جس کسی نے بھی کسی انسان کو قتل کیا، سوائے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے، تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔ اور جس نے ایک جان بچائی، اس نے گویا تمام انسانوں کی جان بچا لی۔ [قرآن؛ 5:32]
مشرقِ وسطیٰ میں آج مذاہب کی جنگ نہیں،ظالم اور مظلوم کی معرکہ آرائی ہے۔وہ لوگ فساد فی الارض پھیلانے کے مرتکب ہوں گے جو اسے مذہبی جنگ بنائیں گے۔مشرق و مغرب میں بیٹھے رائے سازجو اسے مذہبی جنگ ثابت کرنا چاہتے ہیں، کیااس بارے میں متنبہ ہیں؟
انسانی سماج اور اس کے اختتام کے بارے میں ایک مقدمہ مذہبی ہے۔ہم بطور مسلمان مانتے ہیں کہ اس نظمِ حیات کو ایک دن ختم ہو نا اور پھرحشربرپا ہو نا ہے۔رسالت مآبﷺ اللہ کے آ خری رسول ہیں۔اب کسی پیغمبر کو نہیں، قیامت کو آنا ہے۔یہ کب آئے گی، قرآن مجید نے بتا یا ہے کہ اس کی خبر اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔اللہ نے اس کے بارے میں کسی نبی اور کسی فرشتے کو بھی نہیں بتایا۔ اس کی صرف ایک متعین نشانی ہے جو قرآن مجید نے بتائی ہے۔یہ یاجوج ماجوج کا خروج ہے۔(الانبیا:97,96)۔قدیم صحائف میں بھی ان کا ذکر ہے۔یاجوج ماجوج سیدنا نوح کے بیٹے یافث کی اولاد ہے جوایشیا کے شمالی علاقوں میں آ باد ہوئی۔ان کے چند قبائل بعد کے ادوار میں یورپ پہنچے اورامریکہ اور آسٹریلیا کو آباد کیا۔یوحنا عارف کے مکاشفے سے معلوم ہو تا ہے کہ ان کے خروج کی ابتدا رسالت مآب ﷺ کی بعثت سے ایک ہزار سال بعدہوگی۔''ان کا شمار سمندر کی ریت کے برابر ہوگا اور وہ تمام زمین پر پھیل جائیں گے‘‘۔
اس کے علاوہ عمومی نشانیاں ہیں جن کاروایات میں ذکر ہے۔ جیسے ایک روایت میں ہے کہ لونڈی اپنے آقا کو جنم دے گی۔یہ غلامی کے بطور ادارہ ختم ہو نے کا بیان ہے۔اسی روایت میں ہے کہ تم عرب کے ان ننگے پاؤں، ننگے بدن پھرنے والے کنگال چرواہوں
کو بڑی بڑی عمارتیں بنانے میںایک دوسرے کا مقابلہ کرتے دیکھو گے۔یہ مسلم کی روایت ہے اور ان دونوں نشانیوں کا ظہور ہو چکا۔ایک روایت میں ایک خلیفہء فیاض کی آ مد کا ذکر ہے۔قدیم دور سے اہلِ علم اس کا مصداق متعین کرتے رہے ہیں اور کم و بیش یہ طے ہے کہ اس سے مراد سیدنا عمر بن عبدالعزیزہیں۔گویا یہ نشانی بھی پوری ہو چکی۔رسالت مآب ﷺ نے ایک باراپنی بعثت اور قیامت کے فاصلے کو اپنی دو انگلیوں کے درمیانی فاصلے سے تعبیر فرمایا۔یہ ختم نبوت ہی کا بیان ہے۔ان سب روایات سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ عمومی نشانیوں کا وقتاً فوقتاًظہور ہو تارہے گا اور لوگوں کو یاد دلا تا رہے گاکہ قیامت قریب ہے۔
تمام ابراہیمی مذاہب میں چونکہ ایسی روایات مو جود ہیں،اس لیے ان کوبعض لوگ کسی تحقیق کے بغیرقبول کرتے اور پھر ان سے اپنے عہد کے واقعات کو من پسندمعنی پہنا تے ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ جس قیامت کا برپاہو نا یقینی ہے، اس کی تیاری کوئی نہیں کرتا اور جو نشانیاں کسی مصدقہ ذریعے سے نہیں پہنچیں، سب ان کا مصداق بننے کی تگ و دو میں ہیں۔ ان میں سے اکثریت کی دلچسپی اس سیاسی منظر نامے سے ہے، جس کی پیش گوئی مذہبی روایات میں کی گئی ہے۔یوں وہ ہر واقعے کو اسی تناظر میں دیکھتے اور پھر ان کو مذہبی رنگ دیتے ہیں۔چونکہ یہ محض قیاس اور تخمینہ ہے، اس لیے مصداق کے تعین میں ہونے والی غلطی عالمِ انسانیت کے لیے ایک
عذاب بن جا تی ہے۔اسی وجہ سے ہماری تاریخ میں بے شمار لوگوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور لوگوں کو گمراہ کیا۔ یہ غلطی بعض یہودی کر تے ہیں اور بعض مسلما ن بھی۔اسی حوالے سے آج فلسطین میں ہونے والے مظالم کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔یہ ہماری نادانی ہو گی کہ ہم چند یہودیوں کی بات کو سچا ثابت کرنے کے لیے اسے ایک مذہبی معرکہ بنا دیں اور یوں ان کا خواب پورا ہو جائے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ان واقعات کوغیر مذہبی انداز میں دیکھا جائے کیونکہ اس کی مذہبی تعبیر کی اساس کوئی یقینی خبر نہیں ہے۔
چند حقائق واضح ہیں۔مثال کے طور پر تمام یہودی اس بات کو نہیں مانتے کہ انہیں یہ مقدمہ مذہبی بنیادوں پر لڑنا ہے۔اسرائیل بھی دنیا کے سامنے خو دکو مظلوم کہتا ہے۔وہ اپنی جنگ مذہبی بنیادوں پر نہیں لڑ رہا۔ امریکہ میں اس وقت یہودیوں کا ایک موثر گروہ وجود میں آ چکا ہے‘ جو اسرائیل کوظالم کہتا ہے۔نوم چومسکی جیسے دانش وریہودی ہونے کے باوجود اسرائیل کو ظلم کی علامت سمجھتے ہیں۔آج دنیا بھر میں اسرائیلی مظالم کے خلاف لوگ احتجاج کر رہے ہیں اور ان میں اکثریت مسیحیوں کی ہے۔ان میں یہودی بھی شامل ہیں۔پھر یہ کہ فلسطینیوں میں سب مسلمان نہیں ہیں۔اس وقت غزہ میں رہنے والوںمیں چھ فی صد مسیحی ہیں۔لیلیٰ خالد بھی مسیحی تھی۔یاسر عرفات کی اہلیہ مسیحی ہیں۔مسلمانوں کو خاص طور پر اس تعبیر سے بچنا ہے کہ اس کا نتیجہ مسلمانوں کے خلاف مسیحیوں اور یہودیوں کو مجتمع کرنا ہوگا۔ دنیا کو ایسے فتنہ پرور یہودیوں سے بچانا چاہیے جو اسلام کے خلاف بنی اسرائیل کو منظم کرنا اور اس حسد کو زندہ کرنا چاہتے ہیں جس کا مظاہرہ ان کے بڑوں نے عہدِ رسالت مآب ﷺ میں کیا تھا۔
اس معاملے کو ایک دوسرے زاویے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مو جودہ تمدنی اور معاشی ضروریات اور جبر نے دنیا میں ایک غیر مذہبی معاشرت کو جنم دیا ہے جس کے نتیجے میں مذہبی کثرت (pluralism) وجود میں آئی ہے۔اب ساری دنیا میں مختلف مذاہب کے لوگ مل کر رہ رہے ہیں ۔اگر ہم ان سیاسی و علاقائی اختلافات کو مذہبی رنگ دیں گے تو اس کے نتیجے میں ساری دنیا ایک انتشار میں مبتلا ہو جائے گی۔پھر ہر ملک میں لڑا ئی ہو گی۔خلیج کی جنگ کو بھی کچھ لوگوں نے اسی طرح مذہبی بنانے کی کوشش کی تھی۔ یا 9/11 کے بعد پیش آنے والے واقعات کو بھی اس حوالے سے بیان کیا۔یہ ایک غلطی تھی اور میرا خیال ہے کہ اس کا سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہوا۔ہم نے ان لوگوں کو بھی اپنا دشمن بنا لیا جو اس معرکے میں غیر جانب دار تھے۔جیسے چین یا روس۔
فلسطینیوں کا مقدمہ غیرمذہبی بنیادوں پرپوری طرح ثابت ہے۔ انہیں اپنی سرزمین سے بے دخل کیا گیا اور پھر دوسرے علاقوں سے لائے گئے لوگوں کو وہاں آ باد کیا گیا۔دنیا کے ہر قانون اور ضابطے کے تحت اس سرزمین پر ان کا حق فائق ہے۔جو لوگ اسرائیل کے وجود کو جائز کہتے ہیں، وہ بھی اس بات کی نفی نہیں کر سکتے۔اگر اس مقدمے کو مذہبی بنیادوں پر کھولا گیا تو پھر مسلمانوں کے لیے جو مسائل پیدا ہوں گے انہیں سمجھا جا سکتا ہے۔میں دانستہ ان کی تفصیل سے گریز کر رہا ہوں کہ عقل مند کے لیے اشارہ کافی ہو تا ہے۔یہ مقدمہ اس وقت ثابت ہوگا جب اسے فلسطینیوں کا مقدمہ بنایا جائے گا۔ اسے اسلام بمقابلہ یہودیت نہیں، اہلِ فلسطین بمقابلہ صہیونیت دیکھا جا نا چاہیے۔اگر ہم نے اسے مذہبی رنگ دیا تو یہ ان یہودیوں کی تائید کے مترادف ہو گا جو اسی بنیاد پراس معرکے کوآگے بڑھا نا چاہتے ہیں اور نتیجتاً پہلے یہودیوں اور دوسرے مرحلے میں یہودیوں اور مسیحیوں کو متحد کر نا چاہتے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ اتحاد مسلمانوں کے خلاف ہوگا۔
مسلمانوں کو آج جس بات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ مسائل کی تفہیمِ نو ہے۔امت کے سیاسی وجود سے لے کر مسائل کی مذہبی تعبیر تک بہت سے معاملات نئی سوچ کے متقاضی ہیں۔ چند مفروضوں کو حقیقت مان کر اس کا تعاقب کیا جارہا ہے۔ یوں ہر دن ترقی معکوس کا آئینہ دار ہے۔
قیامت کی نشانیاں اللہ نے ظاہر کرنی ہیں ہم نے نہیں۔ہمیں تو حشر میںحاضری کی تیاری کر نی ہے۔دنیا میں ترقی اور عافیت چند الہی سنن کے تابع ہے۔ان کو سمجھے بغیر دنیا میں کامیابی نہیں مل سکتی۔واقعات کی مذہبی تعبیر کرنے والے جس بات کو سب سے زیادہ نظر انداز کرتے ہیں، وہ یہی ہے۔
A fighter with an ISIS flag and weapon in Mosul, Iraq, June 23, 2014
In the days since the Islamic State in Iraq and Syria (ISIS) took control of much of northern Iraq, Western leaders and analysts have expressed alarm at what they have called a powerful new form of jihadism. Some have likened ISIS to a new al-Qaeda. Both assessments are wrong.
In its rapid advance toward Baghdad, ISIS has already eliminated national boundaries between Iraq and Syria, captured significant arms and weapons caches, caused a spike in global oil prices, reinvigorated ethnic and sectarian conflict across the Arab world, and given Islamic extremism a dramatic new source of appeal among many young Muslims. On June 30, the first day of Ramadan, ISIS also declared that it was reestablishing the “Caliphate,” long an aspiration of other jihadist groups.
Yet despite these accomplishments, ISIS may not be as unusual as it has been described. Nor does it seem primarily interested in global jihad. In many ways, what the group is doing to Syria and Iraq resembles what the Taliban did in Afghanistan and Pakistan in the early 1990s.
Like the Taliban, ISIS’s war so far has been about conquering territory rather than launching an al-Qaeda-style global jihad or issuing fatwas to bomb New York or London. Although it has attracted some three thousand foreigners to fight for it, ISIS’s real war is with fellow Muslims, and in particular Shias, against whom it has called for a genocidal campaign. Just as the Taliban changed the contours of Islam in south and central Asia so ISIS intends to do the same in the Middle East. ISIS is also seeking territorial control of the central Middle East region.
There are several instructive parallels between the two groups. The hardcore forces of ISIS probably number fewer than 10,000 trained fighters; the Taliban never numbered more than 25,000 men—even at the height of the US surge when there were over 150,000 Western troops in Afghanistan and twice that many Afghan soldiers.
Like the Taliban, ISIS successes are built around military competence that includes excellent command and control, sound intelligence, well prepared logistics support, training, high mobility, and rapid speed of maneuver. Just as ISIS, after years of preparation and recruiting in Iraq and Syria, has overrun Mosul and other important Iraqi cities in a matter of weeks, Taliban conquered all of southern and eastern Afghanistan in a blitzkrieg offensive in a few months in 1994. The main strategy of both groups is the frontal assault combined with outflanking movements, as well as night attacks. And both organizations are also prepared to play a long game. In 1996, after the Taliban had laid siege to Kabul from the south for two years without success, they used a flanking movement from the east to finally surprise the government and conquer the city.
An even more effective innovation of both groups is to wage battle across several countries and borders, creating multiple logistic centers and sources for recruits, while confounding national responses to them. Thus the Pakistani and Afghan Taliban treat their two countries as virtually one when it comes to fighting their opponents, while ISIS is now using tactics it perfected in Syria to capture cities in Iraq. And just as the Afghan Taliban established sanctuaries in Pakistan, where it could regroup and reequip, ISIS is now able to use territories in both Syria and Iraq to make their survival much easier and their defeat more difficult.
Chris Steele-Perkins/Magnum Photos
Taliban fighters, Afghanistan, 1996
Both groups are preoccupied with capturing territory rather than promoting global jihad, but their militarism and their extreme Islamism renders them ill-equipped to govern the areas they control. Like the Taliban, ISIS’s political outlook is distinct from both traditional Islamic fundamentalist parties, such as the Muslim Brotherhood, and global terrorism organizations like al-Qaeda. The primitive and extreme version of Islam it imposes—already on view in ISIS-controlled Syria cities like Raqqa—terrifies local populations and demoralizes armies and governments. But as the Taliban showed before it, this way of ruling cannot constitute a viable political program in the long term.
By 2001, after the Taliban had been in power for five years, there was a massive exodus of Afghans out of the country, as people exhausted by food shortages and the lack of jobs were forced to flee. Much the same could quickly happen to ISIS—which is why ISIS is appealing for educated and skilled Muslims to join it to rebuild the caliphate. Already in northern Iraq, hundreds of thousands of Iraqis, including Christians, Shia, Kurds, and Turkmen, have fled to Kurdistan out of fear of persecution.
Unfortunately, neither mainstream Muslim leaders nor their Western allies have learned much from the experience of fighting the Taliban. No contemporary army in the Muslim world is trained to deal with ISIS or can match the level of mobility and preparedness it has demonstrated in recent weeks. Even US Special Forces who have fought the Taliban and give training in counterterrorism to foreign armies do not seem able to handle such forces.
But military competence is not the main issue. A larger failure of Western governments is that they continue to view the collapse of Muslim states as something to be countered by military action and counterterrorism operations, rather than by creating new regional alliances and engaging Muslim leaders themselves to deal with the problem. So far President Obama’s only concrete answer to the present global crisis is to dispatch someseven hundred US troops to Baghdad and announce the creation of a $5 billion fund for US Special Forces to train foreign armies in counterterrorism.
However, where the lack of leadership is most visible is in the Muslim world itself—from politicians, generals, and senior religious leaders in each country. Instead of a vast public movement to condemn ISIS and other such groups, there is silence, helplessness, and hopelessness. Across the region, leaders like Nouri al-Maliki in Iraq, Gulf regimes like Saudi Arabia, and many African governments, are autocratic, corrupt, cowardly, and incompetent; and nowhere is civil society strong enough to demand greater action against extremism. Rather than present Islam as a tolerant religion capable of building a modern social contract, each state blames outsiders for conspiring against it. The most commonly accused culprits are obviously the Americans, followed closely by Israel, Europe, and neighbors.
Still more dangerously, some Muslim states, including both Iraq and Pakistan, also blame minorities for state failure, and so do not defend them when they are attacked by extremists such as the Taliban or ISIS. The Sunni extremist movements that are murdering civilians today in Africa and Asia are all fighting for a deeply intolerant interpretation of Islam, seeking to impose a ruthless system of justice and punishment that targets women and adherents of other branches of Islam—especially Shias.
The ISIS campaign against Shias has surpassed anything carried out by the Taliban or al-Qaeda. In its so-called bid to cleanse all schisms from Islam, ISIS represents the worst kind of schism. If ISIS succeeds in attacking Shia holy sites in the Iraqi cities of Karbela and Najaf as it has promised to do, then the Islamic world will be plunged into a sectarian war of unimaginable dimensions. If such actions are taken we can expect conflict between Sunni and Shia that could last for years to come. Already, there is an ominous rapid growth of Shia militias in Iraq in response to the ISIS advances.
The primary political task of the United States and its allies is to get Iran and Saudi Arabia to end their hostility and come together to deal with the present crisis in the wider Muslim world. Both countries are more responsible than others for creating the current wave of extremism, including in Iraq. Since its 1979 revolution Iran has funded, armed, and trained Shia militias, terrorist groups, and Shia activists in many parts of the Muslim world, particularly Pakistan, Afghanistan, and Lebanon.
Since the 1970s the Saudis have used their extraordinary wealth to arm and fund extremist Sunni movements everywhere, of many different stripes and shades. Any group opposed to Shias and purporting a Sunni sectarian view or ideology considered close to the Saudi sect of Wahhabism has been deemed sufficiently sympathetic to receive Saudi funding—whether it was in Pakistan, Afghanistan, Africa or across the Middle East. (While there is not clear evidence of direct Saudi support for ISIS, Saudi funding of Islamic groups fighting in Syria has helped strengthen the jihadist cause.)
The Organization of the Islamic Conference and the Arab League should both be taking major steps to end state-sponsored sectarianism and bring Iran and the Arab world closer together. Together, Muslim states have to have a policy no tolerance for terrorism, rather than offering a nod and wink to favorite extremist groups. The alternative is the possible break-up of many states, a global oil crisis, and extremists getting their hands on chemical, biological, or nuclear weapons technology...
جب سے آئی ایس آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ ان عراق اینڈ سیریا)نے شمالی عراق کے زیادہ ترحصوں کو زیر ِنگیں کیا ہے، مغربی طاقتیں اور تجزیہ کار ایک امنڈتے ہوئے خطرے کو دیکھ رہے ہیں۔ وہ ان جہادی قوتوں کے نئے اور طاقتور ارتکاز کو ایک مہیب خطرہ مان رہے ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ آئی ایس آئی ایس دراصل القاعدہ کا ہی نیا روپ ہے۔ تاہم یہ دونوں جائزے ہی درست نہیں۔ آئی ایس آئی ایس نہ تو القاعدہ ہے اور نہ ہی عالمی جہاد کا حصہ بن رہی ہے۔ اس کے کچھ اپنے مقاصد ہیں اور ان کا ہدف مغربی ممالک نہیں۔
بغداد کی طرف تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے آئی ایس آئی ایس نے شام اور عراق کی سرحدوں کو ختم کردیا ۔ انہوں نے بھاری تعداد میں جدید ہتھیارحاصل کیے اور تیل پیدا کرنے والے علاقوںپر قبضہ کرلیا۔ اس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمت بڑھ گئی۔ اس کے بعد انہوں نے دنیا ئے عرب میں قبائلی، گروہی اور فرقہ واریت پر مبنی منافرت ابھار ی اور اسلامی انتہا پسندی کو نئے معانی دیتے ہوئے نوجوان مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کیا۔ آج اس کی صفوں میں مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ مسلم نوجوان بھی بڑی تعداد میں شامل ہورہے ہیں۔ دراصل مغربی ممالک کو ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ اگر اس عراقی جہاد میں حصہ لینے والے ان کے شہری واپس اپنے وطن آجاتے ہیں تو ان جہاد آزما لڑکوںسے کیسے نمٹا جائے گا؟ وہ مسلسل مسلم والدین سے اپیلیں کررہے ہیں کہ اپنے بچوں کو جنگ کا ایندھن بننے سے بچائیں اور ان کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھیں۔ آئی ایس آئی ایس سوشل میڈیا کو بھی بہت موثر طریقے سے استعمال کررہی ہے۔
یکم رمضان، تیس جون ، کو آئی ایس آئی ایس نے خلافت کے قیام کا اعلان کردیا۔ خلافت کا قیام جہادی گروپوں کی دیرینہ خواہش رہی ہے ۔ وہ جدید ریاست ، جمہوریت اور عوامی حقوق کو تسلیم نہیں کرتے۔ اپنے اپنے ممالک میں یہ گروہ حکومتوںسے اسی لیے برسر پیکار ہیں کیونکہ وہ وہاں سے روایتی ریاستی ڈھانچہ ختم کرکے وسیع اسلامی خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان ''کامیابیوں ‘‘ کے باوجود آئی ایس آئی ایس دنیا کے اس خطے میںکوئی نئی پیش رفت نہیں اور نہ ہی ایسے گروہوں کا وجود میں آنا کوئی انہونی یا انوکھی بات تھی۔ ایک اور بات، القاعدہ کے برعکس آئی ایس آئی ایس کو عالمی جہاد میں دلچسپی نہیں۔ یہ اپنے جنگجو کسی اور ملک میں نہیں بھیج رہی، ہاں دیگر ممالک سے جنگجو اس کی صفوںمیں ضرور شامل ہورہے ہیں۔ اسے بڑی حد تک طالبان ، جو 1990ء کی دہائی سے پاکستان اور افغانستان میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں، سے مشابہت دی جاسکتی ہے۔ طالبان کی طرح آئی ایس آئی ایس کامقصد ایک علاقے پر قبضہ کرتے ہوئے خلافت قائم کرنا ہے۔ یہ القاعدہ کی طرح لندن یا نیویارک کو بم سے اُڑانے کی دھمکی نہیںدیتی اور نہ ہی اس مقصد کے لیے فتوے جاری کرتی ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک آئی ایس آئی ایس کی صفوں میں تین ہزار غیر ملکی جنگجو شامل ہوچکے ہیں لیکن اس کا ہدف غیر مسلم نہیں بلکہ دیگر مسلمان، خاص طور پر اہل تشیع ہیں۔ اس کا ماٹو اس خطے سے اہل ِ تشیع کا خاتمہ اور خالص سنی خلافت کا قیام ہے۔ جس طرح طالبان نے جنوبی اور وسطی ایشیا میں اسلام کی جہت تبدیل کردی، بالکل اسی طرح آئی ایس آئی ایس مشرق ِ وسطیٰ میں اپنی مرضی کا اسلام نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ آئی ایس آئی ایس مشرق ِ وسطیٰ کے دیگر علاقوں کا کنٹرول بھی چاہتی ہے ۔ اس کے ارادے یہ دکھائی دیتے ہیں کہ عراق اور شام کو زیر ِ نگین کرکے پھر دیگر خطوں کی طرف بڑھا جائے۔ پاکستانی طالبان بھی ملاعمر کو اپنا امیر مانتے ہیں۔ وہ بھی ان دونوں ممالک کو یکجا کرکے خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
طالبان اور آئی ایس آئی ایس کے درمیان بہت سی دیگر قدریں بھی مشترک ہیں۔ آئی ایس آئی ایس کے سخت جان جنگجوئوں کی تعداد دس ہزار کے قریب ہے جبکہ طالبان جنگجوئوں کی تعداد بھی کبھی پچیس ہزار سے تجاوز نہیں کرپائی۔ دراصل جس طرح کی جنگ وہ کررہے ہیں، اس کے لیے بھاری بھرکم فوج کی ضرورت نہیں۔ جب ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد مغربی افواج اور اس سے کہیں زیادہ افغان دستے جنگ میں حصہ لے رہے تھے تو بھی بیس سے پچیس ہزار کے قریب طالبان ان کو مصروف رکھے ہوئے تھے۔ طالبان کی طرح آئی ایس آئی ایس کی صفوں میں بھی انتہائی شاندار کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم موجود ہے۔ اس کے سخت جان، پرعزم اور سفاک جنگجو اعلیٰ تربیت یافتہ جنگ آزما ہوتے ہیں۔طالبان کی طرح ان کے پاس بھی لاجسٹک کی سہولت موجود ہے اور وہ بہت تیزی سے حرکت کرسکتے ہیں۔ دونوں گروہ نئے خون کو خوش آمدید کہتے ہیں اوربھرتی ہونے والے نوجوانوں کی تربیت کے لیے محفوظ مقامات پر ٹریننگ کیمپ رکھتے ہیں۔
آئی ایس آئی ایس نے کئی سالوں کی تیاری، اسلحے کی سپلائی اور نوجوانوں کی بھرتی اور ٹریننگ کے بعد چند ہفتوں کے اندر اندر موصل اور کچھ اور اہم عراقی شہر فتح کرلیے۔ طالبان نے بھی اسی طرح تیار ی کی اور 1994ء میں چند ماہ کے اندر افغانستان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں کو تسخیر کرلیا۔ ان دونوں گروہوں کی بنیادی حکمت ِعملی یہ ہے کہ کبھی یہ دشمن پر سامنے آکر کاری ضرب لگاتے ہیں تو کبھی گھات لگا کر وار کرتے ہیں۔ دونوں گروہ ہنگامی اقدامات کی بجائے طویل المدت اسٹریٹجی کے تحت لڑ رہے ہیں۔ دونوں وقت کا انتظار کرتے ہیں یہاں تک کہ حریف نرمی دکھائے اور پھر وہ اس پر ضرب لگائیں۔ 1996ء طالبان نے دوسال تک کابل کا گھیرائو کیے رکھا لیکن اُنہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیںملی۔ پھر انہوں نے مشرق میں چھاپہ مار کارروائیاں شروع کردیں۔ جب حریف کی توجہ اُس طرف ہوئی تو انہوں نے یکا یک کابل پر حملہ کرکے اسے فتح کرلیا۔
طالبان اور آئی ایس آئی ایس کی سب سے موثر حکمت ِعملی بیک وقت کئی شہروں اور قصبوں میں کارروائیاں شروع کرنا ہے۔ اس کے لیے ان کے پاس لاجسٹک اور بھرتی کی سہولت میسر رہتی ہے۔یہ مختلف جگہوں پر اپنی مرضی کا محاذ کھول سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں سرکاری افواج کنفیوژن کا شکار رہتی ہیں کیونکہ وہ اپنے وطن میں کھلم کھلا جنگ نہیں چھیڑ سکتیں۔ انہوں نے صرف جوابی کارروائی کرنا ہوتی ہے۔طالبان اور آئی ایس آئی ایس کو ملنے والی کامیابیوں کے پیچھے ایک راز یہ بھی ہے کہ حریف کو ان کی اگلی حرکت کاعلم نہیںہوپاتا۔
جس طرح آئی ایس آئی ایس نے شام اور عراق کی سرحد کو ختم کردیا ہے، بالکل اسی طرح طالبان بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کسی بارڈر کو نہیں مانتے۔ اُن کی دونوں ممالک میں آزادانہ حرکت اور کارروائیاں جاری رہتی ہیں۔ آئی ایس آئی ایس نے شام میں تیاری کی اور عراق کے شہر فتح کرلیے۔ اسی طرح افغان طالبان پاکستانی علاقوں میں اپنی پناہ گاہوں میں رہتے ہیں اور پھر وہ اپنی مرضی سے لائن عبور کرکے افغانستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ اسی طرح پاکستانی طالبان بھی آپریشن کی صورت میں افغانستان میں پناہ لے لیتے ہیں اور پھر موقع پاتے ہی واپس آکرتخریبی کارروائیاں کرتے ہیں۔ اس سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ آئی ایس آئی ایس اور طالبان جیسے گروہوں کو دوایسے ہمسایہ ممالک کی ضرورت رہتی ہے جہاں وہ سرحدی علاقوں کو کنٹرول کرتے ہوئے اپنی نقل و حرکت کو آزاد اور محفوظ رکھیں۔ اس وقت جبکہ پاکستانی فورسز شمالی وزیرستان میں آپریشن کررہی ہیں، یہ دیکھاجانا ہے کہ وہ اس طرح کی حرکت کو کس طرح روک پاتی ہیں۔ خبریں ہیں کہ اہم پاکستانی طالبان افغانستان میں پناہ لے چکے ہیں۔ اس آپریشن کی کامیابی صرف اس صورت میں ممکن ہے جب طالبان کو میسر اس ''سہولت‘‘ کاخاتمہ ہوسکے۔ بہرحال اگر پاکستان عراق جیسے حالات سے دوچار نہیں ہوسکا تو اس کی واحد وجہ اس کی عسکری قوت ہے۔ تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا اس مرتبہ اس فسادی گروہ کا خاتمہ ہوتا ہے یا پھر وہ افغانستان میں وقت گزار کر پھر پاکستانیوں کو ہلاک کرنا شروع کردیتے ہیں؟ Ahmed Rasheed, Dunya.com.pk
تکفیری طالبان دہشت گردوں کی اصل حقیقت ... استغفر الله ..
دہشت گردوں کو بیرونی امداد حاصل ۔ ان کے پاس دولت کی فراوانی۔ خصوصاً عرب دنیا سے سرکاری کے علاوہ‘ انہیں بے پناہ غیرسرکاری ذرائع سے بھی سرمایہ حاصل ہو رہاا۔ میں یہ بات خود نہیں لکھ رہا بلکہ خیبرپختونخوا کے سابق سیکرٹری داخلہ کے الفاظ بیان کر رہا ہوں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ہماری فوج جب بھی دہشت گردوں کے مقبوصہ علاقوں میں کارروائی کرتی‘ سامنے سے زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا۔ ان کے پاس ایسے ایسے ہتھیا‘ جو پاکستانی فوج کے پاس بھی نہیں آئے۔ بنکرز‘ جدیدترین جنگی تکنیک کے مطابق تعمیر کئے گئے۔ ان میں سے بیشتر نیچے سے پہاڑوں کو کھود کر بنائے گئے اور ان کے دروازے کنکریٹ سے تعمیر کئے گئے‘ جو باہر سے توتے کی ناک جیسے نظر آتے ۔ اس کامطلب یہ تھا کہ ان پر بلندی یا سامنے سے راکٹ یا میزائل اثر نہیں کرتا ‘ کنکریٹ کی توتا ناک سے ٹکرا کر‘ ادھر ادھر ہو جاتا۔ غاروں کے اندر جدید زندگی کا ہر وہ سامان موجودا‘ جو لاہور یا کراچی کے عشرت کدوں میں پایا جاتا ہے
۔میں اندھے اعتقادات رکھنے والوں کے جذبات مجروح نہیں کرنا چاہتا‘ ورنہ باقی تفصیل بیان کرتا‘ تو جذباتی لوگ اپنے ممدوحوں کی غلطیاں تسلیم کرنے کی بجائے‘ مجھ پر چڑھ دوڑتے
اس معاملے میں‘ جتنا کچھ زیرزمین پناہ گاہوں کے اندر ملا‘ وہ صرف جنت میں ہی مل سکتا ہے۔ شراب جنت میں بھی ہوگی‘ مگر اس میں نشہ نہیں ہوگا۔ زمین پر یہ شے نشے کے ساتھ ہوتی ہے۔ جو کچھ میں نے نہیں لکھا‘ سمجھ لیں کہ وہ سب کچھ برآمد ہوتا رہا۔ اس ''سب کچھ‘‘ کی تصویریں اور ویڈیوز موجود ہیں‘ جن کا کچھ حصہ ہمیں دکھایا بھی گیا۔ لیکن ''مومن‘‘ آپس کی لڑائی میں بھی ایک دوسرے کے عیب چھپا لیتے ہیں‘ جیسے مذاکراتی ٹیم کے اراکین نے وہ سب کچھ چھپایا‘ جو طالبان کے ساتھ ملاقاتوں میں انہیں سنایا گیا۔
انہیں اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے‘ امن کے مشن پر کام جاری رکھنا پڑا۔میں پاک فوج کی اس طویل جنگ کا حوالہ دے رہا ہوں‘ جو وہ انتہائی نامساعد حالات میں 6برس سے لڑ رہی ہے۔ اس کے لاتعداد جوانوں اور افسروں نے جام شہادت نوش کیا‘ لیکن بڑھتے ہی چلے گئے اور اب تک 18علاقوں پر طالبان کا قبضہ ختم کر کے‘ وہاں ریاست کی رٹ قائم کر چکے ہیں۔ ان میں سوات اور دیر کے بندوبستی علاقے بھی شامل ہیں۔ اب دہشت گردوں کے مراکز دشوار گزار علاقوں میں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی صورت باقی ہیں۔ ان کا سب سے بڑا مرکز شمالی وزیرستان ہے‘ جنوبی وزیرستان میں بھی دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں۔ مگر
جنوبی وزیرستان پر ان کا وہ کنٹرول نہیں‘ جو شمالی وزیرستان میں حاصل ہے۔
سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز کی جانب سے فتویٰ جاری کیا گیا ہے کہ ''قرآن و سنت کی روشنی میں خود کش حملے ناجائز اور حرام ہیں۔ خود کش حملے کرنے والا، خود کُش حملوں کی ترغیب دینے والا یا اکسانے والا دونوں اسلام کی رو سے کفر کا ارتکاب کرتے ہیں‘‘۔ خود کُش حملوں کی حمایت کرنے والے ایک بہیمانہ تصور کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ دینِ اسلام کو بدنام کرنے کے مترادف ہے۔ خود کش حملے کرنے والے اور کرانے والے سمجھ لیںکہ وہ انسانیت کے سب سے گرے ہوئے مقام پر ہیں، ان کے اس غیر انسانی فعل کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کو اقوام عالم میں بدنام کیا جائے تاکہ وہ لوگ جو قرآن کی پاکیزہ تعلیمات اور رسول اﷲﷺ کی حیات طیبہ کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد دین کی طرف مائل ہوتے جا رہے ہیں‘ انہیں اس سے متنفر اور بدگمان کر دیا جائے۔
فتویٰ، فقہ اسلامی کی ایک اہم اصطلاح ہے۔ کسی انفرادی یا اجتماعی معاملے پر کسی مستند عالم دین سے شریعت یعنی اسلامی قانون کے مطابق جو رائے لی جاتی ہے اسے فتویٰ کہا جاتا ہے۔ اسلامی فقہ کا ماہر، درپیش معاملے کی تشریح و توضیح بھی کر دیتا ہے‘ جو اسلامی تعلیمات اور مصلحت سے مطابقت رکھتی ہے۔ فتویٰ دینے والے کو مفتی کہتے ہیں۔ یہ ایسا فرد ہوتا ہے جو شرعی قوانین اور اس کی گہرائیوں کا پورا علم و ادراک رکھتا ہے اور جس کے پہلے دیے گئے فتوے یا اس کی طرف سے جاری کیے گئے بیانات، اسباق اور خطبات کو کسی شک و شبے کے بغیر تسلیم کیا جا چکا ہو۔
سعودی عرب کے مفتی اعظم سے قبل مصر اور سپین کے ممتاز مذہبی سکالرز، قرآن و حدیث کے اساتذہ اور اسلامی فقہ کے مجتہدین کی آراء بھی منظر عام پر آ چکی ہیں‘ جن کے مطابق خود کش حملوں کے ذریعے یا بے گناہ لوگوں کو یرغمال بنا کر قتل کر دینے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان میں جس طرح فوج اور ایف سی کے جوانوں، خالد خواجہ اور کرنل امام کے علاوہ بے گناہ شہریوں کو قتل کیا گیا، اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ۔ قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ کسی بے گناہ مومن کی جان لینے والا ابدی جہنمی ہے۔ جو گروہ خود کش دھماکوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ بتدریج اجتماعی خود کشی کی جانب چل پڑتے ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم کا بدترین حصہ ہوتا ہے۔
اگر طالبان سے ان کے مسلکی نظریات کو ہی سامنے رکھ کر بات کی جائے توکیا وہ جہاد کے بارے میں حضرت ابو بکر صدیقؓ اور دوسرے خلفائے راشدینؓ کے احکام اور ہدایات کو پیش نظر رکھتے ہیں؟ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت میں جب اسلامی لشکر جہاد پر روانہ ہونے لگا تو انہوں نے اسلامی فوج کو جو سب سے پہلا حکم جاری کیا‘ اس میں انہوں نے سخت تاکید کرتے ہوئے فرمایا: '' آپ درختوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گے، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کے خلاف کوئی اقدام نہیں کریں گے اور جو لوگ غیر مقابلین ہیں (جنگ کے میدان میں نہیں آئے) ان سے کسی قسم کا تعرض نہیں کریں گے‘‘۔
رسول کریمﷺ کے مکی دور میں مشرکین اور کفار نے رسول خداﷺ اور ان کے ساتھیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے لیکن حضور نبی کریمﷺ نے ان کے تمام جبر و استبداد کے جواب میں اس طرح کا رویہ اختیار کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ ہر دی جانے والی تکلیف پر صبر و شکر کی تلقین فرمائی، حتیٰ کہ حبشہ اور مدینہ شریف کی طرف ہجرت کر جانے کو ترجیح دیتے ہوئے مظلوم مسلمانوں کو اس کے بدلے میں جنت کے اعلیٰ مقامات کی بشارت دی۔ صبر کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ اپنے موقف پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے اپنا نقطہ نظر انتہائی شائستگی کے ساتھ پیش کیا جائے اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بہتر حالات کا انتظار کیا جائے، اﷲ تعالیٰ یقیناً صبر کرنے والوں کی مدد و اعانت کرتا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کا حکم تو یہ تھا کہ دشمن کے علاقوں میں درختوں کو بھی نقصان نہ پہنچایا جائے، لیکن تحریک طالبان پاکستان کے نام سے 'جہاد‘ کرنے والے کیسے لوگ ہیں جو ہسپتالوں میں بھی خود کش دھماکے کرتے ہیں جہاں دور دور سے آئے ہوئے بے گناہ مریض اپنی بیماریوں اور حادثات میں لگنے والے زخموں کے علاج کے لیے مقیم ہوتے ہیں۔ ان میں بچے، جوان، بوڑھے اور خواتین سبھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ ایسے 'مجاہد‘ ہیں جنہوں نے سکول جانے والے بچوں کی ویگنوں اور گاڑیوں کو بھی نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کیا۔ انہوں نے باغات، بازاروں، ریل گاڑیوں، لاری اڈوں، بزرگان دین کے مزاروں، مارکیٹوں، مساجد اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کی عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا۔ یہ کارروائیاں کرنے والے لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنی مساجد پر تو صحابی رسول حضرت ابوبکر صدیقؓ کا نام گرامی بڑے خوبصورت الفاظ میں نقش کرایا ہوتا ہے اور یہ حضرات اپنی مساجد اور مدارس میں ان کی زندگی کے واقعات کو متبرک سمجھتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو سناتے ہیں، لیکن بدقسمتی کہیے کہ یہ لوگ خود ان کی طرف سے دیے گئے احکامات اور ہدایات کا ذرہ برابر احترام نہیں کرتے ۔۔۔کیا اس بے ادبی پر صحابہ کرامؓ ان سے راضی ہوتے ہوں گے؟
ہماری فوج جو صحرائوں، میدانوں، سنگلاخ پہاڑوں اور برف پوش چٹانوں پر ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے فرائض سر انجام دے رہی ہے، وہ جو وطن کے اندر کسی بھی قدرتی آفت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ تن تیار ہوتی ہے، اس کو مارنے والے کون ہو سکتے ہیں؟ سب جانتے ہیں کہ تھر میں لاکھوں بچے، بوڑھے اور عورتیں بھوک سے بلک رہے ہیں، روزانہ دو یا تین بچے غذائی قلت یا مہلک بیماریوں کا شکار ہو کر لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ ان کی دن رات حفاظت اور ان کے ایک ایک جھونپڑے اور گھر تک راشن اور ادویات پہنچانے کے لیے افواج پاکستان دن رات کام کر رہی ہیں، فوج کی جانب سے قائم کیے گئے فیلڈ اورایمر جنسی ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور نرسیں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ بھوک اور بیماریوں میں مبتلا لوگوں تک راشن اور دوائیں پہنچانے والوں کو نشانہ بنانے والے بتائیں کہ وہ کون سے دین کی خدمت کر رہے ہیں؟ دین اسلام تو ان حرکتوں کی قطعاً اجازت نہیں دیتا، یہ لوگ کس مذہب کے پیروکار ہیں؟ وہ معصوم بچے جن کے تن پر کپڑے نہیں تھے وہ جواں اور بوڑھی عورتیں جو ناکافی لباس کی وجہ سے میڈیا کے کیمروں سے بچ کر کونوں کھدروں میں چھپ رہی تھیں، ان خواتین کو تن ڈھانپنے کے لیے لباس مہیا کرنے والوں کے رستوں میں اگر بارودی مواد رکھ دیا جائے تو ایسا کرنے والے کس طرح اﷲ کے احکامات کی پیروی کرنے والے کہلا سکتے ہیں؟
وہ لوگ جو سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیز اور الازہر یونیورسٹی کے مفتیوں کی جانب سے خود کش حملوں کو حرام قرار دینے کے فتوے کے بعد بھی ناسمجھ لڑکوں سے خود کش حملے کروا رہے ہیں کیا وہ اﷲ اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰٰﷺ پر ایمان لانے کے معیار پر پورے اترتے ہیں؟
If aMuslimis aware that someone, maybe anotherMuslim, is planning to commit an .... that thesuicidebombings that go on today are notpermittedin Islaam at all. .... The Senior Scholars ofSaudi Arabiahave refuted Bin Laden BEFORE the ...... Wahhab rahimahullaah, and the currentgrand muftiofsaudi arabia, explains:
On November 25, The Associated Pressreleased a news report which strengthens the beliefs held by many security analyts, that the Tehreek-e-Taliban Pakistan or ‘TTP’ for short, a terrorist organization which repeatedly claims ties to the Afghan Taliban, is a fake group bred by the American intelligence community.
According to the report, the CIA had a secret facility (until 2006) near the main Guantanamo Bay prison, dubbed “Penny Lane“, where captured jihadists and fighters from Afghanistan were turned into double agents. This fundamentally required that those who agreed in being American spies would guarantee full cooperation in “killing terrorists” (or, in other words, targeting elements who are eyesore for the US).
Captives who signed up to be double agents were offered millions of dollars from the CIA’s (read American taxpayers’ money) secret account (Codename ‘Pledge’), along with safety for their families.
But that’s not all. According to a report in the Voice of Russia compiled from various established sources, a few of these prospective double agents who were apparently lured by opportunities to be filthy rich and yet retain their iconic ‘warlord’ status, would sometimes request for porn material. It is said that Penny Lane was quite comfortable, in comparison to Guantanamo Bay prison, as it had beds, private kitchens and also a small patio.
The militants who decided once and for all to end fighting American forces signed formal agreements to work for the CIA. One prisoner though, was reportedly forced into agreeing because the CIA threatened of harming his children.
The CIA + Abdullah Mehsud = TTP is born
Abdullah Mehsud can be described as one of the key founders of the TTP, an organization whose country-wide attacks in Pakistan have resulted in 15,681 armed forces casualties. Similarly, approximately 5,152 civilians have been killed and 5,678 injured in bomb blasts and suicide attacks since 2008. These statistics werepresented by legal counsels for Pakistan’s intelligence agencies at the Supreme Court on 26 March 2013.
Abdullah Mehsud had lost a leg in a landmine explosion in 1996 and was captured sometime later by Uzbek-origin Afghan commander Abdul Rashid Dostum while fighting the Northern Alliance. He was imprisoned at Camp Delta in Guantanamo Bay for two years and later, to much surprise and shock, released in March 2004. What’s even more astounding is that he was also gifted a prosthetic limb by his captors, according to a statement by Brigadier General Jay Hood who was then running the camp.
A document titled JTF-GTMO Information on Detainees mentions that Abdullah Mehsud was released because he “claimed to be an office clerk and driver for the Taliban from 1996 to 1998 or 1999. He consistently denied having any affiliation with al Qaida. He also claimed to have received no weapons or military training due to his handicap (an amputation resulting from when he stepped on a land mine 10 years ago). He claimed that after September 11, 2001 he was forcibly conscripted by the Taliban military“.
This same Abdullah was later named as the commander of Al Qaeda-affiliated militants who ordered his band of subordinate fighters to kidnap two Chinese engineers (one was killed during a rescue attempt gone bad).
The Afghan Taliban were displeased with the incident and reportedly booted Abdullah Mehsud out. They were also suspicious of his activities since he was mysteriously released by the US military “crusaders” from Guantanamo.
While in Afghanistan, Abdullah Mehsud had created his own parallel “Taliban” militia and proudly claimed while giving media interviews in Afghanistan, that he was behind a series of attacks on Pakistani security forces (unlike the Afghan Taliban who were focused on fighting ISAF-NATO). Upon his return through Zhob in Balochistan province of Pakistan, security forces were aware of his presence and raided the house of Sheikh Ayub Mandokhel to capture him on 24 July 2007. Sheikh Mandokhel was a leader affiliated with the Islamist JUI-F of Maulana Fazlur Rehman. However, before he could be arrested, Abdullah blew himself up.
It is worth noting that before Abdullah Mehsud was released from Guantanamo and dropped in Afghanistan, there were no attacks taking place against Pakistani security forces. This is where a large information vacuum exists and which must be explored further. Had Abdullah Mehsud created a new “Taliban” that would be America’s own brand of Islamists?
In an article for The New Tork Times dated 22 October 2009, journalist Scott Shane quoted an unnamed Afghan Taliban official as saying that for the Pakistani Taliban (TTP), “there will not be any support from us”. He added the Afghan Taliban “don’t have interest in fighting against other countries”.
Furthermore, the Afghan Taliban commander said their mission is to get occupation forces out (of Afghanistan) and “not get into a fight with a Muslim army”.
Many journalists and security officials in Western states have been alleging since long that the Afghan Taliban are aided by the Pakistani intelligence agencies. Had that been the case, their so-called assets would have prevented Colonel (retd) Sultan Amir Tarar alias “Colonel Imam”, their former teacher from the Afghan war era, from being killed at the hands of Hakeemullah Mehsud, the recently-killed TTP chief.
There are also many other incidents such as this which suggest that had the Afghan Taliban indeed been proxies of the Pakistani agencies, as is routinely alleged, they would have instructed the TTP to stop attacks on Pakistani forces. But this never happened. Instead, as reported earlier, more than 15,000 soldiers and high-ranking armed forces personnel from Pakistan lost their lives.
But then, the question arises, who are these Pakistani Taliban fighting a Muslim army (of Pakistan) which the Afghan Taliban do not wish to fight? Are they a band of militants who were recruited by Abdullah Mehsud and later on joined hands with Baitullah Mehsud?
The ominous release of Abdullah Mehsud, when reviewed today in context of the new disclosures published by the Associated Press, lay bare historical facts and confirm the fact that he (Abdullah) had been set free because he must have agreed on becoming a double agent for the CIA, hence the safe haven in Afghanistan and US forces not capturing him there again. This also explains why his ideological descendants who later on coalesced to form the TTP are hell-bent on destroying Pakistan.
This also explains why both the Afghan and Pakistani Taliban have been working on different lines, although appearing the same on the outset (basically we have the identical nomenclature to blame for mass confusion).
Felix Kuehn, renowned researcher on terrorism and author of “An Enemy We Created: The Myth of the Taliban/al-Qaeda Merger in Afghanistan 1970-2010″, said at an event organized by the Afghanistan Study Group and the Center for International Policy, that although the (Afghan) Taliban and Al Qaeda have some ties, “they are separate and distinct groups with different constituencies and different goals”. Kuehn had studied the Taliban and Al Qaeda closely while staying at Kandahar despite extreme risks to his life.
For at least three years, Kuehn and Alex Strick van Linschoten have lived and worked in Kandahar, where they’ve studied the two organizations, lived with Kandahar citizens, and met people of all political persuasions there, including Taliban commanders.
Kuehn points out that the Taliban and Al Qaeda adhere to different strains of Islamic thought, the Taliban associated with Saudi-influenced, Wahhabi-style Hanafi beliefs, and Al Qaeda associated with the more radical, more rigid Hanbali school. The Taliban, of course, are Afghans, and Al Qaeda mostly Arab and almost entirely non-Afghan. Generationally, they are different, too, with most Al Qaeda leaders older than the young commanders of the Taliban, and whereas many Al Qaeda people are professionals and well educated, the Taliban are rural, unschooled, and grew up in places like Kandahar where newspapers were nonexistent and even radios were in the hands of only a privileged few.
When Al Qaeda arrived in Afghanistan from Sudan around 1996, says Kuehn, its membership was not more than 30. Al Qaeda fighters, and the growing number of recruits who came to Afghanistan from elsewhere, kept apart from Taliban fighters, who resented Al Qaeda, and there was a great deal of animosity between the two. Osama bin Laden insisted that international actions against the United States and other countries was crucial to his strategy, while Mullah Omar opposed such actions, says Kuehn.
“Osama bin Laden’s death will have zero impact on the Afghan Taliban,” says Kuehn. In part, that’s because they “didn’t have much a relationship to begin with.” Still, he says, it’s foolish to expect the Taliban to denounce Al Qaeda or to formally break with the organization, in part because bin Laden and Al Qaeda were Mullah Omar’s bridge to the Arab world. Yet when bin Laden was killed, the Taliban’s reaction was muted, and its statement—released via the Taliban’s semi-official web site—was mild and restrained. (If you haven’t spent time reading the Taliban in its own words, its web site is the place to start.)
Yet, we saw that Hakeemullah Mehsud and his groups under the umbrella of the TTP were openly supportive of, and aligned with, the global Al Qaeda. The attack on a CIA base by Humam Khalil Abu-Mulal Al-Balawi, who was seen in a video statement released by the Umar Media of TTP to be sitting next to Hakeemullah Mehsud, was most possibly a false attack which the CIA itself ordered as a stunt to prove it has no ties with the TTP.
Later, we saw Baitullah Mehsud, then Hakeemullah Mehsud (who lived in a luxurious $120,000 mansion), continue the legacy of this fake brand of Taliban. Or putting it more precisely, the CIA brand of Taliban. A group which has caused more damage to Pakistan than any other through brainwashed suicide-attack blasts, IED explosions, urban warfare, destruction of strategic defence equipment in use by the Pakistan Army, Air Force and Navy, bombing of ISI offices, murder of thousands of innocent civilians, beheading of hundreds of Pakistan Army troops, and what not.
It is most likely that the birth of these murderers’ ideology took place at the once-secret Penny Lane facility.
And when the controllers of these cheap hirelings and ignorant “holy warriors” of the Pakistani Taliban, who liaise between Langley and FATA/Afghanistan are no longer needed, they are simply disposed by being “droned” to death, just like Baitullah and Hakeemullah were. That is the destiny awaiting every worthless CIA asset.
Many sectors of the Pakistani society were well-aware of these facts but these mainstream revelations (still not complete though) are ample proof that the US has played a major role in destabilizing Pakistan, as it wants to avenge its own strategic blunders which it committed by unnecessarily invading Afghanistan.
The US needs it’s own Taliban to keep Pakistan engaged in internal house-cleaning and meanwhile give free space to India to attain what is has always desired: a large strategic stake in Afghanistan.