Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

تمام مسالک کے علماء کے دستخطوں سے تیار کر دہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ کے متفقہ فتویٰ پر ۹۲۸۱ علماء نے د...

Friday, February 2, 2018

کفار کی مدد کی چند صورتیں اور ان کے احکام



امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ اپنی کتاب نواقض الاسلام میں آٹھویں ناقض اسلام یہ بیان کرتےہیں کہ:

مسلمانوں کے خلاف کفار و مشرکین کی مدد کرنا اور ہر مصیبت میں ان کے کندھے سے کندھے ملا کر  کھڑے ہونا ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يَآاَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَـهُوْدَ وَالنَّصَارٰٓى اَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُـمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّـهُـمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّه مِنْـهُـمْ   اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الظَّالِمِيْنَ

(سورۃ المائدۃ 51)

اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تو وہ انہیں سے ہے، اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔

اور شیخ صالح بن فوزان رحمہ اللہ اس کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے یہاں کفارکے ساتھ  دوستی کی ایک قسم  ”مظاہرہ“ پر بات کی ہے۔ وگرنہ دوستی کی تو کئی ایک قسمیں ہیں۔مثلاً دلی محبت، غیر مسلموں کو مسلمانوں پر ترجیح دینا ، ان کی مدح و تعریف کرنا  اور اس جیسی اور بھی کئی قسمیں ہیں ،حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کفار سے نفرت و دشمنی رکھنا ،اور ان سے براءت کا اعلان کرنا مسلمانوں پر واجب کیا ہے  ۔اور اسی کو اسلام میں  ”الولاء والبراء“ اور”الموالاۃ “کا نام دیا جاتا ہے ۔

مسلمانوں کے خلاف کفار و مشرکین کی مددکرنےکی کچھ صورتیں ہیں اور سب کے علیحدہ علیحدہ احکام ہیں:

①پہلی قسم :

مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد ان کے کفر و شرک اور گمراہی کی  محبت کی وجہ سے کرنا تواس قسم کے شخص کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے میں  کوئی شک نہیں ۔چنانچہ جو یہ کام کرے گا وہ کافر ہو جائے گا اورانہی کے متعلق اللہ رب العزت کا فرمان ہے: (فَاِنَّه مِنْـهُـمْ)۔

② دوسری قسم :

مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد اپنی خوشی سے  نہیں کرتا بلکہ اسے اس کام پر مجبور کیا گیا ہے  اور وہ کفار سے  نفرت کرتا ہے۔اور اس کے دل میں ڈر بھی ہے کہ کہیں میں دائرہ اسلام سے خارج کرنے والے عمل  کا ارتکاب نہ کر بیٹھوں ،اور وہ وہاں سے ہجرت کی استطاعت بھی نہیں رکھتا تو ایسا شخص اس وعید میں شامل نہیں ہے اور اس کی مثال بدر میں کفار کے ساتھ حاضر ہونے والے ان مسلمانوں کی ہے کہ مشرکین مکہ نے انہیں مسلمانوں کے خلاف نکلنے پر مجبور کیا تھا اور انہیں نکلنا پڑا ۔حالانکہ ان کے دل  تو صرف مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتے تھے اور کائنات میں ان کے نزدیک مبغوض ترین مخلوق مشرک تھے۔ پھر بھی اللہ تعالی نے ان مسلمانوں سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں ہجرت  کرنے سے کون سی چیز آڑے رہی کہ انہوں نے ہجرت نہ کی اور مشرکین مکہ کے ساتھ رہنا پسند کیا۔

لیکن جو شخص ہجرت نہیں  کرتا   حالانکہ وہ ہجرت کی استطاعت بھی رکھتا ہے  اور وہ مشرکین کے ساتھ  رہتا ہے  اور وہ (مشرکین) اس کو زبردستی اس کو مسلمانوں کے خلاف قتال   پر لے جاتے ہیں  ، تو یہ شخص بھی اس وعید میں شامل ہے ۔

لیکن اگر وہ ہجرت کی استطاعت نہیں رکھتے تھے تو ان پر ملامت نہیں اور وہ اس وعید میں شامل نہیں ہیں۔کیونکہ اللہ کا قانون ہے کہ:

 (لَا يُكَلِّفُ اللّـٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا)

(سورۃ البقرہ 286)

اللہ کسی کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتا ۔

③تیسری قسم :

جو شخص مسلمانوں کے خلاف مشرکین و کفار کی مدد کر تا ہے  ، اور وہ اپنی مرضی سے کر رہا ہے اس پر اس کو کسی نے مجبور بھی نہیں کیا  حالانکہ وہ ان کفار کے دین سے نفرت بھی کرتا ہے ، تو یہ شخص کبیرہ گناہوں میں سے ایک کبیرہ گنا ہ کا مرتکب ہے  ،اور یہ کفر میں واقع ہو رہا ہے ۔

④چوتھی قسم :

کوئی شخص کفار کی مدد معاہد یا ذمی کفار کے خلاف کرے   تو یہ جائز نہیں ہے حرام ہے ، اوریہ اس لئے جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے معاہدے کو نقصان پہنچے گا ، اور جن کفار سے معاہدہ ہوتو کسی مسلمان کے لئے ان سے قتال کرنا جائز نہیں ۔

کیونکہ نبی مکرم ﷺ کا فرمان ہے :

مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا

(صحیح بخاری: 3166)

جس نے کو حلیف  کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو تواس (جنت )سے   چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی سکتی ہے۔

حالانکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے تو حلیف (معاہد ) کفار  کے خلاف مسلمانوں کی مدد سے بھی روک دیا  ، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ معاہد کفار کے خلاف غیر معاہد کفار کی مدد کی جائے۔چنانچہ  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِى الـدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَـهُـمْ مِّيْثَاقٌ ۗ وَاللّـٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْـرٌ

(سورۃ الانفال:72)

اور اگر وہ دین کے معاملہ میں مدد چاہیں تو تمہیں ان کی مدد کرنی لازم ہے مگر سوائے ان لوگوں کے مقابلہ میں کہ ان میں اور تم میں عہد ہو، اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔

 جب مسلمان ہم سے کفار کے خلاف مدد مانگیں تو ہمیں ہر صورت ان کی مدد کرنی چاہیے  مگر ایک صورت میں  ہمیں ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہیے  ، کہ مسلمان ہم سے ان کفار کے خلاف مدد طلب کر رہے ہوں کہ ہمارے اور ان کے درمیان عہد ہو  ، تو اس صورت ہمارے لئے جائز نہیں کہ ہم مسلمانوں کی مدد کریں ، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمیں عہد کو وفا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

⑤پانچویں قسم :

کفارکی مدد نہ کرنا لیکن ان سے محبت  و الفت رکھنا ، اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے منع کیا ہے ، جیسا کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں :

( لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ وَلَوْ كَانُـوٓا اٰبَآءَهُـمْ اَوْ اَبْنَآءَهُـمْ اَوْ اِخْوَانَـهُـمْ اَوْ عَشِيْـرَتَـهُـمْ ۚ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىْ قُلُوْبِهِـمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَهُـمْ بِـرُوْحٍ مِّنْهُ۔

(سورۃ المجادلۃ: 22)

آپ ایسی کوئی قوم نہ پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگو ں سے بھی دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں گو کہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور ان کو اپنے فیض سے قوت دی ہے ۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قول :

( وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْـرَاهِيْـمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَآ اِيَّاهُۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَـهٓ اَنَّه عَدُوٌّ لِّلّـٰهِ تَبَـرَّاَ مِنْهُ ۚ اِنَّ اِبْـرَاهِيْـمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْـمٌ)

(التوبۃ: 114)

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش کی دعا کرنا ایک وعدہ کے سبب سے تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے، پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے، بے شک ابراہیم بڑے نرم دل تحمل والے تھے۔

مزید اللہ تعالیٰ کا یہ قول:

(يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّىْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْـهِـمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّۚ يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ ۙ اَنْ تُؤْمِنُـوْا بِاللّـٰهِ رَبِّكُمْ…………………………رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَيْكَ اَنَبْنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْـرُ)

(سورۃ الممتحنہ:4)

اے ایمان والو! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ ان کے پاس دوستی کے پیغام بھیجتے ہو حالانکہ تمہارے پاس جو سچا دین آیا ہے اس کے یہ منکر ہو چکے ہیں، رسول کو اور تمہیں اس بات پر نکالتے ہیں کہ تم اللہ اپنے رب پر ایمان لائے ہو، اگر تم جہاد کے لیے میری راہ میں اور میری رضا جوئی کے لیے نکلے ہو تو ان کو دوست نہ بناؤ، تم ان کے پاس پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ میں خوب جانتا ہوں جو کچھ تم مخفی اور ظاہر کرتے ہو، اور جس نے تم میں سے یہ کام کیا تو وہ سیدھے راستہ سے بہک گیا۔اگر وہ تم پر قابو پائیں تو تمہارے دشمن ہو جائیں اور تم پر اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی سے دراز کریں اور چاہتے ہیں کہ کہیں تم کافر ہو جاؤ۔نہ تمہیں تمہارے رشتے ناطے اور نہ تمہاری اولاد قیامت کے دن نفع دیں گے، وہ (اللہ) تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا، اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے۔بے شک تمہارے لیے ابراہیم میں اچھا نمونہ ہے اوران لوگوں میں جو اس کے ہمراہ تھے، جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا بے شک ہم تم سے بیزار ہیں اور ان سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم نے تمہارا انکار کر دیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور بیر ہمیشہ کے لیے ظاہر ہوگیا یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لاؤ مگر ابراھیم کا اپنے باپ سے کہنا کہ میں تمہارے لیے معافی مانگوں گا اور میں اللہ کی طرف سے تمہارے لیے کسی بات کا مالک بھی نہیں ہوں، اے ہمارے رب ہم نے تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف ہم رجوع ہوئے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

آپ غور کیجئے کہ پوری سورۃ الممتحنہ  کفار کے ساتھ لگاؤاور محبت  کے حرام ہونے پر ہےاور ساری سورۃ ممتحنہ کا موضوع کفار کے ساتھ نفرت و عداوت  اور کسی قسم کی محبت نہ رکھنے پر ہے ،اگرچہ وہ مسلمانوں کے سب سے زیادہ قریب ہی کیوں نہ ہوں ، اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اس بات  پر مہر لگا دی کہ یہ فعل  کسی صورت جائز نہیں ہے ،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

(  يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ قَدْ يَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا يَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْرِ)

(سورۃ الممتحنہ :13)

اے ایمان والو! اس قوم سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا غضب ہوا وہ تو آخرت سے ایسے نا امید ہو گئے کہ جیسے کافر اہلِ قبور سے نا امید ہو گئے۔

 اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس آیت کی وعید کے زمرے میں شامل ہونے سے بچائے۔آمین

Related :

Jihad, Extremism