
آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی
الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !
جب بھی کوئی شخص آئمہ تفسیر کی تفاسیر کامطالعہ کرے گا تو اس کو بغور دیکھنے پر یہ بات ملے گی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا عبداللہ بن عباس،سیدنا براء بن عازب،سیدنا حذیفہ بن یمان ، ابراہیم نخعی،سعدی،ضحاک،ابو صالح،ابو مجلز،عکرمہ،قتادہ، عامر،شعبی،عطاءوطاؤوس اور اسی طرح امام طبری نے”جامع البیان “میں،امام غزالی نے”مستصفیٰ”میں،امام ابن عطیہ نے”محرر وجیز” میں،امام فخر الدین رازی نے “مفاتیح الغیب “میں،امام قرطبی اور امام ابن جزی نے ” تسہیل ” میں،ابو حیان نے “بحر محیط” میں،حافظ ابن کثیر نے “تفسیر القرآن العظیم”میں ، علامہ آلوسی نے ” روح المعانی ” میں ، امام طاہر بن عاشور نے ” التحریر والتنویر ” اور شیخ شعراوی نے اپنی “تفسیر ” میں،الغرض تمام مفسرین نےآیت تحکیم کی ایک ہی متفقہ تفسیر بیان فرمائی ہےکہ:
اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والا اس وقت کافر ہو گا ، جب اللہ تعالی کے فیصلے کو دل سے نہ مانے اور زبان سے اس کا انکار کرے ۔
لیکن ان تمام حضرات کے مقابلے میں سید قطب اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ :
“اس قطعی و جازم ،سب کےلیے عام اور سب کو شامل بات میں جھگڑنا حقیقت سے منہ پھیر کر بھاگنے کے سوا کچھ نہیں ، اس قسم کے فیصلہ میں تاویل کرنا قرآنی کلمات میں تحریف کرنا ہے۔”
(فی ظلال القرآن” پ 6 مائدہ، تحت الآیۃ 44، 2/898.)
لیکن اگر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ سید قطب نے یہ بات کہہ کر تمام آئمہ کرام کو قرآن کے کلمات میں تحریف کرنے والا ٹھہرا دیاہے۔کیونکہ ان تمام آئمہ عظام نے اس آیت کے ظاہری معنی میں تاویل کر کے فرمایا کہ:
“اللہ تعالی کے فیصلے کا منکر کافر ہے، جبکہ اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والا کافر نہیں۔”
سید قطب کی اس تکفیری سوچ کو اگر ہم ماضی میں تلاش کریں تو سوائے خارجیوں کے اور کوئی اس سوچ کا حامل نہیں ملتا، امام آجری “الشریعہ ” میں فرماتے ہیں کہ:
عطاء بن دینار سے مروی ہے کہ سعید بن جبیر علیہ الرحمہ نے اللہ تعالی کے فرمان :
(واخر متشابہات) (آلعمران 8) کے بارے میں فرمایا : متشابہات قرآن کریم میں وہ آیات ہیں کہ جب ان کی تلاوت کی جائے تو پڑھنے والوں کو ان کے معانی سمجھنے میں شبہ واقع ہو ، اسی سبب سے وہ شخص گمراہ ہو جاتا ہے جو یہ کہے کہ اس آیت کے یہی معنیٰ ہیں جو میں نے سمجھا (حالانکہ متشابہ آیات کا حقیقی معنی اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے ، اور آیات کا ظاہر غیر مراد ہوا کرتا ہے ) ہر گروہ قرآنِ مجید کی کوئی آیت پڑھتا ہے ، اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہدایت کو پہنچ چکا ہے ۔
اور جس متشابہ آیت کے معنی کے پیچھے حروریہ (یہ خوارج کا ایک نام ہے ) لگ گئے وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ) (44) ہے ،چنانچہ وہ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کیلئے اس آیت کا سہارا لیتے ہیں:
(ثُـمَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّـهِـمْ يَعْدِلُوْنَ (1)
وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ اپنے رب کے ساتھ برابری والے ٹھہراتے ہیں ، یعنی مشرک ہیں “
لہذا جب کوئی حکمران ناحق فیصلہ کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اس نے کفر کیا ، اور جو کفر کرے اس نے رب تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اور جو رب تعالی کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے بے شک وہ مشرک ہے ، لہذا یہ امت مشرک ہے ، پھر وہ بغاوت کیلئے نکلتے ہیں ، اور اہل اسلام کو قتل کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔
(“الشریعہ ” باب ذکر السنن والآثار فیما ذکرناہ ، ر:44، 1/341.)
اسی طرح سید قطب نے علماء حق کی مخالفت کرتے ہوئےنظریہ علمائے حق کو زمانہ جاہلیت کی ثقافت قرار دے دیا ، کہتے ہیں کہ : بہت ساری ثقافتیں جنہیں ہم اسلامی ثقافت اور اسلامی نظریہ ، یا اسلامی فلسفہ ، یا اسلامی فکر سمجھتے ہیں ، حالانکہ حقیقت میں وہ سب زمانہ جاہلیت کی باتیں ہوا کرتی ہیں ۔
(معالم فی الطریق ” جیل قرآنی فرید ، ص 17،18)
چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ سید قطب کی گمراہی کا سبب یہی ہے کہ اس نے وحی الٰہی کو سمجھنے کیلئے پختہ علمائے اسلام کی تفاسیر سے استفادہ کرنے کی بجائے اپنے اجتہاد کو ترجیح دی۔ اور قرآن کریم کو سمجھنے کیلئے اس نے اپنے ہی آئینے اور اپنی ہی ذات پر اعتماد کر لیا ، اور اپنے خاص تصورات پر ہی اس کا دارومدار ہے ۔اس طرح قرآن کریم کی تفسیر کے معاملے میں سید قطب نے اپنے آپ کو اہل علم کے مرتبہ سے گرا دیا ۔
چنانچہ وہ اپنی کتاب “التصویر الفنی ” کے آغاز میں یوں رقمطراز ہیں :
” میں مدارس علمیہ میں داخل ہوا ، کتب تفسیر میں تفسیر قرآن پڑھی ، اساتذہ سے تفسیر سنی ، تو جو قرآن میں نے اساتذہ سے پڑھا تھا یا سنا تھا ، اس قرآن کو اتنا خوبصورت اور لذیذ نہیں پایا ، جو لذیذ و جمیل قرآن میں نے بچپن میں پایا تھا ، آآآہ! قرآن کے حسن و جمال کی تمام علامتیں مِٹ کر رہ گئیں ، یہ (علماء کے پاس پڑھا جانے والا )قرآن لذت و شوق سے خالی ہے ، بلکہ تم بھی دو قرآن پاؤ گے ، ایک بچپن والا شوق دلانے والا ،میٹھا اور آسان قرآن ، اور دوسرا جوانی کا قرآن جو مشکل ، تنگ ، پیچیدہ ، اور ریزہ ریزہ ہے ، تفسیر کے معاملہ میں کسی اور کی پیروی کو ایک جرم خیال کرنے لگا ، یہ سوچ کر میں اسی قرآن کی طرف پلٹ آیا جو تفسیر کے بغیر مصحف میں ہے ، اس قرآنِ عظیم کی طرف نہیں جو کتب تفسیر میں ہے ، تو اب جب میں نے تفسیر کے بغیر قرآن پڑھا تو اپنا خوبصورت اور لذیذ کھویا ہوا قرآن دوبارہ پالیا ، جو شوق کو ابھارنے والا ہے……۔
(التصویر الفنی فی القرآن ،لقد وجدت القرآن ص 8)
والعیاذ باللہ العظیم
استغفر اللہ اتوب الیہ
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ کس قدر خطرناک عبارت ہے ، قرآن کو سمجھنے کے معاملے میں اس شخص کا طریقہ اور ذہنیت صاف معلوم ہو رہی ہے ، اس شخص نے علمائے امت کی ان کاوشوں سے مکمل طور پر منہ موڑ لیا جنہوں نے چودہ سو سال سے نص قرآنی اور اس کے فہم کیلئے محنت کی ، بلکہ جو انہوں نے علمی خلاصہ و نتیجہ پیش کیا اُسے یہ شخص زمانہ جاہلیت کی سوچ قرار دیتا ہے ، اور اپنی اس سمجھ پر اعتماد کرتا ہے جو بطور خود بچپن میں محسوس کیا کرتا تھا ، اس علمی دقیق و پختہ شعور کے بغیر جو علمائے امت کو حاصل ہے ، وہ اپنے اس کلام سے یہی بتانا چاہتا ہے کہ کسی بھی آیت کے کوئی دقیق معنی ٰ نہیں ہوا کرتے ، جس کے استنباط (اَحکام نکالنے) کے لئے علماء کی ضرورت ہو ، حالانکہ اس کی یہ بات خود قرآنِ کریم کے بھی خلاف ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
ولَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِى الْاَمْرِ مِنْـهُـمْ لَـعَلِمَهُ الَّـذِيْنَ يَسْتَنْبِطُوْنَه مِنْـهُـمْ (سورۃ النساء 83)
اور اگروہ اس معاملے کو رسول ﷺ اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو وہ اس کی تحقیق کرتے جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں۔
تکفیری فکرو سوچ ہر زمانے میں اس آیت میں تحریف کر کے پیدا کی گئی ہے ، اور تاریخ اسلام کے ہر دور میں اس آیت کے صحیح معنیٰ و مفہوم کو جو اہل علم حضرات بیان کرتے چلے آئے ہیں ، اُسے چھوڑ کر خارجی حضرات اس آیت کے غلط معنیٰ و مفہوم بیان کر کے بغاوت و قتل و غارت گری کرتے چلے آرہے ہیں ، جیسا کہ خطیب بغدادی نے “تاریخ بغداد ” میں روایت کیا ہے “ابن ابن داؤد کہا کرتے تھے کہ :
خوارج میں سے ایک شخص مامون الرشید کے پاس پیش کیا گیا ، مامون نے پوچھا : تمہیں ہماری مخالفت پر کس چیز نے ابھارا ؟
اس نے کہا : کتاب اللہ کی ایک آیت نے ۔
مامون نے کہا کون سی آیت ؟
اس نے کہا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ (44)
مامون نے کہا : کیا تم یہ جانتے ہو کہ یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُتاری گئی ہے ؟
اس نے کہا :جی ہاں
مامون نے کہا : تمہارے پاس کیا دلیل ہے ؟
اس نے کہا : اِجماعِ امت (یعنی سارے مسلمان یہی کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب ہے ، اس کے سِوا کوئی دلیل نہیں)
مامون نے کہا : جس طرح تم نے اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے پر اِجماعِ امت کی بات مان لی ، اِسی طرح اس کی تفسیر کے معاملے میں بھی اِجماعِ امّت کی بات مان لو! (کہ کافر وہ ہے جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کامنکر ہو ، وہ حاکم کافر نہیں جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کو دل سے مانتا ہو ،لیکن عمل نہ کرے ) اِس پر اُس خارجی نے کہا کہ آپ نے بالکل درست کہا ، اور السلام علیک یا امیر المومنین کہتا ہوا چلا گیا۔
(“تاریخ بغداد” حرف الھاء من آباء العبادلۃ .5330 ،عبداللہ امیر المومنین المامون بن ھارون الرشید….اِلخ ، 10/184.183 )
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر فتنے سے محفوظ فرمائے ، سنتِ نبویﷺ اور منہج سلف کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
http://alfitan.com/2017/11/23/
.................................................................
المآئدۃ - تفسیر ضیاء القرآن
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ( 5:44)
جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ( 5:45)
اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (5:47)
اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں
یہاں فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں۔ اسی سورہ المآئدۃ کی آیت نمبر 45 میں ایسے لوگوں کو ظالم کہا گیا اور آیت نمبر 47 میں ایسے لوگوں کو فاسق کہا گیا۔ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ آیات صرف یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئیں۔ لیکن یہ درست نہیں ۔ کیونکہ کسی خاص شخص کے متعلق کسی آیت کے نازل ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ آیت بس اسی سے مخصوص ہو کر رہ گئی ۔ اس کا حکم اب کسی دوسرے شخص پر نافذ نہیں ہوگا۔ اس لئے صحیح یہی ہے کہ اسے یہود کے ساتھ مخصوص نہ کیا جائے بلکہ اس کا مفہوم عام رکھا جائے۔ چنانچہ علماء اہل سنت نے من لم یحکم بما انزل اللہ مستھینا بہ منکر الہ ۔ یعنی جو شخص اللہ کے حکم کی توہین اور تحقیر کرتے ہوئے اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے گا وہ کافر ہوگا۔ کیونکہ احکام شرعیہ کی توہین اور تحقیر کی صرف وہی جرات کر سکتا ہے جس کا دل ایمان ویقین کے نور سے خالی ہو۔
علامہ بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایسے شخص کو کافر، ظالم اور فاسق کہنے کی بڑی لطیف وجہ بیان کی ہے فرماتے ہیں:
1. فکفرہم لانکارہ وظلمہم بالحکم بخلافہ وفسقہم بالخروج عنہ ۔ یعنی اس وجہ سے کہ انہوں نے احکام الٰہیہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا وہ کافر ٹھہرے۔
2. اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اس قانون کو چھوڑ دیا جو عین عدل وانصاف تھا وہ ظلم کے مرتکب ہوئے
3. اور اس لئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حدوں کو توڑا وہ فاسق کہلائے۔
اس کے بعد بیضاوی فرماتے ہیں کہ یہ بھی جائز ہے کہ یہ تینوں لفظ کفر، ظلم اور فسق احکام الٰہیہ سے سرتابی کرنے والوں کے مختلف حالات کے پیش نظر کہے گئے ہوں۔
یعنی اگر اس نے یہ سرتابی ازراہ تمردو تحقیر کی تو وہ کافر ہے-
اور اگر دل میں انکار تو نہیں بلکہ ویسے حکم عدولی ہو گئی تو وہ ظالم وفاسق ہوگا۔
ویجوزان یکون کل واحدۃ من الصفات الثلاث باعتبار ھال انضمت الی الامتناع عن الحکم بہ ملائمۃ لھا (بیضاوی) سچ تو یہ ہے کہ ان آیات کے بعد کسی مسلمان کے لئے کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ وہ اپنے لئے، اپنی قوم اور رعایا کے لئے ایسے قوانین تجویز کرے جو احکام خداوندی کے خلاف ہوں
[المآئدۃ , - تفسیر ضیاء القرآن, پیر کرم شاہ الازہری]
..................................................
تفہیم القرآن
”یہاں اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے حق میں جو خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تین حکم ثابت کیے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کافر ہیں ، دوسرے یہ کہ وہ ظالم ہیں، تیسرے یہ کہ وہ فاسق ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو انسان خدا کے حکم اور اس کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کر اپنے یا دُوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر فیصلہ کرتا ہے، وہ دراصل تین بڑے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے ۔
1.اوّلاً اس کا یہ فعل حکمِ خداوندی کے انکار کا ہم معنی ہے اور یہ کفر ہے۔
2. ثانیاً اس کا یہ فعل عدل و انصاف کے خلاف ہے، کیونکہ ٹھیک ٹھیک عدل کے مطابق جو حکم ہو سکتا تھا وہ تو خدا نے دے دیا تھا ، اس لیے جب خدا کے حکم سے ہٹ کر اس نے فیصلہ کیا تو ظلم کیا۔
3. تیسرے یہ کہ بندہ ہونے کے باوجود جب اس نے اپنے مالک کے قانون سے منحرف ہو کر اپنا یا کسی دُوسرے کا قانون نافذ کیا تو درحقیقت بندگی و اطاعت کے دائرے سے باہر قدم نکالا اور یہی فسق ہے۔
یہ کفر اور ظلم اور فسق اپنی نوعیت کے اعتبار سے لازماً انحراف از حکمِ خداوندی کی عین حقیقت میں داخل ہیں ۔ ممکن نہیں ہے کہ جہاں وہ انحراف موجود ہو وہاں تینوں چیزیں موجود نہ ہوں۔
البتہ جس طرح انحراف کے درجات و مراتب میں فرق ہے اسی طرح ان تینوں چیزوں کے مراتب میں بھی فرق ہے۔
جو شخص حکمِ الہٰی کے خلاف اس بنا پر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کو غلط اور اپنے یا کسی دُوسرے انسان کے حکم کو صحیح سمجھتا ہے وہ مکمل کافر اور ظالم اور فاسق ہے۔
اور جو اعتقاداً حکمِ الہٰی کو برحق سمجھتا ہے مگر عملاً اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ اگر چہ خارج از مِلّت تو نہیں ہے مگر اپنے ایمان کو کفر، ظلم اور فسق سے مخلوط کر رہا ہے۔
اِسی طرح جس نے تمام معاملات میں حکمِ الہٰی سے اِنحراف اختیار کر لیا ہے وہ تمام معاملات میں کافر، ظالم اور فاسق ہے۔
اور جو بعض معاملات میں مطیع اور بعض میں منحرف ہے اس کی زندگی میں ایمان و اسلام اور کفر و ظلم و فسق کی آمیزش ٹھیک ٹھیک اسی تناسب کے ساتھ ہے جس تناسب کے ساتھ اس نے اطاعت اور انحراف کو ملا رکھا ہے۔
بعض اہلِ تفسیر نے ان آیات کے اہلِ کتاب کے ساتھ مخصُوص قرار دینے کی کوشش کی ہے ۔ مگر کلامِ الہٰی کے الفاظ میں اس تاویل کے لیے کوئی گنجائش موجود نہیں۔ اس تاویل کا بہترین جواب وہ ہے جو حضرت حذیفہ ؓ نے دیا ہے۔ ان سے کسی نے کہا کہ یہ تینوں آیتیں تو بنی اسرائیل کے حق میں ہیں۔ کہنے والے کا مطلب یہ تھا کہ یہودیوں میں جس نے خدا کے نازل کردہ حکم کے خلاف فیصلہ کیا ہو وہی کافر ، وہی ظالم اور وہی فاسق ہے۔ اس پر حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا نعم الاخرۃ لکم بنو اسرائیل اَن کانت لھم کل مُرّ ۃ ولکم کل حلوۃ کلّا واللہ لتسلکن طریقھم قدر الشراک۔” کتنے اچھے بھائی ہیں تمہارے لیے یہ بنی اسرائیل کہ کڑوا کڑوا سب اُن کے لیے ہے اور میٹھا میٹھا سب تمہارے لیے ! ہرگز نہیں ، خدا کی قسم تم انہی کے طریقہ پر قدم بقدم چلو گے۔ [تفہیم القرآن]
http://www.tafheemulquran.net/1_Tafheem/Suraes/005/77.html
--------------------------------------------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمدلله الحكم العدل الفرد الصمد الذي اذا حكم فهو احكم الحاكمين واذا أرحم فهو أرحم الراحمين واذا أخذ فهو قوي العزيز المتين- والصلوة والسلام على النبي الكريم الصادق الوعد الامين.الداعي الى توحيد رب العالمين.المبعوث رحمة للعالمين.وعلى آله وصحبه اجمعين. اما بعد:
اللہ تعالی کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کرنا دین ،ایمان اور توحید ہے دین اس لئے ہے کہ سارا دین اسلام ،اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے ہی تو ہیں اورایمان اس لئے ہے کہ اس کے بغیر ایمان نا مکمل ہے کیونکہ ایمان صرف زبان کا قول نہیں ہے کہ میں مومن ہوں بلکہ زبان کے قول و عمل اورقلب و بدن کے عمل کا مجموعہ ہے اور اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلہ کے مطابق زندگی گزارنا ہی ایمان کامل کی علامت ہے ۔اور توحید اس لئے ہے کہ توحید کی تینوں قسموں میں اس کا شمار ہوتا ہے توحید ربوبیت ،کیونکہ اللہ تعالی حاکم ہے اوراپنے فیصلوں سے پوری کائنات کی تدبیر کرتا ہے توحید الوہیت ،کیونکہ جوشخص اللہ تعالی کے فیصلوں کے مطابق زندگی گزارتا ہے وہ اللہ تعالی کی بندگی میں رواں دواں ہوتا ہے اللہ تعالی سے ڈرتے ہوئے محبت اور امید کے ساتھ, تویہ عین عبادت ہے اور توحید اسماء و صفات،کیونکہ اللہ تعالی حکیم (حکمت والا) ہے ۔
یہ جاننا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلوں کے مطابق گزارے، چاہے وہ حاکم ہو یا محکوم، مرد ہو یا عورت ،چھوٹا ہو یا بڑا ،امیر ہو یا غریب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور صرف ایک گروہ (حکمران )پر اس مسئلے کو فرض کردینا اور ہمیشہ صرف اسی کا ذکر کرنا اورصرف اسی کا رد کرنا درست طرز عمل نہیں ہے بلکہ اس مسئلے میں سب شامل ہیں جو بھی اللہ تعالی کی نازل کردہ شریعت کے خلاف فیصلہ کرے سب کی تردید کرنی چاہیے اور سب کو راہ حق کی طرف بلانا چاہیے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ حکمران پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن انصاف کے نقطہ نظر سے سب کو آگاہ کرنا چاہیے ۔
حکمران کے معاملے میں، جب وہ اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے کے خلاف فیصلہ کرے ،اہل قبلہ (مسلمان) تین گروہوں میں بٹ گئے :
۱۔ خوارج:
یہ وہ گروہ ہیں جو کبیرہ گناہوں کی وجہ سے مسلمانوں پر کفر اکبر کا فتوی لگاتے ہیں۔ ان کے نزدیک کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر ہے ۔ انکا عقیدہ ہے کہ ایسا حکمران کفر اکبر کا مرتکب ہے یعنی وہ دائرہ اسلام سے خارج اورایسے حکمران کا ایمان ہے ہی نہیں اور یہ باطل ہے ۔
۲۔مرجیئہ:
یہ وہ گروہ ہے جو اعمال کو ایمان سے خارج قرار دیتے ہیں اوریہ کہ ایمان زیادہ یا کم نہیں ہوتا ،ان کے نزدیک کبیرہ گناہ کا مرتکب پکا مومن ہے اس کے ایمان میں کوئی کمی نہیں ہوتی ۔ انکا عقیدہ ہے کہ ایسا حکمران مومن ہے اوراس کا ایمان کامل ہے اس کے ایمان میں کوئی فرق نہیں پڑتااور یہ بھی باطل ہے ۔
۳۔اہل السنۃ والجماعۃ :
یہ وہ گروہ ہے جو نبی اکرمﷺ کی سنت (طریقے) پر جمع ہوئے اوران کے نزدیک ایمان ،زبان کا قول اور دل و بدن کے عمل کامجموعہ ہے جو اللہ تعالی کی فرماں برداری سے بڑھتا ہے اور نافرمانی سے کم ہوتا ہے ۔اور یہی حق ہے۔ انکا عقیدہ ہے کہ ایسے حکمران پر حکم نافذ کرنے سے پہلے تفصيل بیان کرنا ضروری ہے اور پھر اس تفیصل کے مطابق اس پر حکم نافذ کیا جاتا ہے۔ تفیصل ملاحظہ فرمائیں:
جب بھی کوئی حکمران فیصلہ کرتا یا قانون پاس کرتا ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں:
۱۔اللہ تعالی کے فیصلے کے مطابق ہوتا ہے یہی حق ہے اور یہی مقصود ہے ۔ ایسا حکمران اجر و ثواب کا مستحق ہے۔
۲۔ اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے کے خلاف ہو۔
اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے کے خلاف
اس کی مزید دو مختلف صورتیں ہیں:
الف ۔
اس فیصلے کو جواس (حکمران )نے نافذ کیا اور وہ فیصلہ اللہ تعالی کی شریعت کے خلاف ثابت ہوا اور اس (حکمران)کا یقین و عقیدہ ہے کہ یہ فیصلہ جائز ہے (استحلال) یا اللہ تعالی کے فیصلے سے بہتر وافضل ہے (تفضیل) یا اس کے برابر ہے (مساوات) یا اسے جاننے کے بعد یا یقین کرنے کے بعد جھٹلا دے (جحود) یا اس پر بغیر یقین کے جھٹلا دے (تکذیب)یا اللہ تعالی کے نازل کردہ شریعت کو ہٹا کر اپنا فیصلہ اس کی جگہ پر ثابت کر دے اور اسے شریعت کی طرف منسوب کر دے (تبدیل) ،یہ سب صورتیں کفر اکبر کی صورتیں ہیں ۔ان کی وجہ سے فیصلہ کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ اسکی تفیصل ملاحظہ فرمائیں:
کفر اکبر کی چھ صورتیں ہیں جو بیان ہو چکی ہیں ان کی تفصیل یہ ہے ۔
۱۔استحلال
اگر کوئی اپنے فیصلے کو، جو اللہ تعالی کی نازل کردہ شریعت کے خلاف ہے، جائز سمجھے( اسے استحلال کہتے ہیں)تو اس کے کفر اکبر کا مرتب ہونے پر اجماع ہے ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں
اور انسان جب کسی حرام چیز کو حلال کردے، جس کے حرام ہونے پر اجماع ہو یاکسی حلال چیز کو حرام کر دے جس کے حلال ہونے پر اجماع ہو یا اس شرع کو تبدیل کر دے جس پر اجماع ہو تو وہ کافر و مرتد ہو گا اورا س پر فقہاء کا اتفاق ہے ۔ اور ایسے شخص کے متعلق اللہ تعالی کا یہ فرمان نازل ہوا (ایک قول کےمطابق) (وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ)
(سورۃ المائدہ :آيت 44)
یعنی یہ وہ شخص ہے جو اللہ تعالی کے فیصلے کے خلاف اپنے فیصلے کو جائز سمجھتا ہے۔
(فتاوی ابن تیمیہ جلد نمبر3صفحہ نمبر267)
شیخ بن باز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
‘‘ اس شخص کے کافر ہونے پر علماء کا اجماع ہے ،جس نے کسی ایسی حرام چیز کو حلال سمجھا ،جسے اللہ تعالی نے حرام کر دیا ہے یا حلال کو حرام سمجھا، جسے اللہ تعالی نے حلال کردیا ہے۔’’
(فتاوی بن بازجلد نمبر 2صفحہ 330)
۲۔ تفضیل
اگر اپنے فیصلے کو، جو اللہ تعالی کےحکم کے خلاف ہے ،اللہ تعالی کے فیصلے سے بہتر اور افضل سمجھے (اسے تفضیل کہتے ہیں) اس کی دلیل ارشاد باری تعالی ہے ۔
(وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ)
(سورۃ المائدہ :آیت نمبر50)
شیخ بن باز (رحمۃ اللہ علیہ ) فرماتے ہیں:
‘‘جس نے اللہ تعالی کے فیصلے کے خلاف فیصلہ کیا یہ سمجھتے ہوئے ،کہ اس کا فیصلہ اللہ تعالی کے فیصلے سے بہتر ہے تو وہ سب مسلمانوں کے ہاں کافر ہے ۔’’
(فتاوی بن بازجلد نمبر4صفحہ نمبر416)
اور کفر اکبر اس لئے ہے کہ اس نے قرآن مجید کی اس آیت کو جھٹلایا۔
۳ ۔مساوات
اگر اپنے فیصلے کو ،جو اللہ تعالی کےحکم کے خلاف ہے ، اللہ تعالی کے فیصلے کے برابر سمجھے (اسے مساوات کہتے ہیں)
کیونکہ اس نے قرآن مجید کی اس آیت کو جھٹلایا ،جو اوپر بیان ہو چکی ہے ۔
شیخ بن باز (رحمۃ اللہ علیہ ) فرماتے ہیں:
’’جس نے یہ یقین کیا کہ وہ قوانین اور فیصلے ،جنہیں لوگ بناتے ہیں، شریعت اسلام سےبہتر ہیں یا اس کے برابر ہیں یا ان کی طرف لوٹ کر فیصلہ کرنا جائز ہے ۔۔۔۔۔تووہ کافرہے۔
(فتاوی بن باز جلد نمبر1صفحہ نمبر132)
۴۔ جحود
اگر اللہ تعالی کے فیصلے کو جاننے اور یقین کرنے کے بعد جھٹلا دے (اسے جحودکہتے ہیں)۔اسکی دلیل ،اجماع ہے۔
شیخ بن باز(رحمۃ اللہ علیہ ) فرماتے ہیں:
‘‘اور اسی طرح اس کے حق میں جس نے کسی چیز کو جھٹلادیا ،جسے اللہ تعالی نے واجب کردیا ۔۔۔۔۔۔تو بیشک وہ کافر اور مرتد ہے اگرچہ وہ اسلام کا دعویٰ کرے ،اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔’’
(فتاوی بن باز جلد نمبر7صفحہ نمبر78)
۵۔ تکذیب
اگر اللہ تعالی کے فیصلے کو جھٹلا دے (اسے تکذیب کہتے ہیں) یہ بھی کفر اکبر ہے ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’ہر جھٹلانے والا ،جس نے اس چیز کو جھٹلایا جو پیغمبر علیہ السلام لیکر آئے، تووہ کافر ہے۔‘‘
(فتاوی ابن تیمیہ جلد نمبر2صفحہ نمبر79)
اورعلامہ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
‘‘کفر تکذیب یہ ہے کہ یہ یقین کرنا کہ پیغمبر جھوٹے ہیں (نعوذباللہ)’’۔
(مدارج السالکین جلد نمبر1صفحہ نمبر346)
۶۔ تبدیل
اگر اللہ تعالی کے فیصلے کے خلاف فیصلہ کرے اور یہ دعویٰ کرے کہ یہی اللہ تعالی کا فیصلہ ہے یعنی اسے شریعت کی طرف منسوب کرے(اسے تبدیل کہتے ہیں)۔ یہ بھی کفر اکبر ہے اگرچہ صرف ایک ہی مسئلہ میں تبدیلی کیوں نہ ہو۔اسکی دلیل ،اجماع ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ(رحمۃ اللہ علیہ)فرماتے ہیں:
‘‘اور انسان جب کسی حرام چیز کو حلال کر دے جس کے حرام ہونے پر اجماع ہو اور حلال چیز کو حرام کر دے جس کے حلال ہونے پر اجماع ہو یا اس شریعت کو تبدیل کردے جس پر اجما ع ہو تو وہ کافر و مرتد ہوگا جس پر فقہا ءاسلام کا اتفاق ہے۔’’
(فتاوی بن ابن تیمیہ جلد نمبر 3صفحہ نمبر 267)
ان سب صورتوں میں دوچیزوں کاخاص خیال رکھا جائے:
1- یہ سب امور اعتقادی امور ہیں جن کا تعلق دل سے ہے یعنی خوا ہ اس نے صرف یہ عقیدہ ہی رکھاجبکہ فیصلہ اللہ تعالی کے حکم کے مطابق ہی کرتا ہے تو وہ کفر اکبر کا مرتکب اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
2- چونکہ ان امور کا تعلق دل سے ہے اور دل کا حال تو صرف اللہ تعالی ہی جانتا ہے لہذا کسی کے لئے جائز نہیں ہے کہ ان امور سے کسی پر کفر اکبر کا فتویٰ لگائے جب تک کہ وہ اپنی زبان سے اس کا اقرار نہ کرے یا اس کی تصریح نہ کردے۔
ب۔
اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے کے خلاف فیصلہ کرنے کی دوسری صورت یہ ہے کہ اس فیصلے کو جو اس نے نافذ کیا ،وہ اللہ تعالی کے فیصلے کے خلاف ہے اور اسے یقین ہے کہ یہ فیصلہ جائز نہیں ہے اور اللہ تعالی کے فیصلے سے بہتر یاافضل نہیں یا اس کے برابر نہیں ہے اور اسے جھٹلایا نہیں اورنہ ہی اس فیصلے کو دین کی طرف منسوب کرتاہے لیکن اس نے یہ غلط فیصلہ صرف دنیاوی لالچ و مفاد کے لئے کیا ہے تویہ کفر اصغر ہے کفر اکبر نہیں۔ اس کی تین صورتیں ہیں۔
(استبدال، تقنین اور تشریع عام)
۱۔استبدال
اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے کے خلاف فیصلہ کرے لیکن اس نئے فیصلے کو شریعت کی طرف منسوب نہ کرے اور اسے یقین ہو کہ یہ فیصلہ جائزنہیں اورنہ ہی شریعت کے فیصلے سے بہتر ہے نہ ہی اس کے برابر ہے نہ ہی اسے جھٹلاتاہے ۔(اسے استبدال کہتے ہیں) اور یہ کفراصغر ہے۔اسکی دلیل ،اجماع ہے۔
علامہ ابن عبد البرؒ فرماتے ہیں:
‘‘اوراس پر علماء کا اجماع ہے جس نے بھی فیصلہ کرتے وقت ظلم اور ناانصافی کی، تو یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے اگر اس نے جان بوجھ کر اور جانتے ہوئے ایسا کیا’’۔
(التمہید جلد نمبر 16صفحہ نمبر358)
۲۔تقنین
اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے کے خلاف فیصلہ کرے اپنے اس قانون سے، جو اس نے خود بنایا ہے اوراسے یقین ہو کہ اس کا نیا فیصلہ اور قانون جائز نہیں ہے اور نہ ہی شریعت کے فیصلے سے بہتر ہے اور نہ ہی اسکے برابر ہے اور نہ ہی اسے جھٹلاتا ہے اورنہ ہی اسے شریعت کی طرف منسوب کرتاہے(اسے تقنین کہتے ہیں) اور یہ کفر اصغر ہے ۔ کیونکہ اس کے کفر اکبر ہونے کی کوئی دلیل ہی نہیں۔
۳۔تشریع عام
اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے کے خلاف فیصلہ کرے اپنے قانون سے، جو اسے پسند ہے اوراس قانون اور فیصلے کو اپنے ماتحت ،سب پر عام کردے اور لوگوں پر لازم کر دے لیکن اس کایقین ہے کہ اس کا قانون جائز نہیں ہے اور نہ ہی شریعت کے فیصلے سے بہتر ہے اور نہ ہی اسکے برابر ہے اور نہ ہی اسے جھٹلاتا ہے اورنہ ہی اسے شریعت کی طرف منسوب کرتا ہے(اسے تشریع عام کہتے ہیں)اور یہ صورت محققین علماء کے نزدیک کفر اصغر ہے اکبر نہیں۔ کیونکہ اس کے کفر اکبر ہونے کی صراحۃً کوئی دلیل نہیں ہے اور بغیر دلیل کے کوئی حکم نافذ نہیں کیا جاسکتا ، خاص طور پر کفر اکبر کے مسئلہ میں۔( اور اسی صورت میں اہل السنة والجماعة کے علماء کا اختلاف ہوا ہے)۔
نوٹ:۔ یہ بات اس لئے کہتے ہیں کیونکہ نافذ کرنے والے کا یہ یقین ہےکہ جو قانون اس نے نافذ کیا وہ جائز نہیں ہے اور نہ ہی شریعت کے فیصلے سے بہتر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ہر مسلمان بنیادی طور پر کفر سے پاک ہے اور اس کاعقیدہ درست ہے جب تک کہ اس سے کوئی ایسا قول یا عمل نہ ہو جائے جواسے یقینی طور پر دائرہ اسلام سے خارج کردے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رحمۃ اللہ علیہ ) فرماتے ہیں:
’’جس شخص کا اسلام یقین سے ثابت ہوجائے تو محض شک کی بنیاد پر اسے دائرہ اسلام سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
(فتاوی ابن تیمیہ جلد نمبر12صفحہ نمبر466)
اب دونوں فریقین کی تفصیل اور دلیل ملاحظہ فرمائیں۔
پہلا گروہ
تشریع عام کفر اکبر ہے اس قول کی طرف شیخ محمد ابراہیم آل الشیخ رحمہ اللہ اور شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ گئے ہیں۔انکی
دلیل نمبر ۱
قرآن و سنت میں ایسے حکمران کے کافر (کفر اکبر) ہونے کی کوئی خاص دلیل نہیں ہے اور ان علماء نے بھی صرف تعلیل بیان کی ہے دلیل نہیں ۔ اسے لئے جب شیخ صالح الفوزان نے کتاب التوحید میں شیخ محمد بن ابراہیم کا قول نقل کیا اس کے ساتھ دلیل بیان نہیں کی ۔ نہ شیخ محمد ابراہیم ؒنے اور نہ شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے دلیل بیان کی ۔
(اور جن عام آیات سےآپ نے استدلال کیا ہے ان کا جواب اس کے بعد ملاحظہ فرمائیں)
شیخ محمد ابراہیم اورشیخ صالح الفوزان کی تعلیل یہ ہے کہ ایسا حکمران جو پوری شریعت کے قوانین کو چھوڑ کر اپنے یا کسی اور کے قوانین کو نافذ کرتا ہے اور اپنے ما تحت سب پرلاگو کر دیتا ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ اس نے ان قوانین کو اللہ تعالی کے فیصلے سے افضل اور بہتر سمجھا ہے یا اس کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ قوانین اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے سے اچھے ہیں ۔
جواب
ان جلیل القدر واجب الاحترام فاضل علماء کی یہ تعلیل درست نہیں ہے مندرجہ ذیل وجوہات ملاحظہ فرمائیں:
۱۔تکفیر کے اہم ضوابط میں سے ایک ضابطہ یہ ہے کہ کافر صرف وہ ہے جس کے کفر پر کوئی دلیل موجود ہو قرآن سے یا سنت سے یا اجماع سے ۔ اور اس مسئلے میں کوئی دلیل نہیں ہے۔
۲۔ لازم سے کسی کے کافر ہونے کا استدلال کرنا بھی درست نہیں کیونکہ لازم کا بھی بعض اوقات ثبوت نہیں ہوتا ،یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ حکمران ایسا کرنے کے باوجود بھی ان قوانین کو شریعت کے قوانین سے افضل نہ سمجھتا ہو۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
‘‘یہ لازم نہیں ہے کہ اگر کوئی کہنے والا کچھ ایسا کہے جس سے اللہ تعالی کے اسماء و صفات کی تعطیل مقصود ہو، کہ اس کے عقیدہ میں تعطیل ہے، بلکہ ایسا شخص اسماء وصفات کو ثابت کرنے کاعقیدہ رکھتا ہے لیکن اسے اس لازم کا علم ہی نہیں۔’’
(فتاوی ابن تیمیہ جلد نمبر16 صفحہ نمبر461)
۳۔ اس لازم کے مسئلہ میں شک ہے کہ اس کا ایسا عقیدہ ہے کہ نہیں ؟ اور جب شک ہوتا ہے تو شک کی بنیاد پر دلیل قائم نہیں ہوسکتی اور شریعت کی حدیں بھی ساقط ہو جاتی ہیں اوریہ تو تکفیر کا مسئلہ ہے جو حدود و تعزیرات سے زیادہ سنگین ہے۔اور اس مشہور قاعدہ کے بھی خلاف ہے ۔ کہ جب احتمال وارد ہوتا ہے تو استدلال باطل ہو جاتا ہے۔
۴۔یہ لازم مشہور شرعی قاعدہ کے خلاف ہے
’’جس کا اسلام یقین سے ثابت ہو جائے اسےمحض شک کی بنیاد پر دائرہ اسلام سے خارج نہیں کیا جا سکتا‘‘
(فتاوی ابن تیمیہ جلد نمبر12صفحہ نمبر466)
۵۔ عقیدہ کا تعلق دل سے ہوتا ہے یعنی کسی شخص کا یہ عقیدہ ہے کہ اس نے فلاں چیز کو فلاں سے بہتر سمجھا ہے تو اسکا دل سے تعلق ہے اور دل کے احوال تو صرف اللہ تعالی ہی جانتا ہے جب تک کہ وہ شخص اپنی زبان سے اقرار نہیں کرتا کہ اس نے غیر اللہ کے فیصلہ کو اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے سے افضل سمجھا ہے اس پر کفر اکبر کا فتوی لگانا درست نہیں۔ اور اس مسئلہ کی دلیل حضرت اسامہ بن زید(رضی اللہ عنہ) کا مشہور قصہ صحیح بخاری اور مسلم میں ضروری ہے ۔جب انہوں نے ایک کافر کو کلمہ طیبہ پڑھنے کے بعد قتل کر دیا ، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے اسامہ بن زید (رضی اللہ عنہ) پر شدید غصہ کا اظہار کیا اور فرمایا :
کیا تو نے اس کا سینہ کھول کے دیکھا تھا کہ اس نے صرف زبان سے کلمہ پڑھا تھا؟۔۔۔۔۔۔
(بخاری،ح6872، 4269،مسلم،273)
۶۔اس لازم کے طریقے سے ایسے حکمران پر کفر اکبر کا فتوی لگانے سے دوسری لازم بات نکلتی ہے جس کے کفراکبر نہ ہونے کا اهل السنة والجماعة کااجماع ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص ،جو گھر کا سربراہ ہے اپنے گھر میں شراب خانہ کھول لیتا ہے اور اپنے ماتحت گھر والوں کو یہ کاروبار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اور یہ شخص کسی کی نصیحت سننے کے لئے تیار بھی نہیں ہے تو ایسا شخص کافر (کفر اکبر) نہیں ہے بلکہ کافر (کفراصغر) اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔
علامہ ابن عبدالبر(رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں:
’’اہل السنة والجماعة ، (اہل فقہ اوراہل اثر دونوں کا) اتفاق ہے کسی شخص کو اس کا گناہ اسلام سے خارج نہیں کرتا ہے چاہے یہ گناہ کتنا بڑا کیوں نہ ہو۔‘‘
(التمہید جلد نمبر16صفحہ نمبر315)
(نوٹ: ظاہر ہے کفر اورشرک اکبر کے علاوہ گناہ مقصود ہیں)
۷۔ یہ لازم بات درست نہیں ہے اسی لیے علامہ محمد بن صالح العثیمین (رحمۃ اللہ علیہ) نے اپنے اس قول سے رجوع کر لیا۔
ملاحظہ فرمائیں:
ان کا پہلا قول ،وہ فرماتے ہیں :
’’کیونکہ جس نے ایسا قانون نافذ کیا ،جو اسلامی شریعت کے خلاف ہے تو اس شخص نے صرف اس لئے ایسا کیا کہ اس کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ قانون جو اس نے نافذ کیا ،اسلام سے بہتر ہے اور لوگوں کے لئے زیادہ فائدہ مند ہے‘‘
(فتاوی ابن العثیمین جلد نمبر 2صفحہ نمبر143)
ان کا دوسرا قول کہ جس میں انہوں نے اپنے پہلے قول سے رجوع کیا ،وہ فرماتے ہیں:
’’اگر کوئی حکمران قانون نافذ کرے اور اسے دستور بنا دے جس پر لوگ چلتے رہیں اور اس کایہ عقیدہ ہے کہ وہ اس میں ظالم ہے اور حق تو قرآن وسنت میں ہے تو ہم ایسے شخص کو کافر نہیں کہہ سکتے کافر تو صرف وہ ہے جو غیر اللہ کے فیصلے کو بہتر سمجھے یا اللہ تعالی کے فیصلے کے برابر سمجھے۔‘‘
یہ فتوی( التحذیر فی مسئلہ التکفیر) کیسٹ میں موجود ہے اور اس فتوی کی تاریخ 22/03/1420ھ ہے جیسا کہ اس کیسٹ کےشروع میں بیان کیا گیاہے اورکتابی شکل میں بھی مارکیٹ میں موجود ہے۔
دلیل نمبر ۲:
بعض علماء نے اس آیت کو بطور دلیل پیش کیا۔ارشاد باری تعالی ہے
(وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ)
(سورۃ مائدہ آیت نمبر44)
جواب:
یہ بات درست ہے کہ اس آیت کریمہ کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس نے اللہ تعالی کے فیصلے کو چھوڑا ،وہ کافر ہے لیکن یہ ظاہر مندرجہ ذیل وجوہات کی وجہ سے درست نہیں۔
پہلی وجہ:
اہل السنة والجماعة کے علماء کا اجماع ہے کہ اس آیت سے ظاہر مراد نہیں ہے اور اس آیت کے ظاہر سے خوارج اور معتزلہ، کفر اکبر کا استدلال کرتے ہیں۔
مندرجہ ذیل علماء کے اقوال ملاحظہ فرمائیں:
۱۔ علامہ قرطبی (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں:
‘‘اس آیت کے ظاہر سے وہ لوگ کفر اکبر کی حجت بیان کرتے ہیں جو گناہوں کی وجہ سے کفر اکبر کا فتوی لگاتے ہیں اور وہ خوارج ہیں۔ اور اس آیت میں انکی کوئی حجت نہیں۔’’
(المفہم جلد نمبر5صفحہ نمبر117)
۲۔ حافظ ابن عبدالبر(رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں:
‘‘ اوراس باب میں اہل بدعة کی ایک جماعت گمراہ ہوئی ۔اس باب میں خوارج اور معتزلہ میں سے پس انہوں نے ان آثار سے حجت بیان کی کہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب کافر ہیں اور اللہ تعالی کی کتاب میں سے ایسی آیات کو حجت بنایا جن سے ظاہر مراد نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا
(وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ)(سورۃ مائدہ آیت نمبر44)‘‘
(التمہیدجلد نمبر16صفحہ نمبر312)
۳۔ امام آجری(رحمۃ اللہ علیہ ) فرماتے ہیں:
’’اورحروری (خوارج) جن متشابہ آیات کی پیروی کرتے ہیں ان میں سے یہ آیت بھی ہے‘‘
(وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ(
)سورۃ مائدہ آیت نمبر44)
اور اس آیت کے ساتھ یہ آیت بھی بیان کرتے ہیں
(ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ(
)سورۃ انعام آیت نمبر1)
’’پس جب وہ کسی حکمران کو دیکھتے ہیں کہ وہ بغیر حق کے فیصلہ کرتا ہے ،کہتے ہیں یہ کافر ہے اور جس نے کفر کیا اس نے اپنے رب کے ساتھ شریک بنا لیا ، پس یہ حکمران مشرک ہیں ،پھریہ لوگ نکلتے ہیں اور وہ کرتے ہیں جو آپ دیکھتے ہیں کیونکہ (وہ )اس آیت کی تاویل کرتے ہیں ۔‘‘
(الشریعہ صفحہ نمبر44)
دوسری وجہ:
[یہ] کہ اس آیت سے ظاہر مراد نہیں ہے۔ جس نے بھی گناہ کیا یا نافرمانی کی، تو اس نے بھی اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے کو چھوڑدیا۔
امام ابن حزم (رحمۃ اللہ علیہ ) (سورۃ مائدہ کی تینوں آیات 44،45،47) کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ‘‘تو معتزلہ پر لازم ہے کہ وہ ہر گناہ گار ظالم اور فاسق شخص کے کفر کی تصریح کریں کیونکہ جس نے نافرمانی کی اور معصیت کی، تو اس نے اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے کے مطابق فیصلہ نہیں کیا۔’’
تیسری وجہ:
اس آیت کریمہ سے ظاہر مراد نہیں ہے کہ اگر کوئی حکمران یا کوئی اور شخص، صرف ایک یا دو شریعت کے مسائل کے خلاف فیصلہ کرے یا اپنے ماتحت عوام پر صرف دو یا تین مسائل میں شریعت کے قوانین کے خلاف فیصلہ کرے تو بھی کافر(کفراکبر) ہوگا کیونکہ اس آیت کے ظاہر سے یہی مراد ہے کہ جس نے بھی اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے کو چھوڑ دیا، اس کی مقدار معین نہیں کی ،کہ ایک فیصلہ ہے یا دو ہیں یا سارے کے سارے شریعت کے فیصلے مراد ہیں اور ایسے حکمران کے کفر کی نفی تو آپ بھی کرتے ہیں جیسے کہ شیخ محمد ابراہیم اور شیخ صالح الفوزان نے بیان کیا۔
چوتھی وجہ:
[یہ] کہ اس آیت کریمہ سے ظاہر مراد نہیں ہے یہ آیت ایسے حکمران کے کفر کی دلیل نہیں بن سکتی ، کیونکہ اس آیت کریمہ میں کفر اکبر کی دلالت پر علماء کا اختلاف ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس(رضی اللہ تعالی عنہ)، حضرت عطاء اور حضرت طاؤس سے ثابت ہےکہ انہوں نے اس آیت کریمہ سے کفر دون کفر یعنی کفر اصغر ہی مراد لیا ہے اوریہ اختلاف ہر دور میں موجود تھا اور آج بھی موجود ہے۔اور قاعدہ کے مطابق
(اذا وجد الاحتمال بطل الاستدلال)
’’اس آیت سے استدلال باطل ہے‘‘
دلیل نمبر ۳
بعض علماء نے اس آیت کریمہ کوبطور دلیل پیش کیا ارشاد باری تعالی ہے
(أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ(
)سورۃ مائدہ آیت نمبر50)
جواب:
اس آیت کریمہ میں اس حکمران کے کافر ہونے کی واضح دلیل ہے جو اللہ تعالی کے فیصلوں سے دوسرے قوانین کو احسن اور افضل سمجھتا ہے اور اس مسئلے کو تفضیل کہتے ہیں ۔اور ایسے حکمران کے کافر ہونے میں ہمارا کوئی اختلاف نہیں۔ لیکن یہ آیت کریمہ ایسے حکمران کے کفر کی دلیل نہیں بن سکتی جو اللہ تعالی کی شریعت کو چھوڑ کر دوسرے قوانین نافذ کرے جب تک وہ ان قوانین کے بہتر اور افضل ہونے کی تصریح نہ کر دے۔
دلیل نمبر ۴:
بعض علماء نے اس آیت کریمہ کو بطور دلیل پیش کیا۔ارشادباری تعالیٰ ہے
(فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا(
)سورۃ نساء آیت نمبر65)
جواب:
اس آیت کریمہ سے کفر اکبر مراد نہیں ہے بلکہ ایمان کامل کی نفی مقصود ہے یعنی ایمان ناقص ہے وجوہات ملاحظہ فرمائیں:
پہلی وجہ:
یہ آیت انصاری بدری صحابی کے بارے میں نازل ہوئی جن کا حضرت زبیر بن عوام (رضی اللہ تعالی عنہ) سے جھگڑا ہوا اور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے حضرت زبیر(رضی اللہ عنہ) کے حق میں فیصلہ سنا دیا ،تو اس انصاری صحابی نے کہا : یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) آپ نے اس لئے حضرت زبیر(رضی اللہ عنہ) کے حق میں فیصلہ کیا کیونکہ وہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی۔
(بخاری حدیث نمبر 2059اورحدیث نمبر2362 اورمسلم حدیث نمبر6065)
تو کیا نعوذ باللہ یہ بدری صحابی کافر ہیں؟؟
دوسری وجہ:
شیخ الاسلام ابن تیمیہ(رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں:
’’اور یہ وہ آیت ہے جسے خوارج ایسےحکمرانوں کی تکفیرکے لئے بطور حجت پیش کرتے ہیں جو اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلوں کے خلاف فیصلہ کرتے ہیں۔‘‘
(منہاج السنہ جلد نمبر5صفحہ نمبر131)
اوراس آیت کریمہ پر شیخ بن باز(رحمۃ اللہ علیہ)کی تعلیق ملاحظہ فرمائیں۔
(فتاوی ابن بازجلد نمبر6،صفحہ نمبر249)
دلیل نمبر ۵:
بعض علماء نے اس آیت کریمہ کو بطور دلیل پیش کیا۔ارشادباری تعالی ہے
(أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا (
(سورۃ نساء آیت نمبر60)
جواب:
یہ آیت کریمہ کفر اکبر کی دلیل نہیں بن سکتی ،وجہ ملاحظہ فرمائیں:
اس آیت کریمہ سے منافقین مراد ہیں اوران کے نفاق کی دووجوہات ہوسکتی ہیں:
۱۔ ان کاشروع ہی سے ایمان نہیں بلکہ محض دعوی ہے ۔
۲۔ وہ اس لئے منافق ہیں کہ وہ طاغوت کے فیصلوں پر راضی ہوئے۔ اور جب کسی چیز میں احتمال ہوتا ہے تواستدلال درست نہیں ہوتا ،اس آیت کریمہ میں انہوں نے طاغوت کے فیصلے کو بہتر سمجھا ہے اوراس پر راضی ہوئے ،اسی لئے وہ کافرہیں۔
علامہ ابن جریرطبری (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں:
’’(يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا)(وہ چاہتے ہیں کہ فیصلہ کروائیں) یعنی اپنے جھگڑوں میں(إِلَى الطَّاغُوتِ) یعنی جن کی وہ تعظیم کرتے ہیں اور ان کے اقوال کو صادر کرتے ہیں اور ان کے فیصلوں پر راضی ہوتے ہیں اللہ تعالی کے فیصلوں کوچھوڑکر۔(وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ)یعنی اللہ تعالی نے انہیں حکم دیا کہ وہ ہر اس چیز کو جھٹلا دیں جو طاغوت لے کر آتا ہے اور جس کی طرف وہ فیصلے کرتے ہیں۔پس انہوں نے اللہ تعالی کے حکم کو چھوڑ دیا اورشیطان کی پیروی کی ‘‘۔
(تفسیرطبری جلد نمبر5صفحہ نمبر96)
دلیل نمبر ۶:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4415 جس میں یہودیوں کا تورات کے فیصلہ کے خلاف فیصلہ کرنے اور زانی کو رجم کی سزا کو چھوڑ کر اس کا منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے کی سزا دینااور اس قانون کو اپنے ماتحت سب یہودیوں کے لئے لازم کردینے کاقصہ بیان کیا ہے۔ بعض علماء نے اس حدیث کو بطور دلیل پیش کیا ہے۔
جواب:
یہ حدیث صحیح ہے اور یہودی بھی کافر (کفر اکبر) ہیں اس میں کوئی شک وشبہ نہیں۔ لیکن جس مسئلے میں ہمارا اختلاف ہے یہ حدیث اس مسئلے کی دلیل نہیں بن سکتی اور ایسا حکمران جو اپنی طرف سے قانون بناتا ہے اور اپنے ماتحت لوگوں پر لازم کر دیتا ہے ،یہودیوں کی طرح کافر نہیں ہے ۔
مندرجہ ذیل وجوہات ملاحظہ فرمائیں:
۱۔ یہودیوں نے اللہ تعالی کے فیصلے کا انکار کیا جو زانی محصن کے لئے تھا۔ جیسا کہ صحیح بخاری ، حدیث نمبر 4556 ،جب نبی کریم(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے ان سے سوال کیا کہ کیا رجم تورات میں موجود نہیں ہے؟ا نہوں نے جواب دیا تورات میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ تو اس طریقے سے انہوں نے انکار کیا اور انکار کرنے والا تو کافر ہی ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
۲۔ یہودیوں نے اللہ تعالی کے فیصلے کا انکار کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کے فیصلے کو تبدیل بھی کیا ،جیسا کہ صحیح بخاری 3635میں واضح ہے جب نبی اکرم(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے ان سے سوال کیا تم لوگ تورات میں رجم کے بارے میں کے بارے میں کیا جانتے ہو؟انہوں نے کہا ہم ان کو بدنام کرتے ہیں اور کوڑے مارتے ہیں۔ اسے تبدیل کہتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالی کے فیصلے کے خلاف فیصلہ کیا اور اس نئے فیصلے کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کر دیا۔ اور ایسا کرنا کفر اکبر ہے اس میں بھی کوئی اختلاف نہیں۔
لیکن کیا اس حکمران نے ایسا کیا جو اپنی طرف سے قوانین بناتا اور لوگوں پر لازم کرتا ہے؟
جواب واضح ہے کہ اس نے ایسا نہیں کیا کیونکہ اس نے نہ تو اللہ تعالی کے فیصلے کا انکار کیا اور نہ ہی اسے شریعت کی طرف منسوب کیا اور اس صورت کو استبدال کہتے ہیں اس کی تفصیل پہلے گزرچکی ہے اور یہ کفر اصغر ثابت ہوا۔ اور تبدیل اور استبدال میں فرق واضح ہے کہ تبدیل کرنے والا نیا قانون ،شریعت کی طرف منسوب کرتا ہے اور استبدال کرنے والا ایسا نہیں کرتا۔ یہ عمل ظلم فسق اور معصیت ضرور ہے لیکن کفر اکبر نہیں۔
حافظ ابن عبد البر(رحمۃ اللہ علیہ ) فرماتے ہیں:
’’اوراس حدیث میں بھی دلیل ہے کہ یہود اپنی تورات پرجھوٹ باندھتے تھے اور اپنے جھوٹ کو اپنے رب کی طرف منسوب کرتے اور اپنی کتاب کی طرف بھی منسوب کرتے تھے۔‘‘
(التہمیدجلد نمبر 14صفحہ نمبر9)
اس سے ثابت ہوا کہ دونوں مسائل ایک جیسے نہیں ہیں اور دونوں پر ایک ہی حکم ،کفر اکبر کا نافذ کرنا بھی درست نہیں۔
دلیل نمبر ۷:
بعض علماء حافظ ابن کثیر (رحمۃ اللہ علیہ) کا قول بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ حافظ ابن کثیر(رحمۃ اللہ علیہ ) نے جب تاتاریوں کے قوانین کی کتاب الیاسق پر تبصرہ کیا تو ان کے کافر ہونے کا اجماع نقل کیا
(البدایہ والنھایہ جلدنمبر13صفحہ نمبر128)
تو آج کے حکمرانوں نے تو وہی راستہ اختیار کیا ہے یہ بھی تاتاریوں کی طرح قوانین نافذ کرتے ہیں جن کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں تو اگر تاتاریوں کے کفر اکبر پر اجماع ہے تو آج کے حکمران کس طرح مسلمان ہو سکتے ہیں۔؟
جواب :
حافظ ابن کثیر(رحمۃ اللہ علیہ) نے تاتاریوں کے کفر پر جو اجماع بیان کیا وہ درست ہے اور تاتاری کافر تھے۔ کیونکہ وہ اپنے ایجاد کردہ قوانین کو حلال سمجھتے اور شریعت کے قوانین سے افضل سمجھتے تھے اور حلال سمجھنا استحلال ہے اوربہتر سمجھنا تفضیل ہے یہ دونوں صورتیں کفر اکبر کی ہیں جیسا کہ پہلے بیان کر چکے ہیں۔ وہ حلال سمجھتے تھے۔
اسکی دلیل شیخ ابن الاسلام ابن تیمیہ (رحمۃ اللہ علیہ) جو تاتاریوں اور حافظ ابن کثیر کے ہم سفر تھے فرماتے ہیں
’’تاتاری دین اسلام کو یہود و نصاری کے دین کی طرح سمجھتے تھے کہ یہ سب دین اللہ تعالی کی طرف راستے ہیں جیسے امت میں چار مذاہب ہیں یہ ادیان بھی ایسے ہی ہیں پھر ان میں سے کوئی یہودیوں کے دین کو ترجیح دیتا ہے اور کوئی نصاری کے دین کو ترجیح دیتا ہے اورکوئی دین اسلام کو۔‘‘
(فتاوی ابن تیمیہ جلدنمبر28صفحہ نمبر523)
اور تاتاری اپنے قوانین ’’الیاسق‘‘ کو شریعت کے قوانین سے بہتر اور افضل سمجھتے تھے اس کی دلیل حافظ ابن کثیر(رحمۃ اللہ علیہ) نے خودبیان کی، فرماتے ہیں:
’’الیاسق ایک کتاب ہے جس میں احکام کا مجموعہ ہے جو اس نے مختلف شرائع سے لیا ہے ۔یہودیت ،نصرانیت، اوراسلام سے ،اور اس میں اکثر احکام چنگیز خان نے صرف اپنی ہوائے نفس کی بنیا دپر رکھے ہیں جو اس کے بعد میں آنے والوں کے لیے قابل اتباع شریعت بن گئی جسے وہ اللہ تعالی کی کتاب اور نبی کریم(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی سنت کے فیصلوں سے آگے کرتے تھے ۔ جس نے ان میں سے ایسا کیا وہ کافر ہے اس کے خلاف جنگ کرنا واجب ہے جب تک وہ اللہ تعالی کے حکم اوررسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے حکم کی طرف واپس نہ آئے ‘‘ ۔
(تفسیرابن کثیرجلد نمبر 2 صفحہ نمبر 88 سورۃ مائدہ آیت نمبر 50 کی تفسیر)
انہوں نے’ یقدمونها‘ کا لفظ استعمال کیا یعنی اسے آگے کرتے ہیں اور آگے کرنا تفضیل ہوتا ہے اور ایسا کرنے والا تو کافر ہی ہوتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کے حکمران بھی تاتاریوں کی طرح اپنے قوانین کو شریعت کے قوانین پر فضلیت دیتے ہیں یا انہیں جائز سمجھتے ہیں ؟ یقینی طور پر کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ ایسا کرتے ہیں کیونکہ یہ باطنی امر ہے اس کا تعلق ہے اور دل سے جب تک وہ صراحت سےیہ جواز یا فضلیت بیان نہ کریں جیسا کہ تاتاریوں نے کیا تھا اس لئے ان پر کفر اکبر کا فتوی لگانا درست نہیں۔
دلیل نمبر ۸:
بعض علماء شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رحمۃ اللہ علیہ) کا قول بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رحمۃ اللہ علیہ )فرماتے ہیں:
’’ایسے حکمران کی مثال ایسی ہےجیسے کوئی شخص اللہ تعالی یا نبی کریم(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) یا قرآن کی تعظیم تو دل سے کرتا ہے لیکن اللہ تعالی کو یا نبی کریم(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کو گالی دیتا ہے یا قرآن مجید کی بے حرمتی کرتا ہے (نعوذباللہ) تو ایسے شخص کیلئے ضروری نہیں کہ وہ زبان سے تصریح کرے بلکہ اس کایہ عمل ہی کافی ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔‘‘
جواب:
اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص اللہ تعالی کو یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کو گالی دیتا ہے یا قرآن مجید کی بے حرمتی کرتا ہے وہ کافر ہی ہے اس پر اجماع ہے لیکن کیا شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رحمۃ اللہ علیہ) ہر حکمران پر کفر کا فتوی لگاتے ہیں جس نے تشریع عام کونافذ کیا؟
نہیں۔!
مندرجہ ذیل وجوہات ملاحظہ فرمائیں:
۱۔خود شیخ الاسلام ابن تیمیہ(رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں:
’’اور انسان جب بھی حرام چیز کو ،جس کے حرام ہونے پر اجماع ہو ،حلال کر دے یا حلال چیز جس کے حلال ہونے پر اجماع ہو، اسے حرام کر دے یا اس شریعت کو تبدیل کر دے جس پر اجماع ہو، تو وہ کافر اور مرتد ہے اور اس پر فقہاء کا اتفاق ہے۔‘‘
(فتاوی ابن تیمیہ جلدنمبر3صفحہ نمبر267)
آگے فرماتے ہیں:
’’اور شرع مبدل (یعنی تبدیل شدہ شریعت) وہ ہے جس میں اللہ تعالی پر اور رسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) پر جھوٹ باندھا جائے یا لوگو ں پر جھوٹی شہادتوں کے ذریعہ سے جھوٹ باندھا جائے اور یہ کھلا ظلم ہےپس جس نے یہ کہا کہ یہ اللہ تعالی کی شریعت میں سے ہے تو وہ بلا نزاع کے کافر ہے ۔‘‘
(فتاوی ابن تیمیہ جلدنمبر3صفحہ نمبر268)
تو اس سے ثابت ہوا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رحمۃ اللہ علیہ) اس حکمران کے کافر ہونے کے قائل ہیں جو تشریع عام کو اللہ تعالی کے دین کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے تبدیل کہتے ہیں جیسے کہ پہلے بیان ہو چکا ہے یہ کفر اکبر ہے اور اس پر اجماع ہے۔
۲۔ جن چیزوں سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ(رحمۃ اللہ علیہ) نے استدلال کیا ہے یعنی اللہ تعالی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کو یا دین اسلام کو گالی دینا ،کہ یہ کفر اکبر ہے ایسے شخص کے کافر ہونے پر اجماع ہے تو اس صورت میں ایسے حکمران کے کافر ہونے پر کیسے مشابہ ہوسکتی ہے جس کے کفر پراجماع ہی نہیں ہے بلکہ قوی اختلاف ہے۔ اسی لئے قرآن مجید میں بھی آپ ذرا غور کریں جب اللہ تعالی نے اس مسئلہ کو بیان کیا تو تین مختلف احکام کے ساتھ بیان کیا۔
[فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ]
یہ کفر ہے۔
[فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ]
یہ کفر نہیں بلکہ فسق ہے۔
[فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ]
یہ بھی کفر نہیں بلکہ ظلم ہے۔
اوراگر ان آیات کریمہ سے ظاہر بھی لیا جائے تو پہلا کفر اکبر ہوگیا اور باقی دو کفر اصغر ہیں۔
توجب یہ دونوں چیزیں مختلف ہیں تو ان کاحکم بھی مختلف ہے۔ تو اس سے ثابت ہوا شیخ الاسلام ابن تیمیہ(رحمۃ اللہ علیہ ) کا اشارہ اس حکمران کی طرف ہے جس کے کفر پرعلماء کا اجماع ہے اور ان چھ صورتوں میں تشریع عام شامل نہیں ہے۔ پہلے گروہ کے یہ آٹھ دلائل سب سے زیادہ قوی تھے جن کی تفیصل اور جواب بیان کیا گیا ہے ان کے علاوہ اور بھی دلائل ہیں جوان سے زیادہ کمزور ہیں ۔
دوسراگروہ
تشریع عام کفر اصغر ہے کفر اکبر نہیں ،اس قول کی طرف شیخ بن باز، شیخ بن عثمین اور علامہ البانی (رحمۃاللہ علیہم اجمعین) گئے ہیں۔ ان کی دلیل اس صورت میں حکمران کے کافر ،کفر اکبر ہونے کی دلیل ہے ہی نہیں بلکہ ایسا حکمران ظالم ،فاسق اور گناہ گار ضرور ہے اور کفر اصغر کا مرتکب ہے اور بغیر دلیل کے کسی مسلمان پر کفر اکبر کا فتوی لگانا جائز نہیں اور بنیادی طور پر ہر مسلمان غلط عقیدہ اور کفر سے پاک ہے جب تک کہ اس سے کوئی ایسا قول یا عمل نہ ہو جائے جس سے یقینی طور پر وہ دائرہ اسلام سے خارج نہ ہو جائے۔ اور ان علماء کے باقی دلائل بیان کر چکے ہیں جو دوبارہ دہرانے کی ضرورت نہیں۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں علم نافع اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اور ہماری امت کو ہر فتنے کے شر سے محفوظ فرمائے اور شرک ،بدعات اورخرافات سے ہماری امت کو پاک کر دے اور ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو شریعت کے احکام نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کو حق کی سمجھ عطا فرمائے اور اس پر چلنے کی آسانی پیداکردے۔(آمین)
اللهم أرنا الحق حقا و أرزقنا اتباعه و أرنا الباطل باطلا و ارزقنا اجتنابه وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين وصلی اللہ علی سیدنا محمد وآله واصحابه اجمعین!
نظر ثانی و تصحیح
محترم الشیخ ابو عمیر السلفی حفظہ اللہ
ڈاکٹر مرتضی بخش حفظ اللہ
[ ڈاکٹر مرتضی الہی بخش حفظہ اللہ مدینہ یونیورسٹی , ابو عمیر السلفی جامعہ ابوبکر کراچی سے فارغ تحصیل عالم دین ہیں اور کچھ عرصہ سعودیہ بھی دینی خدمات دے چکے ہیں آجکل کل پاکستان ہی ہیں اور دعوت دین میں مصروف ہیں]
http://forum.mohaddis.com/threads/4736/
Related :
Jihad, Extremism
x
x
اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا دوزخ ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہوگا۔ اور اللہ اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لیے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے۔ (قران:4:93) او څوک چې یو مسلمان په لوی لاس (عمدي) ووژني، نو د هغه سزا دوزخ دی، چې تل به پکې وي او پر هغه باندې د الله غضب دی او الله پرې لعنت کړی او د هغه لپاره یې لوی عذاب تیار کړی دی. (سورت النساء، ایت: ۹۳)
Pages
- Home
- اردو ترجمہ کرو
- پښتو ته ژباړه
- Paigham-e-Pakistan پیغام پاکستان
- Terrorism? دہشت گردی کیا
- تکفیری خوارج فتنہ
- Takfir; Doctrine of Terror
- Takfir: Refutation from Quran
- Edict الفتوى
- Rebellion for Shari'ah
- Why Pakistan created?
- The Islamic State : الدولة الإسلامية
- Jihad, Myth and Reality
- Caliphate: Redundant or Relevant
- Eduction & Learning
- Muslims & Non Muslims
- Anti Islam
- Vidoes
- About
Search This Blog
Featured Post
National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘
National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...
Showing posts with label Takfiri. Show all posts
Showing posts with label Takfiri. Show all posts
Monday, December 2, 2019
اسلام اور حکمران, مسئلہ تحکیم
Sunday, December 1, 2019
Politics of Religion & Extremism must be Avoided مولانا فضل الرحمٰن
Molana Fazlur Rahman is power hungry crook, opportunist and a greedy religious politician. [all these traits are normal among politicians but he has more of them]. He has been dreaming to be Prime Minister of Pakistan since long. He is ready to to go to any extent to fulfill this egocentric dream.
تاریخی طور پر علماء سیاست اور طاقت و حکمرانی میں عمل دخل سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھتے تھے اور ان کی توجہ دین کی تعلیم و تبلیغ پر رہی- مگر آج کل پاکستان میں علماء سیاست میں داخل ہو کر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنےلیے دین اسلام کو ڈھال کے طور پر استمال کرتے ہیں.علماء کی ساکھ (credibility) خراب ہوتی ہے، لوگ ان کی درست مذہبی باتوں پر بھی دھیان دینا چھوڑ دیتے ہیں، یہ اسلام کے ساتھ زیادتی ہے.... مزید آخر میں ......
The story of of his request to the US Ambassador to help him to become the Prime Minister is well known. He told earlier to “the powers to be”, to make him PM, once reminded that due to his extremists and religious tilt he may not be acceptable to the international establishment particularly USA, he responded that, should he be given an opportunity, he will come up to the expectations of everyone including USA, would do whatever is expected. Once cautioned that his followers who had been listening to his anti American speeches would tear him apart. Molana replied that it should be left to him, he knows how to handle those fools!
After 2018 elections Molana has been cut to size in politics, this is first time that he is out of power. It is difficult for him to reconcile with this reality. He is instrumental in in using main opposition parties to give tough time to the government and establishment. The two main political parties are finding it difficult to defend their leadership from corruption cases, hence its a mutually beneficial political arrangement. Molana is too pleased to be the coordinator opportunist. Use of religious card by Molana was not well received by main political parties especially PPP.
Molana is so desperate for power that, he is is mobilizing and using young Madrissa students for political gains.
He is using religion as a tool to defame the PM and government. He is is falsely accusing the PM and the government to be Qadiani and pro Qadiani. This is a very serious allegation it should not be taken lightly as we know that religious motivation leads to extremism and terrorism. This is Takfeer, [False accusation of Kufr to a Muslims, falls back upon the accuser]. People are very sensitive to Qadiani issue, slander is religiously incorrect and a grave sin.
Similarly the concept of Takfeer was used br TTP and other terror groups. Pakistan has already lost over 70000 lives and suffered a loss of over 125 billion dollars.
The enemy across the border and Anti Pakistan forces look forward for religious extremists to use them as tool to create unrest in Pakistan. The case of of Iraq, Syria, Yemen is just fresh. ISI/ Daesh was used as a tool very effectively to destabilize those countries.
Pakistan army is the biggest hurdle to the nefarious designs of Anti Pakistan forces. We cannot afford another religiously motivated unrest in the country.
Previously we experienced long March and Dharna by Molana Tahir Ul Qadri which was tactfully handled by Zardari government. But there is lot of difference here, Maulana Fazlur Rahman is not Maulana Tahir Ul Qadri.
Molana Fazlur Rahman is very shrewd politician who has been in power in KPK, Balochistan and part of Federal Government. He has representation at National and provincial assemblies. He is a politician with active and strong base in political and religious fields. He should not be taken lightly. In desperation he can go to any extent. His recent Anti Pakistan and anti Army speeches indicate his state of mind.
There is a need to watch him very carefully and to handle him politically with tact, avoiding any bloodshed which he desires. We don't need another Lal Masjid or Takfiri Taliban Part II.
نمود اور بقا کے لیے قوموں کو ایک کم از کم اتفاقِ رائے درکار ہوتاہے ۔ قومی دفاع کے معاملات پر آباد ی کے تمام طبقات یک زبان ہوتے ہیں ۔ افغانستان سے تابوت امریکہ پہنچتے ہیں تو کوئی اخبار اس کی تصویر چھاپتا ہے اور نہ کوئی مبصر ٹی وی پہ واویلا کرتا ہے-
قومی سلامتی سے متعلق کوئی بھی تجزیہ شائع کرنے سے پہلے نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ اجازت طلب کرتے ہیں-
بھارت میں پریس بظاہر آزاد ہے لیکن خارجہ پالیسی پہ خامہ فرسائی کرنے والے احتیاط کی آخری حدود کو ملحوظ رکھتے ہیں ۔ مستقل طور پر باہم الجھتی رہنے والی کوئی قوم اس دشمن کا سامنا کیسے کرسکتی ہے ، جو اسے صفحہ ء ہستی سے مٹا دینے کے درپے ہے ۔
حضرت مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد کا گھیرائو کرنے کی تیاریوں میں ہیں ۔ ۔حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ العالی کا ایجنڈا صرف یہ ہے کہ کسی بھی قیمت پر اس پارٹی کی حکومت اکھاڑ پھینکی جائے ، جس نے انہیں سیاسی میدان سے تقریباًبے دخل کر دیا ہے ۔ یہ وہی صاحب ہیں ، امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن سے جنہوں نے کہا تھا کہ وزیرِ اعظم بننے میں ان کی مدد کی جائے ۔ ڈیڑھ عشرے قبل دلّی کے دورے پر تشریف لے گئے تو تجویز کیا کہ ایک گول میز کانفرنس بلا کر پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش کی کنفیڈریشن بنا دی جائے ۔ قاضی حسین احمد مرحوم نے تاویل کرنے کی کوشش کی تو سیکرٹری جنرل منور حسن نے احتجاج کی آواز بلند کی ۔ پارٹی کو ان کا دفاع کرنے سے روک دیا ؛ہرچند کہ پختون خواہ کی حکومت میں وہ ان کے حلیف تھے ۔ اسی ہنگام کابینہ کے ایک اجلاس میں جنرل پرویز مشرف نے بتایا کہ جنابِ مولانا کو بھارتی حکومت سے نقد داد ملی ہے ۔ مذہبی امور کے وزیر محمود غازی مرحوم اس دنیا سے چلے گئے لیکن مشرف کابینہ کے کچھ ارکان اب بھی دادِ سیاست دے رہے ہیں ۔ حکومت سے نجات پانے کی بے تابانہ خواہش میں حضرت مولانا اب ختمِ نبوت کا رڈ برتنے پہ اتر آئے ۔ مخالفین سوال کرتے ہیں کہ قادیانیوں کے باب میں نرم گوشہ تو ان کے حلیف نواز شریف نے دکھایا تھا حلف کی عبارت میں ترمیم انہوں نے کی تھی ۔ قادیانیوں کو بھائی انہوں نے کہا تھا ۔ اپنے بازوئے شمشیر زن رانا ثناء اللہ کو ان کی دلجوئی کا حکم آنجناب نے دیا تھا ۔ تب ان کی غیرتِ ایمانی کیوں نہ جاگی (ہارون رشید ، دنیا نیوز)
Related :
Jihad, Extremism
-----------------------
مذہبی سیاست کی حقیقت
تاریخی طور پر علماء سیاست اور طاقت و حکمرانی میں عمل دخل سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھتے تھے اور ان کی توجہ دین کی تعلیم و تبلیغ پر رہی- مگر آج کل پاکستان میں علماء سیاست میں داخل ہو کر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنےلیے دین اسلام کو ڈھال کے طور پر استمال کرتے ہیں.علماء کی ساکھ (credibility) خراب ہوتی ہے، لوگ ان کی درست مذہبی باتوں پر بھی دھیان دینا چھوڑ دیتے ہیں، یہ اسلام کے ساتھ زیادتی ہے.
آپﷺ نے فرمایا میرے بعد جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے والے بادشاہ ہوں گے جو ان کے جھوٹ کو تسلیم کرے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری نہ کرے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں ۔ ( تفسیر ابن کثیر 18:45)
وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دینی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)
” تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو او ر میرے غضب سے بچوباطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو” (قرآن٤٢- ٢:٤١)
“تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے؟ (قرآن٢:٤٤)
ٱتَّخَذُوٓا۟ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَٰنَهُمْ أَرْبَابًۭا
” انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو الله کے سوا رب بنا لیا ہے..” (سورۃ التوبہ،آیت 31)
اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾
کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے کیا آپ اس کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں؟ [سورة الفرقان (25) آیات (43)]
بدترین علماء
وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقَی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْمُہۤ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہ، مَسَاجِدُ ھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اٰدِیْمِ السْمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
” اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے (ظالموں کی حمایت و مدد کی وجہ سے ) دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔” (بیہقی)
یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطۂ حیات اور نظام علم ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں ” رسم قرآن” سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرأت سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔
مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔
اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دنی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)
افتراق کی سبب دو چیزیں ہیں، عہدہ کی محبت یا مال کی محبت۔ سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”ماذئبان جائعان أرسلا في غنم بأفسد لھا من حرص المرء علی المال و الشرف لدینہ” دو بھوکے بھیڑئیے ، بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور عہدہ کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دہ ہے۔ (الترمذی:۲۳۷۶ وھو حسن)
منافق کی نشانیاں
عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِیہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِنْہُنَّ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِنْ النِّفَاقِ حَتَّى یَدَعَہَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا عَاہَدَ غَدَرَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ. [صحیح البخاری:340 الإیمان، صحیح مسلم:58 الإیمان]
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چار خصلتیں ہیں، جس شخص میں وہ پائی جائیں گی وہ خالص منافق ہو گا، اور جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی اس میں نفاق کی ایک خصلت پائی جائے گی حتی کہ اسے ترک کر دے، [ وہ خصلتیں یہ ہیں ]
(١)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے
(٢) جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے
(٣) جب کوئی عہد کرے تو بے وفائی کرے اور
(٤) جب جھگڑا کرے تو ناحق چلے۔
[صحیح البخاری:340 الإیمان، صحیح مسلم:58 الإیمان]
جھوٹے ظالم ،خائین ، احمق حکمرانوں کے مددگاروں کو رسول اللہ ﷺ کی تنبیہ!
مسند احمد میں ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ (رض) سے آپ نے فرمایا :
اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے حضرت کعب نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ کیا ہے؟
فرمایا وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو
میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے
نہ میرے طریقوں پر چلیں گے
پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں
یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آسکتے
اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے ۔۔۔۔۔ (ماخوذ از تفسیر ابن کثیر 1:76)
اور اللہ کا فرمان ہے:
مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا (قرآن 4:85)
مفہوم : جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے
تاریخی طور پر علماء سیاست اور طاقت و حکمرانی میں عمل دخل سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھتے تھے اور ان کی توجہ دین کی تعلیم و تبلیغ پر رہی- مگر آج کل پاکستان میں علماء سیاست میں داخل ہو کر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنےلیے دین اسلام کو ڈھال کے طور پر استمال کرتے ہیں.علماء کی ساکھ (credibility) خراب ہوتی ہے، لوگ ان کی درست مذہبی باتوں پر بھی دھیان دینا چھوڑ دیتے ہیں، یہ اسلام کے ساتھ زیادتی ہے.
Friday, February 2, 2018
Sunday, June 18, 2017
Conquering minds
FREED from Al Qaeda in 2001, the Tora Bora caves and the tunnels in Afghanistan have now fallen to violent extremists linked to the militant Islamic State (IS) group. This strategic ‘victory’ for the terrorist group came after the US dropped the so-called mother of all bombs in April on its hideouts, a network of tunnels in Afghanistan.
The IS march in Afghanistan has once again proved that finding new physical spaces is not a major issue for the terrorists; many conflict-ridden, ungoverned, and poorly administered territories are available — from the sub-Saharan region to the tribal areas in the Arabian Peninsula, from the bordering region between Afghanistan and Pakistan to the Philippines.
As the terrorists continue to mount threats to physical security, the response is also expected to remain focused on employing greater force. This is also making it more challenging for Muslim power elites to take on the terrorists in their ideological and intellectual spaces. The Trump administration’s renewed focus on hard approaches to countering terrorism could provide these elites with more excuses to continue living in their mental comfort zones.
Ironically, the claimants of Muslims’ religious leadership, Saudi Arabia and Iran, are accusing each other of supporting terrorism. However, the Saudi and Iranian counterterrorism mantras and alliances are nothing more than efforts to secure their own petty political and strategic interests — at the cost of the lives of those these two countries claim to lead.
The IS is a manifestation of the intellectual bankruptcy of the Muslim ruling elites.
Their actions are not only bringing trouble to themselves but are also fuelling sectarian tensions in Muslim societies and polarising Muslim-majority nations by forcing them to choose sides. This is an appalling situation, mainly for many Muslim states including Pakistan, which are struggling to adjust to the strategic and economic meltdown in the Middle East.
The IS is a manifestation of the intellectual bankruptcy of the Muslim ruling elites. The real challenge thus is not the expansion of the group in physical spaces, but the mindset of the ruling elites and their partners, ie the clergy, which is scared of new ideas. They don’t realise that their traditionalism and orthodoxy are eroding their own foundations.
The need to evolve intellectual responses for countering extremism notwithstanding, a review of collective wisdom and its expressions is also important, mainly to measure a nation’s level of resilience and maturity. Parliament is the true representative of the collective wisdom of Pakistanis. It has recently suggested a neutral role for Pakistan in the Middle East crisis. Similar parliamentary advice came on the Yemen crisis. The policymakers and media of both Saudi Arabia and UAE criticised this stance.
A statement circulating on social media, attributed to a top Saudi official, that criticised Pakistani neutrality and parliament, should not be surprising because many believe that our Arab brothers are not interested in Pakistan’s democratic credentials, but in the country’s military power.
Let’s not forget that when parliament took a neutral position on Yemen, the UAE tried to punish Pakistan through developing a strategic partnership with India, although it knew that India could not support their misadventure in Yemen.
Many opinion makers in Arab countries also accused Pakistan for ‘using’ parliament as an excuse to not send its troops for military adventures. Though in that case parliament proved a blessing for the establishment, the maturity it has shown over the issue is commendable. However, the actual challenge for parliament is to build intellectual and policy capital.
One can debate the capacity of parliamentarians and the government’s somewhat indifferent attitude towards parliament, but this is still the institution which is keeping the country cohesive. This is the institution which should address the issue of extremism and the IS in our minds.
Parliament can take the lead in nurturing the process of inclusive nation-building, by initiating debates on the extent to which diversity has been dissipated by policies of the past and incorporating the voices of different groups in the country. Parliament can draw an outline of a fresh national narrative. It can engage with all departments or institutions of the government, informing them of the consequences of their actions on social diversity.
An active and effective parliament can fill the spaces which exist in our thoughts and that are exploited by multiple ideological players including the IS. It is recognised that terrorist groups are more afraid of non-violent, soft measures than hard measures. They exploit hard measures by pushing the narrative of the ‘victimhood of Islamic forces’ to justify both their existence and their violent acts. Their reaction is stronger if someone challenges their narrative; be it religious scholars, the media or opinion makers. There are plenty of examples available that they hit hard those who challenge their arguments.
The content analysis of any militant publication would be helpful to understand the ideological paraphernalia of a terrorist group. For example, an old issue of Ahya-i-Khilafat (Revival of the Caliphate), a mouthpiece of the Tehreek-i-Taliban Pakistan, consisted of 15 articles including an interview with its leader and profile of a leading commander. Four articles were dedicated to their operations and so-called successes, two were against secularism, two detailed articles were meant to elaborate and glorify the caliphate system; but four articles were allocated to build their case against democracy and parliament. One article titled ‘I am a constitutional man’ was a satire on religious political leaders, ie what did it mean (for the militants) in religious terms when these leaders said they believed in a constitutional democracy.
Parliament is a target of non-state actors and our Arab friends are also not happy with the institution on different grounds. One is not sure whether or not our parliamentarians know their importance and the role they have to play in developing a moderate and inclusive Pakistan. If parliament fails, it will fail the nation.
Conquering minds: by Muhammad Amir Rana, The writer is a security analyst.
https://www.dawn.com/news/1340229/conquering-minds
This recent tirade of radical 'Islamist violence' (which I define as a hybrid between theological and political aggression by Islamic entities) against a predominantly Muslim target pool, as opposed to 'culturally diametric' Western societies, has baffled many. As always, the counter-narrative on social media has been fierce and relentless, and quite diversified in the least. The last week saw Facebook and Twitter feeds turn into sordid carousels of tummy-tickling memes about fused-out politicians and gut wrenching images of bloodied bodies at the same time.
Unsurprisingly, the dramatic show of violence against innocents has regurgitated two interlinked pop-culture narratives (or perhaps 'counter-narratives') that have found strong currency in the past as 'valid counters to Islamophobia' – "terrorism has no religion”; and "these are not Muslims, they are psychopaths/criminals”. While they serve to immediately offset wholesale, irrational hatred against the global Muslim community after attacks by Islamist aggressors, the arguments are massively untenable in their own right.
Islamophobic monologues are generally premised upon a superficial understanding of terrorism, but what worries me is that the above counter-narrative too is a rabbit in rhino's skin. Is this 'pop culture' discourse against Islamist terrorism (and the resultant cultural hatred) a propagation of the same old reductive public discourse that is devoid of nuance and heavy on emotions? >>>>
http://peace-forum.blogspot.com/2016/07/understanding-terrorism-religion-socio.html
Counter-terrorism (also spelled counterterrorism) (also called anti-terrorism) incorporates the practice, military tactics, techniques, and strategy that government, military, law enforcement, business, and intelligence agencies use to combat or prevent terrorism. Counter-terrorism strategies include attempts to counter financing of terrorism.
If terrorism is part of a broader insurgency, counter-terrorism may employ counter-insurgency measures. The United States Armed Forces use the term foreign internal defense for programs that support other countries in attempts to suppress insurgency, lawlessness, or subversion or to reduce the conditions under which these threats to security may develop >>>.
“THIS is a war of narratives ... there is a dire need to come up with counter-narratives ... the menace of terrorism cannot be dealt with without countering the extremist, militant ideologies.” >>>>>
..........................................
Terrorism is, in its broadest sense, the use of intentionally indiscriminate violence (terror or fear) in order to achieve a political, religious, or ideological aim. It is classified as fourth-generation warfare and as a violent crime. In modern times, terrorism is considered a major threat to society and therefore illegal under anti-terrorism laws in most jurisdictions[citation needed]. It is also considered a war crime under the laws of war when used to target non-combatants, such as civilians, neutral military personnel, or enemy prisoners of war. Keep reading >>>.
This recent tirade of radical 'Islamist violence' (which I define as a hybrid between theological and political aggression by Islamic entities) against a predominantly Muslim target pool, as opposed to 'culturally diametric' Western societies, has baffled many. As always, the counter-narrative on social media has been fierce and relentless, and quite diversified in the least. The last week saw Facebook and Twitter feeds turn into sordid carousels of tummy-tickling memes about fused-out politicians and gut wrenching images of bloodied bodies at the same time.
Unsurprisingly, the dramatic show of violence against innocents has regurgitated two interlinked pop-culture narratives (or perhaps 'counter-narratives') that have found strong currency in the past as 'valid counters to Islamophobia' – "terrorism has no religion”; and "these are not Muslims, they are psychopaths/criminals”. While they serve to immediately offset wholesale, irrational hatred against the global Muslim community after attacks by Islamist aggressors, the arguments are massively untenable in their own right.
Islamophobic monologues are generally premised upon a superficial understanding of terrorism, but what worries me is that the above counter-narrative too is a rabbit in rhino's skin. Is this 'pop culture' discourse against Islamist terrorism (and the resultant cultural hatred) a propagation of the same old reductive public discourse that is devoid of nuance and heavy on emotions? >>>>
http://peace-forum.blogspot.com/2016/07/understanding-terrorism-religion-socio.html
Counter-terrorism (also spelled counterterrorism) (also called anti-terrorism) incorporates the practice, military tactics, techniques, and strategy that government, military, law enforcement, business, and intelligence agencies use to combat or prevent terrorism. Counter-terrorism strategies include attempts to counter financing of terrorism.
If terrorism is part of a broader insurgency, counter-terrorism may employ counter-insurgency measures. The United States Armed Forces use the term foreign internal defense for programs that support other countries in attempts to suppress insurgency, lawlessness, or subversion or to reduce the conditions under which these threats to security may develop >>>.
“THIS is a war of narratives ... there is a dire need to come up with counter-narratives ... the menace of terrorism cannot be dealt with without countering the extremist, militant ideologies.” >>>>>
Related :
Subscribe to:
Posts (Atom)
