Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Tuesday, February 25, 2014

Taliban and Deobandi Ulema

علمائے دیوبند اور طالبان
طالبان کو آج ان کی مدد کی ضرورت ہے۔ یہ مدد کیسے کی جا سکتی ہے‘ میں اس ضمن میں چند اقدامات تجویز کرتا ہوں۔
1۔ یہ علما واضح کریں کہ مسلمانوں کے نظم اجتماعی کے خلاف مسلح جدوجہد کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ وہ بتائیں کہ طاقت کے استعمال میں ریاست اور غیر ریاستی مسلح گروہ کی شرعی اور اخلاقی حیثیت ایک نہیں ہوتی۔
2۔ وہ طالبان قیادت سے یہ کہیں کہ وہ ریاست کے خلاف یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کریں۔
3۔ وہ ریاست سے یہ ضمانت حاصل کریں کہ جو ہتھیار پھینک دے گا، اسے جان و مال کا تحفظ ملے گا۔
4۔ وہ ریاست سے یہ مطالبہ کریں کہ حکومت ان لوگوں کی صلاحیت اور ہنر کے مطابق روزگار اور ایک باعزت زندگی گزار نے کے لیے اسباب کی فراہمی میں مدد دے۔
5۔ جو لوگ نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کرنا چاہتے ہیں‘ انہیں یہ حق ہو گا کہ ملک کے آئین اور دستور کے مطابق کوئی سیاسی جماعت بنائیں یا کسی موجود سیاسی جماعت میں شامل ہو جائیں۔
6۔ یہ علما اس امر کا بھی جائزہ لیں کہ اس وقت مدارس کی فکری فضا کیا ہے اور کیا وہ طالبان کے لیے سازگار ہے؟ اگر ایسا ہے تو اسے کیسے بدلا جائے تاکہ مستقبل میں ان رجحانات کو ختم کیا جا سکے۔
میں ان علما کی خدمت میں، اس سے پہلے بھی بارہا یہی بات، باندازِ دیگر عرض کر چکا ہوں۔ میں نے نجی مجالس میں اُن سے یہ سب کچھ کہا اور اپنے کالموں میں بھی لکھا۔ آج جب آثار یہ ہیں کہ ایک فیصلہ کن مرحلہ درپیش ہے تو میری دلی تمنا ہے کہ ہم دونوں اطراف سے انسانی جانوں کو ممکن حد تک بچا لیں۔ اگر میرے لیے ممکن ہوتا تو میں یہی بات طالبان کی قیادت سے براہ راست کہتا۔ میرے پاس دوسرا راستہ یہ ہے کہ میں ان لوگوں سے یہ بات کہوں جن کی سنی جا سکتی ہے۔ علمائے دیوبند چاہیں تو انسانی لہو کی اس ارزانی کو اگر روک نہ سکیں تو کم ضرور کر سکتے ہیں۔ انہیں اگر ملک اور قوم کی نہیں تو اپنے ہم مسلک طالبان کی مدد ضرور کر نی چاہیے۔ اصول وہی ہے جو اللہ کے آخری رسولﷺ نے عطا فرمایا: مسلمان بھائی کی مدد کرو، وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ظالم کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکا جائے۔
---'----''---'-----------------

علمائے دیوبند کے پاس آخری موقع ہے کہ وہ اپنے ہم مسلک طالبان کی مدد کریں۔ اصول وہی ہے جو اللہ کے رسولﷺ نے عطا فرمایا: مسلمان بھائی کی مدد کرو، وہ ظالم ہو یا مظلوم۔
آثار یہی ہیں کہ ریاست طاقت کے استعمال کا فیصلہ کر چکی۔ ریاست اگر یک سو ہو جائے تو پھر ایک ہی نتیجہ ممکن ہے۔ تاریخ میں کوئی ایک شہادت ایسی نہیں کہ کسی مسلح گروہ نے ریاست پر قابو پایا ہو۔ پاکستان میں اگر آج تک یہ نہ ہو سکا تو اس کا سبب ریاست کا ابہام تھا، طالبان کی طاقت نہیں۔ ریاستی ادارے اپنے بنائے ہوئے جال میں الجھے رہے۔ اب لگتا ہے کہ انہوں نے اس جال کو کاٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر 'سٹریٹیجک ڈیپتھ‘ کے علم بردار پھر متحرک نہ ہوئے تو اس معرکے کا انجام معلوم ہے۔ اب صرف بہادری کی یک طرفہ داستانیں لکھی جا سکتی ہیں یا چند مزید بے گناہوں کے لہو سے ہاتھ رنگے جا سکتے ہیں۔ یہ دونوں انجام میرے لیے اور شاید اس قوم کے لیے تکلیف دہ ہیں۔ میں تو اسامہ کی موت پر بھی اداس ہوا تھا کہ کیسا صاحبِ عزیمت تھا جو 'تعبیر کی غلطی‘ کا نشانہ بن گیا۔ علمائے دیوبند کے پاس آج موقع ہے کہ وہ ان نوجوانوں کو بچا لیں جن کی جوانیاں کسی نیک مقصد کے کام آ سکتی ہیں۔
یہ مقدمہ دم توڑ چکا کہ یہ امریکہ کی لڑائی ہے۔ آج قاتل مسلمان ہیں اور مقتول بھی۔ ہلاک ہونے والے پاکستانی ہیں اور شہدا بھی۔ جس سرزمین پر یہ معرکہ برپا ہے وہ بھی پاکستان ہے۔ امریکہ ایک تماشائی ہے۔ اس کو قاتل سے زیادہ دلچسپی ہے نہ مقتول سے۔ تماشائی کا مزاج یہی ہوتا ہے؛ تاہم اس تماشائی کی تاریخ یہ ہے کہ وہ تماشے کو اپنے مفاد سے جوڑ لیتا ہے۔ اس معرکے کے فریق اگر چاہیں تو تماش بینوں کو مایوس کر سکتے ہیں۔ قوم کو بھی اب ماننا ہوگا کہ یہ پاکستان کی سلامتی اور بقا کی جنگ ہے۔ یہ مقدمہ اب قائم ہو جانا چاہیے کہ فتح ہو یا شکست، دونوں پاکستان کے حصے میں آئیں گے۔ عامۃ الناس کی حد تک یکسوئی لازم ہے۔ قوم کو معلوم ہو جائے کہ امن اس کی ضرورت ہے اور یہ جنگ ہم نے امریکہ کے لیے نہیں، اپنی بقا اور سلامتی کے لیے لڑنی ہے۔
اگر فیصلہ اب تلوار سے ہونا ہے‘ اور یہی اندیشہ ہے‘ تو پھر علمائے دیوبند کو نکلنا اور ان لوگوں کو بچانا ہو گا جو اس کی نذر ہونے والے ہیں۔ ان کو بچایا جا سکتا ہے‘ اگر یہ ریاست کی اتھارٹی کو تسلیم کر لیں۔ اس وقت علمائے دیوبند کا موقف بدقسمتی سے غلطی ہائے مضامین کا مجموعہ ہے۔ ایک غلطی تو ان سے یہ ہوئی کہ انہوں نے دین کی ایک عسکری تعبیر پیش کی۔ طالبان نے جب اسے عملاً اپنا لیا تو انہوں نے سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لیا۔ انہوں نے خود اُس 'اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ کی معیشت کو اسلامی بنانے کا بیڑا اٹھا لیا جسے طالبان اسلامی نہیں سمجھتے۔ لال مسجد جیسے حادثات سے انہیں اس غلطی کا احساس ہوا لیکن انہوں نے رجوع نہیں کیا۔ علما کی اس مصلحت آ میز خاموشی نے انہیں دفاعی جگہ پہ لاکھڑا کیا۔ علما کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمٰن جیسے اکابر جو کچھ نج کی مجالس میں کہتے ہیں، انہیں کبھی عوام میں نہیں کہہ سکے۔ ان علما سے دوسری غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے ریاست اور طالبان میں توازن پیدا کر نے کی کوشش کی۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ دونوں کو ایک پلڑے میں رکھنا شرعاً ممکن تھا نہ قانوناً۔ اگر پاکستان کی حکومت جائز ہے تو اس کے خلاف مسلح جدوجہد ناجائز ہے۔ اور اگر یہ کوئی ناجائز حکومت ہے تو ان پر لازم تھا کہ وہ طالبان کے حق میں فتویٰ جاری کرتے اور اعلانیہ ان کا ساتھ دیتے۔ انہوں نے طالبان کو غلط کہا‘ نہ حکومت کو ناجائز۔ ان سے تیسری غلطی یہ ہوئی کہ ایک فیصلہ کن موڑ پر ان کے گروہی اور شخصی مفادات غالب آ گئے۔ مذاکرات کا مرحلہ آیا تو مولانا سمیع الحق نے اسے مو لانا فضل الرحمٰن سے مسلک کی سیاسی قیادت چھیننے کا موقع جانا۔ دوسرے مولانا کچی گولیاں نہیں کھیلے تھے۔ انہوں نے اس عمل سے الگ ہو کر اپنی ساکھ کو بچا لیا کہ ان جیسا زیرک انسان ان مذاکرات کے انجام سے واقف تھا۔ دونوں کی پہلی ترجیح ان کا مفاد بن گئی، طالبان یا پاکستان پس منظر میں چلے گئے۔ اس بحث میں اسلام کا ذکر نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔
اگر علمائے دیوبند دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے اور اُن کی سیاسی
قیادت گروہی و شخصی مفادات سے بلند ہو سکتی تو ان غلطیوں سے بچا جا سکتا تھا۔ جب تک یہ معرکہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان تھا، اس کی نوعیت کچھ اور تھی۔ اس وقت میدان جنگ افغانستان تھا اور اس باب میں علما کو بتانا چاہیے تھا کہ پاکستان کے شہریوں کی ذمہ داری کیا ہے اور کیا وہ اپنے نظمِ اجتماعی سے بغاوت کر سکتے ہیں؟ پھر وہ مر حلہ آیا جب تحریکِ طالبان وجود میں آئی اور اس نے ریاست پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ کیا۔ بدقسمتی سے ان علما نے اس وقت بھی راہنمائی فراہم نہیں کی۔ اب یہ معرکہ حتمی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب ان علما کو مصلحت کی چادر اتار کر سامنے آنا اور بالخصوص اپنے ہم مسلک طالبان سے مخاطب ہونا ہو گا۔
By Khursheed Nadeem
Dunya.com.pk

Friday, February 7, 2014

Sharia.. Threat or Blessing.. نفاذِ شریعت کی دھمکی؟

نفاذِشریعت کیا کوئی دھمکی ہے جس سے مخالفین کو ڈرانا مقصود ہے؟
شریعت تو انسانوں کے لیے اللہ کی رحمت ہے۔یہ وہ راستہ ہے جو ابن آدم کی دنیاوی زندگی کے لیے آسودگی کا پیغام اوراُخروی زندگی کے لیے نجات کی نویدہے۔نادان دوستی کا یہ کرشمہ ہے کہ اسے یوں بیان کیا جا تا ہے جیسے یہ کوئی سزا ہو۔بدقسمتی سے لوگ دین کی حکمت سے واقف ہیں نہ پیغمبروں کی حکمت عملی سے۔یوں یہ اللہ کے آخری رسولﷺ کے اس ارشاد کے مصداق ہیں جس میں آپؐ نے فرمایا:لوگوں کو خوش خبری سناؤ، انہیں خوف زدہ نہ کرو۔جب سے لوگوں نے دین کو دعوت کی بجائے نظام سمجھنا شروع کیا ہے،انہیں نفاذِ شریعت کی تو فکر ہے، دعوتِ دین کی نہیں۔اسی کا ایک مظہر یہ ہے کہ لوگ معصوم انسانوں کا قتل کرتے اور اپنے تئیں گمان کرتے ہیں کہ وہ نفاذِشریعت کے پیامبر ہیں۔
انسانوں کو دین کی ضرورت کیوں ہے؟پیغمبر کیوں مبعوث ہوتے ہیں؟کیا اس لیے کہ وہ ایک ریاست بنائیں اور اجتماعیت کو اختیار کریں؟ کیا اس لیے کہ وہ ایک معاشرتی نظام ترتیب دیں؟ انسانی سماج کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ سب باتیں انسان کی فطرت میں مو جود ہیں۔ان کے لیے وحی کی ضرورت ہے نہ پیغمبروں کی۔یہ کام تو وہ بھی کرلیتے ہیں جو خدا سے واقف ہیں نہ اس کی وحی سے۔انسان اپنے مادی اور سماجی تقاضوں کا علم فطرت سے سیکھتا ہے۔اللہ کی ساری مخلوقات اسی طرح زندہ رہتی اور اپنی نسل کو بڑھاتی ہیں۔دین انسان کو یہ سکھانے آتا
ہے کہ مادی وجود کے ساتھ اس کا ایک اخلاقی وجود بھی ہے۔یہ اخلاقی وجود اسے دوسری مخلوقات سے ممتاز بنا تا ہے۔انسان کو اس آ زمائش میں مبتلا کیا گیا ہے کہ وہ اس وجود کی تطہیر کرے۔ یہ تطہیر کیسے ہو؟ یہ سکھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر بھیجے ہیں۔ پیغمبروں نے ایک تو اس بات کی خبر دی کہ اخلاقی وجود کی تطہیر اور تزکیے کے ساتھ اس کی اُخروی نجات وابستہ ہے۔اس کے ساتھ انہوں نے اپنا اسوہ پیش کیا کہ یہ تطہیر کیسے ہوگی۔یہی دین کی دعوت ہے اورپیغمبر اسی کے داعی ہوتے تھے۔ اس کا شعور بھی اگرچہ انسان کی فطرت میں مو جود ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے اس کی یاد ددہانی کا بھی اہتمام فرما یا ہے۔انسان جب تک ایک فرد ہے،اس کی ذمہ داری اپنے وجود کا تزکیہ ہے۔اگر وہ مل کر ایک اجتماعیت تشکیل دیتے ہیں توپھر ان کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی تطہیر بھی کریں۔ پیغمبر یہی بات کہنے کے لیے بھیجے گئے۔ ان کا کام تذکیر ہے۔ انہوں نے اسی کی یاد دہانی کرائی۔ لوگ مان لیں تو اسی میں ہی ان کی بھلائی ہے اور اگر نہ مانیں توانہیں زبر دستی اس کا پابند نہیں بنا یا جا سکتا۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسولﷺ کو ارشاد فرمائی:آپ تذکیر کرنے والے ہیں،آپ ان پر داروغہ نہیں۔(الغاشیہ21:88)
مسلمان جب کوئی ریاست قائم کرتے ہیں تویہ ان کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ دین کے ان احکامات کو ریاستی سطح پہ نافذ کریں جن کا تعلق ریاست سے ہے۔اجتماعیت کی دو صورتیں ہوتی ہیں... ایک معاشرہ اور ایک ریاست۔معاشرہ ایک نظامِ اقدار سے قائم رہتا ہے اور ریاست قانون سے۔اقدار وعظ و نصیحت اور شعوری تربیت سے فروغ پاتی ہیں‘ یہ کام جبر سے نہیں ہوتا۔ہرمعاشرے میں سماجی ادارے یہ کام کرتے ہیں۔ہمارے تہذیبی پس منظر میں گھر، مدرسہ،خانقاہ، مسجد اور دوسرے ادارے یہ فریضہ انجام دیتے ہیں۔قانون اس نظامِ اقدار کا پابند اور اس کا عکس ہوتا ہے‘ اس لیے قانون اس وقت تک مو ثر نہیں ہو تا جب تک نظام ِ اقدار مستحکم نہ ہو جائے۔ ہمارے ہاں لوگ ریاست اور سماج کے اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھتے۔وہ سماجی تشکیل کا کام بھی قانون سے لینا چاہتے اور اسے نفاذِ شریعت کا نام دیتے ہیں۔یہ پیغمبروں کی حکمت عملی سے بے خبری کی دلیل ہے۔
اللہ کے آخری رسولؐ نے پہلے ایک سماج بنایا۔ جب ایک نظام ِ اقدار مستحکم ہو گیا تب اللہ تعالیٰ نے قانون نازل کر ناشروع کیا۔مکہ کے تیرہ سال کوئی قانون نہیں اترا۔قرآن مجید کی مکی آیات میں کوئی قانون بیان نہیں ہوا۔شریعت اس وقت نازل ہونا شروع ہوئی جب مدینہ میں مسلم سماج مستحکم ہو گیا۔ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ نے اس کی حکمت بیان فرمائی۔کہا اگر لوگوں سے ابتدا ہی میں یہ کہہ دیا جا تا کہ بدکاری چھوڑ دیں تو وہ کبھی اس پر آ مادہ نہ ہوتے۔تمام اخلاقی معاملات میں اللہ کے رسولؐ کی حکمتِ عملی یہی رہی کہ پہلے سماج کو حساس بنایا‘ اس کے بعد قانون دیا جس کے لیے سماج تیار ہو چکا تھا۔ہمارے ہاں اسلام پسند چو نکہ ریاستی پس منظر(State Paradigm) میں سوچنے کے عادی ہیں، اس لیے نفاذِ شریعت سے ان کی مراد قانون سازی اور ریاستی جبرہوتا ہے۔پاکستان اس کا تجربہ کر چکا۔ یہاں اسلامی قانون سازی کے باب میں کوئی کمی نہیں لیکن سماج کہاں کھڑا ہے، ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔اس ملک میں تیس سال ہوگئے حدود قوانین کو نافذہوئے‘ اب تک عدالتوں کو کوئی ایک گواہ ایسا نہیں مل سکا جو شریعت کے مطابق گواہی دینے کا اہل ہو۔ نتیجہ یہ ہے کہ کسی کو حدود قوانین کے تحت سزا نہیں دی جا سکی۔ سماج جب تیار نہیں ہوتا تو اس میں کوئی قانون نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔دین کے جید علمایہ بات جانتے ہیں۔ مو لا نا مودودی نے لکھاتھاکہ جب سماج اخلاقی طور پر کمزور ہو تو اس میں سزا دینے کی جلدی نہیں کر نی چاہیے بلکہ ایسے سماج میں تو اُن لو گوں کو سر یا خان بہادر کا خطاب دینا چاہیے جو خود کو پاکیزہ رکھتے ہیں۔
جو ذہن دین کو محض نظام سمجھتا ہے، وہ اس بات کو سمجھنے سے معذور ہو تا ہے۔دین ہدایت ہے، دین خیر خواہی ہے۔ دین دراصل دعوت ہے۔جب ہم دین کو دعوت سمجھتے ہیں تو ہمارے اندر داعیانہ مزاج پیدا ہو تا ہے۔یہ مزاج ان لوگوں کے بارے میں خیر خواہی کے جذبات پیدا کرتا ہے جو اس ہدایت سے محروم ہیں‘ جن پر اس ہدایت کے فائدے واضح نہیں۔اس سے وہ پیغمبرانہ سوزپیدا ہوتا ہے جس کے تحت پتھر مارنے والوں کو بھی دعا دی جا تی ہے۔پھر داعی اس خیال میں گھلتا چلا جاتا ہے کہ لوگ جہنم کی طرف بڑھ رہے ہیں اور وہ ان کی ہدایت کے لیے بے چین ہو جا تا ہے۔ آج نفاذِ شریعت کا علمبردارمختلف رائے رکھنے والے کو اپنا حریف سمجھتا ہے۔ وہ ان کے سامنے شریعت کو ایسے پیش کرتا ہے جیسے انہیں دھمکی دے رہا ہے۔ یہ ذہن سماج کی اہمیت سے واقف نہیں ہے اوریہ چاہتا ہے کہ بالجبر اسے شریعت کا پابند بنائے۔اس حوالے سے بھی ہمارے سامنے افغانستان کا تجربہ مو جود ہے۔طالبان نے یہ کام جبر سے کیا۔ان کے جانے کے بعد اگلے دن کابل کے سینماؤں میں اتنا رش ہوا کہ لوگوں نے کھڑکیاں اور دروازے توڑ دیے۔
شریعت ایک خیر ہے‘ یہ کوئی دھمکی نہیں۔نفاذ ِ شریعت کی خواہش بہت محمود ہے لیکن یہ محض قانون اور جبر کا نام نہیں ہے۔یہ ایک داخلی تبدیلی کاناگزیر نتیجہ ہے۔ہماری کوشش اس داخلی تبدیلی کے لیے ہو نی چاہیے۔اس کے بعد سماج خود شریعت کی خواہش کرے گا۔یہ اُسی وقت ہوگا جب ہم دین کو نظام کے بجائے دعوت اور خود کو داروغہ کے بجائے داعی سمجھیں گے۔

http://dunya.com.pk/index.php/author/khursheed-nadeem/2014-02-08/5986/30216157#tab2

Sunday, January 12, 2014

چند تجاویز Suggestions for Islamic Rule in Pakistan

اگر اب بھی مدارس کے مخالفین راہِ راست پر نہیں آتے تو پھر کیا وہ آسمان سے پتھروں کی بارش برسنے کے منتظر ہیں؟ 

اسلام کے دشمن چودھری اسلم ایس ایس پی کو ختم کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ یہ جان جوکھوں کا کام تھا۔ آخر یہ عظیم الشان کارنامہ مدرسہ ہی کے طالب نے سرانجام دیا ع 
این کار از تو آید و مردان چنین کنند 
اس خودکش بمبار کے بھائی نے دورانِ تفتیش بتایا کہ اس کے والد مدرسہ چلاتے ہیں۔ طالبان کے ساتھ ان کے خاندانی تعلقات ہیں۔ ایک بھائی 2011ء میں خودکش حملہ کرنے کے لیے جا چکا ہے۔ یہ خودکش بمبار‘ جس نے چودھری اسلم کو ختم کیا‘ اپنے والد کی مدرسہ چلانے میں مدد کرتا تھا لیکن خود کسی اور مدرسہ میں زیر تعلیم تھا۔ وہ جس مدرسہ میں پڑھ رہا تھا‘ اس مدرسہ کے مالک (یا چلانے والے) کا صاحبزادہ بھی خودکش حملہ کر چکا ہے۔ خودکش بمبار کے بھائی نے مزید بتایا کہ اس کا ایک بھائی خودکش حملہ کرنے گیا تو اپنے دوسرے ساتھی کی گرفتاری سے خوف زدہ ہو کر واپس بھاگ آیا۔ اس پر مشن کی ناکامی کا الزام لگا اور وہ قتل کردیا گیا۔ 
اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم کچھ تجاویز پیش کر رہے ہیں: 
...ملک میں مدارس کی تعداد کو کئی گنا زیادہ کیا جائے۔ ایک ترکیب یہ ہے کہ تمام سرکاری سکولوں اور کالجوں کو ختم کر کے انہیں مدارس قرار دے دیا جائے اور علماء کرام سے درخواست کی جائے کہ وہ آ کر انتظام و انصرام سنبھالیں۔ 
...تمام یونیورسٹیوں کو ''دارالعلوم‘‘ قرار دے دیا جائے۔ ان میں صرف وہ علوم پڑھائے جائیں جنہیں ہمارے علماء کرام منظور فرمائیں۔ 
...پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے تعلیمی ادارے فی الفور بند کر دیے جائیں۔ مالکان کو حکم دیا جائے کہ اداروں کی چابیاں علماء کرام کے سپرد کردیں۔ 
...پورے ملک میں پتلون‘ کالر والا کوٹ‘ نکٹائی اور تسموں والے جوتے پہننا خلافِ قانون قرار دیا جائے۔ 
...کھانا میز کرسی پر بیٹھ کر کھانے کو جرم قرار دیا جائے۔ 
...سرکاری دفاتر سے میز کرسیاں اٹھا لی جائیں۔ افسروں کو گائو تکیے مہیا کیے جائیں۔ وہ قالینوں پر بیٹھیں اور سامنے لکڑی کی چوکیاں رکھیں۔ 
...انگریزی زبان سیکھنے اور سکھانے والوں کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ سید سلیمان ندوی کی تصنیف خطباتِ مدراس (Madras) پر پابندی عائد کی جائے۔ اس کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ علماء کرام کے لیے انگریزی زبان کا سیکھنا فرض ہے۔ سید سلیمان ندوی پر بعداز مرگ مقدمہ چلا کر قرار واقعی سزا سنائی جائے۔ 
...چونکہ تمام اسلامی علوم اور تعلیمات کا منبع افغانستان ہے‘ اس لیے وہاں کے رسوم و رواج کو کلی طور پر رائج کیا جائے۔ بالخصوص: 
...شٹل کاک (ٹوپی) برقع ہر پاکستانی عورت کے لیے لازمی قرار دیا جائے۔ 
... مردوں کے لیے پگڑی لازم قرار دی جائے۔ پگڑی باندھنے کا طریقہ بھی وہی ہو جو افغانستان میں رائج ہے۔ راجستھانی‘ پنجابی یا سندھی انداز میں پگڑی باندھنا جرم قرار دیا جائے۔ 
...ٹیکسلا کے عجائب گھر کو مسمار کر کے وہاں مدرسہ قائم کیا جائے۔ 
...بزرگ کبھی غلطی کا ارتکاب نہیں کر سکتے۔ ان کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے۔ ان کی اقتدا میں عورتوں کو پڑھنے کی اجازت تو دی جائے لیکن ان کے لیے لکھنا منع ہو۔ کسی لڑکی کو لکھائی سکھانے والے کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ 
...تمام بینک اور دیگر مالی ادارے فی الفور بند کر دیے جائیں۔ مالیات و حسابات کا کام علماء کرام کے سپرد کیا جائے۔ 
...کسی ایسی شے کا استعمال سختی سے ممنوع قرار دیا جائے جس کا کسی یہودی‘ عیسائی‘ ہندو یا کسی بھی کافرانہ مذہب سے دور کا بھی تعلق ہو۔ چنانچہ کار‘ ہوائی جہاز‘ موبائل فون‘ ٹیلی ویژن‘ اے سی‘ ریفریجریٹر‘ لائف سیونگ ادویات‘ بائی پاس آپریشن‘ اینجیوپلاسٹی‘ انٹرنیٹ‘ بال پین‘ ہینگر‘ ایمبولینس‘ ٹرین‘ لائوڈ سپیکر وغیرہ چونکہ عیسائیوں اور یہودیوں کی ایجادات ہیں‘ اس لیے ان کی درآمد‘ فروخت‘ خرید اور استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔ 
...عدالتیں فی الفور بند کردی جائیں۔ ان کی جگہ جرگہ سسٹم اور پنچایت کا نظام نافذ کیا جائے۔ 
...پاسپورٹ سسٹم غیر اسلامی ہونے کی وجہ سے ختم کردیا جائے۔ کسی بھی مسلمان ملک سے جو لوگ‘ جتنی تعداد میں آنا چاہیں‘ انہیں آنے‘ آباد ہونے اور اسلحہ رکھنے کی اجازت دی جائے۔ 
...جو ممالک پاکستانیوں کو پاسپورٹ یا ویزا کے بغیر آنے کی اجازت نہ دیں‘ ان سے سفارتی تعلقات ختم کردیے جائیں۔ 
...تمام غیر ملکی قرضے‘ بشمول ورلڈ بینک‘ آئی ایم ایف‘ ایشیائی ترقیاتی بینک‘ یک طرفہ طور پر منسوخ کر دیے جائیں اور ادائیگی سے انکار کردیا جائے۔ 
...غیر مسلم ممالک پر ایٹم بم گرایا جائے۔ 
...صدر اور وزیراعظم کے لیے پگڑی‘ چُغہ اور ہوائی چپل سرکاری اور قومی لباس قرار دیا جائے۔ 
...ڈاکٹری (ایلوپیتھک طریقِ علاج) ممنوع قرار دے کر یونانی طریقِ علاج جاری کیا جائے اور اسے یونانی کے بجائے اسلامی کہا جائے۔ 
...نیزہ بازی‘ تیراندازی اور شمشیر زنی کے علاوہ تمام نام نہاد کھیلوں پر پابندی عاید کردی جائے۔ بُزکشی کو قومی کھیل قرار دیا جائے۔ 
...جانچ پڑتال کی جائے کہ ملک کی آبادی میں کتنے لوگ دائرۂ اسلام سے خارج ہو چکے ہیں۔ ہر محلے میں علماء کرام کا بورڈ قائم کیا جائے۔ جو لوگ‘ دائرۂ اسلام سے باہر ثابت ہوں انہیں ذبح کیا جائے اور ان مناظر کی وڈیو جاری کی جائیں (چونکہ وڈیو کیمرے کفار کی ایجاد ہیں اس لیے علماء کرام سے درخواست کی جائے کہ وہ صرف اس مقصدِ جلیلہ کے لیے وڈیو کیمرے کی اجازت مرحمت فرمائیں)۔ 
...جمہوریت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔ الیکشن کمیشن‘ پارلیمنٹ‘ صوبائی اور مقامی جمہوری ادارے بند کر دیئے جائیں۔ 
یہ تمام اصلاحات اسی صورت میں ہو سکتی ہیں کہ ایک مقبولِ عام سیاست دان‘ جو جرگہ سسٹم کے پرانے مداح ہیں اور غازیانِ اسلام کے حامی‘ برسرِ اقتدار لائے جائیں‘ وفاق میں بھی ان کا اشتراک انہی قوتوں کے ساتھ ہو‘ جن کا ساتھ دینے کے لیے وہ معروف ہیں۔ 

Saturday, January 4, 2014

Rebellion against State for Shari’ah : جہاد یا فساد

Political Revolt Unlawful:
Despite the blatant perversion in the Muslim rulers after the pious caliphate, the Muslim ulema did not lead an insurrection against these corrupt individuals. For about a period of one thousand years they remained detached in this matter and continued to engage all their efforts in non-political fields. This was not a matter of accident but in obedience to the express injunctions of the Shari’ah. As we know, in the books of Hadith detailed traditions have been set down in the chapters titled Kitab al-Fitan. The Prophet Muhammad, may peace be upon him, observed in plain words that in later times perversions would set in in the rulers, they would become tyrannical and unjust, but that Muslims should not wield their swords against them [unless they display open Kufir, non belief, discontinue, Aqamat as Salah, preyer]. They should rather move to the mountains with their goats and camels. By ‘goats and camels’ are meant the opportunities in non-political fields which exist, even when the political institutions are corrupted. This injunction given by the Prophet meant that the Muslims should avail of such opportunities by avoiding clash and confrontation in the political field. In short, by ignoring the political problem, they should avail of the non-political opportunities. These injunctions of the Prophet Muhammad, may peace be upon him, were so clear that the Muslim ulema of later times formed a consensus to make insurrection against the rulers unlawful.
Imam An-Nawawi, commenting upon some traditions as set forth by Sahih Muslim (Kitab al-Imarah) observes: “You should not come into conflict with the rulers in matters of their power. Even if you find them going against express Islamic injunctions, you should attempt to make the truth clear to them solely through words of wisdom and advice. So far as revolt and war against them in order to unseat them is concerned, that is totally unlawful according to the consensus of the ulema, even when the rulers are zalim and fasiq (tyrants and corrupt).” (Sahih Muslim, bi sharh an-Nawawi, 12/229)
 “O ye who believe! obey ALLAH, and obey His Messenger and those who are in authority among you. And if you differ in anything refer it to ALLAH and His Messenger, if you are believers in ALLAH and the Last Day. That is best and most commendable in the end.”(Quran; 4:59)
Waging war against Allah and His Messenger (pbuh) and creating disorder on land is very serious sin & crime with capital punishment:
 “The only reward of those, who wage war against ALLAH and HIS Messenger and strive to create disorder in the land, is that they be slain or crucified or their hands and feet be cut off on account of their enmity, or they be expelled from the land. That shall be a disgrace for them in this world, and in the Hereafter they shall have a great punishment”(Quran; 5:33)
The verse [4:59] is the cornerstone of the entire religious, social and political structure of Islam, and the very first clause of the constitution of an Islamic state. It lays down the following principles as permanent guidelines:
In the Islamic order of life Muslims are further required to obey fellow Muslims in authority.
In the Islamic order of life, God alone is the focus of loyalty and obedience. Another basic principle of the Islamic order of life is obedience to the Prophet (peace be on him). This obedience follows, and is subordinate to, obedience to God and the Prophet (peace be on him). Those invested with authority (ulu al-amr) include all those entrusted with directing Muslims in matters of common concern. Hence, persons 'invested with authority' include the intellectual and political leaders of the community, as well as administrative officials, judges of the courts, tribal chiefs and regional representatives. In all these capacities, those 'invested with authority' are entitled to obedience, and it is improper for Muslims to cause dislocation in their collective life by engaging in strife and conflict with them. This obedience is contingent, however, on two conditions: first, that these men should be believers; and second, that they should themselves be obedient to God and the Prophet (peace be on him). These two conditions are not only clearly mentioned in this verse they have also been elucidated at length by the Prophet (peace be on him) and can be found in the Hadith. Consider, for example, the following traditions: A Muslim is obliged to heed and to obey an order whether he likes it or not, as long as he is not ordered to carry out an act of disobedience to God (ma'siyah). When ordered to carry out an act of disobedience-to God he need neither heed nor obey.
There is no obedience in sin; obedience is only in what is good (ma'ruf). (For these traditions see Bukhari, 'Ahkam', 4; 'Jihad', 108; Muslim, 'Amarah', 39; Tirmidhi, 'Jihad', 29; Ibn Majah, 'Jihad', 40; Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. 2, pp. 17 and 142 - Ed.)
Prophet (pbuh) is reported to have said: “There will be rulers over you, some of whose actions you will consider good and others abominable. Who even disapproves of their abominable acts will be acquitted of all blame, and whoever resents them he too will remain secure (from all blame); not so one who approves and follows them in their abominable acts. They (i.e. the Companions) asked: 'Should we not fight against them?' The Prophet (peace be on him) said: 'No, not as long as they continue to pray.” (See Bukhari, 'Jihad', 108 - Ed.)
This means that their abandonment of Prayer will be a clear sign of their having forsaken obedience to God and the Prophet (peace be on him). Thereafter it becomes proper to fight against them. In another tradition the Prophet (peace be on him) says: “Your worst leaders are those whom you hate and who hate you; whom you curse and who curse you. We asked: 'O Messenger of God! Should we not rise against them?' The Prophet (peace be on him) said: 'No, not as long as they establish Prayer among you: not as long as they establish Prayer among you.” (See Muslim, 'Amarah', 65, 66; Tirmidhi, 'Fitan', 77; Darimi, 'Riqaq, 78; Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. 6, pp. 24, 28 - Ed.)
In this tradition the position is further clarified. The earlier tradition could have created the impression that it was not permissible to revolt against rulers as long as they observed their Prayers privately. But the latter tradition makes it clear that what is really meant by 'praying' is the establishment of the system of congregational Prayers in the collective life of Muslims. This means that it is by no means sufficient that the rulers merely continue observing their Prayers: it is also necessary that the system run by them should at least be concerned with the establishment of Prayer. This concern with Prayer is a definite indication that a government is essentially an Islamic one. But if no concern for establishing Prayer is noticed, it shows that the government has drifted far away from Islam making it permissible to overthrow it. The same principle is also enunciated by the Prophet (peace be on him) in another tradition, in which the narrator says: 'The Prophet (peace be on him) also made us pledge not to rise against our rulers unless we see them involved in open disbelief, so that we have definite evidence against them to lay before God' (Bukhari and Muslim).