Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Showing posts with label Indian Terrorism. Show all posts
Showing posts with label Indian Terrorism. Show all posts

Wednesday, January 15, 2020

Specific proof of Indian terrorism in Pakistan unveiled | Dawn.com

Pakistan  made public a dossier containing `irrefutable proofs’ of the Indian sponsorship of terrorism in Pakistan and called on the world to stop India’s rogue actions for saving the region’s peace and security.

MILITARY spokesman Maj Gen Babar Iftikhar and Foreign Minister Shah Mehmood Qureshi addressing a press conference on Saturday.—AP
MILITARY spokesman Maj Gen Babar Iftikhar and Foreign Minister Shah Mehmood Qureshi addressing a press conference on Saturday.—AP

India’s ill intentions

PAKISTAN has taken an important step in its counterterrorism efforts with the launch of a dossier that claims to have substantive evidence of India’s active sponsoring of terrorism inside Pakistan. Foreign Minister Shah Mahmood Qureshi and DG ISPR Maj Gen Babar Iftikhar unveiled details that included audio conversations between people identified as Indian intelligence agents and terrorists inside Pakistan.

Wednesday, March 27, 2019

سمجھوتہ کیس کے ملزمان بری: ذمہ دار کون؟ Kangaroo Court acquits Samjhauta Express attackers


بھارت میں ہریانہ صوبہ میں پنچکولہ کی اسپیشل کورٹ نے سمجھوتہ ایکسپریس بلاسٹ کیس میں ملوث سبھی ملزمان سوامی اسیمانند، لوکیش شرما، کمل چوہان اور راجیندر چودھری کو بری کر دیا ۔ پچھلے کئی برسوں سے خصوصاً،2014ء میں وزیر اعظم نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد جس طرح عدالت میں اس کیس کی پیروی ہورہی تھی، یہ فیصلہ توقع کے عین مطابق ہی تھا۔ملزموں کا دفاع کوئی اور نہیں بلکہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی )کے لیگل سیل کے سربراہ ستیہ پال جین کر رہے تھے۔
 When attacked, Samjhauta Express train was headed from Delhi to ... after the heinous Samjhauta terror attacks makes a travesty of justice and ...


 بلاسٹ کے مبینہ ماسٹر مائنڈ سنیل جوشی کی 2007 ء میں ہی پراسرار حالات میں موت ہو چکی تھی۔ دہلی ،لاہور سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین میں 18 فروری 2007ء کو پانی پت کے قریب 2 بم بلاسٹ ہوئے تھے جن میں 68 لوگ مارے گئے تھے،ان میں زیادہ تر پاکستانی تھے، نیز دیگر 12 شدید زخمی ہوگئے تھے۔استغاثہ کی طرف سے کل 299گواہوں کی فہرست پیش کی گئی تھی، جن میں 224کورٹ کے سامنے پیش ہوئے۔ ان میں سے 51 اہم گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگئے۔ 13 چشم دیدپاکستانی گواہ عدالت کے سامنے پیش ہی نہیں ہوئے۔ اسپیشل جج جگدیپ سنگھ نے اسکی تفصیلات اپنے آرڈر میں درج کی ہیں۔ ان کے مطابق تین بار سمن جار ی کرنے کے باوجود پاکستانی گواہان کو عدالت میں لانے کی کوئی سعی نہیں کی گئی۔ مارچ2017ء میں پہلی بار نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کو پاکستانی گواہ حاضر کرنے کیلئے کہا گیا۔ کئی ما ہ بعد وزارت خارجہ کا ایک مکتوب موصول ہوا کہ بیان درج کروانے کی تاریخ سے کم از کم چار ماہ قبل سمن ان کے پاس پہنچنا چاہئے۔ جولائی 2017ء میں پھر نومبر میں شنوائی کیلئے سمن جاری کئے گئے۔ یہ سمن وزارت داخلہ نے کئی ماہ بعد وزارت خارجہ کے سپرد کئے۔ جواب کا انتظار کرتے ہوئے، اپریل 2018ء میں عدالت نے تیسری بار گواہوں کو حاضر کروانے کیلئے حکم نامہ جاری کیا اور جولائی2018ء کو وزارت داخلہ کو اس کی یاد دہانی بھی کروائی۔ جس کے جواب میں بتایا گیا کہ سمن وزارت خارجہ کے ذریعے پاکستانی فارن آفس کے سپرد کئے گئے ہیں۔ بھارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے یہ سمن گواہوں تک پہنچانے کے بجائے واپس کردیئے۔ چند سال قبل ہریانہ کے سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس ( لاء اینڈ آرڈر) وکاس نارائن رائے نے راقم کو بتایا تھا کہ اس کیس کو حتی الامکان کمزورکرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ نارائن رائے، اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کے سربراہ تھے، جس نے سمجھوتہ دھماکوںکی ابتدائی تفتیش کی تھی۔ ’’ہندو دہشت گردی‘‘ کے حوالے سے بھارت میں سرکاری ایجنسیوں پر دبائوبنایا جارہا تھا، کہ وہ اپنی تفتیش ختم کریں نیزعدالتی پیروی میں تساہل اور نرمی سے کام لیں۔ ابتدائی تفتیش میں بھارتی ایجنسیوں نے ان دھماکوں کے تعلق بھی مسلم نوجوانوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی، چند ایک کو حراست میں بھی لیا۔ میڈیا میں انڈین مجاہدین اور پاکستان میں سرگرم کئی تنظیموں کا بھی نام لیا گیا۔ مگر چند دیانت دار افسران کی بدولت اس دھماکہ میں ایک ہندو انتہا پسند تنظیم' ابھینوبھارت‘ کے رول کو بے نقاب کیا گیا۔سب سے زیادہ خطرے کی گھنٹی اس وقت بجی جب نومبر 2008ء میں ملٹری انٹیلی جنس کے ایک حاضر سروس کرنل پرساد سری کانت پروہت کے رول کی نشاندہی کرکے اس کو گرفتار کیا گیا۔اگلے دو سالوں میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے سوامی اسیما نند اور ایک انجینئر سندیپ ڈانگے کو حراست میں لے لیا۔ اسی دوران راجستھان کے انٹی ٹیررسٹ سکواڈ کے 806 صفحات پر مشتمل فرد جرم میں انکشاف کیاگیا ، کہ فروری 2006ء میں ہندو انتہا پسندوں نے وسطی بھارت کے ایک شہر اندور ایک میٹنگ کرکے سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے کی سازش تیار کی تھی۔ اس میٹنگ میں ہندو انتہا پسندوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سیوک سیوم سنگھ(آر ایس ایس) کے مقتدر لیڈر اندریش کمار بھی موجود تھے۔ اس سے قبل ان کا نام اجمیر شریف کی درگاہ میں ہوئے دھماکہ کی سازش میں بھی آیا تھا۔مگر ان کی کبھی دوران حراست تفتیش نہیں ہوئی۔ 12 فروری 2012ء میں این آئی نے آر ایس ایس کے کارکنوں راجندر پہلوان، کمل چوہان اور اجیت چوہان کر گرفتار کیا۔ ایجنسی کے بقول ان تین افراد نے ہی ٹرین میں بم نصب کئے تھے۔ گو کہ بھارت میں سرکاری ایجنسیاں دہشت گردی سے متعلق واقعات کا تعلق آنکھ بند کئے مسلمانوں سے جوڑتی آرہی ہیں، مگر 29 ستمبر 2008ء کو مہاراشٹرہ کے مالیگائوں شہر کے ایک مسلم اکثریتی علاقہ میں ہوئے دھماکوں اور اس میں ملی لیڈز نے مہاراشٹر کے اینٹی ٹیررسٹ سکواڈ کے سربراہ ہیمنت کرکرے کو چونکا دیا۔ اور ایک غیر جانبدارانہ تفتیش کے بعد اس نے ہندو دہشت گردی کا بھانڈا فاش کیا۔بدقسمتی سے کرکرے 2008ء کے ممبئی حملوں میں دہشت گردوں کا نشانہ بن گئے، جس کے بعد یہ تفتیش مرکزی ایجنسی این آئی اے کے سپر د کی گئی۔ اس کے بعد تو حیدرآباد کی مکہ مسجد، اجمیر درگاہ، سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں کے تار بھی ہندو دہشت گردی سے جڑتے گئے۔ جب کرکرے نے یہ نیٹ ورک بے نقاب کیا تھا تو بی جے پی اور شیو سینا کے متعدد رہنمائوں نے ان کے خلاف زبردست شور برپا کیا اور انہیں 'ملک کا غدار‘ قرار دیا تھا-

بہرحال کرکرے کی تحقیق کا یہ نتیجہ نکلا کہ دہشت گردانہ واقعات کے بارے میں جو عمومی تاثر پید اکردیا گیا تھا وہ کچھ حد تک تبدیل ہوا کہ اس کے پشت پر وہ عناصر بھی ہیں جو اس ملک کوہندو راشٹر بنانا چاہتے ہیں۔ ابتداء میں ان واقعات میں معصوم مسلم نوجوانوں کو ماخوذ کرکے انہیں ایذائیں دی گئیں اور کئی ایک کو برسوں تک جیلوں میں بند رکھا گیا۔ ایک معروف صحافی لینا گیتا رگھوناتھ نے یو پی اے حکومت کی ہند و دہشت گردی کے تئیں ' نرم رویہ‘ کو افشاں کیا تھا۔ لینا کے بقول ’’ تفتیشی ایجنسیوں کے ایک افسر نے انہیں نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر وزارت داخلہ کو سونپی گئی ان خفیہ رپورٹوں کے مطالعے کی اجازت دی تھی۔ ان رپورٹوں میں مرکزی وزارت داخلہ سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ وہ آر ایس ایس کو ایک شو کاز ( وجہ بتائو) نوٹس جاری کرے کہ اس کے خلاف جو شواہد اور ثبوت ہیں کیوں نہ ان کی بنیاد پر اسے غیر قانونی اور ممنوع قرار دیا جائے؟‘‘ مہاراشٹر کی اسوقت کی کانگریس کی قیادت میں مخلوط حکومت نے بھی ابھینو بھارت اور دیگر ہندو انتہا پسند تنظیموں کو غیر قانونی قرار دینے کی سفارش کی تھی لیکن اس پر مرکزی حکومت نے عمل نہیں کیا۔ 2014ء میں وزیر اعظم مودی کے برسراقتدار میں آنے کے بعد سے متواتر ان مقدمات کو کمزور کروانے کی کوششیں کی گئیں۔ اس سلسلے میں مالیگائوں کے بم دھماکہ مقدمہ کی خصوصی سرکاری وکیل رو ہنی سالیان نے یہ سنسنی خیز انکشاف بھی کیا ، کہ سرکاری وکیلوں پر دبائو ڈالا جارہا ہے کہ وہ مقدمات کی پیروی میں سست روی اور نرمی سے کام لیں۔ اسکے علاوہ سرکاری گواہوں کو منحرف کرنے کا عمل شروع ہوا۔ سالیان کے مطابق نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کے ایک سینئر افسر نے (جو محض ایک پیغام رساں تھا) اپنے بالا افسروں کو یہ پیغام پہنچایا کہ وہ مقدمہ کی پیروی کے لئے پیش نہ ہوں۔ سالیان نے کہا کہ ’’اس کا مقصد (افسر کا لایا ہوا ہے پیغام) بالکل واضح ہے کہ ہم سے ہمدردانہ احکامات کی توقع نہ رکھیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ بی جے پی جب سے بر سر اقتدار آئی تو این اے آئی کا ایک افسر ان کے پاس آیا اور بات کی۔ سالیان کے بقول : ’’ اس نے کہا کہ وہ فون پر بات کرنا نہیں چاہتا، اس لئے وہ یہاں آیا اور پیغام سنایا کہ میں نرم رویہ اختیار کروں۔‘‘ مالیگائوں کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر، کرنل پروہت، سوامی اسیم نند( جس کے گجرات ضلع آنند میں واقع آشرم کو بی جے پی کے کئی بڑے رہنمائوں بشمول اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی سرپرستی حاصل تھی) اور دیگر کے مقدمات کے بارے میں محترمہ سالیان کو یہ ہدایت کہ وہ ’’نرمی اور تساہلی‘‘ سے کام لیں۔ یہ حقیقت بھی قابل تشویش ہے کہ دہشت گردی کے ان واقعات کی چل رہی تحقیقات بھی روک دی گئی، جن میں آرایس ایس کے بڑے رہنما جیسے اندریش کمار وغیرہ کا نام نہ صرف ملزموں نے عدلیہ کے سامنے دیئے گئے اپنے اقبالیہ بیان میں دیا تھا بلکہ جانچ رپورٹوں میں بھی ان کے نام آئے تھے۔پچھلے چند سالوں میں گجرات کے تقریباً وہ تمام پولیس افسران جو ’’پولیس مقابلوں ‘‘ کے نام پر بے رحمانہ قتل کرنے کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں رہا ہوچکے ہیں اور بعض کو دوبارہ ملازمت پر بحال کردیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حکمراں جماعت کے موجودہ صدر امیت شاہ ، جن کے بارے میں قومی تفتیشی ایجنسی یعنی سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں یہ تک لکھ دیاتھا کہ ’’ ( پیسہ اینٹھنے کا)ریکٹ ان سے شروع ہوتا ہے اور ان پر ختم ہوتا ہے۔‘‘ وہ بھی سہراب الدین اور ان کی اہلیہ کے علاوہ دیگر انکائونٹر میں ’’ بری ‘‘ کردیئے گئے ہیں۔مودی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے اجمیر درگاہ بلاسٹ کے 14گواہان منحرف ہوئے ۔ ان میںسے ایک گواہ رندھیر سنگھ نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی اور اسے جھارکھنڈ کی بی جے پی حکومت میں وزیر مقرر کیا گیا۔کرکرے نے جو ضخیم چارج شیٹ تیار کی تھی اس میں آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار، وشو ہندو پریشد کے پروین توگڑیا کے علاوہ کئی اور نام بھی شامل تھے۔ سوامی اسیم نند نے کاروان میگزین کو دیئے گئے اپنے طویل انٹرویو میں آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا بھی نام لیا تھا۔یہ تو طے تھا کہ بھارت کی موجودہ حکومت سمجھوتہ ، اجمیر اور مالیگائوں کیسوں کی پیروی میں ایک منصوبہ کے تحت تساہلی سے کام لیکر ہندو تنظیموں پر دہشت گردی کے داغ دھو رہی تھی، مگر خاص طور پر سمجھوتہ بلاسٹ کیس میں پاکستانی حکام کی سرد مہری سمجھ سے بالاتر ہے۔ جس طرح 2008 ء کے ممبئی دھماکوں میں یا حا ل میں جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے سلسلے بھارت نے اقوام متحدہ تک کا دروازہ کھٹکھٹایا ، آخر پاکستانی حکام سمجھوتہ کیس کی مانیٹرنگ کرنے سے کیوں کترا رہے تھے۔ اگر کورٹ کا تجزیہ درست ہے کہ تین بار سمن جاری کرنے کے باوجود پاکستانی گواہان کو کورٹ میں پیش نہیں کیا گیا، تو اسکی ذمہ داری کا تعین ہونا چاہئے۔ بھارت کے علاوہ پاکستانی حکام کی بھی جوابدہی طے ہونی چاہئے اور ان کو بھی اپنی پوزیشن صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ 

Related :

Global Terrorism

    Tuesday, August 28, 2018

    Kashmiris’ struggle for freedom from India ‘overwhelmingly homegrown’: The New York Times


    The Kashmiri people’s struggle for freedom from India’s rule is “overwhelmingly homegrown”, The New York Times said in an in-depth dispatch from Indian occupied Kashmir where the Hindu nationalist Bharatiya Janata Party’s (BJP) anti-Muslim policies have “spurred more people to turn against the government.”

    “The conflict today is probably driven less by geopolitics than by internal Indian politics, which have increasingly taken an anti-Muslim direction,” Times’ Correspondent Jeffrey Gettleman wrote from Qasbayar, a Kashmiri village.

    The report said that most of the fighters are young men who draw support from a population “deeply resentful of India’s governing party and years of occupation.”

    “Kashmir sits on the frontier of India and Pakistan, and both countries have spilt rivers of blood over it, correspondent Gettleman wrote.

    “Three times, they have gone to war, and tens of thousands of people have been killed in the conflict. It is one of Asia’s most dangerous flash points, where a million troops have squared off along the disputed border. Both sides now wield nuclear arms. And the two sides are divided by religion, with Kashmir stuck in the middle,” he said. [Keep reading ........]

    Related :

    Kashmir freedom struggle >>>>>

      Saturday, October 1, 2016

      اَہْلُ السُّنَّۃ وَالْجَمَاعَۃ‘‘ کون؟ Who are real Sunni Muslim? Salafi, Wahabi, ISIS, Daesh Excluded

      اہل  سنت  والجماعت انٹرنیشنل  کانفرنس  چیچنیا گروزنی  میں  داعیش ، اور اس طرح کے دشت گرد  جتھوں  سے  لا تعلقی  کا  اعلان  کر دیا -
      Image result for SUNNI CONFERENCE IN GROZNY:

      Over 200 Sunni scholars from around the world accepted the invitation of Yemeni Sufi preacher, Alhabib Ali al-Jafri, to attend a conference in Grozny, the capital city of the Chechen Republic, Russia on 25-27 August 2016. The aim of the conference was to define the term “Ahl al-Sunna wa’l-Jama‘ah”, which is often used to describe an umbrella under which an assortment of Muslim sects stand and each claims a legitimacy to represent the true interpretation of Islam via the following of the sunna (tradition) of Prophet Muhammad. Among the notable personalities in the conference was a very high level delegation from Egypt, headed by the Grand Imam of al-Azher, Dr. Ahmed al-Tayyib, who gave a speech on the first day of the conference. The Egyptian delegation also included the former Grand Mufti of Egypt, Shaykh Ali Gum‘a, The current Grand Mufti, Shaykh Shawqi Allam, and, to make it even more official, a high government religious affairs representative, Shaykh Ousama al-Azhari. There was also the Grand Mufti of Syria, and a number of popular intellectuals such as Dr. Adnan Ibrahim.  Important was deliberate exclusion of Saudi Arabia from the conference. The conveners of the conference on identifying who the true Sunnis are made it clear that Saudi scholars and their Wahhabi version of Islam were not invited and not welcome to attend. Also excluded were all Salafis, the Muslim Brotherhood, and all terrorist groups that use violence in the name of Islam. To add insult to the injury, the conference, having excluded the Wahhabis and Salafis from the Sunni community, declared in its final communiqué the inclusion of Sufis, Ash‘aris and Maturidis – all of whom are disputed by Wahhabis and Salafis as true Sunnis. They disassociated from ISIS, DAesh and militant terrorist groups using nam of Sunnis falsely.....
       The agenda was to take an uncompromising stand against the growing Takfiri terrorism that is playing havoc across the world. The globally renowned Sunni Islamic scholars and clergy unanimously took a stand that the Takfiri terrorists, who loudly claim to belong to 'Sunni' Islam, are not from among the Ahlus Sunnah (the Islamic terminology for the mainstream Sunni Muslims in the world). Keep reading >>>>

      Image result for SUNNI CONFERENCE IN GROZNY:
      انحرافی فکر کا فتنہ ہر دور میں سر اٹھاتا رہا ہے ،یہ لوگ ہردور میں اپنی فکر کو قرآن وسنت کی طرف منسوب کرکے صحیح مَنہَجِ علمی کو مٹانے کی کوشش کرتے رہے ہیں- ان کی وجہ سے عام لوگوں کا امن وسکون غارت ہوجاتا ہے ،ایسی ہی گمراہ فکر کے حاملین قدیم دور کے خوارج تھے جن کاتسلسل ہمارے عہد کے وہ خوارج ہیں جو اپنے آپ کو سَلَفیت کی طرف منسوب کرتے ہیں اور مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں ۔ داعش اور اُن کی انتہا پسندانہ فکر کی حامل ساری تنظیموں میں یہ چیز بھی مشترک ہے کہ وہ دین کی مُسَلَّمہ اور مُتفقہ تعلیمات میں تحریف کرتے ہیں ، انتہا پسند ہیں ،جہالت پر مبنی باطل تاویلات کو دین سے منسوب کرتے ہیں ،اس کے نتیجے میں مسلمانوں میں فکری انتشار پیدا ہوتا ہے۔ اِن باطل تاویلات کے بَطن سے تکفیری اور تباہ کُن فکر،خوں ریزی اور تخریب وفساد جنم لیتا ہے اور اسلام کا نام بدنام ہوتا ہے۔اِن کی برپاکردہ جنگوںاور حق سے تجاوز کا تقاضا ہے کہ دینِ حنیف کے حاملین برملا اِن سے برائت کا اعلان کریں اور یہ رسول اللہﷺ کی اس حدیث کا مصداق ہوگا:''بعد میں آنے والوں میں سے اس دین کے حامل وہ انتہائی منصف مزاج علماء ہوں گے، جواِس دین کو انتہا پسندوں کی تحریف ، باطل پرستوں کی بے اصل باتوں اور جاہلوں کی تاویلوں سے پاک کریں گے،(شرح مشکل الآثار:3884) ‘‘۔
      اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ کانفرنس ایسا سنگِ میل ثابت ہوگی جو اِلحادی فکر کی اصلاح کرے گی اور انتہا پسندوں کے باطل اجتہاد ات وتاویلات کے ذریعے اھل السّنّۃ والجماعۃ کے لیے جو خطرات پیدا ہوچکے ہیں ،اُن سے نجات کا باعث ہوگی۔اس کا احسن طریقہ یہ ہے کہ ہماری بڑی درس گاہوں میں اس اِنحرافی فکر کو رد کرنے کے لیے مضبوط علمی استدلال کا طریقہ اختیار کیا جائے اورتکفیر اور انتہاپسندی سے نجات پانے کے لیے امن وسلامتی کے اسلامی پیغام کو پورے عالَمِ انسانیت کے لیے عام کیا جائے تاکہ ہمارے ممالک سب کے سب ہدایت کے سرچشمے اور مَنارۂ نور بنیں -

      --------------------------------------

      ’’اَہْلُ السُّنَّۃ وَالْجَمَاعَۃ‘‘ کون؟

      25تا27اگست 2016ء کو ریاستِ چیچنیا کے دارالحکومت ''گروزنی‘‘میں علمائے اسلام کی ایک عالمی کانفرنس''اَلْمُؤْتَمَرُ الْعَالَمِی لِعُلَمَائِ الْمُسْلِمِیْن‘‘ منعقد ہوئی۔اس کانفرنس کاموضوع تھا:''مَنْ ھُمْ اَھْلُ السُّنَّۃ وَالْجَمَاعَۃ ؟‘‘،یعنی ''اَہلُ السُّنَّۃ والجماعۃکون ہیں؟‘‘،بالفاظِ دیگر اہلُ السُّنَّۃ والجماعۃ کی متفقہ تعریف مقصود تھی۔اس کانفرنس میں شیخ الازہر ڈاکٹر محمد احمد الطیب ، جامعہ الازہر کے ریکٹر شیخ ابراہیم،مفتی اعظم چیچنیا شوکی الیَم،ڈاکٹر شیخ سعید عبداللطیف فُودہ (اردن)، شیخ الحبیب علی الجُفری (یمن)، شیخ ابوبکر (کیرالہ،انڈیا) اور دیگر علمائے کِبار شریک تھے۔چیچنیا کے صدر رمضان قدیروف نے اس کانفرنس کی صدارت کی ۔ کانفرنس کی قرارداد اور اعلامیہ حسبِ ذیل ہے :
      اہل السنۃ والجماعۃ اعتقادی یعنی کلامی مسائل میں اَشاعِرہ (جو امام ابوالحسن الاشعری کی طرف منسوب ہیں)،ماتُریدیہ (جو امام ابومنصور ماتریدی کی طرف منسوب ہیں)اور ''اَھْلُ الْحَدِیْثِ الْمُفَوِّضَہ‘‘شامل ہیں (یعنی وہ اہلِ حدیث جو اعتقادی مسائل میں صفاتِ الٰہی سے متعلق آیاتِ متشابہات پر ایمان لاتے ہیں اور اُن کے مرادی یا حقیقی معنی کو اللہ تعالیٰ کے علم کی طرف تفویض کردیتے ہیں،یعنی وہ ان الفاظ کے ظاہری معنی مراد نہیں لیتے ۔ان آیاتِ متشابہات میں اللہ تعالیٰ کے لیے ''یَدْ،وَجْہ،ساق، نفس، عَین اور جہت وغیرہا‘‘ کلمات آئے ہیں ۔پس جن اہلِ حدیث نے اِن کلمات کو اعضاء وجوارح (Organs)کے معنی میں لیا ہے، اس کانفرنس کی قرارداد کی رُو سے انہیں ''اہلُ السُّنَّۃ والجماعۃ‘‘ سے خارج قرار دیا گیا ہے، اس فکر کے حاملین کو علمائے علم الکلام نے ''مُجَسِّمین‘‘ سے تعبیر کیا 
      ہے)۔ ان میں چار فقہی مذاہب کے ماننے والے حنفیہ ،مالکیہ، شافعیہ اور حنابلَہ شامل ہیںاور ان کے علاوہ سید الطائفہ امام جُنید اورعلم ،اَخلاق اور تزکیہ میں اُن کے طریقِ اصلاح کے حامل ائمّہ ھُدیٰ شامل ہیں۔یہ علمی مَنہَج اُن علوم کا احترام کرتا ہے جو، وحیِ ربّانی کو سمجھنے کے لیے خادم کا درجہ رکھتے ہیں اور نفس وفکر کی اصلاح ،دین کو تحریف اور بے مقصد باتوں سے محفوظ رکھنے اور اموال اور آبرو کی حفاظت اور نظامِ اخلاق کی حفاظت کرنے میں ،اس دین کی اَقدار اور مقاصد کو واضح کرتے ہیں۔
      قرآنِ کریم کی حدود ہیںاور یہ تمام دینی علوم اس معنی میں بطورِ خادم اُس کا احاطہ کیے ہوئے ہیںکہ جو اُس کے معنی ومراد کو سمجھنے میں مددگار ہوتے ہیں اورحیات ،تمدُّن ،آداب واخلاق ،رحمت وراحت ،ایمان وعرفان اور دنیا میں امن وسلامتی کے فروغ سے متعلق قرآن میں ودیعت کیے ہوئے اِن علوم کا استخراج (Deduction) کرتے ہیں اور اِس کے سبب اقوامِ عالَم ،مختلف طرزِ بودوباش رکھنے والوں اورمختلف تہذیب وتمدُّن کے حاملین پر یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ دین تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے اور دنیا اور آخرت کی سعادت کا باعث ہے ۔
      اَھْلُ السنّۃ والجماعۃ کامَنْہَج تمام مَناہِجِ اسلام میں سے زیادہ جامع ،زیادہ ثِقہ ،زیادہ مضبوط ، علمی کُتب اور تدریس کے اعتبار سے شرعِ شریف کے مقاصدکے ادراک اور عقلِ سلیم کے لیے صحیح تعبیر کا حامل ہے اور تمام علوم اورحیاتِ انسانی کے تمام شعبوں میں بہترین ربط اور حسنِ تعلق کا آئینہ دار ہے۔اَہل السّنّہ والجماعہ کی علمی درس گاہوں نے صدیوں سے ہزاروں عُلَماء اورفُضَلاء پیدا کیے ہیں جو سائبیریا سے نائجیریا تک اور طنجہ(جبرالٹر کے بالمقابل مراکش کاساحلی شہر) سے جکارتا تک پھیلے ہوئے ہیں اور اِفتاء، قَضاء، تدریس اورخطابت کے شعبوں میں اعلیٰ ترین مناصب پر فائز رہے ہیں ۔اِن کی برکت سے انسانی معاشرت کو امان ملی ،فتنوں اور جنگوں کی آگ بجھی ،ممالک میں قرار وسکون آیا اور علم وعلوم کی اشاعت ہوئی۔
      اَھل السنّۃ والجماعۃ اپنی پوری تاریخ میں اسلام کی صحیح تعبیر کر کے انحرافی فکر سے اِس کی حفاظت کرتے رہے ہیں ،وہ مختلف فرقوں کے نظریات اور مفاہیم کا جائزہ لیتے ہیں اور اُن کے لیے علم، نقد وجرح اورثبوت کے معیارات مقرر کرتے ہیں ،اِلحاد وانحراف کی کوششوں کا سدِّ باب کرتے ہیں ،تحقیق وتنقیح کے شِعار کے ذریعے خطا وصواب میں امتیاز کرنے کے لیے علوم کی ترویج کرتے ہیں ۔انہی کے منہَجِ علمی کے فروغ کے باعث انتہا پسندی کا سدِّ باب ہوااور امتِ محمدیہ کے تمدُّن کو فروغ ملا ۔اسی طبقے میں اسلام کے وہ عَبقری علماء پیدا ہوئے، جنہوںنے الجبرا،ریاضی، جیومیٹری، لوگارتھم، انجینئرنگ ،طب و جراحت، فارمیسی، حیاتیات، ارضیات، کیمیا، طبیعیات، فلکیات ،صوتیات وبصریات اور دیگر علوم میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں ۔
      انحرافی فکر کا فتنہ ہر دور میں سر اٹھاتا رہا ہے ،یہ لوگ ہردور میں اپنی فکر کو قرآن وسنت کی طرف منسوب کرکے صحیح مَنہَجِ علمی کو مٹانے کی کوشش کرتے رہے ہیں،ان کی وجہ سے عام لوگوں کا امن وسکون غارت ہوجاتا ہے ،ایسی ہی گمراہ فکر کے حاملین قدیم دور کے خوارج تھے جن کاتسلسل ہمارے عہد کے وہ خوارج ہیں جو اپنے آپ کو سَلَفیت کی طرف منسوب کرتے ہیں اور مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں ۔ داعش اور اُن کی انتہا پسندانہ فکر کی حامل ساری تنظیموں میں یہ چیز بھی مشترک ہے کہ وہ دین کی مُسَلَّمہ اور مُتفقہ تعلیمات میں تحریف کرتے ہیں ، انتہا پسند ہیں ،جہالت پر مبنی باطل تاویلات کو دین سے منسوب کرتے ہیں ،اس کے نتیجے میں مسلمانوں میں فکری انتشار پیدا ہوتا ہے۔ اِن باطل تاویلات کے بَطن سے تکفیری اور تباہ کُن فکر،خوں ریزی اور تخریب وفساد جنم لیتا ہے اور اسلام کا نام بدنام ہوتا ہے۔اِن کی برپاکردہ جنگوںاور حق سے تجاوز کا تقاضا ہے کہ دینِ حنیف کے حاملین برملا اِن سے برائت کا اعلان کریں اور یہ رسول اللہﷺ کی اس حدیث کا مصداق ہوگا:''بعد میں آنے والوں میں سے اس دین کے حامل وہ انتہائی منصف مزاج علماء ہوں گے، جواِس دین کو انتہا پسندوں کی تحریف ، باطل پرستوں کی بے اصل باتوں اور جاہلوں کی تاویلوں سے پاک کریں گے،(شرح مشکل الآثار:3884) ‘‘۔
      اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ کانفرنس ایسا سنگِ میل ثابت ہوگی جو اِلحادی فکر کی اصلاح کرے گی اور انتہا پسندوں کے باطل اجتہاد ات وتاویلات کے ذریعے اھل السّنّۃ والجماعۃ کے لیے جو خطرات پیدا ہوچکے ہیں ،اُن سے نجات کا باعث ہوگی۔اس کا احسن طریقہ یہ ہے کہ ہماری بڑی درس گاہوں میں اس اِنحرافی فکر کو رد کرنے کے لیے مضبوط علمی استدلال کا طریقہ اختیار کیا جائے اورتکفیر اور انتہاپسندی سے نجات پانے کے لیے امن وسلامتی کے اسلامی پیغام کو پورے عالَمِ انسانیت کے لیے عام کیا جائے تاکہ ہمارے ممالک سب کے سب ہدایت کے سرچشمے اور مَنارۂ نور بنیں ۔
      یہ تفصیلات میں نے سہل انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ امتِ مسلمہ میں عالَمی سطح پر جو اضطراب ہے ، تمام مذہبی طبقات کو اس کا صحیح ادراک ہوجائے ۔میری دانست میں اِس کی ضرورت، دورِ حاضر میں بعض لوگوں کے خود وضع کیے ہوئے جہادی اور تکفیری کلچر کے نتیجے میں، محسوس کی گئی ہے ،کیونکہ اس تخریب وفساد کا نشانہ سب سے زیادہ خود مسلم ممالک بن رہے ہیں ۔اس کانفرنس کے اعلامیے سے روس اور ایران کی دلچسپی شام کے حالات کے تناظر میں واضح ہے اور چیچنیا میں بھی کسی نہ کسی سطح پر جہادی فکر موجود ہے،اگرچہ جوہر دودائیف کے زوال کے بعد اسے دبادیا گیا ہے۔حال ہی میں ایک امریکی پروفیسر عمر نے بتایا کہ خلیفہ کے لیے قرشی ہونے کی شرط کے سبب داعش کے لوگ افغان طالبان کے امیر کی بیعت سے کنارہ کش ہوگئے ہیں۔سعودی عرب کے علماء جو ایک وقت میں اس تصورِ جہاد کے حامی تھے اور وہاں سے اِن گروہوں کو اعانت بھی مل رہی تھی ،اب وہ برملا اِس سے برائت کا اعلان کر رہے ہیں اوراس طبقے کوتکفیری اور خارجی قرار دے رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ گروزنی کی اس عالمی کانفرنس کو اختلاف کی خلیج کو وسیع کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے بلکہ سعودی عرب سمیت تمام علمائے امت کو اِس سے استفادہ کرتے ہوئے دین کے مُسلَّمہ اور مُشتَرکہ اصولوں پر اجماع کے قیام کے لیے استعمال کیا جائے۔سعودی عرب جو اپنے دینی نظریات کے فروغ کے لیے بے پناہ سرمایہ خرچ کرتا تھا،اب وہ خود اِن فسادیوں کے نشانے پر ہے ۔لہٰذا انہیں اب یہ مصارف دین اور امت کی وحدت کے لیے استعمال کرنے چاہییں اور امت میں تفریق کے اسباب کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ حقیقی معنی میں اتحادِ امت کا خواب اپنی تعبیر کو پاسکے ۔
      See more at: 
      1. http://m.dunya.com.pk/index.php/author/mufti-muneeb-ul-rehman/2016-10-01/17013/43489424#sthash.076RTipP.dpuf
      2. http://m.huffingtonpost.in/entry/the-sunni-conference-at-grozny-muslim-intra-sectarian_us_57d2fa63e4b0f831f7071c1a
      3. http://www.firstpost.com/world/islamic-conference-in-chechnya-why-sunnis-are-disassociating-themselves-from-salafists-2998018.html

      Related 

      Jihad, Extremism

        Sunday, August 7, 2016

        What are terrorists made of?



        According to a recent feature in Scientific America, the US Homeland Department has dished out $12 million to a research facility which investigates the origins, dynamics and psychological impact of terrorism.

        The facility, staffed by more than 30 experienced scientists, is called Study of Terrorism & Response to Terrorism (START).

        According to Scientific America: “Whereas earlier researchers focused on the political roots of terrorism, many of today’s investigators are probing the psychological factors that drive adherents to commit deadly deeds …”

        START is now concentrating on trying to figure out the minds of persons who are willing to cause indiscriminate carnage and maximum deaths (including their own) for what they believe is a cause close to their faith. Such a person does not see it as an act of terror, but, rather, an expression of their theological conviction.

        In the past, a majority of studies in this context have been more inclined to treat such men and women as consequences of systematic brainwashing and even mental illness.

        Recent studies suggest that terrorist outfits usually tend to screen out mentally unstable recruits and volunteers because their instability is likely to compromise the mission and expose their handlers.
        Even though these two factors are still being investigated, the most recent studies on the issue emanating from research facilities such as START suggest that most of the terrorists might actually be mentally stable; even rational.

        Summarising the results of the recent studies, Scientific America informs that “the vast majority of terrorists are not mentally ill but are essentially rational people who weigh the costs and benefits of terrorist acts, concluding that terrorism is profitable.”

        By profitable they mean an act of terror which, in addition to being financially favourable to the perpetrator (or to his or her family which gets looked after if the person is killed); is also an act which is perceived by the person to be beneficial to his or her sense and perception of their spiritual disposition.

        What’s more, recent studies suggest that terrorist outfits usually tend to screen out mentally unstable recruits and volunteers because their instability is likely to compromise the mission and expose their handlers.

        The studies also propose that even though economic disadvantages do play a role in pushing a person to join a terror outfit out of anger or desperation, this is not always the case.

        Forensic psychiatrist Marc Sageman of the University of Pennsylvania, carried out an extensive survey of media reports and court records on 400 ‘extremists.’ He determined that “these individuals were far from being brainwashed, socially isolated, hopeless fighters; 90 per cent of them actually came from caring, intact families; and 63 per cent of these had gone to college.”

        There is another interesting query that the researchers are trying to investigate: why were terrorists during the Cold War more constrained in their acts than the ones which emerged after the end of that conflict?

        Studies suggest that a majority of significant terror groups during the Cold War were driven by nationalistic or communist impulses. Modern religious terrorism largely emerged from the 1990s onward.

        Interestingly, despite the fact that Cold War terrorists did not hesitate to kill perceived enemies, they were, however, overtly conscious of how their acts would be perceived by popular opinion and the media.

        For example, militant left-wing outfits in Europe, and even some factions of Palestinian guerrilla organisations (in the late 1960s and 1970s), would often abort attacks in which they feared casualties of innocent bystanders could mount.

        This is not the case anymore. It seems, today, the old concern of being perceived as an indiscriminately brutal outfit has actually become the purpose. Terrorists now actually want to be perceived in this manner.

         What are terrorists made of?
        by Nadeem F. Paracha, dawn.com

        Related :

        Jihad, Extremism