Featured Post

Terrorism and solution? دہشت گردی اور اس کا حل جوابی بیانیہ ؟

اِس وقت جو صورت حال بعض انتہا پسند تنظیموں نے اپنے اقدامات سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے پوری دنیا میں پیدا کر دی ہے، یہ اُسی فکر کا...

Friday, September 7, 2012

دہشت گرد بھائيوں سے


ہمارے دہشت گرد بھائي اتنے بہادر ہيں کہ انہيں مشير داخلہ رحمان ملک کي دھمکيوں سے بھي خوف نہيں آتا، چنانچہ جب ہمارے ملک صاحب بات کر رہے ہوتے ہيں تو کمزور اعصاب کا کوئي دہشت گرد تو ان کے پراعتماد لہجے ہي سے ہارٹ اٹيک کي نذر ہوسکتا ہے? ملک صاحب کوان لوگوں کا آئيڈيل ہونا چاہئے جن کي کارکردگي زيرو ہو ليکن ا ن کے لہجے سے لگتا ہے کہ لاء اينڈ آرڈر کي صورتحال ان کے کنٹرول ميں ہے، ميں تو ملک صاحب کا اتنا فين ہوں کہ دہشت گردي کي ہر کارروائي کے بعد ٹي وي آن کرتا ہوں، اور اس کا مقصد صرف رحمان ملک کي پراعتماد گفتگو سننا ہوتا ہے? وہ ہاتھ فضاء ميں بلند کرتے ہيں اور کہتے ہيں "Enough is Enough"اس کے بعد ان کے حواريوں کا پہلا اقدام ڈبل سواري پر پابندي عائد کرنا ہوتا ہے? اور آخري اقدام بھي يہي ہوتا ہے? دہشت گردي کو کنٹرول کرنے کے ملک صاحب کے دعوے ايک ايک کرکے محبوب کے وعدوں کي طرح ايفاء نہيں ہو پاتے چنانچہ پاکستاني عوام نے اپنے دو کانوں ميں سے ايک کان کو يہ وعدے ”ڈيليٹ“ کرنے ہي کے لئے رکھا ہوا ہے، کہا جاتا ہے کہ فرشتوں نے اپنے کمرے ميں ہر حکمران کے نام کا ايک کلاک لگايا ہوا ہے جس کا مقصد ان کے جھوٹ کو مانيٹر کرنا ہے? چنانچہ جب کوئي جھوٹ بولتا ہے تو اس کلاک کي سوئي ايک دم گھوم جاتي ہے،ملک صاحب کے لئے لگائے گئے کلاک کے بارے ميں پوچھا گيا کہ يہاں کيا صورتحال ہے؟ تو فرشتے نے جواب ديا ”اس کي سوئي ہر وقت گھومتي رہتي ہے چنانچہ ہم اس کلاک سے پيڈسٹل فين کا کام ليتے ہيں“?
اس صورتحال کے باوجود جو ميں نے ابھي بيان کي ہے? دہشت گرد بھائيوں سے ميري گزارش ہے کہ وہ پھر بھي احتياط سے کام ليں? وقت کا کوئي پتہ نہيں ہوتا،اگرچہ وہ کبھي پکڑے بھي جائيں تو کوئي عدالت ان کا بال تک بيکا نہيں کرسکتي مگر پھر بھي احتياط لازم ہے اس ضمن ميں کچھ مشورے پيش خدمت ہيں جو کامياب کارروائي کے ضمن ميں ان کے لئے مفيد ثابت ہوسکتے ہيں? ايک مشورہ تو يہ ہے کہ اپني نقل و حرکت، بارش کے دوران کيا کريں? ميرے گھر کے رستے سے ميرے دفتر تک ناکے ہي ناکے لگے ہوئے ہيں جس کي وجہ سے بہت وقت ضائع ہوتاہے مگر جس روز بارش ہو رہي ہوتي ہے? ناکے بھي خالي ہوتے ہيں? ڈيوٹي پرمتعين سب اہلکار بھاگ چکے ہوتے ہيں ”نقل و حملہ“ کے لئے دوسرا بہترين وقت رات کے بارہ بجے کے بعد کا ہے? ان اوقات ميں بھي تمام ناکوں پر ہُوکا عالم ہوتا ہے? اپنے دہشت گرد بھائيوں کي دلچسپي کے لئے ايک واقعہ بيان کرتا چلوں? ايک بار ميں پشاور جيسے حساس علاقے سے رات کو لاہور کيلئے روانہ ہوا اور چھ گھنٹے کے اس سفرکے دوران الحمد للہ کسي ايک ناکے پر بھي کوئي مائي کا لال نظر نہيں آيا… ميں جانتا ہوں کہ متذکرہ دونوں اوقات کي کوئي ”اوقات“ نہيں کيونکہ ميرے دہشت گرد بھائي تو دفاعي اداروں ميں بھي دندناتے ہوئے داخل ہو جاتے ہيں اور کارروائي کے بعد سيٹياں بجاتے باہر نکل آتے ہيں مگر پھر بھي احتياط ميں کيا حرج ہے؟ميرے دہشت گرد بھائيوں کے کرنے کا ايک کام اور بھي ہے اور وہ يہ کہ جو اسلام وہ پاکستان ميں نافذ کرنا چاہتے ہيں اس اسلام کي مزيد ترويج و ترقي کے لئے ابھي مزيد کچھ کام کريں اگرچہ تھوڑے بہت اختلاف کے ساتھ ہمارے مذہبي سوچ رکھنے والے افراد اسي اسلام کے قائل ہيں جو دہشت گردوں کا ہے اور وہ دوسروں کے ذہنوں ميں ايک عرصے سے اس اسلام کا نقش ثبت کرتے چلے آ رہے ہيں جس کے مثبت نتائج آج آپ لوگوں کي سوچ ميں نظر آتے ہيں ?تاہم جو طبقے آپ سے متفق نہيں ہيں مجھے علم ہے کہ آپ انہيں متفق کرنا جانتے ہيں آپ اتمام حجت کے لئے انہيں اپنا اسلام قبول کرنے کي دعوت ديں? اگر وہ قبول کريں تو فبہا ورنہ ميں کس قابل ہوں کہ آپ کو بتاؤں? آپ نے کيا کرنا ہے؟ تھوڑي سي جسارت کرتے ہوئے ايک مشورہ يہ بھي دينا چاہتا ہوں کہ آپ کي ايک شاخ کچھ عرصے سے اہل تشيع کو نشانہ بنا رہي ہے جس کا مقصد پورے ملک ميں شيعوں اور سنيوں کو ايک دوسرے کے خلاف صف آراء کرنا ہے? اس سے پہلے سنيوں کي مساجد ميں بھي بم دھماکے کئے گئے? اتني اشتعال انگيزيوں کي وجہ سے ملک بھر ميں شيعہ سني فساد کب کا شروع ہو جانا چاہئے تھا ليکن چونکہ يہ دونوں فرقے صديوں سے ايک دوسرے کے ساتھ رہ رہے ہيں اور ہمارے آئمہ نے اختلافات کے باوجود کسي کو دائرہ اسلام سے خارج قرار نہيں ديا لہ?ذا آپ کي کارروائيوں سے معصوم لوگ مارے تو جا رہے ہيں ليکن آپ کا اصل مقصد پورا نہيں ہو رہا? براہ کرام آپ نئي اسٹريٹجي کے لئے اپنے ”ماسٹر مائنڈ“ سے رجوع کريں? مجھے علم نہيں وہ آج کل دہلي ميں ہے يا واشنگٹن ميں? يہ آپ کو علم ہوگا،تاہم ميري گزارش ہے کہ آپ فوري طور پر اس سے رابطہ کريں? آخر ميں مجھے اپنے بعض کند ذہن قارئين کے لئے ايک وضاحت کرنا ہے، وہ سوچ رہے ہوں گے کہ ميں آپ لوگوں کو اپنا بھائي کيوں کہہ رہا ہوں اور آپ کي دہشت گردانہ کارروائيوں کو تيزسے تيز تر کرنے کے لئے مشورے کيوں دے رہا ہوں تو ان لوگوں کي اطلاع کے لئے عرض ہے کہ آپ ميرے سيکولر بھائي ہيں سيکولر وہ ہوتا ہے جو مسلمان اور غير مسلمان دونوں کو ايک نظر سے ديکھتا ہے اور مجھے آپ کا يہ سيکولرازم ہي پسند ہے، آپ بہت ہجوم والے مقامات پر کارروائي کرتے ہوئے يہ نہيں ديکھتے کہ آپ کي زد ميں کس مذہب کا پيروکار آرہا ہے کيونکہ آ پ کي سيکولر سوچ اس کي اجازت نہيں ديتي چنانچہ آپ سب کے چيتھڑے اڑا ديتے ہيں، اسي طرح ان لمحوں ميں کوئي فرقہ بھي آپ کے لئے مقدس نہيں رہتا? آپ سب کو بڑے ”دربار“ ميں پہنچا ديتے ہيں بلکہ کبھي کبھي تو مجھے آپ پر رشک آتا ہے کہ آپ اپنے سيکولرازم ميں اتنے راسخ ہيں کہ کسي کي صنف يا ماہ و سال کو بھي خاطر ميں نہيں لاتے چنانچہ عورتيں، مرد،بچے، بوڑھے، جوان سب آپ کي غارت گري کي زد ميں ہوتے ہيں?
يہ نصيب اللہ اکبر لوٹنے کي جائے ہے!
اپنے بعض کند ذہن قارئين کے لئے آخر ميں ايک گزارش يہ بھي کرني ہے کہ بھائي، ميں ايک کالم نگار ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ آپ لوگ کالموں کے باقاعدہ قاري نہيں ہيں? ورنہ آپ کو علم ہوتا کہ دہشت گردي کالموں کے ذريعے بھي کي جاتي ہے آپ کبھي ميرے پاس تشريف لائيں ميں آپ کو اپنے اور بعض دوسرے دوستوں کے کچھ کالم پڑھنے کے لئے دوں گا، اگر آپ کو ان کي زبان، ان کا لہجہ اور ان کا رويہ کسي دہشت گرد سے کم محسوس ہو تو پھر اعتراض کريں? سو يہ دہشت گردميرے پيٹي بند بھائي ہيں ميں اگر ان کا بھلا نہ سوچوں تو اور کياکروں؟
 …عطاء الحق قاسمي
http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=20618