہ اب یہ کوئی جھگڑا یا تنازع نہیں بلکہ زندگی موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔
    سوال یہ ہے کہ اس جنگ بندی کو دوام بخشنے کے لیے حکومت اس کے بدلے میں طالبان کو کیا پیشکش کر سکتی ہے یا اُن کا کونسا مطالبہ مان سکتی ہے اور ان مذاکرات میں لین دین کا انداز اور گنجائش کہاں تک ہو گی۔اس بات کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ طالبان ملک میں اپنی کوئی خود ساختہ یا مخصوص شریعت نافذ کرنا نہیں چاہتے بلکہ ہمارے اسلامی آئین کو صحیح اسلامی بنانا ہی ان کا مقصود و مطلوب ہے جو عملی طور پر کسی طرح سے بھی اسلامی نہیں ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس سلسلے میں کئی تجاویز حکومت کو پیش کر رکھی ہیں لیکن حکومت کے کان پر جُوں تک نہیں رینگی،اور یہ رویّہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ حکومت کے احساسات اس ضمن میں کیا ہیں۔
    حق بات تو یہ ہے کہ عملی لحاظ سے ہمارا آئین اتنا ہی اسلامی ہے
    جتنی کہ ہماری جمہوریت جمہوری ہے جو کہ حقیقتاً جمہوریت کی پیروڈی ہے۔انتخابات کے مرحلے پر آئین کے آرٹیکل 63,62پر کبھی صحیح معنوں میں عمل نہیں کیا گیا اور اس کے نتیجے میں جس قسم اور وضع قطع کے اراکین ظہور پذیر ہوتے ہیں وہ ہم سب کے سامنے ہیں۔جمشید دستی کے الزامات اگر ثابت نہ بھی ہو سکیں ‘تو بھی ایک اسلامی جمہوریہ کے ارکان اسمبلی پر اس طرح کے الزامات بلاوجہ نہیں ہو سکتے‘ نہ ہی اپنے ان ہم منصب حضرات سے موصوف کو کوئی دشمنی ہو سکتی ہے۔علاوہ ازیں ہماری سڑکوں اور بازاروں میں جس بے پردگی اور بے حیائی کا مظاہرہ شب و روز دیکھنے میں آتا ہے اُسے کہاں تک اسلامی اور آئین کی روح کے مطابق گردانا جا سکتا ہے۔شراب نوشی اگر ممنوع ہے تو صرف اس حد تک کہ آپ اسے پی کر سرِراہ غُل غپاڑہ نہیں کر سکتے جبکہ گھر کے اندر ہر طرح سے اس شغل کو جاری رکھ سکتے ہیں۔یہ محض ایک دو مثالیں ہیں ورنہ ڈانس‘مُجرا اور اس قسم کے دیگر اشغال پر کوئی پابندی نہیں ہے۔لطف تو یہ ہے کہ جن افراد کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے، ان کی سزا پر عملدرآمد ہی روک دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں واضح قرآنی احکامات کو نظر انداز کر کے بعض مغربی ممالک کے جذبات کو پذیرائی بخشی جا رہی ہے‘جبکہ آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
    طالبان اگر اس نظام یعنی جمہوریت کے مخالف ہیں تو اس لیے بھی کہ ہمارے ہاں یہ نظام چلتا پھرتافراڈ اور محض زراندوزی ہوکر رہ گیا ہے اور جہاں سیاسی جماعتوں کے اپنے اندر انتخابات کا تکلّف روا نہیں رکھا جاتا وہاں یہ سراسر ایک موروثی نظام ہو کر رہ گیا ہے جس میں اشرافیہ کی چند فیصد آبادی ملک کے سیاہ و سفید کے مالک کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور جو صرف اور صرف اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہے اور لوگ اپنے اعضا اور بچے فروخت کر نے اور خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو کر رہ گئے ہیں جسے بظاہر ایک اسلامی فلاحی مملکت کا نام دیا گیا ہے۔
    اب یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ طالبان اپنا کوئی مطالبہ منوائے بغیر خاموشی سے گھر بیٹھ جائیں اور اس شیطانی چکر کو اسی طرح چلتا رہنے دینے پر رضا مند ہو جائیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آئین کو اپنی اصلی شکل میں نافذ کرنا اہلِ سیاست کے لیے ایک طرح کی خودکشی کے مترادف ہو گا لیکن یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ مذاکرات ہمیشہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہی کامیاب ہوا کرتے ہیں اور حکومت کو یہ کڑوی گولی نگلنا ہی پڑے گی‘ حتیٰ کہ اسلام اور اسلامی شعائر ہی کو جس طرح یہاں مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے‘طالبان کے علاوہ یہاں آبادی کی ایک بہت واضح اکثریت بھی اس موجودہ جکڑ بندی سے جان چھڑوانا اور بے استحصال زندگی بسر کرنے کی خواہشمند ہے۔
    چنانچہ سمجھوتہ اگر ہو سکتا ہے تو اسی بات پر کہ آئین کو عملی طور پر اور اُس کی روح کے مطابق نافذ کرنے کی ہامی بھری جائے اور اس کے لیے ایک ٹھوس لائحہ عمل کی بنیادیں رکھی جائے، اس کے لیے باقاعدہ ایک ٹائم فریم مقرر کیا جائے اور اس کے لیے ضمانتیں بھی فراہم کی جائیں اور عوام کے ساتھ عرصہ دراز سے جو کُھلے عام دھوکا روا رکھا جا رہا ہے‘اس کے سدباب کا اہتمام کیا جائے کیونکہ اس سے کم تر پر طالبان کے رضا مند ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اس سے اگر وقتی طور پر کچھ مسائل پیدا ہوں گے تو لاتعداد مسائل حل بھی ہوں گے جن کا فی الحال صحیح طور پر اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔
    اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کو یہ ملک افورڈ ہی نہیں کر سکتا‘اور‘ اگر آپریشن ہو گا تو دونوں طرف سے ہو گا اور خلقِ خدا ایک زیادہ شدید اور مُستقل عذاب کا شکار ہو کر رہ جائے گی جو اونٹ کی کمر پر آخری تنکے کی طرح ملکی سلامتی ہی کو خطرے میں ڈال دے گی‘ اور ‘اگر اس کے بعد بھی یہ معاملہ مذاکرات کی میز پر ہی حل ہونا ہے تو اتنی تباہی کا انتظار کس لیے کیا جائے۔چنانچہ یہ وہ کم از کم مطالبہ ہو گا جو کسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکتا ہے اور جسے عوام کی بھی پوری پوری تائید حاصل ہو گی۔بصورت دیگر حکومت اس کی قیمت ادا کر ہی نہیں سکتی کہ وہ قیمت بجائے خود ناقابلِ تصور ہو گی۔
    اور اگر طالبان کی طرف سے کوئی سراسر ناقابلِ قبول مطالبہ کیا جاتا ہے تو اسے عوامی تائید بھی حاصل نہیں ہو گی‘تاہم‘ امید یہی کی جاتی ہے کہ طالبان جس آئین کو تسلیم نہیں کرتے ‘اُسی کو اسلامی اور شرعی بنانے پر اکتفا کریں گے کیونکہ اسی میں ملک و قوم کی فلاح بھی ہے اور جس دلدل میں ہم گوڈے گوڈے دھنس چکے ہیں اس سے نکلنے کا اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے اور اگر حکومت سمجھتی ہے کہ فریقِ مخالف کسی لالی پاپ پر مطمئن ہو جائے گا‘ یا اُسے جھوٹ موٹ کے وعدوں پر ٹرخا یا جا سکتا ہے تو اس کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ طالبان بھی کوئی کچی گولیاں نہیںکھیلے ہوئے کیونکہ بقولِ حکومت یہ مٹھی بھر لوگ حکومت کو مجبور کر کے یہاں تک لا سکتے ہیں تو کوئی ٹھوس نتائج حاصل کیے بغیر پیچھے ہٹنے پر بھی تیار نہیں ہوں گے۔ظاہر ہے کہ اس مرحلے پر عسکری قیادت کو بھی دُور اندیشانہ اندازِ فکر اختیار کرنے کی ضرورت ہو گی کیونکہ فوجیں بھی دشمنوں سے جنگیں لڑنے کے لیے ہوتی ہیں‘ ایسے مخمصوں میں پھنسنے کے لیے نہیں ۔اور‘ آخری بات یہ کہ حکومت اور قومی سلامتی کے دوسرے اداروں کو اس سلسلے میں ایک صفحے پر بھی ہونا ہو گا۔
    آج کامقطع
    سوارِ خواب تھا یا اور کوئی شے تھی، ظفر
    نظر کے سامنے اٹھتے غبار میں کچھ تھا
    Zafar Iqbal
    Dunya.com.pk

    Friday, February 7, 2014

    Sharia.. Threat or Blessing.. نفاذِ شریعت کی دھمکی؟

    نفاذِشریعت کیا کوئی دھمکی ہے جس سے مخالفین کو ڈرانا مقصود ہے؟
    شریعت تو انسانوں کے لیے اللہ کی رحمت ہے۔یہ وہ راستہ ہے جو ابن آدم کی دنیاوی زندگی کے لیے آسودگی کا پیغام اوراُخروی زندگی کے لیے نجات کی نویدہے۔نادان دوستی کا یہ کرشمہ ہے کہ اسے یوں بیان کیا جا تا ہے جیسے یہ کوئی سزا ہو۔بدقسمتی سے لوگ دین کی حکمت سے واقف ہیں نہ پیغمبروں کی حکمت عملی سے۔یوں یہ اللہ کے آخری رسولﷺ کے اس ارشاد کے مصداق ہیں جس میں آپؐ نے فرمایا:لوگوں کو خوش خبری سناؤ، انہیں خوف زدہ نہ کرو۔جب سے لوگوں نے دین کو دعوت کی بجائے نظام سمجھنا شروع کیا ہے،انہیں نفاذِ شریعت کی تو فکر ہے، دعوتِ دین کی نہیں۔اسی کا ایک مظہر یہ ہے کہ لوگ معصوم انسانوں کا قتل کرتے اور اپنے تئیں گمان کرتے ہیں کہ وہ نفاذِشریعت کے پیامبر ہیں۔
    انسانوں کو دین کی ضرورت کیوں ہے؟پیغمبر کیوں مبعوث ہوتے ہیں؟کیا اس لیے کہ وہ ایک ریاست بنائیں اور اجتماعیت کو اختیار کریں؟ کیا اس لیے کہ وہ ایک معاشرتی نظام ترتیب دیں؟ انسانی سماج کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ سب باتیں انسان کی فطرت میں مو جود ہیں۔ان کے لیے وحی کی ضرورت ہے نہ پیغمبروں کی۔یہ کام تو وہ بھی کرلیتے ہیں جو خدا سے واقف ہیں نہ اس کی وحی سے۔انسان اپنے مادی اور سماجی تقاضوں کا علم فطرت سے سیکھتا ہے۔اللہ کی ساری مخلوقات اسی طرح زندہ رہتی اور اپنی نسل کو بڑھاتی ہیں۔دین انسان کو یہ سکھانے آتا
    ہے کہ مادی وجود کے ساتھ اس کا ایک اخلاقی وجود بھی ہے۔یہ اخلاقی وجود اسے دوسری مخلوقات سے ممتاز بنا تا ہے۔انسان کو اس آ زمائش میں مبتلا کیا گیا ہے کہ وہ اس وجود کی تطہیر کرے۔ یہ تطہیر کیسے ہو؟ یہ سکھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر بھیجے ہیں۔ پیغمبروں نے ایک تو اس بات کی خبر دی کہ اخلاقی وجود کی تطہیر اور تزکیے کے ساتھ اس کی اُخروی نجات وابستہ ہے۔اس کے ساتھ انہوں نے اپنا اسوہ پیش کیا کہ یہ تطہیر کیسے ہوگی۔یہی دین کی دعوت ہے اورپیغمبر اسی کے داعی ہوتے تھے۔ اس کا شعور بھی اگرچہ انسان کی فطرت میں مو جود ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے اس کی یاد ددہانی کا بھی اہتمام فرما یا ہے۔انسان جب تک ایک فرد ہے،اس کی ذمہ داری اپنے وجود کا تزکیہ ہے۔اگر وہ مل کر ایک اجتماعیت تشکیل دیتے ہیں توپھر ان کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی تطہیر بھی کریں۔ پیغمبر یہی بات کہنے کے لیے بھیجے گئے۔ ان کا کام تذکیر ہے۔ انہوں نے اسی کی یاد دہانی کرائی۔ لوگ مان لیں تو اسی میں ہی ان کی بھلائی ہے اور اگر نہ مانیں توانہیں زبر دستی اس کا پابند نہیں بنا یا جا سکتا۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسولﷺ کو ارشاد فرمائی:آپ تذکیر کرنے والے ہیں،آپ ان پر داروغہ نہیں۔(الغاشیہ21:88)
    مسلمان جب کوئی ریاست قائم کرتے ہیں تویہ ان کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ دین کے ان احکامات کو ریاستی سطح پہ نافذ کریں جن کا تعلق ریاست سے ہے۔اجتماعیت کی دو صورتیں ہوتی ہیں... ایک معاشرہ اور ایک ریاست۔معاشرہ ایک نظامِ اقدار سے قائم رہتا ہے اور ریاست قانون سے۔اقدار وعظ و نصیحت اور شعوری تربیت سے فروغ پاتی ہیں‘ یہ کام جبر سے نہیں ہوتا۔ہرمعاشرے میں سماجی ادارے یہ کام کرتے ہیں۔ہمارے تہذیبی پس منظر میں گھر، مدرسہ،خانقاہ، مسجد اور دوسرے ادارے یہ فریضہ انجام دیتے ہیں۔قانون اس نظامِ اقدار کا پابند اور اس کا عکس ہوتا ہے‘ اس لیے قانون اس وقت تک مو ثر نہیں ہو تا جب تک نظام ِ اقدار مستحکم نہ ہو جائے۔ ہمارے ہاں لوگ ریاست اور سماج کے اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھتے۔وہ سماجی تشکیل کا کام بھی قانون سے لینا چاہتے اور اسے نفاذِ شریعت کا نام دیتے ہیں۔یہ پیغمبروں کی حکمت عملی سے بے خبری کی دلیل ہے۔
    اللہ کے آخری رسولؐ نے پہلے ایک سماج بنایا۔ جب ایک نظام ِ اقدار مستحکم ہو گیا تب اللہ تعالیٰ نے قانون نازل کر ناشروع کیا۔مکہ کے تیرہ سال کوئی قانون نہیں اترا۔قرآن مجید کی مکی آیات میں کوئی قانون بیان نہیں ہوا۔شریعت اس وقت نازل ہونا شروع ہوئی جب مدینہ میں مسلم سماج مستحکم ہو گیا۔ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ نے اس کی حکمت بیان فرمائی۔کہا اگر لوگوں سے ابتدا ہی میں یہ کہہ دیا جا تا کہ بدکاری چھوڑ دیں تو وہ کبھی اس پر آ مادہ نہ ہوتے۔تمام اخلاقی معاملات میں اللہ کے رسولؐ کی حکمتِ عملی یہی رہی کہ پہلے سماج کو حساس بنایا‘ اس کے بعد قانون دیا جس کے لیے سماج تیار ہو چکا تھا۔ہمارے ہاں اسلام پسند چو نکہ ریاستی پس منظر(State Paradigm) میں سوچنے کے عادی ہیں، اس لیے نفاذِ شریعت سے ان کی مراد قانون سازی اور ریاستی جبرہوتا ہے۔پاکستان اس کا تجربہ کر چکا۔ یہاں اسلامی قانون سازی کے باب میں کوئی کمی نہیں لیکن سماج کہاں کھڑا ہے، ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔اس ملک میں تیس سال ہوگئے حدود قوانین کو نافذہوئے‘ اب تک عدالتوں کو کوئی ایک گواہ ایسا نہیں مل سکا جو شریعت کے مطابق گواہی دینے کا اہل ہو۔ نتیجہ یہ ہے کہ کسی کو حدود قوانین کے تحت سزا نہیں دی جا سکی۔ سماج جب تیار نہیں ہوتا تو اس میں کوئی قانون نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔دین کے جید علمایہ بات جانتے ہیں۔ مو لا نا مودودی نے لکھاتھاکہ جب سماج اخلاقی طور پر کمزور ہو تو اس میں سزا دینے کی جلدی نہیں کر نی چاہیے بلکہ ایسے سماج میں تو اُن لو گوں کو سر یا خان بہادر کا خطاب دینا چاہیے جو خود کو پاکیزہ رکھتے ہیں۔
    جو ذہن دین کو محض نظام سمجھتا ہے، وہ اس بات کو سمجھنے سے معذور ہو تا ہے۔دین ہدایت ہے، دین خیر خواہی ہے۔ دین دراصل دعوت ہے۔جب ہم دین کو دعوت سمجھتے ہیں تو ہمارے اندر داعیانہ مزاج پیدا ہو تا ہے۔یہ مزاج ان لوگوں کے بارے میں خیر خواہی کے جذبات پیدا کرتا ہے جو اس ہدایت سے محروم ہیں‘ جن پر اس ہدایت کے فائدے واضح نہیں۔اس سے وہ پیغمبرانہ سوزپیدا ہوتا ہے جس کے تحت پتھر مارنے والوں کو بھی دعا دی جا تی ہے۔پھر داعی اس خیال میں گھلتا چلا جاتا ہے کہ لوگ جہنم کی طرف بڑھ رہے ہیں اور وہ ان کی ہدایت کے لیے بے چین ہو جا تا ہے۔ آج نفاذِ شریعت کا علمبردارمختلف رائے رکھنے والے کو اپنا حریف سمجھتا ہے۔ وہ ان کے سامنے شریعت کو ایسے پیش کرتا ہے جیسے انہیں دھمکی دے رہا ہے۔ یہ ذہن سماج کی اہمیت سے واقف نہیں ہے اوریہ چاہتا ہے کہ بالجبر اسے شریعت کا پابند بنائے۔اس حوالے سے بھی ہمارے سامنے افغانستان کا تجربہ مو جود ہے۔طالبان نے یہ کام جبر سے کیا۔ان کے جانے کے بعد اگلے دن کابل کے سینماؤں میں اتنا رش ہوا کہ لوگوں نے کھڑکیاں اور دروازے توڑ دیے۔
    شریعت ایک خیر ہے‘ یہ کوئی دھمکی نہیں۔نفاذ ِ شریعت کی خواہش بہت محمود ہے لیکن یہ محض قانون اور جبر کا نام نہیں ہے۔یہ ایک داخلی تبدیلی کاناگزیر نتیجہ ہے۔ہماری کوشش اس داخلی تبدیلی کے لیے ہو نی چاہیے۔اس کے بعد سماج خود شریعت کی خواہش کرے گا۔یہ اُسی وقت ہوگا جب ہم دین کو نظام کے بجائے دعوت اور خود کو داروغہ کے بجائے داعی سمجھیں گے۔

    http://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2014-02-08/5986/30216157#tab2