DESPITE some deadly terrorism attacks reported in 2018, the overall frequency across the globe has been on the decline in recent years. However, these dwindling numbers do not suggest, in any way, that the threat of terrorism has been eliminated. The latest audio message by the so called Islamic State group (IS) head Abu Bakr al Baghdadi, in which he called on his followers to keep fighting, vindicates the lingering threat of terrorist violence.
Certainly, most terrorist groups have been weakened but they are still present in physical and virtual spaces; in many instances, they have ungoverned territories to operate in. In Pakistan, too, despite justifiable claims of having significantly damaged terrorist infrastructure in the country, terrorist groups are able to trigger sporadic waves of violence albeit with a reduced frequency as compared to past years. A series of terrorist attacks before and during the election month of July hurt the image of Pakistan as a state effectively dealing with its internal security threats.... [........]
|
اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا دوزخ ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہوگا۔ اور اللہ اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لیے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے۔ (قران:4:93) او څوک چې یو مسلمان په لوی لاس (عمدي) ووژني، نو د هغه سزا دوزخ دی، چې تل به پکې وي او پر هغه باندې د الله غضب دی او الله پرې لعنت کړی او د هغه لپاره یې لوی عذاب تیار کړی دی. (سورت النساء، ایت: ۹۳)
Pages
- Home
- اردو ترجمہ کرو
- پښتو ته ژباړه
- Paigham-e-Pakistan پیغام پاکستان
- Terrorism? دہشت گردی کیا
- تکفیری خوارج فتنہ
- Takfir; Doctrine of Terror
- Takfir: Refutation from Quran
- Edict الفتوى
- Rebellion for Shari'ah
- Why Pakistan created?
- The Islamic State : الدولة الإسلامية
- Jihad, Myth and Reality
- Caliphate: Redundant or Relevant
- Eduction & Learning
- Muslims & Non Muslims
- Anti Islam
- Vidoes
- About
Search This Blog
Featured Post
National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘
National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...
Tuesday, August 28, 2018
افغانستان میں امن کی کوششیں? Is Peace in Afghanistan possible
Monday, August 27, 2018
Global Terrorism - عالمی دھشتگردی
How Zionist terrorism determined Palestine's fate | The Electronic ...
Irgun - Wikipedia
Statistics: https://ourworldindata.org/terrorism
A search of terrorist organizations will give a list of Muslim Terrorist Organizations, whereas there are Christian, Zionist, Hindu, Buddhist and others terrorist organizations in large numbers not mentioned. Terrorism is not a Muslim monopoly!
Read: Islamic Extremism is a Product of Western Imperialism
The Zionist movement has maintained a striking continuity in its aims and methods over the past century. From the start, the movement sought to achieve a Jewish majority in Palestine and to establish a Jewish state on as much of the LAND as possible. The methods included promoting both mass Jewish immigration and acquiring tracts of land that would become the inalienable property of the Jewish people. This policy inevitably prevented the indigenous Arab residents from attaining their national goals and establishing a Palestinian state. It also necessitated displacing Palestinians from their lands and jobs when their presence conflicted with Zionist interests.
In the present environment of universal turmoil especially in the post 911 scenario, the Muslims have become a target of universal hate propaganda. Some verses from Qur’an are mostly misquoted to defend killing of non believers and to project a permanent state of armed conflict (Jihad) between Muslims and non believers. The ignorant terrorists thus facilitate the anti Muslim lobbies to propagate and project all Muslims as intolerant, war mongers and terrorists. Even some ignorant Muslims also fall pray to this fallacy. It is important that the misconceptions are removed by understanding the concept of Jihad in the light of Qur’an and Sunnah. ... Keep reading ... [........]
Global Terrorism Database - START.umd.edu - University of Maryland
National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ .......
Related :
Jihad, Extremism.... [........]
- https://en.wikipedia.org/wiki/War_on_Terror
- https://www.statista.com/topics/2267/terrorism/
- https://en.wikipedia.org/wiki/War_on_Terror#Casualties
- https://en.wikipedia.org/wiki/List_of_designated_terrorist_groups
- https://www.rand.org/topics/terrorist-organizations.html
- https://en.wikipedia.org/wiki/Saffron_terror
- https://en.wikipedia.org/wiki/Buddhism_and_violence
Pakistan Responds to Terrorism, Through Message of Peace via National Counter Terrorism Narrative:
Sunday, August 12, 2018
The security policy challenge
To counter terrorism, the PTI promises a four-fold strategy comprising the four ‘E’s’: the first component is ‘exposing’ the links between active and passive terrorists and winning over the latter; the second component is about ‘enforcing’ the National Action Plan (NAP) as well as Pakistan’s international treaty/convention commitments on counterterrorism; the third seeks to ‘eliminate’ hardcore terrorists; and the fourth calls for ‘educating’ people by developing a counter-ideological narrative on terrorism۔۔۔۔keep reading
https://www.dawn.com/news/1426517
Friday, February 2, 2018
Tuesday, December 12, 2017
اسلامی فوجی اتحاد اور دہشت گردی کے خلاف مکمل جنگ کی ضرورت
مصر کے صوبے شمالی سیناء میں العریش کے نزدیک ایک مسجد پر دہشت گردوں کا حملہ گذشتہ ہفتے الریاض میں دہشت گردی مخالف اسلامی فوجی اتحاد کے وزرائے دفاع کے اجلاس کا سب سے نمایاں موضوع رہا ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزرائے دفاع کے اجلاس سے خطاب کرتےہوئے دو نکات پر زوردیا: اتحاد کے اکتالیس رکن ممالک کے درمیان روابط کا فروغ اور اسلام کے تشخص کو سخت گیروں کے ہاتھوں داغ دار ہونے سے بچانا۔اس اجلاس کا مرکزی موضوع تو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے عسکری اور سراغرسانی کے شعبوں میں تعاون اور ہر جگہ دہشت گردی کا تعاقب تھا۔ سعودی ولی عہد نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ روئے زمین سے دہشت گردوں کا مکمل استیصال کیا جائے گا۔
یہ وزارتی اجلاس اپنے نتائج کے اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل رہا ہے۔2015ء کے آخر میں تشکیل پانے والے عسکری اتحاد نے باضابطہ طور پر تنظیمی اور عملی بنیادوں پر کام کا آغاز کردیا ہے اور اس کے اثرات ہم آنے والے دنوں میں دیکھیں گے۔
اس وقت معاشروں کو لاحق مختلف روگوں میں سے دہشت گردی سب سے بد ترین ہے۔اس کے علاوہ غُربت ، قحط اور دیگر مختلف امراض لاحق ہیں لیکن دہشت گردی ایک ایسا بنیادی خطرہ ہے جس طرح کی کوئی اور ہلاکت آفریں آفت ہوسکتی ہے۔ہم کوئی نصف صدی تک خونیں دہشت گردی کی بات کرتے رہے ہیں لیکن اب دانشورانہ ، ثقافتی اور تعلیمی سطح پر حکمت عملیوں پر غور کیا جارہا ہے کہ ہم کیسے دہشت گردی کی اس لعنت کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس سے بچ سکتے ہیں لیکن اس سمت میں ابھی تک حکومتی اور ادارہ جاتی سطح پر کام نہیں ہوا ہے۔
دنیا کے ممالک کی حکومتیں برسوں سے دہشت گردی کا مقابلہ سکیورٹی اور سراغرسانی کے شعبوں میں کام کے ذریعے کرتی چلی آرہی ہیں مگر وہ ایک سیل کا قلع قمع کرتی ہیں تو دوسرا دوستانہ ماحول میں سر اٹھا لیتا ہے۔دہشت گردوں کے سیل ختم کرنے والا فوجی ادارہ بھی دراصل وہی فریق ہے جو اُن نرسریوں کا تحفظ کرتا ہے جو سرکاری تعلیمی اداروں اور مذہبی اداروں میں ان سیلوں کی آبیاری کرتی ہیں۔یہ ایک ایسی سچائی ہے جس کا دلیری سے مقابلہ کیا جانا چاہیے تاکہ اسی سوراخ سے بار بار ڈسنے سے بچا جاسکے اور جہاں سے پہلے ڈنک کھایا جاتا ہےوہاں دوبارہ ہاتھ نہ رکھا جائے اور العریش کی طرح کے قتل عام کے واقعے کا دوبارہ اعادہ نہ ہو ۔مصر میں نمازیوں کے قتل عام کے اس ہولناک واقعے نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پرانی حکمت عملی سے متعلق بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے ۔
مہلک فتوے
دہشت گردی کے مہلک فتووں کے ا جرا کا سلسلہ جاری ہے ۔انتہا پسند مفتی مختلف پلیٹ فارمز سے نمودار ہوتے ہیں اور لوگ سے خطاب کرتے ہیں۔مسلم علماء کی بین الاقوامی یونین کو جرائم آلود کیا جانا اس ضمن میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔بعض دانش مند لوگوں نے اس یونین کے خطرناک کردار کا ادراک کر لیا تھا اور انھوں نے قبل ازوقت ہی اس کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ان میں شیخ عبداللہ بن بیاہ اور بعض دوسرے علماء شامل ہیں۔
اس یونین کا کردار ابھی تک مشتبہ ہے۔اس نے تباہ کن فتاویٰ جارے کیے ہیں جن سے دہشت گردوں کو غیر مسلح شہریوں کو موت کی نیند سلانے کے اجازت نامے مل گئے تھے۔جب اس یونین کے سربراہ یوسف القرضاوی سے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران میں خود کش بم دھماکوں کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انھوں نے اس کا جواب کچھ یوں دیا تھا:’’اس کا انحصار افراد نہیں بلکہ گروپ پر ہے‘‘۔ انھوں نے گروپ کے فیصلے کی اہمیت پر زوردیا تھا اور کہا تھا کہ یہ فیصلہ افراد کے بجائے گروپ کے مفادات پر مبنی ہونا چاہیے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ فتوے اسی طرح کسی روک ٹوک یا پابندی کے بغیر جاری ہوتے رہیں گے؟
1951ء میں مفکر ایرک ہوفر نے اپنی مشہور کتاب ’’ حقیقی معتقد‘‘ شائع کی تھی۔مسلح اسلامی گروپوں کے ظہور سے قبل انھوں نے انتہا پسند وں کی نفسیاتی حالت کے بارے میں گفتگو کی تھی اور یہ انتہا پسند اپنے لیے مرنے کی سوچ اور عقیدہ رکھتے تھے۔انھوں نے یوسف القرضاوی کے گروپ اور افراد کے بارے میں بیانات پر بھی گفتگو کی ہے۔
ہوفر لکھتے ہیں:’’ ایک فرد کو اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار کرنے کی غرض سے اس کو ذاتی شناخت سے محروم کردیا جائے۔اس کو جارج ہانس ، ایفان اور تداؤ بنا دیا جائے ۔ یعنی ایک انسانی ایٹم ، جس کا وجود پیدائش اور موت سے جڑا ہوا ہے۔ اس نتیجے کو حاصل کرنے کا سب سے انتہا پسندانہ طریق یہ ہے کہ فرد کو ایک اجتماعی جسم میں ضم کردیا جائے۔ اس طرح کا مکمل مجذوب شخص خود کو اور دوسروں کو انسان ہی نہیں سمجھتا ہے۔اس سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ وہ کون ہے؟ تو اس کا رٹا رٹایا خود کار جواب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک جرمن ، روسی ، جاپانی ، عیسائی اور مسلمان ہے اور وہ ایک خاص قبیلے یا خاندان کا فرد ہے۔اس کا اجتماعی جسم کے سوا کوئی انفرادی مقصد یا منزل نہیں ہوتی ہے۔جب تک یہ جسم زندہ رہتا ہے تو وہ مر نہیں سکتا ہے۔ایک احساس ملکیت سے عاری شخص کے لیے محض سادہ زندگی کوئی قدرو قیمت نہیں رکھتی ہے‘‘۔
نفسیاتی تجزیہ
یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے افراد ان کے گروپ میں ڈھل جاتے ہیں اور وہ ایک ایسی ڈھال بن جاتے ہیں جس کو دوسرے اپنے طے شدہ مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔حتیٰ کہ وہ خود کو دوسرے لوگوں کے درمیان دھماکوں سے اڑا دیتے ہیں۔انتہا پسندوں کو ایک اہم مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ان کی نمائندگی اعتدال پسند کرتے ہیں۔
قرآن اور تلوار کے موضوع پر جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے لیڈر یوسف العائری کا لیکچر ہوفر کے پیش کردہ نفسیاتی تجزیے کی ایک مثال ہے۔
ہوفر اپنی کتاب میں مزید لکھتے ہیں :’’ ایک حقیقی پیروکار کی اصل صلاحیت یہ ہے کہ وہ اپنی آنکھیں اور کان بند رکھے تاکہ وہ ان حقائق کو سن اور دیکھ نہ سکے جو اس کی غیر ثانی وفاداری اور مضبوطی کا ذریعہ ہیں۔اس کو خطرے سے ڈرایا جاسکتا ہے اور نہ رکاوٹوں سے اس کا دل چھوٹا کیا جاسکتا ہے اور نہ تضادات سے اس کو مخمصے کا شکار کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ان کے وجود سے انکاری ہوتا ہے۔عقیدے کی مضبوطی ،جیسا کہ برگساں نے نشان دہی کی ہے،پہاڑ کے حرکت پذیر ہونے سے ظاہر نہیں ہوتی ہے بلکہ پہاڑ کو حرکت کرتا ہوا نہ دیکھنے سے ظاہر ہوتی ہے۔
اسلامی عسکری اتحاد نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے جو ویژن پیش کیا ہے، وہ امیدافزا ہے۔بالخصوص اس تناظر میں بھی جب ہم دانش ورانہ اور نظری سطحوں پر دہشت گردی کو شکست دینے میں ناکام رہے ہیں۔ہم میں خونریزی اور ہلاکتوں کے بارے میں تو کافی حساسیت پائی جاتی ہے اور ہم تجزیوں اور وضاحتوں سے بھی تھک ہار چکے ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ حکومتیں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ، مختلف پلیٹ فارموں اور پوڈیمز کو صاف کریں، دہشت گردوں کی کمین گاہوں اور خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں اور تعلیم کو ایلیمنٹری سے اعلیٰ سطح تک از سر نو استوار کریں۔اس کے لیے بہت سی کوششیں درکار ہوں گی لیکن اتحاد کے رکن اکتالیس ممالک کے لیے اجتماعی طور پر یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ جب یہ سب کام ہوجائے گا تو پھر ہی ہم یہ امید کرسکیں گے کہ اب ایسے قتل عام کا اعادہ نہیں ہوگا جس میں بے گناہ لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ ہمیں دہشت گردی کے خلاف ایک مکمل جنگ کی ضرورت ہے۔
پال ڈوموشیل اپنی کتاب ’’ دا بیرن سیکریفائس‘‘ ( بنجر قربانی) میں لکھتے ہیں: ’’تشدد کو افراد کی جانب سے بڑھائے جانے والے تنازعات اور مقابلوں میں مدغم کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جتنا یہ دوسروں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے،اتنا ہی اس کو پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے ،جتنی اس میں چکا چوند ہوتی ہے،اتنی اس میں تشویش بھی پنہاں ہوتی ہے‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فہد سلیمان الشقیران ایک سعودی لکھاری اور محقق ہیں۔ وہ الریاض فلاسفر گروپ کے بانی سربراہ ہیں۔ان کی تحریریں العربیہ ڈاٹ نیٹ اور پان عرب اخبار الشر ق الاوسط میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

