Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Sunday, January 12, 2014

چند تجاویز Suggestions for Islamic Rule in Pakistan

اگر اب بھی مدارس کے مخالفین راہِ راست پر نہیں آتے تو پھر کیا وہ آسمان سے پتھروں کی بارش برسنے کے منتظر ہیں؟ 

اسلام کے دشمن چودھری اسلم ایس ایس پی کو ختم کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ یہ جان جوکھوں کا کام تھا۔ آخر یہ عظیم الشان کارنامہ مدرسہ ہی کے طالب نے سرانجام دیا ع 
این کار از تو آید و مردان چنین کنند 
اس خودکش بمبار کے بھائی نے دورانِ تفتیش بتایا کہ اس کے والد مدرسہ چلاتے ہیں۔ طالبان کے ساتھ ان کے خاندانی تعلقات ہیں۔ ایک بھائی 2011ء میں خودکش حملہ کرنے کے لیے جا چکا ہے۔ یہ خودکش بمبار‘ جس نے چودھری اسلم کو ختم کیا‘ اپنے والد کی مدرسہ چلانے میں مدد کرتا تھا لیکن خود کسی اور مدرسہ میں زیر تعلیم تھا۔ وہ جس مدرسہ میں پڑھ رہا تھا‘ اس مدرسہ کے مالک (یا چلانے والے) کا صاحبزادہ بھی خودکش حملہ کر چکا ہے۔ خودکش بمبار کے بھائی نے مزید بتایا کہ اس کا ایک بھائی خودکش حملہ کرنے گیا تو اپنے دوسرے ساتھی کی گرفتاری سے خوف زدہ ہو کر واپس بھاگ آیا۔ اس پر مشن کی ناکامی کا الزام لگا اور وہ قتل کردیا گیا۔ 
اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم کچھ تجاویز پیش کر رہے ہیں: 
...ملک میں مدارس کی تعداد کو کئی گنا زیادہ کیا جائے۔ ایک ترکیب یہ ہے کہ تمام سرکاری سکولوں اور کالجوں کو ختم کر کے انہیں مدارس قرار دے دیا جائے اور علماء کرام سے درخواست کی جائے کہ وہ آ کر انتظام و انصرام سنبھالیں۔ 
...تمام یونیورسٹیوں کو ''دارالعلوم‘‘ قرار دے دیا جائے۔ ان میں صرف وہ علوم پڑھائے جائیں جنہیں ہمارے علماء کرام منظور فرمائیں۔ 
...پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے تعلیمی ادارے فی الفور بند کر دیے جائیں۔ مالکان کو حکم دیا جائے کہ اداروں کی چابیاں علماء کرام کے سپرد کردیں۔ 
...پورے ملک میں پتلون‘ کالر والا کوٹ‘ نکٹائی اور تسموں والے جوتے پہننا خلافِ قانون قرار دیا جائے۔ 
...کھانا میز کرسی پر بیٹھ کر کھانے کو جرم قرار دیا جائے۔ 
...سرکاری دفاتر سے میز کرسیاں اٹھا لی جائیں۔ افسروں کو گائو تکیے مہیا کیے جائیں۔ وہ قالینوں پر بیٹھیں اور سامنے لکڑی کی چوکیاں رکھیں۔ 
...انگریزی زبان سیکھنے اور سکھانے والوں کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ سید سلیمان ندوی کی تصنیف خطباتِ مدراس (Madras) پر پابندی عائد کی جائے۔ اس کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ علماء کرام کے لیے انگریزی زبان کا سیکھنا فرض ہے۔ سید سلیمان ندوی پر بعداز مرگ مقدمہ چلا کر قرار واقعی سزا سنائی جائے۔ 
...چونکہ تمام اسلامی علوم اور تعلیمات کا منبع افغانستان ہے‘ اس لیے وہاں کے رسوم و رواج کو کلی طور پر رائج کیا جائے۔ بالخصوص: 
...شٹل کاک (ٹوپی) برقع ہر پاکستانی عورت کے لیے لازمی قرار دیا جائے۔ 
... مردوں کے لیے پگڑی لازم قرار دی جائے۔ پگڑی باندھنے کا طریقہ بھی وہی ہو جو افغانستان میں رائج ہے۔ راجستھانی‘ پنجابی یا سندھی انداز میں پگڑی باندھنا جرم قرار دیا جائے۔ 
...ٹیکسلا کے عجائب گھر کو مسمار کر کے وہاں مدرسہ قائم کیا جائے۔ 
...بزرگ کبھی غلطی کا ارتکاب نہیں کر سکتے۔ ان کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے۔ ان کی اقتدا میں عورتوں کو پڑھنے کی اجازت تو دی جائے لیکن ان کے لیے لکھنا منع ہو۔ کسی لڑکی کو لکھائی سکھانے والے کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ 
...تمام بینک اور دیگر مالی ادارے فی الفور بند کر دیے جائیں۔ مالیات و حسابات کا کام علماء کرام کے سپرد کیا جائے۔ 
...کسی ایسی شے کا استعمال سختی سے ممنوع قرار دیا جائے جس کا کسی یہودی‘ عیسائی‘ ہندو یا کسی بھی کافرانہ مذہب سے دور کا بھی تعلق ہو۔ چنانچہ کار‘ ہوائی جہاز‘ موبائل فون‘ ٹیلی ویژن‘ اے سی‘ ریفریجریٹر‘ لائف سیونگ ادویات‘ بائی پاس آپریشن‘ اینجیوپلاسٹی‘ انٹرنیٹ‘ بال پین‘ ہینگر‘ ایمبولینس‘ ٹرین‘ لائوڈ سپیکر وغیرہ چونکہ عیسائیوں اور یہودیوں کی ایجادات ہیں‘ اس لیے ان کی درآمد‘ فروخت‘ خرید اور استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔ 
...عدالتیں فی الفور بند کردی جائیں۔ ان کی جگہ جرگہ سسٹم اور پنچایت کا نظام نافذ کیا جائے۔ 
...پاسپورٹ سسٹم غیر اسلامی ہونے کی وجہ سے ختم کردیا جائے۔ کسی بھی مسلمان ملک سے جو لوگ‘ جتنی تعداد میں آنا چاہیں‘ انہیں آنے‘ آباد ہونے اور اسلحہ رکھنے کی اجازت دی جائے۔ 
...جو ممالک پاکستانیوں کو پاسپورٹ یا ویزا کے بغیر آنے کی اجازت نہ دیں‘ ان سے سفارتی تعلقات ختم کردیے جائیں۔ 
...تمام غیر ملکی قرضے‘ بشمول ورلڈ بینک‘ آئی ایم ایف‘ ایشیائی ترقیاتی بینک‘ یک طرفہ طور پر منسوخ کر دیے جائیں اور ادائیگی سے انکار کردیا جائے۔ 
...غیر مسلم ممالک پر ایٹم بم گرایا جائے۔ 
...صدر اور وزیراعظم کے لیے پگڑی‘ چُغہ اور ہوائی چپل سرکاری اور قومی لباس قرار دیا جائے۔ 
...ڈاکٹری (ایلوپیتھک طریقِ علاج) ممنوع قرار دے کر یونانی طریقِ علاج جاری کیا جائے اور اسے یونانی کے بجائے اسلامی کہا جائے۔ 
...نیزہ بازی‘ تیراندازی اور شمشیر زنی کے علاوہ تمام نام نہاد کھیلوں پر پابندی عاید کردی جائے۔ بُزکشی کو قومی کھیل قرار دیا جائے۔ 
...جانچ پڑتال کی جائے کہ ملک کی آبادی میں کتنے لوگ دائرۂ اسلام سے خارج ہو چکے ہیں۔ ہر محلے میں علماء کرام کا بورڈ قائم کیا جائے۔ جو لوگ‘ دائرۂ اسلام سے باہر ثابت ہوں انہیں ذبح کیا جائے اور ان مناظر کی وڈیو جاری کی جائیں (چونکہ وڈیو کیمرے کفار کی ایجاد ہیں اس لیے علماء کرام سے درخواست کی جائے کہ وہ صرف اس مقصدِ جلیلہ کے لیے وڈیو کیمرے کی اجازت مرحمت فرمائیں)۔ 
...جمہوریت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔ الیکشن کمیشن‘ پارلیمنٹ‘ صوبائی اور مقامی جمہوری ادارے بند کر دیئے جائیں۔ 
یہ تمام اصلاحات اسی صورت میں ہو سکتی ہیں کہ ایک مقبولِ عام سیاست دان‘ جو جرگہ سسٹم کے پرانے مداح ہیں اور غازیانِ اسلام کے حامی‘ برسرِ اقتدار لائے جائیں‘ وفاق میں بھی ان کا اشتراک انہی قوتوں کے ساتھ ہو‘ جن کا ساتھ دینے کے لیے وہ معروف ہیں۔ 

Saturday, January 4, 2014

Rebellion against State for Shari’ah : جہاد یا فساد

Political Revolt Unlawful:
Despite the blatant perversion in the Muslim rulers after the pious caliphate, the Muslim ulema did not lead an insurrection against these corrupt individuals. For about a period of one thousand years they remained detached in this matter and continued to engage all their efforts in non-political fields. This was not a matter of accident but in obedience to the express injunctions of the Shari’ah. As we know, in the books of Hadith detailed traditions have been set down in the chapters titled Kitab al-Fitan. The Prophet Muhammad, may peace be upon him, observed in plain words that in later times perversions would set in in the rulers, they would become tyrannical and unjust, but that Muslims should not wield their swords against them [unless they display open Kufir, non belief, discontinue, Aqamat as Salah, preyer]. They should rather move to the mountains with their goats and camels. By ‘goats and camels’ are meant the opportunities in non-political fields which exist, even when the political institutions are corrupted. This injunction given by the Prophet meant that the Muslims should avail of such opportunities by avoiding clash and confrontation in the political field. In short, by ignoring the political problem, they should avail of the non-political opportunities. These injunctions of the Prophet Muhammad, may peace be upon him, were so clear that the Muslim ulema of later times formed a consensus to make insurrection against the rulers unlawful.
Imam An-Nawawi, commenting upon some traditions as set forth by Sahih Muslim (Kitab al-Imarah) observes: “You should not come into conflict with the rulers in matters of their power. Even if you find them going against express Islamic injunctions, you should attempt to make the truth clear to them solely through words of wisdom and advice. So far as revolt and war against them in order to unseat them is concerned, that is totally unlawful according to the consensus of the ulema, even when the rulers are zalim and fasiq (tyrants and corrupt).” (Sahih Muslim, bi sharh an-Nawawi, 12/229)
 “O ye who believe! obey ALLAH, and obey His Messenger and those who are in authority among you. And if you differ in anything refer it to ALLAH and His Messenger, if you are believers in ALLAH and the Last Day. That is best and most commendable in the end.”(Quran; 4:59)
Waging war against Allah and His Messenger (pbuh) and creating disorder on land is very serious sin & crime with capital punishment:
 “The only reward of those, who wage war against ALLAH and HIS Messenger and strive to create disorder in the land, is that they be slain or crucified or their hands and feet be cut off on account of their enmity, or they be expelled from the land. That shall be a disgrace for them in this world, and in the Hereafter they shall have a great punishment”(Quran; 5:33)
The verse [4:59] is the cornerstone of the entire religious, social and political structure of Islam, and the very first clause of the constitution of an Islamic state. It lays down the following principles as permanent guidelines:
In the Islamic order of life Muslims are further required to obey fellow Muslims in authority.
In the Islamic order of life, God alone is the focus of loyalty and obedience. Another basic principle of the Islamic order of life is obedience to the Prophet (peace be on him). This obedience follows, and is subordinate to, obedience to God and the Prophet (peace be on him). Those invested with authority (ulu al-amr) include all those entrusted with directing Muslims in matters of common concern. Hence, persons 'invested with authority' include the intellectual and political leaders of the community, as well as administrative officials, judges of the courts, tribal chiefs and regional representatives. In all these capacities, those 'invested with authority' are entitled to obedience, and it is improper for Muslims to cause dislocation in their collective life by engaging in strife and conflict with them. This obedience is contingent, however, on two conditions: first, that these men should be believers; and second, that they should themselves be obedient to God and the Prophet (peace be on him). These two conditions are not only clearly mentioned in this verse they have also been elucidated at length by the Prophet (peace be on him) and can be found in the Hadith. Consider, for example, the following traditions: A Muslim is obliged to heed and to obey an order whether he likes it or not, as long as he is not ordered to carry out an act of disobedience to God (ma'siyah). When ordered to carry out an act of disobedience-to God he need neither heed nor obey.
There is no obedience in sin; obedience is only in what is good (ma'ruf). (For these traditions see Bukhari, 'Ahkam', 4; 'Jihad', 108; Muslim, 'Amarah', 39; Tirmidhi, 'Jihad', 29; Ibn Majah, 'Jihad', 40; Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. 2, pp. 17 and 142 - Ed.)
Prophet (pbuh) is reported to have said: “There will be rulers over you, some of whose actions you will consider good and others abominable. Who even disapproves of their abominable acts will be acquitted of all blame, and whoever resents them he too will remain secure (from all blame); not so one who approves and follows them in their abominable acts. They (i.e. the Companions) asked: 'Should we not fight against them?' The Prophet (peace be on him) said: 'No, not as long as they continue to pray.” (See Bukhari, 'Jihad', 108 - Ed.)
This means that their abandonment of Prayer will be a clear sign of their having forsaken obedience to God and the Prophet (peace be on him). Thereafter it becomes proper to fight against them. In another tradition the Prophet (peace be on him) says: “Your worst leaders are those whom you hate and who hate you; whom you curse and who curse you. We asked: 'O Messenger of God! Should we not rise against them?' The Prophet (peace be on him) said: 'No, not as long as they establish Prayer among you: not as long as they establish Prayer among you.” (See Muslim, 'Amarah', 65, 66; Tirmidhi, 'Fitan', 77; Darimi, 'Riqaq, 78; Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. 6, pp. 24, 28 - Ed.)
In this tradition the position is further clarified. The earlier tradition could have created the impression that it was not permissible to revolt against rulers as long as they observed their Prayers privately. But the latter tradition makes it clear that what is really meant by 'praying' is the establishment of the system of congregational Prayers in the collective life of Muslims. This means that it is by no means sufficient that the rulers merely continue observing their Prayers: it is also necessary that the system run by them should at least be concerned with the establishment of Prayer. This concern with Prayer is a definite indication that a government is essentially an Islamic one. But if no concern for establishing Prayer is noticed, it shows that the government has drifted far away from Islam making it permissible to overthrow it. The same principle is also enunciated by the Prophet (peace be on him) in another tradition, in which the narrator says: 'The Prophet (peace be on him) also made us pledge not to rise against our rulers unless we see them involved in open disbelief, so that we have definite evidence against them to lay before God' (Bukhari and Muslim).



Tuesday, December 24, 2013

ردِّ بدعات ومنکرات Bidah, Prohibition of Inovations in Islam

خانہ ساز تاریخ کی ستم ظریفی بلکہ سنگدلی یہ ہے کہ ان پر شرک وبدعت اور فروغِ منکرات کی پھبتی کسی گئی، طَعن وتَشنیع کا نشانہ بنایا گیا، لیکن یہ سب اِتِّہامات واِلزَامات محض مفروضوں کی بنیاد پر عائد کیے گئے ، نہ کوئی حوالہ دیا گیا اور نہ ہی اُن کے فتاویٰ اور تصانیف کو پڑھنے کی کوشش کی گئی۔ بقولِ شاعر ؎

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے

امام احمد رضا قادری نَوَّراللہ مَرقدَہٗ کثیرالجہات،جامع العلوم اورجامع الصفات شخصیت تھے۔ وہ اپنے عہد کے عظیم مُفسِّر ، محدِّث ، فَقِیہ ،مُتَکلّم، مؤرّخ اور مُصلح تھے

اہلسنت وجماعت کو قبوری، قبر پرست اور قبروں کو سجدہ کرنے والے کہا جاتارہا ہے ،امام احمد رضاقادری لکھتے ہیں:''مسلمان ! اے مسلمان!اے شریعتِ مصطفوی کے تابعِ فرمان! جان کہ سجدہ حضرتِ عزّتِ جلّ جلالہٗ کے سوا کسی کے لیے نہیں ، اس کے غیر کو سجدۂ عبادت تو یقیناً اجماعاً شرکِ مہین وکفر مبین اور سجدۂ تَحِیَّۃ (تعظیمی) حرام وگناہِ کبیرہ بالیقین ، اِس کے کفر ہونے میں اِختلافِ عُلمائِ دین، ایک جماعتِ فُقہاء سے تکفیر منقول‘‘۔
سجدۂ عبادت تو بہت دور کی بات ہے ، اُنہوں نے سجدۂ تعظیمی کے حرام ہونے پر قرآن وسنت کی نُصوص سے استدلال کرکے ''اَلزُّبْدَۃُ الزَّکِیَّہ فِی حُرْمَۃِ السَّجْدَۃِ التَّحِیََّۃ‘‘ کے نام سے ایک باقاعدہ رسالہ لکھا ۔ امام احمد رضانے فقہِ حنفی کے مُسلّمہ فتاویٰ واَئِمَّۂ اَحناف کے حوالے سے لکھا:''عالموں اور بزرگوں کے سامنے زمین چُومنا حرام ہے اور چُومنے والا اور اِس پر راضی ہونے والا دونوں گناہگار ، کیونکہ یہ بت پرستی کے مُشابِہ ہے‘‘۔ مزید لکھتے: ہیں '' زمین بوسی حقیقۃً سجدہ نہیں کہ سجدے میں پیشانی رکھنا ضرور ہے ، جب یہ اس وجہ سے حرام اور مُشابِہِ بت پرستی ہوئی کہ صورۃً قریبِ سجود ہے ، تو خود سجدہ کس درجہ سخت حرام اور بت پرستی کا مُشابہ ِ تامّ ہوگا ، وَالْعَیَاذُبِاللّٰہ تَعَالٰی ‘‘ ۔ 
مزید لکھتے ہیں:'' مزارات کو سجدۂ (تعظیمی) یااس کے سامنے زمین چومنا حرام اور حدِّ رکوع تک جھکنا ممنوع ‘‘، اولیائِ کرام کے مزارات کی بات تو چھوڑیے ،وہ لکھتے ہیں :'' زیارتِ روضۂ انور سیدِ اطہر ﷺ کے وقت نہ دیوارِ کریم کو ہاتھ لگائے، نہ چُومے، نہ اُس سے چمٹے، نہ طواف کرے، نہ زمین کو چومے کہ یہ سب بدعتِ قبیحہ ہیں‘‘۔ شَرحِ لُباب کے حوالے سے لکھا:'' رہا مزار کو سجدہ، تووہ حرامِ قطعی ہے، تو زائر جاہلوں کے فعل سے دھوکہ نہ کھائے بلکہ علمائِ باعمل کی پیروی کرے ، مزار کو بوسے میں (علماء کا )اختلاف ہے اور چُھونا، چِمٹنا اِس کے مثل،اَحوَط(یعنی شریعت کا محتاط ترین حکم) منع اور عِلّت(یعنی ممانعت کا سبب ) خلافِ ادب ہونا‘‘۔ فقہی حوالے کے ساتھ مزید لکھا:'' مزار کو سجدۂ (تعظیمی) تو درکنار، کسی قبر کے سامنے اللہ عزّ وجل کو سجدہ جائز نہیں،اگر چہ قبلے کی طرف ہو (یعنی یہ بت پرستی کے مشابہ ہے)، قبرستان میں نماز مکروہ ، کہ اس میں کسی قبر کی طرف رُخ ہوگا اور قبر کی طرف نماز مکروہ ہے ، البتہ قبرستان میں مسجد یا نماز کی جگہ بنی ہو تو اس میں حرج نہیں ہے۔ قبر کی اونچائی کی بابت ان سے سوال ہواتولکھا:''خلافِ سنت ہے، میرے والدِ ماجد، میری والدۂ ماجدہ اور بھائی کی قبریں دیکھیے، ایک بالشت سے اُونچی نہ ہوںگی‘‘۔
امام احمد رضاقادری سے مزاراتِ اولیاء کرام کے طواف کی بابت سوال ہواتو اُنہوں نے لکھا:''بلاشبہ غیرکعبۂ مُعَظّمَہ (بشمول روضۂ رسول)کا طوافِ تعظیمی ناجائز ہے اورغیر خداکو (تعظیماً ) سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے اور بوسۂ قبر میں علماء کو اختلاف ہے اورمحتاط ترین قول ممانعت کاہے،خصوصاً مزاراتِ طیّبہ اولیائے کرام کہ ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ کم ازکم چار ہاتھ کے فاصلے پرکھڑاہو،یہی ادب ہے،پھر تَقبِیل(چومنا) کیسے مُتصَوّر ہوسکتاہے، یہ وہ ہے جس کا فتویٰ عوام کودیاجاتاہے اور تحقیق کا مقام دوسراہے‘‘ ۔
امام احمد رضا سے سوال ہواکہ بعض وظائف میں آیات اور سورتوں کو مَعکوس (اُلٹ) کرکے پڑھنا کیساہے ؟اُنہوں نے فرمایا:''حرام اور اَشدّ حرام ،کبیرہ اور سخت کبیرہ (گناہ )،کفرکے قریب ہے،یہ تودرکنارسورتوں کی صرف ترتیب بدل کر پڑھنا ،اِس کی نسبت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کیاایسا کرنے والا ڈرتانہیں کہ اللہ اس کے قلب کو اُلٹ دے ،چہ جائیکہ آیات کو بالکل معکوس (اُلٹ ) کرکے مُہمل(بے معنیٰ) بنادینا‘‘۔
آج کل جاہل پیرومُرشِد بنے ہوئے ہیں،دین کے علم سے بے بہرہ ہیں،اپنی جہالت کا جواز اِس طرح کی باتیں بناکر پیش کرتے ہیں کہ طریقت باطنی اور روحانی اَسرارورمُوزکا نام ہے،علماء توصرف الفاظ اورظاہرکو جانتے ہیں،اُن کے دل نورسے خالی ہیں،گویا طریقت اور شریعت کو ایک دوسرے کی ضد قراردیتے ہیں،امام احمد رضا قادری نے لکھا: ''شریعت اصل ہے اورطریقت اُس کی فرع،شریعت مَنبع ہے اورطریقت اس سے نکلاہوا دریا،طریقت کی جدائی شریعت سے مُحال ودشوارہے،شریعت ہی پرطریقت کا دَارومَدَارہے ،شریعت ہی اصل کاراورمَحَکّ ومعیار ہے،شریعت ہی وہ راہ ہے جس سے وصول اِلَی اللہ ہے ،اس کے سوا آدمی جوراہ چلے گا، اللہ تعالیٰ کی راہ سے دور پڑے گا ،طریقت اس راہ کا روشن ٹکڑا ہے،اِس کا اُس سے جداہونا محال ونامناسب ہے۔طریقت میں جوکچھ منکشف ہوتاہے،شریعتِ مُطہرہ ہی کے اِتّباع کا صدقہ ہے،جس حقیقت کو شریعت رَد فرمائے،وہ حقیقت نہیں،بے دینی اورزَندقہ ہے‘‘۔امام احمد رضا قادری سے پوچھاگیا کہ ایک شخص شریعت کا عامل نہیں ہے،اَحکامِ شریعت کا تارک ہے،اُس کا مُؤاخَذہ کیاجائے توکہتاہے:''اَحکامِ شریعت تووصول الی اللہ کا ذریعہ ہیںاورمیں تو واصل ہوچکا ہوں،یعنی منزلِ حق پرپہنچا ہواہوں،لہٰذا میں اب اَحکام کا مُکلّف(جواب دہ ) نہیں ہوں،اُنہوں نے امام الصوفیاء حضرت عبدالوہاب شعرانی اورسیّدُ الطائفہ جنید بغدادی رحمہما اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بتایاکہ:''ہاں! واصل (پہنچاہوا)توضرور ہے مگر جہنم میں‘‘۔مزید لکھتے ہیں: '' صوفیائے کرام فرماتے ہیں :صوفیِ بے علم مسخرۂ شیطان اَست۔ وہ جانتاہی نہیں شیطان اُسے اپنی باگ ڈور پر لگالیتاہے،حدیث میںارشاد ہوا:'' بغیر فقہ کے عابد بننے والا ایساہے جیسے چکی میں گدھا ‘‘ کہ محنتِ شاقّہ کرے اورحاصل کچھ نہیں ‘‘۔
لغت میں بدعت ہرنئی چیزکو کہتے ہیں اوراصطلاح شرع میں ''دین میں ایسی چیز اختراع کرناجس کی اصل دین میں نہ پائی جائے،بدعت ہے،یعنی ہروہ چیز جوکسی دلیلِ شرعی کے مُعارِض (مُتصادم) ہو،بدعت ِ شرعیہ ہے‘‘۔
امام احمد رضا سے سوال ہواکہ کیا فلاحِ آخرت کے لیے مُرشِد ضروری ہے،اُنہوں نے جواب میں لکھا کہ یہ ضروری نہیں ہے،ایک مُرشِد عام ہوتاہے،فلاح ظاہر ہو یا فلاحِ باطن ،اس مُرشِد سے چارہ نہیں،جواس سے جداہے،بلاشبہ کافر ہے یا گمراہ اور اس کی عبادت تباہ وبرباد۔اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے فرمایا: عوام کارہنما۔۔۔کلامِ عُلماء ، علماء کا رہنما۔۔۔ کلامِ اَئِمَّہ ،اَئِمَّہ کا رہنما۔۔۔ کلام ِرسول اور رسول اللہ کا رہنما۔۔۔ کلام اللہ عَزَّوَجلّ ۔ شیخ ایصال اور مُرشِد کامل کے لیے انہوں نے چارکڑی شرائط بیان کی ہیںجن پر لفظاً ومعناً پورااترنا ہرایک کا منصب نہیں ہے ۔اس لیے اُنہوں نے بیعت کا معنی ومفہوم،بیعت کی اقسام ثلاثہ یعنی بیعتِ برکت،بیعتِ ارادت اور بیعتِ منفعت اوران کی تفصیل اوراَحکام بیان کیے ہیں،جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ماہِ صفرالمظفرکے آخری بدھ کے بارے میں لوگوں میں رائج رسومات کی بابت لکھتے ہیں:''آخری چہارشنبہ کی کوئی اصل نہیں،نہ اس دن صحت یابی حضور سید عالم ﷺ کا کوئی ثبوت بلکہ مرض اقدس جس میں وفات مبارکہ ہوئی،اس کی ابتدا اسی دن سے بتائی جاتی ہے اورایک حدیث مرفوع میں آیاکہ ''ابتدائی اِبتَلائے سیدنا ایوب علیہ الصلوٰۃ والسلام اِسی دن تھی اور اسے نَحِس سمجھ کر مٹی کے برتن توڑدینا گناہ اور مال کا ضائع کرناہے۔ بہرحال یہ سب باتیں بے اصل وبے معنی ہیں‘‘۔ 
پیرزادہ علامہ سید محمد فاروق القادری رحمہ اللہ تعالیٰ نے ''فاضلِ بریلوی اوراُمورِ بدعات‘‘کے عنوان سے ایک گرانقدرکتاب تالیف مرتب کی ہے،علمی ودینی ذوق رکھنے والوں کواس کا بغورمطالعہ کرنا چاہیے۔