Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Showing posts with label Political Islam. Show all posts
Showing posts with label Political Islam. Show all posts

Sunday, December 1, 2019

Politics of Religion & Extremism must be Avoided مولانا فضل الرحمٰن


Molana Fazlur Rahman is power hungry crook,  opportunist and a greedy religious politician. [all these traits are normal among politicians but he has more of them].  He has been dreaming to be Prime Minister of Pakistan since long. He is ready to to go to any extent to fulfill this egocentric dream.
تاریخی طور پر علماء سیاست اور طاقت و حکمرانی میں عمل دخل سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھتے تھے اور ان کی توجہ دین کی تعلیم و تبلیغ پر رہی- مگر آج کل پاکستان میں علماء سیاست میں داخل ہو کر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنےلیے دین اسلام کو ڈھال کے طور پر استمال کرتے ہیں.علماء کی ساکھ   (credibility) خراب ہوتی ہے، لوگ ان کی درست مذہبی باتوں پر بھی دھیان دینا چھوڑ دیتے ہیں، یہ اسلام کے ساتھ زیادتی ہے.... مزید آخر میں ......

The story of of his request to the US Ambassador to help him to become the Prime Minister is well known. He told earlier to “the powers to be”, to make him PM,  once reminded that due to his extremists and religious tilt he may not be acceptable to the international establishment particularly USA, he responded that, should he be given an opportunity, he will come up to the expectations of everyone including USA, would do whatever is expected. Once cautioned that his followers who had been listening to his anti American speeches would tear him apart.  Molana replied that it should be left to him, he knows how to handle those fools!
After 2018 elections Molana has been cut to size in politics, this is first time that he is out of power. It is difficult for him to reconcile with this reality. He is instrumental in in using main opposition parties to give tough time to the government and establishment. The two main political parties are finding it difficult to defend their leadership from corruption cases, hence its a mutually beneficial political arrangement. Molana is too pleased to be the coordinator opportunist. Use of religious card by Molana was not well received by main political parties especially PPP.
Molana is so desperate for power that, he is is mobilizing and using young Madrissa students for political gains. 
He is using religion as a tool to defame the PM and government. He is is falsely accusing the PM and the government to be Qadiani and pro Qadiani. This is a very serious allegation it should not be taken lightly as we know that religious motivation leads to extremism and terrorism. This is Takfeer, [False accusation of Kufr to a Muslims, falls back upon the accuser]. People are very sensitive to Qadiani issue, slander is religiously incorrect and a grave sin.
Similarly the concept of Takfeer was used br TTP and other terror groups. Pakistan has already lost over 70000 lives and suffered a loss of over 125 billion dollars.
The enemy across the border and Anti Pakistan forces look forward for religious extremists to use them as tool to create unrest in Pakistan. The case of of Iraq, Syria, Yemen is just fresh. ISI/ Daesh was used as a tool very effectively to destabilize those countries. 
Pakistan army is the biggest hurdle to the nefarious designs of Anti Pakistan forces. We cannot afford another religiously motivated unrest in the country.  
Previously we experienced long March and Dharna by Molana Tahir Ul Qadri which was tactfully handled by Zardari government. But there is lot of difference here, Maulana Fazlur Rahman is not Maulana Tahir Ul Qadri.  
Molana Fazlur Rahman is very shrewd politician who has been in power in KPK, Balochistan and part of Federal Government.  He has representation at National and provincial assemblies.  He is a politician with active and strong base in political and religious fields. He should not be taken lightly. In desperation he can go to any extent. His recent Anti Pakistan and anti Army speeches indicate his state of mind.
There is a need to watch him very carefully and to handle him politically with tact,  avoiding any bloodshed which he desires.  We don't need another Lal Masjid or Takfiri Taliban Part II.

http://takfiritaliban.blogspot.com


نمود اور بقا کے لیے قوموں کو ایک کم از کم اتفاقِ رائے درکار ہوتاہے ۔ قومی دفاع کے معاملات پر آباد ی کے تمام طبقات یک زبان ہوتے ہیں ۔ افغانستان سے تابوت امریکہ پہنچتے ہیں تو کوئی اخبار اس کی تصویر چھاپتا ہے اور نہ کوئی مبصر ٹی وی پہ واویلا کرتا ہے-
قومی سلامتی سے متعلق کوئی بھی تجزیہ شائع کرنے سے پہلے نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ اجازت طلب کرتے ہیں-
بھارت میں پریس بظاہر آزاد ہے لیکن خارجہ پالیسی پہ خامہ فرسائی کرنے والے احتیاط کی آخری حدود کو ملحوظ رکھتے ہیں ۔ مستقل طور پر باہم الجھتی رہنے والی کوئی قوم اس دشمن کا سامنا کیسے کرسکتی ہے ، جو اسے صفحہ ء ہستی سے مٹا دینے کے درپے ہے ۔

حضرت مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد کا گھیرائو کرنے کی تیاریوں میں ہیں ۔ ۔حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ العالی کا ایجنڈا صرف یہ ہے کہ کسی بھی قیمت پر اس پارٹی کی حکومت اکھاڑ پھینکی جائے ، جس نے انہیں سیاسی میدان سے تقریباًبے دخل کر دیا ہے ۔ یہ وہی صاحب ہیں ، امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن سے جنہوں نے کہا تھا کہ وزیرِ اعظم بننے میں ان کی مدد کی جائے ۔ ڈیڑھ عشرے قبل دلّی کے دورے پر تشریف لے گئے تو تجویز کیا کہ ایک گول میز کانفرنس بلا کر پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش کی کنفیڈریشن بنا دی جائے ۔ قاضی حسین احمد مرحوم نے تاویل کرنے کی کوشش کی تو سیکرٹری جنرل منور حسن نے احتجاج کی آواز بلند کی ۔ پارٹی کو ان کا دفاع کرنے سے روک دیا ؛ہرچند کہ پختون خواہ کی حکومت میں وہ ان کے حلیف تھے ۔ اسی ہنگام کابینہ کے ایک اجلاس میں جنرل پرویز مشرف نے بتایا کہ جنابِ مولانا کو بھارتی حکومت سے نقد داد ملی ہے ۔ مذہبی امور کے وزیر محمود غازی مرحوم اس دنیا سے چلے گئے لیکن مشرف کابینہ کے کچھ ارکان اب بھی دادِ سیاست دے رہے ہیں ۔ حکومت سے نجات پانے کی بے تابانہ خواہش میں حضرت مولانا اب ختمِ نبوت کا رڈ برتنے پہ اتر آئے ۔ مخالفین سوال کرتے ہیں کہ قادیانیوں کے باب میں نرم گوشہ تو ان کے حلیف نواز شریف نے دکھایا تھا حلف کی عبارت میں ترمیم انہوں نے کی تھی ۔ قادیانیوں کو بھائی انہوں نے کہا تھا ۔ اپنے بازوئے شمشیر زن رانا ثناء اللہ کو ان کی دلجوئی کا حکم آنجناب نے دیا تھا ۔ تب ان کی غیرتِ ایمانی کیوں نہ جاگی (ہارون رشید ، دنیا نیوز)

Related :

Jihad, Extremism


    -----------------------
     مذہبی سیاست کی حقیقت

    تاریخی طور پر علماء سیاست اور طاقت و حکمرانی میں عمل دخل سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھتے تھے اور ان کی توجہ دین کی تعلیم و تبلیغ پر رہی- مگر آج کل پاکستان میں علماء سیاست میں داخل ہو کر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنےلیے دین اسلام کو ڈھال کے طور پر استمال کرتے ہیں.علماء کی ساکھ   (credibility) خراب ہوتی ہے، لوگ ان کی درست مذہبی باتوں پر بھی دھیان دینا چھوڑ دیتے ہیں، یہ اسلام کے ساتھ زیادتی ہے.

    آپﷺ نے فرمایا میرے بعد جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے والے بادشاہ ہوں گے جو ان کے جھوٹ کو تسلیم کرے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری نہ کرے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں ۔ ( تفسیر ابن کثیر 18:45)

    وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دینی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)

    ” تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو او ر میرے غضب سے بچوباطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو”  (قرآن٤٢- ٢:٤١)

    “تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے؟  (قرآن٢:٤٤)

    ٱتَّخَذُوٓا۟ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَٰنَهُمْ أَرْبَابًۭا

    ” انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو الله کے سوا رب بنا لیا ہے..” (سورۃ التوبہ،آیت 31)

    اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾

    کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے کیا آپ اس کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں؟ [سورة الفرقان (25) آیات (43)]

    بدترین علماء
    وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقَی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْمُہۤ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہ، مَسَاجِدُ ھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اٰدِیْمِ السْمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)

    ” اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے (ظالموں کی حمایت و مدد کی وجہ سے ) دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔” (بیہقی)

    یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطۂ حیات اور نظام علم ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں ” رسم قرآن” سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرأت سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔

    مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔

    اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دنی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)

    افتراق کی سبب دو چیزیں ہیں، عہدہ کی محبت یا مال کی محبت۔ سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا:

    ”ماذئبان جائعان أرسلا في غنم بأفسد لھا من حرص المرء علی المال و الشرف لدینہ” دو بھوکے بھیڑئیے ، بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور عہدہ کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دہ ہے۔   (الترمذی:۲۳۷۶ وھو حسن)

    منافق کی نشانیاں
    عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِیہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِنْہُنَّ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِنْ النِّفَاقِ حَتَّى یَدَعَہَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا عَاہَدَ غَدَرَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ. [صحیح البخاری:340 الإیمان، صحیح مسلم:58 الإیمان]

    ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چار خصلتیں ہیں، جس شخص میں وہ پائی جائیں گی وہ خالص منافق ہو گا، اور جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی اس میں نفاق کی ایک خصلت پائی جائے گی حتی کہ اسے ترک کر دے، [ وہ خصلتیں یہ ہیں ]

    (١)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے 

    (٢) جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے 

    (٣) جب کوئی عہد کرے تو بے وفائی کرے اور

    (٤) جب جھگڑا کرے تو ناحق چلے۔

    [صحیح البخاری:340 الإیمان، صحیح مسلم:58 الإیمان]

    جھوٹے ظالم ،خائین ، احمق حکمرانوں کے مددگاروں کو رسول اللہ ﷺ کی تنبیہ!

    مسند احمد میں ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ (رض) سے آپ نے فرمایا :

    اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے حضرت کعب نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ کیا ہے؟

    فرمایا وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو 

    میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے 

    نہ میرے طریقوں پر چلیں گے

    پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں

    یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آسکتے

    اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے  ۔۔۔۔۔ (ماخوذ از تفسیر ابن کثیر 1:76)

    اور اللہ کا فرمان ہے:

    مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا (قرآن 4:85)

    مفہوم : جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے


    تاریخی طور پر علماء سیاست اور طاقت و حکمرانی میں عمل دخل سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھتے تھے اور ان کی توجہ دین کی تعلیم و تبلیغ پر رہی- مگر آج کل پاکستان میں علماء سیاست میں داخل ہو کر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنےلیے دین اسلام کو ڈھال کے طور پر استمال کرتے ہیں.علماء کی ساکھ   (credibility) خراب ہوتی ہے، لوگ ان کی درست مذہبی باتوں پر بھی دھیان دینا چھوڑ دیتے ہیں، یہ اسلام کے ساتھ زیادتی ہے.

    Sunday, January 3, 2016

    Reading Maududi in dystopia

             
    Abul Ala Maududi (d.1979), is considered to be one of the most influential Islamic scholars of the 20th century. He is praised for being a highly pro-lific and insightful intellectual and author who creatively contextualised the political role of Islam in the last century, and consequently gave birth to what became known as `Political Islam.
    Image result for maududi quotes

    Simultaneously, his large body of work was also severely critiqued as being contradictory and for being an inspiration to those bent on committing violence in the name of faith.Interestingly, Maududi`s theories and commentaries received negative criticism not only from those on the left and liberal sides of the divide, but from some of his immediate religious contemporaries as well.
    [Article By Nadeem F Paacha, Dawn.com]

    Nevertheless, his thesis on the state, politics and Islam, managed to influence a number of movements within and outside of Pakistan.

    For example, the original ideologues of the Egyptian Muslim Brotherhood organisation (that eventually spread across the Arab world), were directly influenced by Maududi`s writings.

    Maududi`s writings also influenced the rise of `Islamic` regimes in Sudan in the 1980s, and more importantly, the same writings were recycled by the Ziaul Haq dictatorship (1977-88), to indoctrinate the initial batches of Afghan insurgents (the `mujahideen`), fighting against Soviet troops stationed in Afghanistan.

    In the last century, the modern Islamic Utopia that Maududi was conceptualising had become the main motivation behind several political and ideological experiments in various Muslim countries.

    Image result for maududi quotes

    However, 21st century polities (in the Muslim world) is not according to the kind enthusiastic reception that Maududi`s ideas received in the second half of the 20th century.By the early 2000s, almost all experiments based on Maududi`s ideas seemed to have collapsed under their own weight. The imagined Utopia turned into a living dystopia, torn apart by mass level violence (perpetrated in the name of faith) and the gradual retardation of social and economic evolution in a number of Muslim countries,including Pakistan.

    This is ironic. Because when compared to the ultimate mindset that his ideas seemed to have ended up planting within various mainstream regimes and clandestine groups, Maududi himself sounds rather broad-minded.

    Born in 1903 in Aurangabad, India, Maududi`s intellectual evolution is a fascinating story of a man who, after facing bouts of existential crises, chose to interpret Islam as a political theory to address his own spiritual and ideological impasses.

    He did not come raging out of a madressah, swinging a fist at the vulgarities of the modern world. On the contrary, he was born into a family that had relations with the enlightened 19th century Muslim reformist and scholar, Sir Syed Ahmed Khan.

    Maududi received his early education at home through private tutors who taught him the Quran, Hadith, Arabic and Persian. At age 12, Maududi was sent to the Oriental High School whose curriculum had been arranged by famous Islamic scholar, Shibli Nomani.

    Maududi was studying at a collegelevel Islamic institution, the Darul Aloom, when he had to rush to Bhopal to look after his ailing father. In Bhopal, he befriended the rebellious Urdu poet and writer, Niaz Fatehpuri.

    Fatehpuri`s writings and poetry werehighly critical of the orthodox Muslim clergy. This had left him fighting polemical battles with the ulema.

    Inspired by Fatchpuri, Maududi too decided to become a writer. In 1919, the then 17-year-old Maududi moved to Delhi, where for the f`irst time he began to study the works of Sir Syed Ahmed Khan in l`ull. This, in turn, led Maududi to study the major works of philosophy, sociology, history and politics authored by leading European thinkers and writers.

    In 1929, after resurfacing from his vigorous study of`Western philosophical and political thought, Maududi published his f`irst major book, Al-Jihad FilIslam. The book is largely a lament on the state of`Muslim society in India and in it he attacked the British, modernist Muslims and the orthodox clergy for combining to keep Indian Muslims subdued and weak.

    Writing in flowing, rhetorical Urdu, Maududi criticised the Muslim clergy for keeping Muslims away from the study of Western philosophy and science.

    Maududi suggested that it were these that were at the heart of Western political and economic supremacy and needed to be studied so they could then be effectively dismantled and replaced by an `Islamic society` In 1941 Maududi formed the Jamaat-iIslami (JI). The outfit was shaped on the Leninist model of forming a `party of a select group of committed and knowl-edgeable vanguards` who would attempt to grab state power through revolution.

    In an essay that was later republished (in 1980) in a compilation of his writings, Come let us Change This World, Maududi castigated the ulema for `being stuck in the past` and thus halting the emergence of new research and thinking in the field of Islamic scholarship.

    He was equally critical of modernist Muslims (including Mohammad Ali Jinnah). In the same essay he lambasted them for understanding Islam through concepts constructed by the West and for believing that religion was a private matter.

    Though an opponent of Jinnah and the creation of Pakistan (because he theorised that an `Islamic State` could not be enacted by `Westernised Muslims`), Maududi did migrate to the new Muslim-majority country once it came into being in 1947.

    In a string of books, mainly Khilafato-Malukiyat, Deen-i-Ilag, Islamic Law and Constitution and Economic System of fslam, Maududi laid out his precepts of the modern-day `Islamic State` He was adamant about the need to gain state power to impose his principles of an Islamic State, but cautioned that the society first needed to be Islamised from below (through evangelical action), for such a state to begin imposing Islamic Laws.

    In these books he was the first Islamic scholar to use the term `Islamic ideolo-gy` (in a political context). The term was later rephrased as `Political Islam` by the western scholarship on the subject.

    In 1977 when Maududi agreed to support the Ziaul Haq dictatorship, he was criticised for attempting to grab state power through a Machiavellian military dictator.

    Maududi`s decision sparked an intense critique of his ideas by the modernist Islamic scholar, Dr Fazal Rehman Malik. In his book, Islam and Modernity, Dr Malik described Maududi as a populist journalist, rather than a scholar. Malik suggested that Maududi`s writings were `shallow` and crafted only to bag the attention of muddled young men craving for an imagined faith-driven Utopia.

    Maududi`s body of work is remarkable in its proficiency and creativity. And indeed, it is also contradictory. He used Western political concepts of the state to explain the modern idea of the Islamic State; and yet he accused modernist Muslims of understanding Islam throughWestern constructs. He saw no space for monarchies in Islam, yet was entirely uncritical of conservative Arab monarchies. He would often prefix the word Islam in front of various Western economic and political ideas (IslamicEconomics, Islamic-Banking and Islamic-Constitution) and yet he reacted aggressively towards the idea of `Islamic-Socialism` that came from his leftist opponents in the 1960s.

    Writing in the Princeton Encyclopedia of Islamic Political Thought, Political Anthropologist, Professor Irfan Ahmed, suggested that there was not one Maududi, but many.

    He wrote that elements of Leninism, Hegel`s dualism, Jalaluddin Afghani`s Pan-Islamism and various other modern political theories can be found in Maududi`s thesis.

    Perhaps this is why Maududi`s ideas managed to appeal to various sections of the urban Muslim middle-classes; modern conservative Muslim movements; and all the way to the more anarchic and reactionary forces.

    But the question is, had Maududi been alive today, which one of the many Maududis would he have been most comfortable with in a Muslim world now crammed with raging dystopias? 
    [Article By Nadeem F Paacha, Dawn.com]

    Interpretation of Islam and the "Islamic State":
    At least one critic (Charles Adams) argues that Maududi was "feared" and "disliked" by many Pakistanis because of the "rigidity" and "authoritarianism" his of view of Islam as a "vast monolithic ... integrated system" that Muslims must accept "in its entirety or not at all".
    A general complaint of one critic (Youssef M. Choueiri) is that Maududi's theo-democracy is an
    ideological state in which legislators do not legislate, citizens only vote to reaffirm the permanent applicability of God's laws, women rarely venture outside their homes lest social discipline be disrupted, and non-Muslims are tolerated as foreign elements required to express their loyalty by means of paying a financial levy.
    Charles Adams criticized Maududi as overly concerned with theoretical principles, having a "utopian" belief in the power of virtue to tame the corruption and temptations of power,  and to solve whatever problems beset a society.Adams complained that Maududi never "enters into a detailed discussion of the precise limits of freedom in the Islamic state or explain how a state may both control everything and yet be limited in its power in certain respects."  While God's sovereignty is in the hands of the Muslim people in his theory, his plan for an Islamic state puts the power in the hands of the ruler. Maududi never provided an explanation as to how this would prevent the development of tyranny he sees in secular government. When his ideas were criticized for failure to solve the real day-to-day problems of building a functional government, he would reply by defending "the truth of Islam", implying his (Muslim) critics were criticizing Islam.
    Adams also finds the "closeness and lack of friction" between ruler and legislature that Maududi envisioned in his state unrealistic. Ruler and legislature would be in agreement, and there would be no opposition to the ruler so long as he "did what was right", while "the entire parliament" would become the opposition party if the ruler deviated from the straight path. Maududi himself admitted the visionary and ideal nature of much of his Islamic state. More than once he spoke of characteristics that were "realizable only in the context of an ideal Islamic society which does not now exist."
    Adams criticized the power Maududi puts in the virtue and vice, rather than political interests, expertise or other attributes. Whenever injustice and suffering exist in a society it is because the leadership prefers this state of affairs or doesn't care. They will be ended by a good, pious, moral Muslim man implementing sharia law, whatever the physical, social economic or other difficulties of a society.
    Scholar Vali Nasr questions Maududi's idea that Muslims have not been following Islam for almost the entirety of Muslim history, but that "the history of Islam would resume, after a fourteen-century interlude", if Muslim follow Maududi's teachings and establish his Islamic state. Nasr also questioned how popular interests or the popular will would be translated into government policy without competition among political representatives for popular support or electioneering/campaigning for votes to connect leaders with concerns of the people.
    On a more conceptual level, journalist and author Abdelwahab Meddeb questions the basis of Maududi's reasoning that the sovereignty of the truly Islamic state must be divine and not popular, saying "Maududi constructed a coherent political system, which follows wholly from a manipulation." The manipulation is of the Arabic word hukm, usually defined as to "exercise power as governing, to pronounce a sentence, to judge between two parties, to be knowledgeable (in medicine, in philosophy), to be wise, prudent, of a considered judgment." The Quran contains the phrase `Hukm is God's alone,` thus, according to Maududi, God – in the form of sharia law – must govern. But Meddeb argues that a full reading of the ayah where the phrase appears reveals that it refers to God's superiority over pagan idols, not His role in government.
    Those whom you follow outside of Him are nothing but names that you and your fathers have given them. God has granted them no authority. Hukm is God's alone. He has commanded that you follow none but Him. Such is the right religion, but most people do not know. [Quran 12:40]
    Quranic "commentators never forget to remind us that this verse is devoted to the powerlessness of the companion deities (pardras) that idolaters raise up next to God…" (Abdel Meddab's view is contradicted by Wahhabi Islamic scholars such as Saleh Al-Fawzan, who writes that: "He who accepts a law other than Allah's ascribes a partner to Allah. Whatever act of worship that is not legislated (hukam) by Allah and His Messenger is Bid‘ah, and every Bid'ah is a means of deviation." [From Wikipedia:]
    Related :