Featured Post

Terrorism and solution? دہشت گردی اور اس کا حل جوابی بیانیہ ؟

اِس وقت جو صورت حال بعض انتہا پسند تنظیموں نے اپنے اقدامات سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے پوری دنیا میں پیدا کر دی ہے، یہ اُسی فکر کا...

Tuesday, December 24, 2013

ردِّ بدعات ومنکرات Bidah, Prohibition of Inovations in Islam

خانہ ساز تاریخ کی ستم ظریفی بلکہ سنگدلی یہ ہے کہ ان پر شرک وبدعت اور فروغِ منکرات کی پھبتی کسی گئی، طَعن وتَشنیع کا نشانہ بنایا گیا، لیکن یہ سب اِتِّہامات واِلزَامات محض مفروضوں کی بنیاد پر عائد کیے گئے ، نہ کوئی حوالہ دیا گیا اور نہ ہی اُن کے فتاویٰ اور تصانیف کو پڑھنے کی کوشش کی گئی۔ بقولِ شاعر ؎

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے

امام احمد رضا قادری نَوَّراللہ مَرقدَہٗ کثیرالجہات،جامع العلوم اورجامع الصفات شخصیت تھے۔ وہ اپنے عہد کے عظیم مُفسِّر ، محدِّث ، فَقِیہ ،مُتَکلّم، مؤرّخ اور مُصلح تھے

اہلسنت وجماعت کو قبوری، قبر پرست اور قبروں کو سجدہ کرنے والے کہا جاتارہا ہے ،امام احمد رضاقادری لکھتے ہیں:''مسلمان ! اے مسلمان!اے شریعتِ مصطفوی کے تابعِ فرمان! جان کہ سجدہ حضرتِ عزّتِ جلّ جلالہٗ کے سوا کسی کے لیے نہیں ، اس کے غیر کو سجدۂ عبادت تو یقیناً اجماعاً شرکِ مہین وکفر مبین اور سجدۂ تَحِیَّۃ (تعظیمی) حرام وگناہِ کبیرہ بالیقین ، اِس کے کفر ہونے میں اِختلافِ عُلمائِ دین، ایک جماعتِ فُقہاء سے تکفیر منقول‘‘۔
سجدۂ عبادت تو بہت دور کی بات ہے ، اُنہوں نے سجدۂ تعظیمی کے حرام ہونے پر قرآن وسنت کی نُصوص سے استدلال کرکے ''اَلزُّبْدَۃُ الزَّکِیَّہ فِی حُرْمَۃِ السَّجْدَۃِ التَّحِیََّۃ‘‘ کے نام سے ایک باقاعدہ رسالہ لکھا ۔ امام احمد رضانے فقہِ حنفی کے مُسلّمہ فتاویٰ واَئِمَّۂ اَحناف کے حوالے سے لکھا:''عالموں اور بزرگوں کے سامنے زمین چُومنا حرام ہے اور چُومنے والا اور اِس پر راضی ہونے والا دونوں گناہگار ، کیونکہ یہ بت پرستی کے مُشابِہ ہے‘‘۔ مزید لکھتے: ہیں '' زمین بوسی حقیقۃً سجدہ نہیں کہ سجدے میں پیشانی رکھنا ضرور ہے ، جب یہ اس وجہ سے حرام اور مُشابِہِ بت پرستی ہوئی کہ صورۃً قریبِ سجود ہے ، تو خود سجدہ کس درجہ سخت حرام اور بت پرستی کا مُشابہ ِ تامّ ہوگا ، وَالْعَیَاذُبِاللّٰہ تَعَالٰی ‘‘ ۔ 
مزید لکھتے ہیں:'' مزارات کو سجدۂ (تعظیمی) یااس کے سامنے زمین چومنا حرام اور حدِّ رکوع تک جھکنا ممنوع ‘‘، اولیائِ کرام کے مزارات کی بات تو چھوڑیے ،وہ لکھتے ہیں :'' زیارتِ روضۂ انور سیدِ اطہر ﷺ کے وقت نہ دیوارِ کریم کو ہاتھ لگائے، نہ چُومے، نہ اُس سے چمٹے، نہ طواف کرے، نہ زمین کو چومے کہ یہ سب بدعتِ قبیحہ ہیں‘‘۔ شَرحِ لُباب کے حوالے سے لکھا:'' رہا مزار کو سجدہ، تووہ حرامِ قطعی ہے، تو زائر جاہلوں کے فعل سے دھوکہ نہ کھائے بلکہ علمائِ باعمل کی پیروی کرے ، مزار کو بوسے میں (علماء کا )اختلاف ہے اور چُھونا، چِمٹنا اِس کے مثل،اَحوَط(یعنی شریعت کا محتاط ترین حکم) منع اور عِلّت(یعنی ممانعت کا سبب ) خلافِ ادب ہونا‘‘۔ فقہی حوالے کے ساتھ مزید لکھا:'' مزار کو سجدۂ (تعظیمی) تو درکنار، کسی قبر کے سامنے اللہ عزّ وجل کو سجدہ جائز نہیں،اگر چہ قبلے کی طرف ہو (یعنی یہ بت پرستی کے مشابہ ہے)، قبرستان میں نماز مکروہ ، کہ اس میں کسی قبر کی طرف رُخ ہوگا اور قبر کی طرف نماز مکروہ ہے ، البتہ قبرستان میں مسجد یا نماز کی جگہ بنی ہو تو اس میں حرج نہیں ہے۔ قبر کی اونچائی کی بابت ان سے سوال ہواتولکھا:''خلافِ سنت ہے، میرے والدِ ماجد، میری والدۂ ماجدہ اور بھائی کی قبریں دیکھیے، ایک بالشت سے اُونچی نہ ہوںگی‘‘۔
امام احمد رضاقادری سے مزاراتِ اولیاء کرام کے طواف کی بابت سوال ہواتو اُنہوں نے لکھا:''بلاشبہ غیرکعبۂ مُعَظّمَہ (بشمول روضۂ رسول)کا طوافِ تعظیمی ناجائز ہے اورغیر خداکو (تعظیماً ) سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے اور بوسۂ قبر میں علماء کو اختلاف ہے اورمحتاط ترین قول ممانعت کاہے،خصوصاً مزاراتِ طیّبہ اولیائے کرام کہ ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ کم ازکم چار ہاتھ کے فاصلے پرکھڑاہو،یہی ادب ہے،پھر تَقبِیل(چومنا) کیسے مُتصَوّر ہوسکتاہے، یہ وہ ہے جس کا فتویٰ عوام کودیاجاتاہے اور تحقیق کا مقام دوسراہے‘‘ ۔
امام احمد رضا سے سوال ہواکہ بعض وظائف میں آیات اور سورتوں کو مَعکوس (اُلٹ) کرکے پڑھنا کیساہے ؟اُنہوں نے فرمایا:''حرام اور اَشدّ حرام ،کبیرہ اور سخت کبیرہ (گناہ )،کفرکے قریب ہے،یہ تودرکنارسورتوں کی صرف ترتیب بدل کر پڑھنا ،اِس کی نسبت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کیاایسا کرنے والا ڈرتانہیں کہ اللہ اس کے قلب کو اُلٹ دے ،چہ جائیکہ آیات کو بالکل معکوس (اُلٹ ) کرکے مُہمل(بے معنیٰ) بنادینا‘‘۔
آج کل جاہل پیرومُرشِد بنے ہوئے ہیں،دین کے علم سے بے بہرہ ہیں،اپنی جہالت کا جواز اِس طرح کی باتیں بناکر پیش کرتے ہیں کہ طریقت باطنی اور روحانی اَسرارورمُوزکا نام ہے،علماء توصرف الفاظ اورظاہرکو جانتے ہیں،اُن کے دل نورسے خالی ہیں،گویا طریقت اور شریعت کو ایک دوسرے کی ضد قراردیتے ہیں،امام احمد رضا قادری نے لکھا: ''شریعت اصل ہے اورطریقت اُس کی فرع،شریعت مَنبع ہے اورطریقت اس سے نکلاہوا دریا،طریقت کی جدائی شریعت سے مُحال ودشوارہے،شریعت ہی پرطریقت کا دَارومَدَارہے ،شریعت ہی اصل کاراورمَحَکّ ومعیار ہے،شریعت ہی وہ راہ ہے جس سے وصول اِلَی اللہ ہے ،اس کے سوا آدمی جوراہ چلے گا، اللہ تعالیٰ کی راہ سے دور پڑے گا ،طریقت اس راہ کا روشن ٹکڑا ہے،اِس کا اُس سے جداہونا محال ونامناسب ہے۔طریقت میں جوکچھ منکشف ہوتاہے،شریعتِ مُطہرہ ہی کے اِتّباع کا صدقہ ہے،جس حقیقت کو شریعت رَد فرمائے،وہ حقیقت نہیں،بے دینی اورزَندقہ ہے‘‘۔امام احمد رضا قادری سے پوچھاگیا کہ ایک شخص شریعت کا عامل نہیں ہے،اَحکامِ شریعت کا تارک ہے،اُس کا مُؤاخَذہ کیاجائے توکہتاہے:''اَحکامِ شریعت تووصول الی اللہ کا ذریعہ ہیںاورمیں تو واصل ہوچکا ہوں،یعنی منزلِ حق پرپہنچا ہواہوں،لہٰذا میں اب اَحکام کا مُکلّف(جواب دہ ) نہیں ہوں،اُنہوں نے امام الصوفیاء حضرت عبدالوہاب شعرانی اورسیّدُ الطائفہ جنید بغدادی رحمہما اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بتایاکہ:''ہاں! واصل (پہنچاہوا)توضرور ہے مگر جہنم میں‘‘۔مزید لکھتے ہیں: '' صوفیائے کرام فرماتے ہیں :صوفیِ بے علم مسخرۂ شیطان اَست۔ وہ جانتاہی نہیں شیطان اُسے اپنی باگ ڈور پر لگالیتاہے،حدیث میںارشاد ہوا:'' بغیر فقہ کے عابد بننے والا ایساہے جیسے چکی میں گدھا ‘‘ کہ محنتِ شاقّہ کرے اورحاصل کچھ نہیں ‘‘۔
لغت میں بدعت ہرنئی چیزکو کہتے ہیں اوراصطلاح شرع میں ''دین میں ایسی چیز اختراع کرناجس کی اصل دین میں نہ پائی جائے،بدعت ہے،یعنی ہروہ چیز جوکسی دلیلِ شرعی کے مُعارِض (مُتصادم) ہو،بدعت ِ شرعیہ ہے‘‘۔
امام احمد رضا سے سوال ہواکہ کیا فلاحِ آخرت کے لیے مُرشِد ضروری ہے،اُنہوں نے جواب میں لکھا کہ یہ ضروری نہیں ہے،ایک مُرشِد عام ہوتاہے،فلاح ظاہر ہو یا فلاحِ باطن ،اس مُرشِد سے چارہ نہیں،جواس سے جداہے،بلاشبہ کافر ہے یا گمراہ اور اس کی عبادت تباہ وبرباد۔اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے فرمایا: عوام کارہنما۔۔۔کلامِ عُلماء ، علماء کا رہنما۔۔۔ کلامِ اَئِمَّہ ،اَئِمَّہ کا رہنما۔۔۔ کلام ِرسول اور رسول اللہ کا رہنما۔۔۔ کلام اللہ عَزَّوَجلّ ۔ شیخ ایصال اور مُرشِد کامل کے لیے انہوں نے چارکڑی شرائط بیان کی ہیںجن پر لفظاً ومعناً پورااترنا ہرایک کا منصب نہیں ہے ۔اس لیے اُنہوں نے بیعت کا معنی ومفہوم،بیعت کی اقسام ثلاثہ یعنی بیعتِ برکت،بیعتِ ارادت اور بیعتِ منفعت اوران کی تفصیل اوراَحکام بیان کیے ہیں،جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ماہِ صفرالمظفرکے آخری بدھ کے بارے میں لوگوں میں رائج رسومات کی بابت لکھتے ہیں:''آخری چہارشنبہ کی کوئی اصل نہیں،نہ اس دن صحت یابی حضور سید عالم ﷺ کا کوئی ثبوت بلکہ مرض اقدس جس میں وفات مبارکہ ہوئی،اس کی ابتدا اسی دن سے بتائی جاتی ہے اورایک حدیث مرفوع میں آیاکہ ''ابتدائی اِبتَلائے سیدنا ایوب علیہ الصلوٰۃ والسلام اِسی دن تھی اور اسے نَحِس سمجھ کر مٹی کے برتن توڑدینا گناہ اور مال کا ضائع کرناہے۔ بہرحال یہ سب باتیں بے اصل وبے معنی ہیں‘‘۔ 
پیرزادہ علامہ سید محمد فاروق القادری رحمہ اللہ تعالیٰ نے ''فاضلِ بریلوی اوراُمورِ بدعات‘‘کے عنوان سے ایک گرانقدرکتاب تالیف مرتب کی ہے،علمی ودینی ذوق رکھنے والوں کواس کا بغورمطالعہ کرنا چاہیے۔

Saturday, December 21, 2013

جہاد یا فساد Jihad or Fisad



Javed Ahmad Ghamidi response to letter by Taliban


The Taliban’s Line of Reasoning


The self-appointed warriors of God known to the world as the Taliban have killed countless innocent people in the last ten years. They insist that they are doing all this for God and in submission to His directives. They have restated this stance of after their cowardly attack on Malalah Yusufsai. In support of this stance, they present the Qur’an and Hadith and certain incidents that occurred in the lifetime of the Prophet Muhammad (sws). Since people are generally unaware of religion and religious disciplines, they may be influenced by this line of reasoning. We, therefore, would like to present some facts in the following paragraphs in consideration of this scenario.


1. No doubt jihad is a directive of Islam. The Qur’an requires of its followers that if they have the strength, they should wage war against oppression and injustice. The primary reason for which this directive is to curb persecution which is the use of oppression and coercion to make people give up their religion. Those having insight know that Muslims are not given this directive of jihad in their individual capacity; they are addressed in their collective capacity regarding this directive. They are not individually addressed in the verses of jihad which occur in the Qur’an. Thus in this matter only the collectivity has the right to launch any such armed offensive. No individual or group of Muslims has the right to take this decision on their behalf. It is for this reason that the Prophet (sws) is reported to have said: A Muslim ruler is a shield; war can only waged under him.1 Even a little deliberation is enough for a person to conclude whether the Taliban are following this principle or blatantly violating it.


2. The directive of jihad given by Islam is war for the cause of God; therefore, it cannot be waged while disregarding moral restrictions. Ethics and morality supersede everything in all circumstances and even in matters of war and armed offensives, the Almighty has not allowed Muslims to deviate from moral principles. Hence, it is absolutely certain that jihad can only be waged against combatants. It is the law of Islam that if a person attacks through his tongue, then this attack shall be countered through the tongue and if he financially supports the warriors then he will be stopped from this support; however, unless a person picks up arms to wage war, his life cannot be taken. So much so, if right in the battle field the enemy throws down his arms and surrenders, he shall be taken a prisoner; he cannot be executed after this. The words of the verse which mention the directive of jihad are: “and fight in the way of Allah with those who fight against you and do not transgress bounds [in this fighting]. Indeed, God does not like the transgressors,” (2:190). The Prophet (sws) forbade the killing of women and children during war.2 The reason for this is also that if they have embarked upon jihad with the army, it is not in the capacity of combatants. At best, they can boost the morale of the combatants and urge them through the tongue to fight.


This then is the shari‘ah of God. But what are the Taliban doing? Men of learning like Mawlana Hasan Jan, Mawlana Sarfaraz Na‘imi and Dr Muhammad Faruq Khan never undertook to wage war against them. Malalah Yusufza’i is an innocent girl. She never took up arms against them. In spite of this, the Taliban insist that all these people deserve death. Is this merely because they had dared to differ with them? There is no doubt that in the presence of political authority in a place that authority has the right to punish criminals; it also is true that in this regard there cannot be any difference between a man and a woman. The Qur’an very explicitly states that whether a woman or a man is guilty of theft both will be punished and both have the same punishment. The same is true for an adulterer and an adulteress. However, when did the Taliban have political authority on the persons just mentioned and when did these persons commit crimes which are punishable by death as per the Islamic shari‘ah? The Qur’an very explicitly states that the death punishment can be meted out only in cases of murder and spreading anarchy in the land and not in any other crime. Who among the people pointed out above is guilty of murdering someone or was guilty of spreading anarchy by threatening the life, wealth or honour of someone? In reality, the Taliban themselves are guilty of these crimes and testify to their confessions every day.


3. Polytheism, disbelief and apostasy are indeed grave crimes; however, no human being can punish another human being for these crimes. This is the right of God alone. In the Hereafter too, He will punish them for these crimes and in this world it is He Who does so if He intends to do so. The matter of the Hereafter is not under discussion here. In this world, this punishment takes place in the following manner: when the Almighty decides to reward and punish people in this very world on the basis of their deeds, He sends His messenger towards them. This messenger conclusively communicates the truth to these people such that they are left with no excuse before God to deny it. After that the verdict of God is passed and those people who even after the conclusive communication of the truth insist on disbelief and polytheism are punished in this world. This is an established practice of God which the Qur’an describes in the following words: “And for each community, there is a messenger. Then when their messenger comes, their fate is decided with full justice and they are not wronged.” (10:47)


This punishment is generally given in the manner it was given to the people of Noah (sws), the people of Hud (sws), the people of Salih (sws), the people of Lot (sws), the people of Shu‘ayb (sws) and to some other nations. However, if a messenger has a substantial number of companions and after migrating from their people, they are also able to gain political authority at some place, then this punishment is implemented through the swords of the messenger and his companions. It is this second situation which arose in the case of Muhammad (sws). Thus the active adversaries among his opponents first met their fate; after this a general order of killing the rest of the adversaries was given. For them the declaration of this punishment came in 9th hijrah on the day of hajj-i akbar. Following are the words of this directive mentioned in the Qur’an: “Then when the sacred months [after the hajj-i akbar] have passed, kill these Idolaters wherever you find them, and [for this objective] capture them and besiege them, and lie in wait for them in each and every ambush. But if they repent and are diligent in the prayer, and give zakāh, then leave them alone.” (9:5)


This is the punishment of God which was meted out to the Idolaters of Arabia. When such a punishment descends on the perpetrators, no exception is given to women and children and they are destroyed the way the nations of Noah (sws) Hud (sws), Salih, Lot (sws) and Shu‘ayb (sws) were destroyed. It is thus mentioned in various narratives that when troops were sent to implement this punishment, he was asked what to do about the women and children of the Idolaters who would also be there; at this, the Prophet (sws) replied that they were from among them.3 It was these people about whom he had directed that if they embraced faith at that time and then became apostates and later adopted disbelief they would deserve this same punishment of death.4


In spite of conclusive communication of the truth, the punishment of these people was deferred till 9 AH because they were not active adversaries and there was a chance that they might repent and hence be saved from punishment. On the other hand, people who besides their rejection of the truth became open and active adversaries were not given this respite. They were killed whenever it became possible. Abu Rafi‘, Ka‘b ibn Ashraf, ‘Abdullah ibn Khattal, his slave-girls and from among the prisoners of the battles of Badr and Uhud ‘Uqbah ibn Abi Mu‘it, Nadr ibn al-Harith and Abu ‘Izzah et al. were killed for this very reason.


This was the verdict of God which is necessarily implemented after conclusive communication of the truth by His messengers. It is about this verdict that the Qur’n has said: “You shall never see any change in this practice of God,” (17:77). Its nature is the same as of the sacrifice of Ishmael (sws) and the incident of Khidr. It is not related to us human beings. Just as we cannot drill a hole in the boat of a poor person to help him and cannot kill a disobedient boy nor embark upon slaughtering any of our sons on the basis of a dream as Abraham (sws) did, similarly, we cannot undertake this task except if a revelation comes from God or if He directly gives an order. Everyone knows that the door to this has permanently been closed.
The incidents which the Taliban are presenting to support their measures are of the nature just described. This is nothing but audacity to generalize for themselves what specifically rests in the hands of God. There can be no greater a crime than this on God’s earth. Every believer should seek God’s refuge from this.




1. Abū ‘Abdullāh Muhammad ibn Ismā‘īl al-Bukhārī, Al-Jāmi‘ al-sahīh, 2nd ed. (Riyād: Dār al-salām, 1999), 489, (no. 2957).
2. Al-Bukhārī, Al-Jāmi‘ al-sahīh, 498, (no. 3015); Abū al-Husayn ibn Hajjāj Muslim al-Nīsabūrī, Al-Jāmi‘ al-sahīh, 2nd ed. (Riyād: Dār al-salām, 2000), 303, (no. 1744).
3. Al-Bukhārī, Al-Jāmi‘ al-sahīh, 497, (no. 3012); Muslim, Al-Jāmi‘ al-sahīh, 303, (no. 1745).
4. Al-Bukhārī, Al-Jāmi‘ al-sahīh, 498, (no. 3017).

Thursday, December 12, 2013

ظالم فاسق فاجر حکمران - علماء اور مسلمانوں کا رویہ Rebellion against Oppressor, Sinner Muslim rulers


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا
مومنو! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے
“O ye who believe! obey ALLAH, and obey His Messenger and those who are in authority among you. And if you differ in anything refer it to ALLAH and His Messenger, if you are believers in ALLAH and the Last Day. That is best and most commendable in the end.”(Quran; 4:59)
Waging war against Allah and His Messenger (pbuh) and creating disorder on land is very serious sin & crime with capital punishment:
إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے
“The only reward of those, who wage war against ALLAH and HIS Messenger and strive to create disorder in the land, is that they be slain or crucified or their hands and feet be cut off on account of their enmity, or they be expelled from the land. That shall be a disgrace for them in this world, and in the Hereafter they shall have a great punishment”(Quran; 5:33)

















Rebellion against Oppressor, Sinner Muslim rulers is not allowed:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا
مومنو! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے
“O ye who believe! obey ALLAH, and obey His Messenger and those who are in authority among you. And if you differ in anything refer it to ALLAH and His Messenger, if you are believers in ALLAH and the Last Day. That is best and most commendable in the end.”(Quran; 4:59)
Waging war against Allah and His Messenger (pbuh) and creating disorder on land is very serious sin & crime with capital punishment:
إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے
“The only reward of those, who wage war against ALLAH and HIS Messenger and strive to create disorder in the land, is that they be slain or crucified or their hands and feet be cut off on account of their enmity, or they be expelled from the land. That shall be a disgrace for them in this world, and in the Hereafter they shall have a great punishment”(Quran; 5:33)
This verse [4:59] is the cornerstone of the entire religious, social and political structure of Islam, and the very first clause of the constitution of an Islamic state. It lays down the following principles as permanent guidelines:
(1)    In the Islamic order of life, God alone is the focus of loyalty and obedience. A Muslim is the servant of God before anything else, and obedience and loyalty to Allah constitute the centre and axis of both the individual and collective life of a Muslim. Other claims to loyalty and obedience are acceptable only insofar as they remain secondary and subservient, and do not compete with those owed to God. All loyalties which may tend to challenge the primacy of man's loyalty to God must be rejected. This has been expressed by the Prophet ((صلي الله عليه وسلم)  in the following words: 'There may be no obedience to any creature in disobedience to the Creator.' (Muslim, 'Iman', 37; Ahmad bin Hanbal, Musnad, vol. 3, p. 472 - Ed.)
(2)    Another basic principle of the Islamic order of life is obedience to the Prophet (peace be on him). No Prophet, of course, is entitled to obedience in his own right. Obedience to Prophets, however, is the only practical way of obeying Allah, since they are the only authentic means by which God communicates His injunctions and ordinances to men. Hence, we can obey God only if we obey a Prophet. Independent obedience to God is not acceptable, and to turn one's back on the Prophets amounts to rebellion against God. The following tradition from the Prophet (peace be on him) explains this: 'Whoever obeyed me, indeed obeyed God; and whoever disobeyed me, indeed disobeyed God.' (Bukhari, 'Jihad', 109; 'I'tisam', 2; Muslim, 'Amarah', 32, 33; Nasa'i, 'Bay'ah', 27; etc. - Ed.) This has been explained in more detail as we  further study the Qur'an.
(3)    In the Islamic order of life Muslims are further required to obey fellow Muslims in authority. This obedience follows, and is subordinate to, obedience to God and the Prophet (peace be on him). Those invested with authority (ulu al-amr) include all those entrusted with directing Muslims in matters of common concern. Hence, persons 'invested with authority' include the intellectual and political leaders of the community, as well as administrative officials, judges of the courts, tribal chiefs and regional representatives. In all these capacities, those 'invested with authority' are entitled to obedience, and it is improper for Muslims to cause dislocation in their collective life by engaging in strife and conflict with them. This obedience is contingent, however, on two conditions: first, that these men should be believers; and second, that they should themselves be obedient to God and the Prophet (peace be on him). These two conditions are not only clearly mentioned in this verse they have also been elucidated at length by the Prophet (peace be on him) and can be found in the Hadith. Consider, for example, the following traditions: A Muslim is obliged to heed and to obey an order whether he likes it or not, as long as he is not ordered to carry out an act of disobedience to God (ma'siyah). When ordered to carry out an act of disobedience-to God he need neither heed nor obey.
There is no obedience in sin; obedience is only in what is good (ma'ruf). (For these traditions see Bukhari, 'Ahkam', 4; 'Jihad', 108; Muslim, 'Amarah', 39; Tirmidhi, 'Jihad', 29; Ibn Majah, 'Jihad', 40; Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. 2, pp. 17 and 142 - Ed.)
Prophet (pbuh) is reported to have said: “There will be rulers over you, some of whose actions you will consider good and others abominable. Who even disapproves of their abominable acts will be acquitted of all blame, and whoever resents them he too will remain secure (from all blame); not so one who approves and follows them in their abominable acts. They (i.e. the Companions) asked: 'Should we not fight against them?' The Prophet (peace be on him) said: 'No, not as long as they continue to pray.” (See Bukhari, 'Jihad', 108 - Ed.) This means that their abandonment of Prayer will be a clear sign of their having forsaken obedience to God and the Prophet (peace be on him). Thereafter it becomes proper to fight against them. In another tradition the Prophet (peace be on him) says: “Your worst leaders are those whom you hate and who hate you; whom you curse and who curse you. We asked: 'O Messenger of God! Should we not rise against them?' The Prophet (peace be on him) said: 'No, not as long as they establish Prayer among you: not as long as they establish Prayer among you.” (See Muslim, 'Amarah', 65, 66; Tirmidhi, 'Fitan', 77; Darimi, 'Riqaq, 78; Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. 6, pp. 24, 28 - Ed.) In this tradition the position is further clarified. The earlier tradition could have created the impression that it was not permissible to revolt against rulers as long as they observed their Prayers privately. But the latter tradition makes it clear that what is really meant by 'praying' is the establishment of the system of congregational Prayers in the collective life of Muslims. This means that it is by no means sufficient that the rulers merely continue observing their Prayers: it is also necessary that the system run by them should at least be concerned with the establishment of Prayer. This concern with Prayer is a definite indication that a government is essentially an Islamic one. But if no concern for establishing Prayer is noticed, it shows that the government has drifted far away from Islam making it permissible to overthrow it. The same principle is also enunciated by the Prophet (peace be on him) in another tradition, in which the narrator says: 'The Prophet (peace be on him) also made us pledge not to rise against our rulers unless we see them involved in open disbelief, so that we have definite evidence against them to lay before God' (Bukhari and Muslim).
(4)    In an Islamic order the injunctions of God and the way of the Prophet (peace be on him) constitute the basic law and paramount authority in all matters. Whenever there is any dispute among Muslims or between the rulers and the ruled the matter should be referred to the Qur'an and the Sunnah, and all concerned should accept with sincerity whatever judgement results. In fact, willingness to take the Book of God and the Sunnah of His Messenger as the common point of reference, and to treat the judgement of the Qur'an and the Sunnah as the last word on all matters, is a central characteristic which distinguishes an Islamic system from un-Islamic ones. Some people question the principle that we should refer everything to the Book of God and the Sunnah of the Prophet (peace be on him). They wonder how we can possibly do so when there are numerous practical questions involved, for example, rules and regulations relating to municipal administration, the management of railways and postal services and so on which are not treated at all in these sources. This doubt arises, however, from a misapprehension about Islam. The basic difference between a Muslim and a non-Muslim is that whereas the latter feels free to do as he wishes, the basic characteristic of a Muslim is that he always looks to God and to His Prophet for guidance, and where such guidance is available, a Muslim is bound by it. On the other hand, it is also quite important to remember that when no specific guidance is available, a Muslim feels free to exercise his discretion because the silence of the Law indicates that God Himself has deliberately granted man the freedom to make his decision.
Since the Qur'an is not merely a legal code, but also seeks to instruct, educate, admonish and exhort, the earlier sentence which enunciates a legal principle is followed by another which explains its underlying purpose and wisdom. Two things are laid down. First, that faithful adherence to the above four principles is a necessary requirement of faith. Anyone who claims to be a Muslim and yet disregards the principles of Islam involves himself in gross self-contradiction. Second, the well-being of Muslims lies in basing their lives on those principles. This alone can keep them on the straight path in this life, and will lead to their salvation in the Next. It is significant that this admonition follows immediately after the section which embodies comments about the moral and religious condition of the Jews. Thus the Muslims were subtly directed to draw a lesson from the depths to which the Jews had sunk, as a result of their deviation from the fundamental principles of true faith just mentioned. Any community that turns its back upon the Book of God and the guidance of His Prophets, that willingly follows rulers and leaders who are heedless of God and His Prophets, and that obeys its religious and political authorities blindly without seeking authority for their actions either in the Book of God or in the practice of the Prophets, will inevitably fall into the same evil and corruption as the Israelites.
Bukhari and Muslim narrated from Abdullah ibn al-Abbas, “if someone dislikes his ruler, he must be patient, because if he comes against the ruler in a rebellious or destructive manner by only a hand span and dies, he dies in a state of pre-Islamic ignorance (jahiliyyah) and sin.” Adherence to above principles create stability avoid anarchy [fisad-fil-ardh] and establish peace and justice so vital for development and progress of Muslims.
In reality, the corrupt ruler is imposed by Allah due to our own wrongdoings, thus it becomes necessary that we repent and seek Allah’s forgiveness coupled with good actions, as Allah Most High says: “Whatever misfortune happens to you, is because of the things your hands have wrought” (Quran;42:30)…….. And He says: “Thus do we make the wrongdoers turn to each other, because of what they earn” (Quran;6:129). Therefore, if a nation wants to free themselves from the oppression of their leader, they must refrain themselves from oppressing others.
So what else Muslims should do? Prophet Muhammad  صلي الله عليه وسلم  said: "The best Jihad is to speak the truth before a tyrant ruler" (Bukhari). If this  act is performed at large scale in present time, it may be termed as a strong protest. People of Pakistan and other Islamic countries can reject the corrupt, tyrant and inefficient rulers through elections and elect good, pious Muslims who can establish justice and implement  Shari’ah. People of Egypt kicked out Husni Mubark through protests and elected a pious Muslim as their president.
Which religion the Takfiri Taliban are following? Definitely their religious practice is not based on Quran and Sunnah of Prophet Muhammad صلي الله عليه وسلم .  They follow the religion based upon desires of their own delf [Nafas Ammarah] and interpretations of semi literate Mullahs of village mosques, which contradict Quran and Sunnah of Prophet Muhammad صلي الله عليه وسلم . They can be called Khawarij of this era.
Any sane person with common sense can read following verses from Quran with translation to understand and distinguish truth from falsehood:
مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ
جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبا ل اُسی پر ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا
Whoever is guided, is guided for his own good, and whoever goes astray does so to his own detriment. No sinner will bear the sins of anyone else.(Quran;17:15)
مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا
جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہ
Whoever recommends and helps a good cause becomes a partner therein: And whoever recommends and helps an evil cause, shares in its burden: And Allah hath power over all things.(Quran;4:85)
More: http://takfiritaliban.blogspot.com/2012/08/illogical-logic-of-takfiri-taliban-to.html











مزید پڑھیں:
  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس لنک پر پڑھیں : http://goo.gl/y2VWNE
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل



Monday, December 9, 2013

جہاد اور جماعت اسلامی Jihad, Modudi and Jamat Islami


سید منور حسن کے اس دھماکہ خیز بیان کے بعد کہ ریاست کے باغی حکیم اللہ محسود کو شہید کی حیثیت حاصل ہے‘ ایک بلاوجہ کی بحث چھڑ گئی۔ مناسب ہوتا کہ سید صاحب اپنے دلخراش بیان سے رجوع فرما لیتے۔ لیکن جماعت اسلامی کا زیادہ تر ریکارڈ یہی ہے کہ یہ عوام الناس کے عمومی رحجان کے خلاف موقف اختیار کرتی ہے اور پھر اکثریت کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے کبھی عوام میں مقبولیت حاصل نہیں ہوئی اور اس نے کبھی کوئی الیکشن نہیں جیتا ۔ سید صاحب نے ایک ایسے وقت میں تکلیف دہ بیان جاری کیا جب کہ پاک فوج اپنے وطن اور عوام کی حفاظت کے لئے باغیوں اور عوام دشمنوں کے خلاف برسرپیکار ہے اور پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کی سب سے بڑی تنظیم کے سربراہ کی امریکی ڈرون کے حملے میں ہلاکت کو شہادت قرار دے ڈالا۔ اس بات کا موقع محل سے کوئی تعلق نہیں۔ عوام اپنی فوج اور ریاست کے باغیوں کے بارے میں واضح خیالات رکھتے ہیں۔ انہیں ایک نئی بحث میں الجھانے کا مطلب صرف ایک ہو سکتا ہے کہ بے گناہ شہریوں کی شہادتوںاور وطن کی حفاظت کے لئے عوام کے اندر جو یکجہتی پائی جاتی ہے‘ اس کی جگہ انتشار پھیلایا جائے اور ظاہر ہے انتشار کا فائدہ ہمیشہ دشمن اٹھاتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف کو داد دینا پڑے گی کہ فوج کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر سید صاحب نے جو زخم لگایا تھا‘ انہوں نے بلاتاخیر اس پر مرہم رکھنے کے لئے شہدا کی یادگار پر پھول چڑھائے اور دعا مانگی۔ جنرل کیانی ان کے ساتھ تھے۔ وزیراعظم کی اس بروقت حاضری نے لاکھوں شہیدوں کے پسماندگان اور ساتھیوں کے شکستہ دلوں کو پھر سے مضبوط کیا۔ ان کے ماند پڑتے حوصلوں کو تقویت دی اور اسلام کے نام پر گمراہی پھیلانے کی جو کوشش کی جا رہی تھی‘ اسے مٹی میں ملا دیا۔ نوازشریف کے بروقت اقدام نے اس زہریلے بیان کے اثرات ماند کر دیئے‘ جو محض دلوں کو دکھانے کے اذیت پسندانہ طرزعمل کا نتیجہ تھا۔ یہاں پر مجھے قاضی حسین احمد بہت یاد آئے۔ جماعت اسلامی کی زندگی میں اگر اسے کبھی منتخب ایوانوں میں قابل ذکر نشستیں ملیںیا شریک اقتدار ہونے کا وقت آیا‘ تو یہ سارے واقعات قاضی حسین احمد مرحوم کے زمانے میں ہوئے۔ وہ ہمیشہ عوامی رحجانات کا لحاظ رکھتے۔ شدید مخالفانہ بیانات کے جواب میں انتہائی شائستگی سے کام لیتے۔ یہاں تک کہ جو مولانا فضل الرحمن آج جماعت اسلامی سے دوردور رہتے ہیں‘ ان کے ساتھ متحدہ محاذوں میں شامل رہے اور مخلوط حکومتوں میں بھی شرکت کی۔ اب میں ایک تاریخی انٹرویو کا حوالہ پیش کروں گاجو سید ابوالاعلیٰ مودودی نے 17اگست 1948ء کو دیا تھا۔ جب قائد اعظمؒ حیات تھے۔ یہ انٹرویو جماعت اسلامی کے ترجمان سہ روزہ ’’کوثر‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ کل ایک کالم میں اس کا سرسری سا ذکر آیا۔ آج میں ریاست کے باغیوں کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے بارے میں مولانا مودودی مرحوم کے خیالات نقل کر تے ہوئے ان کے جانشینوں کو کچھ یاد دلانا چاہتا ہوں۔ مولانا سے سوال ہوا تھا کہ ’’ایک ذمہ دار خطیب نے آپ پر الزام عائد کیا ہے کہ آپ نے کشمیر میں شہید ہونے والوں کی موت کوحرام قرار دیا اور انہیں جہنمی کہا۔ کیا واقعتا ایسا ہے؟‘‘ جواب تھا’’یہ بات میں نے کبھی نہیں کہی۔ جو کچھ میں نے کہا ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ جب تک حکومت پاکستان نے حکومت ہند کے ساتھ معاہدانہ تعلقات قائم کر رکھے ہیں‘ پاکستانیوں کے لئے کشمیر میں‘ ہندوستانی فوجوں سے لڑنا ازروئے قرآن جائز نہیں۔ میرے اس قول کو لے کر ایک منطقی ہیرپھیر کے ذریعے یہ نتیجہ نکال لیا گیا ہے کہ جب ایسا کرنا جائز نہیں‘ تو جو لوگ وہاں لڑ کر مارے جاتے ہیں‘ وہ ضرور حرام موت مرتے ہیں اور جہنمی ہیں۔ پھر اپنے نکالے ہوئے اس نتیجے کو زبردستی مجھ پر تھوپ دیا گیا کہ یہ میرا قول ہے۔یہ دراصل تکفیر بازوں کا پرانا حربہ ہے کہ کسی شخص کی کہی ہوئی اصل بات پر اگر لوگوں کو اشتعال نہ دلایا جا سکے‘ تو اس میں سے ایک دوسری بات خود نکال کر‘ اس کی طرف منسوب کر دی جائے۔ درآنحالیکہ اس نے وہ بات نہ کہی ہو۔مثلاً ایک گروہ کے نزدیک‘ ایک چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور دوسرے کے نزدیک نہیں ٹوٹتا۔ اب بڑی آسانی سے اول الذکر گروپ پر تھوپ دیا جا سکتا ہے کہ وہ موخرالذکر گروہ کے تمام لوگوں کی نمازوں کو باطل قرار دیتا ہے۔ اس طرح کھینچ تان سے کام لے کر بارہا مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑایا جا چکا ہے اور مجھے افسوس ہے کہ فتنہ پردازی کا یہ فن اب تک تازہ ہے۔ (تازہ کیا؟ نشوونما پا کر پاکستان میں انتشار کو مسلسل فروغ دے رہا ہے۔ ناجی)سیدھی سی بات یہ ہے کہ میں اس معاملے میں اپنی ایک رائے رکھتا ہوں اور دلائل کے ساتھ اسے ظاہر کر دیتا ہوں۔ دوسرے علما کچھ اور رائے رکھتے ہیں اور وہ بھی اپنی رائیں بیان کر دیتے ہیں۔ اب جسے میری رائے پر اطمینان ہو‘ وہ اس پر عمل کرے اور جسے دوسرے علما کے فتوے پر بھروسہ ہو‘ وہ اس پر عمل کر لے۔ کسی کی عاقبت کے متعلق پیش گوئی کرنا اور کسی کو جنت اور کسی کو دوزخ بانٹنا میرا کام ہے اور نہ کسی دوسرے عالم کا۔ یہ خدا کا کام ہے کہ وہ اپنے جس بندے کو چاہے جنت دے دے اور جسے چاہے دوزخ میں جگہ دے۔ میں کسی مسئلے پر جس حد تک اظہار رائے کر سکتا ہوں‘ وہ صرف اس قدر ہے کہ ایساکرنا شرعاً صحیح ہے یا نہیں اور اپنی رائے پر بھی مجھے اصرار نہیں ہو گا کہ ضرور اسی کو مانا جائے۔ اگر کوئی عالم دین دیانتداری کے ساتھ اس رائے سے اختلاف رکھتا ہو اور خود عمل کرے یا اس کے فتویٰ پر کوئی دوسرا شخص عمل کر دے تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ البتہ میں جس سچ چیز کو صحیح سمجھتا ہوں‘ اس پر خود عمل کرتا ہوں اور دو سروں کو وہی رائے دے سکتا ہوں اور جب تک اس کے خلاف کوئی دلیل مجھے مطمئن نہ کر دے‘ اپنی رائے دیانتاً واپس نہیں لے سکتا۔ اجتہادی مسائل میں علما کا قدیم سے یہی طریقہ چلا آ رہا ہے اور کبھی کسی ذمہ دار عالم نے اپنی اجتہادی رائے کے متعلق ایسا اصرار نہیں کیا کہ جو لوگ کچھ دوسری رائے رکھتے ہیں‘ ان کے عمل کوباطل قرار دیں اور ان کے جنتی یا جہنمی ہونے کا پیشگی فیصلہ صادر کریں۔‘‘(یہی سید منور حسن نے کیا ہے۔ انہوں نے خدائی اختیار استعمال کرتے ہوئے‘ ایک دہشت گرد کو شہید قرار دے دیا‘ جس کا مقام جنت ہوتا ہے اور پاک فوج کے جانیں قربان کرنے والے سپاہیوں اور افسروں کو شہادت کا درجہ دینے سے انکار کر دیا۔ناجی) یہاں پر آ کر مولانا سے دریافت کیا گیا کہ آپ کے متعلق یہ بات کہی جاتی ہے کہ’’ آپ جہاد کشمیر کو جہاد ہی نہیں مانتے۔ اگر ایسا ہے تو آپ کی رائے کی بنیاد کیا ہے؟‘‘ مولانا نے فرمایا ’’میں بارہا اس بات کو واضح کر چکا ہوں کہ کشمیر کے لوگوں کو اپنی مدافعت کے لئے لڑنے کا پورا حق حاصل ہے اور ان کی لڑائی جہاد کے حکم میں ہے۔ اب جو لوگ کوئی غلط بات مجھ سے منسوب کرتے ہیں۔ وہ خود اس کے ذمہ دار ہیں۔‘‘ مولانا سے پوچھا گیا کہ ’’آپ کے متعلق اس بات کا بھی عام چرچا کیا جا رہا ہے کہ آپ کشمیری مجاہدین کو مدد دینے کے خلاف ہیں۔ چنانچہ اس طرح کی باتوں سے پاکستانیوں میں بھی اور آزاد قبائل میں بھی بہت بددلی پھیلائی جا رہی ہے؟‘‘ مولانا کا جواب تھا ’’آزاد قبائل کے جو لوگ پاکستان کے شہری نہیں ہیں۔ وہ قطعاً کسی ایسے معاہدے کے پابند نہیں جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہے۔ وہ اگر کشمیری مجاہدین کی امداد کے لئے جائیں‘ تو ان کو حق پہنچتا ہے اور ان کا اسلامی فرض ہے کہ وہ‘ ان کی مدد کریں۔ البتہ انہیں یہ کام حسن نیت کے ساتھ کرنا چاہیے اور اسلامی حدود کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔رہا پاکستان کے لوگوں کی طرف سے امداد کا سوال‘ تو میں نے اس معاملے میں جو کچھ رائے ظاہر کی ہے‘ وہ جنگی امداد کے متعلق ہے اور جنگی امداد میں صرف دو چیزیں آتی ہیں۔ ایک اسلحہ فراہم کرنا۔ دوسرا لڑنے کے لئے آدمی بھیجنا۔ یہ دو قسم کی مدد دینا میں اس وقت تک جائز نہیں سمجھتا‘ جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ دونوں حکومتوں کے درمیان کسی طرح کے معاہدانہ تعلقات نہیں تھے یا اب نہیں رہے۔ان دو قسم کی اعانتوں کے سوا ہم آزاد کشمیر کے لوگوں اور ان کی مدد کرنے والوں کو غلہ‘ کپڑا‘ دوائیں‘ مرہم پٹی کا سامان‘ طبی امداد کے لئے ڈاکٹر اور تیماردار سب کچھ بھیج سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر وہ پاکستان میں آکر اسلحہ خریدیں تو ان کے ہاتھ وہ بھی فروخت کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں خود جماعت اسلامی بھی خاموشی کے ساتھ کچھ نہ کچھ کر رہی ہے اور یہ چیز اصولاً معاہدانہ تعلقات کے خلاف نہیں ہے۔‘‘ 

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے انٹرویو کی بنیاد پر لکھے گئے کالم کی پہلی قسط آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ دوسری قسط کی ابتدا انہی کے الفاظ سے کر رہا ہوں۔’’ذاتی طور پر میری اور بحیثیت مجموعی جماعت اسلامی کی مستقل پالیسی یہ ہے کہ ہم اپنے اصل مقصد یعنی نظام اسلامی کے قیام کے سوا کسی اور مسئلے کو اپنی جدوجہد کا محور نہیں بناتے۔ دوسرے مسائل اگر پیش آتے ہیں‘ تو ان پر زیادہ سے زیادہ بس اتنا ہی کیا جاتا ہے کہ ہم اپنے نزدیک جو کچھ حق سمجھتے ہیں‘ اس کو بیان کر دیتے ہیں۔‘‘ جماعت اسلامی نے شہادت کے مسئلے پر اپنے موجودہ امیر کے دفاع میں جو بیان جاری کیا ہے‘ اسے بانی جماعت کے مندرجہ بالا الفاظ کی روشنی میں پڑھئے اور آپ کو بانی جماعت اور اس کی موجودہ قیادت کا فرق معلوم ہو جائے گا۔ اب میں جہاد کشمیر کے حوالے سے مولانا کے مزید کچھ خیالات پیش کرتا ہوں۔ ’’سوال: کہا جا رہا ہے کہ آپ نے اور آپ کی جماعت نے جہاد کشمیر کو کمزور کرنے کے لئے ایک مستقل معرکہ شروع کر رکھا ہے اور اس سے محاذ کشمیر کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں خلل آ رہا ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ شرعاً آپ کے لئے ایسی مہم جاری کرنا لازم ہے؟ جواب:یہ مہم جاری کرنے کا الزام قطعاً بے بنیاد ہے۔ میں نے تو ایک شخص کے اصرار پر ایک پرائیویٹ صحبت میں محض اپنی رائے ظاہر کر دی تھی۔ اس کے بعد اس رائے کو پھیلانے کی پوری مہم ان لوگوں نے خود اپنے ذمے لے لی‘ جنہیں کشمیر کو بچانے کی اتنی فکر نہیں جتنی مجھے بدنام کرنے کی فکر ہے۔ ذاتی طور پر میری اور بحیثیت مجموعی جماعت اسلامی کی مستقل پالیسی یہ ہے کہ ہم اپنے اصل مقصد یعنی نظام اسلامی کے قیام کے سوا کسی اور مسئلے کو اپنی جدوجہد کا محور نہیں بناتے۔ دوسرے مسائل اگر پیش آتے ہیں تو ان پر زیادہ سے زیادہ بس اتنا ہی کیا جاتا ہے کہ ہم اپنے نزدیک جو کچھ حق سمجھتے ہیں‘ اس کو بیان کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد اس کی تبلیغ اور اس کے لئے کوئی جدوجہد نہ میں خود کرتا ہوں اور نہ جماعت کے لوگ۔ میں نے پچھلے چند مہینوں میں متعدد تقریریں کی ہیں جنہیں ہزاروں آدمیوں نے سنا ہے اور کوئی سامع یہ شہادت نہیں دے سکتا کہ مسئلہ کشمیر کے متعلق میں نے کچھ بھی اظہار رائے کیا ہو۔ صرف لائل پور میں چند الفاظ مجبوراً اس لئے کہے تھے کہ مجمع عام میں مجھ سے سوال کیا گیا اور میں نے جب کہا کہ سائل صاحب نجی صحبت میں مجھ سے آ کر دریافت کر لیں‘ تو اصرار کیا گیا کہ مجمع عام ہی میں جواب دیا جائے۔ جماعت کے دوسرے لوگوں کے متعلق میں نے پوری طرح تحقیق کر لیا ہے کہ انہوں نے نہ بطور خود اس مسئلہ کو کسی کے سامنے چھیڑا ہے‘ نہ کہیں اس کی تبلیغ کی ہے لیکن اس کا کیا علاج کیا جائے؟ جب ہم نظام اسلامی کی دعوت پیش کرنے کے لئے لوگوں کے سامنے جاتے ہیں تو فتنہ پسند لوگ جان بوجھ کر خود اس سوال کو چھیڑتے ہیں۔ معذرت کی جائے تو اصرار کرتے ہیں اور جب مجبوراً جواب دیا جائے تو الزام عائد کرتے ہیں کہ تم نے اس کے لئے مہم شروع کر رکھی ہے‘ حالانکہ مہم خود ان لوگوں نے شروع کر رکھی ہے‘ جو اخبارات میں اور خطبوں اور تقریروں میں اس سوال کو چھیڑتے چلے جا رہے ہیں۔ سوال:یہ بات آپ کے علم میں آ چکی ہو گی کہ تقریر و تحریر کے ذریعے عام طور پر کہا جا رہا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کوئی معاہدانہ تعلقات نہیں ہیں اور اس بات کے کہنے والوں میں بعض پبلک اہمیت رکھنے والے حضرات بھی شامل ہیں۔ نیز یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قرآن کی جس آیت سے آپ نے استدلال کیا ہے اس میں لفظ ’’میثاق‘‘ آیا ہے دوسری طرف عدم محاربہ (Non Aggression) کے معاہدے یا حلیفانہ (Alliance) کے لئے استعمال ہوتا ہے نہ کہ چند اشیا کے تجارتی تبادلے کے سمجھوتوں کے لئے۔ سوال یہ ہے کہ آخر آپ کس بنا پردونوں کے درمیانہ معاہدانہ تعلقات ہونے کی رائے رکھتے ہیں؟ جواب:میں جس بنا پر یہ رائے رکھتا ہوں وہ یہ ہے کہ اولاً دونوں حکومتوں کی پیدائش ہی ایک معاہدے کے ذریعے سے ہوئی ہے جو برطانوی حکومت کی پیش کردہ تجویز کو قبول کر کے مسلمانوں اور ہندوئوں کے نمائندوں نے باہم طے کیا تھا۔ اس معاہدے میں یہ بات آپ سے آپ شامل تھی کہ دونوں مملکتیں ایک دوسرے کی دشمن اور ایک دوسرے کے خلاف برسرجنگ نہیں ہیں‘ بلکہ پرامن طریقے سے ملک کی تقسیم پر متفق ہو رہی ہیں۔ اس کے بعد دونوں حکومتوں کے درمیان فوراً سفارتی تعلقات قائم ہو گئے اور ہائی کمشنروں کا تبادلہ ہوا۔ سفارتی تعلقات ہمیشہ سے حالت جنگ (STATE OF WAR) کے نہ ہونے کی دلیل سمجھے جاتے رہے ہیں اور آج بھی سمجھے جاتے ہیں۔ پھر دونوں حکومتوں کے درمیان مالی اور تجارتی معاملات اور مہاجرین کے مختلف مسائل‘ اغوا شدہ عورتوں کی بازیافت اور کرنسی کے معاملات کے متعلق مسلسل سمجھوتے ہوتے رہے ہیں اور یہ تمام سمجھوتے اس بات کی دلیل ہیں کہ ان کے درمیان حالت جنگ قائم نہیں ہے ۔ دنیا کی کوئی قوم بھی کسی دوسری قوم سے مالی اور تجارتی لین دین اس حالت میں نہیں کرتی جبکہ وہ اسے اپنے خلاف برسرجنگ سمجھتی ہو۔ اس کے بعد ابھی اپریل 1948ء میں دونوں حکومتوں کے درمیان کلکتے کا معاہدہ ہوا ہے‘ جس میں اور مسائل پر سمجھوتہ کرنے کے ساتھ اس امر پر بھی سمجھوتہ طے ہوا تھا کہ دونوں حکومتیں اپنے اپنے ملک کے اخبارات کو ہدایات کریں گی کہ وہ کوئی ایسی بات شائع نہ کریں جس سے یہ معنی نکلتے ہوں کہ ان دونوں کے درمیان جنگ ناگزیر ہے یا اعلان جنگ ہونا چاہیے۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ دونوں حکومتیں باہم مصالحانہ تعلقات رکھتی ہیں اور انہیں جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں اس سمجھوتے کا حوالہ دیتے ہوئے پنڈت نہرو کی معاندانہ تقریروں کے خلاف حکومت پاکستان نے احتجاج کیا ہے کہ یہ تقریریں میثاق کلکتہ کی اسپرٹ(یہاں کچھ بے ربطی ہے میں قیاساً تین الفاظ شامل کر رہا ہوں)’’ کے خلاف ہیں‘‘۔ شکایت کی بنیاد ہی یہ ہے کہ ریاستوں کے متعلق تقسیم کے معاہدے ہیں لہٰذا جو بات طے ہوئی تھی‘ اس کی رو سے ریاست جونا گڑھ پاکستان میں شرکت کی دستاویز پر دستخط کرنے کے بعد پاکستان کاحصہ ہو چکی ہے اور اس کی پروا نہ کرتے ہوئے انڈین یونین نے اس پر زبردستی قبضہ کیا ہے۔ آخر انڈین یونین کے اس فعل کو بدعہدی قرار دینے کے سوا کیا کہا جاتا؟کہ دونوں کے درمیان کوئی معاہدانہ تعلق تھا جس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ یہ ساری باتیں بھی اگر کسی کے نزدیک معاہدے کی تعریف میں نہ آتی ہوں تو وہ اپنی رائے کا مختار ہے۔ میں اب تک یہی سمجھتا ہوں کہ دونوں حکومتوں کے درمیان ایسے معاہدانہ تعلقات ہیں جن کو قائم رکھتے ہوئے ہم انڈین یونین کے خلاف شرعاً کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ’’میثاق‘‘ کا اعلان صرف اس معاہدے پر ہوتا ہے جس میں عدم محاربہ کی تصریح ہو یا جس میں باہم حلیفانہ تعلق کا عہدوپیمان ہو‘ وہ نہ قرآن سے کوئی دلیل پیش کر سکتے ہیں‘ نہ لغت عرب سے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے اور انبیاء سے جو اقرار لئے تھے ان کے لئے لفظ ’’میثاق‘‘ ہی کو استعمال کیا ہے۔ آخر ان دونوں میں سے کون سا مفہوم ان مواقع پر مراد ہے؟‘‘ قارئین!آپ جانتے ہیں کہ گزشتہ نصف صدی میں میرا تعلق اس مکتبہ فکر سے رہا ہے‘ جو پاکستان کو ترقی پسند‘ خوشحال اور مستحکم ملک کی حیثیت میں دیکھنے کے خواہش مند تھے۔ میرا شعبہ صحافت رہا اور جتنی میری بساط تھی‘ اس کے مطابق مندرجہ بالا مقاصد حاصل کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرتا رہا۔ اسی مکتبہ فکر کی سیاست میں بھی حصہ لیا مگر میں زندگی میں اپنے خوابوں کی تعبیر نہیں دیکھ پایا۔ مستقبل قریب میں بھی اس کی امید نہیں۔ مولانا مودودیؒ ایک دوسری طرز فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے لئے ایک ایسی معاشرت چاہتے تھے‘ جس میں وہ اپنی دینی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اسی مقصد کے لئے انہوں نے اپنی جماعت قائم کی لیکن خواب ان کے بھی پورے نہ ہوئے۔ پاکستان کا خواب قائد اعظمؒ نے دیکھا تھا۔ جغرافیائی اعتبار سے تو ان کا خواب پورا ہو گیا ۔ لیکن وہ پاکستان میں کیسا نظام حیات چاہتے تھے؟ اس کی انہوں نے کبھی جامع تعریف نہیں کی اور نہ ہی اس موضوع پر کوئی مکمل تحریر چھوڑی۔ نتیجہ یہ ہے کہ قائداعظمؒ کا نام لینے والے اپنے اپنے خیالات کو ان سے منسوب کر کے‘ اپنا اپنا نظریہ پاکستان پیش کرتے رہتے ہیں۔ مشرقی پاکستان کی اکثریت اپنے نظریئے کے مطابق خطے کو علیحدہ کر کے پاکستان سے الگ ہو گئی۔ باقی ماندہ پاکستان میں رہنے والوں نے اپنے اپنے ذہن کے مطابق قیام پاکستان کے جداجدا مقاصد مرتب کر رکھے ہیں۔ کاش! قائد اعظمؒ زندگی میں پاکستان کو ایک دستور دے جاتے یامسلم لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی میں اتفاق رائے سے نئی ریاست کو چلانے کے لئے متصورہ نظام کے بنیادی نکات رہنما اصولوں کی صورت میں مرتب کر لیے جاتے‘ جن پر نئی ریاست کے امور کو چلانا مقصود ہوتا۔ ان میں سے کوئی بھی کام نہ ہوا۔ اس موضوع پر پھر کبھی لکھوں گا۔ مولانا مودودی سے جس موضوع پر زیربحث انٹرویو لیا گیا‘ وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ نئی نسل کے لئے میں مکمل انٹرویو روزنامہ ’’دنیا‘‘ کے سنڈے میگزین میں شائع کر رہا ہوںتاکہ یہ تاریخی دستاویز زیادہ لوگوں کے ہاں محفوظ ہو جائے۔
By Nazir Naji
http://dunya.com.pk/index.php/author/nazeer-naji/2013-11-15/5015/62691861#tab2
http://e.dunya.com.pk/magazine/index.php?e_name=LHR&m_date=2013-12-01

Aljihad Fil Islam By Syed Abulala Maududi Pages: 600

Idara Tarjuman ul Quran http://tazkeer.org/scan/?itemid=1664
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
Who can declare Jihad?
1) Just as punishments of amputation of hands and flogging despite being unmistakable injunctions of the Qur'an cannot be implemented by individuals, similarly Jihad cannot be done by people on their own. In both cases, an Islamic State is a precondition. However, while people are willing to accept the condition of the State for the implementation of punishment, they are not willing to accept the condition for the purpose of Jihad. What he says is that if the leader of the Jihad movement cannot be given the right to enforce Islamic punishments on his soldiers on committing crimes, how can he be allowed to lead them to fight and risk their lives?

2) The scholar also claims that the understanding that an Islamic State with an Amir is a necessary condition for doing jihad is an understanding which almost all earlier scholars agreed to. This is so because it was realised by the scholars that the permission to do Jihad, like in the case of punishments, was given to the prophet, Allah's mercy be on him, and his companions only after he had migrated to Madina where he was able to create an Islamic State. It is only in the recent times that there has emerged a tendency amongst religious leaders to lead people in Jihad without the power of the State.

3) If the condition of Islamic state is not recognised and it is conceded that any well-meaning Muslim leader can declare Jihad against the enemies, then there is a potential danger of the creation of conditions of utter chaos and bloodshed in the name of Jihad. One religious group may consider another as worthy of being fought against. In fact, many of such groups have sometimes shown the tendency of doing 'Jihad' against fellow Muslim groups as well, because they don't consider those others as Muslims. Most of the killings in the Sunni-Shia disputes take place in the name of Jihad. This tendency has not only led to unnecesary bloodshed, it has also badly damaged the good name of Islam, because many people blame Islam for whatever is going on in the name of Jihad.

I find all these arguments of the scholar convincing and worthy of our attention. I therefore am inclined to believe that even if Muslims of the present times are being subjected to difficulties by non-Muslims, they should endure them patiently and continue to live as good Muslims. This attitude is likely to bring many non-Muslims closer to Islam. If matters go beyond limits, they should either migrate to an Islamic State or urge that state to declare Jihad against the tyrant rulers who are causing hardship for Muslims. However, under no circumstances should stray groups of Muslims resort to armed struggle for independence. They can, however, defend themselves with arms if attacked by the enemy.
Views: 1405
http://www.khalidzaheer.com/qa/255
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Who Can Declare Jihad?


Muhammad Munir 


Department of Law, International Islamic University, Pakistan

April 14, 2012

Research Papers, Human Rights Conflict Prevention Centre (HRCPC) Vol. XII. no. 1-2 (2012), pp. 1279-1294. 

Abstract:      

Non-state Islamic actors are engaged in their war against the West, Muslim states, and in some cases against their own states. Among the propaganda campaign raised by these Jihadis for winning support of fellow Muslims is that jihad can be declared by any jihadi group within a Muslim state and there is no need for the head of such a Muslim state for such a declaration. How does Islamic law look at the complex relations between jihadis operating from within a Muslim state and whether the state might be blamed for their attacks and other activities outside such a state? This paper explains relationship between jihadi groups inside a Muslim state which has necessary military and political authority but which has not given any explicit permission to such groups to operate. It is concluded that classical Islamic law does not authorize the operations of jihadi groups without the permission of the Imam. In addition, under Islamic law such a state is responsible for the acts of jihadi groups operating from its territory.
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~