Featured Post

Terrorism and solution? دہشت گردی اور اس کا حل جوابی بیانیہ ؟

اِس وقت جو صورت حال بعض انتہا پسند تنظیموں نے اپنے اقدامات سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے پوری دنیا میں پیدا کر دی ہے، یہ اُسی فکر کا...

Monday, October 13, 2014

داعش کا خطرہ اورخطے کے سیاسی مفادات IS Threat in Middle East

اگست 1944ء کو روس کی سرخ فوج نے وارسا کے نزدیک زبردست اور طویل جنگ کے بعد حملہ آور جرمن فوج کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس سے پہلے نازی فورسز کے پولینڈ پر قبضے کے بعد پولش فورسزاس امید پر کسی قدر مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھیں کہ روسی کمک بس آنے ہی والی ہے۔کچھ مورخین کا خیال ہے کہ اُنہیں ایسا کرنے پر پولینڈ کے کمیونسٹوں نے کریملن کی ہدایت پر اکسایا تھا ، تاہم پولینڈ کی فورسز اور شہری کئی ہفتوں تک لڑتے ہوئے امید کرتے رہے کہ روسی مدد آن پہنچے گی، لیکن سرخ فوج وارسا سے باہر ہی رہی۔ پولش فورسز یقینا جرمن فائر پاور کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھیں، چنانچہ اُنہیں شدید نقصان اُٹھانا پڑا۔ تاہم جب پولش مزاحمت دم توڑ گئی تو سوویت فورسز نے جرمن فوج پر حملہ کیا اورزبردست جنگ کے بعد اُنہیں وہاںسے نکال دیا۔ سوویت فورسز کی پولینڈ کے ساتھ سفاکانہ بے حسی کی وجہ یہ تھی کہ سوویت یونین نہیں چاہتا تھا کہ وارسا میں قوم پرست اقتدار میں آئیں ۔ اس کی بجائے اُس نے انتظار کیا کہ جرمن فورسز قوم پرست قوتوں کا صفایا کردیں تاکہ جرمن انخلا کے بعد کمیونسٹ اقتدار پر قبضہ کرلیں۔
عراق کے جنوب میں آباد اہل تشیع اور شمال میں آباد کرد آبادی کے ساتھ 1990ء میںیہی کچھ ہوا۔ پہلی خلیجی جنگ میں صدام حسین کی عسکری قوت کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچانے کے بعد امریکی فورسز نے ہاتھ روک لیا اور صدام حسین کے مخالفین، جن میں غیر سنی گروہ تھے،، کی حوصلہ افزائی کی اور اُنہیں سراٹھانے کا موقع دیا۔ اگرچہ امریکی فورسز نے عراق پر نوفلائی زون قائم کیا ہوا تھا، لیکن صدام حسین نے زمینی دستے بھیج کر مخالفین کو بے رحمی سے کچل دیا۔ کردوں کے خلاف عراقی فورسز نے مبینہ طور پر زہریلی گیس استعمال کرتے ہوئے ہزاروں افراد کو ہلاک کردیا۔
آج جب داعش (دولت ِ اسلامیہ عراق و شام)، جسے آئی ایس آئی ایس بھی کہا جاتا ہے، کے جنگجووں نے پیش قدمی کرتے ہوئے شام کے شمالی علاقوں میں واقع کرد آبادی کے شہر کوبانی (Kobani) کا محاصرہ کررکھا ہے تو ترکی دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ داعش کے بھاری اسلحے سے لیس جنگجو شہر میں خون کی ندیاں بہانے کی دھمکیاںدے رہے ہیں، لیکن کردباشندے ، جن کے پاس ہتھیار وںکی کمی ہے، اپنی جگہ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ترک ٹینک اور سپاہی بمشکل ایک یا دو کلومیٹر کے فاصلے سے اس بڑی حد تک یک طرفہ جنگ کو دیکھنے والے ہیں۔ وہ اس قتل ِ عام کا اُسی طرح انتظار کریں گے جس طرح سوویت فورسز نے پولش قوم پرستوں کی تباہی تک جرمن افواج کو نہیں للکارا تھا۔
اگرچہ ہزاروں کرد باشندوں کے قتل ِ عام کو روکنے کے لیے عالمی دبائو میں اضافہ ہورہا ہے لیکن ترک صدر طیب اردوان مبہم بیانات دیتے ہوئے داعش مخالف کولیشن میں فعال کردار اداکرنے سے پہلے اپنے ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ شام کی سرحد کے قریب ایک بفر زون قائم کردیا جائے جس میں مہاجرین کو آباد کیا جائے۔اس کے علاوہ وہ داعش مخالف قوتوںسے یہ بھی یقین دہانی چاہتے ہیں کہ بشارالااسد کا تختہ الٹا جائے گا۔ تاہم کردوں کو ان مقاصد سے کوئی سروکار نہیں،وہ عراق میں اپنے کرد بھائیوںسے کہہ رہے ہیں کہ ان کو ہتھیار اور لڑاکا دستے دیے جائیں تاکہ وہ انتہا پسندوں کا مقابلہ کرسکیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس جنگ میں شامی حکومت ان کی حمایت کررہی ہے۔ چنانچہ وہ خوفزدہ ہیں کہ اگر مسٹر اسد کا تختہ الٹ دیا جائے تو ملک میں پیدا ہونے والے سیاسی خلاکو انتہا پسند پُر کرنے کیلئے موجود ہوںگے۔ اس طرح مسٹر اسد کا تختہ الٹنے سے انتہا پسند توانا ہوجائیںگے اور پھر ان کا لہو مزید ارزاں ہوجائے گا۔
اس دوران امریکہ ترکی پر دبائوڈال رہا ہے کہ وہ انہیں اپنے سرحدی علاقے میں موجود فضائی ٹھکانے استعمال کرنے کی اجازت دے تاکہ اس کے جہازوں کو کوبانی تک پہنچنے میں کم وقت لگے اور وہ محاصرے میں آئے ہوئے اس شہر کو بچاسکیں۔ اس پر ترک صدر ایک کشمکش میں ہیں ۔ ایک طرف ان پر تعاون کے لیے عالمی دبائوبڑھ رہاہے تو دوسری طرف وہ کرد خطرے کا بھی تدارک چاہتے ہیں۔ گزشتہ چند دنوںسے ترکی کے کرد آبادی والے قصبوں میں تصادم سے کم از کم چوبیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ مشتعل ہجوم نے سرکاری عمارات اور بسوں کو نذرِ آتش کردیا۔ طیب اردوان نے پُرتشدد احتجاج پر تنقید کرتے ہوئے اسے حکومت اور علیحدگی پسندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ترکی میں رہنے والے کرد باشندے بے حد مشتعل ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ترک صدر داعش کو جان بوجھ کر قتل ِعام کا موقع دے رہے ہیں۔ یہ تاثر اُس وقت مزید گہرا ہوگیا جب صحافیوںسے داعش اور کوبانی کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے اُنھوںنے دی گارڈین کا حوالہ دے کر کہا کہ ''اُنہیں دیگر واقعات سے الگ کرکے دیکھنے کی بجائے سب کو مل کر ان سے نمٹنا چاہیے۔‘‘
تاہم ہر روز فرار ہوکر آنے والے کرد باشندے داعش کے جنگجووںکی دل دہلا دینے والی کہانیاں سنارہے ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ کرد قصبوںکو گھیر کر بچوں کو ہلاک اور لڑکیوں کی اجتماعی آبروریزی کی جاتی ہے۔ اس پر دیگر ممالک میں رہنے والے کرد بھی مشتعل ہورہے ہیں۔اردوان اس لیے بھی کوبانی کو بچانے میں تامل سے کام لے رہے ہیں کیونکہ داعش کی پیش قدمی سے پہلے شامی کردوںنے خانہ جنگی کا فائدہ اٹھاکر یہاں ایک خودمختار علاقہ قائم کرلیا تھا۔ ترکی کے مشرقی حصوںمیں کئی عشروںسے کردعلیحدگی کے لیے لڑرہے ہیں جبکہ ترک حکومت ان کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے کوئی قابل ِ قبول حل نکالنے کی کوشش میں ہے۔ اس پس منظر میں اردوان کو خطرہ ہے کہ اگر شام اور عراق کے کرد مل کر ایک خودمختار ریاست قائم کرلیتے ہیں تو اس سے ان کے ترک کزنوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ اپنے مطالبات بڑھا دیںگے۔ داخلی سیاسی مسائل کے علاوہ اردوان ترکی کی خارجہ پالیسی کو بھی درست کرنا چاہتے ہیں۔ اپنی '' اے کے پارٹی ‘‘کے طویل اقتدار کے پہلے چند برسوںکے دوران مسٹر اردوان نے ترکی کو خطے میں اہم مقام دلا دیا تھا۔ مغربی قوتوں کے نزدیک ترکی مشرق ِو سطیٰ اور سنٹرل ایشیا کے درمیان ایک پل کی طرح ہے۔ اس طرح سلطنتِ عثمانیہ کے دور کے خواب انقرہ کی آنکھوں میں تازہ ہو گئے۔ تاہم شام میں خونریزی بڑھنے سے اردوان کو احساس ہو اکہ وہ معاملات کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کرسکتے۔
اس دوران امریکی بھی اسد کو اقتدار سے ہٹانے کا ذکر تو کرتے رہتے ہیں لیکن وہ جانتے ہیں کہ اسدکو ہٹانے کے درپے داعش اس سے بھی بڑا دشمن ہے۔ چنانچہ دشمن کا دشمن اگر دوست نہیںتو بھی اتحادی تو بن ہی سکتا ہے۔ تاریخ خود کو دہرانے سے باز نہیں آتی۔ چند عشرے پہلے روز ویلٹ اور سر ونسٹن چرچل کے لیے سٹالن قابلِ قبول ہو گئے تھے کیونکہ دوسری طرف جرمن فورسز چڑھائی کر رہی تھیں۔ اس لیے آج لندن، واشنگٹن اور پیرس میں شام میں حکومت کی تبدیلی کی زیادہ بات نہیں ہوتی۔ درحقیقت آنے والے دنوں میں یہ خطہ بہت اہم واقعات کا گواہ بننے والا ہے۔ جس دوران امریکی کولیشن فورسز داعش کے خطرے کا تدارک کرنے کی کوشش میں ہیں، اسلامی دنیا دَم سادھے بیٹھی ہے۔
عرفان حسین