Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Tuesday, August 28, 2018

افغانستان میں امن کی کوششیں? Is Peace in Afghanistan possible



DESPITE some deadly terrorism attacks reported in 2018, the overall frequency across the globe has been on the decline in recent years. However, these dwindling numbers do not suggest, in any way, that the threat of terrorism has been eliminated. The latest audio message by the so called Islamic State group (IS) head Abu Bakr al Baghdadi, in which he called on his followers to keep fighting, vindicates the lingering threat of terrorist violence.

Certainly, most terrorist groups have been weakened but they are still present in physical and virtual spaces; in many instances, they have ungoverned territories to operate in. In Pakistan, too, despite justifiable claims of having significantly damaged terrorist infrastructure in the country, terrorist groups are able to trigger sporadic waves of violence albeit with a reduced frequency as compared to past years. A series of terrorist attacks before and during the election month of July hurt the image of Pakistan as a state effectively dealing with its internal security threats.... [........]

افغانستان میں بیک وقت طالبان کی امریکی افواج اور افغان حکام کے ساتھ جھڑپیں ، امریکی ڈرون حملے اور ان پہ پینٹاگون کی خاموشی بھی جاری ہے اور ساتھ ہی کئی ڈپلومیسی ٹریک بھی عمل پذیر ہیں۔ستمبر میں ہونے والی ماسکو امن کانفرنس میں طالبان کے ساتھ مذاکرات متوقع ہیں جن میں شرکت سے تاحال امریکہ اور افغان حکومت نے معذرت ظاہر کردی ہے۔ 

افغانستان میں اصل فریق تو طالبان اور امریکہ ہیں ۔کسی ایک فریق کے بغیر آپ بارہ ممالک کا اجلاس بلا کر گڑ والی چائے تو پی سکتے ہیں مسئلے کا حل نہیں نکال سکتے۔معلوم ہوتا ہے مسئلے کا حل نکالنا مقصود بھی نہیں ہے۔ ورنہ مذاکرات کے لئے ماسکو کا انتخاب کرکے امریکہ کو مشتعل نہ کیا جاتا۔ اس طرح چین اور روس نے جن کے درمیان کم سے کم افغانستان کی حد تک گاڑھی چھن رہی ہے ، امریکہ اور افغان حکومت دونوں کو پیغا م دیا ہے کہ وہ اس مسئلے کے مستقل شراکت دار ہیں اور ان کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ طالبان پہ پہلے ہی الزام ہے کہ انہیں چین اور روس اسلحہ فراہم کررہے ہیں۔ یہ الزام کسی حد تک درست بھی ہے۔

افغانستان کے سیکوریٹی ایڈوائزر حنیف اتمر استعفی دے چکے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ حنیف اتمر روس اور چین کی اس حرکت پہ مشتعل ہوئے ہیں حالانکہ ان پہ روس کے ساتھ قربت کا الزام بھی لگایا جاتا رہا ہے۔حنیف اتمر آئندہ سال صدارتی انتخابات میں امیدوار ہونگے لیکن اس کے لئے ابھی استعفیٰ دینا ضروری نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ بیک ڈور ڈپلومیسی میں مصروف رہے ہیں۔ گزشتہ سال ان کا دورہ روس بھی مبینہ طور پہ امریکی ایما پہ تھا اور وہ یہ پیغام لے کر گئے تھے کہ روس طالبان کے سر پہ سے ہاتھ اٹھالے۔انہوں نے حال ہی میں پرانے مجاہدین کی وطن واپس آنے والی جلا وطن قیادت سے ملاقاتیں بھی کیں جن میں آنے والے انتخابات میں ان جماعتوں کے مستقبل کا جائزہ لیا گیا تھا۔کل کے مجاہدین آج امریکہ کے زیر انتظام ہونے والے انتخابات کی تیاری میں ہیں اور طالبان ہیں کہ ہاتھ سے بندوق رکھنے پہ تیار نہیں۔ اس کے علاوہ یہی موصوف ملک کے ہر بڑے دن پہ امریکہ کا دامن پکڑ کر اسے کچھ اور دن افغانستان میں قیام کرنے کا عاشقانہ مطالبہ کرتے پائے گئے ہیں۔اب عین اس موقع پہ جبکہ روس نے چین ، پاکستان اور بھارت سمیت بارہ ممالک کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے ماسکو بلا لیا ہے، حنیف اتمر کا استعفی کچھ اور کہانی بیان کررہا ہے۔

ظاہر ہے وہ امریکہ کے ساتھ ہی مشتعل ہوگئے ہیں اور ملک میں چین اور روس کے کردار کو اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ادھر چین و روس نے امریکی انکار کو اپنے حق میں استعمال کیا اور کہا کہ وہ خطے میں امن چاہتا ہی نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ امن چاہتا ہے لیکن اپنی شرائط پہ چاہتا ہے اور جو طالبان نہیں چاہتے۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں بھارت اور پاکستان کی شمولیت کے ساتھ ہی چین نے افغان پالیسی کا اعلان کر دیا تھا جس میں روس نے اس کی حمایت کی تھی۔ تب ہی فیصلہ ہوگیا تھا کہ اب امریکہ کو افغانستان سے نکلنے پہ مجبور کیا جائے گا لیکن کیا انہیں علم نہیں تھا کہ ایسا مطالبہ اگر چین اور روس کی طرف سے ہوگا تو وہ امریکہ کو مزید مشتعل ہی کرے گا اورہوا بھی یہی ہے اور مقصد بھی یہی تھا۔ چین اور روس امریکہ کو اس وقت تک افغانستان میں پھنسائے رکھنا چاہتے ہیں جب تک طالبان کا صفایا نہیں ہوجاتا یا وہ جنگ بندی کے کسی معاہدے پہ راضی نہیں ہوجاتے۔امریکہ نکل گیا تو اژدہوں کے اس ہار کو گلے میں کون ڈالے گا۔امریکہ کا طالبان سے مطالبہ چھوٹا سا ہے اور وہ ہے افغانستان میں مستقل عسکری اڈوں کی موجودگی۔ جس دن طالبان اس پہ راضی ہوگئے سارے مسئلے حل ہوجائیں گے۔آخر فلپائن ، کوریائی جزائر ، جاپان، افریقہ، شرق وسطی، خلیج ، آسٹریلیا اور کونسا بحر وبر ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود نہیں خود افغانستان میں اس وقت بگرام ، ہیرات، مزارشریف، شنداد میں ائیربیس اور کم از کم سات مزید عسکری مستقر موجود ہیں۔کیا حرج ہے اگر طالبان اسے ان میں سے کچھ اڈوں کی حفاظت کی ضمانت دے دیں تاکہ چین اور روس کی موجودگی میں اس کی دال روٹی بھی چلتی رہے۔تب تک کیوں نا مذاکرات مذاکرات کھیلا جائے آخر امریکہ کلنٹن سے لے کر ٹرمپ تک یہی تو کرتا آرہا ہے ۔اب تک کم سے کم تیس بار امریکی انتظامیہ اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوچکے ہیں۔

کلنٹن نے تو طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کئے تھے اور ان سے افغانستان میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ جواباً القاعدہ نے کینیا اور تنزانیہ میںا مریکی سفارت خانوں پہ حملہ کردیا تھا اور حملہ آور افغانستان سے نہیں کہیں اور سے گئے تھے۔نائن الیون کے بعد بش پالیسی نے تو دنیا بدل دی تھی اوباما نے چارج سنبھالتے ہی حقیقی امن کا ضامن افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کو قرار دیا لیکن امریکی فوجیوں کی تعداد تین گنا بڑھا دی۔اپنے دور صدارت کے آخری دنوں میں انہوں نے یہ تعداد کم کی لیکن صدر ٹرمپ نے فیصلہ کن جنگ کی ٹھان لی۔ مسئلہ لیکن وہ ہے ہی نہیں جو بتایا جاتا ہے اور جس کی بنیاد پہ پاکستان کی مشکیں کسی اور امداد میں کٹوتی کی جاتی ہے یعنی دہشت گردوں کا صفایا۔اصل مسئلہ ہے طالبان کو افغانستان میں امریکی موجودگی پہ راضی کرنا جس کے لیے پاکستان پہ دباؤ ڈالا جاتا ہے۔اب اگر ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام ممالک مل کر طالبان سے امریکہ کی غیر موجودگی میں مذاکرات کر بھی لیتے ہیں تو ان کی حیثیت کیا ہوگی اس کا انداز ہ لگانا مشکل نہیں ہے۔اس کا اندازہ روس کو بھی ہے اور وہ جو پیغام دینا چاہتا ہے اس نے دے دیا ہے۔ طالبان امریکی افواج کی موجودگی میں افغانستان کے تقریبا ًنصف حصے پہ قابض ہوکر اور پینتیس فیصد اضلاع میں اپنی متوازی حکومت بنا کر روس اور چین کی گائڈلائن پہ چلنا چاہیں گے، یہ بعید از قیاس ہے۔انہوں نے حالات کے مطابق وہی پالیسی اپنائی جو کبھی سوویت روس کے خلاف ان کے بڑوں نے اپنائی تھی ۔جس وقت افغانستان میں روسی افواج پسپا ہو رہی تھیں ، پاکستان میں موجود سوویت روس کے جاں نثار ، افغان مجاہدین پہ امریکی پٹھو ہونے کاالزام لگاتے اور پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگاتے تھے۔ سوویت روس کو پسپا ہونا ہی پڑا۔اس جہاد میں امریکی اور امریکی ڈالر کب اور کس مقام پہ شامل ہوئے یہ کوئی راز کی بات نہیں۔خود امریکہ میں ایسے بے شمار گواہ اپنی تصنیفات ساتھ موجود ہیں جنہوں نے اعتراف کیا کہ یہ جنگ تو دراصل مٹھی بھر مجاہدین نے چند توڑے دار بندوقوں اور روس سے لوٹے گئے ان ٹینکوں کے ساتھ شروع کی تھی جنہیں گھات لگائے مجاہدین چکنی مٹی میں لپے کمبل پھینک کر ناکارہ بنا دیا کرتے تھے ۔ 
یہ کہانیاں نہیں تھیں نہ ہی نسیم حجازی کے کسی ناول کے اقتباسات تھے۔ یہ تاریخی حقائق ہیں جن سے صرف نظر وہی کر سکتا ہے جس کا کوئی نظریہ نہ ہو۔ مارکس اور لینن کے پیرووکاروں کو جو بالشویک انقلاب کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے،بولیویا کے چی گویرا اور کیوبا کے فیدل کاسترو کو ہیرو مانتے ہیں اور انقلاب فرانس کی عوامیت پہ لمبے لیکچر دیتے ہیں معلوم نہیں کیوں افغان عوام اور مجاہدین کی جدو جہد آزادی کو امریکی جہاد کا نام دے کر رد کر دیتے ہیں۔ اس جہاد میں جو خالص افغان عوام اور مجاہدین نے سویت روس کے خلاف شروع کیا اور جس میں بعد میں سعودی عرب ، پاکستان اور امریکہ نے اپنا حصہ ڈالا کہ ہر ایک کے اپنے مفادات تھے، امریکی جہاد کہناایک نظریے کی توہین ہی نہیں حقائق سے سنگین صرف نظر بھی ہے ۔

پاکستان کی خوش قسمتی یہ رہی کہ اس جنگ کے دوران اس کی پوزیشن مذہبی اعتبار سے مضبوط اور واضح رہی۔ ایک طرف جارح سویت روس تھا جو ایک عرصہ افغانستان میں اپنے نظریات کی آبیاری کرتا رہا تھا دوسری طرف وہ مجاہدین تھے جو اس جارح کافر ملک کے خلاف ہتھیار اٹھا کر صف آرا ہوگئے تھے۔ پاکستان کا جغرافیہ اور اخلاقیات دونوں پابند تھے کہ وہ مجاہدین کی دامے درمے سخنے مدد کریں۔ ادھر امریکہ کو روس کے ساتھ پرانے بدلے چکانے تھے یوں پاکستان کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں رہا۔ مجاہدین،پاکستان اور امریکہ ایک ہی پیج پہ اپنا اپنا کھیل کھیلتے رہے۔کل کے مجاہدین تو آج بھی امریکی آشیرباد میں ہونے والے انتخابات کی تیاری میں مصروف ہیں اور آج کے طالبان نے ہتھیار اٹھا رکھے ہیں جن پہ الزام ہے کہ ان کی پشت پناہی روس اور چین کررہے ہیں۔ ۔ یہ الزام لگانے والے یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اب روس سپرپاور نہیں رہا پھر بھی امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کا راستہ نہیںمل رہا۔وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ مومن اللہ پہ بھروسہ کرلے تو وہ کسی کو بھی اس کا پشت پناہ بنا دیتا ہے۔ [قدسیہ ممتاز 92 نیوز]

Afghanistan | World | The Guardian

https://www.theguardian.com/world/afghanistan
2 days ago - Afghanistan: national security adviser quits, sparking cabinet resignations. Hanif Atmar's exit, amid worsening security situation, is followed by ...

Afghanistan - The New York Times

www.nytimes.com/topic/destination/afghanistan
World news about Afghanistan. Breaking news and archival information about its people, politics and economy from The New York Times.
Related :

Jihad, Extremism

    Monday, August 27, 2018

    Global Terrorism - عالمی دھشتگردی


    There is no commonly accepted definition of "terrorism". Being a charged term, with the connotation of something "morally wrong", it is often used, both by governments and non-state groups, to abuse or denounce opposing groups. Broad categories of political organisations have been claimed to have been involved in terrorism to further their objectives, including right-wing and left-wing political organisations, nationalist groups, religious groups, revolutionaries and ruling governments. Terrorism-related legislation has been adopted in various states, regarding "terrorism" as a crime. There is no universal agreement as to whether or not "terrorism", in some definition, should be regarded as a war crime.



    The present wave of terrorism can  be traced form destruction of King David Hotel in Palestine by Zionist terrorists. The King David Hotel bombing was a terrorist attack carried out on Monday, July 22, 1946, by the militant right-wing Zionist underground organization the Irgun on the British administrative headquarters for Palestine, which was housed in the southern wing of the King David Hotel in Jerusalem. 91 people of various nationalities were killed, and 46 were injured. [........]. The Palestine was colonised and they started freedom struggle only to be termed terrorists? Similarly the Kashmiri resistance under Indian occupation, Afghans by Russia and now US are called terrorists. The state terrorism by the occupation forces is ignored.

    How Zionist terrorism determined Palestine's fate | The Electronic ...


    https://electronicintifada.net/content/how-zionist-terrorism-determined...fate/19871

    Mar 15, 2017 - Zionist terrorism aimed to prevent Palestinian Arabs from exercising ... attacks, which escalated following the end of the Second World War, ...

    Irgun - Wikipedia


    https://en.wikipedia.org/wiki/Irgun


    The Irgun was a Zionist paramilitary organization that operated in Mandate Palestine between ... The Irgun has been viewed as a terrorist organization or organization which carried out terrorist acts. ... The Irgun disagreed with the policy of the Yishuv and with the World Zionist Organization, both with regard to strategy and ...
    The present wave of terror, dire threat to world peace can be traced to the Zionism and the US imperialism, with the defeat of USSR in Afghanistan through Taliban,[CIA creation] who were abandoned, which resulted in creation of various groups for establishment of Islamic Caliphate in Afghanistan, Pakistan, Middle East [Al-Qaida,ISIS/Daesh, BOKO Haram in Nigeria and elsewhere]. These so called groups help to destroy Iraq and Syria, Libya and thus Israel emerging as sole regional power with no threat.  Millions of people [majority Muslims lost their lives]
    Statistics: https://ourworldindata.org/terrorism

    A search of terrorist organizations will give a list of Muslim Terrorist Organizations, whereas there are Christian, Zionist, Hindu, Buddhist and others terrorist organizations in large numbers not mentioned. Terrorism is not a Muslim monopoly!

    Read: Islamic Extremism is a Product of Western Imperialism


    The Zionist movement has maintained a striking continuity in its aims and methods over the past century. From the start, the movement sought to achieve a Jewish majority in Palestine and to establish a Jewish state on as much of the LAND as possible. The methods included promoting both mass Jewish immigration and acquiring tracts of land that would become the inalienable property of the Jewish people. This policy inevitably prevented the indigenous Arab residents from attaining their national goals and establishing a Palestinian state. It also necessitated displacing Palestinians from their lands and jobs when their presence conflicted with Zionist interests.Keep reading [.....]



    Terrorism is, in the broadest sense, the use of intentionally indiscriminate violence as a means to create terror among masses of people; or fear to achieve a financial, political, religious or ideological aim. It is used in this regard primarily to refer to violence against peacetime targets or in war against non-combatants. The terms "terrorist" and "terrorism" originated during the French Revolution of the late 18th century but gained mainstream popularity during the U.S. presidency of Ronald Reagan (1981–89) after the 1983 Beirut barracks bombings and again after the 2001 September 11 attacks and the 2002 Bali bombings.

    According to the Global Terrorism Database by the University of Maryland, College Park, more than 61,000 incidents of non-state terrorism, resulting in at least 140,000 deaths, have been recorded from 2000 to 2014. [https://en.wikipedia.org/wiki/Terrorism]

    In the present environment of universal turmoil especially in the post 911 scenario, the Muslims have become a target of universal hate propaganda. Some verses from Qur’an are mostly misquoted to defend killing of non believers and to project a permanent state of armed conflict (Jihad) between Muslims and non believers. The ignorant terrorists thus facilitate the anti Muslim lobbies to propagate and project all Muslims as intolerant, war mongers and terrorists. Even some ignorant Muslims also fall pray to this fallacy. It is important that the misconceptions are removed by understanding the concept of Jihad in the light of Qur’an and Sunnah. ... Keep reading ... [........]


    Indian Muslims are the 3rd largest Muslim population anywhere in the world, after Indonesia and Pakistan. Muslims in India form the largest religious minority in the country. According to the 2011 Census, they comprise 14.4 per cent of India’s total population — roughly 174 million people. . In that sense, then, Indian Muslims certainly are a minority, particularly when one considers the growing influence of Hindu right-wing forces since the 1980s. They are constant target of Hindu Extremists and terrorists .... Keep reading ...[.......]

    Kashmir, a Muslim majority state is illegally occupied by India since partition in 1947. They were promised a plebiscite under UN in 1948 but India has denied them this right... they are struggling for freedom and Indian military is committing atrocities against population, the state terrorism .... keep reading .... [........] 

    Global Terrorism Database - START.umd.edu - University of Maryland

    https://www.start.umd.edu/gtd/

    The Global Terrorism Database (GTD) is an open-source database including information on terrorist events around the world from 1970 through 2017 (with ...


    National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ .......



    Related :

    Jihad, Extremism.... [........]

    Buddhist Terrorism









      The Terror Organizations list include mostly Muslims , whereas there are many Terrorist groups among Christians, Buddhists, Hindus, Jews and others...

      Terrorism can be eliminated by resolving the major world issues like Palestine, Kashmir and others with justice, granting human rights and freedom to the people in Afghanistan, Myanmar (Rohingya) Syria, Yemen etc and stop colonization, exploitation in any shape or form ...
      --------------------

      Pakistan Responds to Terrorism, Through Message of Peace via National Counter Terrorism Narrative: 

      Sunday, August 12, 2018

      The security policy challenge

      To counter terrorism, the PTI promises a four-fold strategy comprising the four ‘E’s’: the first component is ‘exposing’ the links between active and passive terrorists and winning over the latter; the second component is about ‘enforcing’ the National Action Plan (NAP) as well as Pakistan’s international treaty/convention commitments on counterterrorism; the third seeks to ‘eliminate’ hardcore terrorists; and the fourth calls for ‘educating’ people by developing a counter-ideological narrative on terrorism۔۔۔۔keep reading
      https://www.dawn.com/news/1426517

      Friday, February 2, 2018

      کفار کی مدد کی چند صورتیں اور ان کے احکام




        Muslim – Non Muslim Relations – مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے تعلقات

        Tuesday, December 12, 2017

        اسلامی فوجی اتحاد اور دہشت گردی کے خلاف مکمل جنگ کی ضرورت

        مصر کے صوبے شمالی سیناء میں العریش کے نزدیک ایک مسجد پر دہشت گردوں کا حملہ گذشتہ ہفتے الریاض میں دہشت گردی مخالف اسلامی فوجی اتحاد کے وزرائے دفاع کے اجلاس کا سب سے نمایاں موضوع رہا ہے۔
        سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزرائے دفاع کے اجلاس سے خطاب کرتےہوئے دو نکات پر زوردیا: اتحاد کے اکتالیس رکن ممالک کے درمیان روابط کا فروغ اور اسلام کے تشخص کو سخت گیروں کے ہاتھوں داغ دار ہونے سے بچانا۔اس اجلاس کا مرکزی موضوع تو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے عسکری اور سراغرسانی کے شعبوں میں تعاون اور ہر جگہ دہشت گردی کا تعاقب تھا۔ سعودی ولی عہد نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ روئے زمین سے دہشت گردوں کا مکمل استیصال کیا جائے گا۔
        یہ وزارتی اجلاس اپنے نتائج کے اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل رہا ہے۔2015ء کے آخر میں تشکیل پانے والے عسکری اتحاد نے باضابطہ طور پر تنظیمی اور عملی بنیادوں پر کام کا آغاز کردیا ہے اور اس کے اثرات ہم آنے والے دنوں میں دیکھیں گے۔
        اس وقت معاشروں کو لاحق مختلف روگوں میں سے دہشت گردی سب سے بد ترین ہے۔اس کے علاوہ غُربت ، قحط اور دیگر مختلف امراض لاحق ہیں لیکن دہشت گردی ایک ایسا بنیادی خطرہ ہے جس طرح کی کوئی اور ہلاکت آفریں آفت ہوسکتی ہے۔ہم کوئی نصف صدی تک خونیں دہشت گردی کی بات کرتے رہے ہیں لیکن اب دانشورانہ ، ثقافتی اور تعلیمی سطح پر حکمت عملیوں پر غور کیا جارہا ہے کہ ہم کیسے دہشت گردی کی اس لعنت کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس سے بچ سکتے ہیں لیکن اس سمت میں ابھی تک حکومتی اور ادارہ جاتی سطح پر کام نہیں ہوا ہے۔
        دنیا کے ممالک کی حکومتیں برسوں سے دہشت گردی کا مقابلہ سکیورٹی اور سراغرسانی کے شعبوں میں کام کے ذریعے کرتی چلی آرہی ہیں مگر وہ ایک سیل کا قلع قمع کرتی ہیں تو دوسرا دوستانہ ماحول میں سر اٹھا لیتا ہے۔دہشت گردوں کے سیل ختم کرنے والا فوجی ادارہ بھی دراصل وہی فریق ہے جو اُن نرسریوں کا تحفظ کرتا ہے جو سرکاری تعلیمی اداروں اور مذہبی اداروں میں ان سیلوں کی آبیاری کرتی ہیں۔یہ ایک ایسی سچائی ہے جس کا دلیری سے مقابلہ کیا جانا چاہیے تاکہ اسی سوراخ سے بار بار ڈسنے سے بچا جاسکے اور جہاں سے پہلے ڈنک کھایا جاتا ہےوہاں دوبارہ ہاتھ نہ رکھا جائے اور العریش کی طرح کے قتل عام کے واقعے کا دوبارہ اعادہ نہ ہو ۔مصر میں نمازیوں کے قتل عام کے اس ہولناک واقعے نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پرانی حکمت عملی سے متعلق بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے ۔

        مہلک فتوے

        دہشت گردی کے مہلک فتووں کے ا جرا کا سلسلہ جاری ہے ۔انتہا پسند مفتی مختلف پلیٹ فارمز سے نمودار ہوتے ہیں اور لوگ سے خطاب کرتے ہیں۔مسلم علماء کی بین الاقوامی یونین کو جرائم آلود کیا جانا اس ضمن میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔بعض دانش مند لوگوں نے اس یونین کے خطرناک کردار کا ادراک کر لیا تھا اور انھوں نے قبل ازوقت ہی اس کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ان میں شیخ عبداللہ بن بیاہ اور بعض دوسرے علماء شامل ہیں۔
        اس یونین کا کردار ابھی تک مشتبہ ہے۔اس نے تباہ کن فتاویٰ جارے کیے ہیں جن سے دہشت گردوں کو غیر مسلح شہریوں کو موت کی نیند سلانے کے اجازت نامے مل گئے تھے۔جب اس یونین کے سربراہ یوسف القرضاوی سے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران میں خود کش بم دھماکوں کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انھوں نے اس کا جواب کچھ یوں دیا تھا:’’اس کا انحصار افراد نہیں بلکہ گروپ پر ہے‘‘۔ انھوں نے گروپ کے فیصلے کی اہمیت پر زوردیا تھا اور کہا تھا کہ یہ فیصلہ افراد کے بجائے گروپ کے مفادات پر مبنی ہونا چاہیے۔
        اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ فتوے اسی طرح کسی روک ٹوک یا پابندی کے بغیر جاری ہوتے رہیں گے؟
        1951ء میں مفکر ایرک ہوفر نے اپنی مشہور کتاب ’’ حقیقی معتقد‘‘ شائع کی تھی۔مسلح اسلامی گروپوں کے ظہور سے قبل انھوں نے انتہا پسند وں کی نفسیاتی حالت کے بارے میں گفتگو کی تھی اور یہ انتہا پسند اپنے لیے مرنے کی سوچ اور عقیدہ رکھتے تھے۔انھوں نے یوسف القرضاوی کے گروپ اور افراد کے بارے میں بیانات پر بھی گفتگو کی ہے۔
        ہوفر لکھتے ہیں:’’ ایک فرد کو اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار کرنے کی غرض سے اس کو ذاتی شناخت سے محروم کردیا جائے۔اس کو جارج ہانس ، ایفان اور تداؤ بنا دیا جائے ۔ یعنی ایک انسانی ایٹم ، جس کا وجود پیدائش اور موت سے جڑا ہوا ہے۔ اس نتیجے کو حاصل کرنے کا سب سے انتہا پسندانہ طریق یہ ہے کہ فرد کو ایک اجتماعی جسم میں ضم کردیا جائے۔ اس طرح کا مکمل مجذوب شخص خود کو اور دوسروں کو انسان ہی نہیں سمجھتا ہے۔اس سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ وہ کون ہے؟ تو اس کا رٹا رٹایا خود کار جواب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک جرمن ، روسی ، جاپانی ، عیسائی اور مسلمان ہے اور وہ ایک خاص قبیلے یا خاندان کا فرد ہے۔اس کا اجتماعی جسم کے سوا کوئی انفرادی مقصد یا منزل نہیں ہوتی ہے۔جب تک یہ جسم زندہ رہتا ہے تو وہ مر نہیں سکتا ہے۔ایک احساس ملکیت سے عاری شخص کے لیے محض سادہ زندگی کوئی قدرو قیمت نہیں رکھتی ہے‘‘۔

        نفسیاتی تجزیہ

        یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے افراد ان کے گروپ میں ڈھل جاتے ہیں اور وہ ایک ایسی ڈھال بن جاتے ہیں جس کو دوسرے اپنے طے شدہ مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔حتیٰ کہ وہ خود کو دوسرے لوگوں کے درمیان دھماکوں سے اڑا دیتے ہیں۔انتہا پسندوں کو ایک اہم مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ان کی نمائندگی اعتدال پسند کرتے ہیں۔
        قرآن اور تلوار کے موضوع پر جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے لیڈر یوسف العائری کا لیکچر ہوفر کے پیش کردہ نفسیاتی تجزیے کی ایک مثال ہے۔
        ہوفر اپنی کتاب میں مزید لکھتے ہیں :’’ ایک حقیقی پیروکار کی اصل صلاحیت یہ ہے کہ وہ اپنی آنکھیں اور کان بند رکھے تاکہ وہ ان حقائق کو سن اور دیکھ نہ سکے جو اس کی غیر ثانی وفاداری اور مضبوطی کا ذریعہ ہیں۔اس کو خطرے سے ڈرایا جاسکتا ہے اور نہ رکاوٹوں سے اس کا دل چھوٹا کیا جاسکتا ہے اور نہ تضادات سے اس کو مخمصے کا شکار کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ان کے وجود سے انکاری ہوتا ہے۔عقیدے کی مضبوطی ،جیسا کہ برگساں نے نشان دہی کی ہے،پہاڑ کے حرکت پذیر ہونے سے ظاہر نہیں ہوتی ہے بلکہ پہاڑ کو حرکت کرتا ہوا نہ دیکھنے سے ظاہر ہوتی ہے۔
        اسلامی عسکری اتحاد نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے جو ویژن پیش کیا ہے، وہ امیدافزا ہے۔بالخصوص اس تناظر میں بھی جب ہم دانش ورانہ اور نظری سطحوں پر دہشت گردی کو شکست دینے میں ناکام رہے ہیں۔ہم میں خونریزی اور ہلاکتوں کے بارے میں تو کافی حساسیت پائی جاتی ہے اور ہم تجزیوں اور وضاحتوں سے بھی تھک ہار چکے ہیں۔
        اب وقت آگیا ہے کہ حکومتیں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ، مختلف پلیٹ فارموں اور پوڈیمز کو صاف کریں، دہشت گردوں کی کمین گاہوں اور خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں اور تعلیم کو ایلیمنٹری سے اعلیٰ سطح تک از سر نو استوار کریں۔اس کے لیے بہت سی کوششیں درکار ہوں گی لیکن اتحاد کے رکن اکتالیس ممالک کے لیے اجتماعی طور پر یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ جب یہ سب کام ہوجائے گا تو پھر ہی ہم یہ امید کرسکیں گے کہ اب ایسے قتل عام کا اعادہ نہیں ہوگا جس میں بے گناہ لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ ہمیں دہشت گردی کے خلاف ایک مکمل جنگ کی ضرورت ہے۔
        پال ڈوموشیل اپنی کتاب ’’ دا بیرن سیکریفائس‘‘ ( بنجر قربانی) میں لکھتے ہیں: ’’تشدد کو افراد کی جانب سے بڑھائے جانے والے تنازعات اور مقابلوں میں مدغم کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جتنا یہ دوسروں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے،اتنا ہی اس کو پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے ،جتنی اس میں چکا چوند ہوتی ہے،اتنی اس میں تشویش بھی پنہاں ہوتی ہے‘‘۔
        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
        فہد سلیمان الشقیران ایک سعودی لکھاری اور محقق ہیں۔ وہ الریاض فلاسفر گروپ کے بانی سربراہ ہیں۔ان کی تحریریں العربیہ ڈاٹ نیٹ اور پان عرب اخبار الشر ق الاوسط میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

        Related :

        Jihad, Extremism