Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Showing posts with label War. Show all posts
Showing posts with label War. Show all posts

Tuesday, August 28, 2018

افغانستان میں امن کی کوششیں? Is Peace in Afghanistan possible



DESPITE some deadly terrorism attacks reported in 2018, the overall frequency across the globe has been on the decline in recent years. However, these dwindling numbers do not suggest, in any way, that the threat of terrorism has been eliminated. The latest audio message by the so called Islamic State group (IS) head Abu Bakr al Baghdadi, in which he called on his followers to keep fighting, vindicates the lingering threat of terrorist violence.

Certainly, most terrorist groups have been weakened but they are still present in physical and virtual spaces; in many instances, they have ungoverned territories to operate in. In Pakistan, too, despite justifiable claims of having significantly damaged terrorist infrastructure in the country, terrorist groups are able to trigger sporadic waves of violence albeit with a reduced frequency as compared to past years. A series of terrorist attacks before and during the election month of July hurt the image of Pakistan as a state effectively dealing with its internal security threats.... [........]

افغانستان میں بیک وقت طالبان کی امریکی افواج اور افغان حکام کے ساتھ جھڑپیں ، امریکی ڈرون حملے اور ان پہ پینٹاگون کی خاموشی بھی جاری ہے اور ساتھ ہی کئی ڈپلومیسی ٹریک بھی عمل پذیر ہیں۔ستمبر میں ہونے والی ماسکو امن کانفرنس میں طالبان کے ساتھ مذاکرات متوقع ہیں جن میں شرکت سے تاحال امریکہ اور افغان حکومت نے معذرت ظاہر کردی ہے۔ 

افغانستان میں اصل فریق تو طالبان اور امریکہ ہیں ۔کسی ایک فریق کے بغیر آپ بارہ ممالک کا اجلاس بلا کر گڑ والی چائے تو پی سکتے ہیں مسئلے کا حل نہیں نکال سکتے۔معلوم ہوتا ہے مسئلے کا حل نکالنا مقصود بھی نہیں ہے۔ ورنہ مذاکرات کے لئے ماسکو کا انتخاب کرکے امریکہ کو مشتعل نہ کیا جاتا۔ اس طرح چین اور روس نے جن کے درمیان کم سے کم افغانستان کی حد تک گاڑھی چھن رہی ہے ، امریکہ اور افغان حکومت دونوں کو پیغا م دیا ہے کہ وہ اس مسئلے کے مستقل شراکت دار ہیں اور ان کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ طالبان پہ پہلے ہی الزام ہے کہ انہیں چین اور روس اسلحہ فراہم کررہے ہیں۔ یہ الزام کسی حد تک درست بھی ہے۔

افغانستان کے سیکوریٹی ایڈوائزر حنیف اتمر استعفی دے چکے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ حنیف اتمر روس اور چین کی اس حرکت پہ مشتعل ہوئے ہیں حالانکہ ان پہ روس کے ساتھ قربت کا الزام بھی لگایا جاتا رہا ہے۔حنیف اتمر آئندہ سال صدارتی انتخابات میں امیدوار ہونگے لیکن اس کے لئے ابھی استعفیٰ دینا ضروری نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ بیک ڈور ڈپلومیسی میں مصروف رہے ہیں۔ گزشتہ سال ان کا دورہ روس بھی مبینہ طور پہ امریکی ایما پہ تھا اور وہ یہ پیغام لے کر گئے تھے کہ روس طالبان کے سر پہ سے ہاتھ اٹھالے۔انہوں نے حال ہی میں پرانے مجاہدین کی وطن واپس آنے والی جلا وطن قیادت سے ملاقاتیں بھی کیں جن میں آنے والے انتخابات میں ان جماعتوں کے مستقبل کا جائزہ لیا گیا تھا۔کل کے مجاہدین آج امریکہ کے زیر انتظام ہونے والے انتخابات کی تیاری میں ہیں اور طالبان ہیں کہ ہاتھ سے بندوق رکھنے پہ تیار نہیں۔ اس کے علاوہ یہی موصوف ملک کے ہر بڑے دن پہ امریکہ کا دامن پکڑ کر اسے کچھ اور دن افغانستان میں قیام کرنے کا عاشقانہ مطالبہ کرتے پائے گئے ہیں۔اب عین اس موقع پہ جبکہ روس نے چین ، پاکستان اور بھارت سمیت بارہ ممالک کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے ماسکو بلا لیا ہے، حنیف اتمر کا استعفی کچھ اور کہانی بیان کررہا ہے۔

ظاہر ہے وہ امریکہ کے ساتھ ہی مشتعل ہوگئے ہیں اور ملک میں چین اور روس کے کردار کو اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ادھر چین و روس نے امریکی انکار کو اپنے حق میں استعمال کیا اور کہا کہ وہ خطے میں امن چاہتا ہی نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ امن چاہتا ہے لیکن اپنی شرائط پہ چاہتا ہے اور جو طالبان نہیں چاہتے۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں بھارت اور پاکستان کی شمولیت کے ساتھ ہی چین نے افغان پالیسی کا اعلان کر دیا تھا جس میں روس نے اس کی حمایت کی تھی۔ تب ہی فیصلہ ہوگیا تھا کہ اب امریکہ کو افغانستان سے نکلنے پہ مجبور کیا جائے گا لیکن کیا انہیں علم نہیں تھا کہ ایسا مطالبہ اگر چین اور روس کی طرف سے ہوگا تو وہ امریکہ کو مزید مشتعل ہی کرے گا اورہوا بھی یہی ہے اور مقصد بھی یہی تھا۔ چین اور روس امریکہ کو اس وقت تک افغانستان میں پھنسائے رکھنا چاہتے ہیں جب تک طالبان کا صفایا نہیں ہوجاتا یا وہ جنگ بندی کے کسی معاہدے پہ راضی نہیں ہوجاتے۔امریکہ نکل گیا تو اژدہوں کے اس ہار کو گلے میں کون ڈالے گا۔امریکہ کا طالبان سے مطالبہ چھوٹا سا ہے اور وہ ہے افغانستان میں مستقل عسکری اڈوں کی موجودگی۔ جس دن طالبان اس پہ راضی ہوگئے سارے مسئلے حل ہوجائیں گے۔آخر فلپائن ، کوریائی جزائر ، جاپان، افریقہ، شرق وسطی، خلیج ، آسٹریلیا اور کونسا بحر وبر ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود نہیں خود افغانستان میں اس وقت بگرام ، ہیرات، مزارشریف، شنداد میں ائیربیس اور کم از کم سات مزید عسکری مستقر موجود ہیں۔کیا حرج ہے اگر طالبان اسے ان میں سے کچھ اڈوں کی حفاظت کی ضمانت دے دیں تاکہ چین اور روس کی موجودگی میں اس کی دال روٹی بھی چلتی رہے۔تب تک کیوں نا مذاکرات مذاکرات کھیلا جائے آخر امریکہ کلنٹن سے لے کر ٹرمپ تک یہی تو کرتا آرہا ہے ۔اب تک کم سے کم تیس بار امریکی انتظامیہ اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوچکے ہیں۔

کلنٹن نے تو طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کئے تھے اور ان سے افغانستان میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ جواباً القاعدہ نے کینیا اور تنزانیہ میںا مریکی سفارت خانوں پہ حملہ کردیا تھا اور حملہ آور افغانستان سے نہیں کہیں اور سے گئے تھے۔نائن الیون کے بعد بش پالیسی نے تو دنیا بدل دی تھی اوباما نے چارج سنبھالتے ہی حقیقی امن کا ضامن افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کو قرار دیا لیکن امریکی فوجیوں کی تعداد تین گنا بڑھا دی۔اپنے دور صدارت کے آخری دنوں میں انہوں نے یہ تعداد کم کی لیکن صدر ٹرمپ نے فیصلہ کن جنگ کی ٹھان لی۔ مسئلہ لیکن وہ ہے ہی نہیں جو بتایا جاتا ہے اور جس کی بنیاد پہ پاکستان کی مشکیں کسی اور امداد میں کٹوتی کی جاتی ہے یعنی دہشت گردوں کا صفایا۔اصل مسئلہ ہے طالبان کو افغانستان میں امریکی موجودگی پہ راضی کرنا جس کے لیے پاکستان پہ دباؤ ڈالا جاتا ہے۔اب اگر ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام ممالک مل کر طالبان سے امریکہ کی غیر موجودگی میں مذاکرات کر بھی لیتے ہیں تو ان کی حیثیت کیا ہوگی اس کا انداز ہ لگانا مشکل نہیں ہے۔اس کا اندازہ روس کو بھی ہے اور وہ جو پیغام دینا چاہتا ہے اس نے دے دیا ہے۔ طالبان امریکی افواج کی موجودگی میں افغانستان کے تقریبا ًنصف حصے پہ قابض ہوکر اور پینتیس فیصد اضلاع میں اپنی متوازی حکومت بنا کر روس اور چین کی گائڈلائن پہ چلنا چاہیں گے، یہ بعید از قیاس ہے۔انہوں نے حالات کے مطابق وہی پالیسی اپنائی جو کبھی سوویت روس کے خلاف ان کے بڑوں نے اپنائی تھی ۔جس وقت افغانستان میں روسی افواج پسپا ہو رہی تھیں ، پاکستان میں موجود سوویت روس کے جاں نثار ، افغان مجاہدین پہ امریکی پٹھو ہونے کاالزام لگاتے اور پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگاتے تھے۔ سوویت روس کو پسپا ہونا ہی پڑا۔اس جہاد میں امریکی اور امریکی ڈالر کب اور کس مقام پہ شامل ہوئے یہ کوئی راز کی بات نہیں۔خود امریکہ میں ایسے بے شمار گواہ اپنی تصنیفات ساتھ موجود ہیں جنہوں نے اعتراف کیا کہ یہ جنگ تو دراصل مٹھی بھر مجاہدین نے چند توڑے دار بندوقوں اور روس سے لوٹے گئے ان ٹینکوں کے ساتھ شروع کی تھی جنہیں گھات لگائے مجاہدین چکنی مٹی میں لپے کمبل پھینک کر ناکارہ بنا دیا کرتے تھے ۔ 
یہ کہانیاں نہیں تھیں نہ ہی نسیم حجازی کے کسی ناول کے اقتباسات تھے۔ یہ تاریخی حقائق ہیں جن سے صرف نظر وہی کر سکتا ہے جس کا کوئی نظریہ نہ ہو۔ مارکس اور لینن کے پیرووکاروں کو جو بالشویک انقلاب کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے،بولیویا کے چی گویرا اور کیوبا کے فیدل کاسترو کو ہیرو مانتے ہیں اور انقلاب فرانس کی عوامیت پہ لمبے لیکچر دیتے ہیں معلوم نہیں کیوں افغان عوام اور مجاہدین کی جدو جہد آزادی کو امریکی جہاد کا نام دے کر رد کر دیتے ہیں۔ اس جہاد میں جو خالص افغان عوام اور مجاہدین نے سویت روس کے خلاف شروع کیا اور جس میں بعد میں سعودی عرب ، پاکستان اور امریکہ نے اپنا حصہ ڈالا کہ ہر ایک کے اپنے مفادات تھے، امریکی جہاد کہناایک نظریے کی توہین ہی نہیں حقائق سے سنگین صرف نظر بھی ہے ۔

پاکستان کی خوش قسمتی یہ رہی کہ اس جنگ کے دوران اس کی پوزیشن مذہبی اعتبار سے مضبوط اور واضح رہی۔ ایک طرف جارح سویت روس تھا جو ایک عرصہ افغانستان میں اپنے نظریات کی آبیاری کرتا رہا تھا دوسری طرف وہ مجاہدین تھے جو اس جارح کافر ملک کے خلاف ہتھیار اٹھا کر صف آرا ہوگئے تھے۔ پاکستان کا جغرافیہ اور اخلاقیات دونوں پابند تھے کہ وہ مجاہدین کی دامے درمے سخنے مدد کریں۔ ادھر امریکہ کو روس کے ساتھ پرانے بدلے چکانے تھے یوں پاکستان کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں رہا۔ مجاہدین،پاکستان اور امریکہ ایک ہی پیج پہ اپنا اپنا کھیل کھیلتے رہے۔کل کے مجاہدین تو آج بھی امریکی آشیرباد میں ہونے والے انتخابات کی تیاری میں مصروف ہیں اور آج کے طالبان نے ہتھیار اٹھا رکھے ہیں جن پہ الزام ہے کہ ان کی پشت پناہی روس اور چین کررہے ہیں۔ ۔ یہ الزام لگانے والے یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اب روس سپرپاور نہیں رہا پھر بھی امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کا راستہ نہیںمل رہا۔وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ مومن اللہ پہ بھروسہ کرلے تو وہ کسی کو بھی اس کا پشت پناہ بنا دیتا ہے۔ [قدسیہ ممتاز 92 نیوز]

Afghanistan | World | The Guardian

https://www.theguardian.com/world/afghanistan
2 days ago - Afghanistan: national security adviser quits, sparking cabinet resignations. Hanif Atmar's exit, amid worsening security situation, is followed by ...

Afghanistan - The New York Times

www.nytimes.com/topic/destination/afghanistan
World news about Afghanistan. Breaking news and archival information about its people, politics and economy from The New York Times.
Related :

Jihad, Extremism

    Thursday, June 5, 2014

    مسئلہ فلسطین کی مذہبی تعبیر Palestine Conflict- & Religion

    مشرقِ وسطیٰ میں آج مذاہب کی جنگ نہیں،ظالم اور مظلوم کی معرکہ آرائی ہے۔وہ لوگ فساد فی الارض پھیلانے کے مرتکب ہوں گے جو اسے مذہبی جنگ بنائیں گے۔مشرق و مغرب میں بیٹھے رائے سازجو اسے مذہبی جنگ ثابت کرنا چاہتے ہیں، کیااس بارے میں متنبہ ہیں؟
    انسانی سماج اور اس کے اختتام کے بارے میں ایک مقدمہ مذہبی ہے۔ہم بطور مسلمان مانتے ہیں کہ اس نظمِ حیات کو ایک دن ختم ہو نا اور پھرحشربرپا ہو نا ہے۔رسالت مآبﷺ اللہ کے آ خری رسول ہیں۔اب کسی پیغمبر کو نہیں، قیامت کو آنا ہے۔یہ کب آئے گی، قرآن مجید نے بتا یا ہے کہ اس کی خبر اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔اللہ نے اس کے بارے میں کسی نبی اور کسی فرشتے کو بھی نہیں بتایا۔ اس کی صرف ایک متعین نشانی ہے جو قرآن مجید نے بتائی ہے۔یہ یاجوج ماجوج کا خروج ہے۔(الانبیا:97,96)۔قدیم صحائف میں بھی ان کا ذکر ہے۔یاجوج ماجوج سیدنا نوح کے بیٹے یافث کی اولاد ہے جوایشیا کے شمالی علاقوں میں آ باد ہوئی۔ان کے چند قبائل بعد کے ادوار میں یورپ پہنچے اورامریکہ اور آسٹریلیا کو آباد کیا۔یوحنا عارف کے مکاشفے سے معلوم ہو تا ہے کہ ان کے خروج کی ابتدا رسالت مآب ﷺ کی بعثت سے ایک ہزار سال بعدہوگی۔''ان کا شمار سمندر کی ریت کے برابر ہوگا اور وہ تمام زمین پر پھیل جائیں گے‘‘۔
    اس کے علاوہ عمومی نشانیاں ہیں جن کاروایات میں ذکر ہے۔ جیسے ایک روایت میں ہے کہ لونڈی اپنے آقا کو جنم دے گی۔یہ غلامی کے بطور ادارہ ختم ہو نے کا بیان ہے۔اسی روایت میں ہے کہ تم عرب کے ان ننگے پاؤں، ننگے بدن پھرنے والے کنگال چرواہوں 
    کو بڑی بڑی عمارتیں بنانے میںایک دوسرے کا مقابلہ کرتے دیکھو گے۔یہ مسلم کی روایت ہے اور ان دونوں نشانیوں کا ظہور ہو چکا۔ایک روایت میں ایک خلیفہء فیاض کی آ مد کا ذکر ہے۔قدیم دور سے اہلِ علم اس کا مصداق متعین کرتے رہے ہیں اور کم و بیش یہ طے ہے کہ اس سے مراد سیدنا عمر بن عبدالعزیزہیں۔گویا یہ نشانی بھی پوری ہو چکی۔رسالت مآب ﷺ نے ایک باراپنی بعثت اور قیامت کے فاصلے کو اپنی دو انگلیوں کے درمیانی فاصلے سے تعبیر فرمایا۔یہ ختم نبوت ہی کا بیان ہے۔ان سب روایات سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ عمومی نشانیوں کا وقتاً فوقتاًظہور ہو تارہے گا اور لوگوں کو یاد دلا تا رہے گاکہ قیامت قریب ہے۔
    تمام ابراہیمی مذاہب میں چونکہ ایسی روایات مو جود ہیں،اس لیے ان کوبعض لوگ کسی تحقیق کے بغیرقبول کرتے اور پھر ان سے اپنے عہد کے واقعات کو من پسندمعنی پہنا تے ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ جس قیامت کا برپاہو نا یقینی ہے، اس کی تیاری کوئی نہیں کرتا اور جو نشانیاں کسی مصدقہ ذریعے سے نہیں پہنچیں، سب ان کا مصداق بننے کی تگ و دو میں ہیں۔ ان میں سے اکثریت کی دلچسپی اس سیاسی منظر نامے سے ہے، جس کی پیش گوئی مذہبی روایات میں کی گئی ہے۔یوں وہ ہر واقعے کو اسی تناظر میں دیکھتے اور پھر ان کو مذہبی رنگ دیتے ہیں۔چونکہ یہ محض قیاس اور تخمینہ ہے، اس لیے مصداق کے تعین میں ہونے والی غلطی عالمِ انسانیت کے لیے ایک 
    عذاب بن جا تی ہے۔اسی وجہ سے ہماری تاریخ میں بے شمار لوگوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور لوگوں کو گمراہ کیا۔ یہ غلطی بعض یہودی کر تے ہیں اور بعض مسلما ن بھی۔اسی حوالے سے آج فلسطین میں ہونے والے مظالم کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔یہ ہماری نادانی ہو گی کہ ہم چند یہودیوں کی بات کو سچا ثابت کرنے کے لیے اسے ایک مذہبی معرکہ بنا دیں اور یوں ان کا خواب پورا ہو جائے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ان واقعات کوغیر مذہبی انداز میں دیکھا جائے کیونکہ اس کی مذہبی تعبیر کی اساس کوئی یقینی خبر نہیں ہے۔
    چند حقائق واضح ہیں۔مثال کے طور پر تمام یہودی اس بات کو نہیں مانتے کہ انہیں یہ مقدمہ مذہبی بنیادوں پر لڑنا ہے۔اسرائیل بھی دنیا کے سامنے خو دکو مظلوم کہتا ہے۔وہ اپنی جنگ مذہبی بنیادوں پر نہیں لڑ رہا۔ امریکہ میں اس وقت یہودیوں کا ایک موثر گروہ وجود میں آ چکا ہے‘ جو اسرائیل کوظالم کہتا ہے۔نوم چومسکی جیسے دانش وریہودی ہونے کے باوجود اسرائیل کو ظلم کی علامت سمجھتے ہیں۔آج دنیا بھر میں اسرائیلی مظالم کے خلاف لوگ احتجاج کر رہے ہیں اور ان میں اکثریت مسیحیوں کی ہے۔ان میں یہودی بھی شامل ہیں۔پھر یہ کہ فلسطینیوں میں سب مسلمان نہیں ہیں۔اس وقت غزہ میں رہنے والوںمیں چھ فی صد مسیحی ہیں۔لیلیٰ خالد بھی مسیحی تھی۔یاسر عرفات کی اہلیہ مسیحی ہیں۔مسلمانوں کو خاص طور پر اس تعبیر سے بچنا ہے کہ اس کا نتیجہ مسلمانوں کے خلاف مسیحیوں اور یہودیوں کو مجتمع کرنا ہوگا۔ دنیا کو ایسے فتنہ پرور یہودیوں سے بچانا چاہیے جو اسلام کے خلاف بنی اسرائیل کو منظم کرنا اور اس حسد کو زندہ کرنا چاہتے ہیں جس کا مظاہرہ ان کے بڑوں نے عہدِ رسالت مآب ﷺ میں کیا تھا۔ 
    اس معاملے کو ایک دوسرے زاویے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مو جودہ تمدنی اور معاشی ضروریات اور جبر نے دنیا میں ایک غیر مذہبی معاشرت کو جنم دیا ہے جس کے نتیجے میں مذہبی کثرت (pluralism) وجود میں آئی ہے۔اب ساری دنیا میں مختلف مذاہب کے لوگ مل کر رہ رہے ہیں ۔اگر ہم ان سیاسی و علاقائی اختلافات کو مذہبی رنگ دیں گے تو اس کے نتیجے میں ساری دنیا ایک انتشار میں مبتلا ہو جائے گی۔پھر ہر ملک میں لڑا ئی ہو گی۔خلیج کی جنگ کو بھی کچھ لوگوں نے اسی طرح مذہبی بنانے کی کوشش کی تھی۔ یا 9/11 کے بعد پیش آنے والے واقعات کو بھی اس حوالے سے بیان کیا۔یہ ایک غلطی تھی اور میرا خیال ہے کہ اس کا سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہوا۔ہم نے ان لوگوں کو بھی اپنا دشمن بنا لیا جو اس معرکے میں غیر جانب دار تھے۔جیسے چین یا روس۔
    فلسطینیوں کا مقدمہ غیرمذہبی بنیادوں پرپوری طرح ثابت ہے۔ انہیں اپنی سرزمین سے بے دخل کیا گیا اور پھر دوسرے علاقوں سے لائے گئے لوگوں کو وہاں آ باد کیا گیا۔دنیا کے ہر قانون اور ضابطے کے تحت اس سرزمین پر ان کا حق فائق ہے۔جو لوگ اسرائیل کے وجود کو جائز کہتے ہیں، وہ بھی اس بات کی نفی نہیں کر سکتے۔اگر اس مقدمے کو مذہبی بنیادوں پر کھولا گیا تو پھر مسلمانوں کے لیے جو مسائل پیدا ہوں گے انہیں سمجھا جا سکتا ہے۔میں دانستہ ان کی تفصیل سے گریز کر رہا ہوں کہ عقل مند کے لیے اشارہ کافی ہو تا ہے۔یہ مقدمہ اس وقت ثابت ہوگا جب اسے فلسطینیوں کا مقدمہ بنایا جائے گا۔ اسے اسلام بمقابلہ یہودیت نہیں، اہلِ فلسطین بمقابلہ صہیونیت دیکھا جا نا چاہیے۔اگر ہم نے اسے مذہبی رنگ دیا تو یہ ان یہودیوں کی تائید کے مترادف ہو گا جو اسی بنیاد پراس معرکے کوآگے بڑھا نا چاہتے ہیں اور نتیجتاً پہلے یہودیوں اور دوسرے مرحلے میں یہودیوں اور مسیحیوں کو متحد کر نا چاہتے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ اتحاد مسلمانوں کے خلاف ہوگا۔ 
    مسلمانوں کو آج جس بات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ مسائل کی تفہیمِ نو ہے۔امت کے سیاسی وجود سے لے کر مسائل کی مذہبی تعبیر تک بہت سے معاملات نئی سوچ کے متقاضی ہیں۔ چند مفروضوں کو حقیقت مان کر اس کا تعاقب کیا جارہا ہے۔ یوں ہر دن ترقی معکوس کا آئینہ دار ہے۔
    قیامت کی نشانیاں اللہ نے ظاہر کرنی ہیں ہم نے نہیں۔ہمیں تو حشر میںحاضری کی تیاری کر نی ہے۔دنیا میں ترقی اور عافیت چند الہی سنن کے تابع ہے۔ان کو سمجھے بغیر دنیا میں کامیابی نہیں مل سکتی۔واقعات کی مذہبی تعبیر کرنے والے جس بات کو سب سے زیادہ نظر انداز کرتے ہیں، وہ یہی ہے۔ 
    http://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2014-07-26/7912/49770641#tab2