Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Sunday, December 1, 2019

Politics of Religion & Extremism must be Avoided مولانا فضل الرحمٰن


Molana Fazlur Rahman is power hungry crook,  opportunist and a greedy religious politician. [all these traits are normal among politicians but he has more of them].  He has been dreaming to be Prime Minister of Pakistan since long. He is ready to to go to any extent to fulfill this egocentric dream.
تاریخی طور پر علماء سیاست اور طاقت و حکمرانی میں عمل دخل سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھتے تھے اور ان کی توجہ دین کی تعلیم و تبلیغ پر رہی- مگر آج کل پاکستان میں علماء سیاست میں داخل ہو کر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنےلیے دین اسلام کو ڈھال کے طور پر استمال کرتے ہیں.علماء کی ساکھ   (credibility) خراب ہوتی ہے، لوگ ان کی درست مذہبی باتوں پر بھی دھیان دینا چھوڑ دیتے ہیں، یہ اسلام کے ساتھ زیادتی ہے.... مزید آخر میں ......

The story of of his request to the US Ambassador to help him to become the Prime Minister is well known. He told earlier to “the powers to be”, to make him PM,  once reminded that due to his extremists and religious tilt he may not be acceptable to the international establishment particularly USA, he responded that, should he be given an opportunity, he will come up to the expectations of everyone including USA, would do whatever is expected. Once cautioned that his followers who had been listening to his anti American speeches would tear him apart.  Molana replied that it should be left to him, he knows how to handle those fools!
After 2018 elections Molana has been cut to size in politics, this is first time that he is out of power. It is difficult for him to reconcile with this reality. He is instrumental in in using main opposition parties to give tough time to the government and establishment. The two main political parties are finding it difficult to defend their leadership from corruption cases, hence its a mutually beneficial political arrangement. Molana is too pleased to be the coordinator opportunist. Use of religious card by Molana was not well received by main political parties especially PPP.
Molana is so desperate for power that, he is is mobilizing and using young Madrissa students for political gains. 
He is using religion as a tool to defame the PM and government. He is is falsely accusing the PM and the government to be Qadiani and pro Qadiani. This is a very serious allegation it should not be taken lightly as we know that religious motivation leads to extremism and terrorism. This is Takfeer, [False accusation of Kufr to a Muslims, falls back upon the accuser]. People are very sensitive to Qadiani issue, slander is religiously incorrect and a grave sin.
Similarly the concept of Takfeer was used br TTP and other terror groups. Pakistan has already lost over 70000 lives and suffered a loss of over 125 billion dollars.
The enemy across the border and Anti Pakistan forces look forward for religious extremists to use them as tool to create unrest in Pakistan. The case of of Iraq, Syria, Yemen is just fresh. ISI/ Daesh was used as a tool very effectively to destabilize those countries. 
Pakistan army is the biggest hurdle to the nefarious designs of Anti Pakistan forces. We cannot afford another religiously motivated unrest in the country.  
Previously we experienced long March and Dharna by Molana Tahir Ul Qadri which was tactfully handled by Zardari government. But there is lot of difference here, Maulana Fazlur Rahman is not Maulana Tahir Ul Qadri.  
Molana Fazlur Rahman is very shrewd politician who has been in power in KPK, Balochistan and part of Federal Government.  He has representation at National and provincial assemblies.  He is a politician with active and strong base in political and religious fields. He should not be taken lightly. In desperation he can go to any extent. His recent Anti Pakistan and anti Army speeches indicate his state of mind.
There is a need to watch him very carefully and to handle him politically with tact,  avoiding any bloodshed which he desires.  We don't need another Lal Masjid or Takfiri Taliban Part II.

http://takfiritaliban.blogspot.com


نمود اور بقا کے لیے قوموں کو ایک کم از کم اتفاقِ رائے درکار ہوتاہے ۔ قومی دفاع کے معاملات پر آباد ی کے تمام طبقات یک زبان ہوتے ہیں ۔ افغانستان سے تابوت امریکہ پہنچتے ہیں تو کوئی اخبار اس کی تصویر چھاپتا ہے اور نہ کوئی مبصر ٹی وی پہ واویلا کرتا ہے-
قومی سلامتی سے متعلق کوئی بھی تجزیہ شائع کرنے سے پہلے نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ اجازت طلب کرتے ہیں-
بھارت میں پریس بظاہر آزاد ہے لیکن خارجہ پالیسی پہ خامہ فرسائی کرنے والے احتیاط کی آخری حدود کو ملحوظ رکھتے ہیں ۔ مستقل طور پر باہم الجھتی رہنے والی کوئی قوم اس دشمن کا سامنا کیسے کرسکتی ہے ، جو اسے صفحہ ء ہستی سے مٹا دینے کے درپے ہے ۔

حضرت مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد کا گھیرائو کرنے کی تیاریوں میں ہیں ۔ ۔حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ العالی کا ایجنڈا صرف یہ ہے کہ کسی بھی قیمت پر اس پارٹی کی حکومت اکھاڑ پھینکی جائے ، جس نے انہیں سیاسی میدان سے تقریباًبے دخل کر دیا ہے ۔ یہ وہی صاحب ہیں ، امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن سے جنہوں نے کہا تھا کہ وزیرِ اعظم بننے میں ان کی مدد کی جائے ۔ ڈیڑھ عشرے قبل دلّی کے دورے پر تشریف لے گئے تو تجویز کیا کہ ایک گول میز کانفرنس بلا کر پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش کی کنفیڈریشن بنا دی جائے ۔ قاضی حسین احمد مرحوم نے تاویل کرنے کی کوشش کی تو سیکرٹری جنرل منور حسن نے احتجاج کی آواز بلند کی ۔ پارٹی کو ان کا دفاع کرنے سے روک دیا ؛ہرچند کہ پختون خواہ کی حکومت میں وہ ان کے حلیف تھے ۔ اسی ہنگام کابینہ کے ایک اجلاس میں جنرل پرویز مشرف نے بتایا کہ جنابِ مولانا کو بھارتی حکومت سے نقد داد ملی ہے ۔ مذہبی امور کے وزیر محمود غازی مرحوم اس دنیا سے چلے گئے لیکن مشرف کابینہ کے کچھ ارکان اب بھی دادِ سیاست دے رہے ہیں ۔ حکومت سے نجات پانے کی بے تابانہ خواہش میں حضرت مولانا اب ختمِ نبوت کا رڈ برتنے پہ اتر آئے ۔ مخالفین سوال کرتے ہیں کہ قادیانیوں کے باب میں نرم گوشہ تو ان کے حلیف نواز شریف نے دکھایا تھا حلف کی عبارت میں ترمیم انہوں نے کی تھی ۔ قادیانیوں کو بھائی انہوں نے کہا تھا ۔ اپنے بازوئے شمشیر زن رانا ثناء اللہ کو ان کی دلجوئی کا حکم آنجناب نے دیا تھا ۔ تب ان کی غیرتِ ایمانی کیوں نہ جاگی (ہارون رشید ، دنیا نیوز)

Related :

Jihad, Extremism


    -----------------------
     مذہبی سیاست کی حقیقت

    تاریخی طور پر علماء سیاست اور طاقت و حکمرانی میں عمل دخل سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھتے تھے اور ان کی توجہ دین کی تعلیم و تبلیغ پر رہی- مگر آج کل پاکستان میں علماء سیاست میں داخل ہو کر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنےلیے دین اسلام کو ڈھال کے طور پر استمال کرتے ہیں.علماء کی ساکھ   (credibility) خراب ہوتی ہے، لوگ ان کی درست مذہبی باتوں پر بھی دھیان دینا چھوڑ دیتے ہیں، یہ اسلام کے ساتھ زیادتی ہے.

    آپﷺ نے فرمایا میرے بعد جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے والے بادشاہ ہوں گے جو ان کے جھوٹ کو تسلیم کرے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری نہ کرے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں ۔ ( تفسیر ابن کثیر 18:45)

    وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دینی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)

    ” تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو او ر میرے غضب سے بچوباطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو”  (قرآن٤٢- ٢:٤١)

    “تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے؟  (قرآن٢:٤٤)

    ٱتَّخَذُوٓا۟ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَٰنَهُمْ أَرْبَابًۭا

    ” انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو الله کے سوا رب بنا لیا ہے..” (سورۃ التوبہ،آیت 31)

    اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾

    کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے کیا آپ اس کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں؟ [سورة الفرقان (25) آیات (43)]

    بدترین علماء
    وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقَی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْمُہۤ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہ، مَسَاجِدُ ھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اٰدِیْمِ السْمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)

    ” اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے (ظالموں کی حمایت و مدد کی وجہ سے ) دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔” (بیہقی)

    یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطۂ حیات اور نظام علم ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں ” رسم قرآن” سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرأت سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔

    مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔

    اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دنی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)

    افتراق کی سبب دو چیزیں ہیں، عہدہ کی محبت یا مال کی محبت۔ سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا:

    ”ماذئبان جائعان أرسلا في غنم بأفسد لھا من حرص المرء علی المال و الشرف لدینہ” دو بھوکے بھیڑئیے ، بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور عہدہ کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دہ ہے۔   (الترمذی:۲۳۷۶ وھو حسن)

    منافق کی نشانیاں
    عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِیہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِنْہُنَّ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِنْ النِّفَاقِ حَتَّى یَدَعَہَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا عَاہَدَ غَدَرَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ. [صحیح البخاری:340 الإیمان، صحیح مسلم:58 الإیمان]

    ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چار خصلتیں ہیں، جس شخص میں وہ پائی جائیں گی وہ خالص منافق ہو گا، اور جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی اس میں نفاق کی ایک خصلت پائی جائے گی حتی کہ اسے ترک کر دے، [ وہ خصلتیں یہ ہیں ]

    (١)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے 

    (٢) جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے 

    (٣) جب کوئی عہد کرے تو بے وفائی کرے اور

    (٤) جب جھگڑا کرے تو ناحق چلے۔

    [صحیح البخاری:340 الإیمان، صحیح مسلم:58 الإیمان]

    جھوٹے ظالم ،خائین ، احمق حکمرانوں کے مددگاروں کو رسول اللہ ﷺ کی تنبیہ!

    مسند احمد میں ہے کہ حضرت کعب بن عجرہ (رض) سے آپ نے فرمایا :

    اللہ تجھے بیوقوفوں کی سرداری سے بچائے حضرت کعب نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ کیا ہے؟

    فرمایا وہ میرے بعد کے سردار ہوں گے جو 

    میری سنتوں پر نہ عمل کریں گے 

    نہ میرے طریقوں پر چلیں گے

    پس جو لوگ ان کی جھوٹ کی تصدیق کریں اور ان کے ظلم کی امداد کریں وہ نہ میرے ہیں اور نہ میں ان کا ہوں

    یاد رکھو وہ میرے حوض کوثر پر بھی نہیں آسکتے

    اور جو ان کے جھوٹ کو سچا نہ کرے اور ان کے ظلموں میں ان کا مددگار نہ بنے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں یہ لوگ میرے حوض کوثر پر مجھے ملیں گے  ۔۔۔۔۔ (ماخوذ از تفسیر ابن کثیر 1:76)

    اور اللہ کا فرمان ہے:

    مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا (قرآن 4:85)

    مفہوم : جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے


    تاریخی طور پر علماء سیاست اور طاقت و حکمرانی میں عمل دخل سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھتے تھے اور ان کی توجہ دین کی تعلیم و تبلیغ پر رہی- مگر آج کل پاکستان میں علماء سیاست میں داخل ہو کر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنےلیے دین اسلام کو ڈھال کے طور پر استمال کرتے ہیں.علماء کی ساکھ   (credibility) خراب ہوتی ہے، لوگ ان کی درست مذہبی باتوں پر بھی دھیان دینا چھوڑ دیتے ہیں، یہ اسلام کے ساتھ زیادتی ہے.

    Sunday, November 24, 2019

    Norway Terror - Quran burning ناروے میں توہین قرآن - دہشت گردی



    ناروے میں قرآن کو جلنے سے بچانے والے عمر نے اب دوسرا حملہ کیا ہے، پر زور، پر تاثیر! مجھے نہیں معلوم نتائج کے اعتبار سے عمر کا کون سا حملہ زیادہ موثر ثابت ہوگا۔ عمر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک طویل تحریر پیش کی ہے۔
    SIAN called this demonstration “SIAN Stand in Kristiansand – Burning the Qur’an”, and had made clear in advance that their plan was exactly that – to burn the Qur’an. Our local politicians responded by demanding a reassessment of the demonstration, and they withdrew the permit. The reactions were everything from extreme happiness, to people accusing the politicians and the police to ignore the freeedom of speech. It turned out to be a huge discussion, and it all ended up with SIAN getting their permission to demonstrate, but any use of open fire was prohibited for security reasons. The police also made a very clear statement that if they still tried to burn the Qur’an, they would stop the demonstration immediately. This made us confident that the police would intervene if they still tried to set fire to the Qur’an. It made us feel calm and safe.
    When SIAN was setting up for their demonstration, they put the Qur’an on a disposable grill. This was removed by police before the demonstration started. Several flags and tabs that counter-protesters had included were removed as they could potentially pose a danger if riots were to occour. An understandable assessment. We feel confident that the police will take the demonstration seriously and that the police are in control. Even after SIAN-leader Arne Tumyr tells the media the same morning that despite the ban on open fire, they have a plan B, we feel calm.
    The police had assured us that they would intervene. Keep reading >>>>>

    یہ اس کے اس واقعہ کے حوالے سے جذبات ہیں، یہ وہ مقدمہ ہے جو عمر نے مغربی دنیا کے سامنے بطور مسلمان رکھا ہے۔ اس نے بالاصرار کہا کہ کوئی دوسرا موقع آیا تو وہ پھر یہی دہرائے گا، اسے اس پر کوئی ندامت نہیں، بلکہ وہ یہی کرے گا اگر قرآن کی جگہ کوئی دوسری مقدس کتاب نذرِ آتش کرے۔ اس نے کہا شام میں، لبنان میں اور یہاں ناروے میں ،وہ عیسائیوں ، بت پرستوں، شیطان کے پیروکاروں اور ملحدوں کے ساتھ رہ چکا ہے، وہ دوسروں کے خیالات کا احترام کرنا جانتا ہے، وہ مذہب پر تنقید کا حامی ہے، تاہم تنقید اور تضحیک میں فرق قائم کرنا ہوگا۔ اس نے کہا، سات سیکنڈ تک وہ پولیس کا انتظار کرتے رہے، ساتویں سیکنڈ میں اس کا ساتھی اور نویں سیکنڈ میں خود عمر نے لائن کراس کرکے جمپ کیا، اس نے کہا پولیس کے کہنے پر وہ پر اعتماد تھے کہ نوبت یہاں تک نہ آئے گی، اس نے کہا، ہم نے برداشت کیا، وہ تمام نعرے جو اسلام ،پیغمبرِ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس تنظیم نے اس مظاہرے کے موقعے پر لگائے۔ وہ دہرائے نہیں جا سکتے۔ بہرحال ضبط کیا گیا، اس وقت بھی جب مقدس کتاب کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ نو سیکنڈ! اس کا کہنا ہے ہم تب بھی پر اعتماد تھے کہ پولیس پیش قدمی کرے گی۔ وہ مگر آگے نہ بڑھی ،جب تک ہم نہ بڑھے، عمر لکھتا ہے، ہم جارح اور متشدد ہر گز نہیں، البتہ ہم بتانا چاہتے تھے کہ یہ کتاب ہمارے لیے کیا معنی رکھتی ہے، ہر چیز سے بڑھ کر ،ہر چیز سے بیش قیمت۔ اس نے کہا کورٹ میں ہم مقدمہ لڑیں گے، جرمانہ نہیں دیں گے، کہ یہ بنتا نہیں، لیکن اگر سزا بھی ملی تو بھگتیں گے، یہی جمہوری طرزِ عمل ہے۔ عمر کو احساس ہے کہ اس ایک واقعہ سے ناروے میں پناہ گزینوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عمر نے ناروے کے عوام کا شکریہ ادا کیا،جو ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ یہ پوری تحریر اہم ہے، پڑھنے اور سیکھنے کےلائق، دراصل عمر نے جس طرح اپنے اس فعل کا مقدمہ لڑا یہ کسی بھی وکیل کی سی مہارت کا مظہر ہے۔ مجھے نہیں معلوم عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے مگر دنیا اس تحریر کے اثرات محسوس کیے بنا نہ رہ سکے گی۔
    اچھی بات یہ ہے کہ یہ تحریر انگلش میں ہے،دنیا بھر کے سامنے یہ شاندار مقدمہ پیش کیا گیا ہے، اس میں ہم پاکستانیوں کے لیے بھی سیکھنے کا بہت کچھ ہے۔اس تحریر کا ترجمہ ہو جانا چاہیے، اس وقت اس سے بڑھ کر کوئی کام ضروری نہیں ہو سکتا۔ اس وقت اس معاملے میں پاکستانیوں کی اس تحریر سے بڑھ کر کسی چیز سے رہنمائی نہیں کی جا سکتی۔
    (نوٹ: مکمل تحریر کا لنک کمنٹ میں دے دیا گیا ہے۔) منقول
    https://dialoguetimes.com/why-i-did-this-omer-dabaa/ 

    This is straight terrorism, the Holocaust Denial is a crime to pretect sentiments of 20 million Jews but Quran blasphemy is  allowed by Norway police disregarding sentiments of 1.5 billion Muslims. This is racism, bigotry, terrorism ....  
    ----------------------------

    اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۹﴾
    ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ۔ (سورة الحجر 15 آیت: 9)

    قرآن کی حفاظت کا ذمہ الله نے لیا ہے … کفار جو کچھ بھی کر لیں سوائے ذلت و رسوائی کے ان کو کچھ نہ ملے گا - اگر آج بھی تمام دنیا کی تمام کتابیں ختم ہو جائیں تو لاکھوں حفاظ قرآن جو کہ1.5ارب مسلمانوں کے ہر شہر گاوں میں ہر عمر کے لوگوں بچوں نوجوانوں بوڑھوں پر مشتمل ہیں بیٹھ کر ہر گاووں شہر میں قرآن لکھ لیں گے- دنیا میں قرآن کی لاکھوں کاپیاں وجود میں آ جائیں گی … ایسا دعوای کوئی کتاب نہیں کر سکتی -- یہ صرف ایک معمولی ثبوت ہے کلام الله کا ---
    یہ جو کفارما یوس ہو کر گھٹیا حرکتیں کر تے ہیں یہ ہماری آزمائش ہے کہ ہم قرآن سے اپنی محبت کا اظھار کیسے کرتے ہیں … اصل محبت، قرآن کی تعلیمات پر عمل ہے … شروع کریں >>>

    Related :

    Jihad, Extremism

      Thursday, October 31, 2019

      مسلح اسلامی تحریکیں اور ریاستی نظام...ڈاکٹرحسن عسکری in Armed Rebellious Groups in Muslim world



      11ستمبر 2001ء کو رونما ہونے والی دہشت گردی کو گیارہ سال گزر چکے ہیں۔ اس عرصہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں دہشت گردی کا نیا واقعہ نہیں ہوا لیکن باقی دنیا کے متعلق یہ بات نہیں کہی جا سکتی ۔ دنیا میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ امریکہ اور کچھ دوسرے ممالک نے انتہا پسندی اور دہشت گردی میں ملوث تنظیموں اور افراد کیخلاف کارروائیاں کیں اور کچھ کو غیر موثر کیا لیکن انتہا پسندی اوردہشت گردی کے رجحانات کا خاتمہ نہ ہو سکا۔
      انتہا پسندانہ مذہبی اور معاشرتی سوچ بدلنے اورتشدد اور دہشت گردی کو استعمال کرنے والی تحریکیں اور تنظیمیں غیر ریاستی ہیں جو کہ مسلمان اکثریت والے ممالک یا ایسے ممالک میں سرگرم ہیں جہاں مسلمانوں کی بڑی آبادی موجود ہے ۔ یہ تحریکیں ایک مذہبی اور سیاسی ایجنڈے کے حوالے سے کام کرتی ہیں اور اسلام کی ایک مخصوص سوچ اور توضیح کے علم بردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ اپنے آپ کو صحیح اسلام کا علم بردار تصور کرتے ہوئے جبر اور قوت سے اپنی ترجیحی اسلامی سوچ کونافذ کرنے کو درست سمجھتی ہیں۔ ان تحریکوں کے قائدین غیر مسلم اور مسلم حکومتوں اور افراد کے خلاف مسلح جدوجہد کو درست سمجھتے ہیں جو ان کے خیال میں اسلام اور ان کی جدوجہد کے مخالف ہیں۔ان تحریکوں کے دو نشانے ہیں ۔اول وہ مغربی ممالک اور حکومتیں خصوصاً امریکہ جن کو وہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن سمجھتے ہیں ۔
      دوم : ان تحریکوں نے اسلامی ممالک کی ان حکومتوں اور شہریوں کو نشانہ بنایا ہے جنہیں وہ امریکہ کا حمایتی تصور کرتی ہیں ۔ ان تحریکوں کی متحرک قیادت کی یہ کوشش بھی ہے کہ وہ اپنی مرضی کا اسلام نافذ کریں اور جو لوگ ان کی اسلامی سوچ کو قبول نہیں کرتے ان کے خلاف تشدد کا استعمال جائز سمجھتا جاتا ہے ۔
      یہ تحریکیں نہ صرف امریکہ اور مغرب کی مخالف ہیں بلکہ ان کی کوشش ہے کہ اسلامی ممالک میں اپنی عملداری کو بڑھایا جائے اور علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کرکے اس حکومت وقت کو چیلنج کیا جائے جو ان کی بالادستی کو قبول نہیں کرتی ۔اگر امریکہ اسلامی ممالک خصوصاً افغانستان اور پاکستان سے نکل جائے تو ان تحریکوں کا صرف ایک مقصد حاصل ہوتا ہے ۔ دوسرے مقصد کا حصول باقی رہ جاتا ہے وہ یہ کہ علاقے اور حکومت پر قبضہ کرکے اپنی مرضی کا اسلام نافذ کیا جائے ۔ لہٰذا امریکہ کے افغانستان سے چلے جانے اور پاکستان میں امریکی کردار کے محدود ہونے کے بعد بھی مسلح اسلامی تحریکیں افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے لئے جدوجہد کو جاری رکھیں گی اسی طرح یمن، سومالیہ، سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں میں یہ تحریکیں حکومت وقت کو دباؤ میں رکھنے کے لئے سرگرم رہیں گی۔
      اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں انتہا پسندانہ اسلامی تحریکوں کا سلسلہ 2014ء کے بعد بھی جاری رہے گا اور متعلقہ اسلامی ممالک میں اندرونی امن اور استحکام کے مسائل موجود رہیں گے ۔
      ان تحریکوں کی مذہبی اور سیاسی سوچ اسلام کے سلفی اور وہابی مکتبہ فکر سے متاثر ہے ۔ بعض اسلامی ممالک جیسے پاکستان، ہندوستان اور افغانستان میں ان مکاتب فکر سے متاثر مقامی مکاتب فکر بھی سرگرم نظر آتے ہیں ۔
      جو تحریکیں مسلح جدوجہد میں مصروف ہیں وہ قوت کے استعمال کو درست سمجھتی ہیں لیکن ان مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے بہت سے علماء اور عام لوگ تشدد اور جبر کے استعمال کو درست نہیں سمجھتے آخر الذکر افراد ان تحریکوں کے طریقہ کار سے اختلاف کرنے کے باوجود ان کے مقاصد یعنی ایک مخصوص انداز کے سخت گیر اسلامی نظام سے ہمدردی رکھتے ہیں ۔
      امریکہ اور مختلف اسلامی ریاستوں کی کوششوں کے باوجود مسلح اسلامی تحریکوں پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ مستقبل قریب میں ان تحریکوں پر کنٹرول ممکن نہیں ہو گا۔
      اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ تحریکیں کسی ایک جگہ سے کنٹرول نہیں ہوتیں اور نہ ہی ایک قیادت کے ماتحت کام کرتی ہیں ۔ ان تحریکوں کے آپس میں روابط ہوتے ہیں اور وہ ایک دوسرے سے تعاون بھی کرتی ہیں لیکن یہ تمام تحریکیں ایک وحدانی اکائی نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے بعض مقامی تحریکوں میں جھگڑے بھی ہوتے ہیں ان تحریکوں کے طریقہ کار میں مقامی صورتحال کی وجہ سے فرق ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ تحریکیں زیر زمین ہوتی ہیں خصوصاً وہ جو مسلح جدوجہد میں مصروف ہوتی ہیں یا یہ تحریکیں اپنے لئے ”محفوظ خطے “قائم کرتی ہیں جن پر مقامی ریاستی حکام کا عمل دخل محدود ہوتا ہے یا بالکل نہیں ہوتا ۔ ان تحریکوں اور تنظیموں کی قیادت اپنے محفوظ علاقوں میں موثر انتظامیہ کے طور پر کام کرتی ہے جس میں متعلقہ تحریک یا تنظیم کے مسلح کارکن مقامی مذہبی رہنما اور کچھ مصلحت پسند افراد شامل ہوتے ہیں ۔
      جب تک یہ تحریکیں محفوظ علاقے نہ بنائیں مسلح جدوجہد کے چلنے کا امکان نہیں ہوتا اس قسم کے محفوظ علاقے کسی ملک کی سرزمین کے ان حصوں میں قائم کئے جاتے ہیں جہاں متعلقہ ریاستی اداروں کی عمل داری نہ ہو یا ریاستی ادارے ایک پالیسی کے تحت ان کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہیں ۔ان تحریکوں کے قائم رہنے کی کئی اور وجوہات ہیں ۔
      اول : ریاستی اداروں کی حکمرانی کی کمزوریوں کی وجہ سے بہت سے اسلامی ممالک انتظامی، معاشرتی اور اقتصادی بحران کا شکار ہیں ۔ ان ممالک کی حکومتیں انسانی مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہیں جس کی وجہ سے ریاستی اداروں پر لوگوں کا اعتماد بہت کم ہے ۔ اس ناکامی کی وجہ سے ان حکومتوں کے لئے کافی مشکل ہے کہ وہ اسلامی تحریکوں کی اپیل کو غیر موثر کردیں ۔
      دوم : ان ممالک میں تیس سال سے کم عمر کے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے ان کے لئے عملی زندگی کے آغاز کے مواقع بہت محدود ہیں لہٰذا ان نوجوانوں میں حکومتی اداروں اور سیاسی عمل سے عدم وابستگی کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے ۔ ان حالات میں انہیں اسلام کے علاوہ کوئی ایسا نظریاتی فریم ورک نہیں ملتا جس کی طرف وہ متوجہ ہوں ۔ کچھ نوجوان ان تحریکوں سے منسلک ہو جاتے ہیں لیکن زیادہ تر ان تحریکوں سے علیحدہ رہتے ہوئے ان کی حمایت کرتے ہیں ۔ اس طرح ان اسلامی تحریکوں کو معاشرے میں پذیرائی اور حمایت حاصل رہتی ہے ۔
      سوم : اسلامی ممالک میں بڑھتے ہوئے امریکہ مخالف جذبات نے بھی ان تحریکوں کی حمایت میں اضافہ کیا ہے ۔ امریکہ اور مغرب کی دہشت گردی کے خاتمہ کی پالیسی نے کئی ممالک خصوصاً افغانستان اور پاکستان میں عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں (خصوصاً نوجوانوں ) کی توجہ مختلف اسلامی تحریکوں کی طرف ہو گئی ہے ۔
      چہارم : اسلامی ممالک میں بہت سی وجوہات کی بنا پر مذہبی قدامت پسندی کو فروغ ملا ہے اور بہت سے لوگ ملکی معاملات اور خارجہ پالیسی کو خالصتاً مذہبی انداز میں دیکھتے ہیں ۔ اس وجہ سے باقی دنیا کی طرف منفی رجحانات کو فروغ ملا ہے ۔ مغربی دنیا سے دو طرفہ بنیادوں پر تعلقات چلانا کافی مشکل ہو گیا ہے ۔ اس محدود بین الاقوامی سوچ اور مذہبی قدامت پسندی کے فروغ کی وجہ سے بھی مسلح اسلامی تحریکوں کے لئے ہمدردی میں اضافہ ہوا ہے ۔یہ مسلح اور ریڈیکل اسلامی تحریکیں کئی اسلامی ممالک کی حکومتوں کو چیلنج کرسکتی ہیں ۔ تشدد اور دہشت گردی سے خوف وہراس اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں لیکن آج کے جدید دور میں ریاستی نظام چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔
      وہ اسلامی ممالک جہاں یہ تحریکیں سرگرم ہیں ایک ایسے مشکل دور سے گزر رہے ہیں جس کاخاتمہ عنقریب نظر نہیں آتا ۔ یہ تحریکیں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوں گی اور نہ ریاستی نظام کو سکون سے چلنے دیں گی۔ اس طرح اسلامی دنیا اندرونی خلفشار اور سیاسی اور مذہبی کشمکش کا شکار رہے گی۔ ان مشکلات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغربی ممالک اسلامی ممالک پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ قائم رکھ سکیں گے ۔
      http://search.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=21755

      Friday, May 24, 2019

      جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی An ongoing war



      ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں کشت وخون کے ذریعے دہشت گردوں نے اپنی سافٹ ٹارگٹ ڈھونڈنے اور تباہ کن حملے کرنے کی صلاحیت ثابت کر دی ہے۔ دہشت گردوں نے مقامی تنازعات کو ہوا دے کر شہ سرخیوں میں رہنے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ 

      THE Easter Sunday carnage in Sri Lanka demonstrates how terrorists can find a soft belly and hit it hard. They have learnt the art of exploiting local conflicts to set off a perfect storm, thereby holding on to the limelight and maintaining relevance in the eyes of those who share their ideology. They channel the anger and grievances of local radicals, who then do the rest in their own way.  Al Qaeda developed a multilayered strategy of engaging local affiliates, serving as a nucleus while the latter could also pursue their independent local agendas. It seems that the militant Islamic State (IS) group has transformed this strategy by developing a nucleus-free global terrorist network, thus enhancing the impact of terrorism. The fear is that it will not remain local or regional in the near future. A global threat would require altogether different countering approaches.  It would require a comprehensive review of local conflicts and their scales, ideological and political factors, and the sense of humiliation and victimhood among marginalised communities. Equally important will be to explore vulnerabilities of individuals and communities to adopt extreme or violent measures to express their anger.... Keep reading  >>>>>

      اس طرح یہ تنظیمیںنظریاتی ہم آہنگی کے باعث مقامی افراد کو اپنا گرویدہ بھی کر لیتی ہیں۔ عالمی دہشت گردوں کو نوجوانوں کے غم و غصہ اور تحفظات کو ابھار کر ہتھیار اٹھانے کا حوصلہ دینے کے سوا اور کرنا بھی کیا ہوتا ہے۔ باقی کام تو مقامی افراد خود کرتے ہیں۔ القاعدہ نے مقامی ہمدردوں کو تنازعات میں متحرک کرنے کے لئے کثیر الجہتی حکمت عملی وضع کر رکھی ہے ۔القاعدہ دنیا بھرمیں اپنے ہمدردوں اور ماننے والوں کی توقعات کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایسی تنظیموں کو متحرک کرنے کے بعد مقامی ایجنڈے کے تحت آزادانہ جدوجہد کے لئے خود مختاری دے دی جاتی ہے۔ بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ اب القاعدہ نے بغیر کسی مرکز کے دنیا بھر میں مقامی دہشت گرد تنظیموں کو فعال اور متحرک کرنے کی حکمت عملی مرتب کر لی ہے ۔ خوف یہ بھی ہے کہ یہ تنظیمیں مستقبل میں علاقائی اور مقامی نہ رہیں گی بلکہ یہ مقامی تنظیمیں ہی مجموعی طور پر عالمی امن کے لئے خطرہ بن جائیں گی۔ ظاہر ہے اس نئے خطرے سے نمٹنے کے لئے بالکل مختلف حکمت عملی کی ضرورت ہو گی سب سے اہم کرنے کا کام نئی حکمت عملی مرتب کرنا ہو گا۔ 

      دنیا بھر میں مقامی تنازعات کی شدت‘ ان کی نظریاتی اساس اور سیاسی پہلوئوں کا ازسر نو مفصل جائزہ لیا جائے اور مقامی سطح پر اقلیتوں کے تحفظات اور ان سے روا رکھی جانے والی ناانصافیوں کو دیکھا جائے تواس کے ساتھ یہ سمجھنا بھی ضروری ہو گا کہ آخر کیوں کچھ لوگ غم و غصہ کے باعث تشدد پسندی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ آج کے حالات میں داعش اکثر و بیشتر علاقوں میں اپنا کنٹرول کھو چکی ہے مگر آج بھی متنازعہ علاقوں اورسائبر سپیس میں اس کی گرفت مضبوط ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان کے بعد سری لنکا نظریاتی پراپیگنڈے کا دوسرا شکار سامنے آیا ہے۔ افغانستان اور بنگلہ دیش کے حالات بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ داعش مسلسل اس خطے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے کیونکہ اس خطے میں طبقاتی اور مذہبی کشمکش کی صورت میں داعش کو دہشت گردی کے فروغ کے لئے زرخیز زمین میسر ہے اس لیے داعش آسانی سے یہاں اپنے سیل بنا لیتی ہے کسی کو بھی یہ اندازہ نہ تھا کہ سری لنکا کے حملہ آوروں کے تعلقات بھارتی ریاست کیرالہ میں داعش کے ہمدردوں کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔2015ء کے بعد یہاں سے دو درجن کے لگ بھگ خواتین وحضرات بچوں سمیت القاعدہ میں شمولیت کے لئے عراق اور شام کا رخ کر چکے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں بھارتی ریاستوں مہاراشٹر اور تامل ناڈو میں بھی داعش کے فٹ پرنٹس ملے ہیں یہ تنظیم مقبوضہ کشمیر میں بھی گزشتہ تین برسوں سے قدم جما رہی ہے۔ 

      یہ بہت بڑا المیہ ہو گا اگر داعش کشمیر کی جدوجہد میں نقب لگانے میں اورکشمیر میں کوئی بڑی کارروائی کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے ۔ تو خطہ کا امن ایک بار پھر عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ القاعدہ اور داعش کی سب سے بڑی خواہش ہے کیونکہ اس طرح ان تنظیموں کو خطہ میں اپنے قدم مضبوط کرنے کا موقع مل جائے گا۔ داعش میں القاعدہ کے ہمدردوں کی ایک اچھی خاصی تعداد شامل ہو چکی ہے جو اس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔دہشت گردوں کے قدم اکھاڑ چکا ہے۔ تاہم چند ایک مقامی اور علاقائی دہشت گردوں کے گروہ ابھی تک باقی ہیں جو دہشت گردی کے عالمی نیٹ ورک کے ساتھ مل کر آج بھی پاکستان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔آئی ایس پاکستان میں داعش کی نمائندہ علاقائی تنظیم ہے سری لنکا میں نیشنل توحید جماعت (NIJ)نے آئی ایس کو مقامی سطح پر بنیاد فراہم کی۔ آئی ایس 2015ء کے بعد پہلے ہی پاکستان میں 22دہشت گرد تنظیموں سے وابستگی اور تعلق پیدا کر چکی ہے اور ان تنظیموں کی طرف سے پاکستان میں بڑے حملے بھی ہوئے ہیں۔ ان حالات میں سکیورٹی اداروں کو بہت زیادہ محتاط اور نئی حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے ان حالات میں ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ جب پاکستان ان تنظیموں کے خلاف کریک ڈائون کرے گا تو ان تنظیموں بلخصوص جیش محمد اور جماعت دعوۃ کے سخت گیر ارکان مل کر نئی تنظیم بنا سکتے ہیں یا پھر القاعدہ کے ساتھ نتھی ہو کر القاعدہ تحریک طالبان پاکستان اور دولت اسلامیہ کو مضبوط کر سکتے ہیں اس اندیشے کے پیش نظر حکومت کو ان کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈائون کرتے وقت مربوط حکمت عملی مرتب کرنا ہو گی۔اس مربوط حکمت عملی کا انتظار کیا جا رہا تھا البتہ گزشتہ دنوں ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں عندیہ دیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے قابل عمل حکمت عملی رواں برس جنوری میں طے کر لی گئی تھی اور فروری میں اس منصوبے کے لئے فنڈز میں مختص کر دیے گئے ہیں تاہم پریس کانفرنس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان تنظیموں کو منتشر کرنے یا قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے کیا اصول وضع کئے گئے ہیں انہوں نے یہ ضرور کہا ہے کہ پاکستان میں تمام مدارس کو حکومتی کنٹرول میں لیا جا رہا ہے اور ان کو وزارت تعلیم کے ماتحت کیا جا رہا ہے۔

       ابھی تک تو ہمیں یہ بھی علم نہیں کہ نئی حکمت عملی کے بارے میں متعلقہ وارتوں سے مشاورت کب ہوئی اور وفاقی کابینہ سے اس کی منظوری کب لی گئی۔ ہاں یہ اطلاعات ضرور ہیں کہ سکیورٹی ادارے مختلف مذہبی طبقات سے مشاورت ضرور کرتے رہے ہیں چند ماہ قبل تمام مذہبی طبقات کی مشاورت سے متفقہ موقف پیغام پاکستان بھی سامنے آیا تھا۔ تاہم ان تمام معاملات کا پالیسی کی سطح پر سول حکومت اور ایوانوں میں بحث کے لئے پیش ہونا باقی ہے۔ مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنا بہرحال ایک سیاسی ایشو بن چکا ہے گزشتہ حکومت نے مذہبی علماء سے اس حوالے سے طویل مشاورت بھی کی تھی اور کسی حتمی نتیجے پر بھی پہنچ گئی تھی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی دائرہ اختیار میں جا چکی ہے تو وفاقی حکومت مدارس کو وفاقی کنٹرول میں کس طرح رکھ سکتی ہے ؟ بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ حکومت خود بھی سکیورٹی کے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے سے گریزاں محسوس ہوتی ہے ۔ سکیورٹی کا مسئلہ بھی اقتصادیات اور احتساب کی طرح توجہ کا متقاضی ہے کیونکہ محض ایک طاقت ور دہشت حملہ سیاسی اہداف کوتہہ وبالا اور اقتصادی کامیابیوں کو بھی زمین بوس کر دیتا ہے خطہ کے حالات پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہیں اور داعش کا خطرہ بڑھاتا اور نئی جہتوں اور اشکال میں ظاہر ہو رہا ہے خطہ کے ممالک بشمول ہماری حکومت کو اس مسئلہ پر توجہ دینا ہو گی کیونکہ اس کے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے انجام کو نہیں پہنچ سکتی۔ 

      Related :

      Jihad, Extremism

        Monday, April 22, 2019

        Sri Lanka Terror Attack



        Coordinated bombings rock churches and hotels in Sri Lanka on Easter Sunday, killing at least 290 people, these are  the 6  things you need to know about Sri Lanka's bombings: 
        Sri Lanka's health minister has claimed that a local organisation was linked to the string of bombings that killed nearly 300 people and wounded 500 others.

        Rajitha Senaratne on Monday blamed President Maithripala Sirisena's government for failing to act on intelligence inputs shared 14 days before the multiple blasts that targeted churches and luxury hotels across the island nation.

        Speaking at a press conference in the capital Colombo, Rajitha Senaratne said that failure to act against National Thowheeth Jama’ath, a hardline Muslim local organisation, has devastated the entire country.

        "Unfortunately, despite all these revelations by the intelligence units we could not avert these attacks," Senaratne who is also the Cabinet spokesman, said.

        The government on Monday declared April 23 as a day of national mourning following the worst attack in the Indian Ocean island nation since its civil war ended a decade ago.

        Senaratne's criticism of President Sirisena, who heads the security forces, comes a day after Prime Minister Ranil Wickremesinghe acknowledged that "information was there" about possible attacks.

        "We must also look into why adequate precautions were not taken," he said on Sunday.

        Ties between the two leaders are at an all-time low following Sirisena's sacking of Wickremesinghe in October. The move triggered a weeks-long political crisis that ended only when the Supreme Court overturned that decision.
        https://www.aljazeera.com/news/2019/04/sri-lanka-minister-local-group-linked-deadly-attacks-190422090142634.html


        Muslim-Non-Muslim Relationship Charter by Quran: 



        -----------------------

        Terrorism, Suicide Bombing Un-Islamic, 1800 Islamic Scholars Declaration Issued, Endorsed by Al-Azhar, Cairo, Imam of Kaaba and International Scholars:


        The national document, which was  prepared by Islamic Research Institute”, International Islamic University, Islamabad after through research and deliberations in the light of Quran, Sunnah and Constitution of Islamic Republic of Pakistan, it is called “Paigham-e-Pakistan” [The Message of Pakistan].


        It was approved and promulgated by more than 1800 religious scholars of all major islamic groups from different schools of Islamic thought [number has now crossed over 5000]. A unanimous edict (فتوی ) and Joint Declaration was passed by 31 prominent Ulemas on 26 May 2017. The communiqué containing 22 points resolution was transformed into a comprehensive book (Urdu and English) titled as “Paigham-e-Pakistan” [The Message of Pakistan] “پیغام پاکستان ”, which was presented  on 16 Jan 2018.
        This document issued in the form of book, provides answers to  the important issues of peaceful Coexistence, Tolerance , Takfeer تکفیر and Jihad in light of Quran and Sunnah. Though prepared after consistent efforts by the  Islamic Research Institute, International Islamic University, Islamabad, the document belongs to the State of Pakistan, hence every citizen of Pakistan is inheritor of this document and responsible. Keep Reading .... [......]