Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Showing posts with label Wahabi. Show all posts
Showing posts with label Wahabi. Show all posts

Monday, March 6, 2017

Salfi-Takfiri- Khawaraj خوارج،سلفی اور تکفیری فکر کیا ایک ہیں ؟

 سعودی عرب میں اس وقت محمد بن عبدالوہاب کے پیروکاروں کی حکومت ہے۔ محمد بن عبدالوہاب کے نظریات اس وقت زیر بحث نہیں ہیں۔ ایک نکتہ مگر واضح کرنے کا ہے کہ ان کی تحریک کا زور شرک کا خاتمے پر زیادہ تھا۔یہ احباب، پیر، فقیر، تعویذ اور مزار کو شرک کی بنیاد سمجھتے ہیں۔کسی فنی بحث سے احتراز کرتے ہوئے سادہ الفاظ میں اگر بیان کیا جائے تومذہبی پیراڈائم کے اس فکر میں شرک کے خاتمے کا جو نکتہ نظر ہے، وہ مذہب کے نظریہ علم ( epistemology ) میں احکام و روایات کو سطحی انداز( superficially ) سے دیکھنے سے وجود میں آیا ہے۔ اس فکر نے شرک اور تہذیبی روایات کو خلط ملط کر دیا۔اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ یہ ذہنیت تہذیبی اور ثقافتی اقدار سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی چلی گئی۔ انہوں نے شرک و بدعت کے نام پر تمام ثقافتی اور تہذیبی روایات کو رد کر دیا۔


 ایک خون آشام تاریخ ہے جس کی ابتدا ضیاءالحق کے دور سے ہوتی ہے۔ کہانی کی بنت میں تار ایسے پروئے گئے کہ سوویت یونین کا اصل ہدف صرف افغانستان نہیں ہے بلکہ اس کا اصل ہدف گرم پانیوں کا حصول ہے۔ امریکہ کی ایما پر پاکستان نے مذہبی بنیادوں پر نجی جنگجوؤں کو منظم کر کے نجی جہاد کی داغ بیل ڈال دی ۔ اس کارخیر میں سعودی عرب نے بھی دنیا بھر سے جنگجو جمع کر کے افغانستان میں جھونک دیئے۔ امریکی ڈالر اور اسلحہ ، سعودی مجاہد اور ریال ، پاکستانی مذہبی جماعتوں کے کارکن اور نجی طور پر بھرتی کئے گئے جنگجوؤں سے جنگ کا آغاز کیا گیا۔ افغانستان سے مذہبی اور نیم مذہبی قبائلی اور سیاسی عمائدین اور جنگی سرداروں کو اسلام آباد، ریاض اور واشنگٹن میں اہمیت حاصل ہو گئی۔ روپیہ، ڈالر اور ریال کے بوریوں کا منہ کھولا گیا اور یوں اس جنگ کے نتیجے میں سویت یونین تاراج ہوا۔

جس طرح ہر جنگ کے کچھ نتائج نکلتے ہیں ویسے ہی اس جنگ کے بھی کچھ نتائج نکلے۔مجاہدین کے نزدیک یہ کفر کی شکست تھی۔ پاکستان کے نزدیک یہ سرخ پانیوں تک بڑھنے والے ٹاپوں کی شکست تھی۔ جبکہ امریکہ نے اپنے سب سے بڑے حلیف سویت یونین کو شکست دے دی اور اب دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ اس جنگ کے کچھ نتائج مگراور بھی نکلے تھے ۔ افغانستان کھنڈر میں تبدیل ہو گیا۔بیس لاکھ انسان لقمہ اجل بن گئے۔ تیس لاکھ لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے اور پرائے ممالک میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ ہزاروںا پاہج ہو گئے۔ تخت کابل کے لئے ایک نہ ختم ہونے لڑائی شروع ہو گئی۔ حتی کہ کعبے میں قرآن پر حلف اٹھا کر امن کی ضمانت دینے والے افغانستان پہنچ کر ایک دوسرے کے گلے کاٹتے رہے۔چار عشرے ہونے کو آئے مگرافغانستان کی زمین پرخون کے دریا ابھی تک بہنے بند نہ ہوئے۔ پاکستان میں گلی گلی کلاشنکوف سرکنڈوں کی طرح اگ آئے۔جن نجی جنگجوؤں کو پاکستان سے بھیجا گیا تھا وہ بیکار ہو گئے۔ اسلحہ، ڈالر اور ریال کی آمد ختم ہو گئی۔ اس بیکاری نے ان جنگجوﺅں کو افغانستان میں جاری خانہ جنگی کا حصہ بنا دیا کہ ان کو کرنے کا یہی کام آتا تھا۔ ازبک، چیچن اور القاعدہ کے جنگجوؤں نے قبائلی علاقوں میں محفوظ پناگاہیں بنا لیں۔ پھر افغانستان میں طالبان کا ظہور کا ہواتو یہی لوگ اب مجاہد کے بجائے طالب کہلائے جانے لگے۔ ان طالبان کی بھی پاکستان اور سعودی عرب نے امداد جاری رکھی۔ ان کی حکومت تسلیم کرنے والے بھی پہلے یہی دو ممالک تھے۔طالبان کے پانچ سالہ دور کی تاریخ تو ابھی کل کی تاریخ ہے۔ انہی طالبان کے بطن سے تحریک طالبان پاکستان نے جنم لیا۔


 احباب جتنا بھی اچھے اور برے طالبان کو الگ کر لیں مگر حقیقت یہی ہے کہ ٹی ٹی پی کے ڈانڈے افغان طالبان سے ہی ملتے ہیں۔ مالاکنڈ میں تحریک نفاذ شریعت محمدی کا آغاز کرنے والے صوفی محمد سے لے کر نیک محمد وزیر تک ابتدائی لوگوں نے افغان جہاد میں بھرپور حصہ لیا تھا۔ 2004 میں نیک محمد کے ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد بیت اللہ محسود کو افغان طالبان نے محسود علاقے کے لئے ملا عمر کا گورنر نامزد کر دیا۔ دسمبر 2007 میں مجاہدین یا طالبان کے 13 مختلف تنظیموں نے بیت اللہ محسود کی سربراہی میں ٹی ٹی پی کی بنیاد رکھی توبیت اللہ محسود نے سب سے پہلے ملا عمر کی امارت تسلیم کر لی۔ بیت اللہ محسود کے نائب امیر منتخب کئے جانے والے حافظ گل بہادر بھی پہلے روس کے خلاف مجاہدین کے ساتھ رہے تھے۔ اس کے بعد افغان طالبان کے ساتھ جنگ میں شامل تھے۔2006 میں جنوبی وزیرستان میں شریعت کے نفاذ کا اعلان کرنے والے مولوی نذیر احمد جب تک افغانی شہری تھے تو گلبدین کے حزب اسلامی کے ممبر تھے۔ پھر افغانی طالبان کا حصہ بنے۔ طالبان کی حکومت کے خاتمے پر وزیرستان میں آباد ہو گئے۔ جنوبی وزیرستان میں نفاذ شریعت کا اعلان مولوی نذیر نے افغان کمانڈروں ملا داد اللہ اور سراج الدین حقانی کی منظوری سے کیا تھا۔ولی الرحمن اور فضل اللہ بھی افغان طالبان کا حصہ رہے ۔ان کی فکر ایک ہے۔ ان کا بیانیہ ایک ہے۔

 مدعا یہ ہے کہ افغان طالبان کی جنگ ہویا پاکستانی طالبان کی جنگ، یہ دراصل ایک مذہبی بیانیے کی بنیاد پر لڑی جا رہی ہے۔ کچھ نظریات ہیں جو انہوں نے قائم کئے ہیں اور جن کو یہ نہ صرف درست سمجھتے ہیں بلکہ خدائی حکم سمجھتے ہیں۔ سب سے پہلے ان کے سامنے نظام کا معاملہ ہے۔ ان نزدیک کسی مسلم ملک کا نظام مملکت صرف شریعت ہو سکتی ہے۔ شریعت نافذ کرنا یہ اپنا فرض سمجھتے ہیں اور اس کے لئے جہاد و قتال لازم سمجھتے ہیں۔ اب شریعت کے مقابلے میں جو بھی نظام کھڑا ہے چاہے وہ جمہوریت ہو یا سوشلزم، یہ باطل اور کفری نظام قرار پاتا ہے۔ اس نظام کے چلانے والے، اس کی حفاظت کرنے والے اور اس کی حمایت کرنے والے ان کے نزدیک باطل کے ساتھی اور آلہ کار ہیں۔ اس لئے ان کے خلاف بھی جہاد جائز ہے۔ ان کے سامنے دوسرا کام کرنے کا یہ ہے کہ سماج سے کفر، شرک اور ارتداد کا خاتمہ کریں۔مسلم سماج میں کفر، شرک اور ارتداد میں جو بھی لوگ ملوث ہوں گے ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ ان کے نزدیک مسلم ملک میں کافر کی حیثیت ذمی کی ہو گی۔ ارتداد کی سزا قتل ہے اور شرک کا خاتمہ لازم ہے۔اس طویل کج بیانی کا مقصد دراصل’ شرک کے خاتمے‘ کے موضوع تک پہنچنا تھا۔

 سعودی عرب میں اس وقت محمد بن عبدالوہاب کے پیروکاروں کی حکومت ہے۔ محمد بن عبدالوہاب کے نظریات اس وقت زیر بحث نہیں ہیں۔ ایک نکتہ مگر واضح کرنے کا ہے کہ ان کی تحریک کا زور شرک کا خاتمے پر زیادہ تھا۔یہ احباب، پیر، فقیر، تعویذ اور مزار کو شرک کی بنیاد سمجھتے ہیں۔کسی فنی بحث سے احتراز کرتے ہوئے سادہ الفاظ میں اگر بیان کیا جائے تومذہبی پیراڈائم کے اس فکر میں شرک کے خاتمے کا جو نکتہ نظر ہے، وہ مذہب کے نظریہ علم ( epistemology ) میں احکام و روایات کو سطحی انداز( superficially ) سے دیکھنے سے وجود میں آیا ہے۔  <<< مزید پڑھیں >>>>

اس فکر نے شرک اور تہذیبی روایات کو خلط ملط کر دیا۔اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ یہ ذہنیت تہذیبی اور ثقافتی اقدار سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی چلی گئی۔ انہوں نے شرک و بدعت کے نام پر تمام ثقافتی اور تہذیبی روایات کو رد کر دیا۔
اس سے زیادہ بدقسمتی کیا ہو گی کہ اس ذہنیت نے مکہ اور مدینہ کے تمام تہذیبی ورثے کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا جو تمام مسلم امہ کا مشترکہ تہذیبی ورثہ تھا۔ آپ کو مکہ اور مدینہ میں صحابہ کرام کے دور کا کوئی تاریخی ورثہ نظر نہیں آئے گا۔ 
اس بات کی وضاحت کسی عالم نے ایک مشہور جملے سے کی تھی کہ، ’اس فکر نے عرب سے شرک مٹاتے مٹاتے پوری تاریخ مٹا دی‘۔ جن لوگوں نے جلیل القدر صحابہ کرام کے مزارات کے نشان مٹادیئے ، ان کے گھر، محلے اور سامان مٹا دیئے وہ ہمارے مزاروں کو کیسے بخش سکتے ہیں۔

عرب جنگجووں کے افغانستان آمد کے ساتھ اس خطے میں عربی ریال بھی آنے لگے اور کثیر تعداد میں عربی امداد سے مدارس قائم ہونے لگے۔ یہی ذہنیت ہمارے یہاں بھی مختلف فرقوں نے درآمد کر لی۔ اسی فکر کی بنیاد پر افغانستان میں بدھا کے مجسمے مسمار کئے گئے۔ اسی فکر کی بنیاد پر داعش نے عراق میں مزارات مسمار کیے۔ اسی فکر کی بنیاد پر رحمان بابا کے مزار کو گرایا گیا۔ اسی فکر کی بنیاد پر عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر دھماکے کئے گئے۔اور اب لال شہباز قلندر کے مزار پر دھماکہ کیا گیا۔

 ادھرہند آریائی سماج میں دھمال، قوالی اور درگارہ، مزار پر پھول اور چادر چڑھانا مذہبی سے زیادہ تہذیبی روایتیں ہیں۔ ہند آریائی سماج میں دس محرم کے جلوس کے راستے میں ہندو، سکھ اور مسلمان  سبیلیں لگاتے رہے ہیں۔ خواجہ نظام الدین اولیا کے مزار پر ہندو، سکھ اور مسیحی پھول اور چادر آج تک چڑھاتے ہیں۔ ننکانہ صاحب میں گرو نانک کے عرس میں مسلمان آج بھی شرکت کرتے ہیں۔ یہ مذہبی نہیں ہماری تہذیبی روایتیں ہیں۔ دہشت گردوں نے ہماری تہذیبی روایات پر وار کیا ہے۔ اس سے پہلے دہشت گرد ہمارے ملک، نظام ، سماجی ڈھانچے اور عقیدے کے خلاف لڑتے رہے ۔ ان انہوں نے تہذیب و ثقافت کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا۔ یہ جنگ بہت طویل اور صبر آزماہے۔ اس کا خاتمہ کچھ دہشت گرد پکڑنے یامارنے سے نہیں ہو نے والا۔ اس کے لئے سماج میں موجود تمام مذہبی طبقات کو ایک ساتھ بٹھا کر اس بیانیے کا متبادل بیانیہ سامنے لانا ہو گا اور اس کی مدتوں تبلیغ کرنی پڑے گی۔سماج میں موجود اس گروہی جہاد کے ہمدردوں ، ان کے عذرخواہوں اور ان کے استادوں کی جواب دہی کرنی پڑے گی۔مشکل یہ ہے کہ قومی بیانیہ ابھی تک اچھے برے میں پھنسا ہے ۔ آسان حل یہ ہے کہ ہر حملے کے بعد کسی دشمن ملک کی ایجنسی کا نام لیا جائے تاکہ خود کو بری الذمہ کیا جا سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان دھماکوں میں دشمن ممالک کی ایجنسیاں کسی نہ کسی سطح پر ضرور ملوث ہوں گی مگر جب تک آپ تعین کے ساتھ قوم کو یہ نہیں بتاتے کہ دشمن ممالک نے کن لوگوں کو استعمال کو کیا ہے؟ استعمال ہونے والوں کا اپنا بیانیہ کیا ہے؟ کیا استعمال ہونے والے صرف پیسے کے لئے خودکش حملے کر رہے ہیں یا اس کے پیچھے ایک پورا مذہبی بیانیہ موجود ہے؟ تب تک آپ لکیر پیٹتے رہیں، ہم ماتم مناتے رہیں گے۔

The Dogs of Hell: http://takfiritaliban.blogspot.com/2017/03/dogs-of-hell.html

http://takfiritaliban.blogspot.com/2017/02/terrorism-linked-with-wahabi-salfi.html

Related :

Jihad, Extremism

    Wednesday, February 1, 2017

    دہشت گردی اور ,شیعہ ،وہابی، سلفی تعلق؟ , Terrorism linked with Wahabi, Salfi Ideology?

    
    • What is Wahhabism? The reactionary branch of Islam said to be 'the main source of global terrorism:
    آج دنیا کے ہر خطّے میں اسلام کے اصلی چہرے "اسلام ناب محمدی" کو مسخ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دہشت گردی، قتل غارت، بھرے گھروں کا ویراں ہوجانا، ڈر، خوف و وحشت جیسے تمام مفاہیم کو اسلام کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دنیا میں بہت سارے سادہ لوح انسان دشمن کے اس بے بنیاد پروپیگنڈے کا شکار ہوچکے ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تمام چیزیں اسلام کا لازمہ ہیں جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام تو حقیقت میں امن، قربانی، ایثار اور پیار و محبت کی ایک روحانی دنیا ہے کہ جس کے حقیقی مفاہیم سے ابھی تک زمانہ ناآشنا ہے۔ اسلام امن و آشتی کا گہوارہ اور بہترین احساسات و اصول و ضوابط کا ایک مضبوط قلعہ ہے کہ جس کے اندر ڈر، خوف، بدامنی و قتل و غارت جیسی کسی چیز کا وجود نہیں۔ اگر آج بھی کوئی اسلام کے ان تمام احساسات کو قریب سے درک کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ اربعین حسینی ؑ کے موقعے پر کربلا کی طرف نگاہ کرے۔ یہاں اسے حقیقی اسلام و تعلیمات اسلام مجسّم صورت میں نظر آئیں گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ کون سے عناصر ہیں کہ جنہوں نے اسلام کو یہاں لاکر کھڑا کر دیا کہ آج لوگوں کے ذہنوں میں دہشت گردی و اسلام ایک ہی سکّے کے دو رخ محسوس ہوتے ہیں؟ کیوں آج دہشتگردی کے مفہوم کے ساتھ ہی اسلام کا مفہوم ذہن میں آتا ہے؟ کیا یہ نقصان اسلام کو صرف خارجی دشمن نے پہنچایا؟ یا پھر اسلام ہی کے اندر رہ کر اس کے داخلی و اندرونی دشمن نے؟ کہ جس کو آج تک امت مسلمہ پہچان ہی نہ پائی ہو۔

    تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ طولِ تاریخ میں اسلام کا سامنا ہمیشہ اِن دونوں دشمنوں سے رہا ہے، بلکہ اگر اس طرح کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اسلام کے نشیمن پہ غیروں سے زیادہ اپنوں نے بجلیاں گرائیں۔ ہمیشہ سے جو غفلت امت مسلمہ سے ہوئی وہ یہی ہے کہ مسلمانوں نے اپنے خارجی و بیرونی دشمن پر تو نظر رکھی مگر اندرونی دشمن کی طرف اصلاً توجہ نہ دی، جس کا نتیجہ آج ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح اگر آج بھی مسلمانوں نے اپنے اندرونی دشمن کو نہ پہچانا اور اسے اسلام کی صفوں سے باہر لا کھڑا نہ کیا تو کل شائد اس سے بھی زیادہ بدتر حالات کا سامنا کرنا پڑے۔ اس وقت مسلمانوں پر واجب ہے کہ تلاش کریں کہ ہماری صفوں میں موجود وہ کون لوگ ہیں کہ جنہوں نے اسلام کے سیاسی، نظریاتی، سماجی، معاشرتی و تعلیمی اصولوں پر کاری ضربیں لگائیں ہیں اور اسلام ِخالص کو تبدیل کرنے کی کوششیں کیں اور کر رہے ہیں۔ آج اسلام کے اندر جو فتنے جنم لے رہے ہیں، ان کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ تمام علماء اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان آٹھویں صدی ہجری تک انبیاء(ع)، اولیاء و صالحین امت کے بارے میں کلمہ وحدت کے قائل تھے۔ پیغمبراکرم (ص) کی زیارت کو مستحب و ان سے توسل کو حکم قرآن و اسلام سمجھتے تھے۔ بعد ازاں اسی آٹھویں صدی ہجری میں اسلام کے اندر ایک فتنہءِ عظیم نے جنم لیا کہ جس کے افکار و پیروکار آج بھی کثرت سے دنیا میں موجود ہیں۔ اس فتنے کو دنیا نے سلف و سلفیت کے نام سے جانا۔ ابتداء اسلام ابھی تک اسلام کو جسقدر اخلاقی، سماجی و نظریاتی نقصان اس فتنہءِ سلفیت نے پہنچایا، تاریخ میں اس جیسی کوئی مثال نہیں ملتی۔

    سلف لغت میں گذشتہ کو کہا جاتا ہے جیسے القوم السّلاف یعنی گذشتگان[1] اسی طرح سلفی سلف کی طرف منسوب ہے۔ ایک قول کی بناء پر سلفی و سلفیت سے مراد دین، عقیدہ و شریعت کو سمجھنے کے لئے گذشتگان[یعنی صحابہ و صلحاء امت] کی طرف رجوع کرنا ہے [2]، جبکہ ایک دوسرے قول کی بناء پر سلفی و وہابی میں کوئی فرق نہیں، دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ان کے عقائد و نظریات باطل ہیں۔ یہ جزیرۃ العرب میں وہابی جبکہ باہر سلفی کہلائے[3]۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن تیمیہ نامی شخص نے اس فتنے کو جنم دیا۔ اس کا اصل نام ابوالعباس احمد بن عبدالحکیم ہے۔ یہ 661ھ میں شام کے شہر حرّان میں پیدا ہوا۔ یہی وہ پہلا شخص ہے کہ جس نے پہلی دفعہ سلف صالح یعنی صحابہ کرام و تابعین عظام کی پیروی کا دعویٰ کرتے ہوئے زیارت پیغمبر (ص) کو حرام قرار دے کر مسلمانوں کے درمیان پرچم بغاوت بلند کیا، جبکہ حقیقت میں اس کا صحابہ کرام و تابعین عظام کے نظریات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسی کو سلفیت کا بانی بھی کہا جاتا ہے، لیکن اگر تاریخ کا دقت سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس فکر نے ابن تیمیہ سے پہلے ہی جنم لے لیا تھا۔ جیسا کہ حاکم نیشاپوری کی روایت کے مطابق سب سے پہلا شخص کہ جس نے تبّرک، توسل و زیارت پیغمبر اکرم (ص) کو حرام قرار دیا اور قبر رسول خدا (ص) کو پتھر سے تعبیر کیا، وہ مروان بن حکم اموی ہے[4]۔

    اسی طرح حجاج بن یوسف کا شمار بھی انھیں افراد میں ہوتا ہے۔ مبرد [5] کی روایت کے مطابق حجاج کوفہ میں خطبہ دیتے ہوئے رسول اکرم (ص) کی قبر کی زیارت کرنیوالوں کے متعلق یوں کہتا ہے "افسوس ہے ان لوگوں پر جو بوسیدہ ہڈیوں کا طواف کرتے ہیں۔ انہیں کیا ہوگیا ہے، یہ امیر کے قصر کا طواف کیوں نہیں کرتے، کیا نہیں جانتے کہ کسی بھی شخص کا خلیفہ اس کے رسول سے افضل ہوتا ہے [6]"۔ ذہبی {748ھ} [7] حجاج کے بارے یوں لکھتے ہیں "وہ ظالم، جبار، ناصبی، خبیث و سفّاک تھا۔ ہم اس پر سب و شتم کرتے ہیں اور اسے نہیں مانتے [8]"، جبکہ مروان کے بارے ذہبی یوں رقم کرتے ہیں "مروان کے اعمال بہت قبیح تھے، ہم خدا سے سلامتی کے طلبگار ہیں ۔۔۔۔الی الآخر[9]"۔ یہی وہ فکرِ باطلہ تھی کہ جو چلتی چلتی ابن تیمیہ و اسکے پیروکاروں تک پہنچی اور ان لوگوں نے اس فکر کو دل و جان سے قبول کیا۔ خود ابن تیمیہ اور اس کے باطل نظریات کے رد میں علماء اسلام میں سے بہت سارے جید علماء نے قلم اٹھایا ہے۔ جیسا کہ تقی الدین سبکی کی ایک کتاب کہ جسکا نام ہی "الدرۃ المضیئۃ فی الرد علی ابن تیمیہ" ہے۔[10] ذہبی اس بارے میں کہتے ہیں کہ "یقیناً ابن تیمیہ نے عالم اسلام کے نیک افراد کو ذلیل کیا اور اس کے اکثر پیروکار کم عقل، دروغ گو، کند ذہن و مکار ہیں۔" [11] حصنی دمشقی {829ھ} یوں لکھتے ہیں "ابن تیمیہ کافر و زندیق ہے ۔۔۔الی الآخر[12]۔ اسی طرح ابن حجر ہیثمی {973ھ} یوں بیان کرتے ہیں "ابن تیمیہ ایسا شخص ہے کہ جسے خداوند متعال نے اسکے اعمال کی وجہ سے اپنی رحمت سے دور رکھا، اسے گمراہ، اندھا و بہرہ بنا دیا اور اسے ذلیل و رسوا کیا۔" [13] اسی طرح بہت سارے علماء نے اس کے افکارِ باطلہ کو اپنی کتب یا فتاویٰ کے ذریعے رد ّکیا ہے۔ جن میں سرفہرست تاج الدین، تقی الدین سبکی، ابن حجر عسقلانی {852ھ}، ابن شاکر {764ھ}، ملا علی قاری حنفی {1016ھ}، اور شیخ محمود کوثری مصری {1371ھ} ہیں۔ [14]

    ابن تیمیہ کے افکار ہی تھے کہ جن کی بنا پر امت اسلامیہ کو نظریاتی و عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ جو ان کے نظریئے کا حامل ہو وہ مسلمان، باقی تمام انسانیت کفر و گمراہی کے اندھیروں میں ہے۔ مگر اس پر مسلسل علماء اہل سنت و دیگر مکاتب فکر کے علماء کی شدید مخالفت کی وجہ سے ابن تیمیہ کے منحرف عقائد و نظریات ایک بڑی تباہی کی بنیاد ڈال کر بتدریج پس پردہ ہوتے چلے گئے۔ ایسا محسوس ہونے لگا کہ گویا ان نظریات کا وجود اب نہیں رہا۔ جیسے ہی امت مسلمہ نے اس سے غفلت برتی اور اس پہلو سے صرفِ نظر کیا، تو یہ سستی و غفلت سبب بنی کہ اس فتنے نے 12ویں صدی ہجری میں ایک دفعہ پھر جنم لیا اور ساتھ ہی مسلمانوں کی وحدت پر ایک دفعہ پھر کاری ضرب لگائی۔ 12ویں صدی ہجری میں محمد بن عبدالوھاب نجدی نے ایک دفعہ پھر ابن تیمیہ کی فکر کو نہ صرف یہ کہ زندہ کیا بلکہ آل سعود کے زیر سایہ اسے عملی جامہ بھی پہنایا۔ محمد بن عبدالوھاب کی ولادت فتنوں کی سرزمیں نجد میں ہوئی۔ محمد بن عبدالوھاب نے جس تحریک کا آغاز کیا کہ جو حقیقت میں تحریک ابن تیمیہ کا ہی تسلسل ہے، اسے وھابیت کے نام سے شہرت ملی۔[15] یہ وہی تحریک ہے کہ جس کے متعلق صاحب ِکتاب "السلفیۃ و الوھابیۃ" نے کہا ہے کہ "سلفی و وہابی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں۔" [16] جبکہ دوسری طرف شیخ نجدی [17] کے والد، دادا، چچا و بھائی محمد بن سلیمان کا شمار اہل سنت کے صحیح العقیدہ حنبلی علماء میں ہوتا ہے۔ یہ تمام شیخ نجدی کے عقائد و نظریات کے سخت مخالف و اسکی تحریک سے بیزار تھے۔

    محمد بن عبدالوھاب کی تعلیمی سرگرمیوں پر اگر دقیق نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ شیخ نجدی کے تمام استاد انتہائی متعّصب و غیر مقلد تھے۔ ابن تیمیہ کی کتابوں و افکار سے مکمل طور پر متاثر تھے اور یہی تعلیم شیخ نجدی کو بھی دی۔ چنانچہ علامہ علی طنطاوی اس بارے میں یوں لکھتے ہیں کہ "مدینہ میں شیخ نجدی کی ملاقات دو ایسے اشخاص سے ہوئی کہ جو اس کی زندگی کا رخ بدلنے میں بہت موثّر ثابت ہوئے، ان میں سے ایک کا نام عبداللہ بن ابراہیم بن سیف تھا کہ جس کا اوڑھنا، بچھونا ابن تیمیہ و اسکے پیروکاروں کی کتابیں تھیں۔[18] اسی طرح ایک اور جگہ یوں بیان کرتے ہیں کہ"شیخ نجدی کہتا ہے کہ ایک دن ابن سیف نے مجھے کہا کہ کیا میں تمھیں وہ ہتھیار دکھاوں کہ جو میں نے مجمع والوں کے لئے تیار کیا ہے؟ شیخ نجدی نے کہا؛ ہاں، ابن سیف اسے ایک کمرے میں لے گیا کہ جو ابن تیمیہ کی کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ اسی طرح شیخ نجدی کا ایک اور استاد محمد حیات سندھی تھا کہ جو حضور (ص) و بزرگان ِ دین کی تعظیم و شفاعت کا سخت منکر تھا۔ جو آیات کافرین کے بارے میں ہوتیں، انھیں مسلمانوں پر چسپاں کرتا۔ علامہ علی طنطاوی مزید لکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ شیخ نجدی نے جو تمام لوگوں کو کافر قرار دیا ہے، یہ ہندوستان کے اسی غیر مقّلد عالم کی تعلیم کا اثر ہے۔"[19] اسی تعلیم و نظریاتِ باطلہ کو بنیاد بنا کر شیخ نجدی نے جزیرہ العرب میں نہتے مسلمانوں کا قتل ِ عام کیا۔ مسلمانوں کی تکفیر، ان کے قتلِ عام اور انکے اموال لوٹنے کی اباحت میں شیخ نجدی خود لکھتے ہیں "اور تم کو معلوم ہوچکا ہے کہ ان لوگوں {مسلمانوں} کا توحید کو مان لینا، انہیں اسلام میں داخل نہیں کرتا۔ ان لوگوں کا انبیاء (ع) و فرشتوں سے شفاعت طلب کرنا اور ان کی تعظیم سے اللہ کا قرب چاہنا، ہی وہ سبب ہے کہ جس نے ان کے ان کے قتل و اموال لوٹنے کو جائز کر دیا ہے۔[20]

    جن نظریات و افکار کو شیخ نجدی نے بیان کیا اور ان کی ترویج کی، وہ بعین ہی ابن تیمیہ کے نظریات ہیں۔ شیخ نجدی نے بھی ابن تیمیہ کی طرح توسّل سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "انبیاء (ع) کی عزّت و جاہ کے وسیلے سے دعا مانگنا کفّار سے مماثلت کی وجہ سے کفر ہے۔"[21] مزید یہ کہ شیخ نجدی نے نہ صرف یہ کہ شفاعت سے انکار کیا ہے بلکہ شیخ نجدی کے نزدیک حضور (ص) سے شفاعت طلب کرنا ایسا کفر ہے کہ جس کے بعد شفاعت طلب کرنیوالے کا قتل کرنا اور اسکا مال و اسباب لوٹنا مباح ہوجاتا ہے [22] جبکہ اس کے برعکس علماء اسلام اور بالخصوص امام اہل سنت محمد بن اسماعیل البخاری نے رسول خدا (ص) کے لئے شفاعت مطلقہ کا نظریہ اختیار کیا ہے[23] اور یہی مفہوم آیات قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول خدا (ص) کو نہ صرف یہ کہ شفاعت کا اختیار ہے بلکہ شفاعت کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے "اور اللہ تعالٰی سے ان لوگوں کی شفاعت کیجیئے، بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔[24] مزید یہ کہ شیخ نجدی نے تمام علماء اسلام کے اتفاق کے خلاف انبیاء (ع) و صلحاء ِامت سے استمداد و استغاثہ {یعنی مدد طلب کرنے کو} یدعون من دون اللہ کا جامہ پہنا کر عبادت غیر خدا قرار دیا[25] جبکہ اس کے برعکس امام بخاری، قاضی عیاض و دیگر محدثین یوں تحریر کرتے ہیں کہ "ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمر کا پیر سْن ہوگیا، اس سے کسی نے کہا کہ جو تم میں سب زیادہ محبوب ہو، اس کا نام لو۔ عبداللہ نے بلند آواز سے کہا؛ یامحمد (ص)، تو ان کا پاوں اسی وقت ٹھیک ہوگیا۔[26]

    شیخ نجدی اپنے باطل افکار کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے عوامِ اہل سنت و علماء اہلسنت کے قتل کو جائز قرار دیا۔ اس بارے میں علامہ ابن عابدین شامی متوفی {1252ھ} کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ "محمد بن عبدالوھاب کی مثال خوارج جیسی ہے کہ جنہوں نے حضرت علی (ع) کے خلاف خروج کیا تھا۔ اس کا اعتقاد یہ تھا کہ مسلمان صرف وہ ہیں کہ جو اسکے موافق ہیں اور جو ان کے مخالف ہیں، وہ مسلمان نہیں بلکہ مشرک ہیں۔ اسی بنا پر اس نے اہل سنت اور علماء اہل سنت کے قتل کو جائز رکھا۔[27] شیخ نجدی کے افکار کو باطل ثابت کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ شیخ نجدی کے منابع مدّاعی نبوت، مسلیمہ کذّاب، سجاح، اسود عسنی، طلیحہ اسدی و ابن تیمیہ جیسے گمراہ کن لوگوں کی کتابیں ہیں کہ جن کا شیخ نجدی بڑے شوق سے مطالعہ کیا کرتا تھا۔[28] لہذا یہی منابع و شخصیات سبب بنیں کہ شیخ نجدی گمراہی کے گھپ اندھیروں کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ اب خود رسول گرامی (ص) کی ذات بھی اس کے لئے قابل احترام نہ رہی۔ شیخ نجدی کے نزدیک رسول خدا (ص) پر تنقید کرنا ہی توحید کو محفوظ رکھنے کا واحد ذریعہ تھا۔" کبھی رسول خدا (ص) کو طارش یعنی چھِٹی رساں یا ایلچی کہتا، تو کبھی کہتا کہ واقعہ حدیبیہ میں بہت جھوٹ بولے گے تھے۔ اسکا اپنے حلقہ احباب کے اندر توہین رسالت کرنا اسقدر عام ہوگیا کہ ایک دفعہ اس کے سامنے اس کے ایک شخص نے کہا کہ "میری لاٹھی محمد (ص) سے بہتر ہے، کیونکہ یہ سانپ وغیرہ مارنے کے کام آتی ہے اور محمد (ص) فوت ہوچکے ہیں، اب ان میں کوئی نفع باقی نہیں رہا۔ وہ محض ایک ایلچی تھے، جو اس دنیا سے جا چکے۔"[29] شیخ نجدی ان باتوں سے خوش ہوتا۔ اگر غور و فکر کے دامن کو پکڑا جائے تو یہ افکار کوئی نیا مکتب نہیں، بلکہ اْسی حجاج بن یوسف و ابن تیمیہ کے مکتب کا تسلسل ہے۔

    شیخ نجدی کی نحوست و بدبختی اسقدر بڑھ گی تھی کہ اب اس کو رسول خدا (ص) پر درود پڑھنا سخت ناپسند تھا اور درود سننے سے اس کو سخت تکلیف ہوتی تھی۔ صرف یہاں تک ہی نہیں بلکہ کہا کرتا تھا کہ کسی فاحشہ عورت کے کوٹھے میں ستار بجانے میں اسقدر گناہ نہیں ہے کہ جسقدر مسجد کے میناروں سے حضور (ص) پر درود پڑھنے کا ہے۔[30] یہ ہیں وہ نظریات کہ جن کو شیخ نجدی نے عالم اسلام کے کونے کونے تک پہنچایا۔ دوسری طرف دنیا کے ہر خطّے میں موجود حق پرست علماء نے اس کے خلاف بھرپور قلم اٹھایا اور حتی الامکان اس کے نظریات ِ فاسدہ کا قلع قمع کرنے کی کوشش کی۔ شیخ ابی حامد مرزوق نے اپنی کتاب [31] میں تقریباً 42 ان علماء کی فہرست مہیا کی ہے کہ جنہوں نے محمد بن عبدالوھاب کے عقائد باطلہ کے رد ّمیں بڑی بڑی کتب تحریر کیں ہیں، تاکہ اس منحوس فتنے کے اثرات سے امت اسلامیہ محفوظ رہ سکے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فتنہ وھابیت، علماء اسلام کی شدید مخالفت کے باوجود، فتنہ ابن تیمیہ کی طرح ختم کیوں نہ ہوا؟ یہ آئے روز بڑھتا کیوں چلا گیا؟ اس کے پیچھے کیا محرکات و اسباب کارفرما تھے اور ہیں؟ آخر کیوں یہ اسلام و مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن، ابھی تک ہماری صفوں میں کھڑا ہے؟ تاریخ اس بات کا ایک ہی جواب دیتی ہے کہ فتنہ وہابیت بھی دوسرے فتنوں کی دب جاتا اور بلآخر ختم ہو جاتا، مگر جیسے ہی یہ فتنہ اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا کہ عین اسی وقت اقتدار میں موجود خاندان آل سعود نے اسلام کے اس دشمن کو سہارا دیا اور اپنی آغوش میں پال کر بڑا کیا۔

    اس بارے میں مفتی محمد عبدالقیوم یوں بیان کرتے ہیں کہ "محمد بن عبدالوھاب کا ظہور 1143ھ میں ہوا۔ اسکی تحریک 1150ھ میں مشہور ہوئی۔ اس نے پہلے اپنے عقیدے کا اظہار نجد میں کیا اور مسلیمہ کذّاب کے شہر درعیہ کے امیر محمد بن سعود کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔ پھر ابن سعود نے اپنی رعایا پر زور ڈالا کہ وہ شیخ نجدی کی دعوت کو قبول کریں۔ پس اہل درعیہ نے مجبوراً دعوت قبول کرلی۔ شیخ نجدی کی دعوت پھیلتی گی، حتی کہ عرب کے قبائل یکے بعد دیگرے دعوت پر لبیک کہتے گئے۔"[32] ایک اور جگہ مفتی عبدالقیوم یوں لکھتے ہیں کہ "شیخ نجدی نے اپنے دین کو پھیلانے کا کام محمد بن سعود کے ذمے سونپ دیا۔ وہ شرق و غرب میں اس کی دعوت پھیلاتا اور سرعام کہتا کہ تم سب لوگ مشرک ہو، تمہارا قتل کرنا، مال و اسباب لوٹنا جائز ہے۔ محمد بن سعود کے نزدیک مسلمان ہونے کا معیار فقط شیخ نجدی کی بیعت تھی۔ محمد بن سعود علی الاعلان کہا کرتا تھا کہ آئمہ اربعہ {امام شافعی، امام مالک، امام احمد اور امام ابو حنیفہ} کے اقوال غیر معتبر ہیں اور جنہوں نے مذاہب اربعہ میں کتابیں لکھیں ہیں، وہ لوگ خود بھی گمراہ تھے اور دوسرں کو بھی گمراہ کیا۔"[33] محمد بن سعود نے اس ذمہ داری کو اتنے خلوص سے ادا کیا کہ شیخ نجدی نے محمد بن سعود کی خاطر "کشف الشبہات" نامی ایک رسالہ تحریر کیا کہ جس میں کھل کر اپنے عقائد فاسدہ کا اظہار کیا۔ اس میں اس نے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا، اور کہتا تھا کہ پچھلے 6 سو سالوں سے تمام لوگ کافر و مشرک ہیں۔ ابن سعود نے اس رسالے کو اپنی مملکت کی حدود میں نافذ کیا اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت دیتا اور شیخ نجدی کے ہر حکم کی تکمیل کرتا۔

    پس محمد بن عبدالوھاب "نجدی" قوم میں ایک نبی کی شان سے رہتا تھا۔[34] اسی طرح پھر محمد بن سعود کے بعد عبدالعزیز بن سعود اور پھر سعود بن عبدالعزیز، یہ تمام خاندانِ آل سعود کے وہ ظالم و سفّاک افراد ہیں کہ جنہوں نے وہابیت کی بنیادوں کو مضبوط بنایا اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے۔ لہذا آج 12 ربیع الاول 1437ھ۔ق میں سعودی حکومت کا لاکھوں عاشقانِ رسول (ص) کو رسول خدا (ص) کی ذات گرامی پر درود پڑھنے کے جرم میں مسجد نبوی، صحن جبرائیل سے باہر نکال دینا کوئی نئی بات نہیں [35] کیونکہ یہ آج بھی وہی خاندانِ آلسعود ہے کہ جس نے کل وھابیت کی آبیاری کی تھی۔ یہ آج بھی اسی شیخ نجدی کے پیروکار ہیں کہ جس نے امت کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ آج دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشتگردی، قتل و غارت کا بازار گرم ہے تو یہ سب سلف و سلفیت اور وہابیت جیسے افکار کے مرہونِ منت ہے۔ القاعدہ ہو، لشکرجھنگوی، طالبان ہوں یا پھر داعش یہ سب انھیں افکار کے سائے میں پلے بڑھے ہیں۔ ان کے نزدیک دنیا کا ہر انسان کافر و مشرک ہے۔ لہذا کل کی طرح آج بھی یہ اسلام کے حقیقی چہرے کو تبدیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مقام فکر تو یہ ہے کہ وہ خاندانِ آل سعود کہ جس کا عقائد اہل سنت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، وہ پوری اہل سنت کمیونٹی کی سرپرستی کا دعویٰ کس منہ سے کرسکتا ہے۔ الغرض یہ کہ آج دنیا کے کسی خطے میں بھی اگر اسلام کو مشکلات و دشواری کا سامنا ہے، تو اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ آج امت مسلمہ اپنے اندرونی دشمن کو نہیں پہچانا اور اسے اپنی صفوں سے باہر نہیں نکالا، یا پھر پوری امت مسلمہ، نہ جانے کن مصلحتوں کا شکار ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج مسلمانوں کو اپنے خارجی دشمن کے ساتھ ساتھ، اپنے اندرونی دشمن پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔ آخر میں آل سعود کے بارے میں بس اتنا کہوں گا کہ اسلام نے ان کے مزاج، فطرت اور عادات کا کچھ نہیں بگاڑا، یہ ظہورِ اسلام سے پہلے جیسے تھے، آج بھی ویسے ہی ہیں، بقولِ اقبال
    یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
    منابع
    [1] معجم مقاییس اللغۃ [مادہ سلف] ج ۲ ص ۳۹۰
    [2] الصعوۃ الاسلامیہ ص ۲۵ قرضاوی
    [3] حسن بن سقاف ص ۱۹ طبع دارالامام النووی اردن ،عمان
    [4] مسند احمد بن حنبل ج ۵ ص ۴۲۲[مروان وجناب ابو ایوب انصاری والی روایت]
    [5] مبرد کا شمار نحو کے مشہور علماء میں ہوتا ہے
    [6] الکامل ج ۱ ص ۱۸۵ ، شرح ابن ابی الحدید ج ۱۵ ص ۲۴۲
    [7] اس کا اہل سنت کے معتبر و بزرگ علماء میں شمار ہوتا ہے
    [8] سیر اعلام النبلاء ج ۴ ص ۳۴۳
    [9] میزان الاعتدال ج ۴ ص ۸۹
    [10] تاریخ نجد و حجاز ص
    [11] تکملۃ السیف الصیقل ص ۹ ، الاعلان بالتوبیح ص ۷۷
    [12] النفی و التغریب {طبسی }۱۰۹ ، بحوث فی الملل و النحل ج ۴ ص ۵۰
    [13] الدررالکامنۃ ج ۱ ص ۸۸ تا ۹۶
    [14] طبقات الشافیعہ الکبریْ ج ۱۰ ص ۳۰۸
    [15] تاریخ نجد و حجاز ص ۲۳ اما محمد ،فھو صاحب الدعوۃ التی عرفت باالوھابیۃ
    [16] رجوع سابقہ حولہ نمبر ۳ حسن بن سقاف
    [17] محمد بن عبدالوھاب کا مشہور لقب ہے ۔ جہاں بھی شیخ نجدی آئے اس سے مراد محمد بن عبدالوھاب ہی ہے
    [18] علی طنطاوی جوہری مصری متوفی ۱۳۵۳ھ محمد بن عبدالوھاب ص ۱۵
    [19] محمد بن عبدالوھاب ص ۱۶ ، ۱۷
    [20] کشف الشّبہات ص ۲۰ ،۲۱ عربی "و عرفت ان اقرارھم بتوحید الربوبیۃ لم یدخلھم فی الاسلام و ان قصدھم الملائکۃ الانبیاء والالیاء یریدون شفاعتھم والتقرب الی اللہ بذلک ھو الذی احّل دماءھم و اموالھم"
    [21] تاریخ نجد و حجاز ص ۶۸
    [22] تاریخ نجد و حجاز ص ۸۲
    [23] مفہوم حدیث ، صحیح بخاری ج ۱ ص ۴۷
    [24] واستغفرلھم اللہ ان اللہ غفور رحیم {آیت قرآنی}
    [25] محمد بن عبدالوھاب ص ۲۳
    [26] الادب الفرد ص ۱۴۲ ، شفاج ج ۲ ص ۱۸
    [27] ابن عابدین شامی رد المحتار ج ۳ ص ۴۲۷ ،۴۲۸
    [28] تاریخ نجد و حجاز ص ۱۴۰
    [29] تاریخ نجد و جحاز ص ۱۴۱ ، ۱۴۲
    [30] ایضاً
    [31] التّوسل بالنبی و جہلۃ الوہابیین ص ۴۴۹ تا ۲۵۳
    [32] تاریخ نجد و جحاز ص ۱۳۲
    [33] ایضاً ص۱۴۴
    [34] ایضاً ص ۱۵۹ تا ۱۶۰
    [35] ۹۲ نیوز جینل {۱۲ ربیع الاول }
    آل سعود ۔۔۔ یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
    islamtimes.org 
    January 2, 2016
    تحریر: ساجد علی گوندل
    Sajidaligondal88@gmail.com
    http://islamtimes.org/ur/doc/article/509770/
    • سلفیہ،  تکفیر اور دہشت گردی
    • What is Wahhabism? The reactionary branch of Islam said to be 'the main source of global terrorism:
    https://britishsecularmuslims.wordpress.com/2013/07/11/british-secular-muslims-reject-mehdi-hasans-apologist-stance-on-wahhabi-deobandi-terrorism/
    .....................................................................


    گن پوانٹ پر انٹرنیشنل خلافت یا امامت:
    داعش، القاعدہ ، تکفیری طالبان ، بوکو حرام اور اس طرح کی تکفیری دہشت گرد تنظیموں کا مقصد مذہبی بنیاد پر سیاسی طاقت کا حصول ہے تاکہ عالمی حکومت (ان کے مطابق اسلامی خلافت) قائم کی جائے- ایرانی 'ولایت فقہ' کا بھی اسی طرح کا بین الاقوامی نظریہ ہے، وہ سنی  اصطلاح 'خلافت' کی بجایے شیعہ اصطلاحات (امامت ،ولایت فقہ وغیرہ) استعمال کرتے ہیں- (بہت سے عالمی شیعہ علماء ایرانی نقطہ نظر سے متفق نہیں)- اگر ایرانی ولایت فقیہ ایران تک محدود رہے توکسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا، کہ یہ ایران کا اندرونی معاملہ ہے مگر جب اس نظریہ کو دوسرے ممالک تک پھیلا دیا جائے تو پھرفکری اور عملی طور پرایرانی اورداعش جیسی دشت گرد تنظیموں میں تفریق مشکل ہو جاتی ہے ، کیونکہ ان کے مقاصد ایک طرح کے ہو جاتے ہیں جس میں طاقت اسلام کے نام پر حاصل کی جاتی ہے- عراق ، شام کی مثال سامنے ہےجہاں داعش اپنے طور پر اور ایران روس سے مل کر جہاں داعش سے لڑ رہا ہے وہاں روس اور ایران ، شام کے ظالم ڈکٹیٹر بشارت الاسد کی علوی شیعہ اقلیتی حکومت کو بچانے کے لیے سنی اکثریت معصوم عوام پر ظلم اور قتل و غارت گری میں مشغول ہیں-
    In the ongoing 4-year-long civil war, the Islamic Republic- one of the major bank-rollers for the Syrian government- has approximately spent between $6 and $35 billion a year in order to keep its staunchest regional ally, Bashar Al Assad in power.This amount of spending is significant considering Iran’s military budget is roughly $15 billion a year. Iran’s economic assistance to the Syrian government comes in different avenues including oil subsidies (approximately 60,000 barrels of oil per day), credit lines, and military assistance. (Read more).
    Export of Iran's revolution enters 'new chapter': Iran's top general said  his country has reached "a new chapter" towards its declared aim of exporting revolution, in reference to Tehran's growing regional influence. The comments by Major General Mohammad Ali Jafari, commander of the nation's powerful Revolutionary Guards Corps, come amid concern among some of Shiite Iran's neighbours about Tehran's role. "The Islamic revolution is advancing with good speed, its example being the ever-increasing export of the revolution," he said, according to the ISNA news agency. "Today, not only Palestine and Lebanon acknowledge the influential role of the Islamic republic but so do the people of Iraq and Syria. They appreciate the nation of Iran." He made references to military action against Islamic State (IS) jihadists in Iraq and Syria, where the Guards have deployed advisers in support of Baghdad and Damascus.  "The phase of the export of the revolution has entered a new chapter," he added, referring to an aim of Iran's 1979 Islamic revolution.>> http://www.dailymail.co.uk/wires/afp/article-2990005/Export-Irans-revolution-enters-new-chapter-general.html --- http://peace-forum.blogspot.com/2016/03/exporting-iranian-revolution-to-arabs.html

    Related :

    Jihad, Extremism

      Wednesday, October 5, 2016

      Radical Salafism: Osama's ideology By Bernard Haykel


      Image result for radical salafist ideology

      Radical Salafism is the ideology of Osama bin Laden's al-Qaeda organization. Its particular world view can be understood by looking at the roots of this ideology in Islamic intellectual history and by realizing that its teachings have been marginal to and opposed by mainstream Islamic thought.

      Muslims in the modern period are either Sunni (90%) or Shi'iah (10%). The distinction pertains to a dispute over the spiritual and political leadership of the Muslim community after the death of Prophet Mohammad (PBUH). In matters of politics, two principles are strongly identified with the Sunnis:

      1) they are loath to declare fellow Muslims infidels, a practice called takfir;

      2) they prohibit war against Muslim rulers, however tyrannical these may be, so long as Islam remains the religion of state and Islamic law is enforced. Sunnis argue that adherence to these two principles is crucial in order to maintain social order and to avoid warfare amongst Muslims which might lead to the demise of Islam itself.

      Osama bin Laden and his followers are Sunni Muslims of the Salafi branch. Salafism is a minoritarian tendency within Islam that dates back to the 9th century - under the name of Ahl al-Hadith - and whose central features were crystallized in the teachings of a 14th century Islamic scholar, Taqi al-Din Ahmad Ibn Taymiyya (d. 1328). Ibn Taymiyya's importance lies in that he was willing to hereticize fellow Muslims who did not share his views and, more important, he declared permissible war against Muslims rulers who did not apply the Shari'ah (he advocated war against the Mongols who had declared themselves to be Muslims but did not apply Islamic law).

      Salafism's hallmark is a call to modern Muslims to revert to the pure Islam of the Prophet Muhammad's generation and the two generations that followed his. Muslims of this early period are referred to as al-Salaf al-Salih (the pious forefathers) whence the name Salafi. Salafism's message is utopian, its adherents seeking to transform completely the Muslim community and to ensure that Islam, as a system of belief and governance, should eventually dominate the globe.

      Salafis are not against technological progress nor its fruits; they do, however, abhor all innovations in belief and practice that are not anchored in their conception of the pristine Islamic age. They refer to such reprehensible innovations as Bid'a, a term of deligitimization in Islamic law or the Shari'ah.

      According to the Salafis, Muslims can only be certain that they are not practising reprehensible innovations if they adhere to a strictly literal interpretation of the sources of revelation, and those are the Qur'an and the Sunna (the Sunna is the practice of Prophet Mohammad and can be found exclusively in the canonical collections of accounts of his sayings and doings (hadith)). Salafis claim to be the only Muslims capable of providing this literal interpretation; all other Muslims would therefore be - to a lesser or greater extent - deviant innovators.

      Another salient feature of Salafism is an obsession with God's oneness while condemning all forms of polytheism (shirk) and unbelief (kufr). Certain Sufi practices (Sufis are mystics of Islam), such as visiting the graves of great Sufi masters, are condemned by the Salafis as diminishing true belief in Allah. The world, according to the Salafis, is unequivocally divided between the domains of belief (iman) and unbelief, and it is incumbent on Muslims to be certain that they remain in the domain of belief.

      This they can do only if they are Salafis. Nothing less than eternal salvation is at stake. The Salafi world view is rigid and Manichaean. In its radical form Salafism leads to the practice of takfir. This is exactly what Osama bin Laden did in his November 4 statement: Muslims who are not with him are, by definition, infidels.

      The mantle of Ibn Taymiyya's teachings was most famously taken up by a movement in central Arabia in the 18th century. Known to its enemies as the Wahhabi movement,  whose adherents called themselves the Muwahhidun (The believers in the oneness of God). The Wahhabi's had a powerful reformist message and were able to galvanize the tribes of central Arabia into a powerful military period.

      So great was their zeal to focus all the belief and religious practices of fellow Muslims on God alone, that the Wahhabis destroyed in 1805 tombs in Medina, including a failed attempt at destroying the cupola over the tomb of Prophet Muhammad.

      Such excesses, including the declaration of fellow Muslims to be infidels whose blood could be shed, horrified the wider Muslim world leading the Ottoman Sultan to send an Egyptian military force and destroy the fledgling Wahhabi state. This was accomplished in 1818. The example the Wahhabi sect, however, left an indelible mark on the world of Islam and the like-minded would look to their experience as a model to be emulated.

      King Abd al-Aziz ibn Sa'ud, commonly known as Ibn Sa'ud, the founder of the present Saudi kingdom, based his rule and conquests on Salafi doctrine, and this remains the ideology of Saudi Arabia today. But Ibn Sa'ud realized quickly that embedded in this ideology was the potential for radical extremism and he vanquished militarily his own radicals, otherwise known as the Ikhwan, in 1930.

      The radical Salafis raised their heads again in November 1979 when one of their leaders, Juhayman al-Utaybi, led a revolt in Makkah that seized control of the Great Mosque for two weeks. As they had done in 1930, the Saudi authorities attacked al-Utaybi and his followers, killing every last one in a bloody battle in the Makkan sanctuary.

      However, it is important to know two features that distinguish the official Salafism of the Saudi kingdom from the teachings of these radical Salafis. The Saudis believe that: 1) war against an Islamic ruler is not permitted, and 2) declaring fellow Muslims to be infidels is also not permitted. For this reason, the Saudi minister of Islamic Affairs stated on October 19, in the aftermath of the WTC attacks, that "obedience to Islamic rulers is obligatory for Muslims."

      A principal reason radical Salafis like Osama bin Laden advocate violence against the Saudi state and the United States relates to the presence of US troops on Saudi soil. By permitting this, Osama says the Saudis are no longer adhering to Islamic law and consequently war against them is permissible. Osama bin Laden bases his claim about the illegality of the presence of US troops on a statement of Prophet Mohammad in which the Prophet says: "Expel the polytheists from the Arabian peninsula."

      Literally understood, the injunction is clear. Non-Salafis, i.e., the vast majority of Muslims, disagree with Osama's judgement. The non-Salafis counter with another statement of the Prophet in which he says: "Expel the Jews of Hijaz from the peninsula of the Arabs." The reference to the Jews is to be read as a synecdoche  (for non-Muslims: Hijaz is a region of Arabia and this second Prophetic statement narrows the more general first statement. In other words, non-Muslims are permitted to reside in Arabia, but not in Hijaz, the region of the twin sanctuaries of Makkah and Medina.)

      Such differences in abstruse legal opinions, however, do not explain Osama bin Laden's massive appeal among Muslims today. It is his genius at manipulating images and symbols, as well as his ability to tap into a wellspring of legitimate Muslim and Arab resentment of US foreign policies, that explains his success. Muslims live under the yoke of authoritarian regimes - regimes that have succeeded in destroying the fabric of traditional Muslim education and networks of knowledge and socialization.

      Most Muslims therefore do not appreciate or understand legal arguments like the one stated above. What Muslims react to enthusiastically is Osama's role as a leader and symbol of Muslim resistance to domestic and western oppression. This reaction is fuelled by a century of arguments promoted by the Arab regimes that all the problems of the Arab and Muslim worlds are due to foreign intrigue, and are not because of any policies or actions of the Arab and Muslim leaders themselves. This reasoning explains, for example, the eagerness with which so many Arabs and Muslims have accepted the conspiratorial theories that the attacks of September 11 were the work of Jews and Zionists.

      Thus far, moderate Sunni Muslims have been reluctant to condemn Osama bin Laden in light of the events of September 11. This is a consequence of the quiescent political culture Sunnis subscribe to: pointing fingers at fellow believers might lead to a state of chaotic disorder they fear most. Moreover, the present conflict involves unbelievers and Muslims prefer not to air their differences in public. Another reason for this conspicuous silence is that moderates feel the evidence Osama bin Laden in the attacks has not been provided by the US government.

      Finally, the fear of violent retaliation by the radical Salafis has kept many silent. Moderate Muslims, many of whom have been and continue to be oppressed by Arab and Muslim governments, do exist and must be encouraged to take centre stage. We can take heart from the fact that most Muslims have not heeded Osama's call to kill innocent Americans wherever and whenever they find them.

      In short, the battle being waged today is at heart an internal Islamic one and may take a very long time to end. It is part of a larger battle about the very nature of Islamic society and politics, and one in which there are many sides (moderate Muslims, state-sponsored Muslims, radical and moderate Salafis, secular nationalists, and Shi'ah

      The writer teaches Islamic law at New York University
        
      Copyright Notice
      This article is copyright 2001 DAWN, and may be redistributed provided that the article remains intact, with this copyright message clearly visible. This article may not under any circumstances be resold or redistributed for compensation of any kind without prior written permission from DAWN. If you have any questions about these terms, or would like information about licensing materials from DAWN, please contact us via telephone: +92 (21) 111-444-777, +92 (21) 567-0001 or email: webmaster@dawn.com

      DAWN is located on the World Wide Web at http://dawn.com

      This entire Website including all its contents, graphical images and other elements are the intellectual property of the Pakistan Herald Publications Ltd. (P.H.P.L.) - publishers of the DAWN newspaper.

      This site is for use by individuals and may not be used for any commercial purposes. No part of this site may be redistributed or otherwise published without written consent of P.H.P.L.


      Manichaen: a believer in religious or philosophical dualism
      the vast majority: i.e. of the entire Muslim population, Salafi's comprise less than 1% of them

      synecdoche: a figure of speech by which a part is put for the whole (as fifty sail for fifty ships), the whole for a part (as society for high society), the species for the genus (as cutthroat for assassin), the genus for the species (as a creature for a man), or the name of the material for the thing made (as boards for stage)

      "massive" (sic). We hardly think bin Laden has "massive" appeal. We disagree with the author here. 

      Related :

      Jihad, Extremism

        Saturday, September 27, 2014

        The Islamic State : الدولة الإسلامية‎ or the Islamic State of Iraq and al-Sham (ISIS) : الدولة الإسلامية في العراق والشام‎

        Its neither Islamic nor state but a group of  terrorists recruited, funded and trained by imperialists to implement their agenda.
        The Islamic State (IS الدولة الإسلامية‎ ad-Dawlah l-ʾIslāmiyyah), previously calling itself the Islamic State of Iraq and the Levant (ISIL) or the Islamic State of Iraq and al-Sham (ISIS : الدولة الإسلامية في العراق والشام‎), and also known by the Arabic acronym Daʿesh (داعش), is an unrecognized state and a Takfir Extremist [falsely claiming to be from Sunni]  insurgent group active in Iraq and Syria in the Middle East. In its self-proclaimed status as a caliphate, it claims religious authority over all Muslims across the world and aims to bring most of the Muslim-inhabited regions of the world under its political control[75] beginning with territory in the Levant region which includes Jordan, Israel, Palestine, Lebanon, Cyprus and part of southern Turkey.
        ISIS
        The group has been described by the United Nations and the media as a terrorist group and has been designated as a foreign terrorist organization by the United States, the United Kingdom, Australia, Canada, Indonesia, and Saudi Arabia. The United Nations and Amnesty International have accused the group of grave human rights abuses.
        The Islamic State, also widely known as ISIL, ISIS and Daʿesh, originated as Jama'at al-Tawhid wal-Jihad in 1999. This group was the forerunner of Tanzim Qaidat al-Jihad fi Bilad al-Rafidayn—commonly known as al-Qaeda in Iraq (AQI)—a group formed by Abu Musab Al Zarqawi in 2004 which took part in the Iraqi insurgency against American-led forces and their Iraqi allies following the 2003 invasion of Iraq. During the 2003–2011 Iraq War, it joined other Sunni insurgent groups to form the Mujahideen Shura Council, which consolidated further into the Islamic State of Iraq (ISI ) shortly afterwards. At its height it enjoyed a significant presence in the Iraqi governorates of Al AnbarNineveh,Kirkuk, most of Salah ad Din, parts of BabilDiyala and Baghdad, and claimed Baqubah as a capital city. However, the violent attempts by the Islamic State of Iraq to govern its territory led to a backlash from Sunni Iraqis and other insurgent groups in around 2008 which helped to propel the Awakening movement and a temporary decline in the group. In April 2013, the group changed its name to the Islamic State of Iraq and al-Sham.
        As ISIS, the group grew significantly under the leadership of Abu Bakr al-Baghdadi, gaining support in Iraq as a result of alleged economic and political discrimination against Iraqi Sunnis. After entering the Syrian Civil War, ISIS established a large presence in the Syrian governorates of Ar-RaqqahIdlibDeir ez-Zor and Aleppo. In June 2014, it had at least 4,000 fighters in its ranks in Iraq. It has claimed responsibility for attacks on government and military targets and for attacks that have killed thousands of civilians. In August 2014, the Syrian Observatory for Human Rights claimed that the number of fighters in the group had increased to 50,000 in Syria and 30,000 in Iraq,] while the CIA estimated in September 2014 that in both countries it had between 20,000 and 31,500 fighters] ISIS had close links to al-Qaeda until February 2014 when, after an eight-month power struggle, al-Qaeda cut all ties with the group, reportedly for its brutality and "notorious intractability".
        The group's original aim was to establish an Islamic state in the Sunni-majority regions of Iraq, and following ISIS's involvement in the Syrian Civil War this expanded to include controlling Sunni-majority areas of Syria. A caliphate was proclaimed on 29 June 2014, Abu Bakr al-Baghdadi—now known as Amir al-Mu'minin Caliph Ibrahim—was named as its caliph, and the group was renamed the Islamic State. Keep reading >>>>>
        Related:



      • Inside the neighbourhood of Isis leader Abu Bakr al-Baghdadi

        www.telegraph.co.uk › ... › World News › Middle East
        Jul 6, 2014
        The Telegraph's Ruth Sherlock visits the neighbourhood where Abu Bakr al-Baghdadi, one of the world's ...
      • ISIS- The worlds most dangerous Terrorist Organization ...

        www.youtube.com/watch?v=Cq20lYPPenw
        Sep 11, 2014 - Uploaded by MnR Productions "Mariolaur"
        MnRTV Live Show discussing about ISIS- The worlds most dangerous Terrorist Organization The ... 1:24:28 http ...
      • ISIS - Celestial - 2000 (Full Album) - YouTube

        www.youtube.com/watch?v=M8XN-3YZL5Y

        Apr 17, 2013 - Uploaded by Dev Null
        http://en.wikipedia.org/wiki/Isis_(band) ... Isis was always a good band, but they never, in my eyes, topped ...
      • ISIS destroying Sunni Shrines in Mosul Iraq (companions of ...

        www.youtube.com/watch?v=Dv3bSiNk1h0
        Jun 22, 2014 - Uploaded by Politico Islam
        Mosul, IRAQ: Video shows AlQaeda based ISIS militants s... ... http://en.wikipedia.org/wiki/Abdul-Qa ...
      • ISIS militants killed 270 Syrians after storming by - YouTube

        www.youtube.com/watch?v=UPTtimwSaQg
        Jul 18, 2014 - Uploaded by NEWSOFTHEWORLD
        The aim of ISIS is to create an Islamic state across Sunni areas of Iraq and in Syria. ... Islamic State of Iraq and ...