Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Wednesday, March 27, 2019

کرونا اور علماء پاکستان کا رویہ - لمحہ فکریہ Corona & Attitude of Ulema of Pakistan - Point to Ponder



Faith is entirely a personal matter, which cannot be measured or quantified. Anyone who declares to believe in 6 Fundamentals and 5 Pillars of Islam is considered as a Muslim even if he lacks in practice.
 کرونا اور علماء پاکستان کا رویہ - لمحہ فکریہ:پاکستان اس وقت  تک ترقی نہیں کر سکتا  جب تک ہم اس جاہل ، مزہبی انتہا پسند طبقے کی اس زہنیت سےچھٹکارا  نہیں حاصل  کر لیتے جو مساجد ، مذہب کو کنٹرول کرکہ  زیادہ جاہل عوام کو گمراہ  کرتے ہیں۔  اسلام کو ان جہلا کے شکنجے بچایا جانا صروری ہے۔ .....[....]

We find many people looking "more Muslim" than others due to their outlook and activities in display, yet it's not a measuring  tool for their level of faith , which is only known to Allah. However they consider ONLY themselves  to be entitled to  exercise control on religion, which is contested because authenticity of any opinion on religious matter is conditional to the reference and authority from Holy Scripture. 
Allah has not authorized anyone to present their personal opinions to be Divine. The Jews and Christians were condemned for taking their scholars indulging in such practices as Lord (Rabb) (9:31). (Hence such blind following is Shirk,  polytheism)

To control the spread of Corona Panadamac, experts advise preventive measures like social distancing and Quarantine. This have been out rightly rejected by Pakistani religious contractors. No amount of  references from Holy Books or logic could convince them to temporarily  suspend the prayer (Salah) congregations, though in the two Holiest Mosques,  in Middle East,  Turkey,  Far East and all around the world  these measures has been implemented without any debate. 

The President of Pakistan contacted Al-Azhar which issued Edict (Fatwa) to suspend prayer congregations for public safety. Even this has been resisted by our  Holy (Hollow)  Men, who have no regard for public life. 

There is need to deeply analyse this religious mindset of Pakistani clergy,  which is fatal for this nation and country. 

The Powerful Religious Establishment ( yes don't be surprised,  it's reality ) mafia supported TTP, overtly and covertly (many big names)  resulting in public sympathy despite huge loss of public life (over 70,000 lives lost in terrorism and over  $100 Bn loss to economy). Some genuine Scholars opposed and were martyred by terrorists.

We cannot move forward as Pakistani and Muslim, unless we tackle this menace of this ignorant , extremist class who are in full control of religion and mislead more ignorant  public. Islam is to be rescued. 
Those who claim to be genuine Scholars of Islam should not sit home in silence like hypocrites. They must come forward and debate to convince ignorant ulema.  

This requires deep study and concrete  result oriented short term and long term measures  at  intellectual, governmental and societal level. 
Keep reading full >>>>> <<here>>
Must Read : [Facilities and Facilities in Islam]
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~


Related :

Jihad, Extremism

    سمجھوتہ کیس کے ملزمان بری: ذمہ دار کون؟ Kangaroo Court acquits Samjhauta Express attackers


    بھارت میں ہریانہ صوبہ میں پنچکولہ کی اسپیشل کورٹ نے سمجھوتہ ایکسپریس بلاسٹ کیس میں ملوث سبھی ملزمان سوامی اسیمانند، لوکیش شرما، کمل چوہان اور راجیندر چودھری کو بری کر دیا ۔ پچھلے کئی برسوں سے خصوصاً،2014ء میں وزیر اعظم نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد جس طرح عدالت میں اس کیس کی پیروی ہورہی تھی، یہ فیصلہ توقع کے عین مطابق ہی تھا۔ملزموں کا دفاع کوئی اور نہیں بلکہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی )کے لیگل سیل کے سربراہ ستیہ پال جین کر رہے تھے۔
     When attacked, Samjhauta Express train was headed from Delhi to ... after the heinous Samjhauta terror attacks makes a travesty of justice and ...


     بلاسٹ کے مبینہ ماسٹر مائنڈ سنیل جوشی کی 2007 ء میں ہی پراسرار حالات میں موت ہو چکی تھی۔ دہلی ،لاہور سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین میں 18 فروری 2007ء کو پانی پت کے قریب 2 بم بلاسٹ ہوئے تھے جن میں 68 لوگ مارے گئے تھے،ان میں زیادہ تر پاکستانی تھے، نیز دیگر 12 شدید زخمی ہوگئے تھے۔استغاثہ کی طرف سے کل 299گواہوں کی فہرست پیش کی گئی تھی، جن میں 224کورٹ کے سامنے پیش ہوئے۔ ان میں سے 51 اہم گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگئے۔ 13 چشم دیدپاکستانی گواہ عدالت کے سامنے پیش ہی نہیں ہوئے۔ اسپیشل جج جگدیپ سنگھ نے اسکی تفصیلات اپنے آرڈر میں درج کی ہیں۔ ان کے مطابق تین بار سمن جار ی کرنے کے باوجود پاکستانی گواہان کو عدالت میں لانے کی کوئی سعی نہیں کی گئی۔ مارچ2017ء میں پہلی بار نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کو پاکستانی گواہ حاضر کرنے کیلئے کہا گیا۔ کئی ما ہ بعد وزارت خارجہ کا ایک مکتوب موصول ہوا کہ بیان درج کروانے کی تاریخ سے کم از کم چار ماہ قبل سمن ان کے پاس پہنچنا چاہئے۔ جولائی 2017ء میں پھر نومبر میں شنوائی کیلئے سمن جاری کئے گئے۔ یہ سمن وزارت داخلہ نے کئی ماہ بعد وزارت خارجہ کے سپرد کئے۔ جواب کا انتظار کرتے ہوئے، اپریل 2018ء میں عدالت نے تیسری بار گواہوں کو حاضر کروانے کیلئے حکم نامہ جاری کیا اور جولائی2018ء کو وزارت داخلہ کو اس کی یاد دہانی بھی کروائی۔ جس کے جواب میں بتایا گیا کہ سمن وزارت خارجہ کے ذریعے پاکستانی فارن آفس کے سپرد کئے گئے ہیں۔ بھارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے یہ سمن گواہوں تک پہنچانے کے بجائے واپس کردیئے۔ چند سال قبل ہریانہ کے سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس ( لاء اینڈ آرڈر) وکاس نارائن رائے نے راقم کو بتایا تھا کہ اس کیس کو حتی الامکان کمزورکرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ نارائن رائے، اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کے سربراہ تھے، جس نے سمجھوتہ دھماکوںکی ابتدائی تفتیش کی تھی۔ ’’ہندو دہشت گردی‘‘ کے حوالے سے بھارت میں سرکاری ایجنسیوں پر دبائوبنایا جارہا تھا، کہ وہ اپنی تفتیش ختم کریں نیزعدالتی پیروی میں تساہل اور نرمی سے کام لیں۔ ابتدائی تفتیش میں بھارتی ایجنسیوں نے ان دھماکوں کے تعلق بھی مسلم نوجوانوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی، چند ایک کو حراست میں بھی لیا۔ میڈیا میں انڈین مجاہدین اور پاکستان میں سرگرم کئی تنظیموں کا بھی نام لیا گیا۔ مگر چند دیانت دار افسران کی بدولت اس دھماکہ میں ایک ہندو انتہا پسند تنظیم' ابھینوبھارت‘ کے رول کو بے نقاب کیا گیا۔سب سے زیادہ خطرے کی گھنٹی اس وقت بجی جب نومبر 2008ء میں ملٹری انٹیلی جنس کے ایک حاضر سروس کرنل پرساد سری کانت پروہت کے رول کی نشاندہی کرکے اس کو گرفتار کیا گیا۔اگلے دو سالوں میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے سوامی اسیما نند اور ایک انجینئر سندیپ ڈانگے کو حراست میں لے لیا۔ اسی دوران راجستھان کے انٹی ٹیررسٹ سکواڈ کے 806 صفحات پر مشتمل فرد جرم میں انکشاف کیاگیا ، کہ فروری 2006ء میں ہندو انتہا پسندوں نے وسطی بھارت کے ایک شہر اندور ایک میٹنگ کرکے سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے کی سازش تیار کی تھی۔ اس میٹنگ میں ہندو انتہا پسندوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سیوک سیوم سنگھ(آر ایس ایس) کے مقتدر لیڈر اندریش کمار بھی موجود تھے۔ اس سے قبل ان کا نام اجمیر شریف کی درگاہ میں ہوئے دھماکہ کی سازش میں بھی آیا تھا۔مگر ان کی کبھی دوران حراست تفتیش نہیں ہوئی۔ 12 فروری 2012ء میں این آئی نے آر ایس ایس کے کارکنوں راجندر پہلوان، کمل چوہان اور اجیت چوہان کر گرفتار کیا۔ ایجنسی کے بقول ان تین افراد نے ہی ٹرین میں بم نصب کئے تھے۔ گو کہ بھارت میں سرکاری ایجنسیاں دہشت گردی سے متعلق واقعات کا تعلق آنکھ بند کئے مسلمانوں سے جوڑتی آرہی ہیں، مگر 29 ستمبر 2008ء کو مہاراشٹرہ کے مالیگائوں شہر کے ایک مسلم اکثریتی علاقہ میں ہوئے دھماکوں اور اس میں ملی لیڈز نے مہاراشٹر کے اینٹی ٹیررسٹ سکواڈ کے سربراہ ہیمنت کرکرے کو چونکا دیا۔ اور ایک غیر جانبدارانہ تفتیش کے بعد اس نے ہندو دہشت گردی کا بھانڈا فاش کیا۔بدقسمتی سے کرکرے 2008ء کے ممبئی حملوں میں دہشت گردوں کا نشانہ بن گئے، جس کے بعد یہ تفتیش مرکزی ایجنسی این آئی اے کے سپر د کی گئی۔ اس کے بعد تو حیدرآباد کی مکہ مسجد، اجمیر درگاہ، سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں کے تار بھی ہندو دہشت گردی سے جڑتے گئے۔ جب کرکرے نے یہ نیٹ ورک بے نقاب کیا تھا تو بی جے پی اور شیو سینا کے متعدد رہنمائوں نے ان کے خلاف زبردست شور برپا کیا اور انہیں 'ملک کا غدار‘ قرار دیا تھا-

    بہرحال کرکرے کی تحقیق کا یہ نتیجہ نکلا کہ دہشت گردانہ واقعات کے بارے میں جو عمومی تاثر پید اکردیا گیا تھا وہ کچھ حد تک تبدیل ہوا کہ اس کے پشت پر وہ عناصر بھی ہیں جو اس ملک کوہندو راشٹر بنانا چاہتے ہیں۔ ابتداء میں ان واقعات میں معصوم مسلم نوجوانوں کو ماخوذ کرکے انہیں ایذائیں دی گئیں اور کئی ایک کو برسوں تک جیلوں میں بند رکھا گیا۔ ایک معروف صحافی لینا گیتا رگھوناتھ نے یو پی اے حکومت کی ہند و دہشت گردی کے تئیں ' نرم رویہ‘ کو افشاں کیا تھا۔ لینا کے بقول ’’ تفتیشی ایجنسیوں کے ایک افسر نے انہیں نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر وزارت داخلہ کو سونپی گئی ان خفیہ رپورٹوں کے مطالعے کی اجازت دی تھی۔ ان رپورٹوں میں مرکزی وزارت داخلہ سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ وہ آر ایس ایس کو ایک شو کاز ( وجہ بتائو) نوٹس جاری کرے کہ اس کے خلاف جو شواہد اور ثبوت ہیں کیوں نہ ان کی بنیاد پر اسے غیر قانونی اور ممنوع قرار دیا جائے؟‘‘ مہاراشٹر کی اسوقت کی کانگریس کی قیادت میں مخلوط حکومت نے بھی ابھینو بھارت اور دیگر ہندو انتہا پسند تنظیموں کو غیر قانونی قرار دینے کی سفارش کی تھی لیکن اس پر مرکزی حکومت نے عمل نہیں کیا۔ 2014ء میں وزیر اعظم مودی کے برسراقتدار میں آنے کے بعد سے متواتر ان مقدمات کو کمزور کروانے کی کوششیں کی گئیں۔ اس سلسلے میں مالیگائوں کے بم دھماکہ مقدمہ کی خصوصی سرکاری وکیل رو ہنی سالیان نے یہ سنسنی خیز انکشاف بھی کیا ، کہ سرکاری وکیلوں پر دبائو ڈالا جارہا ہے کہ وہ مقدمات کی پیروی میں سست روی اور نرمی سے کام لیں۔ اسکے علاوہ سرکاری گواہوں کو منحرف کرنے کا عمل شروع ہوا۔ سالیان کے مطابق نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کے ایک سینئر افسر نے (جو محض ایک پیغام رساں تھا) اپنے بالا افسروں کو یہ پیغام پہنچایا کہ وہ مقدمہ کی پیروی کے لئے پیش نہ ہوں۔ سالیان نے کہا کہ ’’اس کا مقصد (افسر کا لایا ہوا ہے پیغام) بالکل واضح ہے کہ ہم سے ہمدردانہ احکامات کی توقع نہ رکھیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ بی جے پی جب سے بر سر اقتدار آئی تو این اے آئی کا ایک افسر ان کے پاس آیا اور بات کی۔ سالیان کے بقول : ’’ اس نے کہا کہ وہ فون پر بات کرنا نہیں چاہتا، اس لئے وہ یہاں آیا اور پیغام سنایا کہ میں نرم رویہ اختیار کروں۔‘‘ مالیگائوں کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر، کرنل پروہت، سوامی اسیم نند( جس کے گجرات ضلع آنند میں واقع آشرم کو بی جے پی کے کئی بڑے رہنمائوں بشمول اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی سرپرستی حاصل تھی) اور دیگر کے مقدمات کے بارے میں محترمہ سالیان کو یہ ہدایت کہ وہ ’’نرمی اور تساہلی‘‘ سے کام لیں۔ یہ حقیقت بھی قابل تشویش ہے کہ دہشت گردی کے ان واقعات کی چل رہی تحقیقات بھی روک دی گئی، جن میں آرایس ایس کے بڑے رہنما جیسے اندریش کمار وغیرہ کا نام نہ صرف ملزموں نے عدلیہ کے سامنے دیئے گئے اپنے اقبالیہ بیان میں دیا تھا بلکہ جانچ رپورٹوں میں بھی ان کے نام آئے تھے۔پچھلے چند سالوں میں گجرات کے تقریباً وہ تمام پولیس افسران جو ’’پولیس مقابلوں ‘‘ کے نام پر بے رحمانہ قتل کرنے کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں رہا ہوچکے ہیں اور بعض کو دوبارہ ملازمت پر بحال کردیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حکمراں جماعت کے موجودہ صدر امیت شاہ ، جن کے بارے میں قومی تفتیشی ایجنسی یعنی سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں یہ تک لکھ دیاتھا کہ ’’ ( پیسہ اینٹھنے کا)ریکٹ ان سے شروع ہوتا ہے اور ان پر ختم ہوتا ہے۔‘‘ وہ بھی سہراب الدین اور ان کی اہلیہ کے علاوہ دیگر انکائونٹر میں ’’ بری ‘‘ کردیئے گئے ہیں۔مودی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے اجمیر درگاہ بلاسٹ کے 14گواہان منحرف ہوئے ۔ ان میںسے ایک گواہ رندھیر سنگھ نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی اور اسے جھارکھنڈ کی بی جے پی حکومت میں وزیر مقرر کیا گیا۔کرکرے نے جو ضخیم چارج شیٹ تیار کی تھی اس میں آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار، وشو ہندو پریشد کے پروین توگڑیا کے علاوہ کئی اور نام بھی شامل تھے۔ سوامی اسیم نند نے کاروان میگزین کو دیئے گئے اپنے طویل انٹرویو میں آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا بھی نام لیا تھا۔یہ تو طے تھا کہ بھارت کی موجودہ حکومت سمجھوتہ ، اجمیر اور مالیگائوں کیسوں کی پیروی میں ایک منصوبہ کے تحت تساہلی سے کام لیکر ہندو تنظیموں پر دہشت گردی کے داغ دھو رہی تھی، مگر خاص طور پر سمجھوتہ بلاسٹ کیس میں پاکستانی حکام کی سرد مہری سمجھ سے بالاتر ہے۔ جس طرح 2008 ء کے ممبئی دھماکوں میں یا حا ل میں جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے سلسلے بھارت نے اقوام متحدہ تک کا دروازہ کھٹکھٹایا ، آخر پاکستانی حکام سمجھوتہ کیس کی مانیٹرنگ کرنے سے کیوں کترا رہے تھے۔ اگر کورٹ کا تجزیہ درست ہے کہ تین بار سمن جاری کرنے کے باوجود پاکستانی گواہان کو کورٹ میں پیش نہیں کیا گیا، تو اسکی ذمہ داری کا تعین ہونا چاہئے۔ بھارت کے علاوہ پاکستانی حکام کی بھی جوابدہی طے ہونی چاہئے اور ان کو بھی اپنی پوزیشن صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ 

    Related :

    Global Terrorism

      Saturday, March 16, 2019

      New Zealand: Christian Terrorists killed 49 Muslim Worshippers in Mosques – Analysis and Updates


      Fifty people have been killed and at least 20 others grievously injured when white supremacist Christian gunmen entered two mosques in Christchurch, New Zealand, and opened indiscriminate fire at worshippers, including women and children, who had gathered for Friday prayers. This is the worst attack in the Pacific country’s history....  Keep reading  ..... [.....] 

      Updates ….. […….]

      نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں دہشت گرد حملے، 49 افراد جاں بحق ……[……..]


      کرائسٹ چرچ: حملہ آور کو روکنے والا پاکستانی کون تھا؟

      نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مسجد کے اندر دہشت گرد حملے کی ایک وائرل وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص حملہ آور کو روکتا ہے اور اس کوشش میں شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ حملہ آور کو روکنے کی کوشش کو ترک نہیں کرتا۔

      نیوزی لینڈ مسجد حملہ آور

      نیوزی لینڈ: حملہ آور کون ہے؟

      آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے نیوزی لینڈ کی مسجد پر حملہ کرنے والے شخص برینٹن ٹارنٹ کو دائیں بازو کا ایک دہشت گرد قرار دیا ہے۔ نیوزی لینڈ کے پولیس کمشنر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلوی پولیس یا سکیورٹی اداروں کے پاس اس شخص کے بارے میں کوئی تفصیلات یااطلاعات نہیں تھیں۔ حملہ آور جس نے سر پر لگائے گئے کیمرے کی مدد سے النور مسجد میں نمازیوں پر حملے کو فیس بک پر لائیو دیکھایا، اپنے آپ کو اٹھائیس سالہ آسٹریلین برینٹن ٹارنٹ بتایا۔ اس فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح النور مسجد کے اندر مرد، عورتوں اور بچوں پر اندھادھند فائرنگ کر رہا ہے-نیوزی لینڈ کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے کے سلسلے میں پولیس نے ایک گھر پر چھاپہ مارا ہے۔ملک کی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ واضح طور پر ایک دہشت گرد حملہ ہے۔اپنی ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ کرائسٹ چرچ کی مساجد میں جو بھی ہوا ہے وہ ایک نا قابلِ قبول عمل ہے اور ایسے واقعات کی نیوزی لینڈ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

      مسلمانوں کےخلاف نفرت پھیلانےوالےسیاستدان اور میڈیا بھی ’ذمہ دار‘


      کرائسٹ چرچ حملے: مساجد میں ہونے والے حملوں پر بعض انڈین جشن کیوں منا رہے ہیں؟

      کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں قتل عام کے واقعے کی جہاں ساری دنیا میں مذمت کی جا رہی ہے وہیں انڈیا کے بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جشن منایا جا رہا ہے۔

      اس بات کا اعتراف 'انتہا پسندی' اور 'دہشت گردی' کے لیے مسلمانوں کو ہمیشہ مورد الزام ٹھیرانے والے پاکستانی نژاد کینیڈا کی معروف شخصیت طارق فتح نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی کی ہے۔

      انھوں نے لکھا: 'جس ظالمانہ انداز میں بعض ہندوستانی نیوزی لینڈ میں ہونے والے قتل عام کا جشن منا رہے ہیں وہ قابل نفرت ہے۔
      رورو یا روزی نام کی ایک دوسری صارف نے 'نیوزی لینڈ ٹریرسٹ اٹیک' نامی ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا: 'جو کچھ ہوا اس پر اسلام فوبیا زدہ جاہل لوگ بہت زیادہ خوش ہیں۔ ذرا تو انسانیت کا مظاہرہ کریں۔ آپ کو شرم آنی چاہیے۔ وہ معصوم تھے۔ انتہا پسندوں کو عام مسلمانوں کا مترادف قرار دینا بند کریں۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں۔'
      کرائسٹ چرچ مساجد میں ہونے والے حملے اور اس پر بعض جگہ خوشی منانے کے معاملے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں واقع جواہر لعل نہرویونیورسٹی میں استاد اور ماہر عمرانیات ڈاکٹر تنویر فضل نے کہا کہ سوشل میڈیا کا مسئلہ ذرا پیچیدہ ہے۔

      'اول تو سارے اکاؤنٹس ویریفائڈ نہیں ہیں اور بہت سی باتیں فیک اکاؤنٹس سے پھیلائی جاتی ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض حلقے میں اس پر خوشی پائی جاتی ہے اور وہ اس کے اظہار سے گریز بھی نہیں کرتے۔'

      انھوں نے مزید کہا کہ 'انتہا پسندی یا دہشت گردی کے حوالے سے اب تک جو بیانیہ تھا وہ مغربی بیانیہ تھا اور ہم سب کہیں نہ کہیں اسے من و عن اٹھا چکے ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں انڈیا میں جو ایک ڈسکورس چل نکلا ہے وہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے واقعے سے مسلمانوں کو جوڑا جائے اور اس کا مرکز پاکستان کو بنایا جائے۔'

      انھوں نے مزید کہا: 'میں اس ضمن میں کسی کا نام لینا مناسب نہیں سمجھتا لیکن ہمارے بعض صحافی اور دانشور ایسے ہیں جو اس خیال کو ظاہر کرنے میں ذرا بھی گریز نہیں کرتے کہ دہشت گردی اور اسلام میں فرق نہیں کیا جانا چاہیے۔'

      انھوں اس جانب بھی اشارہ کیا کہ جب یورپی ممالک یا کسی اور جگہ حملہ ہوتا ہے اور اس میں مسلمان شامل ہوتے ہیں تو اسے دہشت گردانہ حملہ کہا جاتا ہے لیکن جب کوئی دوسرے مذہب کا ہوتا ہے تو اسے مخبوط الحواس یا جنونی شخص کہا جاتا ہے۔

      'یہ لون وولف (تنہا بھیڑیا بھی ہوسکتا ہے یا پھر اس کے پس پشت کوئی منظم گرہ بھی ہو سکتا ہے۔'
      انھوں نے کہا کہ اسی بیانیے کا نتیجہ ہے کہ 'ہمارے سامنے اس قسم کی چیز آئے دن آتی رہتی ہے لیکن اس معاملے میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس کو اس طرح دیکھا یا بیان کیا جانا چاہیے۔'

      کولکتہ کے محمد حسیب نے اپنے فیس بک صفحے پر گھنشیام لودھی نامی صارف کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:

      'خوشی کے آنکھ میں آنسو کی بھی جگہ رکھنا

      برے زمانے کبھی پوچھ کر نہیں آتے'

      گھنشیام لودھی نے لکھا: 'نیوزی لینڈ کی مسجد پر حملہ، سوچا خبر کر دوں کہ خوشی اکیلے نہیں سنبھلتی۔'

      ترک وزیراعظم رجب طیب اردغان نے بھی ٹوئٹ میں لکھا کہ یہ حملہ نسل پرستی اور اسلام مخالف جذبات کی تازہ مثال ہے۔انھوں نے لکھا کہ وہ النور مسجد میں ہونے والے حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔
      دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر رضوان قیصر نے کہا کہ 'انگریزی میں اس کے لیے ایک لفظ وکیریئس پلیزر ( vicarious pleasure) ہے۔ یعنی ہندوستان میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات سے خوش ہیں کہ دنیا میں ان کے ہم نوا افراد ہیں اور ان پر کوئی آنچ آئے بغیر وہ ان کا کام کر رہے ہیں۔ یہاں پر پچھلے دنوں جس طرح سے ’بیف لنچنگ‘ اور دوسرے طرح کا مسلم مخالف تشدد کا ماحول بنا یہ اس کا مظہر ہے۔'
      رضوان قیصر نے مزید کہا کہ 'ہندوستان میں اسلام فوبیا کا ماحول نہیں بننا چاہیے کیونکہ یہاں مسلمان ہزاروں سال سے آباد ہیں۔ یہاں جو تشدد کا ماحول بنا ہے تو ان کو لگتا ہے کہ ان کا کام کسی اور نے کردیا اس لیے وہ اس کا جشن منا رہے ہیں۔'
      انھوں نے مزید کہا کہ 'ساری دنیا میں ایک نفرت کا ماحول نظر آتا ہے۔ آئے دن ہم سنتے ہیں کہ امریکہ میں کسی یونیورسٹی میں کسی سکول میں کسی نے معصوموں کو گولی کا نشانہ بنایا۔ نیوزی لینڈ واقعے کے حملہ آور آسٹریلیا سے تعلق رکھتے ہیں اور وہاں حالیہ برسوں میں مذہبی اور نسلی رجحان پروان چڑھتا نظر آیا ہے جس میں یہ دیکھا گيا ہے کہ انھوں نے ہندوستانی نژاد کے لوگوں پر حملہ کیا ہے۔‘

      Tuesday, December 4, 2018

      Jihad and Fisad نفاذاسلام کاآغاز اور جہاد


      آج دنیا بھر میں جہاد کے پھیل جانے کی دلچسپ کہانی سنانے بیٹھا ہوں...... مگر ایک بات جو کافی عرصے سے لکھنے کی کوشش ہے مگر وہ رہ جاتی ہے......اسکا کچھ تذکرہ ہوجاۓ...... مجاہدین کوجن چیزوں نےسخت نقصان پہنچایاہے....... ان میں سےایک یہ ہےکہ....... جہا دشروع کرتےہی اسلام نافذ کرنےکی بہت جلدی کی جاتی ہے....... اوراسلام کےبھی صرف وہ احکام نافذکرنےمیںتیزی دکھائی جاتی ہےجوفرائض کےدرجہ میں نہیں آتے....... 
      اسلام میں سب سےپہلےکلمہ طیبہ....... یعنی ایمان اورعقیدہ کی اہمیت ہے....... اس کےبعد فرائض کادرجہ آتاہے....... اقامت صلوۃ،زکوۃ،حج،رمضان المبارک کےروزے...... اورجہادفی سبیل اللہ...... 
      اگرکوئی مسلمان ان دومیں پختہ ہوجاۓ یعنی کلمہ اورفرائض...... توپھراسکےلئےباقی احکام پرعمل آسان ہوجاتاہے......
       مگردیکھایہ گیاکہ...... اسلام نافذ کرنےکا کام نائیوں،حجاموں کی دکانوں پربم پھاڑنے، یاویڈیو کی دکانوں کواڑانےسےہوتا ہے...... 
      اگرآپ عوام کےساتھ جوڑ،محبت اورحسن سلوک کےساتھ پیش نہیں آتےتوپھرآپ کاجہاد زمین پرنہیں جم سکتا.......
       کچھ کم علم لوگ جن کودین کی بنیادی باتوں کا بھی علم نہیں ہے....... وہ جومسئلہ بھی سنتےہیںبس وہی انکےنزدیک دین اورعلم کی انتہا ہوتاہے....... 
      داڑھی کاسنا تواب داڑھی منڈانے والوںکےلیےگولی ...... پردےکا سنا تواب بےپردہ عورتوں کےلیےتیزاب...... فلموںکا سنا تواب ویڈیووالوں کےلیےسزاۓموت......
       یہ بہت خطرناک صورتحال ہے......
       اسی طرح مال غنیمت کےمسائل میں بھی بہت غلطی ہے...... لوگوں سےزبردستی چندہ ،تاوان یازکوۃ وصول کرنے سےجہاد کوبےحد نقصان پہنچاہے...... 
      ایک زمانہ کشمیرکےہرپہاڑپرایک "امیرالمؤمنین" بیٹھا تھا...... بکروال اپنےریوڑ لیکرنکلتےتوہر پہاڑپربیٹھایہ "حاکم" بکریاں گن کر"زکوۃ" نکال لیتا...... اوریوں جہاد کےاہم ترین معاونین "بکروال برادری" مجاہدین سے بدظن ہوگئی...... 
      بے شک داڑھی منڈاناگناہ ہے...... بےشک ویڈیوکی دکانیں اسلامی معاشرے کےلیے خطرناک ہیں...... بےشک اسلام میں پردہ کاحکم ہے...... لیکن یہ وہ احکامات نہیں ہیں کہ جن سے...... نفاذاسلام کاآغاز کیاجاۓاورانہی مسائل کوسب کچھ سمجھاجاۓ.....
      اوران غلطیوں پرقتل جیسے بھیانک فیصلے کیے جائیں......یا سکولوں کواڑانا ہی جہاد سمجھاجاۓ......

       مجاہدین کو چاہیےدین کاپختہ علم حاصل کریںی اپختہ علم والے علماء کرام کی اتباع کریں...... اپنی توجہ جنگ پررکھیں ان احکامات کونافذ کرنےکاوقت بعدمیں آۓ گا......
      اپنےاعمال کابھی محاسبہ کریںکہ دوسروں کوجن چھوٹی باتوں پر قتل کرتے ہیں کہیں خود ان سے بڑی غلطیوں میں مبتلا تو نہیں......
      ( مولانا محمد مسعود ازہر صاحب کی تازہ ترین تحریر "رنگ و نور" سے اقتباس)

       http://dunya.com.pk/news/authors/detail_image/x4611_66031164.jpg.pagespeed.ic.E0_f597_Vt.jpg

      دہشت گردوں کا معاشرے میں زندہ اور موجود رہنا علماء اور عوام کی اسلام اور قرانی تعلیمات سے نا واقفیت اور کم علمی ہے.   اگر
        میڈیا پر دہشت گردی کی ویڈیو کوریج کے نیچے صرف قرآن کی وہ آیات جو قتل ناحق سے منع کرتی ہیں پشتو اور اردو ترجمے کے ساتھ  پٹی چلا دیں تو کم از کم جو طالبان دہشت گردوں کے ھمدرد ہیں جن کو جاہل قسم کے علماء نے دھوکے میں رکھا ہے ان کا دماغ میں واضح ہو گا کے کون قرآن پر عمل کر رہا ہے ور کون قرآن کو رد کر رہا ہے .

      کچھ آیات اور ترجمہ درج زیل ہے :

      اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی"
       مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے در پے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں. جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں اُن کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں، یہ ذلت و رسوائی تو اُن کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں اُن کے لیے اس سے بڑی سزا ہے
      5: 31-32 سورة المائدة

       وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ
      اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کردیا ہے ہرگز ناحق قتل نہ کرنا
      (Quran;17:33)

      وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا

      اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے
      .(Quran;4:93)

       وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۗ
       فتنہ قتل سے بھی بڑا گناه ہے
      [Qur'an;2:217]

      أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا

       یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے
       (Quran;18:105)

      وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّـهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۗ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ

      اور ان سے جب کبھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، گو ان کے باپ دادے بےعقل اور گم کرده راه ہوں
      (Quran;2:170) Also see Quran;32:21, 43:22,23)

      إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ

      جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے
      “(Quran; 5:33)

      وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّـهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ‌ فِيهَا اسْمُ اللَّـهِ كَثِيرً‌ا ۗ وَلَيَنصُرَ‌نَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُ‌هُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ

       اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں۔ اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بےشک خدا توانا اور غالب ہے (Quran 22:40)

      مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ

      جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبا ل اُسی پر ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا
      (Quran;17:15)

      مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا

      جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہ
      .(Quran;4:85)

      Monday, December 3, 2018

      فاسق وظالم حکمرانوں کے خلاف خروج : ایک تحقیقی جائزہ


      فاسق مسلمان حکمران کے خلاف خروج فتنہ و فساد جائز نہیں:فاسق مسلمان حکمران کے خلاف تو خروج جائز نہیں ہے لیکن ظالم یا بے نماز مسلمان حکمران کے خلاف خروج کا جواز چند شرائط کے ساتھ مشروط ہے لیکن فی زمانہ ان شرائط کا حصول مفقود ہونے کی وجہ سے ظالم اور بے نماز مسلمان حکمران کے خلاف خروج بھی جائز نہیں ہے۔
      ایسے حکمرانوں کو وعظ و نصیحت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر واجب ہے لیکن ا للہ کے رسول ۖ کے فرامین کے مطابق کسی فاسق و فاجرمسلمان حکمران کے خلاف خروج حرام ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کا اجتماعی ضرر اور فتنہ و فساد ہے۔ ہاں اگر کسی پر امن طریقے مثلاً احتجاجی سیاست وغیرہ سے ان حکمرانوں کی معزولی اوران کی جگہ اہل عدل کی تقرری ممکن ہو تو پھر ان کی معزولی اور امامت کے اہل افراد کی اس منصب پر تقرری بھی اُمت مسلمہ کا ایک فریضہ ہو گی-
      فاسق و فاجرحکمرانوں کے خلاف خروج کی حرمت کے دلائل درج ذیل ہیں۔ آپ کا ارشاد ہے:
      ١) ''ألا من ولی علیہ وال فرآہ یأتی شیئاً من معصیة اللہ فلیکرہ ما یأتی من معصیة اللہ ولا ینزعن یدا من طاعة.'' (صحیح مسلم' کتاب الامارة' باب خیار الأئمة و شرارھم)
      ''خبردار! جس پر بھی کوئی امیر مقررہوا اور وہ اس امیر میں اللہ کی معصیت پر مبنی کوئی کام دیکھے تو وہ امیر کے گناہ کو تو ناپسند کرے لیکن اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے۔''
      ٢) ''من کرہ من أمیرہ شیئا فلیصبر علیہ فنہ لیس من أحد من الناس یخرج من السلطان شبرا فمات علیہ لا مات میتة جاھلیة.''(صحیح مسلم' کتاب الامارة' وجوب ملازمة جماعة المسلمین عند ظھور الفتن ؛ صحیح بخاری' کتاب الفتن' قول النبی سترون بعدی أمورا تنکرونھا)
      جسے اپنے امیر میں کوئی برائی نظر آئے تو وہ اس پر صبر کرے کیونکہ کوئی بھی شخص جب حکمران کی اطاعت سے ایک بالشت برابر بھی نکل جاتا ہے اور اسی عدم اطاعت پر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔
      ٣) '' ومن خرج علی أمتی یضرب برھا وفاجرھا ولا یتحاش عن مؤمنھا و لا یفی لذی عھد عھدہ فلیس منی ولست منہ.'' (صحیح مسلم' کتاب الامارة' وجوب ملازمة جماعة المسلمین عند ظھور الفتن)
      ''اور جو شخص بھی میری امت پر خروج کرے اور اس کے نیک و بدکار دونوں کو مارے اور امت کے مومن سے کو بھی اذیت دینے سے نہیں بچتا (جیسا کہ آج کل کے خود کش حملوں میں معصوم اور دیندار شہریوں کی بھی ہلاکت ہو جاتی ہے)۔ اور نہ ہی کسی ذمی کے عہد کا لحاظ کرتا ہے تو نہ ایسے شخص کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔ ''
      ٤) ''مَنْ حَمَلَ عَلَیْنَا السَّلَاحَ فَلَیْسَ مِنَّا.''(صحیح بخاری' کتاب الفتن' باب قول النبی من حمل علینا السلاح فلیس منا)
      ''جس نے ہم پر(یعنی مسلمانوں پر) ہتھیار اٹھائے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔''
      ٥) ''سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر.''(صحیح بخاری' کتاب الایمان' باب خوف المؤمن من أن یحبط عملہ)
      ''کسی مسلمان کو گالی دینا فسق و فجور ہے اور اس کا قتل کفریہ فعل ہے۔''
      ٦) '' اذا التقی المسلمان بسیفیھما فالقاتل والمقتول فی النار.''(صحیح بخاری' کتاب الایمان' باب قولہ تعالی وان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا)
      ''جب دو مسلمان آپس میں اپنی تلواروں(یعنی ہتھیاروں) سے آمنے سامنے ہوں تو قاتل ومقتول دونوں آگ میں ہوں گے۔''
      ٧) ''لا ترجعوا بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض.''(صحیح بخاری' کتاب الفتن' باب قول النبیۖ لا ترجعوا بعدی کفارا)
      تم میرے بعد کافر مت بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگ جانا۔
      ٨) عن عدیسة بنت ھبان بن صیفی الغفاری قالت: جاء علی بن أبی طالب لی أبی فدعاہ للخروج معہ' فقال لہ أبی: ان خلیلی و ابن عمک عھد لی اذا اختلف الناس أن اتخذ سیفا من خشب فقد اتخذتہ فن شئت خرجت بہ معک قالت: فترکہ.''(سنن الترمذی' کتاب الفتن عن رسول اللہ' باب جاء فی اتخاذ سیف من خشب فی الفتنة)
      '' عدیسہ بنت ھبان فرماتی ہیں کہ حضرت علی میرے والد صاحب کے پاس آئے اور انہیں اپنے ساتھ (حضرت معاویہ کے خلاف جنگ میں) نکلنے کی دعوت دی۔ تو میرے والد نے حضرت علی سے کہا : بے شک میرے دوست اور آپ کے چچازاد(یعنی محمد ۖ) نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ جب مسلمانوں میں باہمی اختلاف ہو جائے تو تم لکڑی کی ایک تلوار بنا لینا۔ پس میں نے لکڑی کی ایک تلوار بنا لی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں تو میں اس تلوار کے ساتھ آپ کے ساتھ جانے کو تیارہوں۔ عدیسہ بنت ھبان فرماتی ہیں: اس بات پر حضرت علی نے میرے والد کو ان کی حالت پر چھوڑدیا۔''علامہ ألبانی نے اس روایت کو 'حسن صحیح ' کہا ہے۔(صحیح ابن ماجة :٣٢١٤)
      ٩) کسروا فیھا قسیکم و قطعوا أو تارکم و اضربوا بسیوفکم الحجارة فان دخل علی أحدکم فلیکن کخیر ابنی آدم۔(سنن أبی داؤد' کتاب الفتن و الملاحم' باب فی النھی عن السعی فی الفتنة)
      فتنوں کے زمانے میں اپنی کمانیں توڑ دو۔ اور ان کی تانت ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔ اور اپنی تلواریں پتھروں پر دے مارو۔ پس اگر تم میں کسی ایک پر کوئی چڑھائی کرے تو وہ آدم کے دو بیٹوں میں سے بہترین کی مانند ہو جائے۔ علامہ ألبانی نے اس روایت کو 'صحیح' کہا ہے۔ (صحیح ابن ماجة:٣٢١٥)
      حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اس بھائی کی مانند ہو جانا کہ جس نے قتل ہونا تو پسند کر لیا تھا لیکن اپنے بھائی کو قتل کرنے سے انکار کر دیا تھا جیسا کہ سورۃ المائدۃ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
      لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَ‌بَّ الْعَالَمِينَ ﴿٢٨﴾
      '' البتہ اگر تو نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تاکہ تو مجھے قتل کرے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف بڑھانے والا نہیں ہوں تاکہ تجھے قتل کروں۔ بے شک میں تمام جہانوں کے رب سے ڈرنے والا ہوں۔ بے شک میں یہ چاہتا ہوں کہ تم (یعنی قاتل) میرے اور اپنے گناہوں کے ساتھ لوٹ جاؤ اور اس کے سبب سے جہنم والوں میں سے ہوجاؤ۔''
      ١٠) ''وان اللہ لیؤید ھذاالدین بالرجل الفاجر.''(صحیح بخاری' کتاب الجھاد والسیر' باب ن اللہ یؤید الدین بالرجل الفاجر)
      ''بے شک اللہ سبحانہ و تعالی اس دین اسلام کی تائیدو نصرت فاسق و فاجر آدمی کے ذریعے کرتا ہے۔''
      پڑھتے جائیں >>>>>>

      Related :

      Jihad, Extremism