Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Sunday, August 7, 2016

What are terrorists made of?



According to a recent feature in Scientific America, the US Homeland Department has dished out $12 million to a research facility which investigates the origins, dynamics and psychological impact of terrorism.

The facility, staffed by more than 30 experienced scientists, is called Study of Terrorism & Response to Terrorism (START).

According to Scientific America: “Whereas earlier researchers focused on the political roots of terrorism, many of today’s investigators are probing the psychological factors that drive adherents to commit deadly deeds …”

START is now concentrating on trying to figure out the minds of persons who are willing to cause indiscriminate carnage and maximum deaths (including their own) for what they believe is a cause close to their faith. Such a person does not see it as an act of terror, but, rather, an expression of their theological conviction.

In the past, a majority of studies in this context have been more inclined to treat such men and women as consequences of systematic brainwashing and even mental illness.

Recent studies suggest that terrorist outfits usually tend to screen out mentally unstable recruits and volunteers because their instability is likely to compromise the mission and expose their handlers.
Even though these two factors are still being investigated, the most recent studies on the issue emanating from research facilities such as START suggest that most of the terrorists might actually be mentally stable; even rational.

Summarising the results of the recent studies, Scientific America informs that “the vast majority of terrorists are not mentally ill but are essentially rational people who weigh the costs and benefits of terrorist acts, concluding that terrorism is profitable.”

By profitable they mean an act of terror which, in addition to being financially favourable to the perpetrator (or to his or her family which gets looked after if the person is killed); is also an act which is perceived by the person to be beneficial to his or her sense and perception of their spiritual disposition.

What’s more, recent studies suggest that terrorist outfits usually tend to screen out mentally unstable recruits and volunteers because their instability is likely to compromise the mission and expose their handlers.

The studies also propose that even though economic disadvantages do play a role in pushing a person to join a terror outfit out of anger or desperation, this is not always the case.

Forensic psychiatrist Marc Sageman of the University of Pennsylvania, carried out an extensive survey of media reports and court records on 400 ‘extremists.’ He determined that “these individuals were far from being brainwashed, socially isolated, hopeless fighters; 90 per cent of them actually came from caring, intact families; and 63 per cent of these had gone to college.”

There is another interesting query that the researchers are trying to investigate: why were terrorists during the Cold War more constrained in their acts than the ones which emerged after the end of that conflict?

Studies suggest that a majority of significant terror groups during the Cold War were driven by nationalistic or communist impulses. Modern religious terrorism largely emerged from the 1990s onward.

Interestingly, despite the fact that Cold War terrorists did not hesitate to kill perceived enemies, they were, however, overtly conscious of how their acts would be perceived by popular opinion and the media.

For example, militant left-wing outfits in Europe, and even some factions of Palestinian guerrilla organisations (in the late 1960s and 1970s), would often abort attacks in which they feared casualties of innocent bystanders could mount.

This is not the case anymore. It seems, today, the old concern of being perceived as an indiscriminately brutal outfit has actually become the purpose. Terrorists now actually want to be perceived in this manner.

 What are terrorists made of?
by Nadeem F. Paracha, dawn.com

Related :

Jihad, Extremism

    Saturday, July 9, 2016

    Takfiri Khwarij Terror Attack Holy Prphet's Mosque خارجی حرم رسولؐ میں بھی

    بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿١ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ﴿٢ إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ ۚ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ ﴿٣ إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ﴿٤الحجرات

    اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے (1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی آواز نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ نبیؐ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو (2)جو لوگ رسول خدا کے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہ در حقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے، اُن کے لیے مغفرت ہے اور اجر عظیم (3)اے نبیؐ، جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں(49:4 )

    لوگو! سارا قرآن پڑھ جائو۔ احادیث کی کتابیں مطالعہ میں لے آئو۔ اسلام مخالف گروہوں کو جہنم سے ڈرایا گیا‘ مکہ کے بُت پرست مشرکوں کو جہنمی بتلایا گیا۔ فرعون‘ ابوجہل اور ابولہب بھی جہنم میں جائیں گے مگر یہ سب انسان تھے، اپنی انسانی شکلوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے۔ 
    ان انسانوں کے درمیان جہنم میں جانے والا ایک ایسا گروہ بھی ہے جو مسلمانوں کے اندر سے برآمد ہوا ہے۔ اس گروہ کے لوگ داڑھیاں رکھتے ہیں‘ نمازیں پڑھتے ہیں‘ قرآن کی تلاوت خوب کرتے ہیں‘ اللہ پر توکل بہت کرتے ہیں مگر یہ ہیں جہنمی...اللہ اللہ! یہ ایسے جہنمی ہیں جو فرعون‘ ابوجہل اور ابولہب کی طرح اپنی انسانی شکلوں کے ساتھ جہنم میں نہیں جائیں گے۔کیوں؟ اس لیے کہ یہ خارجی اور تکفیری ہیں‘ یہ کلمہ پڑھنے والے مسلمانوں کو غیر مسلم نہیں بلکہ مرتد قرار دیتے ہیں۔ اگر یہ غیر مسلم قرار دیتے‘ کافر کہنے تک ہی محدود رہتے تو مسلمانوں کا قتل نہ کرتے۔ انہوں نے مسلمان حکمرانوں اور ان کی رعایا کو مرتد قرار دیا اور پھر ان کو قتل کرنے لگ گئے۔ 
    ایسے لوگوں کو اللہ کے رسولؐ نے ''خوارج‘‘ قرار دیا ہے اور ان کے بارے میں واضح کر دیا کہ ''خارجی لوگ جہنم کے کتّے ہیں‘ (ابن ماجہ۔ صحیح۔)
     یعنی یہ جہنم میں جائیں گے تو کتّے کی شکل میں بھونکتے ہوئے جہنم میں جائیںگے۔ ان بدبختوں کے لیے میرے پُر رحمت رسولؐ گرامی کا سخت ترین انتباہ اس لیے ہے کہ یہ بے گناہ انسانوں پر بھونکتے ہیں‘ کلمہ پڑھنے والے مسلمانوں کو کاٹ کھاتے ہیں۔
     جس طرح ان کے بڑے عبدالرحمان ابن ملجم ملعون نے حضرت علیؓ پر مسجد میں حملہ کیا تھا‘ اسی طرح یہ آج بھی مسجدوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ کوفہ کی مسجد کے امام حضرت علیؓ پر حملہ کرنے والے مسجدوں‘ عید گاہوں اور سکولوں پر حملے کرنے کے بعد اب میرے حضورؐکی مسجد کی جانب چل کھڑے ہوئے ہیں۔ جو بدبخت حرم نبویؐ میں‘ میرے حضورؐ کے حرم مدینہ میں بھونکنے کا ارادہ کر لے اس کے کتّا ہونے میں کیا شک رہ گیا! کتّے کی شکل میں جہنمی بننے میں کیا شبہ رہ گیا! 

    میرے حضورؐ نے اپنی اُمت کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: ''حضرت ابراہیمؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا پھر مکہ کے لیے برکت کی دعا بھی کی تھی۔ اب میں نے بھی مدینہ کو اسی طرح حرم قرار دے دیا ہے جس طرح حضرت ابراہیمؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا‘‘۔ (بخاری و مسلم۔) اب یہاں کی گیلی گھاس جڑ سے نہ اکھاڑی جائے‘ نہ اس کے درخت ہی کاٹے جائیں۔ یہاں شکار کے جو جانور ہیں ان کو بھگایا نہ جائے...اسی طرح اس شہر میں لڑائی لڑنے کو کوئی شخص ہتھیار مت اٹھائے۔ (بخاری و مسلم۔) مدینہ امن دینے والا حرم ہے (مسلم)، میں مدینہ کے دو سیاہ پتھریلے علاقوںکے درمیانی رقبے کو حرم قرار دے رہا ہوں (مسلم)، عیر اور ثور پہاڑ کے درمیان والا علاقہ مدینے کا حرم ہے (بخاری و مسلم۔)

     مزید فرمایا: انسانوں میں سب سے زیادہ جن پر اللہ کا غضب بھڑک اٹھتا ہے وہ حرم میں خرابی پیدا کرنے والا ہے (طبرانی‘ صحیحہ۔) 

    جی ہاں! جو شخص صرف خرابی پیدا کرے وہ اللہ کے غضب کا شکار ہو جاتا ہے اور جو اس سے کہیں آگے بڑھ کر شہر مدینہ کے دل میں میرے حضورؐ کی مسجد کے پاس آ جائے اور روضہ رسولؐ کہ جو جنت کا حصہ ہے وہاں دہشت گردی کرنے کا ارادہ کر لے‘ خارجیو! اس کے جہنمی کتّا ہونے میں ابھی بھی کوئی شک ہے! اللہ کی قسم! ایسا بدبخت تو کتّے سے بھی بدتر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایسے ابوجہلوں کو جانوروں سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔ یااللہ! آپ کی پناہ۔ آپ کے حبیب اور خلیل حضرت محمد کریمؐ کا شہر کہ جہاں جانوروں کو بھی امن دیا گیا‘ جانوروں کی خوراک گھاس کو بھی امن دیا گیا، جہاں کے درخت کہ جن کی ٹہنیوں پر پرندے گھونسلے بناتے ہیں ان درختوں کو بھی امن دیا گیا...ان خارجی کتّوں نے وہاں تیرے حبیبؐ کی مسجد کی زیارت کرنے والوں کا خون بہانے کا پروگرام بنا لیا۔ ہتھیار چلانے کا ارادہ کر لیا۔ بارود پھاڑنے کا گندہ ترین منصوبہ بنا لیا اور پھر زائرین کی حفاظت پر مامور سعودی سکیورٹی کے جوانوں کو شہید کر دیا۔ میرے مولا کریم! آپ بھی کریم ہیں‘ آپ کے رسولؐ بھی کریم ہیں۔ آپ نے اپنے حبیبؐ کی مبارک زبان سے کیا خوب جملہ نکلوا کر حدیث رسول بنا دیا کہ ایسے لوگ جہنم کے کتّے ہیں۔ ان 
    کا مقدر یہی ہے کہ جہنم میں جائیں تو کتّے کی شکل میں جائیں۔ جنت کے لالچ میں یہ بدبخت جہنم میں جائیں تو بھونکتے ہوئے جائیں۔ جو میرے حضورؐ کے اُمتیوں پر اور مدینے جیسے شہر میں بھونکنے کا پروگرام بنائیں‘ وہ بارود سے ٹکڑے ہونے کے بعد جہنم میں بھونکتے ہوئے ہی جائیں گے۔ جہنم والے پوچھتے ہوںگے‘ قرآن نے بتلایا ہے کہ جہنم میں جو جاتے ہیں‘ پہلے سے موجود جہنمی ان کا جرم پوچھتے ہیں۔ ارے بھائی! کس جرم میں ہمارے پاس آنا ہوا ہے؟ تو پھر وہ اپنے جرائم بتلاتے نہیں۔ جی ہاں! پاکستان‘ ترکی‘ بنگلہ دیش وغیرہ...اور سعودی عرب اور پھر اب مدینہ منورہ جو طابہ بھی ہے اور طیبہ بھی ہے‘ اس پاک شہر کی مسجد رسولؐ کے پاس جو بدبخت جہنم واصل ہوئے‘ جہنمیوں نے پوچھا ہو گا ارے تم! کتّے کی شکل میں کتّے کی طرح بھونک کر ہمارے پاس آ رہے ہو! ہم تو اللہ کی پناہ تم سے مانگتے ہیں۔ ارے تم کون ہو؟ اور یہ اپنا جرم بتلائیں گے کہ ہم نے سعودی عرب کی مسجدوں کو نشانہ بنایا۔ حتیٰ کہ اللہ کے آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ کی مسجد کو بھی نشانہ بنانے چل کھڑے ہوئے۔ وہاں بارود پھاڑنے کا ارادہ کر لیا اور پھر پھاڑ بھی دیا‘ یہ ہے ہمارا جرم...اب جہنم والے بھی پناہ مانگیں گے۔ فرعون اور اس کی آل بھی جو جہنم میں اپنی اصل شکلوں کے ساتھ آباد ہیں‘ پناہ مانگیں گے۔ ابوجہل جیسا دشمن اور ابولہب جیسا کمینہ بھی پناہ مانگیں گے ۔ ابولہب بڑا خوبصورت تھا‘ گورا اور سرخی مائل رخساروں والا تھا۔ ایسا گورا کہ اس کا چہرہ آگ کی طرح سرخی مائل تھا۔ وہ بھی اپنی اصل شکل کے ساتھ خارجی کتّوں کو دیکھے گا تو کانوں کو ہاتھ لگا اٹھا ہو گا۔
    کتّا عرب کا ہو یا عجم کا‘ کتّا کتّا ہی ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی سوچ اور نظر کو سیدھا اور مستقیم رکھنا ہوگا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ساری کلمہ گو اُمت ان کتّوں کو جان گئی ہے۔ میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں ان علماء اور اسکالرز کو‘ ان اہل علم صحافیوں اور لکھاریوں کو جنہوں نے خارجی فتنے کو احادیث کی روشنی میں اُمت کے سامنے پیش کیا۔ انسانیت کو اس کی حقیقت سے آگاہ کیا اور سلام پیش کرتا ہوں سعودی عرب کے ان سکیورٹی جوانوں کو جنہوں نے خارجی کتّوں کو راستے میں روک کر میرے حضورؐ کی مسجد کے تقدس کو اپنے خون سے تحفظ دیا۔ جنرل راحیل شریف نے حالیہ عید ایسے ہی شیروں کے درمیان گزاری۔ میں شاہ سلمان اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کی خدمت میں عرض کروں گا کہ پورا عالم اسلام اور پاکستان آپ کے ساتھ ہے۔ ہمارے شیر دلیر جنرل راحیل شریف کو دنیا خراج تحسین پیش کر رہی ہے کہ کیسے ان کی کمان میں خارجی ملعون ناکام ہوئے ہیں۔ وہ طیب رجب اردوان‘ نوازشریف اور سب کو ساتھ ملا کر عالم اسلام کی ایک فورس بنائیں جس کا ہیڈ کوارٹر سعودی عرب ہو اور جنرل راحیل پورے عالم اسلام کو خارجی ناسور سے پاک کر دیں۔ اللہ تعالیٰ حرمین شریفین اور ان کے خادموں کی حفاظت فرمائے۔ پورے عالم اسلام اور انسانیت کو 
    اس ناسور سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)
        امیر حمزہ
    - See more at:
     http://m.dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2016-07-09/16046/40369956#sthash.SZlGYISx.dpuf

    Related :

    Jihad, Extremism

      Wednesday, March 2, 2016

      Actors of instability

      Image result for ttp pakistan
      PAKISTAN’S security indicators have been improving lately, mainly due to the state’s enhanced counterterrorism efforts. Government and security officials highlight gains on the counterterrorism front; statistics support their claims. However, that does not mean we have won the war. We still need to develop effective ideological and political responses to broaden and strengthen the ongoing counterterrorism campaign.

      During the last two weeks, the security and law-enforcement agencies claimed some significant successes. ISPR chief Lt Gen Asim Bajwa revealed that a network of Al Qaeda in the Indian Subcontinent (AQIS) and the Lashkar-i-Jhangvi (LJ) had been busted in Karachi.

      Karachi police and the Sindh Counterterrorism Department claimed the killing of some wanted terrorists and the arrest of Asif Chotu, head of the Lashkar-i-Jhangvi Al Almi, who reorganised the violent sectarian group, from Dera Ghazi Khan. Several other alleged terrorists have been either killed or arrested across the country in recent weeks. That indicates that the law-enforcement agencies have stepped up their campaign to dismantle terror networks in urban areas.
      Image result for lashkar e jhangvi

      Sectarian groups are only one pillar of the existing terrorism infrastructure.
      Most of the militants arrested in recent weeks and months belong to the LeJ. It seems that the law enforcers are focusing more on sectarian terrorist outfits and their allies. Definitely, it will contribute to further decreasing sectarian-related terrorist attacks in Pakistan. The year 2015 saw a 60pc decrease in such attacks compared with 2014. These efforts will also weaken sectarian groups’ nexus with different Tehreek-i-Taliban Pakistan (TTP) factions and the latter’s support networks in Pakistan.

      However, Pakistan’s militant landscape is very diverse with multiple actors of instability at work. Sectarian terrorist groups are only one pillar of the existing terrorism infrastructure, which will take time to perish. Though a few other groups have also been weakened, their support bases and operational capabilities remain intact.

      A review of the statistics of 2015 suggests that the TTP remained the major actor of instability, carrying out 212 terrorist attacks across the country. The group also managed to carry out 12 cross-border attacks from Afghanistan. The TTP splinter group Jamaatul Ahrar further fuelled instability by carrying out 28 terrorist attacks.

      Another tribal areas-based group, the Lashkar-i-Islam, was involved in 27 attacks in Khyber Agency and the suburbs of Peshawar. The small militant groups in Khyber Pakhtunkhwa and Fata, described as the local Taliban, carried out 56 terrorist attacks in 2015. Meanwhile, while LJ was involved in 33 attacks in 2015; the Shia sectarian group Sipah-i-Mohammad Pakistan also remained active during the year, mainly in Karachi, Quetta and Islamabad-Rawalpindi, and carried out 19 targeted killings. Baloch separatist groups were another key actor of instability, mainly in Balochistan.

      In recent years, new actors have been emerging and some old groups are taking advantage of the changes. Affiliates of the militant Islamic State (IS) group accepted responsibility for three attacks, while Jundullah managed four high-intensity attacks in different parts of the country. AQIS also absorbed the human resource of weakening militant groups; it was involved in abduction cases in Pakistan.

      In this context, the responses of the law-enforcement agencies need a dedicated platform to scientifically monitor the changing behaviours, trends, and emerging operational patterns of groups involved in terrorism. This initiative will help them broaden their threat perception and evolve effective responses.

      So far, it has been difficult for the security and law-enforcement agencies to think beyond established threats. Pakistan is a frontline state in the war against terrorism, but Al Qaeda has never been on its threat-perception radar. Instead, the group was always considered part of a global problem, which resulted in the emerging threats being deemed insignificant.

      The same is proving true for the IS, which is now transforming local terrorist groups. It is a real and emerging threat for Pakistan. Understanding the dynamics, including the erosion of conventional militant groups like the Jamaatud Dawa (JuD) and the banned Jaish-e-Mohammad is also a difficult task.

      Interestingly, Interior Minister Chaudhry Nisar Ali Khan, while denying the presence of IS in Pakistan, has claimed that banned groups like JuD are using the name of Daesh (Arabic acronym of IS) to mask their activities. The minister has always been reluctant to include the group on the list of banned outfits and his new statement indicates the confusion which persists within the security establishment about the status of certain militant groups. The problem with the government is that it does not consider a group a threat unless it is involved in terrorist activities inside the country.

      But at least it has been acknowledged that banned militant groups have become recruiting bases for international terrorist organisations, including Al Qaeda and the IS.

      The successes of law-enforcement agencies deserve commendation, but it has been seen in the past that the elimination of a terrorist group’s leadership did not completely crush the group. After a while, the group reorganised and nurtured a new leadership. It happened more than twice in the case of the LJ. The killing of LJ leaders, including its founder Riaz Basra in 2002, provided a brief lull in sectarian killings. But in 2004, a new wave started which receded in 2008 when its new leaders were killed.

      Yet again, a sudden rise in sectarian killings was observed in 2010 when a new leadership, including Asif Chotu and Naeem Bukhari, took over the group. This leadership proved more lethal, as it had not only expanded the group’s geographical outreach to interior Sindh but also found new targets, including the Hazara and Ismaili communities, and the Bohra community in Karachi.

      The relief in statistics provides an opportunity to the government and law-enforcement agencies to review their responses and recompose their operational strategies. The most important aspect is linked to how to intervene in the spaces that continue breeding new generations of terrorists. Both the politico-ideological and operational perspectives are important and need collaborative efforts.

      The actors of instability use ideological and political spaces to survive, which automatically create the spaces for their operational activities.
      By Muhammad Amir Rana, a security analyst. He is the Director of Pak Institute for Peace Studies (PIPS), Islamabad, Pakistan.
      http://www.dawn.com/news/1242368



      Related :

      Jihad, Extremism

        Monday, February 1, 2016

        The real War against Terror is the war of Ideology, Narrative, Discourse


        The closer you want to get to eradicating the menace of terrorism, the bigger this menace 
        seems to get. After the attack in Peshawar, our leaders,  deliberated and deliberated. But this
        piece is not about them and the solutions they might come up with. It is about the sociology of 
        the mindset that either justifies or rationalises terrorism, or impedes tangible action against it. It is about the failure of the state and the society to come up with a narrative that can defeat the terrorists.
        Terrorists of all hues — ISIS, [Daesh] Al Qaeda, Tehreek-e-Taliban Pakistan and its 
        countless affiliates, Afghan Taliban and its affiliates. India-focused terror groups like
         Lashkar-e-Tayyaba and sectarian terror groups like Lashkar-e-Jhangvi — use two 
        weapons: incredible hatred towards their victims and a narrative to convince and recruit
         new supporters to the cause. Keep Reading >>>>>>

        Related :

        Jihad, Extremism

          Saturday, January 23, 2016

          Non implimentaion of Sharia , Ruler and Islam (Urdu)

          شریعت نافذ نہ کرنے والا حکمران اور دائرئہ اسلام!

          Image result for sharia terrorism
          عراق کے شہر کوفہ کی جامع مسجد میں حضرت علیؓ کے گھر کا دروازہ کھلتا تھا۔ امیر المؤمنین یہیںسے مسجد میں تشریف لایا کرتے تھے۔ سترہ رمضان کو جب آپ فجر کی نماز پڑھانے گھر کے دروازے سے مسجد میں داخل ہوئے اور انہیں دیکھتے ہی نماز کے قیام کی تکبیر بلند ہوئی تو شبیب ملعون نے تلوار کا وار کر دیا۔ امیرالمؤمنینؓ گر پڑے تو ملعون ابن ملجم مرادی تیزی سے آگے بڑھا،حملہ آور ہوا تو حضرت علیؓ کے سر مبارک اور ماتھے پر تلوار کا وار پڑا۔ حملہ کرتے ہوئے ملعون نے جو جملہ کہا وہ قابل غور ہے۔ کہنے لگا: ''اَلْحُکْمُ لِلّٰہِ لَا لَکَ یَا عَلِیْ وَلَا لِاَصْحَابِکَ‘‘ اے علی حکم اللہ کا ہے، نہ تیرا ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کا ہے (تاریخ ابن خلدون ج 2ص 617) قارئین کرام! غور فرمایئے! حضرت علیؓ نبوی راستے پر قائم خلیفہ راشد ہیں۔ ان کی حکمرانی میں کامل طور پر شریعت کا قانون نافذ تھا۔ اس کے باوجود اس دور کے خارجیوں نے ان پر معاذ اللہ، اللہ کی حاکمیت سے نکل جانے کا الزام عائد کر دیا اور کفر کا فتویٰ لگا کر گردن زدنی قرار دے دیا اور پھر شہید کرتے ہوئے اپنے تکفیری اور خارجی نظریے کے حامل نعرے کا اعلان بھی کر دیا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ باقی حکمرانوں کی ان کے ہاں کیا حیثیت ہو گی؟ خاص طور پر آج کے مسلم حکمرانوں کو ایسے خارجی لوگ کیا سمجھیں گے، بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اب ہم ان کی گمراہ سوچ کا جائزہ لیں گے کہ کتاب و سنت کی روشنی میں ایسی رائے اور سوچ کی کیا حیثیت ہے؟ 
          سب سے پہلے ہم ان آیات کا ترجمہ لکھ رہے ہیں، جن کو سامنے رکھتے ہوئے خارجی ذہنیت کے لوگ مسلمان حکمرانوں کو کافر قرار دے کر دائرئہ اسلام سے خارج کرتے ہیں اور پھر مرتد ہو جانے کا فتویٰ لگا کر گردن زدنی قرار دیتے ہیں، پھر بغاوت کرتے ہوئے عسکری گروپ تشکیل دیتے ہیں اور حملے کر کے ارتداد کی سزا دیتے ہوئے خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے قرآن پر عمل کر دیا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں: اور جو لوگ اللہ کے اتارے ہوئے احکامات کے مطابق فیصلے نہ کریں وہی کافر ہیں۔ (المائدہ: 44) اسی طرح اگلی آیت میں اللہ نے ایسے لوگوں کو ظالم قرار دیا اور پھر اسی سورت کی آیت نمبر 47میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو فاسق قرار دیا۔
          قارئین کرام! سورۃ المائدہ جس میں مندرجہ بالا تین آیات موجود ہیں وہاں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں اور مسیحی لوگوں کا تذکرہ کیا ہے اور ان پر اتاری گئی الہامی کتابوں تورات اور انجیل کا ذکر فرمایا ہے۔ ان آیات کی شرح اور تفسیر میں بخاری اور مسلم کی جو احادیث ہیں، مفسرین نے ان کا تذکرہ کیا ہے۔ ہم طوالت کے خوف سے وہ احادیث درج نہیں کر رہے۔ مفسرین نے ان کا ذکر کر کے یہی بتلایا ہے کہ یہودیوںنے رجم کی سزا کو بھی بدل دیا تھا اور قتل کے بدلے میں دیت کی رقم میں بھی امتیاز قائم کر دیا تھا کہ طاقتور اگر کمزور قبیلے کے شخص کو قتل کر دیتا تو دیت یعنی خون بہانے کی رقم آدھی لی جاتی تھی اور اگر کمزور کے ہاتھوں طاقتور قبیلے کا آدمی قتل ہو جاتا تو خون بہا یعنی دیت کی پوری رقم وصول کی جاتی تھی۔ یہ طرزِ عمل تورات میں درج قانون کے صریحاً خلاف تھا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ایسی تبدیلی کرنے والوں کو کافر، ظالم اور فاسق کہا اور یہ تبدیلی کرنے والے یہودونصاریٰ کے علماء اور حکمران تھے۔ نیز ان کے کفر کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ تو یہ تھی کہ تورات اور انجیل میں حضرت محمد کریمﷺ کا واضح ذکر تھا کہ آپ آخری رسولؐ ہیں، اس کے باوجود ان لوگوں نے تورات اور انجیل کی بات کو نہیں مانا اور اس سلسلے میں بھی تبدیلی اور تحریف کی اور حضورؐ کی نبوت و رسالت کا انکار کر دیا۔ یہ تھا ان کے کفر کا اصلی اور بنیادی سبب۔ چنانچہ اللہ کے رسولؐ کے معروف صحابی حضرت براء بن عازبؓ واضح کرتے ہیں کہ کافر، ظالم اور فاسق قرار دینے والی تینوں آیات کا تعلق ''ہی فِی الْکُفَّارِ کُلِّھَا‘‘ سب کا سب غیر مسلم لوگوں سے ہے۔ (مسند احمد: 18724)
          قارئین کرام! مندرجہ بالا تینوں آیات کی تفسیر معلوم کرنے کے لئے جب ہم نے تفسیر ابن کثیر کو دیکھا تو امام ابن کثیر رحمہ اللہ آگاہ فرماتے ہیں کہ بڑے بڑے صحابہؓ جن میں حضرت براء بن عازب، حضرت حذیفہؓ بن یمان اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ جیسے مفسر کہ جن کے فہم قرآن میں اضافہ کے لئے اللہ کے رسولؐ نے دعا فرمائی وہ سب یہی فرماتے ہیں کہ کافر والی آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ بعد کے مفسرین اور موجودہ دور کے نامور مفسرین بھی اپنی تفاسیر میں اسی مؤقف کا اظہار کرتے اور لکھتے نظر آتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ مزید فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کو ماننے سے انکارکر دے اس نے کفر کیا اور وہ حکمران جو اقرار کرتا ہے مگر اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتا، تنقید نہیں کرتا، وہ ظالم اور فاسق ہے۔ ثابت ہوا موجودہ حکمران جو شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، تنفیذ نہیں کرتے، وہ گنہگار ہیں۔ ظلم کا ارتکاب تو کرتے ہیں، فسق یعنی گناہ سے دوچار تو ہوتے ہیں مگر مسلمان ہیں۔ خارجی لوگ یا خارجی ذہنیت سے متاثر لوگ جو ایسے گنہگار حکمرانوں کو کافر قرار دیتے ہیں وہ جہالت، لاعلمی اور حماقت کا اظہار کرتے ہیں۔ اور خارجیوں کا طرز عمل یہی ہے کہ وہ مسلمانوں کو گناہوں کی وجہ سے کافر قرار دے دیتے ہیں اور دائرئہ اسلام سے فوراً باہر کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح بخاری میں آگاہ کرتے ہیں کہ وہ آیات جو کافروں سے متعلق ہیں بعض لوگ ان آیات کو مسلمانوں پر لاگو کر دیتے ہیں اسی سے فتنہ پیدا ہوتا ہے۔
          قارئین کرام! قرآن و حدیث کے مطابق اسلاف کا طریقہ یہ ہے کہ گناہ گار مسلمان حکمرانوں کو نصیحت کی جائے، ان کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انہیں سمجھایا جائے، اللہ کا خوف دلایا جائے۔ آج کے دور میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ پرامن احتجاج کر لیا جائے، کالم اور کتابیں لکھی جائیں، ملاقات کر کے اپنا فرض ادا کیا جائے جیسا کہ قیام پاکستان کے بعد ہمارے علماء کرتے آئے ہیں لیکن کفر کے فتوے لگانا، بغاوت کرنا اور عسکری گروپ بنا کر حملے کرنا یہ خارجیت ہے اور دہشت گردی کی بدترین روش ہے۔ یہ بغاوت ہے اور اسے کچلنا اور اس کی سرکوبی کرنا مسلمان حکمرانوں کی ڈیوٹی ہے، شرعی فریضہ ہے۔ وہ یہ شرعی فریضہ ادا نہ کریں گے تو گناہ گار ہوں گے۔ مسلمانوں کی ریاست، ان کی حفاظت اور جان ومال سب فتنے سے دوچار ہو جائیں گی لہٰذا ضرب عضب بالکل درست فیصلہ ہے۔ اس فیصلے سے خارجی فتنے کا قلع قمع ہوا ہے۔ دنیا میں میاں نوازشریف اور پاک فوج کے سالار راحیل شریف کے کردار کو نیک نامی ملی ہے
          - See more at: http://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2016-01-22/14107/50330002#tab2

          Related :

          Jihad, Extremism