Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Showing posts with label Boko Haram. Show all posts
Showing posts with label Boko Haram. Show all posts

Saturday, January 23, 2016

Non implimentaion of Sharia , Ruler and Islam (Urdu)

شریعت نافذ نہ کرنے والا حکمران اور دائرئہ اسلام!

Image result for sharia terrorism
عراق کے شہر کوفہ کی جامع مسجد میں حضرت علیؓ کے گھر کا دروازہ کھلتا تھا۔ امیر المؤمنین یہیںسے مسجد میں تشریف لایا کرتے تھے۔ سترہ رمضان کو جب آپ فجر کی نماز پڑھانے گھر کے دروازے سے مسجد میں داخل ہوئے اور انہیں دیکھتے ہی نماز کے قیام کی تکبیر بلند ہوئی تو شبیب ملعون نے تلوار کا وار کر دیا۔ امیرالمؤمنینؓ گر پڑے تو ملعون ابن ملجم مرادی تیزی سے آگے بڑھا،حملہ آور ہوا تو حضرت علیؓ کے سر مبارک اور ماتھے پر تلوار کا وار پڑا۔ حملہ کرتے ہوئے ملعون نے جو جملہ کہا وہ قابل غور ہے۔ کہنے لگا: ''اَلْحُکْمُ لِلّٰہِ لَا لَکَ یَا عَلِیْ وَلَا لِاَصْحَابِکَ‘‘ اے علی حکم اللہ کا ہے، نہ تیرا ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کا ہے (تاریخ ابن خلدون ج 2ص 617) قارئین کرام! غور فرمایئے! حضرت علیؓ نبوی راستے پر قائم خلیفہ راشد ہیں۔ ان کی حکمرانی میں کامل طور پر شریعت کا قانون نافذ تھا۔ اس کے باوجود اس دور کے خارجیوں نے ان پر معاذ اللہ، اللہ کی حاکمیت سے نکل جانے کا الزام عائد کر دیا اور کفر کا فتویٰ لگا کر گردن زدنی قرار دے دیا اور پھر شہید کرتے ہوئے اپنے تکفیری اور خارجی نظریے کے حامل نعرے کا اعلان بھی کر دیا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ باقی حکمرانوں کی ان کے ہاں کیا حیثیت ہو گی؟ خاص طور پر آج کے مسلم حکمرانوں کو ایسے خارجی لوگ کیا سمجھیں گے، بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اب ہم ان کی گمراہ سوچ کا جائزہ لیں گے کہ کتاب و سنت کی روشنی میں ایسی رائے اور سوچ کی کیا حیثیت ہے؟ 
سب سے پہلے ہم ان آیات کا ترجمہ لکھ رہے ہیں، جن کو سامنے رکھتے ہوئے خارجی ذہنیت کے لوگ مسلمان حکمرانوں کو کافر قرار دے کر دائرئہ اسلام سے خارج کرتے ہیں اور پھر مرتد ہو جانے کا فتویٰ لگا کر گردن زدنی قرار دیتے ہیں، پھر بغاوت کرتے ہوئے عسکری گروپ تشکیل دیتے ہیں اور حملے کر کے ارتداد کی سزا دیتے ہوئے خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے قرآن پر عمل کر دیا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں: اور جو لوگ اللہ کے اتارے ہوئے احکامات کے مطابق فیصلے نہ کریں وہی کافر ہیں۔ (المائدہ: 44) اسی طرح اگلی آیت میں اللہ نے ایسے لوگوں کو ظالم قرار دیا اور پھر اسی سورت کی آیت نمبر 47میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو فاسق قرار دیا۔
قارئین کرام! سورۃ المائدہ جس میں مندرجہ بالا تین آیات موجود ہیں وہاں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں اور مسیحی لوگوں کا تذکرہ کیا ہے اور ان پر اتاری گئی الہامی کتابوں تورات اور انجیل کا ذکر فرمایا ہے۔ ان آیات کی شرح اور تفسیر میں بخاری اور مسلم کی جو احادیث ہیں، مفسرین نے ان کا تذکرہ کیا ہے۔ ہم طوالت کے خوف سے وہ احادیث درج نہیں کر رہے۔ مفسرین نے ان کا ذکر کر کے یہی بتلایا ہے کہ یہودیوںنے رجم کی سزا کو بھی بدل دیا تھا اور قتل کے بدلے میں دیت کی رقم میں بھی امتیاز قائم کر دیا تھا کہ طاقتور اگر کمزور قبیلے کے شخص کو قتل کر دیتا تو دیت یعنی خون بہانے کی رقم آدھی لی جاتی تھی اور اگر کمزور کے ہاتھوں طاقتور قبیلے کا آدمی قتل ہو جاتا تو خون بہا یعنی دیت کی پوری رقم وصول کی جاتی تھی۔ یہ طرزِ عمل تورات میں درج قانون کے صریحاً خلاف تھا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ایسی تبدیلی کرنے والوں کو کافر، ظالم اور فاسق کہا اور یہ تبدیلی کرنے والے یہودونصاریٰ کے علماء اور حکمران تھے۔ نیز ان کے کفر کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ تو یہ تھی کہ تورات اور انجیل میں حضرت محمد کریمﷺ کا واضح ذکر تھا کہ آپ آخری رسولؐ ہیں، اس کے باوجود ان لوگوں نے تورات اور انجیل کی بات کو نہیں مانا اور اس سلسلے میں بھی تبدیلی اور تحریف کی اور حضورؐ کی نبوت و رسالت کا انکار کر دیا۔ یہ تھا ان کے کفر کا اصلی اور بنیادی سبب۔ چنانچہ اللہ کے رسولؐ کے معروف صحابی حضرت براء بن عازبؓ واضح کرتے ہیں کہ کافر، ظالم اور فاسق قرار دینے والی تینوں آیات کا تعلق ''ہی فِی الْکُفَّارِ کُلِّھَا‘‘ سب کا سب غیر مسلم لوگوں سے ہے۔ (مسند احمد: 18724)
قارئین کرام! مندرجہ بالا تینوں آیات کی تفسیر معلوم کرنے کے لئے جب ہم نے تفسیر ابن کثیر کو دیکھا تو امام ابن کثیر رحمہ اللہ آگاہ فرماتے ہیں کہ بڑے بڑے صحابہؓ جن میں حضرت براء بن عازب، حضرت حذیفہؓ بن یمان اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ جیسے مفسر کہ جن کے فہم قرآن میں اضافہ کے لئے اللہ کے رسولؐ نے دعا فرمائی وہ سب یہی فرماتے ہیں کہ کافر والی آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ بعد کے مفسرین اور موجودہ دور کے نامور مفسرین بھی اپنی تفاسیر میں اسی مؤقف کا اظہار کرتے اور لکھتے نظر آتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ مزید فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کو ماننے سے انکارکر دے اس نے کفر کیا اور وہ حکمران جو اقرار کرتا ہے مگر اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتا، تنقید نہیں کرتا، وہ ظالم اور فاسق ہے۔ ثابت ہوا موجودہ حکمران جو شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، تنفیذ نہیں کرتے، وہ گنہگار ہیں۔ ظلم کا ارتکاب تو کرتے ہیں، فسق یعنی گناہ سے دوچار تو ہوتے ہیں مگر مسلمان ہیں۔ خارجی لوگ یا خارجی ذہنیت سے متاثر لوگ جو ایسے گنہگار حکمرانوں کو کافر قرار دیتے ہیں وہ جہالت، لاعلمی اور حماقت کا اظہار کرتے ہیں۔ اور خارجیوں کا طرز عمل یہی ہے کہ وہ مسلمانوں کو گناہوں کی وجہ سے کافر قرار دے دیتے ہیں اور دائرئہ اسلام سے فوراً باہر کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح بخاری میں آگاہ کرتے ہیں کہ وہ آیات جو کافروں سے متعلق ہیں بعض لوگ ان آیات کو مسلمانوں پر لاگو کر دیتے ہیں اسی سے فتنہ پیدا ہوتا ہے۔
قارئین کرام! قرآن و حدیث کے مطابق اسلاف کا طریقہ یہ ہے کہ گناہ گار مسلمان حکمرانوں کو نصیحت کی جائے، ان کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انہیں سمجھایا جائے، اللہ کا خوف دلایا جائے۔ آج کے دور میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ پرامن احتجاج کر لیا جائے، کالم اور کتابیں لکھی جائیں، ملاقات کر کے اپنا فرض ادا کیا جائے جیسا کہ قیام پاکستان کے بعد ہمارے علماء کرتے آئے ہیں لیکن کفر کے فتوے لگانا، بغاوت کرنا اور عسکری گروپ بنا کر حملے کرنا یہ خارجیت ہے اور دہشت گردی کی بدترین روش ہے۔ یہ بغاوت ہے اور اسے کچلنا اور اس کی سرکوبی کرنا مسلمان حکمرانوں کی ڈیوٹی ہے، شرعی فریضہ ہے۔ وہ یہ شرعی فریضہ ادا نہ کریں گے تو گناہ گار ہوں گے۔ مسلمانوں کی ریاست، ان کی حفاظت اور جان ومال سب فتنے سے دوچار ہو جائیں گی لہٰذا ضرب عضب بالکل درست فیصلہ ہے۔ اس فیصلے سے خارجی فتنے کا قلع قمع ہوا ہے۔ دنیا میں میاں نوازشریف اور پاک فوج کے سالار راحیل شریف کے کردار کو نیک نامی ملی ہے
- See more at: http://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2016-01-22/14107/50330002#tab2

Related :

Jihad, Extremism

    Tuesday, December 22, 2015

    Fake Jihad or Fisad Terrorism -Rejected Ibn Kathir, Al Bukhari in explaining Verse 2:193


    فسادی جہادی دھوکے باز .. تکفیری طالبان، دا عیش ، غیر اسلامی خلافتت ، بوکو حرام وغیرہ جیسے ظالم فاسق لوگ صحیح ال بخاری اور تفسیر ابن کثیر کا مطالعہ کریں سوره البقرہ کی آیات ١٩٣ کی تفسیر پڑھ لیں تو جہاد اور فساد کا فرق معلوم ہو جائے گا ...

    Al-Bukhari recorded that Nafi` said that two men came to Ibn `Umar during the  conflict of Ibn Az-Zubayr and said to him, "The people have fallen into shortcomings and you are the son of `Umar and the Prophet's Companion. Hence, what prevents you from going out'' He said, "What prevents me is that Allah has for bidden shedding the blood of my (Muslim) brother.'' They said, "Did not Allah say:
    ﴿وَقَـتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾
    (And fight them until there is no more Fitnah (disbelief and worshipping of others along with Allah))'' He said, "We did fight until there was no more Fitnah and the religion became for Allah Alone. You want to fight until there is Fitnah and the religion becomes for other than Allah.
    `Uthman bin Salih added that a man came to Ibn `Umar and asked him, "O Abu `Abdur-Rahman! What made you perform Hajj one year and `Umrah another year and abandon Jihad in the cause of Allah, although you know how much He has encouraged performing it'' He said, "O my nephew! Islam is built on five (pillars): believing in Allah and His Messenger, the five daily prayers, fasting Ramadan, paying the Zakah and performing Hajj (pilgrimage) to the House.'' They said, "O Abu `Abdur-Rahman! Did you not hear what Allah said in His Book:
    ﴿وَإِن طَآئِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُواْ فَأَصْلِحُواْ بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى فَقَـتِلُواْ الَّتِى تَبْغِى حَتَّى تَفِىءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ﴾
    (And if two parties (or groups) among the believers fall to fighting, then make peace between them both. But if one of them outrages against the other, then fight you (all) against the one that which outrages till it complies with the command of Allah.) (49:9) and:
    ﴿وَقَـتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾
    (And fight them until there is no more Fitnah (disbelief))
    He said, "That we did during the time of Allah's Messenger when Islam was still weak and (the Muslim) man used to face trials in his religion, such as killing or torture. When Islam became stronger (and apparent), there was no more Fitnah.'' He asked, "What do you say about `Ali and `Uthman'' He said, "As for `Uthman, Allah has forgiven him. However, you hated the fact that Allah had forgiven him! As for `Ali, he is the cousin of Allah's Messenger and his son-in-law.'' He then pointed with his hand, saying, "This is where his house is located (meaning, `so close to the Prophet's house just as `Ali was so close to the Prophet himself').''
    http://www.qtafsir.com/index.php…
    http://takfiritaliban.blogspot.com /

    Related :

    Jihad, Extremism