Featured Post

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ تمام مسالک ک...

Thursday, January 24, 2013

کیا میلاد النبی منانا بدعت ہے؟ Cleberating birth of Prophet Muhammad (pbuh) a deviation


إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴿٥٦﴾
 اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو 

سورة الأحزاب33:56
  وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ﴿١٨١﴾
-اور (تمام) رسولوں پر سلام ہو، (181)
[37:181] سورة الصافات
ہر وہ نیا کام جس کی کوئی شرعی دلیل، شرعی اصل مثال یا نظیر پہلے سے کتاب و سنت اور آثارِ صحابہ میں موجود نہ ہو وہ ’’بدعت‘‘ ہے لیکن ہر بدعت غیر پسندیدہ یا ناجائز و حرام نہیں ہوتی بلکہ صرف وہی بدعت ناجائز ہوگی جو کتاب و سنت کے واضح احکامات سے متعارض و متناقص (contradictory) ہو۔دوسرے لفظوں میں بدعتِ سیئہ یا بدعتِ ضلالہ صرف اُس عمل کو کہیں گے جو واضح طور پر کسی متعین سنت کے ترک کا باعث بنے اور جس عمل سے کوئی سنت متروک نہ ہو وہ نا جائز نہیں بلکہ مباح ہے۔ اِسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے معروف غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان بھوپالی (1307ھ) لکھتے ہیں کہ ہر نئے کام کو بدعت کہہ کرمطعون نہیں کیا جائے گا بلکہ بدعت صرف اس کام کو کہا جائے گا جس سے کوئی سنت متروک ہو۔ جو نیا کام کسی امرِ شریعت سے متناقص نہ ہو وہ بدعت نہیں بلکہ مباح اور جائز ہے۔ شیخ وحید الزماں اپنی کتاب ’’ہدیۃ المہدی‘‘ کے صفحہ نمبر 117 پر بدعت کے حوالے سے علامہ بھوپالی کا یہ قول نقل کرتے ہیں :
البدعة الضّلالة المحرّمة هی التی ترفع السّنة مثلها والتی لا ترفع شيئا منها فليست هی من البدعة بل هی مباح الاصل.
’’بدعت وہ ہے جس سے اس کے بدلہ میں کوئی سنت متروک ہو جائے اور جس بدعت سے کسی سنت کا ترک نہ ہو وہ بدعت نہیں ہے بلکہ وہ اپنی اصل میں مباح ہے۔‘‘
رہی وہ بدعت جو مستحسن اُمور کے تحت داخل ہے اور وہ قرآن و حدیث کے کسی حکم سے ٹکراتی بھی نہیں تو وہ مشروع، مباح اور جائز ہے، اسے محض بدعت یعنی نیا کام ہونے کی بنا پر مکروہ یا حرام قرار دینا کتاب و سنت کے ساتھ نا اِنصافی ہے۔
ذیل میں ہم جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شرعی حیثیت اور اُس کے فضائل و ثمرات کے حوالے سے تصورِ بدعت کے مختلف پہلوؤں پر غور کریں گے۔ بہ طورِ خاص اس بے بنیاد تصور کا اِزالہ کریں گے کہ ہر وہ کام جو عہدِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نہیں تھا اور نہ خلفائے راشدین و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں اس کا ثبوت ملتا ہے، اسے اگر بعد میں کیا جائے تو - قطعِ نظر اچھائی یا برائی کے - وہ بدعت (یعنی نیا کام) ہونے کی بناء پر کلیتاً ناجائز اور حرام تصور ہوگا۔ اِس خود ساختہ تصور کو قرآن و حدیث کی روشنی میں پرکھا جائے گا اور کتاب وسنت کے واضح دلائل سے ثابت کیا جائے گا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد پر فرحت و اِنبساط کا اِظہار کرنا ایک مشروع، مباح اور جائز عمل ہے۔

بدعت کا لغوی مفہوم

’’بدعت‘‘ کا لفظ بَدَعَ سے مشتق ہے۔ اس کا لغوی معنی ہے :
’’کسی سابقہ مثال کے بغیر کوئی نئی چیز ایجاد کرنا اور بنانا۔‘‘
1۔ ابن منظور افریقی (630۔711ھ) لفظِ بدعت کے تحت لکھتے ہیں :
اَبدعت الشيئ : اخترعته لا علی مثال.
ابن منظور، لسان العرب، 8 : 6
’’میں نے فلاں شے کو پیدا کیا یعنی اُسے بغیر کسی مثال کے ایجاد کیا۔‘‘
2۔ حافظ ابن حجرعسقلانی (773۔852ھ) بدعت کا لُغوی مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
البدعة أصلها ما أحدث علی غير مثال سابق.
1. عسقلانی، فتح الباری، 4 : 253
2. شوکانی، نيل الأوطار شرح منتقی الأخبار، 3 : 63
’’اَصلِ بدعت یہ ہے کہ اُسے بغیر کسی سابقہ نمونہ کے ایجاد کیا گیا ہو۔‘‘

معنی بدعت کی قرآن حکیم سے توثیق

قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر لفظِ بدعت کے مشتقات بیان ہوئے ہیں جن سے مذکورہ معنی کی توثیق ہوتی ہے۔ صرف دو مقامات درج ذیل ہیں :
1۔ اللہ تعاليٰ نے زمین و آسمان بغیر کسی مثالِ سابق کے پیدا فرمائے، اس لیے خود کو بدیع کہا۔ فرمایا :
بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاِذَا قَضٰی اَمْراً فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهُ کُنْ فَيَکُوْنُo
البقرة، 2 : 117
’’وہی آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے، اور جب وہ کسی چیز (کے ایجاد) کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو پھر اس کو صرف یہی فرماتا ہے : تو ہو جا، پس وہ ہوجاتی ہےo‘‘
2۔ ایک دوسرے مقام پر فرمایا :
بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ.
الانعام، 6 : 101
’’وہی آسمانوں اور زمین کا مُوجد ہے۔‘‘
درج بالا آیات سے ثابت ہوا کہ کائناتِ اَرضی و سماوی کی تخلیق کا ہر نیا مرحلہ بدعت ہے اور اِسے عدم سے وجود میں لانی والی ذاتِ باری تعاليٰ ’’بدیع‘‘ہے۔

بدعت کا اِصطلاحی مفہوم

اہلِ علم کے نزدیک بدعت کی اِصطلاحی تعریف درج ذیل ہے :
1۔ اِمام نووی (631۔ 677ھ) بدعت کی تعریف اِن الفاظ میں کرتے ہیں :
البدعة هی إحداث مالم يکن فی عهد رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم .
نووی، تهذيب الأسماء واللغات، 3 : 22
’’بدعت سے مراد ایسے نئے کام کی ایجاد ہے جو عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نہ ہو۔‘‘
2۔ شیخ ابن رجب حنبلی (736۔795ھ) بدعت کی اِصطلاحی تعریف درج ذیل الفاظ میں کرتے ہیں :
المراد بالبدعة ما أحدث مما لا أصل له فی الشريعة يدل عليه، وأما ما کان له أصل من الشّرع يدل عليه فليس ببدعة شرعاً، وإن کان بدعة لغة.
1. ابن رجب، جامع العلوم والحکم فی شرح خمسين حديثاً من جوامع الکلم : 252
2. عظيم آبادی، عون المعبود شرح سنن أبی داود، 12 : 235
3. مبارک پوری، تحفة الأخوذی شرح جامع الترمذی، 7 : 366
’’بدعت سے مراد ہر وہ نیا کام ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل موجود نہ ہو جو اس پر دلالت کرے، لیکن ہر وہ معاملہ جس کی اصل شریعت میں موجود ہو وہ شرعاً بدعت نہیں اگرچہ وہ لغوی اعتبار سے بدعت ہوگا۔‘‘
حافظ ابنِ حجر عسقلانی (773۔852ھ) بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیّئہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
والتحقيق أنها إن کانت مما تندرج تحت مستحسن فی الشّرع فهی حسنة، وإن کانت مما تندرج تحت مستقبح فی الشّرع فهی مستقبحة.
1. عسقلانی، فتح الباری، 4 : 253
2. شوکانی، نيل الأوطار شرح منتقی الأخبار، 3 : 63
’’تحقیق یہ ہے کہ اگر بدعت کوئی ایسا کام ہو جو شریعت میں مستحسن اُمور میں شمار ہو تو وہ حسنہ ہے اور اگر وہ شریعت میں ناپسندیدہ اُمور میں شمار ہو تو وہ قبیحہ ہوگی۔‘‘
اِن تعریفات سے واضح ہوتا ہے کہ ہر نئے کام یعنی بدعت کو محض نیا کام ہونے کی وجہ سے مطلقاً حرام یا ممنوع قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اُس کے جواز یا عدمِ جواز کو پرکھنے کا پیمانہ یہ ہے کہ اگر وہ نیا کام شریعت میں مستحسن و مباح ہے تو اُسے بدعتِ حسنہ کہیں گے اور اگر وہ نیا کام شریعت میں غیر مقبول و ناپسندیدہ ہو تو اُسے بدعتِ سیئہ یا بدعتِ قبیحہ کہیں گے۔
اِس اُصولی بحث کے بعد یہ اَمر واضح ہو گیا کہ جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگرچہ قرونِ اُوليٰ میں اِس شکل میں موجود نہیں تھا جس ہیئت میں آج موجود ہے،لیکن چوں کہ قرآن حکیم کی تلاوت، ذِکرِ اِلٰہی، تذکارِ رسالت، ثنا خوانی مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، صدقہ و خیرات کرنا، فقراء و مساکین کو کھانا کھلانا جیسے اَعمال اِس جشن کے مشتملات ہیں، اور اِن میں سے کوئی اَمر بھی شریعت میں ممنوع نہیں، لہٰذا یہ ایک جائز، مشروع اور مستحسن عمل ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ سابقہ اَدوار کے لوگ اپنے رسوم و رواج اور ثقافت کے مطابق نعمتِ عظميٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملنے کے دن شکرِ اِلٰہی بجا لاتے تھے، جب کہ موجودہ دور میں جس طرح زندگی کے ہر گوشہ میں تبدیلی رُونما ہوئی ہے اُسی طرح جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کے اَطوار بھی تبدیل ہوئے ہیں۔ ذیل میں ہم اِس اَمر کی وضاحت کرتے ہیں :

کیا علاقائی ثقافت کا ہر پہلو بدعت ہے؟

ہم اپنی روز مرّہ زندگی میں جوکچھ کرتے ہیں اُسے قرآن و سنت کی روشنی میں شرعاً ثابت کرنے پر زور دینا ہمارا مزاج بن چکا ہے۔ ہم ہر چیز کو بدعت اور ناجائز کہہ دیتے ہیں۔ اس میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلوس اور بہت سے مستحسن اُمور جو ہمارے ہاں رواج پا چکے ہیں ان کو معترضین بدعت سے تعبیر کرتے نہیں تھکتے۔ کچھ چیزیں اصلاً دینی ہوتی ہیں ان کی اصل توضیح اور استدلال کو کتاب وسنت میں تلاش کرنا چاہیے کہ وہ احکامِ دین کا حصہ ہوتی ہیں۔ اس کے ثبوت یاعدمِ ثبوت پر تو حکم شرعی ہونا چاہیے کہ ثابت ہے تو حکم ہے اور اگر غیر ثابت ہے تو حکم نہیں اور باقی چیزوں کی تقسیم کر سکتے ہیں :
  • اَوّلاً : کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں علاقائی اور سماجی رواج شامل ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک اہم اور نئی جہت ہے کہ علاقائی رواج دینی اُمور نہیں بن جاتے اور وہ چیزیں کلچر یعنی تہذیب و ثقافت کا رُخ اختیار کرلیتی ہیں۔
  • ثانیاً : کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو وقتی مصالح، بدلتے ہوئے حالات، لوگوں کے رُجحانات اور اجتماعی میلانات کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔
  • ثالثاً : بعض علاقائی، سماجی اور کلچرل ضرورتیں اور تقاضے بعض چیزوں کو ناگزیر بنا دیتے ہیں۔

1۔ ثقافتی اِعتبار سے دورِ صحابہ ث

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دور ثقافتی اِعتبارسے سادہ تھا۔ اس دور کا ثقافتی اور تاریخی نقطہ نظر سے جائزہ لیں تو اس دور میں مسجدیں سادگی سے بنائی جاتی تھیں، گھر بھی بالعموم سادہ اور کچے بنائے جاتے تھے، کھجور کے پتوں اور شاخوں کو استعمال میں لایا جاتا، جب کہ خانہ کعبہ پتھروں سے بنا ہوا موجود تھا۔ وہ چاہتے تو مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پختہ بنا سکتے تھے مگر اس دور کے معاشرے کی ثقافت اور رسم رواج سادہ اور فطرت سے انتہائی قریب تھے۔ ابتدائی تہذیب کا زمانہ تھا۔ کپڑے بھی ایسے ہی تھے جیسے انہیں میسر تھے۔ کھانا پینا بھی ایسا ہی تھا۔ یعنی ہر ایک عمل سادگی کا انداز لیے ہوئے تھا۔ ان کے کھانے پینے، چلنے پھرنے، رہن سہن الغرض ہر چیز میں سادگی نمایاں طور پر جھلکتی نظر آتی تھی۔ توجب ہر چیز میں یہ انداز واضح طور پر جھلکتا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی منانے میں بھی اُن کا اپنا انداز اس دور کے کلچر کی انفرادیت کا آئینہ دار تھا۔

2۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ثقافتی مظاہر

ہم یومِ پاکستان اور یومِ قائدِ اعظم مناتے ہیں، اس موقع پر جلوس نکالتے ہیں۔ یہ ہمارے علاقائی رسم و رواج کا حصہ ہے، اسے شرعی نہیں بلکہ ثقافتی نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد شریف پر خوشی منانا قرآن و سنت سے ثابت ہے اور اس کاتقاضا ہے کہ مومن کا دل خوشی و انبساط سے لبریز ہوجائے، البتہ اس کے اظہار کے مختلف ثقافتی طریقے ہیں جن کا وقت کے ساتھ ساتھ بدلنا ناگزیر ہوتا ہے۔

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر جلوس نکالنا ثقافت کا حصہ ہے

اگر یومِ پاکستان منانا ثقافتی نقطہ نظر سے درست ہے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کا دن جو انسانی تاریخ کا اہم ترین دن ہے کیوں نہ منایاجائے؟ اگر یومِ آزادی پر توپوں کی سلامی دی جاتی ہے تو میلاد کے دن کیوں نہ دی جائے؟ اس طرح اور موقعوں پر چراغاں ہوتا ہے تو یومِ میلاد پر چراغاں کیوں نہ کیا جائے؟ اگر قومی تہوار پر قوم اپنی عزت و افتخار کو نمایاں کرتی ہے تو حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے دن وہ بہ طور اُمت اپنا جذبہ افتخار کیوں نمایاں نہ کرے؟ جس طرح ان ثقافتی مظاہر پر کسی اِستدلال کی ضرورت نہیں اُسی طرح میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلوس کے جواز پر بھی کسی اِستدلال کی ضرورت نہیں۔ خوشی اور احتجاج دونوں موقعوں پر جلوس نکالنا بھی ہمارے کلچر کا حصہ بن گیا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد پر اگر ہم جلسہ و جلوس اور صلوٰۃ و سلام کا اہتمام کرتے ہیں تو اس کا شرعی جواز دریافت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
یہ پوچھا جاتا ہے کہ عرب کیوں جلوس نہیں نکالتے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عرب کے کلچرمیں جلوس نہیں، جب کہ عجم کے کلچر میں ایسا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور مصر وغیرہ میں لوگ میلاد مناتے ہیں لیکن جلوس نکالنا ان کے کلچر میں بھی نہیں، جب کہ ہمارے ہاں تو ہاکی کے میچ میں کامیابی پر بھی جلوس نکالنا خوشی کامظہر سمجھا جاتا ہے۔ جیتنے والی ٹیموں اور الیکشن جیتنے والے اُمیدواران کا استقبال جلوس کی شکل میں کیا جاتا ہے۔
لہٰذا جو عمل شریعت میں منع نہیں بلکہ مباح ہے اور ثقافتی ضرورت بن گیا ہے اور اس کا اصل مقصد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی منانا ہے تو اس پر اعتراض کرنے کی کیا گنجائش اور ضرورت ہے؟

(2) محفلِ میلاد میں کھڑے ہو کر سلام پڑھنا ثقافت کاحصہ ہے

برصغیر پاک و ہند میں لوگ محافل کے دوران میں کھڑے ہو کر صلوۃ و سلام پڑھتے ہیں جب کہ اہلِ عرب کے ہاں اکثر بیٹھ کر صلوۃ و سلام پڑھا جاتا ہے، لیکن مکہ مکرمہ میں اکثر لوگ قیام بھی کرتے ہیں۔ لہٰذا اِس پر بلا جواز اعتراض کرنا اور اسے باعثِ نزاع بنانا کوئی مستحسن اقدام نہیں۔ بحالتِ قیام صلوۃ و سلام کا اگرچہ شرعی جواز موجود ہے مگر اس کادوسرا پہلو علاقائی اور ثقافتی ہے۔ یہ اپنے اپنے ذوق کی بات ہے، کوئی کھڑے ہوکر سلام پڑھتا ہے، کوئی بیٹھ کر سلام پڑھتا ہے۔
محافل میلاد میں قیام کے موضوع پر مفصل گفتگو اِس موضوع پر ہماری ضخیم کتاب ’’میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ کے آٹھویں باب - جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اَجزائے تشکیلی - میں ملاحظہ فرمائیں۔

(3) میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آرائش و زیبائش ثقافت کا حصہ ہے

قرونِ اُوليٰ میں لوگوں کی طبیعت کے اندر نیکی اور خیر کے پہلو اتنے غالب ہوتے تھے کہ انہیں کسی اِہتمام کی ضرورت نہیں پڑتی تھی بلکہ حکم ہی کافی تھا۔ لیکن آج صورت حال بدل چکی ہے۔ حکم کے وہ اَثرات نہیں رہے اس لیے جامد طبیعتوں کو نیکی کی طرف راغب کرنے کے لیے مسجدیں خوبصورت بنانے کا رُحجان زور پکڑ گیاہے، جب کہ مساجد کی زیب و زینت کا قرآن و حدیث میں کہیں حکم نہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس لیے ہے کہ ظاہری اَسباب رغبت کا باعث بنتے ہیں۔ اسی لیے فرمایا :
يٰـبَنِيْ اٰدَمَ خُذُوْا زِيْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ.
الاعراف، 7 : 31
’’اے اَولادِ آدم! تم ہر نماز کے وقت اپنا لباسِ زینت (پہن) لیا کرو۔‘‘
اس پہلو کا تعلق اَحکامِ شریعت سے نہیں ثقافت سے ہے۔ داڑھی کے بال سنوارنا، سرمہ ڈالنا، سر میں تیل لگانا، اچھے کپڑے زیب تن کرنا اَعمالِ سنت ہیں، اور ظاہری رغبت دلانے والی چیزیں ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِن اَفعال کی ترغیب دلائی ہے۔ اِسی لیے فرمایا :
من أکل من هذه البقلة فلا يقربن مساجدنا، حتی يذهب ريحها يعنی الثوم.
1. مسلم، الصحيح، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب نهی من أکل ثوماً أو بصلاً أو کراثاً أو نحوهما، 1 : 394، رقم : 561
2. أبو داود، السنن، کتاب الأطعمة، باب فی أکل الثوم، 3 : 160، 161، رقم : 3824، 3825
’’جو شخص اِس ترکاری (یعنی لہسن، پیاز) کو کھائے وہ ہماری مساجد میں نہ آئے یہاں تک کہ اِس کی بو (اُس کے منہ سے) ختم ہو جائے۔‘‘
کیا لہسن، پیاز کھانے والا کسی قبیح جرم کامرتکب ہوگیاہے کہ اسے مسجد میں آنے سے روکا گیا ہے؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظاہری اَسباب کی بناء پر ہی فرمایا کہ اگر کوئی لہسن، پیاز کھا کر مسجد میں آئے گا تو مسجد میں بیٹھے لوگوں کی طبیعت میں اِنقباض پیدا ہوگا۔ جسمانی آرائش و زینت سے متعلقہ یہ اور اِس موضوع کی حامل دیگر احادیث ثابت کرتی ہیں کہ اسلام میں ظاہری اَسباب پیداکیے جانے کو قرینِ حکمت اور قرینِ مصلحت سمجھا جاتا ہے۔
بدعت کی مبادیات اور جشنِ میلاد کے ثقافتی پہلؤوں کے بیان کے بعد اب ہم بدعت کا حقیقی تصور بیان کرتے ہیں :

بدعت کا حقیقی تصور

ذیل میں اَحادیثِ مبارکہ کی روشنی میں بدعت کا حقیقی مفہوم بیان کیا جا رہا ہے جس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ ’’مضمونِ بدعت کی احادیث‘‘ کا حقیقی اِطلاق کن کن بدعات پر ہوتا ہے :
1۔ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
من أحدث فی أمرنا هذا ما ليس منه فهو ردّ.
1. مسلم، الصحيح، کتاب الأقضية، باب نقض الأحکام الباطلة، 3 : 1343، رقم : 1718
2. ابن ماجه، السنن، المقدمة، باب تعظيم حديث رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ، 1 : 7، رقم : 14
3. أحمد بن حنبل، المسند، 6 : 270، رقم : 26372
’’جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کرے جو اِس میں سے نہ ہو تو وہ مردود ہے۔‘‘
2۔ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے ہی مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
من أحدث فی أمرنا هذا ما ليس فيه فهو ردّ.
1. بخاری، الصحيح، کتاب الصلح، باب إذا اصطلحوا علی صلح جور، 2 : 959، رقم : 2550
2. ابو داؤد، السنن، کتاب السنة، باب فی لزوم السنة، 4 : 200، رقم : 4606
’’جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کرے جو اِس میں اَصلًا نہ ہو تو وہ مردود ہے۔‘‘
3۔ اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
من عمل عملاً ليس عليه أمرنا فهو ردٌّ.
1. مسلم، الصحيح، کتاب الأقضيه، باب نقض الأحکام الباطلة، 3 : 1343، رقم : 1718
2. أحمد بن حنبل، المسند، 6 : 180، 256، رقم : 25511، 26234
3. دارقطنی، السنن، 4 : 227، رقم : 81
’’جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا کوئی اَمر موجود نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘

مغالطہ کا اِزالہ اور فَیُوَ رَدٌّ کا درست مفہوم

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں اَحْدَثَ، مَا لَيْسَ مِنْهُ اور مَا لَيْسَ فِيْهِ کے الفاظ قابلِ غور ہیں۔ عرف عام میں اَحْدَثَ کا معنی ’’دین میں کوئی چیز ایجاد کرنا‘‘ ہے، اور مَا لَيْسَ مِنْهُ
کے الفاظ اَحْدَث کا مفہوم واضح کر رہے ہیں کہ اس سے مراد وہ چیز ایجاد کرنا ہے جو دین میں نہ ہو۔ حدیث کے اس مفہوم سے ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ اگر اَحْدَث سے مراد ’’دین میں کوئی نئی چیز پیدا کرنا‘‘ ہے تو پھر مَا لَيْسَ مِنْهُ (جو اس میں سے نہ ہو) یا مَا لَيْسَ فِيْهِ (جو اس میں اَصلًا نہ ہو) کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیوں کہ اگر وہ چیز دین میں سے تھی یعنی اس دین کا حصہ تھی تو اسے نئی نہیں کہا جاسکتا کہ محدثۃ (نئی چیز) تو کہتے ہی اسے ہیں جو پہلے دین میں موجود نہ ہو۔
اس سوال کے جواب میں کہا جائے گا کہ حدیث مذکورہ پر غور کرنے سے یہ معنی معلوم ہوتا ہے کہ ہر نیا کام مردود نہیں بلکہ صرف وہ نیا کام مردود ہوگا جو دین کا حصہ نہ ہو، جو نیا کام دین کے دائرے میں داخل ہو وہ مردود نہیں مقبول ہے۔ اس کی مزید وضاحت یوں ہوگی کہ من أحدث فی أمرنا هذا ما ليس منه فيه فهو ردّ ميں فهو ردّ کا اطلاق نہ صرف مَا لَيْسَ مِنْهُپر ہوتا ہے اور نہ ہی فقط اَحْدَثَ پر بلکہ اس کا صحیح اطلاق اس صورت پر ہوگا جہاں دونوں چیزیں (اَحْدَثَ اور مَا لَيْسَ مِنْهُ فِيهِ) جمع ہو جائیں یعنی مردود فقط وہی عمل ہوگا جو نیا بھی ہو اور جس کی کوئی اصل، مثال یا دلیل بھی دین میں نہ ہو اور نہ دین کی کسی جہت کے ساتھ اُس کا کوئی تعلق ہو۔ پس اس وضاحت کی روشنی میں کسی بھی محدثۃ کے بدعت و ضلالت قرار پانے کے لیے دو شرائط کا ہونا لازمی ہے :
  1. دین میں اس کی کوئی اصل، مثال یا دلیل موجود نہ ہو۔
  2. یہ محدثۃ نہ صرف دین کے مخالف اور متضاد ہو بلکہ دین کی نفی کرے اور اَحکامِ سنت کو توڑے۔
مذکورہ بالا تیسری حدیث شریف میں لَيْسَ عَلَيْهِ اَمْرُنَا سے عام طور پر یہ مراد لیا جاتا ہے کہ کوئی بھی کام خواہ وہ نیک اور اَحسن ہی کیوں نہ ہو (مثلاً ایصالِ ثواب، میلاد اور دیگر سماجی، روحانی اور اَخلاقی اُمور) اگر اس پر قرآن و سنت کی کوئی دلیل موجود نہ ہو تو یہ بدعت اور مردود ہے۔ یہ مفہوم غلط اور مبنی بر جہالت ہے کیوں کہ اگر یہ معنی مراد لے لیا جائے کہ جس کام کے کرنے پر قرآن و سنت کی نص نہ ہو وہ مردود اور حرام ہے تو پھر شریعت کے جملہ مباحات بھی قابلِ ردّ ہوجائیں گے۔
مذکورہ بالا اَحادیث پر غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہر نیا کام مردود کے زمرہ نہیں آتا بلکہ صرف وہ نیا کام مردود ہوگا جس کی کوئی اَصل، مثال، ذکر، معرفت یا حوالہ - بالواسطہ یا بلا واسطہ - قرآن و سنت میں موجود نہ ہو اور اسے ضروریاتِ دین،واجباتِ اسلام اور اَساسی عقائدِ شریعت میں اِس طرح شمار کر لیا جائے کہ اسے ’’اَساسیاتِ دین میں اِضافہ‘‘ سمجھا جانے لگے یا اُس سے دین اسلام کے بنیادی اصولوں میں اَصلًا کمی بیشی واقع ہو جائے۔ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَـلَالَۃٌ - سے بھی یہی بدعت مراد ہے، نہ کہ ہر نئے کام کو ’’ضلالۃ‘‘ کہا جائے گا۔ یہی اِحداث فی الدین، اسلام کی مخالفت اور دین میں فتنہ تصور ہوگا۔

ضروریاتِ دین ان چیزوں کو کہتے ہیں جن میں سے کسی ایک چیز کا انکار کرنے سے بھی انسان کافر ہو جاتا ہے۔
مذکورہ بالا بحث واضح کرتی ہے کہ جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہرگز کوئی ایسا اَمر نہیں ہے جو قرآن و حدیث کے خلاف ہو بلکہ یہ ایک ایسا مبنی بر خیر اور مستحسن عمل ہے جو سرا سر شریعت کے منشاء و مقصود کے عین مطابق ہے۔

عہدِ نبوی میںاِحداث فی الدین سے مراد

گزشتہ صفحات میں ’’بدعت‘‘ اور ’’اِحداث فی الدین‘‘ (دین میں نئے کاموں کے آغاز) پر علمی و قیاسی گفتگو کی گئی کہ ہر وہ نیا کام جس پر دلیل شرعی موجود ہو شرعاً بدعت نہیں اگرچہ لغوی اعتبار سے وہ بدعت ہوگا۔ اب ان کی عملی و اِطلاقی صورت بیان کی جاتی ہے کہ وہ کون سے اُمور یا معاملات ہیں جن پر بدعات و محدثات کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس کے لیے ایک قاعدہ اور ضابطہ متعین ہونا چاہیے کہ قیامت تک کے لیے اِسی قاعدہ اور کلیہ پر کسی بھی معاملہ کو پرکھ کر ہم یہ کہہ سکیں کہ یہ بدعت ضلالہ اور اِحداث فی الدین ہے۔ ذیل میں ہم اِس حوالہ سے چند روایات نقل کریں گے :
1۔ اِحداث فی الدین یعنی کفر و اِرتداد کے فتنوں کا آغاز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے فوری بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

أنا فرطکم علی الحوض وليرفعن رجال منکم، ثم ليختلجن دونی. فأقول : يا رب! أصحابی؟ فيقال : إنک لا تدری ما أحدثوا بعدک.

1. بخاری، الصحيح، کتاب الرقاق، باب فی الحوض، 5 : 2404، رقم : 6205
2. مسلم، الصحيح، کتاب الفضائل، باب إثبات حوض نبينا صلی الله عليه وآله وسلم ، 4 : 1796، رقم : 2297
3. أحمد بن حنبل، المسند، 1 : 439، رقم : 4180
’’میں حوضِ کوثر پر تمہارا پیش رَو ہوں گا اور تم میں سے کچھ آدمی مجھ پر پیش کیے جائیں گے، پھر وہ مجھ سے جدا کر دیے جائیں گے، تو میں کہوں گا : اے میرے رب! کیا یہ میرے لوگ ہیں؟ تو کہا جائے گا : کیا آپ نہیں جانتے کہ اُنہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا کیا نئی چیزیں نکالیں (یعنی نئے فتنے بپا کیے)؟‘‘
2۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
قال رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم : لا ألْفَيَنَّ ما نوزعْتُ أحداً منکم علي الحوض. فأقول : هذا من أصحابی. فيقال : إنک لا تدري ما أحدثوا بعدک. قال أبو الدردائ : يا نبي اﷲ! ادع اﷲ أن لا يجعلني منهم. قال : لست منهم.
1. طبرانی، المعجم الأوسط، 1 : 125، رقم : 397
2. طبرانی، مسند الشاميين، 2 : 311، رقم : 1405
3. ابن أبی عاصم، السنة، 2 : 357، رقم : 767
4. ديلمی، الفردوس بمأثور الخطاب، 1 : 50، رقم : 129
5. هيثمی، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، 9 : 367، 10 : 365
’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تم میں سے کسی ایک کو نہ پاؤں جس کو میرے پاس حوض پر آنے سے روک دیا جائے تو میں کہوں : یہ میرے لوگوں میں سے ہیں۔ تو کہا جائے : کیا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا کیا نئے فتنے پیدا کیے؟ ابو درداء رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اﷲ کے نبی! آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ میں ان میں سے نہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم ان میں سے نہیں ہو۔‘‘
اِس حدیث مبارکہ میں الفاظ - لست منھم (تم ان میں سے نہیں ہو) - سے پتہ چلا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتنہ پروروں کو جانتے تھے، اِس لیے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے فرما دیا کہ وہ ان میں سے نہیں ہیں، دین میں بدعات کا آغاز کرنے والے اور لوگ ہیں۔
3۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :
قال رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم : إني ممسک بحجزکم هلمّ عن النار، وأنتم تهافتون فيها أو تقاحمون تقاحم الفراش في النار والجنادب يعني في النار، وأنا ممسک بحجزکم، وأنا فرط لکم علی الحوض، فتردون علي معاً وأشتاتاً، فأعرفکم بسيماکم، وأسمائکم کما يعرف الرجل الفرس. وقال غيره : کما يعرف الرجل الغريبة من الإبل في إبله - فيؤخذ بکم ذات الشمال، فأقول : إلیّ يا رب! أمتي أمتي. فيقول أو يقال : يا محمد! إنک لا تدري ما أحدثوا بعدک، کانوا يمشون بعدک القهقری.
1. بزار، البحر الزخار (المسند)، 1 : 314، 315، رقم : 204
2. قضاعی، مسند الشهاب، 2 : 175، رقم : 1130
3. سدوسی، مسند عمر بن الخطاب ص، 1 : 84
4. منذری، الترغيب و الترهيب من الحديث الشريف، 1 : 318، رقم : 1169
5. هيثمی، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، 3 : 85
’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک میں تمہیں کمر سے پکڑ کر آگ سے روکنے والا ہوں اور تم اس میں ایک دوسرے سے بڑھ کر گرتے ہو۔ یا (فرمایا : ) تم پروانوں اور ٹڈیوں کی طرح آگ میں گرتے ہو اور میں تمہیں کمر سے پکڑنے والا ہوں اور میںحوضِ کوثر پر تمہارا پیش رَو ہوں گا، پس تم میرے پاس اکیلے اور گروہ در گروہ آؤ گے تو میں تمہاری نشانیوں اور ناموں سے تمہیں ایسے پہچانتا ہوں گا جیسے آدمی اپنے گھوڑے کو پہچانتا ہے۔ (اور اس راوی کے علاوہ نے کہا : ) جیسے ایک آدمی اجنبی اونٹ کو اپنے اونٹوں میں پہچان لیتا ہے۔ پس تمہیں بائیں طرف سے لے جایا جائے گا تو میں کہوں گا : اے میرے رب! میری امت! میری امت! تو وہ فرمائے گا یا کہا جائے گا : اے محمد! آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا کیا نئے فتنے پیدا کیے؟ وہ آپ کے بعد الٹے پاؤں پھر گئے تھے یعنی مرتد ہوگئے تھے۔‘‘
اِسی مضمون کی اور بھی بہت سی اَحادیث وارد ہوئی ہیں جن میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد قریبی زمانہ میں ’’اِحداث‘‘ کا ذکر ہے اور اِحداث سے مراد دین میں ایسے بڑے فتنوں کا اِجراء لیا گیا ہے جو دین کو ہی بدل دیں۔ علاوہ ازیں احادیث مبارکہ سے اس امر کی نشان دہی بھی ہوتی ہے کہ خلفائے راشدین کے دور میں محدثات الامور اِرتداد کے فتنوں کی شکل میں ظاہر ہوئے، ان کا ارتکاب کرنے والے وہ تھے جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ میں اِسلام قبول کر لیا اور بعد میں مرتدین، منکرینِ زکوٰۃ، جھوٹے مدعیانِ نبوت اور خوارج میں شامل ہوگئے۔ ہمارے اس موقف کی تائید حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متعدد احادیث مبارکہ سے ہوتی ہے جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :
4۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں :
قال رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم : تحشرون حفاة عراة غرلاً، ثم قرأ {کَمَا بَدَأنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِيْنَo}فأول من يکسی إبراهيم، ثم يؤخذ برجال من أصحابي ذات اليمين وذات الشمال. فأقول : أصحابي. فيقال : إنهم لم يزالوا مرتدّين علی أعقابهم منذ فارقتهم. فأقول : کما قال العبد الصالح عيسی بن مريم : {وَکُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا َتوَفَّيْتَنِيْ کُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ شَهِيْدٌo اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُo}.(2)
قال محمد بن يوسف : ذُکر عن أبي عبد اﷲ، عن قبيصة، قال : هم المرتدون الذين ارتدّوا علی عهد أبي بکر، فقاتلهم أبوبکر رضی الله عنه .(3)
الأنبيائ، 21 : 104
(2) المائدة، 5 : 117، 118
(3) 1. بخاری، الصحيح، کتاب الأنبيائ، باب قول اﷲ : واذکر في الکتاب مريم إذ انتبذت من أهلها، 3 : 1271، 1272، رقم : 3263
2. بخاری، الصحيح، کتاب الأنبيائ، باب قول اﷲ : واتخذ اﷲ إبراهيم خليلا، 3 : 1222، رقم : 3171
3. ترمذی، الجامع الصحيح، کتاب صفة القيامة، باب ما جاء فی شأن الحشر، 4 : 615، رقم : 2423
’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم ننگے پاؤں، ننگے بدن، غیر مختون حالت میں جمع کیے جاؤ گے۔ پھر آیت مبارکہ تلاوت کی : {جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلی بار پیدا کیا تھا، ہم (اس کے ختم ہو جانے کے بعد) اُسی عمل تخلیق کو دہرائیں گے۔ یہ وعدہ پورا کرنا ہم نے لازم کر لیا ہے۔ ہم (یہ اِعادہ) ضرور کرنے والے ہیںo} پس سب سے پہلے اِبراہیم کو (خلعت) پہنائی جائے گی، پھر میرے لوگوں کو دائیں اور بائیں سے پکڑا جائے گا تو میں کہوں گا : کیا یہ میرے لوگ ہیں؟ تو کہا جائے گا : جب سے آپ ان سے جدا ہوئے ہیں، بے شک وہ الٹے پاؤں دین سے پھر کر مرتد ہوگئے ہیں۔ تومیں کہوں گا : جیسا اللہ کے صالح بندہ عیسيٰ بن مریم نے کہا : {اور میں اُن (کے عقائد و اَعمال) پر (اُس وقت تک) خبردار رہا جب تک میں ان لوگوں میں موجود رہا۔ پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان (کے حالات) پر نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہےo اگر توانہیں عذاب دے تو وہ تیرے (ہی) بندے ہیں، اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی بڑا غالب حکمت والا ہےo}
’’محمد بن یوسف کہتے ہیں کہ ابو عبد اللہ سے ذکر کیا گیا، وہ قبیصہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا : یہ وہی مرتدین ہیں جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں دین سے پھر گئے تھے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کیا تھا۔‘‘
5۔ حضرت اَسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اﷲ عنہما روایت کرتی ہیں :
قال النّبيّ صلی الله عليه وآله وسلم : إني علی الحوض حتی أنظر من يرد علي منکم، وسيؤخذ ناس دوني. فأقول : يارب! مني ومن أمتي؟ فيقال : هل شعرت ما عملوا بعدک؟ واﷲ! ما برحوا يرجعون علی أعقابهم.
فکان بن أبي مليکة يقول : اللّهم! إنا نعوذ بک أن نرجع علی أعقابنا أو نفتن عن ديننا.
1. بخاري، الصحيح، کتاب الرقاق، باب في الحوض، 5 : 2409، رقم : 6220
2. مسلم، الصحيح، کتاب الفضائل، باب إثبات حوض نبينا صلی الله عليه وآله وسلم وصفاته، 4 : 1794، رقم : 2293
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک میں حوض پر ہوں گا یہاں تک کہ تم میں سے اپنے پاس آنے والوں کو دیکھوں گا، اور عنقریب کچھ لوگوں کو میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا۔ پس میں کہوں گا : اے میرے رب! کیا یہ مجھ سے اور میری امت سے ہیں؟ تو کہا جائے گا : آپ یقینًا جانتے تو ہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا؟ اللہ کی قسم! وہ (دین سے) الٹے پاؤں پھر گئے تھے۔
’’ابن ابی ملیکہ کہا کرتے تھے : اے اللہ! بے شک ہم (دین سے) الٹے پاؤں پھرنے سے تیری پناہ چاہتے ہیں یا اس سے کہ ہم اپنے دین کے بارے آزمائش میں ڈالے جائیں۔‘‘
6۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں :
قال رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم : أنا علی الحوض أنظر من يرد علي، فيؤخذ ناس دوني. فأقول : يارب! مني ومن أمتي؟ فيقال : وما يدريک ما عملوا بعدک؟ ما برحوا بعدک يرجعون علی أعقابهم.
1. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 384، رقم : 15161
2. هيثمی، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، 10 : 364
’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں حوضِ کوثر پر اپنے پاس آنے والوں کو دیکھوں گا، تو کچھ لوگوں کو مجھ سے دور کر دیا جائے گا۔ پس میں کہوں گا : اے میرے رب! کیا یہ مجھ سے ہیں اور میرے امتی ہیں؟ تو کہا جائے گا : کیا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا؟ وہ آپ کے بعد (دین سے) الٹے پاؤں پھر گئے تھے۔‘‘
مذکورہ بالا اَحادیث مبارکہ سے ہمارا موقف - کہ محدثات الامور سے مراد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد نمودار ہونے والے فتنے ہیں جو کہ ارتداد کی شکل میں ظاہر ہوئے - درج ذیل نکات سے مزید واضح ہوتا ہے :
  1. حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی حدیث مبارکہ کے اگلے حصہ میں ہمارے موقف پر مرفوع متصل روایت موجود ہے کہ
’’إنهم لم يزالوا مرتدين علی أعقابهم منذ فارقتهم
(جونہی آپ ان سے جدا ہوئے وہ اپنی ایڑیوں کے بل دین سے پھر رہے ہیں)۔‘‘ پس اِحداث کے مرتکب لوگوں کو حدیث میں صراحتًا مرتدین کہا گیا ہے۔
  1. حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی حدیث کے آخر میں امام بخاری نے محدث قَبِیصہ بن عقبہ کا درج ذیل قول نقل کیا ہے جو ہمارے موقف کا مؤید ہے :
هم المرتدّون الذين ارتدّوا علی عهد أبي بکر، فقاتلهم أبوبکر رضی الله عنه .
’’(ان سے مراد) وہ مرتدین ہیں جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں دین سے پھر گئے تھے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کیا تھا۔‘‘
  1. امام بخاری نے ہی حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اﷲ عنہما سے مروی روایت بیان کرنے کے بعد ابن ابی ملیکہ تابعی کا قول نقل کیا ہے۔ ابن ابی ملیکہ فرمایا کرتے تھے :
اللّهم! إنا نعوذ بک أن نرجع علی أعقابنا أو نفتن عن ديننا.
’’اے اللہ! بے شک ہم (دین سے) الٹے پاؤں پھرنے سے تیری پناہ چاہتے ہیں یا اس سے کہ ہم اپنے دین کے بارے آزمائش میں ڈالے جائیں۔‘‘
  1. مذکورہ حدیث مبارکہ میں ما برحوا يرجعون علی أعقابهم (وہ (دین سے) اُلٹے پاؤں پھر گئے تھے)، يا ما برحوا بعدک يرجعون علی أعقابهم (وہ آپ کے بعد (دین سے) الٹے پاؤں پھر گئے تھے) سے بھی ہمارے بیان کردہ معنی کی تائید ہوتی ہے۔
  2. حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث مبارکہ میں ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تو ابو درداء رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا نبی اللہ! آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ میں ان میں سے نہ ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم ان میں سے نہیں ہو۔
امام طبرانی اپنی کتاب ’’مسند الشامیین (2 : 311، رقم : 1405)‘‘ میں اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
فمات قبل عثمان بسنتين.
’’وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے وصال سے دو سال قبل وفات پاگئے۔‘‘
اِس سے معلوم ہوا کہ اِحداث فی الدین سے مراد خلفائے راشدین کے دور میں وقوع پذیر ہونے والا فتنہ اِرتداد تھا۔
6۔ زیرِ نظر موقف کی وضاحت کرنے کے لیے ایک اور روایت نہایت ہی اہم ہے جسے امام حاکم نے ’’المستدرک علی الصحیحین‘‘ میں کبیر تابعین میں سے ایک تابعی حسین بن خارجہ سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے فتنہ اولی کے بعد اپنا ایک خواب بیان کیا ہے جس میں وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابراہیم ں کا مکالمہ ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اپنی امت کے لیے دعائے مغفرت کے لیے کہا تو انہوں نے فرمایا :
إنک لا تدري ما أحدثوا بعدک، أراقوا دماء هم وقتلوا إمامهم.
حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 4 : 499، رقم : 8394
’’کیا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا کیا محدثات (یعنی فتنے) بپا کیے؟ انہوں نے اپنوں کا خون بہایا ہے اور اپنے امام کو قتل کیا ہے۔‘‘
حافظ ابن حجر عسقلانی نے ’’الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (2 : 172، رقم : 1979)‘‘ اور ابن عبد البر نے ’’التمہید لما فی الموطا من المعانی والاسانید (19 : 222)‘‘ میں اِمام حاکم کی بیان کردہ روایت میں مذکور ’’الفتنۃ الاولی‘‘ کے الفاظ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے موقع پر اُمتِ مسلمہ میں پیدا ہونے والا فتنہ مراد لیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے فتنہ پرور لوگ ہی دین میں بدعت کے مرتکب ہوئے اور یہی لوگ بدعتی کہلائے۔ یہی وہ فتنہ پرور، متعصب اور انتہاء پسند لوگ تھے جو جنگِ صفین کے بعد خارجی گروہ پیدا کرنے کی بنیاد بنے۔

عہدِ خلفائے راشدین میں رُونما ہونے والے محدثات الامور

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے فوراً بعد عہدِ خلفائے راشدین کے زمانہ میں جو بڑے بڑے ’’محدثات‘‘ (دین میں نئے فتنے) پیدا ہوئے - جن کو بدعات کہا گیا اور جن کے خلاف جہاد بالسیف کیا گیا - درج ذیل ہیں :

1۔ فتنہ دعوی نبوت کو اِحداث فی الدین قرار دیا گیا

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے فوری بعد جھوٹے مدعیان نبوت کا فتنہ ظاہر ہوا اور ان کا یہ دعوی نبوت ’’احداث فی الدین‘‘ تھا۔ اَسود بن عنزہ عنسی، طلیحہ اَسدی اور مسیلمہ کذاب جیسے جھوٹی نبوت کے دعوے داروں کے خلاف حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لشکر روانہ کیے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے خلاف جہاد کیا۔

2۔ فتنہ اِرتداد کو اِحداث فی الدین قرار دیا گیا

لشکرِ اُسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی کے بعد سرزمین عرب میں اِحداث کی شکل میں ایک اور فتنہ رُونما ہوا جسے فتنہ اِرتداد کہا جاتا ہے۔ عرب کے نومسلم قبائل اسلام سے پھر گئے اور دوبارہ اپنی پرانی روش پر چل نکلے۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس فتنہ کا قلع قمع کیا۔
طبری، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 254

3۔ فتنۂ منکرینِ زکوٰۃکو اِحداث فی الدین قرار دیا گیا

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد عرب میں فتنہ اِرتداد پھیل جانے کے ساتھ ساتھ بعض قبائل نے زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف جنگ کا اِرادہ کرتے ہوئے فرمایا :
واﷲ! لأقاتلن من فرّق بين الصلاة والزکاة، فإن الزکاة حق المال، واﷲ! لو منعونی عناقاً کانوا يؤدّونها إلی رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ، لقاتلتهم علی منعها.
1. بخاری، الصحيح، کتاب الزکاة ، باب وجوب الزکاة، 2 : 507، رقم : 1335
2. بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين، باب قتل من أبی قبول الفرائض، 6، 2538، رقم : 6526
3. مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب الأمر بقتال الناس حتی يقولوا لا إله إلا اﷲ محمد رسول اﷲ، 1 : 51، رقم : 20
’’اللہ کی قسم! میں اس کے خلاف ضرور لڑوں گا جس نے نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کیا، کیوں کہ زکوٰۃ بیت المال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر انہوں نے مجھے ایک رسی دینے سے بھی انکار کیا جو وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ادا کرتے تھے تو اس انکار پر بھی میں ان سے ضرور قتال کروں گا۔‘‘
لہٰذا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولیدص کو ان عرب قبائل کی طرف روانہ کیا جنہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیاتھا۔

4۔ فتنہ خوارج کو اِحداث فی الدین قرار دیا گیا

فتنہ خوارج کی اِبتداء سیدنا علی المرتضيٰ رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوئی۔ جب صفین کے مقام پر سیدنا علی المرتضيٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ میں کئی روز تک لڑائی جاری رہی، جس کے نتیجے میں ہزارہا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین شہید ہوئے۔ بالآخر فیصلہ کیا گیا کہ طرفین میں سے دو معتمد اشخاص کو حَکَم بنایا جائے جو قرآن و سنت کے مطابق کوئی ایسی تدبیر نکالیں جس سے لڑائی کا خاتمہ ہو۔ چنانچہ سیدنا علی المرتضيٰ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ابو موسيٰ عبد اللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مقرر ہوئے اور عہد نامہ لکھاگیا جس کے نتیجہ میں لڑائی تھم گئی۔
پھر اَشعث بن قیس نے اس کاغذ کو لے کر ہر ہر قبیلہ کے افراد کو سنانا شروع کردیا۔ جب وہ بنی تمیم کے لوگوں کے پاس آئے جن میں ابو بلال کا بھائی عروہ بن اَدَیہ بھی تھا اور ان کو پڑھ کر سنایا تو عروہ نے کہا :
تحکّمون فی أمر اﷲ ل الرجال؟ لاحکم إلا ﷲ.
1. طبری، تاريخ الأمم والملوک، 3 : 104
2. ابن أثير، الکامل فی التاريخ، 3 : 196
3. ابن جوزی، المنتظم فی تاريخ الملوک والأمم، 5 : 123
’’تم اللہ کے اَمر میں انسانوں کو حَکَم بناتے ہو؟ سوائے اللہ کے کسی کا حکم نہیں۔‘‘
اس نے یہ کہہ کر اشعث بن قیس کی سواری کے جانور کو تلوار ماری جس سے آپ رضی اللہ عنہ نیچے گر پڑے۔ اس پر آپ کے قبیلہ والے اوران کے لوگ جمع ہوگئے اور جھگڑا ہوتے ہوتے رہ گیا۔ سیدنا علی المرتضيٰ رضی اللہ عنہ جب صفین سے واپس کوفہ پہنچے تو ان کو خوارج کے اس عمل سے آگاہی حاصل ہوئی تو آپ نے فرمایا :
اﷲ أکبر! کلمة حق يراد بها باطل، إن سکتوا عممناهم، وإن تکلموا حَجَجْناهم، وإن خرجوا علينا قاتلناهم.
1. طبری، تاريخ الأمم والملوک، 3 : 114
2. ابن أثير، الکامل في التاريخ، 3 : 212، 213
’’اﷲ ہی بڑا ہے۔ بات تو حق ہے مگر مقصود اس سے باطل ہے۔ اگر وہ خاموش رہے تو ہم ان پر چھائے رہیں گے اور اگر انہوں نے کلام کیا تو ہم ان پر دلیل لائیں گے اور اگر وہ ہمارے خلاف نکلے تو ہم ان سے لڑیں گے۔‘‘
خوارج نے لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف اُکسانا شروع کردیا اور لوگوں کو پہاڑوں پر چلے جانے یا دوسرے شہروں کی طرف نکلنے کا مشورہ دیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عمل کو بدعتِ ضلالہ تک کہا گیا۔ آخر کار ان لوگوں نے آپس کے مشورہ سے ’’الحُکْمُ ﷲ‘‘ کے اِجراء کے لیے نہروان کا مقام چنا اور سب وہاں جمع ہوگئے۔ نہروان کے مقام پر ان خارجیوں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج کے درمیان لڑائی کا آغاز اُس وقت ہوا جب اُنہوں نے صحابی حضرت عبد اللہ بن خباب رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا۔ ان کی شہادت کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
دونکم القوم.
’’اس قوم کو لو (یعنی قتل کرو)۔‘‘
حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
فقتلت بکفی هذه بعد ما دخلنی ما کان دخلنی ثمانية قبل أن أصلی الظهر، وما قتل منا عشرة ولا نجا منهم عشرة.
1. طبرانی، المعجم الأوسط، 4 : 227، رقم : 4051
2. هيثمی،مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، 4 : 227
’’میں نے نمازِ ظہر ادا کرنے سے قبل اپنے ہاتھوں سے آٹھ خوارج کو قتل کیا اور ہم میں سے دس شہید نہ ہوئے اور ان میں سے دس زندہ نہ بچے۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں یوں فتنہ خوارج اپنے انجام کو پہنچا۔ یہی وہ فتنے تھے جن کی طرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اِجتماع میں اِشارہ فرمایا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال فرما جانے کے بعد نمودار ہوئے اور جنہیں محدثات الامور کا نام دیا گیا۔ لہٰذا صحیح روایات کے مطابق یہ چار طبقات (مدعیانِ نبوت، مرتدینِ اِسلام، منکرینِ زکوۃ، خوارج) محدثات کے مرتکب تھے اور احادیث نے ’’اِحداث‘‘ کے معنی کو ’’اِرتداد‘‘ کے ساتھ مختص کر دیا ہے۔ پس اِحداث کا معنی اِرتداد ہوگا اور یہی بدعتِ ضلالت و بدعتِ سیئہ اور داخلِ دوزخ شمار ہوگی۔

آج ’محدثات الامور‘ کس سطح کے اُمور کو کہا جائے گا؟

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدعت کو ’’محدثات الامور‘‘ سے تعبیر کیا اور اس کا معنی خود اپنے ارشاد سے متعین فرمایا۔ وہ ایسے فتنے ہیں جو دین کی بنیادی تعلیمات کو مسخ کر دیں یا ان کا انکار کر دیں اور یہ ارتداد پر مبنی ہوں۔ لہٰذا بدعاتِ ضلالہ سے مراد چھوٹے اور ہلکی نوعیت کے اختلافات نہیں بلکہ ان سے مراد اس سطح کے فتنے ہیں کہ ان میں سے ہر فتنہ ’’خروج عن الاسلام‘‘ اور ’’اِرتداد‘‘ کا باعث بنے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور اَمرِ دین کو کاٹے اور ’’اِختلافِ کثیر‘‘ بن کر اُمت میں ظاہر ہو۔ مثلاً اگر کوئی شخص دین کے بنیادی عقائد (ایمان باللہ، ملائکہ، سابقہ نازل شدہ کتب، انبیائ، یوم آخرت، تقدیر اورحیات بعد اَز موت) میں سے کسی کا انکار کرے، اسلام کے اَرکانِ خمسہ (ایمان باللہ والرسول، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ) میںسے کسی کا انکار کرے، اَرکانِ اسلام میں کمی یا زیادتی، ختم نبوت کے انکار، تحریفِ قرآن (متنِ قرآن میں کمی یا زیادتی) کا مرتکب ہو، سنت کا انکار کرے، کسی خارجی فتنہ کی طرح باطل مسلک کی بنیاد رکھے، جہاد کی منسوخی، سود کا جواز وغیرہم کا عقیدہ گھڑ لے تو ان فتنوں کو قیامت تک کے لیے دین میں بدعاتِ ضلالہ کہیں گے اور یہی ایسے فتنے ہیں جن کے ماننے والوں اور پیروکاروں کو جہنم کا ایندھن بنایا جائے گا۔ لہٰذا بدعت سے مراد فقط فتنہ اِرتداد اور اس کی مختلف شکلیں ہیں جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے فورًا بعد پیدا ہوئیں یا بعد کے مختلف اَدوار میں پیدا ہوں گی۔ اگر ایسی صورت نہیں ہے تو اس پر بدعتِ ضلالہ کا اِطلاق نہیں ہوگا۔ پس آج بھی ارتداد ہی ایسا قاعدہ اور کلیہ ہے جس پر کسی بھی اَمر کو پرکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ بدعتِ ضلالہ میں شمار ہوتا ہے یا نہیں؟ لہٰذا چھوٹے چھوٹے فروعی اور نزاعی مسائل مثلا میلاد، عرس، ایصالِ ثواب وغیرہ کو بدعات و گمراہی اور ’’محدثات الامور‘‘ نہیں کہا جاسکتا، کیوں کہ ان سے خروج عن الاسلام لازم نہیں آتا اور نہ اِرتداد ہوتا ہے بلکہ یہ اَصلاً شریعت سے ثابت ہیں۔ جب کہ ’’محدثات الامور‘‘ ان فتنوں کو کہا گیا ہے جن کی وجہ سے اُمت میں اِختلافِ کثیر پیدا ہوا، امت آپس میں بٹ گئی حتی کہ الگ الگ لشکر بنے، جنگیں ہوئیں اور ہزاروں افراد ان فتنوں کے باعث شہید ہوئے۔
افسوس ہے ان لوگوں پر جنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد اور ایصالِ ثواب وغیرہ کو محدثات الامور اور بدعاتِ ضلالہ قرار دیا ہے۔ ان کو دین میں بدعت قرار دینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان کردہ تعریف سے انکار، حدیث سے انکار اور جسارت علی الرسول ہے۔ لیس علیہ امرنا کا بھی یہی معنی ہے، یہ دَرحقیقت دین کے اندر مستحب اور مستحسن اُمور ہیں۔ فقہاء کے درمیان ہزاروں اختلافات ہیں، کئی مسائل میں مستحب و مکروہ حتی کہ حلت و حرمت کا بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان اُمورِ مستحبات کو بدعات کہنا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان کردہ تعریف کی روشنی میں گویا ارتداد اور کفر و شرک کا فتويٰ لگانے کے مترادف ہے اور مرتدین کے خلاف قتال کرنا جہاد ہے۔ کیا جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بدعتِ ضلالہ کا فتوی لگانے والے میلاد منانے والوں کے خلاف جہاد کر رہے ہیں؟
جس طرح عہدِ صحابہ میں تدوینِ قرآن، باجماعت نمازِ تراویح اور جمعہ کے دن دو اذانوں جیسے اُمور کو جاری کرنے کا مقصد اُمتِ مسلمہ کی بھلائی تھا، ایسے ہی میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا تاجدارِ کائنات حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ٹوٹے ہوئے قلبی اور حبی تعلق کو برقرار رکھنے اور دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اِطاعت و اِتباع کا جذبہ بیدار کرنے کا قوی اور مستحکم ذریعہ ہے۔ اور ایصالِ ثواب جیسے اُمور متوفیانِ اِسلام کی بلندی درجات اور گناہوں کی بخشش کا سبب ہیں۔

تصورِبدعت آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی روشنی میں

گزشتہ بحث میں ہم نے بدعت کا لغوی مفہوم بیان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ لغوی اعتبار سے بدعت نئی چیز کو کہتے ہیں اور محدثات الامور و اِحداث فی الدین کا تعلق فتنہ اِرتداد یا خروج عن الاسلام کی سطح کے فتنوں کے ساتھ ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ بدعت کا تصو ر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آثار میں بھی موجود ہے یا نہیں؟ اس کی وضاحت کے لیے ہم یہاں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا عمل مختصراً بیان کریں گے، کیوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اُمت کے لیے اِن صحابہ کبار رضی اللہ عنہم کا عمل سب سے زیادہ معتبر ہے، اور آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنوں کے قلع قمع کے لیے اپنی اور اپنے بعد آنے والے خلفاء راشدین مہدیین کی سنت کی پیروی کو لازمی قرار دیا ہے۔

1۔ جمعِ قرآن اور شیخین رضی اﷲ عنہما کا عمل

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد جب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ منصبِ خلافت پر متمکن ہوئے تو اس وقت جھوٹی نبوت کے دعوے دار مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ میں تقریباً سات سو (700) حافظِ قرآن صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے۔ قبل ازیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری زمانہ اقدس سے اب تک قرآنِ حکیم کے ایک جلد میں جمع کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہوسکا تھا بلکہ متفرق مقامات پر مختلف صورتوں میں لکھا ہوا موجود تھا۔ سیدنا فاروق اعظمص نے محسوس کیا کہ اگر یہ سلسلہ جہاد و قتال اسی طرح جاری رہا اور وہ صحابہث جن کے سینوںمیں قرآن حکیم محفوظ ہے شہید ہوتے رہے تو عین ممکن ہے کہ حفاظتِ قرآن میں خاصی دشواری پیش آئے۔ اِس خدشہ کے پیش نظر اُنہوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو تجویز دی کہ قرآن حکیم ایک کتابی صورت میں جمع کرلیا جائے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
کيف أفعل شيئا ما لم يفعله رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ؟
’’میں ایسا کام کیسے کرسکتا ہوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں فرمایا۔‘‘
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اے امیر المومنین! درست ہے کہ یہ کام ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ظاہری حیاتِ مقدسہ میں نہیں کیا لیکن ’’ہو واﷲ خیر‘‘ اللہ کی قسم! بہت اچھا اور بھلائی پر مبنی ہے۔ لہٰذا ہمیں اسے ضرور کرنا چاہیے۔ اس بحث و تمحیص کے دوران سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سینہ کھل گیا اور کاتب وحی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس عظیم کام پر مامور کیے گئے۔ چنانچہ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کھجور کی شاخوں، سفید پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن کو جمع کرنا شروع کردیا اور اس طرح تیار کیے گئے قرآن حکیم کے چند نسخے جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کے پاس محفوظ ہوگئے تھے بعد میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان سے منگوا کر قرآنِ حکیم کو دوبارہ موجودہ ترتیب میں یک جا کر دیا۔
1. بخاری، الصحيح، کتاب التفسير، باب قوله : لقد جاء کم رسول من أنفسکم عزيز عليه ما عنتم حريص عليکم، 4 : 1720، رقم : 4402
2. ترمذی، الجامع الصحيح، کتاب تفسير القرآن، باب من سورة توبة، 5 : 283، رقم : 3103
اس طرح تاریخِ اسلام میں پہلی بدعتِ حسنہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں وقوع پذیرہوئی۔

2۔ باجماعت نمازِ تراویح کی اِبتداء

جمع و تدوینِ قرآن کی طرح یہ عمل بھی سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے فرمان کی تعمیل میں باقاعدہ وجود پذیر ہوا۔ احادیثِ مبارکہ میں مذکور ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں رمضان المبارک میں تین راتیں نماز تراویح باجماعت پڑھائی۔ اس کے بعد فرض ہوجانے کے خدشہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ تراویح گھر میں ہی پڑھتے رہے اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اِنفرادی طور پر اپنی اپنی نماز پڑھ لیتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک کے بعد سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اڑھائی سالہ دورِ خلافت میں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہی معمول رہا۔ جب سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا اور آپ نے دیکھاکہ رمضان المبارک میں لوگ مختلف شکلوں میں نماز تراویح ادا کر رہے ہیں۔ تو اس خیال سے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے اندر مساجد کو آباد کرنے کا ذوق بھی کم ہوسکتا ہے اور اگر صورت حال یہی رہی تو عین ممکن ہے کسی وقت لوگ نماز تراویح پڑھنا ہی ترک کر دیں، انہوں نے یہ اِجتہاد فرمایا اور سب کو حافظِ قرآن حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازِ تراویح باجماعت پڑھنے کا حکم دیا۔ صحابہ کرام کو باجماعت نمازِ تراویح پڑھتے دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
نعم البدعة هذه، والتی ينامون عنها أفضل من التی يقومون.
1. بخاری، الصحيح، کتاب صلاة التراويح، باب فضل من قام رمضان، 2 : 707، رقم : 1906
2. مالک، الموطأ، 1 : 114، رقم : 250
3. بيهقی، السنن الکبری، 2 : 493، رقم : 4379
’’یہ کتنی اچھی بدعت ہے اور رات کا وہ حصہ جس میں لوگ سو جاتے ہیں اُس حصہ سے بہتر ہے جس میں وہ قیام کرتے ہیں۔‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اِس قول کی وضاحت کرتے ہوئے عبد الرحمان بن عبد القاری تابعی بیان کرتے ہیں :
يريد آخر الليل، وکان الناس يقومون أوّله.
’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مراد رات کا آخری حصہ تھا جب کہ لوگ پہلے حصہ میں قیام کرتے تھے۔‘‘
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب رات کے آخری حصہ میں کی جانے والی عبادت زیادہ فضیلت رکھتی ہے تو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اِبتدائی حصہ میں قیام کیوں شروع کروایا۔ حافظ ابن حجر عسقلانی (773۔852ھ) ’’فتح الباری (4 : 253)‘‘ میں اِس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
هذا تصريح منه بأن الصلاة فی آخر الليل أفضل من أوله، لکن ليس فيه أن الصلاة فی قيام الليل فرادی أفضل من التجميع.
’’اِس میں صراحت ہے کہ رات کے پچھلے پہر کی نماز پہلے پہر کی نماز سے اَفضل ہے، تاہم اِس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تنہا نماز پڑھنا باجماعت نماز پڑھنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔‘‘
پس اِس سے واضح ہوگیا کہ اگرچہ آخرِ شب پڑھی جانے والی نماز فضیلت کی حامل ہے لیکن باجماعت ادا کی جانے والی نمازِ تراویح - جو رات کے اِبتدائی حصہ میں ادا کی جاتی ہیں - زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
اس روایت میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خود نعم البدعۃ ہذہ فرما کر یہ ثابت کر دیا کہ ہر بدعت، بدعتِ سیئہ نہیں ہوتی بلکہ بے شمار بدعات اچھی بھی ہوتی ہیں۔ اور بدعتِ حسنہ اور سیئہ کی تقسیم مبنی بر حدیث ہے، محض قیاسی تقسیم نہیں بلکہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قول پر قائم ہے۔

3۔ نمازِ جمعہ سے قبل دوسری اذان

نماز جمعہ سے پہلے مساجد میں دوسری اَذان جو وعظ سے پہلے پڑھی جاتی ہے، اس کا آغاز عہدِ عثمانی میں ہوا۔ امام بخاری (256ھ) نے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے :
أن التأذين الثانی يوم الجمعة أمر به عثمان بن عفّان حين کثر أهل المسجد.
1. بخاری، الصحيح، کتاب الجمعه، باب الجلوس علی المنبر،1 : 310، رقم : 873
2. شمس الحق، عون المعبود، 3 : 302
3. وادياشی، تحفة المحتاج، 1 : 506، رقم : 624
4. شوکانی، نيل الاوطار، 3 : 323
’’جمعہ کے دن دوسری اذان (یعنی وہ اَذان جو وعظ سے پہلے پڑھی جاتی ہے۔ یہ ترتیب میں پہلی اَذان ہے۔ )کا حکم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دیا جب مسجد میں آنے والوں کی تعداد زیادہ ہو گئی۔‘‘
لہٰذا جس طرح خیر القرون میں بھی تدوینِ قرآن حکیم کے موقع پر اَجل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھا تھا کہ جو کام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا وہ کیسے کرسکتے ہیں، اُسی طرح آج کے دور میں بھی جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس جیسے دیگر اُمورِ خیر کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ جائز ہیں جب کہ اَوائل دورِ اِسلام میں ان کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اور جس طرح صحابہ کرام کو اِنشراحِ صدر ہوا اور اُنہوں نے بھلائی کے ان نئے کاموں کو اپنایا اُسی طرح ہم نے محافلِ میلاد اور جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اَمرِ خیر اور باعثِ برکت ہونے کے اپنایا ہے۔

تصورِ بدعت اور چند عصری نظائر و واقعات

اِس ضمن میں چند شہادتیں عصری نظائر و واقعات سے پیش کی جاتی ہیں :

1۔ اِسلامی حکومت کے قیام کا مسئلہ

شریعت نے ضروری قرار دیا کہ مسلمانوں کی نمائندہ حکومت ہو، لیکن اِس کا انتخاب کس طرح ہو، حکومت کی تشکیل کس نظام کے تحت کی جائے، اس کے ادارے کس طرح وجود میں آئیں اور پھر ان میں اِختیارات کی تقسیم کس اُسلوب پر ہو؟ ان تفصیلات کے متعلق شریعت میں صریح اَحکامات نہیں ملتے۔ ہر مسلمان ریاست نے اپنی صواب دید کے مطابق جو نظام ضروری سمجھا اپنا لیا۔

2۔ تعمیرِ مساجد کا مسئلہ

اَوائلِ اسلام میں پختہ مکانات بنانا ناپسند خیال کیا جاتا تھا، لہٰذا مسجد کو بھی اَز رُوئے شرع پختہ بنانا ناجائز تصور کیا جاتا رہا۔ پھر ایک وقت آیا جب اسلامی سلطنت کی حدیں شرق تا غرب تک پھیل گئیں، تہذیب و ثقافت اور رہن سہن کے طریقوں میں تبدیلیاں آگئیں، لوگوں نے اپنی رہائش کے لیے بڑے بڑے کشادہ اور پختہ مکانات بنانا شروع کر دیے۔ بنو اُمیہ اور بنو عباس کے دورِ حکومت اور مابعد اِسلامی مملکت کے جاہ و جلال کے دور میں مسلمانوں نے عالی شان محلات تعمیر کیے تو علماء نے وقت کے تقاضوں کے مطابق مساجد کی تعمیر کو بھی اسی طرح نہ صرف جائز کہا بلکہ عظمتِ اسلام کے پیش نظر ضروری قرار دیا۔
اگر مساجد کی تعمیر میں تبدیلی پر غور کیا جائے تو اس کی مصلحت اب سمجھ میں آتی ہے کہ اس وقت لوگوں کے اپنے گھر کچے ہوتے تھے لہٰذا اﷲ کے گھر کا کچا ہونا باعثِ ننگ و عار نہ تھا۔ لیکن جب لوگوں کے اپنے مکانات پختہ محلات میں بدل گئے تو خانہ خدا کی وجاہت اور ظاہری رعب و دبدبہ کے پیشِ نظر پختہ اور خوبصورت مساجد کی تعمیر کے جواز کا فتويٰ دے دیا گیا۔ اِس سے واضح ہوتا ہے کہ دین کو اگر ظاہری لفظوں سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اس سے (الا ما شاء اﷲ) گمراہی کے سوا کچھ نہیں ملتا لیکن اگر دین کی اصل روح اور اس میں کار فرما حکمتوں پر غور کر کے اس کے اَحکام کو پرکھا جائے تو دین کا صحیح فہم پیدا ہوتا ہے۔

3۔ قرآن حکیم کا ترجمہ و تفسیر

قرآن حکیم کی تعلیمات لوگوں تک پہنچانے کے لیے ضروری تھا کہ اس کے تراجم اور تفاسیر بھی مختلف ممالک کے لوگوں کی زبان اور فہم کے مطابق ہوں لیکن دین کے بارے میں ظاہری الفاظ پر نظر رکھنے والا ناپختہ اور انتہا پسند جامد ذہن ہر دور میں ہونے والے نئے کام کی مزاحمت میں پیش پیش رہا ہے۔ چنانچہ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی نے ہندوستان میں جب پہلی مرتبہ اسی ضرورت کے پیشِ نظر قرآن حکیم کا ترجمہ فارسی زبان میں کیا تو یہاں کے ظاہر بیں علماء نے بہت واویلا کیا، کفر و بدعت کے فتاويٰ صادر کیے کہ قرآن کو عربی زبان سے فارسی میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ لیکن آنے والے وقت نے ثابت کر دیا کہ یہ بدعت مصلحتِ وقت اور عین تقاضائے تبلیغِ دین تھی، جب کہ فتويٰ لگانے والے اُس وقت اس دینی مصلحت سے ناآشنا تھے۔

اَئمہ و محدثین کی بیان کردہ اَقسامِ بدعت

دین کے متذکرہ پہلوؤں کو مدّنظر رکھتے ہوئے ہی اَئمہ و محدثین نے بدعت کی پانچ اقسام بیان کی ہیں، جن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے :

1۔ اِمام شافعی (150۔204ھ)

شافعی فقہ کے بانی امام شافعی بدعت کی تقسیم ان الفاظ میں کرتے ہیں :
المحدثات من الأمور ضربان : ما أحدث يخالف کتاباً أو سنة أو أثرًا أو إجماعاً فهذه البدعة ضلالة، وما أحدث من الخير لا خلاف فيه لواحد من هذا، فهذه محدثة غير مذمومة، قد قال عمر رضی الله عنه فی قيام رمضان : نعمت البدعة هذه.
  1. ذهبی، سير أعلام النبلائ، 10 : 70
  2. سيوطی، الحاوی للفتاوی : 202
  3. سيوطی، حسن المقصد فی عمل المولد : 52، 53
’’محدثات میں دو قسم کے اُمور شامل ہیں : پہلی قسم میں تو وہ نئے اُمور ہیں جو قرآن و سنت، آثارِ صحابہ یا اِجماعِ اُمت کے خلاف ہوں۔ پس یہ بدعتِ ضلالہ ہیں۔ اور دوسری قسم میں وہ نئے اُمور ہیں جن کو بھلائی کے لیے اَنجام دیا جائے اور کوئی ان میں سے کسی کی مخالفت نہ کرتا ہو۔ پس یہ نئے اُمور ناپسندیدہ نہیں ہیں۔ اِسی لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رمضان میں تراویح کے قیام کے موقع پر فرمایا تھا : یہ کتنی اچھی بدعت ہے۔‘‘

2۔ شیخ عز الدین بن عبد السلام (577۔660ھ)

شیخ عز الدین بن عبد السلام سلمی اپنی کتاب ’’قواعدالاحکام فی مصالح الانام‘‘ میں فرماتے ہیں :
البدعة فعل ما لم يعهد فی عهد النبی صلی الله عليه وآله وسلم ، وتنقسم إلی خمسة أحکام يعنی الوجوب والندب … الخ. وطريق معرفة ذلک أن تعرض البدعة علی قواعد الشرع فأی حکم دخلت فيه فهی منه، فمن البدع الواجبة تعلم النحو الذی يفهم به القرآن والسنة، ومن البدع المحرمة مذهب نحو القدرية، ومن البدع المندوبة إحداث نحو المدارس والاجتماع لصلاة التراويح، ومن البدع المباحة المصافحة بعد الصلاة، ومن البدع المکروهة زَخرفة المساجد والمصاحف أي بغير الذهب.
ابن حجر هيتمي، الفتاوی الحديثية : 203
’’بدعت ایسا فعل ہے جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں نہ تھا اور بدعت کو پانچ اَحکام میں تقسیم کیا جاتا ہے یعنی واجب اور ندب وغیرہ۔ اور اس کی پہچان کا طریقہ کار یہ ہے کہ بدعت کو قواعدِ شرعیہ پر پرکھا جائے گا۔ پس وہ جو حکم شرعی پر پورا اترے گا اسی قسم میں سے ہوگا۔ پس نحو کا علم سیکھنا جس سے قرآن اور سنت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، بدعتِ واجبہ میں سے ہے۔ اور قدریہ جیسے نئے مذہب بنانا بدعتِ محرمہ میں سے ہے۔ اور مدارس بنانا اور نمازِ تراویح جماعت کے ساتھ ادا کرنا بدعتِ مندوبہ میں سے ہے۔ اور نماز کے بعد مصافحہ کرنا بدعتِ مباحہ میں سے ہے۔ اور سونا اِستعمال کیے بغیر مساجد اور قرآن کی تزئین و آرائش کرنا بدعتِ مکروہہ میں سے ہے۔‘‘

3۔ ملا علی قاری حنفی (م 1014ھ)

ملا علی قاری حنفی ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ کی شرح ’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ میں لکھتے ہیں :
قال الشيخ عز الدين بن عبد السلام فی آخر کتاب القواعد : البدعة : أما واجبة کتعلم النحو لفهم کلام اﷲ ورسوله وکتدوين أصول الفقه والکلام فی الجرح والتعديل. وأما محرمة کمذهب الجبرية والقدرية والمرجئة والمجسمة. والرد علی هؤلاء من البدع الواجبة لأن حفظ الشريعة من هذه البدع فرض کفاية. وأما مندوبة کإحداث الربط والمدارس وکل إحسان لم يعهد فی الصدر الأول وکالتراويح أی بالجماعة العامة والکلام فی دقائق الصوفية. وأما مکروهة کزخرفة المساجد وتزوين المصاحف يعنی عند الشافعية، وأما عند الحنفية فمباح. وأما مباحة کالمصافحة عقيب الصبح والعصر أی عند الشافعية أيضًا وإلا فعند الحنفية مکروه، والتوسّع فی لذائذ المأکل والمشارب والمساکن وتوسيع الأکمام.
ملا علی قاری، مرقاة المفاتيح شرح مشکاة المصابيح، 1 : 216
’’شیخ عز الدین بن عبد السلام ’’القواعد‘‘ کے آخر میں بدعت کے بارے میں فرماتے ہیں : اﷲ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کو سمجھنے کے لیے نحو کا سیکھنا، اُصولِ فقہ کی تدوین کرنا اور علم جرح و تعدیل کا حاصل کرنا بدعتِ واجبہ ہے، جب کہ بدعتِ محرمہ میں نئے مذاہب کا وجود ہے جیسے جبریہ، قدریہ، مرجئہ اور مجسمہ اور ان تمام کا ردّ بدعتِ واجبہ سے کیا جائے گا کیوں کہ اِسی بدعت سے شریعت کی حفاظت کرنا فرضِ کفایہ ہے۔ جب کہ سرائیں اور مدارس کا قیام اور ہر قسم کی نیکی کے فروغ کے کام جو اِسلام کے اِبتدائی دور میں نہ تھے جیسے باجماعت نمازِ تراویح اور تصوف کے پیچیدہ نکات و رموز پر گفتگو کرنا بدعتِ مندوبہ میں شامل ہیں۔ شوافع کے ہاں مساجد اور قرآن کی تزئین و آرائش کرنا بدعتِ مکروہہ ہے، جب کہ اَحناف کے ہاں یہ اَمر مباح ہیں۔ اور شوافع کے ہاں فجر اور عصر کے بعد مصافحہ کرنا بدعتِ مباحہ ہے، جب کہ اَحناف کے نزدیک یہ اَمر مکروہ ہیں؛ اور اِسی طرح لذیذ کھانے، پینے اور گھروں کو و سیع کرنا (جیسے اُمور بھی بدعتِ مباحہ میں شامل) ہیں۔‘‘

کلّ بدعۃ ضلالۃ کا صحیح مفہوم

ملا علی قاری کل بدعۃ ضلالۃ کا صحیح مفہوم واضح کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں :
أی کل بدعة سيئة ضلالة، لقوله عليه الصلاة والسلام : من سنّ فی الإسلام سنّة حسنة فله أجرها وأجرمن عمل بها‘‘ وجمع أبوبکر وعمر القرآن وکتبه زيد فی المصحف وجدد فی عهد عثمان رضی الله عنهم.
1. ملا علی قاری، مرقاة المفاتيح شرح مشکاة المصابيح، 1 : 216
2. شبير احمد ديوبندی، فتح الملهم بشرح صحيح مسلم، 2 : 406
’’یعنی ہر بری بدعت گمراہی ہے کیوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اِرشاد ہے : ’’جس نے اِسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اُسے اُس عمل کا اور اُس پر عمل کرنے والے کا اَجر ملے گا۔‘‘ اور یہ کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم جمع کیا اور حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اِسے صحیفہ میں لکھا اور عہد عثمانی میں اِس کی تجدید کی گئی۔‘‘
2۔ ابن حجر مکی بدعت کی اَقسام بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
وفی الحديث : کل بدعة ضلالة، وکل ضلالة فی النار. وهو محمول علی المحرّمة لا غير.
ابن حجر هيتمی، الفتاوی الحديثية : 203
’’اور جو حدیث میں ہے کہ ’’ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جائے گی‘‘ اس حدیث کو بدعتِ محرّمہ پر محمول کیا گیا ہے، اِس کے علاوہ اور کسی پر نہیں۔‘‘
بدعت کی اس تقسیم کے بعد معلوم ہوا کہ اگر بدعت شریعت کے مستحسنات کے تحت آجائے تو وہ بدعتِ حسنہ ہے اور اگر مستقبحات کے تحت آجائے (یعنی مخالف دلیل ہو) تو بدعتِ سیئہ ہے اور اگر ان دونوں میں نہ آئے تو وہ بدعت مباحہ ہے۔

تقسیمِ بدعت

مذکورہ بالا تعریفاتِ بدعت کی روشنی میں ہم ذیل میں خلاصتاً محدثین و اَئمہ کی بیان کردہ بدعت کی تقسیم بیان کریں گے۔ بنیادی طور پر بدعت کی دو اَقسام ہیں :
  1. بدعتِ حسنہ
  2. بدعتِ سیئہ
ان میں سے ہر ایک کی پھر مزید اقسام ہیں جن کا ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے :

1۔ بدعتِ حسنہ کی اَقسام

بدعتِ حسنہ کی مزید تین اَقسام ہیں :
  1. بدعتِ واجبہ
  2. بدعتِ مستحبہ (مستحسنہ)
  3. بدعتِ مباحہ

بدعتِ واجبہ

وہ کام جو اپنی ہیئت میں توبدعت ہو لیکن اِس کا وجود واجب کی طرح دین کی ضرورت بن جائے اور اِسے ترک کرنے سے دین میں حرج واقع ہو۔ جیسے قرآنی آیات پر اعراب، فہمِ دین کے لیے صرف و نحو کی درس و تدریس، اُصولِ تفسیر، اُصولِ حدیث، فقہ و اُصولِ فقہ اور دیگر علومِ عقلیہ وغیرہ کی تعلیم کا اِہتمام، دینی مدارس کا قیام، درسِ نظامی کے نصابات اور ان کی اِصطلاحات سب ’’بدعتِ واجبہ‘‘ ہیں۔

(2) بدعتِ مستحبہ (مستحسنہ)

جو کام اپنی ہیئت اور اَصل میں نیا ہو لیکن شرعاً ممنوع ہو نہ واجب کی طرح ضروری ہو بلکہ عام مسلمان اسے مستحسن اَمر سمجھتے ہوئے ثواب کی نیت سے کریں تو اس کے نہ کرنے والا گناہ گار بھی نہیں ہوتا لیکن کرنے والے کو ثواب ملتا ہے، جیسے مسافر خانوں اور مدارس کی تعمیر وغیرہ۔ ہر وہ اچھی بات جو پہلے نہیں تھی اس کا ایجاد کرنا بھی بدعتِ مستحبہ ہے، جیسے نمازِ تراویح کی جماعت، تصوف و طریقت کے باریک مسائل کا بیان، محافلِ میلاد، محافلِ عرس وغیرہ جنہیںعام مسلمان ثواب کی خاطر منعقد کرتے ہیں اور ان میں شرکت نہ کرے والا گناہ گار نہیں ہوتا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اﷲ عنھما نے فرمایا :
فما رآه المؤمن حسناً فهو عند اﷲ حسن، وما رآه المؤمنون قبيحاً فهو عند اﷲ قبيح.
1. بزار، البحر الزخار (المسند)، 5 : 212، 213، رقم : 1816
2. طيالسی، المسند، 1 : 33، رقم : 246
3. أحمد بن حنبل، المسند، 1 : 379، رقم : 3600
4. حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 3 : 83، رقم : 4465
5۔ ہیثمی نے ’’مجمع الزوائد و منبع الفوائد (1 : 177، 178)‘‘ میں کہا ہے کہ اِسے احمد، بزار اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور اِس کے رجال موثق (ورجالہ موثقون) ہیں۔
6۔ عجلونی نے ’’کشف الخفاء ومزیل الالباس (2 : 245، رقم : 2214)‘‘ میں کہا ہے کہ یہ روایت موقوف حسن ہے۔
’’جس کو (بالعموم) مومن اچھا جانیں وہ اللہ کے ہاں بھی اچھا ہے اور جس کو مومن برا جانیں وہ اللہ کے نزدیک بھی برا ہے۔‘‘
اِس تعریف کی رُو سے جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدعتِ مستحسنہ ہے، جسے مومن ثواب کی نیت سے کرتے ہیں اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اﷲ عنھما کے قول کے مطابق یہ اﷲ تعاليٰ کے ہاں بھی مقبول ہے کیوں کہ اِسے جمہور مسلمان (سوادِ اَعظم) مناتے ہیں۔

(3) بدعتِ مباحہ

وہ نیا کام جو شریعت میںمنع نہ ہو اور جسے مسلمان صرف جائز سمجھ کر ثواب کی نیت کے بغیر اِختیار کرلیں۔ فقہاء نے فجر اور عصر کی نماز کے بعد مصافحہ کرنے اور عمدہ عمدہ جدید کھانے اور مشروبات کے استعمال کو ’’بدعتِ مباحہ‘‘ کہا ہے۔

2۔ بدعتِ سیئہ کی اقسام

بدعتِ سیئہ کی دو اقسام بیان کی جاتی ہیں :
1۔ بدعتِ محرّمہ
2۔ بدعتِ مکروہہ

بدعتِ محرّمہ

وہ نیا کام جس سے دین میں تضاد، اِختلاف اور اِنتشار واقع ہو مثلاً قدریہ، جبریہ، مرجئہ اور مرزائی و قادیانی وغیرہ جیسے نئے مذاہب کا وجود میں آنا۔ اِسے بدعتِ ضلالہ بھی کہتے ہیں۔ اِن مذاہبِ باطلہ کی مخالفت بدعتِ واجبہ کا درجہ رکھتی ہے۔

(2) بدعتِ مکروہہ

جس نئے کام سے سنت مؤکدہ یا غیر مؤکدہ چھوٹ جائے وہ بدعتِ مکروہہ ہے۔ اِس میں علماء متقدمین نے مساجد کی بلاضرورت فخریہ آرائش و تزئین وغیرہ کو شامل کیا ہے۔

تقسیمِ بدعت پر متنِ حدیث سے اِستشہاد

بدعت کے مذکورہ تصوّر اور تقسیم کی مزید وضاحت کے لیے حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اﷲ عنھما سے مروی حدیث مبارکہ نہایت اہم ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
من سنّ فی الإسلام سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها بعده، من غير أن ينقص من أجورهم شیء. ومن سن فی الإسلام سنة سيئة کان عليه وزرها ووزر من عمل بها من بعده، من غير أن ينقص من أوزارهم شیء.
1. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب الحث علی الصدقة ولو بشق تمرة أو کلمة طيبة وأنها حجاب من النار، 2 : 704، 705، رقم : 1017
2. مسلم، الصحيح، کتاب العلم، باب من سن سنة حسنة أو سيئة ومن دعا إلی هدی أوضلالة، 4 : 2059، رقم : 1017
3. نسائی، السنن، کتاب الزکاة، باب التحريض علی الصدقة، 5 : 76، رقم : 2554
4. ابن ماجة، السنن، المقدمة، باب من سن سنة حسنة أو سيئة، 1 : 74، 75، رقم : 203، 206، 207
5. احمد بن حنبل، المسند، 4 : 357.359
’’جو شخص اِسلام میں کسی نیک کام کی بنیاد ڈالے تو اس کے لئے اس کے اپنے اَعمال کا بھی ثواب ہے اور جو اُس کے بعد اِس پر عمل کریں گے اُن کا ثواب بھی ہے، بغیر اِس کے کہ اُن کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔ اور جس نے اِسلام میں کسی بری بات کی اِبتدا کی تو اُس پر اُس کے اپنے عمل کا بھی گناہ ہے اور جو اُس کے بعد اِس پر عمل کریں گے اُن کا بھی گناہ ہے، بغیر اِس کے کہ اُن کے گناہ میں کچھ کمی ہو۔‘‘
اس حدیث میں لفظ ’’سنّ‘‘ لغوی معنی کے اِعتبار سے ’’ابدع‘‘ کے ہم معنی ہے یعنی جس نے اسلام میں کوئی اچھی (نئی) راہ نکالی۔ یہاں سے ’’بدعتِ حسنہ‘‘ کا تصور ابھرتا ہے۔ اِسی طرح
’’من سنّ فی الإسلام سنة سيئة‘‘
سے بدعتِ سیئہ کی طرف اشارہ ہے۔ اگر کوئی اعتراض کرے کہ اس سے تو صرف ’’سنت‘‘ ہی مراد ہے بدعت مراد نہیں لی جا سکتی تو اس کا جواب یہ ہے کہ (معاذ اﷲ) اگر اس سے مراد صرف ’’سنت‘‘ ہی ہوتا تو کیا وہاں ’’حسنہ‘‘ کہنے کی ضرورت تھی؟ کیا کوئی سنت غیر حسنہ بھی ہوسکتی ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ عمل کرنے کے حوالے سے ’’مَنْ عَمِلَ‘‘ تو کہہ سکتے ہیں مگر ’’من سنَّ‘‘ کہنے کی کیا ضرورت ہے کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے ایک اُمتی کیا ’’راہ‘‘ نکالے گا؟ وہ تو صرف عمل اور اِتباع کا پابند ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ’’سَنَّ‘‘ سے مراد معروف معنوں میں سنت نہیں ہے بلکہ یہاں لغوی معنی یعنی راستہ اور نئی راہ نکالنا مراد ہے۔
بدعت کی مندرجہ بالا اَقسام اور تفصیلات متعدد ائمہ حدیث اور فقہاء نے اپنے اپنے انداز میں اپنی کتب میں بیان کی ہیں۔ تفصیلات ہماری کتاب ’’کتاب البدعۃ‘‘ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔
مندرجہ بالا تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر عمل کو اِس ڈھب پر نہیں دیکھا جاتا کہ یہ عمل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہوتا تھا یا نہیں اور بعد میں کب شروع ہوا بلکہ اس کو پرکھنے کے لیے عمل کی ہیئت کبھی رسم و رواج پر منحصر ہوتی ہے اور کبھی وقت کی ضروریات اور تقاضوں پر۔ کبھی اس کام میں کئی حکمتیں کارفرما ہوتی ہیں اور کبھی کئی مصلحتیں۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ کیا اس کی کوئی اصل قرآن و سنت سے ثابت ہے یا نہیں؟ کیا بلاواسطہ یا بالواسطہ اس کا کوئی ثبوت قرآن و سنت میں موجود ہے؟ یا پھر وہ کام اس لیے بھی قابل مذمت ٹھہرتا ہے کہ اس سے کسی واجب، سنت یا مستحب پر زَد پڑتی ہے۔
اگر کسی نئے عمل کی اصل قرآن حکیم یا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہو جائے تو پھر وہ طعن و تشنیع اور گمراہی یا گناہ کا باعث نہیں رہتا اور اگر بہ فرضِ محال قرآن و سنت سے بالواسطہ یا بلاواسطہ ثابت نہ بھی ہو لیکن اس سے قرآن و سنت کی مخالفت نہ ہوتی ہو تو پھر بھی وہ کسی قسم کی قباحت کا باعث نہیں بنتا اور نہ ہی اس پر طعن و تشنیع درست ہے۔ البتہ صرف اس صورت میں کوئی بدعت ناجائز اور قبیح کے زمرے میں شامل ہو کر قابلِ مذمت ٹھہرے گی جب وہ قرآن و سنت کی کسی نص یا شریعت کے کسی حکم کے خلاف ہو یا دین کے عمومی مزاج اور اُس کی روح کے منافی ہو۔

قرآن و حدیث میں جشنِ میلاد کی اَصل موجود ہے

اَصلاً حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کو اﷲ تعاليٰ کی نعمت اور اُس کا اِحسانِ عظیم تصور کرتے ہوئے اِس کے حصول پر خوشی منانا اور اسے باعث مسرت و فرحت جان کر تحدیثِ نعمت کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے بہ طور عید منانا مستحسن اور قابلِ تقلید عمل ہے۔ مزید برآں یہ خوشی منانا نہ صرف سنتِ اِلٰہیہ ہے بلکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی سنت بھی قرار پاتا ہے، صحابہ کرام کے آثار سے بھی ثابت ہے اور اِس پر مؤید سابقہ امتوں کے عمل کی گواہی بھی قرآن حکیم نے صراحتاً فراہم کر دی ہے۔ اب بھی اگر کوئی اس کے جواز اور عدم جواز کو بحث و مناظرہ کا موضوع بنائے اور اس کو ناجائز، حرام اور قابلِ مذمت کہے تو اسے ہٹ دھرمی اور لاعلمی کے سوا اور کیا کہا جائے گا!
قرآن و حدیث سے مفصل دلائل جاننے کے لیے ہماری ضخیم کتاب ’’میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔

جمہور اُمت گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی

شریعت مطہرہ نے بہت سے معاملات کی تہ میں کار فرما اَساسی تصورات اور اُصول بیان کر دیے ہیں لیکن ان کی تفصیل اور ہیئت کا اِنحصار اُمتِ مسلمہ کے علماء اور اَکابر پر چھوڑ دیا کہ اُمت کے علماء حق اور اَئمہ دین کی اکثریت جس اَمر پر متفق ہو جائے، گزشتہ صفحات میں دیے گئے حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنھما سے منقول قول کے مطابق بالکل درست اور قرآن و سنت کے تابع ہے۔ اِس کی تائید مرفوع صحیح احادیث سے بھی ہوتی ہے، جن کے مطابق فی الحقیقت اُمت کی اکثریت یعنی سوادِ اَعظم کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا، گمراہ ہمیشہ اَقلیت (سوادِ اَعظم سے الگ ہونے والی جماعت) ہوتی ہے۔ وقتاً فوقتاً جو چھوٹی چھوٹی تحریکیں اور جماعتیں بنتی رہتی ہیں، جن کے عقائد و نظریات امت کی بھاری اکثریت کے عقائد و نظریات کے خلاف ہوتے ہیں اور جو اُمت کے سوادِ اَعظم کو گمراہ، کافر، مشرک، جاہل اور بدعتی کہتی ہیں دراصل خود گمراہ ہوتی ہیں۔ اِسی لیے فتنہ و فساد اور تفرقہ و انتشار کے دور میں اُمت کو سوادِ اَعظم(سب سے بڑی جماعت) کا دامن پکڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔
1۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
إن أمتی لا تجتمع علی ضلالة، فإذا رأيتم اختلافا، فعليکم بالسواد الأعظم.
1. ابن ماجه، السنن، کتاب الفتن، باب السواد الأعظم، 2 : 1308، رقم : 3950
2. ابن ابی عاصم، السنة : 41، رقم : 84
3. طبرانی، المعجم الکبير، 12، 447، رقم : 13623
4. ديلمی، الفردوس بماثور الخطاب، 1 : 411، رقم : 1662
’’بے شک میری اُمت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔ پس اگر تم اِن میں اِختلاف دیکھو تو تم پر لازم ہے کہ سب سے بڑی جماعت کو اِختیار کرو۔‘‘
امام جلال الدین سیوطی نے ’’حاشیۃ سنن ابن ماجہ (ص : 283)‘‘ میں سوادِ اَعظم سے طبقہ اہلِ سنت مراد لیا ہے اور یہی حدیث کا مدّعا ہے۔
2۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اُمت کی تفرقہ پروری کی پیشین گوئی کرتے ہوئے سوادِ اعظم (اُمت کی اکثریتی جماعت) کے سوا تمام گروہوں اور جماعتوں کے جہنمی ہونے کی وعید بیان فرمائی۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
تفرقت بنو إسرائيل علی إحدی وسبعين فرقة، وتفرقت النصاری علی اثنتين وسبعين فرقة، وأمتی تزيد عليهم فرقة، کلها فی النار إلا السواد الأعظم.
1. طبرانی، المعجم الأوسط، 7 : 176، رقم : 7202
2. ابن ابی شيبه، المصنف، 7 : 554، رقم : 37892
3. حارث، المسند، 2 : 716، رقم : 706
4. بيهقی، السنن الکبری، 8 : 188
5. هيثمی، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، 7 : 258
’’بنی اسرائیل اِکہتر (71) فرقوں میں تقسیم ہوئے اور نصاری بہتر (72) فرقوں میں تقسیم ہوئے، جب کہ میری اُمت ان پر ایک فرقہ کا اضافہ کرے گی۔ وہ تمام فرقے جہنمی ہوں گے سوائے سوادِ اَعظم (اُمت کے اکثریتی طبقہ) کے۔‘‘
3۔ سوادِ اعظم کی اَہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
إثنان خير من واحد، وثلاثة خير من اثنين، وأربعة خير من ثلاثة، فعليکم بالجماعة، فإن اﷲ لن يجمع أمتی إلا علی هدی.
1. احمد بن حنبل، المسند، 5 : 145، رقم : 21331
2. هيثمی، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، 1 : 177
3. هيثمی، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، 5 : 218
’’دو (شخص) ایک سے بہتر ہیں، اور تین (اَشخاص) دو سے بہتر ہیں، اور چار (اَشخاص) تین سے بہتر ہیں۔ پس تم پر لازم ہے کہ (اَکثریتی) جماعت کے ساتھ رہو، یقینا اﷲ تعاليٰ میری امت کو کبھی بھی ہدایت کے سوا کسی شے پر اِکٹھا نہیں کرے گا۔‘‘
4۔ مذکورہ بالا حدیث مبارکہ میں بیان کیے گئے لفظ - الجماعۃ - سے مراد اُمت کا اَکثریتی طبقہ ہے۔ اِس کی وضاحت حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث مبارکہ سے ہوتی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود الجماعۃ سے سوادِ اَعظم مراد لیتے ہوئے فرمایا :
والذی نفس محمد بيده! لتفترقن أمتی علی ثلاث وسبعين فرقة، واحدة فی الجنة وثنتان وسبعون فی النار. قيل : يارسول اﷲ! من هم؟ قال : الجماعة.
’’اُس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے! میری اُمت ضرور تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی جن میں سے صرف ایک جنت میں جائے گا اور بہتر (72) جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :
يا رسول اﷲ! من هم؟
’’یارسول اللہ! وہ جنتی گروہ کون ہے؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
الجماعة.
1. ابن ماجه، کتاب الفتن، باب افتراق الأمم، 2 : 1322، رقم : 3992
2. لالکائی، إعتقاد أهل السنة والجماعة، 1 : 101، رقم : 149
’’وہ (اُمت میں سب سے بڑی) جماعت ہے۔‘‘
5۔ درج ذیل حدیث شریف میں ’’جماعت‘‘ سے مراد اُمت کی سب سے بڑی جماعت اور اُس پر محافظت ہونا صراحتاً بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
لا يجمع اﷲ هذه الأمة علی الضلالة أبدا، يد اﷲ علی الجماعة، فاتبعوا السواد الأعظم، فإنه من شذ شذ فی النار.
1. حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 1 : 199.201، رقم : 391.397
2. ابن أبي عاصم، کتاب السنة، 1 : 39، رقم : 80
3. لالکائی، إعتقاد أهل السنة، 1 : 106، رقم : 154
4. ديلمی، الفردوس بماثور الخطاب، 5 : 258، رقم : 8116
5. حکيم ترمذی، نوادر الأصول فی أحاديث الرسول صلی الله عليه وآله وسلم ، 1 : 422
’’اللہ تعاليٰ اِس اُمت کو کبھی بھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، اللہ کی حفاظت کا ہاتھ (سب سے بڑی) جماعت پر ہے، پس تم سوادِ اَعظم (سب سے بڑی جماعت) کی اِتباع کرو کیوں کہ جو اِس سے جدا ہوا یقینا وہ جہنم میں ڈالا جائے گا۔‘‘
6۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے ہی مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
إن اﷲ لا يجمع أمتی (أو قال : أمة محمد صلی الله عليه وآله وسلم) علی ضلالة، ويد اﷲ مع الجماعة، ومن شذ شذ إلی النار.
1. ترمذی، الجامع الصحيح، کتاب الفتن، باب ما جاء فی لزوم الجماعة، 4 : 466، رقم : 2167
2. حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 1 : 200، رقم : 394
3. دانی، السنن الوارده فی الفتن، 3 : 748، رقم : 368
’’اللہ تعاليٰ میری اُمت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا (یا فرمایا : اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا)۔ اور جماعت پر اللہ (تعاليٰ کی حفاظت) کا ہاتھ ہے، اور جو شخص جماعت سے جدا ہوا وہ آگ کی طرف جدا ہوا۔‘‘
اِس تصور کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مسلمانوں کے اَکثریتی طبقہ میں کوئی خرابی یا بگاڑ پیدا نہیں ہو سکتا۔ یہ اَمرِ واقع ہے کہ بگاڑ اور خرابیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں لیکن ہمیشہ پیغمبرانہ تعلیمات کے مطابق اَکثریتی طبقہ کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے یعنی سوادِ اَعظم سے منسلک رہتے ہوئے ہی اُمت کی اصلاح کی جد و جہد کرنی چاہیے۔ اہلِ ایمان سوادِ اَعظم کو گمراہ قرار دیتے ہوئے اِس سے خارج ہو کر اپنے لیے نئی راہ بنانا ہی دَرحقیقت گمراہی اور منافقت ہے، اور اسی سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ یومِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا بھی اُن بعض اُمور میں سے ایک ہے جن پر اِس وقت جمہور اُمت جواز کے شرعی دلائل کی روشنی میں عامل ہے۔ آج اگر کوئی اُمت کے اِس اکثریتی طبقہ کو گمراہ کہتا ہے تو درحقیقت وہ خود ہی گمراہ ہے اور دوزخ کی راہ پر گامزن ہے۔

دین کی اَصل روح کو سمجھنا ضروری ہے

یہ ایک اَلمیہ ہے کہ اِسلام کے حاملین ظاہر بینی سے کام لیتے ہوئے چھوٹی چھوٹی باتوں کو کفر و ایمان کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور دین کی اَصل روح اور کار فرما حکمت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل جن کے سامنے دین کی اصل روح نہیں رکھی جاتی بلکہ فہمِ دین کی بجائے لفظوں کی ہیر پھیر سے دین کو متعارف کرایا جاتا ہے، روز بروز اسلام سے دور ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ صرف اس لیے کہ (الا ما شاء اﷲ) کہیں تو ذاتی مفادات کے پیشِ نظر اور کہیں نادانی کی بناء پر مذہبی ذمہ داروں نے لفظی موشگافیوں سے دین کو دشوار بنا دیا ہے، جس سے نوجوان نسل اور بالخصوص نیا تعلیم یافتہ طبقہ جو پہلے ہی مغربی تہذیب و ثقافت اور اِستعماری ذہنیت و فکری یلغار کا نشانہ بنا ہوا ہے، دور ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ہم صدقِ دل سے دین کے اصول و قوانین اور شریعتِ اِسلامیہ کے دلکش پہلو پیشِ نظر رکھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ لوگ پھر سے عظمتِ اِسلام کے سنہری اُصولوں پر عمل پیرا ہو کر شوکت و عظمتِ رفتہ کی بحالی کے لیے کمربستہ نہ ہو جائیں۔
ظاہر پرست علماء محافلِ میلاد اور جشنِ میلاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صرف اِس لیے اِسے ناجائز اور (نعوذ باﷲ) حرام قرار دیتے ہیں کہ اِس قسم کی محافل اور جشن کی تقاریب اَوائل دورِ اِسلام میں منعقد نہیں ہوئیں۔ اِس بحث کے تناظر میں بدعت کی تعریف اور اس کی شرعی حیثیت پر جید اَئمہ حدیث و فقہ کے حوالے سے ہمارا موقف بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ اِسے لغت کی رُو سے بدعت کہنا صحیح ہے لیکن صرف بدعت کہہ کر اِسے ہدفِ تنقید بنانا اور ناپسندیدہ قرار دینا محض تنگ نظری اور ہٹ دھرمی ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کہ ہر دور میں ہر چیز کی ہیئت اور صورت حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔ فریضہ حج کی ادائیگی کے انداز اور ذرائع آمد و رفت بہ تدریج بدلتے رہے ہیں، آج لوگ پیدل یا اونٹ، گھوڑوں پر سوار ہوکر حج کے لیے نہیں جاتے، پہلے جو فاصلے مہینوں میں طے ہوتے تھے اب جدید ذرائع آمد و رفت سے گھنٹوں میں طے ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح دیگر اَرکانِ اِسلام کی ادائیگی کی صورتِ حال بھی اب پہلے جیسی نہیں۔ اس میں کئی جدتیں اور عصری تقاضے شامل ہو چکے ہیں مگران کی ہیئت اَصلیہ میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ اِسی پس منظر میں اگر جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودہ صورت دیکھی جائے تو یہ اپنی اَصل کے اِعتبار سے بالکل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ جس طرح ہم محافلِ میلاد میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نعت کا اہتمام کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و کمالات بیان کرتے اور مختلف انداز میں سیرتِ طیبہ کا ذکر کرتے ہیں، جو فی الواقعہ ہمارے جشنِ میلاد منانے کا مقصد ہے، اِسی طرح کی محفلیں جن میں حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و کمالات کا ذکر ہوتا تھا، عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی منعقد ہوتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محفل میں تشریف فرما ہوتے تھے حتی کہ اپنی محفلِ نعت خود منعقد کرواتے تھے۔

خلاصہ بحث

مذکورہ تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی عمل کی اصل قرآنِ حکیم یا سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہو جائے تو پھر وہ طعن و تشنیع اور گمراہی یا گناہ وغیرہ کا باعث نہیں رہتا اور اگر بفرضِ محال قرآن و سنت سے بالواسطہ یا بلاواسطہ ثابت نہ بھی ہو لیکن اس سے قرآن و سنت کی مخالفت نہ ہوتی ہو تو پھر بھی وہ کسی قسم کی قباحت کا باعث نہیں بنتا اور نہ ہی اس پر طعن و تشنیع جائز ہے ہاں صرف اُس صورت میں کوئی بدعت ناجائز اور قبیح کے زمرے میں شامل ہو کر قابل مذمت ٹھہرے گی۔ جب قرآن و سنت پر پرکھنے کے بعد یہ ثابت ہو جائے کہ یہ قرآن و سنت کی فلاں نص کے خلاف ہے یا شریعت کے فلاں حکم کی مخالفت میں ہے۔
مختصراً یہ کہ کسی بھی عمل کو اِس ڈھب پر اور اس نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جاتا کہ یہ عمل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہوتا تھا یا نہیں اور بعد میں کب شروع ہوا بلکہ اس کو پرکھنے کے لیے ہمیں یہ اَمر ملحوظِ خاطر رکھنا ہوگا کہ کسی عمل کی ہیئت کبھی رسم و رواج پر منحصر ہوتی ہے اور کبھی وقت کی ضرورتوں اور تقاضوں پر مبنی ہوتی ہے۔ کبھی اس کام میں کئی حکمتیں کار فرما ہوتی ہیں اور کبھی کئی مصلحتیں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ لہٰذا کوئی بھی نیا کام صرف اُس وقت ناجائز اور حرام قرار پاتا ہے جب وہ شریعتِ اسلامیہ کے کسی حکم کی مخالفت کر رہا ہو، اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اسے ہدفِ تنقیدو تنقیص بنانے کا کوئی جواز نہیں۔ تصورِ بدعت سے متعلق مزید تفصیلات کے لیے ہماری تصنیف ’’کتاب البدعہ‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔



Monday, January 21, 2013

Prohibit Evil by Force: برائی کو طاقت سے روکنا


سوال: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، یعنی ’نیکی کا حکم دینا‘ اور ’برائی کو روکنا‘ دینی طبقات کے نزدیک ایک بہت اہم مسئلہ ہے۔ اس میں بھی برائی [منکر] کو بزورِ قوت روکنے کا مسئلہ زیادہ اہم ہے، اور اسی طرح یہ بات بھی کہ برائی کو روکنے کا یہ حق کسے حاصل ہے اور یہ کب جائز ہوتا ہے؟
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حق فقط اہل اقتدار کو حاصل ہے، یعنی یہ حکومت کی ذمہ داری میں شامل ہے، افراد کی ذمہ داری نہیں ہے، کیونکہ اگر یہ حق افراد کے پاس ہو تو معاشرے میں فساد رُونما ہو سکتا ہے۔کچھ دوسرے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ برائی کو روکنا ہر مسلمان کے فرائض میں شامل ہے۔ ان کی دلیل یہ صحیح حدیث رسولؐ ہے: ’’تم میں سے کوئی منکر کو دیکھے تو اُسے اپنے ہاتھ کی طاقت سے بدل دے۔ اگر کوئی یہ طاقت اپنے اندر نہ رکھتا ہو تو وہ اپنی زبان سے کام لے۔ اور اگر کوئی اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہو تو وہ اپنے دل میں اسے برا سمجھے اور یہ ضعیف ترین ایمان ہے۔‘‘ (مسلم، عن ابی سعید الخدریؓ)
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص قوی ترین ایمان پر قادر ہے تو وہ اس کے ضعیف ترین درجے پر کیوں راضی ہو جائے؟یہ وہ رجحان ہے جو انجام اور نتائج کی پروا کیے بغیر برائی کو روکنے کے حوالے سے بعض جذباتی نوجوانوں میں پایا جاتا ہے۔ اُن کا خیال ہے کہ چونکہ اہل اقتدار اور حکومت خود برائی کا ارتکاب کرتی ہے، یا اس کی پشت پناہی کرتی ہے، حرام کو حلال اور حلال کو حرام ٹھیراتی ہے، یا فرائض کو ساقط کرتی ہے، یا حدود سے تجاوز کرتی ہے، یا حق سے دشمنی رکھتی ہے اور باطل کو رواج دیتی ہے، تو ایسی صورتِ حال میں افراد پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔ اس کوشش میں اگر افراد کوئی نقصان اٹھاتے ہیں تو وہ اللہ کی خاطر ہوگا، اگر قتل کر دیے جائیں گے تو فی سبیل اللہ شہادت ہو گی اور حدیث رسولؐ کے مطابق وہ سید الشہداء حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلب کی ہمسایگی میں جگہ پائیں گے۔
دونوں طرف کے ان دلائل کی بنا پر بہت سے لوگوں خصوصاً غیرت مند دین پسند نوجوانوں کے لیے یہ معاملہ کچھ الجھ سا گیا ہے۔ جو لوگ پہلے موقف کے قائل ہیں کہ برائی کو روکنے کا اختیار اہل اقتدار کے پاس ہے،عموماً وہ لوگ ہیں جن کو ’سرکاری علما‘ کہا جاتا ہے اور عوام میں اُن کی بات کو کوئی اہمیت اور وزن حاصل نہیں ہوتا، جب کہ دوسرا گروہ جو برائی کو بزورِ قوت روکنے کا قائل ہے، یہ سب وہ نوجوان ہیں جن کو انتہا پسند، جذباتی اور شریعت کا ظاہری مفہوم لینے کا الزام دیا جاتا ہے۔
گزارش ہے کہ صحیح راے کی نشان دہی کریں۔ ہو سکتا ہے دونوں ہی درست ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں درست نہ ہوں، بلکہ تیسری راے درست ہو جو اِن کے علاوہ ہو۔
جواب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا فریضہ اسلام کے بنیادی فرائض میں سے ہے۔ یہ وہ فریضہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اُمت مسلمہ کی فضلیت کے دو بڑے اسباب میں سے ایک قرار دیا ہے:
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ (اٰلِ عمرٰن۳:۱۱۰)، اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
قرآنِ مجید کی نظر میں مؤمنوں کی اساسی صفات یہ ہیں:
اَلتَّآءِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآءِحُوْنَ الرّٰکِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاھُوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰہِ (التوبہ ۹:۱۱۲) اللہ کی طرف بار بار پلٹنے والے، اس کی بندگی بجا لانے والے، اس کی تعریف کے گن گانے والے، اس کی خاطر زمین میں گردش کرنے والے، اس کے آگے رکوع اور سجدے کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، بدی سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے۔
قرآنِ مجید نے جس طرح نیکی کا حکم دینے والوں اور برائی سے روکنے والوں کی تعریف کی ہے، اسی طرح اُن لوگوں کی مذمت بھی کی ہے جو نیکی کا حکم نہیں دیتے اور برائی سے نہیں روکتے :
لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْم بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ط ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَoکَانُوْا لَا یَتَنَاھَوْنَ عَنْ مُّنْکَرٍ فَعَلُوْہُ ط لَبِءْسَ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ o(المائدہ۵: ۷۸۔ ۷۹)، بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اُن پر داؤدؑ اور عیسیٰؑ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہو گئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے، انھوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، برا طرزِ عمل تھا جو انھوں نے اختیار کیا۔
مذکورہ آیت کے مطالعے کی روشنی میں مسلمان صرف انفرادی حیثیت ہی میں صالح انسان نہیں ہوتا جو اچھے کام کرتا ہے، برائی سے بچتا ہے اور اپنے ایک خاص دائرے میں زندگی گزارتا ہے، نہ اُسے یہ فکر ہو کہ خیر کا دائرہ سمٹ رہاہے اور اُسے بے وقعت بنایا جا رہا ہے، نہ اُسے یہ پریشانی ہو کہ برائی اُس کے اردگرد پھیل رہی ہے اور پرپرزے نکال رہی ہے___ بلکہ ہرمسلمان اپنی ذات میں ایسا صالح انسان ہوتا ہے جس کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ وہ اوروں کی بھی اصلاح کرے۔ اسی بات کو قرآنِ مجید کی مختصر سورت سورۂ عصر میں بیان کیا گیا ہے: ’’زمانے کی قسم، انسان درحقیقت خسارے میں ہے، سواے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے‘‘(العصر۱۰۳:۱۔۳)۔ جو مسلمان دنیا و آخرت میں خسارے سے دوچار ہو جائے اس کے لیے نجات ممکن نہیں۔ نجات اگر مسلمان کا مقدر بن سکتی ہے تو صرف اسی صورت میں جب وہ حق اور صبر کی تلقین کا فریضہ ادا کرے اور یہی وہ چیز ہے جس کو ’امر بالمعروف اور نہی عن المنکر‘ کا بھی نام دیا گیا ہے۔ مسلمان اُمت مسلمہ میں حق و خیر کا محافظ اور نگران ہے۔
مسلم معاشرے میں برائی صرف اِسی صورت میں ہوتی ہے، جب معاشرہ غفلت کا شکار ہوجائے یا ضعف اور انتشار سے دوچار ہو جائے۔ ایسی صورتِ حال میں یہ معاشرہ نہ قائم رہ سکتا ہے اور نہ آگے بڑھ سکتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو محفوظ بھی خیال نہیں کر سکتااور اپنے ان دگرگوں حالات کی بنا پر کسی قانون کے نفاذ سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
برائی، مسلم معاشرے میں غیر مقبول عنصر کے طور پر ہی زندہ رہ سکتی ہے۔ جیسے پھانسی یا عمر قید کے سزا یافتہ مجرم کی کیفیت ہوتی ہے۔ وہ ماوراے عدالت اور معاشرے سے چھپ چھپا کر زندگی گزارتا اور نقل و حرکت کرتا ہے۔ لہٰذا مسلمان سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ برائی کے سامنے اس وقت تک مزاحمت کرے اور اُسے روکے، جب تک اس کا ایسے علاقے سے خاتمہ نہیں ہو جاتا جو علاقہ برائی کو پسند کرنے والوں کا نہیں بلکہ مسلمانوں کی سرزمین ہے۔
مذکورہ حدیثِ رسولؐ کا مطلب بالکل واضح ہے کہ برائی کو روکنا ہر اُس مسلمان کا حق بلکہ فریضہ ہے جو اُسے دیکھ لے۔ اس بات کے فرض اور واجب ہونے کی دلیل حدیث میں مذکور لفظ ’مَن‘ ہے یعنی مَنْ رَأیٰ ’’جو بھی دیکھے‘‘ عام الفاظ ہیں۔ یہ الفاظ ہر اُس شخص کے لیے ہیں جو برائی کو دیکھے، وہ شخص حاکم ہو یامحکوم۔ رسول ؐاللہ نے تو تمام مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہ بات فرمائی ہے، یعنی مَنْ رَأیٰ منکم ’’تم میں سے جو شخص بھی برائی کو دیکھے‘‘۔ آپؐ نے اس میں سے کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا، صحابہ کرامؓ سے لے کر قیامت تک آنے والی امت مسلمہ کی تمام نسلیں اس میں شامل ہیں۔ یہ ’برائی کو دیکھنے والا‘ امت کا رہنما، سربراہ اور حاکم بھی ہو سکتا ہے اور عوام میں سے کوئی فرد بھی ہو سکتا ہے۔ ان میں سے جو بھی برائی کو دیکھے وہ طاقت کے مطابق اسے روکنے کی کوشش کرے۔

برائی کو روکنے کی شرائط
برائی کو روکنے کے حوالے سے مسلم فرد یا مسلم جماعت کو جن لازمی شرائط کا خیال رکھنا واجب ہے اور جن کی طرف حدیث کے الفاظ اشارہ کرتے ہیں وہ شرائط حسب ذیل ہیں:
* حرام اور متفقہ منکر: پہلی شرط یہ ہے کہ وہ برائی متفقہ طور پر حرام کاموں میں شامل ہو، یعنی وہ برائی حقیقتاً’منکر‘ ہو۔ اس سے مراد وہ برائی ہے جس کو اولاً ہاتھ کی طاقت سے، پھر زبان سے اور پھر دل سے روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حدیث میں مذکور لفظ ’منکر‘ [برائی] کا اِطلاق صرف اس ’حرام‘ کے اوپر ہی کیا جاتا ہے جس کو چھوڑنے کا شارع نے تاکیدی حکم دیا ہو، جب کہ اس حرام کا ارتکاب کرنے والا عذابِ الٰہی کا مستحق بھی ٹھیرتا ہو، اور پھر اس حرام کا تعلق منع کیے گئے حرام کاموں کا ارتکاب کرنے سے ہو یا انجام دیے جانے والے امورکو چھوڑ دینے سے۔ اس منکر کا تعلق محرماتِ صغیرہ [چھوٹے حرام امور] سے ہو یا محرماتِ کبیرہ [بڑے حرام امور] سے۔ اگرچہ محرماتِ صغیرہ کے بارے میں تساہل سے کام لیا جاتا ہے، لیکن محرماتِ کبیرہ کے متعلق ایسا تساہل نہیں پایا جاتا، خصوصاً اس وقت جب ان ’منکرات‘ کا مرتکب ان کا عادی بھی نہ ہو۔ قرآنِ حکیم میں ہے:
اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآءِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَ نُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلًا کَرِیْمًا(النساء۴:۳۱)، اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمھیں منع کیا جا رہا ہے تو تمھاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمھارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے۔
رسولِ کریمؐ نے فرمایا: پانچ نمازیں، جمعہ سے اگلے جمعہ تک اور رمضان سے اگلے رمضان تک کے درمیانی عرصے کے گناہوں کو محو کر دیتی ہیں، اگر تم کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کرو تو (مسلم، عن ابی ہریرہؓ)۔ لہٰذا مکروہ افعال کا ارتکاب اور مسنون اور مستحب اعمال کو ترک کر دینے کا فعل ’منکر‘ میں داخل نہیں ہے۔ ایک سے زیادہ صحیح احادیث میں بیان ہوا ہے کہ ایک شخص نے نبیؐ سے فرائضِ اسلام کے بارے میں پوچھا تو آپؐ نے اس کے سامنے نماز، روزہ، زکوٰۃ کے فرائض بیان کیے۔ یہ شخص ہر فرض کے ذکر کے بعد آپؐ سے پوچھتا تھا کہ کیا اس کے علاوہ بھی کچھ میرے اوپر فرض ہے؟ آپؐ اُسے جواب دیتے: ’’اگر تم نفلی طور پر کچھ کرنا چاہو تو کر سکتے ہو‘‘۔۔۔ رسولؐ اللہ اپنی بات سے فارغ ہوئے تو اُس شخص نے کہا: اللہ کی قسم یا رسول اللہ! میں نہ اس سے کچھ زیادہ کروں گا اور نہ اس میں کوئی کمی کروں گا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: ’’اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ نجات پا گیا‘‘۔ یا آپؐ کے الفاظ تھے: ’’اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہو گیا‘‘ (بخاری، مسلم، عن طلحہ بن عبید اللہؓ)۔ایک دوسری حدیث کے الفاظ ہیں: ’’جو شخص کسی جنتی آدمی کو دیکھ کر خوش ہونا چاہے وہ اس آدمی کو دیکھ لے‘‘(بخاری ، مسلم، عن ابی ہریرہؓ)۔ لہٰذا ضروری ہے کہ یہ ’منکر‘ جس کو روکنے کا مسئلہ درپیش ہو، وہ حرام کے درجے میں آتا ہو اور شریعت کی رو سے حقیقتاً ’منکر‘ ہو۔ شریعت کے ٹھوس اور واضح الفاظ یا قطعی قواعد و ضوابط سے اس کا ’منکر‘ ہونا ثابت ہو۔ اس ’منکر‘ کا منکر ہونا محض راے اور اجتہاد سے ثابت نہ ہوتا ہو کیونکہ راے اور اجتہاد درست بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی۔ یہ زمانے، مقام، اور حالات و رواج کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں۔
اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اس برائی کے ’منکر‘ ہونے پر سب کا اتفاق ہو۔ ایسے امور جن کے بارے میں قدیم یا جدید علماے اجتہاد کا اختلاف ہو، یعنی اس امر کے جائز ہونے اور ممنوع ہونے کے بارے میں علما متفق نہ ہوں، تو یہ اُس ’منکر‘ کے دائرے میں داخل نہیں جس کو ہاتھ کی قوت سے روکنا، خصوصاًانفرادی سطح پر روکنا واجب ہے۔
تصویر، آلات یا غیر آلات کی موسیقی، عورت کا چہرے اور ہتھیلیوں کو نہ چھپانا، عورت کا عدالتی امور کے مناصب پر تقرر، ایک ہی دن روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا معاملہ جو مطالع کے اختلاف کی وجہ سے سامنے آتا ہے، چاند کو آنکھ سے مشاہدہ کرنا یا ریڈار اور کیلنڈر وغیرہ کی مدد سے یہ حساب قائم کرنا وغیرہ ایسے امور اور مسائل ہیں جن کے بارے میں قدیم اور جدید فقہا کا طول طویل اختلاف موجود ہے۔ ان امور میں کسی مسلمان فرد یا مسلمان جماعت کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ کسی ایک راے کو اختیار کر کے دوسروں کو سختی کے ساتھ اس پر مجبور کرے۔
یہاں تک کہ جمہور اکثریت کی راے اقلیت کی راے کو ساقط اور بے اعتبار نہیں کر سکتی خواہ مخالفت میں صرف ایک فرد ہی کیوں نہ ہو۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ فرد اہل اجتہاد میں سے ہو، یعنی اس کے اندر مجتہدانہ صفات اور صلاحیتیں موجود ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک زمانے اور عہد میں ایک راے متروک ہوتی ہے، لیکن کسی دوسرے عہد میں اس کا رواج ہو جاتا ہے۔ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی فقیہ کی راے کو اس کے دور میں ضعیف قرار دیا گیا اور بعد میں کوئی پیدا ہوا جس نے اس راے پر دلائل قائم کیے اور اس کو صحیح اور قوی کے مقام پر لا کھڑا کیا۔ پھر یہی راے قابل اعتماد قرار پائی اور اسی کی بنیاد پر فتوے دیے جانے لگے۔
طلاق اور خاندانی معاملات میں امام ابن تیمیہؒ کی آرا کا معاملہ ایسا ہی ہے۔ انھیں زندگی بھر ان آرا کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وفات کے بعد بھی صدیوں اُن کی راے کے خلاف مزاحمت ہوتی رہی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کے پھیلنے کے اسباب پیدا فرمائے اور یہی آرا بہت سے اسلامی ممالک میں فتویٰ، عدالت اور قانون سازی کے شعبوں میں سند قرار پائیں۔
وہ ’منکر‘ جس کو طاقت سے روکنا واجب ہے، اس کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ ثابت اور بین ’منکر‘ ہو۔ مسلمان ائمہ کا اس کے ’منکر‘ ہونے پر اتفاق ہو۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا روکنا شر کے لامتناہی سلسلے کا باعث نہ بن جائے۔ لہٰذا جو شخص بھی برائی کو روکنے کے بارے میں راے رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ لوگوں کو آمادہ کرے کہ وہ اس برائی کو طاقت سے روک دیں۔
بعض اسلامی ممالک میں جوشیلے اور جذباتی نوجوانوں کے گروپ بنے ہوئے ہیں تاکہ اُن دکانوں کی توڑ پھوڑ کریں جو بچوں کے کھلونے اور گڑیائیں فروخت کرتی ہیں۔ ان نوجوانوں کا خیال ہے کہ یہ کھلونے اور گڑیائیں بت ہیں اور مجسمے کی شکلیں ہیں جو کبائر میں بھی سب سے اُوپر کا درجہ رکھتے ہیں۔
جب ان نوجوانوں سے کہا جاتا ہے کہ قدیم علما نے بچوں کے کھلونوں کی اجازت دی ہے کیونکہ ان میں تو ’صورت‘ [تصویر] کی توہین اور اس کی تعظیم کی نفی ہے___ اس پر نوجوانوں کا جواب ہوتا ہے کہ یہ راے تو قدیم کھلونوں کے بارے میں تھی۔ اب تو تصویر کی کامل تر صورت سامنے آ گئی ہے، جس میں کھلونا آنکھیں کھول سکتا اور بند کر سکتا ہے۔جب ان نوجوانوں سے یہ کہا گیا کہ بچہ تو ان کھلونوں کو دائیں، بائیں پھینکتا ہے، ان کا بازو توڑ دیتا ہے، ٹانگ الگ کر دیتا ہے، وہ تو انھیں تعظیم و احترام یا تقدس نہیں دیتا، تو ان نوجوانوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔
اسی طرح کئی اسلامی ممالک میں بعض نوجوانوں نے رمضان کا چاند نظر آ جانے پر ہوٹلوں، جوس کی دکانوں اور قہوہ خانوں کو جبراً بند کرانے کی کوشش کی۔ ان جذباتی نوجوانوں کا خیال تھا کہ رمضان شروع ہو چکا لہٰذا اب کھلے عام کھانا پینا جائز نہیں۔
ایسا ہی واقعہ مصر میں بھی عیدالفطر کے موقع پر پیش آیا تھا، جب دینی حلقوں نے مختلف دلائل کی بنیاد پر یہ کہا تھا کہ شوال شروع نہیں ہوا۔ مطلع ابرآلود ہونے کے سبب اس رات چاند کی رؤیت ممکن نہیں تھی، لہٰذا مصر میں چاند دکھائی نہ دیا۔ مگر بعض حلقوں نے چاند نظر آ جانے کا اعلان کر دیا، تو کچھ نوجوانوں نے اصرار کیا کہ وہ روزہ چھوڑ دیں گے اور قوم کی اکثریت اور حکومت کے علی الرغم عیدمنائیں گے۔ اس موقع پر امن فورسز کے ساتھ تصادم ہو گیا جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔
میری راے میں یہ لوگ درج ذیل وجوہات کی بنا پر خطا کے مرتکب ہوئے ہیں:
۱۔ فقہا کی آرا چاند کی رؤیت پر اعتماد کرنے کے حوالے سے مختلف ہیں۔ ان میں سے کسی نے ایک شہادت کو کافی سمجھا ہے، کسی نے دو شہادتوں کا مطالبہ کیا ہے اور کسی نے صاف مطلع میں جم غفیر کی شہادت کی شرط عائد کی ہے۔ ان میں سے ہر کسی کے اپنے دلائل اور اپنا زاویۂ نظر ہے۔ لہٰذا لوگوں کو بغیر کسی قوت نافذہ کے ایک طریقے پر مجبور کرنا جائز نہیں۔
۲۔اسی طرح ان فقہا کا اختلافِ مطالع کے اعتبار اور عدم اعتبار کے مسئلے میں بھی اختلاف ہے۔ متعدد فقہی مذاہب کی راے یہ ہے کہ ہر علاقے کی رؤیت اپنی ہے۔ کسی ایک علاقے کے لیے کسی دوسرے علاقے کی رؤیت پر عمل کرنا لازمی نہیں ہے۔ یہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور ان کے موافقین کا مذہب ہے۔ جیسا کہ یہ مسلم میں حضرت کریبؓ کی حدیث سے معروف ہے۔
۳۔ اختلافی امور میں حکمران یا قاضی کا حکم اختلاف کا خاتمہ کر دیتا ہے اور قوم کے لیے اس کا حکم ماننا لازمی ہوتا ہے۔ لہٰذا اس طرح کے مسائل میں جب مقتدر قانونی قوتیں کسی امام کے قول یا اجتہاد کو اختیار کر لیں تو ان کی پیروی فرض اور قوم کے اندر فرقہ بازی ممنوع ہو جاتی ہے۔
میں نے اپنے بعض فتاویٰ میں کہا ہے کہ اگر ہم رمضان کا روزہ شروع کرنے اور عید منانے کے معاملے میں تمام مسلمانوں کی وحدت کو ممکن نہیں بنا سکتے تو کم سے کم ایک علاقے یا ملک کے لوگ تو اپنے شعائر میں اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ اُن کے لیے یہ صورتِ حال قابل قبول نہیں ہونی چاہیے کہ ایک ملک کے لوگ دو حصوں میں بٹے رہیں۔ ایک حصہ روزے سے ہو اور دوسرا روزے کے بغیر۔ لیکن مخلص نوجوانوں کی اس اجتہادی غلطی کا علاج گولی نہیں ہے، بلکہ صبر و تحمل کے ساتھ اُنھیں بات سمجھانا ہے۔

* منکر کا ظاہری ارتکاب: دوسری شرط یہ ہے کہ منکر کا ارتکاب ظاہری ہو، خفیہ نہ ہو، یعنی اس منکر کا ارتکاب ظاہر اور دیکھا جا سکنے والا ہو۔ اگر کوئی شخص اسے لوگوں کی نظروں سے چھپائے رکھتا ہے اور اپنے بند دروازے کے اندر ایسا کرتا ہے تو کسی کے لیے اس کے بارے میں نگرانی کے آلات یا خفیہ تصویری کیمروں یا منکر کے ارتکاب کے شک میں اس کے گھر پر چھاپہ مارنا جائز نہیں ہے۔
یہ وہ نکات ہیں جن کی نشان دہی حدیث کے یہ الفاظ کرتے ہیں: مَنْ رَأی مِنْکُم مُنْْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہٗ۔۔۔ ’’جو تم میں سے کسی منکر کو دیکھے وہ اُسے بدل دے۔۔۔‘‘ یعنی روکنے کا حکم منکر کے دکھائی دینے اور مشاہدے میں آ سکنے سے مشروط ہے۔ منکر کے بارے میں کسی سے صرف سن لینے کی شرط نہیں لگائی گئی۔
ایسا کیوں ہے؟ اس لیے کہ اسلام اس شخص پر سزا کو نافذ نہیں کرتا جو ’منکر‘ کا ارتکاب چھپ چھپا کر کرے، علی الاعلان نہ کرے۔ اسلام اس کا حساب آخرت میں اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ دنیا میں اس کے اُوپر کسی کو کوئی اختیار نہیں، سواے یہ کہ وہ خود اپنے جرم کو ننگا کر دے اور اپنا پردہ ظاہر کردے۔
عذابِ الٰہی کے بارے میں تو یہاں تک ہے کہ جس شخص کے جرم پر اللہ کی طرف سے پردہ پڑا ہوا ہے اور وہ خود بھی اُسے ظاہر نہیں کرتا تو ایسے مجرمین کی سزا میں تخفیف کر دی جائے گی۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے: ’’میری پوری امت کو معاف کیا جا سکتا ہے مگر معصیت کا علی الاعلان ارتکاب کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا‘‘۔
یہی وجہ ہے کہ خفیہ منکرات کے بارے میں کسی کو کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ خفیہ منکرات میں سرفہرست قلبی معصیات: ریاکاری، نفاق، کبر، حسد، بخل اور غرور وغیرہ ہیں۔ اگرچہ دین نے ان گناہوں کو کبیرہ قرار دیا ہے، لیکن یہ اُس وقت کبیرہ بنتے ہیں جب ظاہری عمل میں ڈھل کر سامنے آ جائیں، اور ایسا اس لیے ہے کہ ہمیں ظاہری صورتِ حال پر راے دینے اور خفیہ صورتِ حال کو اللہ پر چھوڑ دینے کا حکم ہے۔
حضرت عمرؓ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس سلسلے کے عمدہ واقعات میں سے ہے۔ یہ واقعہ امام غزالیؒ نے احیاء علوم الدین میں ’الامر بالمعروف و النہی عن المنکر‘ کے تحت بیان کیا ہے۔
حضرت عمرؓ دیوار پھلانگ کر ایک آدمی کے گھر میں چلے گئے اور اُس آدمی کو ناپسندیدہ حالت میں دیکھاتو اسے ڈانٹ ڈپٹ کی۔ آدمی نے کہا: امیر المومنین! اگر میں نے ایک پہلو سے اللہ کی نافرمانی کی ہے، تو آپ نے تین پہلوؤں سے نافرمانی کی ہے۔ امیر المومنین نے پوچھا: وہ کیسے؟ آدمی نے کہا: اللہ نے فرمایا ہے: وَلَا تَجَسَّسُوا (الحجرات۴۹:۱۲) ’’تجسس نہ کرو‘‘، جب کہ آپ نے تجسس کیا ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِھَا (البقرہ ۲:۱۸۹) ’’گھروں میں اُن کے دروازوں سے داخل ہو‘‘،جب کہ آپ دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے ہیں۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: لَا تَدْخُلُوْا بُیُوتًا غَیْرَ بُیُوتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوا وَتُسَلِّمُوْا عَلآی اَہْلِہَا (النور۲۴:۲۷) ’’اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھروالوں کی رضا نہ لے لو اور گھروالوں پر سلام نہ بھیج لو، جب کہ آپ نے سلام نہیں کیا۔۔۔ آدمی کے اس جواب پر حضرت عمرؓ نے آدمی کو توبہ کرنے کی شرط پر چھوڑ دیا۔ (احیا علوم الدین،ج۷، ص ۱۲۱۸،طبع الشعب، القاہرہ)

* منکر کو روکنے کی طاقت: تیسری شرط یہ ہے کہ منکر کو روکنے کی بالفعل طاقت رکھتا ہو۔ گویا منکر کو روکنے والا ذاتی طور پر یا اپنے ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ مل کر بالفعل یہ طاقت رکھتا ہو کہ منکر کو قوت سے روک سکے۔ اس کے پاس مادی اور معنوی طور پر یہ قوت ہو کہ وہ آسانی کے ساتھ منکر کا ازالہ کر سکے۔
یہ شرط بھی زیر بحث حدیث کے ان الفاظ سے ماخوذ ہے فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانہٖ ’’جو طاقت نہ رکھتا ہو وہ زبان سے روکے‘‘ یعنی جو شخص برائی کو اپنے ہاتھ کی قوت سے نہیں روک سکتا وہ اس کام کو ان لوگوں کے لیے چھوڑ دے جو اس کی طاقت رکھتے ہیں۔ وہ خود صرف زبان و بیان پر ہی اکتفا کرے اور وہ بھی اگر اس کے بس میں ہو تو۔
یہ کام غالباً ہر صاحبِ اختیار اپنے دائرۂ اختیار میں کر سکتا ہے۔ خاوند اپنی بیوی، باپ اپنی اولاد، سرپرست اپنے زیر سرپرستی افراد، کسی ادارے کا سربراہ اپنے ادارے کے اندر اور امورِحکومت کے ذمہ داران اپنی ذمہ داری اور اتھارٹی کے حدود اور اپنے اختیار کے حدود میں رہتے ہوئے کر سکتے ہیں۔ کیونکہ بعض اشیا و امور کا فیصلہ ذمہ دارانِ حکومت کے بس میں بھی نہیں ہوتا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کا معاملہ اس مسئلے میں بہت واضح مثال ہے، یعنی وہ موروثی نظام سے ہٹ کر عنانِ حکومت کو مسلمانوں کی شوریٰ میں نہیں لوٹا سکے۔
ہم نے اس شرط کے آغاز میں ’مادی و معنوی‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ خاوند کا اپنی بیوی پر یا باپ کا اپنی اولاد پر اختیار اس لیے نہیں ہے کہ وہ مادی قوت کا مالک ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر ہے کہ اس کا ایک احترام اور ہیبت ہوتی ہے جو اس کی بات کو منواتی اور اس کے حکم کو نافذ کرتی ہے۔
* فتنہ وفساد کا خدشہ: چوتھی شرط یہ ہے کہ کسی بڑی برائی کے پیدا ہونے کا خدشہ نہ ہو۔گویا ’منکر‘ کو طاقت سے روکنے یا اسے ختم کرنے کے نتیجے میں کوئی بڑی برائی پیدا ہو جانے کا ڈر نہ ہو، کہ یہ فعل ایسے فساد کا باعث بن جائے جس میں بے گناہوں کا خون بہہ جائے، حرمتیں پامال کی جائیں، مال و دولت لوٹ لی جائے اور آخری نتیجہ یہ نکلے کہ برائی اپنے قدم مزید مضبوط کر لے اور ظالم و متکبر زمین میں ظلم و فساد کا بازار گرم کر دیں۔
علما نے اسی بنا پر اس ’منکر‘ پر خاموشی کو جائز ٹھیرایا ہے جس کو روکنے کے نتیجے میں اُس سے بھی بڑی برائی پیدا ہونے کا ڈر ہو۔ یہاں کم تر ضرر کے ارتکاب اور کم تر شر کے اختیار کا اصول نافذ ہوتا ہے۔ اس بارے میں صحیح حدیث بھی موجود ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا: ’’اگر تمھاری قوم سے تمھیں پہنچنے والے شر کا مجھے خوف نہ ہو تو میں کعبہ کو ابراہیمی بنیادوں پر استوار کر دوں‘‘۔
قرآنِ مجید میں بھی اس نکتے کی تائید میں واقعہ موجود ہے۔ حضرت موسیٰؑ جب اپنے رب سے وعدے کے مطابق ۴۰راتیں گزارنے کے لیے قوم سے دور چلے گئے تو اُن کی غیر موجودگی میں یہودی جادوگر سامری نے قوم کو سنہری بچھڑے کے فتنے میں مبتلا کر دیا۔ حضرت موسیٰؑ کے شریک نبوت بھائی حضرت ہارون ؑ نے قوم کو وعظ و نصیحت کی مگر وہ باز نہ آئے اور سامری کے پیچھے چل پڑے۔ کہنے لگے: لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْہِ عٰکِفِیْنَ حتّٰی یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰی(طٰہٰ۲۰:۹۱)، ’’ہم تو اِسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسٰی ؑ ہمارے پاس واپس نہ آ جائے۔‘‘
جب حضرت موسٰی ؑ میعاد پوری کر کے واپس آئے اور قوم کو اس ’بچھڑے کی عبادت‘ جیسی بدترین برائی میں مبتلا دیکھا تو بھائی کو اُن کی سستی اور عدم توجہی پر زَدوکوب کرنے لگے۔ اُن کی داڑھی پکڑ لی اور شدت غضب میں کہا:
قَالَ یٰھٰرُوْنُ مَا مَنَعَکَ اِذْ رَاَیْتَھُمْ ضَلُّوْٓا۔ اَلَّا تَتَّبِعَنِ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ۔ قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ(طٰہٰ۲۰: ۹۲۔۹۴)، ’’موسٰی ؑ (قوم کو ڈانٹنے کے بعد ہارون کی طرف پلٹا اور) بولا ’’ہارونؑ ، تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں تو کس چیز نے تمھارا ہاتھ پکڑا تھا کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو؟ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی‘‘؟ ہارونؑ نے جواب دیا ’’اے میری ماں کے بیٹے، میری داڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سر کے بال کھینچ، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ تو آ کر کہے گا: تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا‘‘۔
اس واقعے میں حضرت ہارون ؑ کے عمل سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انھوں نے اپنے بڑے بھائی حضرت موسٰی ؑ کی غیر موجودگی میں قوم کی وحدت اور یک جہتی کو محفوظ رکھنا مقدم سمجھا اور خیال کیا کہ بھائی کے آ جانے پر باہمی سوچ بچار کے بعد دیکھیں گے کہ حزم و احتیاط اور حکمت و دانائی کے متقاضی اس خطرناک موقف سے کس طرح نپٹنا ہے۔
یہ چار شرائط ہیں___ جو شخص بھی برائی کو ہاتھ کی قوت سے یا دوسرے الفاظ میں ناگزیر مادی قوت سے روکنا چاہتا ہو اس پر ان شرائط کو پورا کرنا فرض ہے۔

جب منکر کا ارتکاب حکومت کر رہی ہو
منکر کو روکنے کے مسئلے میں ایک مشکل یہ بھی کھڑی ہو جاتی ہے کہ جب صاحبِ قوت اور صاحبِ اختیار، یعنی حکومت ہی برائی کی مرتکب ہو تو پھر افراد اور جماعتیں اُس منکر کو کیسے روکیں جس میں حکومت ملوث ہو یا حکومت اس کی پشت پناہی کر رہی ہو؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ افراد اور جماعتیں پہلے اتنی قوت کی مالک بنیں جو برائی کو روک سکے۔ عہد حاضر میں تین طاقتوں میں سے ایک کے ذریعے ہی یہ ممکن ہے۔ وہ حسب ذیل ہیں:

۱۔ مسلح افواج: یہ وہ طاقت ہے جس کا سہارا عہد حاضر کے بہت سے ملک لیتے ہیں۔ خصوصاً تیسری دنیا میں اپنے حکم نافذ کرنے، سیاست کا سکہ بٹھانے اور اپنے مخالفین کو آتش و آہن کے ذریعے خاموش کرنے کے لیے اسی قوت سے کام لیتے ہیں۔ ان حکومتوں کے نزدیک مناسب، محفوظ اور معقول راستہ دلیل و منطق اور بات چیت کا نہیں بلکہ قوت کا ہے۔ یہ قوتیں جس کے ساتھ ہوں گی اس کے لیے قومی دھارے کے رخ کو بدلنا یا روک دینا ممکن ہو گا۔ اس کا مظاہرہ ماضی قریب میں بہت سے ممالک میں کیا گیا اور آئے روز کہیں نہ کہیں ہوتا رہتا ہے۔
۲۔ پارلیمنٹ: مروّجہ جمہوری نظام حکومت میں غالب اکثریت رکھنے والی پارلیمنٹ کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ قانون بنا بھی سکتی ہے اور تبدیل بھی کر سکتی ہے۔ خالص حقیقی جمہوری نظام کے تحت یہ اکثریت جس کو بھی حاصل ہو جائے اس کے لیے ممکن ہے کہ وہ قانون سازی کے بعد اس کو نافذ کر کے اُن تمام منکرات کو روک سکتی ہے جو اُسے نظر آئیں۔ پھر کسی وزیر، سربراہِ حکومت، یا سربراہِ ریاست کے بس میں نہیں ہوتا کہ وہ پارلیمنٹ کے سامنے ’نہ‘ کہے۔

۳۔ قومی سطح کی فیصلہ کن عوامی قوت: یہ عوام کی ملکی سطح کی ایسی فیصلہ کن قوت ہوتی ہے جسے اجتماع سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ جب یہ قوت حرکت میں آ جائے تو کسی میں ہمت نہیں ہوتی کہ اس کا سامنا کرے یا اس کا راستہ روکے۔ یہ قوت اپنی تندی اور تیزی میں ٹھاٹھیں مارتے سمندر یا سب کچھ بہالے جانے والے سیلاب کی مانند ہوتی ہے کہ کوئی شے، حتیٰ کہ مسلح قوتیں بھی اس کے سامنے ٹھیر نہیں سکتیں۔ یہ مسلح قوتیں بھی تو اسی کا حصہ ہوتی ہیں اور یہ عوام ان قوتوں کے افرادِ خاندان، باپ، بیٹے اور بھائی ہی تو ہوتے ہیں۔
جس کے پاس ان تینوں قوتوں میں سے کوئی بھی نہ ہو، اس کے لیے لازم ہے کہ صبر سے کام لے، دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرے، اور روابط کو بڑھانے پر توجہ دے۔ یہاں تک کہ وہ ان قوتوں میں سے کسی ایک کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ جب تک اُسے یہ طاقت حاصل نہیں ہو جاتی وہ اپنی زبان اور قلم، دعوت اور تعلیم، رہنمائی و توجہ اور نصیحت و مشورے کے ذریعے منکر کی روک تھام کا فریضہ ادا کرے، اور اس وقت تک یہ فریضہ ادا کرتا رہے جب تک کہ راے عامہ کو برائی کے انسداد پر یکسو اور یک زبان نہ کر لے جو برائی کے خاتمے کا مطالبہ کرے۔ پھر وہ صاحبِ ایمان آیندہ نسل کی ایسی تربیت کرے کہ وہ برائی کے انسداد کی اس ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو جائے۔ اس نکتے کی طرف حضرت ابو ثعلبہ خشنیؓ کی روایت کردہ حدیث میں اشارہ موجود ہے۔ حضرت ابو ثعلبہ خشنیؓ نے رسولؐ اللہ سے قرآنِ مجید کی اس آیت کے بارے میں پوچھا:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ (المائدہ۵:۱۰۵) ،اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی فکر کرو، کسی دوسرے کی گمراہی سے تمھارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہِ راست پر ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں جواب دیا: تم ایک دوسرے کو اس وقت تک نیکی کی طرف بلاتے اور برائی سے منع کرتے رہو جب تک تم طمع و لالچ کی پیروی، خواہشات کا اتباع، دنیا ہی کو سب کی ترجیح، اور صاحبِ راے کو اپنی راے کے فریب میں مبتلا نہ دیکھ لو۔ اس وقت تم اپنے اوپر ہی توجہ مرکوز رکھو اور عوام کو چھوڑ دو۔ تمھارے بعد ایسے حالات آنے والے ہیں جن میں صبر کرنے والے کی مثال انگارے کو ہتھیلی میں پکڑنے والے شخص کی مانند ہوگی۔ ان حالات میں دین پر عمل کرنے والے کے لیے ۵۰آدمیوں جتنا اجر ہے جو تمھارے جیسے عمل کریں‘‘۔ (ترمذی)
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ ابوداؤد نے بھی اسے ابن مبارک کے حوالے سے روایت کیا ہے۔ ابن ماجہ، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عتبہ بن ابی حکیم سے روایت کیا ہے۔ بعض روایات میں ’’تم ایسے امور دیکھو جن کو روکنے کی طاقت نہ ہو‘‘ کے الفاظ بھی ہیں۔

’منکر‘ کے ازالے میں نرمی کی ضرورت
یہاں ایک اور مسئلہ بھی ہے جس کو ہم فراموش نہیں کر سکتے، اور وہ یہ ہے کہ منکر کے ازالے میں نرمی، اور اس کے مرتکب لوگوں کو معروف کی دعوت دینے کی ضرورت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس نرمی کی وصیت کر رکھی ہے اور ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کر دی کہ اللہ تعالیٰ ہرمعاملے میں اس کو پسند کرتا ہے، اور یہ نرمی جس معاملے میں بھی آ جائے اُسے حسن عطا کر دیتی ہے اور جس معاملے سے نکل جائے اُسے بدنما بنا دیتی ہے۔
اس سلسلے میں بیان کیا گیا ایک واقعہ امام غزالیؒ نے احیاء علوم الدین میں ذکر کیا ہے کہ ایک آدمی مامون الرشید کے پاس آیا تاکہ اسے نیکی بدی کے بارے میں وعظ و نصیحت کرے۔ آدمی نے بات شروع کی تو اس کی گفتگو میں شدت آتی گئی اور اس نے مامون کو ’اے ظالم‘، ’اے فاجر‘ کے الفاظ کہہ کر مخاطب کیا۔ مامون بڑا سمجھ دار اور حلیم الطبع تھا۔ اس نے آدمی کا جواب اُسے سزا کی صورت میں نہ دیا جیساکہ حکمرانوں کا وتیرہ ہوتا ہے، بلکہ کہا: کچھ نرمی سے کام لو۔ اللہ تعالیٰ نے تجھ سے بہتر شخص کو نبی بنا کر مجھ سے بدتر لوگوں کی طرف بھیجا، اور اُسے نرمی کا حکم دیا۔ حضرت موسٰی ؑ اور ہارون ؑ کو جو دونوں تجھ سے بہتر ہیں، فرعون کی طرف مبعوث کیا جو مجھ سے بدتر ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے دونوں پیغمبروں سے کہا:
اِذْھَبَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی oفَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی (طٰہٰ۲۰:۴۳،۴۴) ، جاؤ تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہو گیا ہے۔ اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔
غور کیجیے کہ اس آیت میں حرف امید (لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی) شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے، اس کے باوجود استعمال کیے کہ فرعون کی سرکشی اور باغیانہ روش کا بھی دوسری جگہ تذکرہ بھی کیا (اِنَّہٗ طَغٰی اُس نے سرکشی کی)۔ ان حروف امید کا یہاں استعمال اس بات کی دلیل ہے کہ داعی کے شایانِ شان نہیں کہ وہ اپنے مخاطبین کے بارے میں امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دے، خواہ وہ کفر و ظلم کے راستے پر ہی چل رہے ہوں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلسل نرمی اور شائستگی کے ساتھ دعوت دے نہ کہ سختی و شدت کے ساتھ لوگوں کو حق کی طرف بلائے۔

جزوی برائیوں کا انسداد مرض کا علاج نہیں
میں یہاں اس بات سے آگاہ کرناضروری سمجھتا ہوں جو مسلمانوں کی اصلاح کے عمل میں مصروف لوگوں کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے پسماندگی، مغربی استعمار، آمروں اور سیکولر حکومتوں کے ادوار میں جس ٹوٹ پھوٹ سے دوچار ہوئے ہیں، اس تخریب کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ ان اثرات کو ختم کرنے کے لیے جزوی برائیوں کا ازالہ کافی نہیں ہے۔ مثلاً رقص و سرود کی محفلیں، عورتوں کا راستوں میں اظہار زینت کے ساتھ آنا جانا، آڈیو ویڈیو کیسٹوں کی فروخت وغیرہ اگرچہ نامناسب ہیں، جائز نہیں ہیں، مگر صرف انھی برائیوں کے خاتمے سے معاشرے کی اصلاح ناممکن ہے۔ معاملہ ان سے بھی بڑا اور عظیم ہے جو کامل، وسیع تر اور گہری بنیادوں پر تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے___ ایسی تبدیلی جو افکار و تصورات، اقدار و معیارات، اخلاق و اعمال، آداب و روایات اور قوانین و ادارہ جات سب کا احاطہ کرتی ہو۔
اس سے پہلے مسلسل تعلیم، دائمی تربیت اور بہترین نمونوں کے ذریعے لوگوں کا اندر سے تبدیل ہونا ضروری ہے۔ جب لوگ اپنے آپ کو تبدیل کر لیں گے تو اس کے اہل قرار پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مسلّمہ قانون کے مطابق انھیں تبدیل کر دے، یعنی: اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ (الرعد۱۳:۱۱) ’’ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی‘‘۔ 
علامہ یوسف القرضاوی
(ترجمہ: ارشاد الرحمٰن، بحوالہ qaradawi.net)


Thursday, January 3, 2013

Unpleasant twists


PAKISTAN has been making almost heroic efforts over the last few months to put its relations with Afghanistan on an even keel and make a vital contribution to the reconciliation process that the Afghan government ostensibly wishes to move forward.

Given these efforts, the recent incidents on the Pak-Afghan border involving the beating up by Afghan security personnel of 29 Pakistanis returning to their workplace in Afghanistan has come as an unpleasant shock.

It is of course possible that the Afghan security guards were acting on behalf of the Afghan employer who wanted to avoid having to pay the salary arrears and benefits the Pakistanis were demanding. This would be no more than the misuse of official power at a subordinate level that unfortunately is common throughout our region and of which we have seen numerous examples in the Gulf countries.

It invited the sort of retaliation that was to be expected — relatives of the aggrieved workers beat up some 30 Afghans who probably had no link to the offending security personnel and which did little to improve relations between the two countries at a people-to-people level.

The second incident in which two Pakistani truck drivers were again beaten up seems to suggest that despite the protest Pakistan lodged and despite the consequent closure of the border by the Pakistan authorities for six hours the Afghan government took no steps to prevent the recurrence of such incidents at the Torkham border.

The subsequent closure of the border for two days did result in the Afghan ambassador promising that the incidents would be investigated and that the perpetrators punished but this too happened as far as one can see in a grudging manner.

In reporting on the meeting between the Afghan ambassador and the special secretary in Pakistan’s foreign office the slant given was that the fault was on Pakistan’s side, with quotes from Afghan legislators who called upon their government to take up the serious matter of the tearing of Afghan passports but ignored altogether the beating up of the Pakistani workers that had triggered the first border closure. Reporting of this nature will certainly create further ill will.

Why has this happened at this time when the Afghan government has acknowledged, as is evident from the “road map” presented by Salahuddin Rabbani, that Afghanistan needs Pakistan’s cooperation to advance the “Afghan-led and Afghan-owned” reconciliation process? Are there people in Kabul who want to sabotage the slow rebuilding of trust between the two countries and bring to an end Pakistan’s efforts to advance the reconciliation process?

Perhaps this is overly dramatic. Perhaps one should dismiss these incidents as no more than irresponsible behaviour by low-level officials and the biased reporting in the Afghan media as no more than chauvinism.

It does seem to me, however, that Pakistan has been constantly on the defensive in terms of how we treat provocative behaviour on the part of the Afghans.

Because the Afghans object, we have not been able to implement the biometric system to maintain a check on the enormous human traffic across our border.

This is incomprehensible because there can be no doubt that instituting such measures on our side of the border is our sovereign right. It is incomprehensible also because this would, in some measure, address the Afghan allegations that the Afghan Taliban use Pakistan as a sanctuary.

We have repeatedly proposed both to the Afghans and to the international community that the Afghan refugee camps on our side of the border should be shifted to the Afghan side even while logistic support could continue to be provided from Pakistan. Both the Afghans and the international community in the shape of the UNHCR have rejected this proposal and we have quietly accepted this rejection.

This too is incomprehensible since the UNHCR knows full well the deleterious effect the residents in these camps have on the social fabric of Pakistan. It is incomprehensible also because such a move would also address the Afghan allegation that these camps serve as rest and recreation centres for the Afghan Taliban.

The recent decision to extend the registration of Afghan refugees and allow them to stay for another six months has not elicited gratitude from the Afghans. Instead we have been criticised for not granting them a year’s extension. Now we have reached a point where the overwhelming majority of Afghan refugees boldly proclaim that they have no intention of going back and they will resist any effort to repatriate them.

The Afghan media and officials have been full of praise for the economic assistance that India has provided but there is nary a word of praise for the modest economic assistance that Pakistan has provided and more importantly no favourable mention of the fact that the millions of Afghan refugees we are currently hosting draw, at the minimum of a dollar a day, almost two billion dollars annually from the Pakistan economy. This far exceeds the level of assistance that any other country, with the exception of the US, provides to Afghanistan.

There are words of high praise for the scholarships that India provides but no mention of the much larger number of Afghans who are on scholarship in Pakistani institutes.

Our decision to allow the Afghans to channel their exports to India through Wagah has led not to appreciation but to a demand that Pakistan should somehow arrange for the Afghan trucks engaged in this trade to have a cargo to carry back. We, it is implied, are the villains of the piece because otherwise trade with India would be the panacea for all Afghanistan’s problems.

Have we tolerated all this because we have been consumed with guilt about our mistaken Afghan policies? Or is it because we are a soft state? Or is it because we entertain the mistaken belief that our destinies are so inextricably linked with those of Afghanistan that we must take on the chin everything that the Afghans choose to dish out?
Whatever the past reasoning we must now ensure that our relations are placed on a more even plane and the rules of interstate conduct between two independent sovereign states are observed.

BY NAJMUD DIN SHAIKH; a former foreign secretary.
http://dawn.com/2013/01/02/unpleasant-twists/

شدت پسندی اِن ایکشن

    
قابلِ بحث نظریے کے طور پر شدت پسندی ایک بات مگر دوسری طرف اس کی بربریت اور خوں ریزی ہے۔

اس ضمن میں سن دو ہزار بارہ کے آخری لمحات کی دو مثالیں، جو خاص طور پر اس کی خوں ریزی سے متعلق ہیں۔

پاکستانی طالبان نے بائیس مغوی اہلکاروں کے سر قلم کیے اور نائیجریا میں بوکو حرام کے حملہ آوروں نے بڑی تعداد میں مرد و خواتین اور بچوں کے گلے کاٹ دیے۔

طالبان ہوں یا بوکو حرام، دونوں ہی اسلام کی سر بُلندی کی سوچ پر عمل پیرا ہونے کے دعویدار ہیں۔

 ان دونوں کے درمیان بہت بڑا فاصلہ حائل ہے مگر ان کے تقابل کی بات یہ ہے پوری دنیا میں کتنے سارے مسلمان اسلامی تعلیمات پر کس قدر سخت گیر رویہ اپناتے جارہے ہیں۔

 کھیل ایک منطق پرہونا چاہیے۔

حتیٰ کہ اگر طالبان یہ سمجھتے تھے کہ لیویز اہلکار ‘کافر’ ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے آنکھوں کے سامنے اپنی موت کے مستحق ہیں، بالخصوص حالیہ مثال کی روشنی میں، تو پھر وہ کس اسلامی قانون کے تحت  غیر مسلم جنگی قیدی کے قتل کا جواز پیش کریں گے؟

 وہ اسی پر بس کرنے والے نہیں تھے۔ انہوں نے نہ صرف اس بہیمانہ عمل کی لرزہ خیز وڈیو کو بطور پیغام تیار کیا، جس میں وہ مقتولین کے جسموں کے ساتھ ایسے کھڑے ہیں جیسے فاتح کھلاڑی فتح کی ٹرافی لیے ہو۔

یہاں تک کے ان کا کٹّر دشمن امریکا بھی گوانتانامو بے میں طالبان قیدیوں پر کیے گئے اپنے جسمانی تشدد کو چھپانے کو ترجیح دیتا ہے۔

وہ سید احمد بریلوی ہوں، مولانا مودودی یا پھرمکمل طور پر دیوبند مکتبہ فکر، برصغیر کے کسی سرکردہ علما نے طے شدہ شرعی اصولوں کی روشنی میں، کبھی بھی اس طرح کے قتلِ عام کی حمایت نہیں کی۔

پاکستان میں جنگی قیدیوں کو قتل کرنے کی یہ روایت افغانستان سے آئی ہے جہاں بعض غیر ملکی عسکریت پسندوں نے سوویت جنگی قیدیوں کو قتل کردیا تھا۔

تاہم یہ ایک منفرد واقعہ تھا مگر پھر بھی مرکزی دھارے کے کسی بھی عسکریت پسند گروہ نے اس عمل کو بطور پالیسی اپنانے کا اعلان نہیں کیا۔

اسکول، مسجد، مزار، ہسپتال، مذہبی اجتماعات، امن جرگہ یا پھر میت جلوس ہو۔۔۔ طالبان کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی پر بھی حملہ کرسکتے ہیں اورایسا کرتے ہوئے کسی سے نہیں ڈرتے۔

نائیجریا میں بوکوحرام گروہ ‘مغربی تعلیم’ کا مخالف ہے مگر انہوں نے اس کے خلاف جو طریقہ کار اپنایا وہ نہایت بہیمانہ اور بربریت سے بھرپور وہ عمل ہے جو کبھی قرونِ وسطی کے زمانے میں مروج تھا۔

پاکستان کے لیے یہ نہایت شرم کا مقام ہے مگر سول سوسائٹی نے اس پر چپ سادھ رکھی ہے اور جہاں تک مرکزی دھارے کے جیّد علما کا تعلق ہے تو انہوں نے اس جانب سے نظریں چرا لی ہیں۔

 ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جنہوں نے اس بربریت کی اجازت دی تو دوسرے ان سے خوف زدہ ہیں۔