Featured Post

Terrorism and solution? دہشت گردی اور اس کا حل جوابی بیانیہ ؟

اِس وقت جو صورت حال بعض انتہا پسند تنظیموں نے اپنے اقدامات سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے پوری دنیا میں پیدا کر دی ہے، یہ اُسی فکر کا...

Friday, August 24, 2012

الزام کسے دوں؟ Who is to be blamed for miseries of Muslims?

الزام کسے دوں؟...صبح بخير…ڈاکٹر صفدر محمود
جنگ عظيم دوم ميں نازي جرمني ہٹلر اور اس کے ساتھيوں کو شکست ہوئي توفاتح قوميں شکست خوردہ قوم سے انتقام لينے اور اپنے اپنے نقصانات کاازالہ کرنے کے لئے تاوان کي وصولي اور وسائل کي لوٹ مار ميں مصروف ہوگئيں ليکن غدر کي اس فضا ميں دو ممالک ايسے تھے جن کي نگاہيں وقتي معاملات کي بجائے طويل العمر حکمت عملي پر مرکوز تھيں? امريکہ اور روس نے جرمني کي شکست سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جرمني کے زيادہ سے زيادہ سائنسدانوں کو اپنے اپنے ممالک ميں ہجرت کے لئے آمادہ کيا اور بعض سائنسدانوں کو اغواکرکے بھي لے گئے کيونکہ انہيں علم تھا کہ مستقبل کي ترقي، عروج اور عالمي قوت بننے کا راز سائنسي تحقيق ميں پنہاں ہے ? ان دونوں ممالک کے سپرپاور بننے ميں ان سائنسدانوں کاہاتھ تھا? ان کے مقابلے ميں مالي فائدے اٹھانے والي اور تاوان وصول کرنے والي فاتح قوميں سائنس اور ٹيکنالوجي کے ميدان ميں بہت پيچھے رہ گئيں? بات طويل ہے ليکن مختصر کرتے ہوئے کہنا چاہتا ہوں کہ سائنسدانوں کو امريکہ لانے ميں سي آئي اے نے بھي اہم کردار سرانجام ديا اور اس مقصد کے لئے آپريشن ”پيپرچپ“ کا منصوبہ بناياگيا جس کے تحت جرمن سائنسدانوں کو امريکہ لايا اور آباد کياگيا?
نيويارک ٹائمز کي ايک تحقيقي رپورٹ مطبوعہ 12نومبر 2010 کے مطابق تقريباً پانچ ہزار سائنسدانوں کو شاندار پيشکشوں کے ساتھ ہجرت کروا کر امريکہ کے مختلف شہروں ميں آباد کياگيا? امريکہ کا خلائي پروگرام، چاند اور خلا تک رسائي، ناسا، آئي سي ايم بي، ميڈيکل، زراعت اورجنگي سائنس کي بے پناہ ترقي ان سائنسدانوں کي مرہون منت ہے? اسي طرح امريکہ نے جرمني کي راکٹ ٹيم کو اپنے جال ميں پھنسايا اور انہيں ہجرت کے بعد الاباما ميں آبادکيا? ورنر واں بران کي سربراہي ميں اس ٹيم نے امريکہ کے لئے راکٹ بنائے اور امريکي خلا بازوں کو چاند اور خلا ميں بھيجا? سي آئي اے نے ايڑي چوٹي کا زور لگايا کہ جرمن سائنسدان روس کے ہتھے نہ چڑھيں? امريکہ نے سائنس اور ٹيکنالوجي کے لئے بے پناہ وسائل مختص کئے اوراس ميدان ميں سبقت لے کر مستقل سپرپاور بن گيا? دوسري طرف امريکہ نے عالمي سطح کي بہترين يونيورسٹياں اور ريسرچ سنٹرز قائم کئے اور انہيں متحرک کرنے کے لئے دنيا بھر سے دماغ اکٹھے کئے? پچاس کي دہائي ميں پاکستان سے ڈاکٹرز، پروفيسرز اور دوسرے شعبوں کے ماہرين نے بڑي تعداد ميں امريکہ ہجرت کي? ساري رام کہاني بيان کرنے کا مقصد فقط يہ بتلانا ہے کہ امريکہ نے 70برس قبل يہ راز پا ليا تھا کہ ترقي کاراز دولت ميں نہيں بلکہ ”برين“ يعني ذہن ميں مضمر ہے? اس برين کے زور پر آج امريکہ عالمي تھانے دار اور حکمران بنا ہواہے جبکہ وہ اقوام جنہوں نے قومي ذہن کي نشوو نما اور ريسرچ کي حوصلہ افزائي سے پہلو تہي کي پسماندگي اور کسمپرسي کا شکار ہيں?
مختصر الفاظ ميں يہ کہاني ميں نے آپ کو اس لئے سنائي کہ دراصل اپني پسماندگي، جہالت اور زندگي کي دوڑ ميں بہت پيچھے رہ جانے کے ذمہ دار ہم خود ہيں ورنہ قدرت نے پاکستان کو قدرتي وسائل،زرخيز زمين، محنتي جفاکش آبادي کے ساتھ ساتھ بہترين انساني وسائل اور بہترين ذہن بھي ديئے تھے جن کي نشو و نما کرکے اور سائنس کے ميدان ميں تحقيقي ادارے اور اعلي? معيار کي تعليمي درسگاہيں قائم کرکے ہم بھي دنيا ميں عزت کما سکتے تھے، ملک کو خوشحال بنا سکتے ہيں اور قوم کو ترقي کي راہ پر گامزن کرسکتے تھے? يہ اسي وقت ممکن تھا جب روز ِ اول سے لے کر آج تک تمام حکومتوں کي اولين ترجيح تعليم اور تحقيق رہي ہوتي کيونکہ اس ميدان ميں جھنڈے گاڑنے کے لئے طويل عرصہ تک محنت اور يکسوئي درکار ہوتي ہے? گزشتہ دنوں سندھ کے ايک طالبعلم نے نيويارک کے عالمي سائنسي مقابلے ميں دوم پوزيشن حاصل کي? ميٹرک کے اس طالبعلم کا کارنامہ يہ ہے کہ اس نے چائے کي پتي کي مدد سے صنعتي فضلے کوري سائيکل کرکے وائرس سے پاک کر ديا ?صنعتي فضلہ اس وقت مغربي دنيا کا بڑا مسئلہ ہے? اس عالمي مقابلے ميں 51 ممالک کے 175 طلبہ نے حصہ ليا اور دوسري پوزيشن پاکستان کے حصے ميں آئي? فوري طور پر اسٹيٹ يونيورسٹي نيويارک نے اس طالبعلم شاداب رسول کوڈھائي لاکھ ڈالر کا وظيفہ آفر کر ديا? حال ہي ميں ہمارے چند نوجوانوں نے پاني سے کار چلانے کاکامياب تجربہ کيا ہے? تين برس پہلے پنجاب کے ايک طالبعلم نے کمپيوٹر پر اپني صلاحيت کا مظاہرہ کيا تو ايک برطانوي يونيورسٹي نے اسے بمعہ خاندان بلا ليا? تفصيل ميں گئے بغير يہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ سبحانہ ? تعالي? نے پاکستان کو ذہني وسائل سے نوازا ہے اور پاکستان کے دورافتادہ علاقوں ميں رہنے واے بے وسيلہ طلبہ بھي امريکہ اوربرطانيہ ميں قوتوں کي توجہ کامرکز بن رہے ہيں? پاکستان نے فقط آج تک سائنس کے ميدان ميں ايک نوبل انعام يافتہ سائنسدان پيدا کياہے جس کا تعلق جھنگ سے تھا? اگر ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان ميں رہتے تو کيا نوبل پرائزحاصل کرسکتے تھے؟ ہرگز نہيں کيونکہ ہمارے ہاں سائنسي تحقيقات کا نہ ماحول ہے اور نہ ہي ادارے اور نہ ہي اس شعبے کو حکومتي سرپرستي حاصل ہے? ہم فضوليات پر وسائل برباد کرتے ہيں ليکن تعليم، سائنس اور تحقيق کو اہميت نہيں ديتے? اگر ڈاکٹر قدير خان اپني ٹيم کے ساتھ دو دہائيوں ميں پاکستان کو ايٹمي قوت بنا سکتے ہيں تو اس کا مطلب يہ ہے کہ حکومت تعليم، سائنس اور تحقيق کي سرپرستي کرے تو ہم سائنس اور ٹيکنالوجي کے ميدان ميں ترقي کرکے ملک و قوم کو خوشحا ل بنا سکتے ہيں? ترقي يافتہ ممالک ميں يونيورسٹياں تحقيق کے مراکز ہوتي ہيں جبکہ ہمارے ہاں يونيورسٹياں سازشوں اور گروہي سياست کے مراکز ہيں? ہماري خوشحالي ايک حد تک زراعت سے وابستہ ہے اور ہمارے زراعتي تحقيقي ادارے خوراک کے ميدان ميں تحقيق کرکے معاشي انقلاب لاسکتے ہيں ليکن ہماري زرعي يونيورسٹيوں نے اس ميدان ميں کيا کياہے؟ يہ سوال اپني جگہ اہم ہے? دوسري طرف صوبائي حکومتوں کے زرعي شعبے کے تحقيقي اداروں کو حکمرانوں کي سردمہري کي شکايت ہے? مجھے زرعي شعبے سے منسلک ايسے حضرات سے ملنے کا اتفاق ہواہے جو امريکي برطانوي يونيورسٹيوں سے ا علي? ڈگرياں سجائے وطن لوٹے ليکن يہاں تحقيق کے وسائل کي قلت اور حکومت کي دل شکن پاليسيوں کے سبب بيرون وطن چلے گئے? حکومتي سکالر شپ پراعلي? يونيورسٹيوں سے پي ايچ ڈي کي ڈگري حاصل کرکے وطن لوٹنے والے چند ہي برسوں ميں زنگ آلود اور پھر ناکارہ ہو جاتے ہيں کيونکہ ملک ميں اور ہماري يونيورسٹيوں ميں تحقيق کے وسائل موجود ہيں نہ حوصلہ افزائي? پرائيويٹ سيکٹر کي يونيورسٹيوں کو تحقيق کي بجائے منافع کمانے ميں دلچسپي ہے اور پبلک سيکٹر ميں يونيورسٹياں حکومتي بے اعتنائي کاشکار ہيں?
ميں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ قيام پاکستان کے وقت برطانوي راج کا ديا ہواہمارا نظام تعليم ترقي يافتہ ممالک سے اتنا پيچھے نہيں تھا جتنا آج ہے اور يہ بات بھي ميں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ عالم اسلام کے 56ممالک ميں سب سے زيادہ سائنسي صلاحيتيں پاکستان کے پاس ہيں اور پاکستان اس شعبے ميں ترقي کرکے عالم اسلام کا ليڈر بن سکتا ہے ليکن افسوس کہ ہم اب تک لوڈشيڈنگ جيسے مسائل ميں الجھے ہوئے ہيں اور ترقي کي دوڑ ميں ہر دن پيچھے رہ رہے ہيں? آج بھي حکومت اگر ملکي سطح پر ڈاکٹر قدير خان کي سربراہي ميں سائنس بورڈ بنائے جس کا کام سائنس کے مختلف شعبوں ميں تحقيق کي حوصلہ افزائي اور نگراني ہو اور اس بورڈ کو مکمل خودمختاري اور مطلوبہ وسائل مہيا ہوں تو ہم چند ہي برسوں ميں کايا پلٹ سکتے ہيں اور بيرون ملک سے پاکستاني برين کو واپس لا کر ملکي ترقي کے لئے استعمال کرسکتے ہيں? بہت سي اہم باتيں کالم کي تنگ دامني کے سبب تشنہ ? اظہار رہ گئيں? سوچتا ہوں کہ اس صورتحال کاالزام کسے دوں؟ حکمرانوں کويا قوم کو؟
جواب: حکومت اور طالبان