Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Saturday, March 4, 2017

If only terrorists were savages

جن دہشت گردوں سے دنیا واقف ہے، جیسا کہ القاعدہ، داعش، لشکر ِجھنگوی وغیرہ، وہ افریقہ یا برازیل کے جنگلوں میں پائے جانے والے ناخواندہ وحشی نہیں ہیں۔ اسامہ بن لادن کوئی لاعلم شخص ہرگزنہ تھا اور نہ ہی ابوبکر البغدادی ناخواندہ ہے، جو منہ سے بے معنی آوازیں نکالتا رہے۔ تکفیری فرقے کے اکابرین اعلیٰ تعلیم  یافتہ افراد ہیں۔ 
To win this fight the ideology of the state, what the state stands for, has to be more powerful and compelling than the ideology of the suicide bomber and the terrorist. The state has to stand for something superior to the beliefs of the misguided jihadist. The state’s narrative has to hold a greater appeal for the poor, the impoverished, the disenfranchised, the sectors without power and privilege, than the simple, perverted nostrums of the bomb-thrower. The state must stand for justice, a measure of equality, a fairer distribution of resources, and for science and the power of reason if it hopes to eradicate the scourge of faith-based terrorism from its soil. Keep reading >>>>
Image result for counter narrative
کسی بھی قسم کا نظریہ ہو جیسا کہ صہیونیت، کمیونزم، جہادی سوچ، ہندو انتہا پسندی، اس میں جہالت کا عمل دخل نہیں، بلکہ ذہن کے مخصوص رجحان کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کسی ایک یا کئی ایک نظریات سے اختلاف رکھتے ہوں، آپ اس کے مخصوص پہلوئوں سے یا اس سے مجموعی طور پر نفرت کرتے ہوں، لیکن آپ اس نظریے کو محض لاعلمی کا شاخسانہ قرار دے کر رد نہیں کرسکتے۔ منظم دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے، خاص طور پر وہ جن کی دہشت گردی کو عقائد کی سوچ کا سہارا ہوتا ہے، زیادہ ترمخصوص فکری جھکائو رکھتے ہیں۔ اور یہی اس مسئلے کا سب سے خطرناک پہلو ہے،کیونکہ کسی وحشی کو تو اعصابی گیس یا رائفل کی گولی سے ہلاک کیا جاسکتا ہے؛ تاہم کسی نظریے کو اس طرح ختم کرنا مشکل ہے۔ 
سٹالن دور میں وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا خوف کسی احمقانہ گروہ کا کام نہ تھا۔ انقلاب ِروس کے اہم ترین رہنما اعلیٰ پائے کے دانشور اور مفکر تھے۔ سٹالن خود بھی عقل و فہم رکھنے والا انسان تھا، اُس کے پاس ہمہ وقت کتابیں ہوتی تھیں۔ مائو دور میں خوف کی لہر بھی سٹالن دور میں چھائی خوف کی فضا سے کم لہُو رنگ نہ تھی۔ ہم سب جانتے ہیںکہ مائو ایک لکھاری اور مفکر تھا اور وہ اپنے کتب خانے میں سوتا، جہاں اُس کے جہازی سائزکے بیڈ پر ہمہ وقت کتابیں بکھری رہتیں (خیر اسی بیڈ پر وہ داد ِعیش بھی دیتا) تاہم اُس سے زیادہ سفاک اور یک جہت رجحان والا شاید ہی کوئی شخص ہو۔ جنہیں وہ اپنا دشمن سمجھتا، اُن پر ہر گز رحم نہ کھاتا۔ Liu Shaoqi چین کا صدر تھا لیکن ''ثقافتی انقلاب ‘‘ کے دوران اُس پر اور اُس کی بیوی پر جس قسم کا تشدد کیا گیا، اُسے پڑھ کر آج بھی آپ خوف سے لرز اٹھتے ہیں۔ اسی طرح ''خمر روگ‘‘ (Khmer Rouge) کے لیڈر بھی دانشور تھے، لیکن اگر آپ اُن کا حال پڑھیںکہ اُنھوں نے کمبوڈیا میں کس طرح وسیع پیمانے پر خوف وہراس پھیلایا تو ہوسکتا ہے کہ آپ کے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہو، لیکن اُن کے لیے نہیں جو اُس وقت کمبوڈیا میں موجود تھے۔ 
فلسطینیوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑنے والے صہیونی رہنما اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد تھے۔ وہ فلسطینیوںکو اُن کی آبائی سرزمین سے بے دخل کرکے وہاں اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے اور اُنھوں نے نہایت سفاک یکسوئی سے یہ مقصد حا صل کیا۔ ایسا کرتے ہوئے فلسطینیوں کی ابتلا اور مصائب کا مطلق احساس نہ کیا۔ صہیونیت اپنے مقصد پر قائم رہنے والے اعلیٰ پائے کے دانشوروں کا فلسفیانہ نظریہ تھا۔ ہٹلر اور نازی ازم کو کون بھول سکتا ہے؟ جرمنی کا شمار دنیا کی مہذب ترین اقوام میں ہوتا ہے۔ صرف موسیقی کی دنیا کو ہی لے لیں، کون سی منزل ہے جو جرمنی کی پہنچ سے باہر رہی؟ ہٹلر بذات ِخود گہرے مطالعے کا ذوق رکھنے کے علاوہ پینٹنگ کے فن سے آشنا تھا۔ وہ اوپیرا کو پسند کرتا، خاص طور پر ویگنزکے اوپیرا کو، اور وہ اس کی تاریخ سے آشنا تھا۔ اور مت بھولیں، وہ کمال اتاترک کا مداح تھا۔ اگر وہ دوسری جنگ ِعظیم نہ چھیڑ بیٹھتا تو اُس کا شمار جرمن تاریخ کے عظیم ترین رہنمائوں میں ہوتا، فریڈرک اعظم سے بھی عظیم۔ لیکن وہ جرمنی کو جنگ کی راہ پر لے گیا اور پھر ہولوکاسٹ کے دوران یہودیوں کے منظم قتل ِعام کا بھی ذمہ دار تھا۔ 
امریکی جنوبی ویت نام میں گئے، لائوس (Laos) اور کمبوڈیا کے خلاف خفیہ جنگیں شروع کردیں۔ اُنھوںنے چھوٹی سی ریاست، لائوس میں اس سے کہیں زیادہ بم برسائے جتنے دوسری جنگ ِعظیم کے دوران مجموعی طور پر گرائے گئے تھے ۔ اور اگر ویت نام ماضی کی بات ہے، عراق ہمارے سامنے کی مثال ہے۔ وہاں پورے معاشرے کو تباہ اور لاکھوں افرا د کوبے گھر کردیا گیا، اور قہر یہ ہے کہ وہ جنگ ایک جھوٹ پر مبنی تھی، نیزاسے عراق پر مسلط کرنے والا ملک وہ تھا جو خود کو عالمی لبرل نظام کا لیڈر سمجھتا ہے۔ اس کے بعد یہ لبرل لیڈر لیبیا پر پل پڑا اور اُسے تباہ کرکے رکھ دیا۔ وہ شام کے لیے بھی ایسے ہی عزائم رکھتا تھا اگر ایران، حزب اﷲ اور روس، دمشق حکومت کا ساتھ نہ دیتے اور بشارالاسد خود بھی اپنے قدموں پر کھڑے نہ رہتے۔ ہوسکتا ہے کہ اسد نے اپنے شہریوں پر ظلم کیا ہو لیکن اُنھوں نے وہ جرأت دکھائی جو دنیا کے لبرل نظام کو پسند نہیں۔ 
مختصر یہ کہ لبرل اور روشن خیال یورپ نے لیبیا کی تباہی میں کردار ادا کیا، شام میں خانہ جنگی کے شعلوں کو ہوا دی اور پھر ان کے ہاتھوں تباہ ہونے والے عراق اور شام کی شورش زدہ فضا سے داعش جیسا عفریت نمودار ہوا۔ اب کوئی نہیں کہہ سکتا ہے کہ روشن خیال اور تعلیم یافتہ یورپ کوئی وحشی یا جاہل لوگوں کو سر زمین ہے۔ جہاں تک داعش کا تعلق ہے تو اس کی قیادت کرنے والے افراد اسلامی علوم کے پوشیدہ نکات تک کی مہارت رکھتے ہیں۔ لیکن پھر آگ کے ساتھ کھیلنے کا یہی انجام ہوتا ہے۔ جب امریکیوں نے دروغ گوئی کے سہارے عراق پر فوج کشی کی تو کیا وہ جانتے تھے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں کون سے خون آشام جن بوتل سے رہا ہو جائیں گے؟ کیا برطانیہ اور فرانس معمر قذافی کا تختہ الٹنے کے مضمرات سے واقف تھے؟ کیا نائن الیون کے بمباروں کو پتا تھا کہ وہ کن فتنوں کو جگانے جارہے ہیں؟ یا پھر اُن کا مقصد یہی تھا؟ وہ افراتفری اور شورش برپا کرنا چاہتے تھے؟ ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ناپسندیدہ باتیں کی جارہی ہیں کیونکہ وہ ایک صدر جیسا رویہ نہیں رکھتے۔ وہ اپنے بولے گئے جملوں کی صلیب پر لٹکے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم اُنھوںنے کم از کم فی الحال کوئی جنگ شروع نہیں کی، بلکہ اُنھوں نے دوٹوک الفاظ میں عراق جنگ کی مذمت کی تھی۔ ہلیری کلنٹن سے اس رویے کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔ اور مت بھولیں، جب لیبیا کو تباہ کیا گیا تو انتہائی مہذب، تعلیم یافتہ اور سمجھ دار دکھائی دینے والے بارک اوباما اقتدار میں تھے۔ تباہی اور موت پھیلانے کے بعد غیر ذمہ دارانہ بیان بازی اس سے بھی بدتر فعل ہے۔ 
پاکستان میںہم اُس وقت غلطی پر ہوتے ہیں جب کہتے ہیں کہ دہشت گردی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ لوگ بلامقصد اپنی جان نہیں دیتے ہیں۔ اُنہیں عقائد کے نام پر ہی اس راہ پر گامزن کیا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہم اُن کے عقائد سے اتفاق نہ کریں اور کہیں کہ وہ سچے عقیدے کی فہم نہیں رکھتے، لیکن دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے ہمیں یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ وہ جو بھی کرتے ہیں کسی نہ کسی عقیدے، جو اُن کے تئیں درست ہوتا ہے،کے تحت کرتے ہیں۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست کا نظریہ دہشت گردوں اور خود کش حملہ آوروں کے نظریے سے زیادہ طاقتور اور فعال ہو۔ چنانچہ ضروری ہے کہ ریاست مسخ شدہ جہادی عقائد سے برتر تصورات کی آبیاری کرے۔ ریاست کا بیانیہ غریب، بے کس اور لاچار عوام کے لیے خود کش بمباروں کے پیغام سے زیادہ پُرکشش ہو۔ ریاست کو انصاف، مساوات، وسائل کی منصفانہ تقسیم ، سائنس، معقول سوچ کو ارزاں کرتے ہوئے امید کی شمع روشن کرنا ہوگی۔ صرف اسی وقت ہم مسخ شدہ عقائد کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کے اندھیرے دور کرسکیں گے۔ 
مختصر یہ کہ لبرل اور روشن خیال یورپ نے لیبیا کی تباہی میں کردار ادا کیا، شام میں خانہ جنگی کے شعلوں کو ہوا دی اور پھر ان کے ہاتھوں تباہ ہونے والے عراق اور شام کی شورش زدہ فضا سے داعش جیسا عفریت نمودار ہوا۔
- See more at: http://dunya.com.pk/index.php/author/ayaz-ameer/2017-03-04/18751/93231301#tab2

Related :

Terrorism and solution? دہشت گردی اور اس کا حل ؟

دہشت گردی ایک اختلافی نظریہ ہے جس کی بہترین وضاحت اس قدیم کہاوت سے ہوتی ہے؛ “ایک شخص کا دہشت گرد دوسرے کے نزدیک آزادی کا مجاہد ہے”...

    Monday, February 27, 2017

    Counter Narrative to Terrorism قومی بیانیہ


    7ستمبر2015ء کو وزیرِ اعظم ہاوس اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں قومی بیانیہ ترتیب دینے کے لیے ایک مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی تھی :
    مفتی منیب الرحمن ،مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا قاری محمد  - حنیف جالندھری ،مولانا قاضی نیاز حسین نقوی، مولانا یاسین ظفراور مولانا عبدالمالک
    لہٰذا ہم نے اپنے تناظر میں یہ بیانیہ ترتیب دیا ۔ ہماری دینی اور ملی ذمے داری ہے کہ اس کے ازالے اور حقیقتِ حال کی وضاحت کے لیے اپنا شرعی موقف واضح کریں اور اسی بنا پر ہم نے اسے قومی بیانیے کاعنوان دیا ہے،پس ہمارا موقف حسبِ ذیل ہے:

    (1)اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، جس کے دستور کا آغاز اس قومی وملی میثاق سے ہوتا ہے :''اللہ تبارک وتعالیٰ ہی کل کائنات کا بلاشرکتِ غیرے حاکم ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیارو اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہے، وہ ایک مقدس امانت ہے‘‘۔ نیز دستورمیں اس بات کا اقراربھی موجود ہے کہ اس ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا اور موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا ۔ اگر چہ دستور کے ان حصوں پر کما حقہ عمل کرنے میں شدید کوتاہی رہی ہے ، لیکن یہ بے عملی ہے اور اس کوتاہی کی بنا پر ملک کی اسلامی حیثیت اور اسلامی اساس کا انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ لہٰذا اس کی بنا پر ملک، حکومتِ وقت یا فوج کو غیر مسلم قرار دینے اور ان کے خلاف مسلح کارروائی کا کوئی شرعی جوازنہیں ہے ۔ 
    (2)پاکستان کے آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نفاذِ شریعت کی پر امن جدِّو جُہد کرنا ہر مسلمان کی دینی ذمے داری ہے، یہ پاکستان کے دستور کا تقاضا بھی ہے اور اس کی دستورمیں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔ ہماری رائے میں ہمارے بہت سے ملکی اورملّی مسائل کا سبب اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد سے روگردانی ہے ۔حکومت اس حوالے سے پیش رفت کرتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ شریعت اپیلٹ بینچ کو فعال بنائے اور اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کی سفارشات پر مبنی قانون سازی کرے، جو کہ دستوری تقاضا ہے ۔ 
    نفاذِ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی ،تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے ، حرام قطعی ہیں، شریعت کی رو سے ممنوع ہیں اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں ۔یہ ریاست ، ملک و قوم اور وطن کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہیں، عدمِ استحکام سے دو چار کر رہی ہیں ، تقسیم در تقسیم اور تفرقے کا باعث بن رہی ہیں اور ان کا تمام تر فائدہ اسلام دشمن اور ملک دشمن قوتوں کو پہنچ رہا ہے۔ لہٰذا ریاست نے ان کو کچلنے کے لیے ضربِ عَضب کے نام سے جو آپریشن شروع کر رکھا ہے اور قومی اتفاقِ رائے سے جو لائحہ عمل تشکیل دیا ہے ، ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔ اب ہماری مسلّح افواج نے ایک نئی مہم شروع کی ہے ،جس کا عنوان ہے: ''رَدُّ الفَسَاد‘‘،ہم اس کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ 
    (3)اکیسویں آئینی ترمیم میں جس طرح دہشت گردی کو''مذہب و مسلک کے نام پر ہونے والی دہشت گردی‘‘کے ساتھ خاص کر دیا گیا ہے، اس کے بارے میں ہمارے تحفظات ہیں۔ دہشت گردی اور ملک کے اندر داخلی فساد کی باقی تمام صورتوں کو یکسر نظر انداز کر دینامذہب کے بارے میں نظریاتی تعصب کا آئینہ دار ہے اور اس امتیازی سلوک کافوری تدارک ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم ریاست اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس سے ملک میں قیامِ امن کے لیے ہمارے عزم میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا ۔ دہشت گردی کی تازہ لہر کے بعد بھی معلوم ہوا ہے کہ ہماری لبرل جماعتیں مذہب اور اہلِ مذہب کو ہدفِ خاص بنانے کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو آمادہ نہیں ہیں اوراِسی لیے تئیسویں ترمیم پر اتفاق رائے نہیں ہوپارہا،اگرچہ اس اختلاف کا سبب در اصل ان کی ایک دوسرے سے شکایات ، گِلے شکوے اور کچھ خدشات ہیں۔
    (4)تمام مسالک کے نمائندہ علماء نے2004ء میں اتفاقِ رائے سے شرعی دالائل کی روشنی میں قتلِ ناحق کے عنوان سے خود کش حملوں کے حرامِ قطعی ہونے کا جو فتویٰ جاری کیا تھا، ہم اس کی مکمل تائید و حمایت کرتے ہیں۔نیز لسانی علاقائیت اور قومیت کے نام پر جو مسلح گروہ ریاست کے خلاف مصروفِ عمل ہیں، یہ بھی قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا سبب ہیں اور شریعت کی رو سے یہ بھی ممنوع ہے، لہٰذا ضربِ عضب کا دائرہ ان سب تک وسیع کیا جائے۔ 
    (5)مسلمانوںمیں مسالک و مکاتب ِ فکرقرونِ اُولیٰ سے چلے آ رہے ہیں اور آج بھی موجود ہیں۔ ان میں دلیل و استدلال کی بنیاد پرفقہی اورنظریاتی ابحاث ہمارے دینی اور اسلامی علمی سرمائے کا حصہ ہیں اور رہیں گی ۔ لیکن یہ تعلیم وتحقیق کے موضوعات ہیں اور ان کا اصل مقام درس گاہ ہے۔ اِن کو پبلک یا میڈیا میں زیرِ بحث لانا بھی انتشارپیدا کرنے اور وحدتِ ملی کو نقصان پہنچانے کا سبب ہے۔ اِن کو انتظامی اور انضباطی اقدامات سے کنٹرول کرنا حکومت کی ذمے داری ہے۔اس سلسلے میں میڈیا کے لیے ضابطہ اخلاق یا قانون بناکر اسے سختی سے نافذ کرنا بھی حکومت کی ذمے داری ہے اور اس کے لیے وہ کوئی تعزیری اقدام بھی تجویز کر سکتی ہے ۔ 
    (6)فرقہ وارانہ نفرت انگیزی ، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت اور آئین و قانون کی رو سے ناجائز ہے اوریہ ایک قومی اور ملی جرم ہے ۔ 
    (7)تعلیمی اداروں کا، خواہ وہ دینی تعلیم کے ادارے ہوں یا عصری تعلیم کے ، ہر قسم کی عسکریت اورنفرت انگیزی پر مبنی تعلیم یا تربیت سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے ۔ اگر کوئی فرد یا ادارہ اس میں ملوث ہے ، تو اس کے خلاف ثبوت وشواہد کے ساتھکارروائی کرنا حکومت کی ذمے داری ہے ۔ 
    (8)دینی مدارس پر مبہم اور غیر واضح الزامات لگانے کا سلسلہ ختم ہوناچاہیے ۔ دینی مدارس کی پانچوں تنظیمات حکومت کو لکھ کر دے چکی ہیں کہ اگراس کے پاس ثبوت و شواہد ہیں کہ بعض مدارس عسکریت ، دہشت گردی یا کسی بھی ملک دشمن سرگرمی میں ملوث ہیں، تو ان کی فہرست جاری کی جائے۔ وہ خود نتائج کا سامنا کریں یا اپنا دفاع کریں ، ہم ان کا دفاع نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کی حمایت کریں گے ۔ 
    (9) ہم بلا استثنا تمام دینی مدارس میں کسی منفی سرگرمی کی مطلقاً نفی نہیں کر سکتے ،ہماری نظر میں انتہا پسندانہ سوچ اور شدت پسندی کومحض دینی مدارس سے جوڑناغیر منصفانہ سوچ کا مظہر ہے۔ گزشتہ عشرے سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایسے شواہدسا منے آئے ہیں کہ یہ روش جدیدعصری تعلیمی اداروں اور دیگر اداروں میں بھی فروغ پا رہی ہے، اس کے نتیجے میں مغرب کے پر تَعیُّش ماحول سے نکل کر لوگ وزیرستان آئے ، القاعدہ اور داعش سے ملے، جب کہ یہ جدید تعلیم یافتہ لو گ ہیں۔پس تناسب سے قطعِ نظر یہ فکرہرجگہ کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ سویہ فکری نِہادجہاں کہیں بھی ہو،ہماری دشمن ہے ۔یہ لوگ دینی مدارس یا جدید تعلیمی اداروں یاکسی بھی ادارے سے متعلق ہوں، ہمارے نزدیک کسی رو رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔ 
    (10)دینی مدارس کی پانچوں تنظیمات اس بات کا عہد کرتی ہیں کہ دینی تعلیم کھلے ماحول میں ہونی چاہیے اور طلبہ و طالبات پر کسی قسم کا جسمانی یا نظریاتی تشدّدیا جبرروانہیں ہے۔ الحمد للہ ہمارے دینی مدارس کا ماحول کھلا ہے اور اس میں عوام بلا روک ٹوک آ سکتے ہیں اور کوئی چیز مخفی نہیں ہے ، یہ ادارے ملکی قانون کے تحت قائم ہیں اور ملکی قانون کے پابند ہیں اور رہیں گے۔ 
    (11)ہر مکتبہ فکر اور مسلک کو مثبت اندازمیں اپنے عقائد اور فقہی نظریات کی دعوت و تبلیغ کی شریعت اور قانون کی رو سے اجازت ہے ، لیکن اہانت آمیز اور نفرت انگیزی پر مبنی اندازِ بیان کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ اسی طرح صراحت ، کنایہ ، تعریض ، توریہ اور ایہام کسی بھی صورت میں انبیائے کرام و رُسُلِ عظام علیہم السلام اہل بیتِ اطہار و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، شعائرِ اسلام اور ہر مسلک کے مسلمہ اکابرِ امّت کی اہانت کے حوالے سے ضابطہ فوجداری کے آرٹیکل 295 کی تمام دفعات کو لفظاً اور معنیً نافذ کیا جائے اور اگر اس قانون کا کہیں غلط استعمال ہوا ہے ، تو اس کے اِزالے کی احسن تدبیر کی جاسکتی ہے۔فرقہ وارانہ محاذ آرائی کے سدِّ باب کی یہی ایک قابلِ عمل صورت ہے ۔ 

    (12)عالمِ دین اور مفتی کا منصبی فریضہ ہے کہ "کلماتِ کفر" کلمات شرک"  کو "کفر" قرار دے اور سائل کو شرعی حکم بتائے ، البتہ کسی شخص کے بارے میں فیصلہ صادر کرناکہ آیا اس نے کفرکا ارتکاب کیا ہے یا "کلمہ کفر " کلمہ شرک" کہا ہے ، یہ قضا ہے اور عدالت کا کام ہے۔ مفتی کا کام صرف شرعی حکم بتانا ہے ، اس سے آگے ریاست و حکومت اور عدالت کا دائرہ اختیار ہے ۔اسی لیے ہمارے فقہائے کرام نے ''لُزُومِ کفر ‘‘اور ''التِزامِ کفر‘‘ کے فرق کو واضح کیا ہے۔

    (13)اس وقت پاکستان میں جدید تعلیم ایک انتہائی منفعت بخش صنعت بن چکی ہے۔ پلے گروپ اور نرسری سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک پرائیویٹ تعلیمی ادارے ناقابل یقین حد تک غیر معمولی فیسیں وصول کر رہے ہیں۔اعلیٰ معیاری تعلیم قابلِ فروخت جنس بن چکی ہے اور مالی لحاظ سے کمزور طبقات کی پہنچ سے دور ہے اور اس کے نتیجے میںمعاشرے میں طبقاتی تقسیم کو مستقل حیثیت حاصل ہے، کیونکہ پبلک سیکٹر میں تعلیم کا معیار انتہائی حد تک پست ہے۔ہمیں تعلیم کے پرائیویٹ سیکٹر میں ہونے پر اعتراض نہیں ہے ، اعتراض یہ ہے کہ تعلیم کو صنعت کی بجائے سماجی خدمت کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے ۔ لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ ایک قومی کمیشن قائم کیا جائے جو پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں کے لیے''نہ نفع نہ نقصان‘‘یامناسب منفعت کی بنیادپر فیسوں کا تعین کرے اور انہیں اس بات کا پابند کرے کہ وہ کم از کم پچیس فیصد نادار طلبہ کو میرٹ پر منتخب کر کے مفت تعلیم دیں ۔عصری تعلیم کے پرائیویٹ اداروں میں کئی قسم کی درآمد کی ہوئی نصابی کتب پڑھائی جارہی ہیں اور ان کا نظامِ امتحان بھی بیرونِ ملک اداروں سے وابستہ ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ان کے نصاب پر موثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان میں تعلیم پانے والی ہماری نئی نسل اسلامی اور پاکستانی ذہن کی حامل ہو اور سب سے آئیڈیل بات یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرح اسکول گریجوایشن کی سطح تک یکساں نصابِ تعلیم اور نظامِ امتحان رائج ہو۔ 
    (14)پاکستان میں رہنے والے پابندِ آئین وقانون تمام غیرمسلم شہریوں کو جان ومال اور عزت وآبروکے تحفظ اور ملکی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے وہی تمام شہری حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں ۔ہم حقوقِ انسانی کی مکمل پا س داری کا عہد کرتے ہیں۔اِسی طرح پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو اپنی عبادت گاہوں میں اپنے اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کا پوراپورا حق حاصل ہے ۔
    (15)اسلام خواتین کواحترام عطا کرتا ہے اور اُن کے حقوق کی پاس داری کرتا ہے۔ اسلام کے قانونِ وراثت میں خواتین کے حقوق مقرر ہیں۔ان کو جاگیرداری،سرمایہ داری اور قبائلی رسوم پر مبنی سماجی روایات کی بنیادپروراثت سے محروم رکھا جاتا ہے۔بعض صورتوں میں اخلاقی اور معاشرتی دباو ڈال کر وراثت سے دست برداری حاصل کی جاتی ہے۔قرآن سے شادی کا تصور بھی وراثت سے محروم کرنے کی غیر شرعی رسم ہے ۔ وراثت کا استحقاق محض دست برداری سے ختم نہیں ہوتا ، قرآن و سنت کی رو سے تقسیمِ وراثت شریعت کالازمی قانون ہے ۔ شریعت کی رو سے اگر کوئی وارث اپنا حصہ رضا ور غبت سے اورکسی جبر و اکراہ کے بغیر کسی کو دینا چاہے ، تو بھی محض دست برداری کافی نہیں ہے ۔جائیداد مالکانہ طور پر اس کے نام پر منتقل کرنااور اسے اُس پر قبضہ دینا لازمی ہے ، اس کے بعد ہی وہ مالکانہ حیثیت سے تصرف کرسکتا ہے ۔
    عورتوں پر تشدد کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور رسول اللہ ﷺنے خطبہ حجۃ الوداع میں عورتوں کے حقوق کی پاس داری پر نہایت تاکید کے ساتھ متوجہ فرمایا ہے ۔خواتین کی جبری شادی ہمارے دیہی اور جاگیردارانہ سماج کی ایک خلافِ شرع روایت ہے اور ریاست کی ذمے داری ہے کہ اسے قانون کی طاقت سے روکے۔ اسلام عورت کے حقِ رائے دہی پر بھی کوئی قدغن نہیں لگاتا اور نہ ہی عورتوں کے تعلیم حاصل کرنے پر کوئی پابندی ہے، اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ شرعی حدود کی پابندی کی جائے ۔ 
    ہم نے دینی مدارس وجامعات کی رجسٹریشن کا میکنزم بھی بناکر دیا ،تمام ضروری کوائف ومعلومات اُس میں شامل کی گئیں اور تفصیلی کوائف کے لیے اصل کیفیت نامہ کے ساتھ ضمنی فارم مرتب کر کے دیے ۔اسی طرح ڈیٹا فارم بھی مرتب کر کے دیا اور طے پایا کہ پہلے سے قائم سوسائٹی ایکٹ یا ٹرسٹ ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ مدارس کو قانونی تصور کیا جائے گا اور اُن سے دوبارہ رجسٹریشن کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا ۔یہی اصول سابق صدر جناب جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت کے ساتھ طے پایا تھا اور اُن کے دور میں اس پر عمل رہا ۔ یہ بھی طے پایا کہ پہلے سے رجسٹرڈ مدارس اور نئی رجسٹریشن حاصل کرنے والے مدارس سالانہ ڈیٹا بھی فراہم کریں گے اوراس کے لیے وفاقی وزارتِ مذہبی امور یا وزارتِ تعلیم میں ایک سیل قائم کیا جائے گایا صوبے اس ذمے داری کو انجام دیں گے ۔ہماری معلومات کے مطابق ہمارے تیارے کیے گئے اس مسودہ ٔ قانون کی صوبوں سے منظوری بھی لی گئی ،لیکن پھر اس پر قانون سازی نہ ہوسکی ۔ماضیٔ قریب میں صوبۂ سندھ کی اسمبلی نے ایک متنازعہ بل بنایا ،لیکن وہ اب تک معرضِ التوا میں ہے ،کیونکہ صوبائی وزیرِ اعلیٰ جنابِ سید مراد علی شاہ متعدد وعدوں کے باوجود اتفاقِ رائے کے لیے اب تک کوئی اجلاس منعقد نہیں کرسکے اور حکومت کے اِسی شِعار کی وجہ سے ''تبدیلیٔ مذہب ‘‘کا قانون جو در اصل ''قانونِ امتناعِ قبولِ اسلام ‘‘ ہے،صوبائی اسمبلی سے پاس ہونے کے باوجود قانون نہ بن سکا اور اُس کے بارے میں بھی اتفاقِ رائے کے لیے جنابِ آصف علی زرداری کے وعدے اور ہدایت کے باوجودکوئی اجلاس منعقد نہ ہوسکا۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کو ملامت کرنے میں لگی رہتی ہیں ،لیکن ہمیں سنجیدگی کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہی اور سب پنجابی محاورے کے مطابق ''ڈنگ ٹپائو‘‘کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ 
    مفتی منیب الرحمان ، دنیا  ڈاٹ کام

    Counter Narrative to Terrorism ?

    خوارج ، تکفیری دہشت گردی کے خلاف بیابیہ کی ضرورت

    Terrorism and solution? دہشت گردی اور اس کا حل ؟

    دہشت گردی ایک اختلافی نظریہ ہے جس کی بہترین وضاحت اس قدیم کہاوت سے ہوتی ہے؛ “ایک شخص کا دہشت گرد دوسرے کے نزدیک آزادی کا مجاہد ہے”...

    Related :

    Jihad, Extremism

      Tuesday, February 14, 2017

      National Counter-terrorism Narrative

      Image result for narrative of terrorism
      The most common approach to deal with insurgencies, terrorism, or internal violence is to use the forces to establish law and order in the affected areas. .In most of the cases, this has not been a successful strategy. Even when these measures are successful in defeating the extremism or terrorism, the human cost associated with military operations is very high. The way out of the current impasse is to promote culture of tolerance and moderation through good governance which is essentially a strategy of social, political and economic reforms .Peshawar school massacre of 16 December 2014 in which nearly 150 children lost their lives, was a watershed event in the history of Pakistan. Prime Minister of Pakistan while announcing the National Action Plan on 25 December 2014 has very rightly said that the December 16 massacre has drawn a line. On one side are coward terrorists and on the side stands the whole nation. This incident changed the thinking of the whole nation. A consensus was developed between the civil and military leadership to clear the country from the menace of terrorism. The uncertain and ambiguous narrative on counter terrorism was replaced with a new united national narrative to curb terrorism. Earlier the diverse and divided counter terrorism narrative created societal confusions and polarizations. As a result, successive Pakistani governments have failed to get public support against terrorists.>>>>>>
      National Counter-terrorism Narrative : Islamabad Policy Research Institute



      .
        ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~
      مزید پڑھیں:
      ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~
      More:

      ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~




      Humanity, Knowledge, Religion, Culture, Tolerance, Peace


      انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ، کلچر ، برداشت ، سلامتی 
      سلام فورم نیٹ ورک  Peace Forum Network 
      Visited by Millions لاکھوں افراد کا وزٹ 


      Frequently Asked Questions <<FAQ>>


      سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا "وہاٹس اپپ براڈکاسٹ" وصول کرنے کے لیے اپنا نام اور موبائل نمر923004443470+ پر بھیجیں   
      Join 'Peace-Forum' at Social Media or receive WhattsApp Broadcast, by sending your Name and Cell# at +923004443470


        


      Facebook Page



      Wednesday, February 1, 2017

      دہشت گردی اور ,شیعہ ،وہابی، سلفی تعلق؟ , Terrorism linked with Wahabi, Salfi Ideology?

      
      • What is Wahhabism? The reactionary branch of Islam said to be 'the main source of global terrorism:
      آج دنیا کے ہر خطّے میں اسلام کے اصلی چہرے "اسلام ناب محمدی" کو مسخ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دہشت گردی، قتل غارت، بھرے گھروں کا ویراں ہوجانا، ڈر، خوف و وحشت جیسے تمام مفاہیم کو اسلام کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دنیا میں بہت سارے سادہ لوح انسان دشمن کے اس بے بنیاد پروپیگنڈے کا شکار ہوچکے ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تمام چیزیں اسلام کا لازمہ ہیں جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام تو حقیقت میں امن، قربانی، ایثار اور پیار و محبت کی ایک روحانی دنیا ہے کہ جس کے حقیقی مفاہیم سے ابھی تک زمانہ ناآشنا ہے۔ اسلام امن و آشتی کا گہوارہ اور بہترین احساسات و اصول و ضوابط کا ایک مضبوط قلعہ ہے کہ جس کے اندر ڈر، خوف، بدامنی و قتل و غارت جیسی کسی چیز کا وجود نہیں۔ اگر آج بھی کوئی اسلام کے ان تمام احساسات کو قریب سے درک کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ اربعین حسینی ؑ کے موقعے پر کربلا کی طرف نگاہ کرے۔ یہاں اسے حقیقی اسلام و تعلیمات اسلام مجسّم صورت میں نظر آئیں گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ کون سے عناصر ہیں کہ جنہوں نے اسلام کو یہاں لاکر کھڑا کر دیا کہ آج لوگوں کے ذہنوں میں دہشت گردی و اسلام ایک ہی سکّے کے دو رخ محسوس ہوتے ہیں؟ کیوں آج دہشتگردی کے مفہوم کے ساتھ ہی اسلام کا مفہوم ذہن میں آتا ہے؟ کیا یہ نقصان اسلام کو صرف خارجی دشمن نے پہنچایا؟ یا پھر اسلام ہی کے اندر رہ کر اس کے داخلی و اندرونی دشمن نے؟ کہ جس کو آج تک امت مسلمہ پہچان ہی نہ پائی ہو۔

      تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ طولِ تاریخ میں اسلام کا سامنا ہمیشہ اِن دونوں دشمنوں سے رہا ہے، بلکہ اگر اس طرح کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اسلام کے نشیمن پہ غیروں سے زیادہ اپنوں نے بجلیاں گرائیں۔ ہمیشہ سے جو غفلت امت مسلمہ سے ہوئی وہ یہی ہے کہ مسلمانوں نے اپنے خارجی و بیرونی دشمن پر تو نظر رکھی مگر اندرونی دشمن کی طرف اصلاً توجہ نہ دی، جس کا نتیجہ آج ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح اگر آج بھی مسلمانوں نے اپنے اندرونی دشمن کو نہ پہچانا اور اسے اسلام کی صفوں سے باہر لا کھڑا نہ کیا تو کل شائد اس سے بھی زیادہ بدتر حالات کا سامنا کرنا پڑے۔ اس وقت مسلمانوں پر واجب ہے کہ تلاش کریں کہ ہماری صفوں میں موجود وہ کون لوگ ہیں کہ جنہوں نے اسلام کے سیاسی، نظریاتی، سماجی، معاشرتی و تعلیمی اصولوں پر کاری ضربیں لگائیں ہیں اور اسلام ِخالص کو تبدیل کرنے کی کوششیں کیں اور کر رہے ہیں۔ آج اسلام کے اندر جو فتنے جنم لے رہے ہیں، ان کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ تمام علماء اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان آٹھویں صدی ہجری تک انبیاء(ع)، اولیاء و صالحین امت کے بارے میں کلمہ وحدت کے قائل تھے۔ پیغمبراکرم (ص) کی زیارت کو مستحب و ان سے توسل کو حکم قرآن و اسلام سمجھتے تھے۔ بعد ازاں اسی آٹھویں صدی ہجری میں اسلام کے اندر ایک فتنہءِ عظیم نے جنم لیا کہ جس کے افکار و پیروکار آج بھی کثرت سے دنیا میں موجود ہیں۔ اس فتنے کو دنیا نے سلف و سلفیت کے نام سے جانا۔ ابتداء اسلام ابھی تک اسلام کو جسقدر اخلاقی، سماجی و نظریاتی نقصان اس فتنہءِ سلفیت نے پہنچایا، تاریخ میں اس جیسی کوئی مثال نہیں ملتی۔

      سلف لغت میں گذشتہ کو کہا جاتا ہے جیسے القوم السّلاف یعنی گذشتگان[1] اسی طرح سلفی سلف کی طرف منسوب ہے۔ ایک قول کی بناء پر سلفی و سلفیت سے مراد دین، عقیدہ و شریعت کو سمجھنے کے لئے گذشتگان[یعنی صحابہ و صلحاء امت] کی طرف رجوع کرنا ہے [2]، جبکہ ایک دوسرے قول کی بناء پر سلفی و وہابی میں کوئی فرق نہیں، دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ان کے عقائد و نظریات باطل ہیں۔ یہ جزیرۃ العرب میں وہابی جبکہ باہر سلفی کہلائے[3]۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن تیمیہ نامی شخص نے اس فتنے کو جنم دیا۔ اس کا اصل نام ابوالعباس احمد بن عبدالحکیم ہے۔ یہ 661ھ میں شام کے شہر حرّان میں پیدا ہوا۔ یہی وہ پہلا شخص ہے کہ جس نے پہلی دفعہ سلف صالح یعنی صحابہ کرام و تابعین عظام کی پیروی کا دعویٰ کرتے ہوئے زیارت پیغمبر (ص) کو حرام قرار دے کر مسلمانوں کے درمیان پرچم بغاوت بلند کیا، جبکہ حقیقت میں اس کا صحابہ کرام و تابعین عظام کے نظریات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسی کو سلفیت کا بانی بھی کہا جاتا ہے، لیکن اگر تاریخ کا دقت سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس فکر نے ابن تیمیہ سے پہلے ہی جنم لے لیا تھا۔ جیسا کہ حاکم نیشاپوری کی روایت کے مطابق سب سے پہلا شخص کہ جس نے تبّرک، توسل و زیارت پیغمبر اکرم (ص) کو حرام قرار دیا اور قبر رسول خدا (ص) کو پتھر سے تعبیر کیا، وہ مروان بن حکم اموی ہے[4]۔

      اسی طرح حجاج بن یوسف کا شمار بھی انھیں افراد میں ہوتا ہے۔ مبرد [5] کی روایت کے مطابق حجاج کوفہ میں خطبہ دیتے ہوئے رسول اکرم (ص) کی قبر کی زیارت کرنیوالوں کے متعلق یوں کہتا ہے "افسوس ہے ان لوگوں پر جو بوسیدہ ہڈیوں کا طواف کرتے ہیں۔ انہیں کیا ہوگیا ہے، یہ امیر کے قصر کا طواف کیوں نہیں کرتے، کیا نہیں جانتے کہ کسی بھی شخص کا خلیفہ اس کے رسول سے افضل ہوتا ہے [6]"۔ ذہبی {748ھ} [7] حجاج کے بارے یوں لکھتے ہیں "وہ ظالم، جبار، ناصبی، خبیث و سفّاک تھا۔ ہم اس پر سب و شتم کرتے ہیں اور اسے نہیں مانتے [8]"، جبکہ مروان کے بارے ذہبی یوں رقم کرتے ہیں "مروان کے اعمال بہت قبیح تھے، ہم خدا سے سلامتی کے طلبگار ہیں ۔۔۔۔الی الآخر[9]"۔ یہی وہ فکرِ باطلہ تھی کہ جو چلتی چلتی ابن تیمیہ و اسکے پیروکاروں تک پہنچی اور ان لوگوں نے اس فکر کو دل و جان سے قبول کیا۔ خود ابن تیمیہ اور اس کے باطل نظریات کے رد میں علماء اسلام میں سے بہت سارے جید علماء نے قلم اٹھایا ہے۔ جیسا کہ تقی الدین سبکی کی ایک کتاب کہ جسکا نام ہی "الدرۃ المضیئۃ فی الرد علی ابن تیمیہ" ہے۔[10] ذہبی اس بارے میں کہتے ہیں کہ "یقیناً ابن تیمیہ نے عالم اسلام کے نیک افراد کو ذلیل کیا اور اس کے اکثر پیروکار کم عقل، دروغ گو، کند ذہن و مکار ہیں۔" [11] حصنی دمشقی {829ھ} یوں لکھتے ہیں "ابن تیمیہ کافر و زندیق ہے ۔۔۔الی الآخر[12]۔ اسی طرح ابن حجر ہیثمی {973ھ} یوں بیان کرتے ہیں "ابن تیمیہ ایسا شخص ہے کہ جسے خداوند متعال نے اسکے اعمال کی وجہ سے اپنی رحمت سے دور رکھا، اسے گمراہ، اندھا و بہرہ بنا دیا اور اسے ذلیل و رسوا کیا۔" [13] اسی طرح بہت سارے علماء نے اس کے افکارِ باطلہ کو اپنی کتب یا فتاویٰ کے ذریعے رد ّکیا ہے۔ جن میں سرفہرست تاج الدین، تقی الدین سبکی، ابن حجر عسقلانی {852ھ}، ابن شاکر {764ھ}، ملا علی قاری حنفی {1016ھ}، اور شیخ محمود کوثری مصری {1371ھ} ہیں۔ [14]

      ابن تیمیہ کے افکار ہی تھے کہ جن کی بنا پر امت اسلامیہ کو نظریاتی و عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ جو ان کے نظریئے کا حامل ہو وہ مسلمان، باقی تمام انسانیت کفر و گمراہی کے اندھیروں میں ہے۔ مگر اس پر مسلسل علماء اہل سنت و دیگر مکاتب فکر کے علماء کی شدید مخالفت کی وجہ سے ابن تیمیہ کے منحرف عقائد و نظریات ایک بڑی تباہی کی بنیاد ڈال کر بتدریج پس پردہ ہوتے چلے گئے۔ ایسا محسوس ہونے لگا کہ گویا ان نظریات کا وجود اب نہیں رہا۔ جیسے ہی امت مسلمہ نے اس سے غفلت برتی اور اس پہلو سے صرفِ نظر کیا، تو یہ سستی و غفلت سبب بنی کہ اس فتنے نے 12ویں صدی ہجری میں ایک دفعہ پھر جنم لیا اور ساتھ ہی مسلمانوں کی وحدت پر ایک دفعہ پھر کاری ضرب لگائی۔ 12ویں صدی ہجری میں محمد بن عبدالوھاب نجدی نے ایک دفعہ پھر ابن تیمیہ کی فکر کو نہ صرف یہ کہ زندہ کیا بلکہ آل سعود کے زیر سایہ اسے عملی جامہ بھی پہنایا۔ محمد بن عبدالوھاب کی ولادت فتنوں کی سرزمیں نجد میں ہوئی۔ محمد بن عبدالوھاب نے جس تحریک کا آغاز کیا کہ جو حقیقت میں تحریک ابن تیمیہ کا ہی تسلسل ہے، اسے وھابیت کے نام سے شہرت ملی۔[15] یہ وہی تحریک ہے کہ جس کے متعلق صاحب ِکتاب "السلفیۃ و الوھابیۃ" نے کہا ہے کہ "سلفی و وہابی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں۔" [16] جبکہ دوسری طرف شیخ نجدی [17] کے والد، دادا، چچا و بھائی محمد بن سلیمان کا شمار اہل سنت کے صحیح العقیدہ حنبلی علماء میں ہوتا ہے۔ یہ تمام شیخ نجدی کے عقائد و نظریات کے سخت مخالف و اسکی تحریک سے بیزار تھے۔

      محمد بن عبدالوھاب کی تعلیمی سرگرمیوں پر اگر دقیق نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ شیخ نجدی کے تمام استاد انتہائی متعّصب و غیر مقلد تھے۔ ابن تیمیہ کی کتابوں و افکار سے مکمل طور پر متاثر تھے اور یہی تعلیم شیخ نجدی کو بھی دی۔ چنانچہ علامہ علی طنطاوی اس بارے میں یوں لکھتے ہیں کہ "مدینہ میں شیخ نجدی کی ملاقات دو ایسے اشخاص سے ہوئی کہ جو اس کی زندگی کا رخ بدلنے میں بہت موثّر ثابت ہوئے، ان میں سے ایک کا نام عبداللہ بن ابراہیم بن سیف تھا کہ جس کا اوڑھنا، بچھونا ابن تیمیہ و اسکے پیروکاروں کی کتابیں تھیں۔[18] اسی طرح ایک اور جگہ یوں بیان کرتے ہیں کہ"شیخ نجدی کہتا ہے کہ ایک دن ابن سیف نے مجھے کہا کہ کیا میں تمھیں وہ ہتھیار دکھاوں کہ جو میں نے مجمع والوں کے لئے تیار کیا ہے؟ شیخ نجدی نے کہا؛ ہاں، ابن سیف اسے ایک کمرے میں لے گیا کہ جو ابن تیمیہ کی کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ اسی طرح شیخ نجدی کا ایک اور استاد محمد حیات سندھی تھا کہ جو حضور (ص) و بزرگان ِ دین کی تعظیم و شفاعت کا سخت منکر تھا۔ جو آیات کافرین کے بارے میں ہوتیں، انھیں مسلمانوں پر چسپاں کرتا۔ علامہ علی طنطاوی مزید لکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ شیخ نجدی نے جو تمام لوگوں کو کافر قرار دیا ہے، یہ ہندوستان کے اسی غیر مقّلد عالم کی تعلیم کا اثر ہے۔"[19] اسی تعلیم و نظریاتِ باطلہ کو بنیاد بنا کر شیخ نجدی نے جزیرہ العرب میں نہتے مسلمانوں کا قتل ِ عام کیا۔ مسلمانوں کی تکفیر، ان کے قتلِ عام اور انکے اموال لوٹنے کی اباحت میں شیخ نجدی خود لکھتے ہیں "اور تم کو معلوم ہوچکا ہے کہ ان لوگوں {مسلمانوں} کا توحید کو مان لینا، انہیں اسلام میں داخل نہیں کرتا۔ ان لوگوں کا انبیاء (ع) و فرشتوں سے شفاعت طلب کرنا اور ان کی تعظیم سے اللہ کا قرب چاہنا، ہی وہ سبب ہے کہ جس نے ان کے ان کے قتل و اموال لوٹنے کو جائز کر دیا ہے۔[20]

      جن نظریات و افکار کو شیخ نجدی نے بیان کیا اور ان کی ترویج کی، وہ بعین ہی ابن تیمیہ کے نظریات ہیں۔ شیخ نجدی نے بھی ابن تیمیہ کی طرح توسّل سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "انبیاء (ع) کی عزّت و جاہ کے وسیلے سے دعا مانگنا کفّار سے مماثلت کی وجہ سے کفر ہے۔"[21] مزید یہ کہ شیخ نجدی نے نہ صرف یہ کہ شفاعت سے انکار کیا ہے بلکہ شیخ نجدی کے نزدیک حضور (ص) سے شفاعت طلب کرنا ایسا کفر ہے کہ جس کے بعد شفاعت طلب کرنیوالے کا قتل کرنا اور اسکا مال و اسباب لوٹنا مباح ہوجاتا ہے [22] جبکہ اس کے برعکس علماء اسلام اور بالخصوص امام اہل سنت محمد بن اسماعیل البخاری نے رسول خدا (ص) کے لئے شفاعت مطلقہ کا نظریہ اختیار کیا ہے[23] اور یہی مفہوم آیات قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول خدا (ص) کو نہ صرف یہ کہ شفاعت کا اختیار ہے بلکہ شفاعت کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے "اور اللہ تعالٰی سے ان لوگوں کی شفاعت کیجیئے، بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔[24] مزید یہ کہ شیخ نجدی نے تمام علماء اسلام کے اتفاق کے خلاف انبیاء (ع) و صلحاء ِامت سے استمداد و استغاثہ {یعنی مدد طلب کرنے کو} یدعون من دون اللہ کا جامہ پہنا کر عبادت غیر خدا قرار دیا[25] جبکہ اس کے برعکس امام بخاری، قاضی عیاض و دیگر محدثین یوں تحریر کرتے ہیں کہ "ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمر کا پیر سْن ہوگیا، اس سے کسی نے کہا کہ جو تم میں سب زیادہ محبوب ہو، اس کا نام لو۔ عبداللہ نے بلند آواز سے کہا؛ یامحمد (ص)، تو ان کا پاوں اسی وقت ٹھیک ہوگیا۔[26]

      شیخ نجدی اپنے باطل افکار کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے عوامِ اہل سنت و علماء اہلسنت کے قتل کو جائز قرار دیا۔ اس بارے میں علامہ ابن عابدین شامی متوفی {1252ھ} کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ "محمد بن عبدالوھاب کی مثال خوارج جیسی ہے کہ جنہوں نے حضرت علی (ع) کے خلاف خروج کیا تھا۔ اس کا اعتقاد یہ تھا کہ مسلمان صرف وہ ہیں کہ جو اسکے موافق ہیں اور جو ان کے مخالف ہیں، وہ مسلمان نہیں بلکہ مشرک ہیں۔ اسی بنا پر اس نے اہل سنت اور علماء اہل سنت کے قتل کو جائز رکھا۔[27] شیخ نجدی کے افکار کو باطل ثابت کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ شیخ نجدی کے منابع مدّاعی نبوت، مسلیمہ کذّاب، سجاح، اسود عسنی، طلیحہ اسدی و ابن تیمیہ جیسے گمراہ کن لوگوں کی کتابیں ہیں کہ جن کا شیخ نجدی بڑے شوق سے مطالعہ کیا کرتا تھا۔[28] لہذا یہی منابع و شخصیات سبب بنیں کہ شیخ نجدی گمراہی کے گھپ اندھیروں کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ اب خود رسول گرامی (ص) کی ذات بھی اس کے لئے قابل احترام نہ رہی۔ شیخ نجدی کے نزدیک رسول خدا (ص) پر تنقید کرنا ہی توحید کو محفوظ رکھنے کا واحد ذریعہ تھا۔" کبھی رسول خدا (ص) کو طارش یعنی چھِٹی رساں یا ایلچی کہتا، تو کبھی کہتا کہ واقعہ حدیبیہ میں بہت جھوٹ بولے گے تھے۔ اسکا اپنے حلقہ احباب کے اندر توہین رسالت کرنا اسقدر عام ہوگیا کہ ایک دفعہ اس کے سامنے اس کے ایک شخص نے کہا کہ "میری لاٹھی محمد (ص) سے بہتر ہے، کیونکہ یہ سانپ وغیرہ مارنے کے کام آتی ہے اور محمد (ص) فوت ہوچکے ہیں، اب ان میں کوئی نفع باقی نہیں رہا۔ وہ محض ایک ایلچی تھے، جو اس دنیا سے جا چکے۔"[29] شیخ نجدی ان باتوں سے خوش ہوتا۔ اگر غور و فکر کے دامن کو پکڑا جائے تو یہ افکار کوئی نیا مکتب نہیں، بلکہ اْسی حجاج بن یوسف و ابن تیمیہ کے مکتب کا تسلسل ہے۔

      شیخ نجدی کی نحوست و بدبختی اسقدر بڑھ گی تھی کہ اب اس کو رسول خدا (ص) پر درود پڑھنا سخت ناپسند تھا اور درود سننے سے اس کو سخت تکلیف ہوتی تھی۔ صرف یہاں تک ہی نہیں بلکہ کہا کرتا تھا کہ کسی فاحشہ عورت کے کوٹھے میں ستار بجانے میں اسقدر گناہ نہیں ہے کہ جسقدر مسجد کے میناروں سے حضور (ص) پر درود پڑھنے کا ہے۔[30] یہ ہیں وہ نظریات کہ جن کو شیخ نجدی نے عالم اسلام کے کونے کونے تک پہنچایا۔ دوسری طرف دنیا کے ہر خطّے میں موجود حق پرست علماء نے اس کے خلاف بھرپور قلم اٹھایا اور حتی الامکان اس کے نظریات ِ فاسدہ کا قلع قمع کرنے کی کوشش کی۔ شیخ ابی حامد مرزوق نے اپنی کتاب [31] میں تقریباً 42 ان علماء کی فہرست مہیا کی ہے کہ جنہوں نے محمد بن عبدالوھاب کے عقائد باطلہ کے رد ّمیں بڑی بڑی کتب تحریر کیں ہیں، تاکہ اس منحوس فتنے کے اثرات سے امت اسلامیہ محفوظ رہ سکے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فتنہ وھابیت، علماء اسلام کی شدید مخالفت کے باوجود، فتنہ ابن تیمیہ کی طرح ختم کیوں نہ ہوا؟ یہ آئے روز بڑھتا کیوں چلا گیا؟ اس کے پیچھے کیا محرکات و اسباب کارفرما تھے اور ہیں؟ آخر کیوں یہ اسلام و مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن، ابھی تک ہماری صفوں میں کھڑا ہے؟ تاریخ اس بات کا ایک ہی جواب دیتی ہے کہ فتنہ وہابیت بھی دوسرے فتنوں کی دب جاتا اور بلآخر ختم ہو جاتا، مگر جیسے ہی یہ فتنہ اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا کہ عین اسی وقت اقتدار میں موجود خاندان آل سعود نے اسلام کے اس دشمن کو سہارا دیا اور اپنی آغوش میں پال کر بڑا کیا۔

      اس بارے میں مفتی محمد عبدالقیوم یوں بیان کرتے ہیں کہ "محمد بن عبدالوھاب کا ظہور 1143ھ میں ہوا۔ اسکی تحریک 1150ھ میں مشہور ہوئی۔ اس نے پہلے اپنے عقیدے کا اظہار نجد میں کیا اور مسلیمہ کذّاب کے شہر درعیہ کے امیر محمد بن سعود کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔ پھر ابن سعود نے اپنی رعایا پر زور ڈالا کہ وہ شیخ نجدی کی دعوت کو قبول کریں۔ پس اہل درعیہ نے مجبوراً دعوت قبول کرلی۔ شیخ نجدی کی دعوت پھیلتی گی، حتی کہ عرب کے قبائل یکے بعد دیگرے دعوت پر لبیک کہتے گئے۔"[32] ایک اور جگہ مفتی عبدالقیوم یوں لکھتے ہیں کہ "شیخ نجدی نے اپنے دین کو پھیلانے کا کام محمد بن سعود کے ذمے سونپ دیا۔ وہ شرق و غرب میں اس کی دعوت پھیلاتا اور سرعام کہتا کہ تم سب لوگ مشرک ہو، تمہارا قتل کرنا، مال و اسباب لوٹنا جائز ہے۔ محمد بن سعود کے نزدیک مسلمان ہونے کا معیار فقط شیخ نجدی کی بیعت تھی۔ محمد بن سعود علی الاعلان کہا کرتا تھا کہ آئمہ اربعہ {امام شافعی، امام مالک، امام احمد اور امام ابو حنیفہ} کے اقوال غیر معتبر ہیں اور جنہوں نے مذاہب اربعہ میں کتابیں لکھیں ہیں، وہ لوگ خود بھی گمراہ تھے اور دوسرں کو بھی گمراہ کیا۔"[33] محمد بن سعود نے اس ذمہ داری کو اتنے خلوص سے ادا کیا کہ شیخ نجدی نے محمد بن سعود کی خاطر "کشف الشبہات" نامی ایک رسالہ تحریر کیا کہ جس میں کھل کر اپنے عقائد فاسدہ کا اظہار کیا۔ اس میں اس نے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا، اور کہتا تھا کہ پچھلے 6 سو سالوں سے تمام لوگ کافر و مشرک ہیں۔ ابن سعود نے اس رسالے کو اپنی مملکت کی حدود میں نافذ کیا اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت دیتا اور شیخ نجدی کے ہر حکم کی تکمیل کرتا۔

      پس محمد بن عبدالوھاب "نجدی" قوم میں ایک نبی کی شان سے رہتا تھا۔[34] اسی طرح پھر محمد بن سعود کے بعد عبدالعزیز بن سعود اور پھر سعود بن عبدالعزیز، یہ تمام خاندانِ آل سعود کے وہ ظالم و سفّاک افراد ہیں کہ جنہوں نے وہابیت کی بنیادوں کو مضبوط بنایا اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے۔ لہذا آج 12 ربیع الاول 1437ھ۔ق میں سعودی حکومت کا لاکھوں عاشقانِ رسول (ص) کو رسول خدا (ص) کی ذات گرامی پر درود پڑھنے کے جرم میں مسجد نبوی، صحن جبرائیل سے باہر نکال دینا کوئی نئی بات نہیں [35] کیونکہ یہ آج بھی وہی خاندانِ آلسعود ہے کہ جس نے کل وھابیت کی آبیاری کی تھی۔ یہ آج بھی اسی شیخ نجدی کے پیروکار ہیں کہ جس نے امت کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ آج دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشتگردی، قتل و غارت کا بازار گرم ہے تو یہ سب سلف و سلفیت اور وہابیت جیسے افکار کے مرہونِ منت ہے۔ القاعدہ ہو، لشکرجھنگوی، طالبان ہوں یا پھر داعش یہ سب انھیں افکار کے سائے میں پلے بڑھے ہیں۔ ان کے نزدیک دنیا کا ہر انسان کافر و مشرک ہے۔ لہذا کل کی طرح آج بھی یہ اسلام کے حقیقی چہرے کو تبدیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مقام فکر تو یہ ہے کہ وہ خاندانِ آل سعود کہ جس کا عقائد اہل سنت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، وہ پوری اہل سنت کمیونٹی کی سرپرستی کا دعویٰ کس منہ سے کرسکتا ہے۔ الغرض یہ کہ آج دنیا کے کسی خطے میں بھی اگر اسلام کو مشکلات و دشواری کا سامنا ہے، تو اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ آج امت مسلمہ اپنے اندرونی دشمن کو نہیں پہچانا اور اسے اپنی صفوں سے باہر نہیں نکالا، یا پھر پوری امت مسلمہ، نہ جانے کن مصلحتوں کا شکار ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج مسلمانوں کو اپنے خارجی دشمن کے ساتھ ساتھ، اپنے اندرونی دشمن پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔ آخر میں آل سعود کے بارے میں بس اتنا کہوں گا کہ اسلام نے ان کے مزاج، فطرت اور عادات کا کچھ نہیں بگاڑا، یہ ظہورِ اسلام سے پہلے جیسے تھے، آج بھی ویسے ہی ہیں، بقولِ اقبال
      یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
      منابع
      [1] معجم مقاییس اللغۃ [مادہ سلف] ج ۲ ص ۳۹۰
      [2] الصعوۃ الاسلامیہ ص ۲۵ قرضاوی
      [3] حسن بن سقاف ص ۱۹ طبع دارالامام النووی اردن ،عمان
      [4] مسند احمد بن حنبل ج ۵ ص ۴۲۲[مروان وجناب ابو ایوب انصاری والی روایت]
      [5] مبرد کا شمار نحو کے مشہور علماء میں ہوتا ہے
      [6] الکامل ج ۱ ص ۱۸۵ ، شرح ابن ابی الحدید ج ۱۵ ص ۲۴۲
      [7] اس کا اہل سنت کے معتبر و بزرگ علماء میں شمار ہوتا ہے
      [8] سیر اعلام النبلاء ج ۴ ص ۳۴۳
      [9] میزان الاعتدال ج ۴ ص ۸۹
      [10] تاریخ نجد و حجاز ص
      [11] تکملۃ السیف الصیقل ص ۹ ، الاعلان بالتوبیح ص ۷۷
      [12] النفی و التغریب {طبسی }۱۰۹ ، بحوث فی الملل و النحل ج ۴ ص ۵۰
      [13] الدررالکامنۃ ج ۱ ص ۸۸ تا ۹۶
      [14] طبقات الشافیعہ الکبریْ ج ۱۰ ص ۳۰۸
      [15] تاریخ نجد و حجاز ص ۲۳ اما محمد ،فھو صاحب الدعوۃ التی عرفت باالوھابیۃ
      [16] رجوع سابقہ حولہ نمبر ۳ حسن بن سقاف
      [17] محمد بن عبدالوھاب کا مشہور لقب ہے ۔ جہاں بھی شیخ نجدی آئے اس سے مراد محمد بن عبدالوھاب ہی ہے
      [18] علی طنطاوی جوہری مصری متوفی ۱۳۵۳ھ محمد بن عبدالوھاب ص ۱۵
      [19] محمد بن عبدالوھاب ص ۱۶ ، ۱۷
      [20] کشف الشّبہات ص ۲۰ ،۲۱ عربی "و عرفت ان اقرارھم بتوحید الربوبیۃ لم یدخلھم فی الاسلام و ان قصدھم الملائکۃ الانبیاء والالیاء یریدون شفاعتھم والتقرب الی اللہ بذلک ھو الذی احّل دماءھم و اموالھم"
      [21] تاریخ نجد و حجاز ص ۶۸
      [22] تاریخ نجد و حجاز ص ۸۲
      [23] مفہوم حدیث ، صحیح بخاری ج ۱ ص ۴۷
      [24] واستغفرلھم اللہ ان اللہ غفور رحیم {آیت قرآنی}
      [25] محمد بن عبدالوھاب ص ۲۳
      [26] الادب الفرد ص ۱۴۲ ، شفاج ج ۲ ص ۱۸
      [27] ابن عابدین شامی رد المحتار ج ۳ ص ۴۲۷ ،۴۲۸
      [28] تاریخ نجد و حجاز ص ۱۴۰
      [29] تاریخ نجد و جحاز ص ۱۴۱ ، ۱۴۲
      [30] ایضاً
      [31] التّوسل بالنبی و جہلۃ الوہابیین ص ۴۴۹ تا ۲۵۳
      [32] تاریخ نجد و جحاز ص ۱۳۲
      [33] ایضاً ص۱۴۴
      [34] ایضاً ص ۱۵۹ تا ۱۶۰
      [35] ۹۲ نیوز جینل {۱۲ ربیع الاول }
      آل سعود ۔۔۔ یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
      islamtimes.org 
      January 2, 2016
      تحریر: ساجد علی گوندل
      Sajidaligondal88@gmail.com
      http://islamtimes.org/ur/doc/article/509770/
      • سلفیہ،  تکفیر اور دہشت گردی
      • What is Wahhabism? The reactionary branch of Islam said to be 'the main source of global terrorism:
      https://britishsecularmuslims.wordpress.com/2013/07/11/british-secular-muslims-reject-mehdi-hasans-apologist-stance-on-wahhabi-deobandi-terrorism/
      .....................................................................


      گن پوانٹ پر انٹرنیشنل خلافت یا امامت:
      داعش، القاعدہ ، تکفیری طالبان ، بوکو حرام اور اس طرح کی تکفیری دہشت گرد تنظیموں کا مقصد مذہبی بنیاد پر سیاسی طاقت کا حصول ہے تاکہ عالمی حکومت (ان کے مطابق اسلامی خلافت) قائم کی جائے- ایرانی 'ولایت فقہ' کا بھی اسی طرح کا بین الاقوامی نظریہ ہے، وہ سنی  اصطلاح 'خلافت' کی بجایے شیعہ اصطلاحات (امامت ،ولایت فقہ وغیرہ) استعمال کرتے ہیں- (بہت سے عالمی شیعہ علماء ایرانی نقطہ نظر سے متفق نہیں)- اگر ایرانی ولایت فقیہ ایران تک محدود رہے توکسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا، کہ یہ ایران کا اندرونی معاملہ ہے مگر جب اس نظریہ کو دوسرے ممالک تک پھیلا دیا جائے تو پھرفکری اور عملی طور پرایرانی اورداعش جیسی دشت گرد تنظیموں میں تفریق مشکل ہو جاتی ہے ، کیونکہ ان کے مقاصد ایک طرح کے ہو جاتے ہیں جس میں طاقت اسلام کے نام پر حاصل کی جاتی ہے- عراق ، شام کی مثال سامنے ہےجہاں داعش اپنے طور پر اور ایران روس سے مل کر جہاں داعش سے لڑ رہا ہے وہاں روس اور ایران ، شام کے ظالم ڈکٹیٹر بشارت الاسد کی علوی شیعہ اقلیتی حکومت کو بچانے کے لیے سنی اکثریت معصوم عوام پر ظلم اور قتل و غارت گری میں مشغول ہیں-
      In the ongoing 4-year-long civil war, the Islamic Republic- one of the major bank-rollers for the Syrian government- has approximately spent between $6 and $35 billion a year in order to keep its staunchest regional ally, Bashar Al Assad in power.This amount of spending is significant considering Iran’s military budget is roughly $15 billion a year. Iran’s economic assistance to the Syrian government comes in different avenues including oil subsidies (approximately 60,000 barrels of oil per day), credit lines, and military assistance. (Read more).
      Export of Iran's revolution enters 'new chapter': Iran's top general said  his country has reached "a new chapter" towards its declared aim of exporting revolution, in reference to Tehran's growing regional influence. The comments by Major General Mohammad Ali Jafari, commander of the nation's powerful Revolutionary Guards Corps, come amid concern among some of Shiite Iran's neighbours about Tehran's role. "The Islamic revolution is advancing with good speed, its example being the ever-increasing export of the revolution," he said, according to the ISNA news agency. "Today, not only Palestine and Lebanon acknowledge the influential role of the Islamic republic but so do the people of Iraq and Syria. They appreciate the nation of Iran." He made references to military action against Islamic State (IS) jihadists in Iraq and Syria, where the Guards have deployed advisers in support of Baghdad and Damascus.  "The phase of the export of the revolution has entered a new chapter," he added, referring to an aim of Iran's 1979 Islamic revolution.>> http://www.dailymail.co.uk/wires/afp/article-2990005/Export-Irans-revolution-enters-new-chapter-general.html --- http://peace-forum.blogspot.com/2016/03/exporting-iranian-revolution-to-arabs.html

      Related :

      Jihad, Extremism