Featured Post

Terrorism and solution? دہشت گردی اور اس کا حل جوابی بیانیہ ؟

اِس وقت جو صورت حال بعض انتہا پسند تنظیموں نے اپنے اقدامات سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے پوری دنیا میں پیدا کر دی ہے، یہ اُسی فکر کا...

Saturday, December 6, 2014

DAESH, ISIS, داعش Not Islamic


ایک سوال جو آج کل پاکستان میں بہت زیادہ پوچھا جا رہا ہے، وہ شدت پسند مسلح تنظیم داعش کے بارے میں ہے۔ عسکریت پسندی میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ موضوع بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ عالمی میڈیا میں بھی اس حوالے سے رپورٹس شائع ہوتی رہتی ہیں۔ رہی سہی کسر کراچی، پشاور اور پنجاب کے بعض شہروں میں داعش کی جانب سے وال چاکنگ نے پوری کر دی۔ اس سوال کا جواب کھوجنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم داعش کے پس منظر کا جائزہ لے لیں کہ یہ نئی تنظیم آخر کہاں سے وارد ہوئی؟
داعش یعنی د ا ع ش دراصل چار عربی الفاظ دولت اسلامیہ عراق شام (الدولت الاسلامیہ فی العراق والشام)کا مخفف ہے۔ اس کا یہ نام تو سال ڈیڑھ سال پرانا ہے، مگر کوئی دس گیارہ سال پہلے اس کی بنیاد عراق کی سنی تکون (تکرت، فلوجہ، سماویہ وغیرہ) کے شدت پسند سنی مسلم جنگجوئوںنے رکھی۔ ابومصعب الزرقاوی عراق میں القاعدہ کے مشہور کمانڈر تھے۔ اردنی نژاد الزرقاوی ایک گروپ جماعتہ التوحید و الجہاد کے قائد تھے۔ جب امریکہ نے عراق پر 2003ء میں حملہ کیا اور اس کے ردعمل میں مسلح جدوجہد شروع ہوئی‘ تو صدام حسین کی بعث پارٹی اور القاعدہ کے جنگجوئوں نے آپس میں ہاتھ ملا لئے اور مشترکہ جدوجہد شروع کی۔ ابو مصعب الزرقاوی نے اپنے سخت گیر سلفی گروپ کا نام بدل کر تنظیم قاعدہ الجہاد فی بلادالرافدین رکھ دیا۔ یہ القاعدہ کا عراق چیپٹر تھا۔ الزرقاوی بڑے مستعد اور متحرک کمانڈر تھے۔ امریکی فوج کو انہوں نے خاصا ٹف ٹائم دیا؛ تاہم ان کے شدت پسندانہ اور تکفیری مسلکی نظریات کی بنا پر خاصے مسائل بھی پیدا ہوئے۔ عراق میں بعض ایسی کارروائیاں ہوئیں، جن کے بارے میں القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کو تحفظات پیدا ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ شیخ اسامہ بن لادن بھی الزرقاوی کی شدت پسندی سے نالاں تھے۔ بعض حلقے تو یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے عراق میں مسلکی بنیادوں پر شدت پسندانہ حملے روکنے کی بھی کوشش کی۔
ابو مصعب الزرقاوی کا نام 2004 ء میں عالمی میڈیا میں آیا، جب ایک آپریشن کے دوران الزرقاوی کا ایک ریکارڈ شدہ پیغام پکڑا گیا، جس میں القاعدہ عراقی کی حکمت عملی اور ان کی تکفیری فکر کی جھلک ملتی تھی۔ انہی دنوں عسکریت پسندی پر لکھتے ہوئے الزرقاوی کا نام میری نظر سے گزرا، کچھ تحقیق کی تو دلچسپ معلومات ملیں۔ اس پر 2004ء کے وسط میں ایک کالم اسی حوالے سے لکھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک ساتھی نے کالم پڑھ کر تبصرہ کیا کہ آپ نے عراقی عسکریت پسندی کے ایک اہم کردار کو اردو اخبارات میں متعارف کرایا ہے، لگتا ہے کہ یہ مشہور ہو گا۔ الزرقاوی بطور کمانڈر بہت مشہور ہوئے، حتیٰ کہ دو برس بعد وہ ایک امریکی حملے میں ہلاک ہوئے۔ ان دنوں اطلاعات ملیں کہ ان کے بارے میں اطلاع اردنی انٹیلی جنس ذرائع نے فراہم کی تھیں۔ الزرقاوی کی فکر سے ہمدردی رکھنے والے بعض حلقوں نے ایک دو شدت پسندانہ ویب سائٹس پر یہ الزام بھی لگایا کہ زرقاوی کی اپنی تنظیم کے اندر سے مخبری ہوئی اور ان کی سرکشی سے نالاں لوگ انہیں سائیڈ میں کرنا چاہتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
الزرقاوی کے بعد ان کے ساتھیوں نے (2006ء میں) دوسرے عراقی سنی گروپوں کے ساتھ مل کر مجاہدین شوریٰ کونسل کی بنیاد رکھی۔ عراق کے مشہور سُنی صوبے الانبار اور بعض دوسرے علاقوں میں اس پلیٹ فارم سے امریکی فوج کے خلاف بڑی سخت اور شدید مزاحمت کی گئی۔ اگلے چھ سات برسوں تک یہ اپنے ایک خاص دائرہ اختیار میں نبرد آزما رہے۔ یہ گروپس خود کو آئی ایس آئی ایس (اسلامک سٹیٹ آف عراق یا دولت العراق الاسلامیہ) قرار دیتے تھے۔ ابو عبداللہ رشید البغدادی اور ان کے بعد ابو ایوب المصری اس کے سربراہ تھے۔ جب امریکی حملوں میں یہ مارے گئے تو پھر ابوبکرالبغدادی نئے امیر بنے۔ ادھر جب عرب سپرنگ کے دوران شام میں بشارالاسد حکومت کے خلاف عوامی بغاوت شروع ہوئی، جس نے بتدریج مسلح مزاحمت کی شکل اختیار کر لی تو بعض ہمسایہ ممالک نے شامی حکومت کی حمایت کی اور کچھ نے شامی باغیوں یا شامی اپوزیشن کا ساتھ دیا۔ شورش بڑھتی گئی، شامی حکومت کے ہاتھ سے بعض علاقے نکل گئے، بعض دور افتادہ علاقوں پر حکومتی کنٹرول قائم رکھنا ممکن بھی نہ رہ سکا۔ یہ صورت حال شدت پسند گروپوں کے لئے نہایت سازگار تھی۔ القاعدہ نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور شدت پسند سلفی سوچ رکھنے والے زرقاوی کے ہم خیال گروپ بھی مضبوط ہوئے۔ دولت العراق الاسلامیہ نے بھی اپنے ہاتھ پیر پھیلائے اور اسے دولت العراق الاسلامیہ والشام یعنی داعش یا آئی ایس آئی ایس کا نام دے دیا۔ شام کے کچھ علاقوں پر ان کا کنٹرول قائم ہوا اور پھر جنوبی عراق کے بعض علاقوں میں بھی انہوں نے تیزی سے اپنا کنٹرول مضبوط کیا۔ اس دوران حکمت عملی کے فرق یا پھر شدت پسند تکفیری خیالات کی بنا پر داعش کے لوگوں اور القاعدہ کے مابین شدید اختلافات پیدا ہو گئے۔ چند ماہ تک یہ صورتحال چلتی رہی۔ رواں سال کے اوائل میں القاعدہ نے باضابطہ طور پر داعش کے ساتھ اپنا تعلق ختم کرتے ہوئے‘ اسے ڈس اون کر دیا، مگر اس سے داعش پر کوئی خاص فرق نہ پڑا۔ داعش کے جنگجوئوں نے اچانک ہی ایک نئے جذبے اور ولولے کے ساتھ موصل اور بعض دوسرے عراقی شہروں پر حملہ کیا اور انہیں غیرمعمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ جنوبی عراقی شہر، شام کے ساتھ سرحدی قصبے اور عراقی سرحد کے دوسری طرف کچھ شامی علاقہ داعش کے کنٹرول میں آ گیا۔ داعش نے اس صورتحال سے نفسیاتی فائدہ اٹھایا اور دولتہ الاسلامیہ فی العراق و الشام سے اگلا قدم اٹھاتے ہوئے خلافت قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ داعش کے امیر ابوبکر البغدادی کو خلیفہ کا درجہ دے دیا گیا۔ یہ معلوم نہیں کہ خلیفہ کا انتخاب کیسے کیا گیا، مگر داعش کے جنگجوئوں نے ان کی بیعت کر لی اور نئے ''خلیفہ‘‘ کا ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کر دیا گیا، جس میں انہوں نے دنیا بھر کے جنگجوئوں سے خلافت کو تسلیم کرنے اور اس کی حمایت کرنے کی اپیل کی۔ البغدادی کی اس اپیل کا مغربی دنیا کے شدت پسند عناصر نے جواب دیا۔ عالمی میڈیا کی اپنی اطلاعات کے مطابق امریکہ اور یورپ سے سینکڑوں لوگ لڑائی لڑنے عراق اور شام پہنچے ہیں، جن میں بعض خواتین بھی شامل ہیں۔
داعش کے جنگجوئوں نے شروع شروع میں اپنی ہیبت بٹھانے کے لئے مخالفین کے قتل و غارت کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑے جوش و خروش سے جاری کیں۔ ان ویڈیوز میں داعش کے لڑاکے اپنے مخالفوں کو بے دریغ گولیوں کا نشانہ بنا اور ذبح کر رہے ہیں۔ دو امریکی مغویوں کو بھی اسی انداز میں قتل کیا گیا۔ داعش کے امیج کو اس سفاکی اور بربریت سے شدید دھچکا پہنچا۔ بعد میں انہوں نے حکمت عملی قدرے بدلی اور سوشل میڈیا پر بچوں کے ساتھ کھیلتے، ان میں مٹھائیاں بانٹتے، سکولوں میں تعلیم دیتے، فٹ بال کھیلتے تصاویر اور ویڈیوز بھی جاری کی جاتی رہیں، مگر داعش کا جو ایک خاص قسم کا خونی اور انتہائی سخت گیر امیج بن چکا تھا، اس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ داعش کے سپانسرز کے بارے میں مختلف تھیوریز موجود ہیں، کچھ سازشی مفروضے بھی گردش کر رہے ہیں۔ بعض لوگ امریکہ کو داعش کا پہلا سپانسر قرار دیتے ہیں، کچھ بعض عرب ممالک پر الزام لگاتے ہیں۔ عملی صورتحال البتہ یہ ہے کہ داعش سے اس وقت ہر کوئی کسی نہ کسی حد تک خوفزدہ ہے۔ امریکیوں کو خطرہ ہے کہ یہ تنظیم کہیں مشرق وسطیٰ میں ان کے روڈ میپ کو نقصان نہ پہنچا دے۔ داعش کس حد تک اپنا وجود برقرار رکھ پائے گی، عراق اور شام میں جو علاقہ اس کے کنٹرول میں ہے، وہ کب تک رہ پاتا ہے... یہ سب ایسے سوالات ہیں، جن کے جواب کسی کے پاس نہیں۔ ہمارا سوال مگر یہ تھا کہ کیا داعش پاکستان میں آ چکی ہے یا اس کے آنے کا کس قدر خطرہ ہے؟۔ اس پر انشااللہ اگلی نشست میں بات ہو گی۔

Aamir Hashim Khakwani
Dunya.com.pk