Featured Post

Terrorism and solution? دہشت گردی اور اس کا حل جوابی بیانیہ ؟

اِس وقت جو صورت حال بعض انتہا پسند تنظیموں نے اپنے اقدامات سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے پوری دنیا میں پیدا کر دی ہے، یہ اُسی فکر کا...

Sunday, April 13, 2014

تکفیری طالبان دہشت گردوں کی اصل حقیقت ... استغفر الله .. The Truth about Life style of Takfiri Taliban

تکفیری طالبان دہشت گردوں کی اصل حقیقت ... استغفر الله ..
دہشت گردوں کو بیرونی امداد حاصل ۔ ان کے پاس دولت کی فراوانی۔ خصوصاً عرب دنیا سے سرکاری کے علاوہ‘ انہیں بے پناہ غیرسرکاری ذرائع سے بھی سرمایہ حاصل ہو رہاا۔ میں یہ بات خود نہیں لکھ رہا بلکہ خیبرپختونخوا کے سابق سیکرٹری داخلہ کے الفاظ بیان کر رہا ہوں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ہماری فوج جب بھی دہشت گردوں کے مقبوصہ علاقوں میں کارروائی کرتی‘ سامنے سے زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا۔ ان کے پاس ایسے ایسے ہتھیا‘ جو پاکستانی فوج کے پاس بھی نہیں آئے۔ بنکرز‘ جدیدترین جنگی تکنیک کے مطابق تعمیر کئے گئے۔ ان میں سے بیشتر نیچے سے پہاڑوں کو کھود کر بنائے گئے اور ان کے دروازے کنکریٹ سے تعمیر کئے گئے‘ جو باہر سے توتے کی ناک جیسے نظر آتے ۔ اس کامطلب یہ تھا کہ ان پر بلندی یا سامنے سے راکٹ یا میزائل اثر نہیں کرتا ‘ کنکریٹ کی توتا ناک سے ٹکرا کر‘ ادھر ادھر ہو جاتا۔ غاروں کے اندر جدید زندگی کا ہر وہ سامان موجودا‘ جو لاہور یا کراچی کے عشرت کدوں میں پایا جاتا ہے
۔میں اندھے اعتقادات رکھنے والوں کے جذبات مجروح نہیں کرنا چاہتا‘ ورنہ باقی تفصیل بیان کرتا‘ تو جذباتی لوگ اپنے ممدوحوں کی غلطیاں تسلیم کرنے کی بجائے‘ مجھ پر چڑھ دوڑتے
اس معاملے میں‘ جتنا کچھ زیرزمین پناہ گاہوں کے اندر ملا‘ وہ صرف جنت میں ہی مل سکتا ہے۔ شراب جنت میں بھی ہوگی‘ مگر اس میں نشہ نہیں ہوگا۔ زمین پر یہ شے نشے کے ساتھ ہوتی ہے۔ جو کچھ میں نے نہیں لکھا‘ سمجھ لیں کہ وہ سب کچھ برآمد ہوتا رہا۔ اس ''سب کچھ‘‘ کی تصویریں اور ویڈیوز موجود ہیں‘ جن کا کچھ حصہ ہمیں دکھایا بھی گیا۔ لیکن ''مومن‘‘ آپس کی لڑائی میں بھی ایک دوسرے کے عیب چھپا لیتے ہیں‘ جیسے مذاکراتی ٹیم کے اراکین نے وہ سب کچھ چھپایا‘ جو طالبان کے ساتھ ملاقاتوں میں انہیں سنایا گیا۔
انہیں اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے‘ امن کے مشن پر کام جاری رکھنا پڑا۔میں پاک فوج کی اس طویل جنگ کا حوالہ دے رہا ہوں‘ جو وہ انتہائی نامساعد حالات میں 6برس سے لڑ رہی ہے۔ اس کے لاتعداد جوانوں اور افسروں نے جام شہادت نوش کیا‘ لیکن بڑھتے ہی چلے گئے اور اب تک 18علاقوں پر طالبان کا قبضہ ختم کر کے‘ وہاں ریاست کی رٹ قائم کر چکے ہیں۔ ان میں سوات اور دیر کے بندوبستی علاقے بھی شامل ہیں۔ اب دہشت گردوں کے مراکز دشوار گزار علاقوں میں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی صورت باقی ہیں۔ ان کا سب سے بڑا مرکز شمالی وزیرستان ہے‘ جنوبی وزیرستان میں بھی دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں۔ مگر 
جنوبی وزیرستان پر ان کا وہ کنٹرول نہیں‘ جو شمالی وزیرستان میں حاصل ہے۔
http://dunya.com.pk/index.php/author/nazeer-naji/2014-04-13/6720/17493678#tab2

Saturday, April 5, 2014

Suicide is Haram, Forbidden in islam - Fatwa by Chief Mufti Saudi Arabia

مفتی اعظم سعودی عرب کا فتویٰ

منیر بلوچ 
سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز کی جانب سے فتویٰ جاری کیا گیا ہے کہ ''قرآن و سنت کی روشنی میں خود کش حملے ناجائز اور حرام ہیں۔ خود کش حملے کرنے والا، خود کُش حملوں کی ترغیب دینے والا یا اکسانے والا دونوں اسلام کی رو سے کفر کا ارتکاب کرتے ہیں‘‘۔ خود کُش حملوں کی حمایت کرنے والے ایک بہیمانہ تصور کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ دینِ اسلام کو بدنام کرنے کے مترادف ہے۔ خود کش حملے کرنے والے اور کرانے والے سمجھ لیںکہ وہ انسانیت کے سب سے گرے ہوئے مقام پر ہیں، ان کے اس غیر انسانی فعل کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کو اقوام عالم میں بدنام کیا جائے تاکہ وہ لوگ جو قرآن کی پاکیزہ تعلیمات اور رسول اﷲﷺ کی حیات طیبہ کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد دین کی طرف مائل ہوتے جا رہے ہیں‘ انہیں اس سے متنفر اور بدگمان کر دیا جائے۔
فتویٰ، فقہ اسلامی کی ایک اہم اصطلاح ہے۔ کسی انفرادی یا اجتماعی معاملے پر کسی مستند عالم دین سے شریعت یعنی اسلامی قانون کے مطابق جو رائے لی جاتی ہے اسے فتویٰ کہا جاتا ہے۔ اسلامی فقہ کا ماہر، درپیش معاملے کی تشریح و توضیح بھی کر دیتا ہے‘ جو اسلامی تعلیمات اور مصلحت سے مطابقت رکھتی ہے۔ فتویٰ دینے والے کو مفتی کہتے ہیں۔ یہ ایسا فرد ہوتا ہے جو شرعی قوانین اور اس کی گہرائیوں کا پورا علم و ادراک رکھتا ہے اور جس کے پہلے دیے گئے فتوے یا اس کی طرف سے جاری کیے گئے بیانات، اسباق اور خطبات کو کسی شک و شبے کے بغیر تسلیم کیا جا چکا ہو۔
سعودی عرب کے مفتی اعظم سے قبل مصر اور سپین کے ممتاز مذہبی سکالرز، قرآن و حدیث کے اساتذہ اور اسلامی فقہ کے مجتہدین کی آراء بھی منظر عام پر آ چکی ہیں‘ جن کے مطابق خود کش حملوں کے ذریعے یا بے گناہ لوگوں کو یرغمال بنا کر قتل کر دینے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان میں جس طرح فوج اور ایف سی کے جوانوں، خالد خواجہ اور کرنل امام کے علاوہ بے گناہ شہریوں کو قتل کیا گیا، اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ۔ قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ کسی بے گناہ مومن کی جان لینے والا ابدی جہنمی ہے۔ جو گروہ خود کش دھماکوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ بتدریج اجتماعی خود کشی کی جانب چل پڑتے ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم کا بدترین حصہ ہوتا ہے۔
اگر طالبان سے ان کے مسلکی نظریات کو ہی سامنے رکھ کر بات کی جائے توکیا وہ جہاد کے بارے میں حضرت ابو بکر صدیقؓ اور دوسرے خلفائے راشدینؓ کے احکام اور ہدایات کو پیش نظر رکھتے ہیں؟ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت میں جب اسلامی لشکر جہاد پر روانہ ہونے لگا تو انہوں نے اسلامی فوج کو جو سب سے پہلا حکم جاری کیا‘ اس میں انہوں نے سخت تاکید کرتے ہوئے فرمایا: '' آپ درختوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گے، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کے خلاف کوئی اقدام نہیں کریں گے اور جو لوگ غیر مقابلین ہیں (جنگ کے میدان میں نہیں آئے) ان سے کسی قسم کا تعرض نہیں کریں گے‘‘۔
رسول کریمﷺ کے مکی دور میں مشرکین اور کفار نے رسول خداﷺ اور ان کے ساتھیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے لیکن حضور نبی کریمﷺ نے ان کے تمام جبر و استبداد کے جواب میں اس طرح کا رویہ اختیار کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ ہر دی جانے والی تکلیف پر صبر و شکر کی تلقین فرمائی، حتیٰ کہ حبشہ اور مدینہ شریف کی طرف ہجرت کر جانے کو ترجیح دیتے ہوئے مظلوم مسلمانوں کو اس کے بدلے میں جنت کے اعلیٰ مقامات کی بشارت دی۔ صبر کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ اپنے موقف پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے اپنا نقطہ نظر انتہائی شائستگی کے ساتھ پیش کیا جائے اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بہتر حالات کا انتظار کیا جائے، اﷲ تعالیٰ یقیناً صبر کرنے والوں کی مدد و اعانت کرتا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کا حکم تو یہ تھا کہ دشمن کے علاقوں میں درختوں کو بھی نقصان نہ پہنچایا جائے، لیکن تحریک طالبان پاکستان کے نام سے 'جہاد‘ کرنے والے کیسے لوگ ہیں جو ہسپتالوں میں بھی خود کش دھماکے کرتے ہیں جہاں دور دور سے آئے ہوئے بے گناہ مریض اپنی بیماریوں اور حادثات میں لگنے والے زخموں کے علاج کے لیے مقیم ہوتے ہیں۔ ان میں بچے، جوان، بوڑھے اور خواتین سبھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ ایسے 'مجاہد‘ ہیں جنہوں نے سکول جانے والے بچوں کی ویگنوں اور گاڑیوں کو بھی نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کیا۔ انہوں نے باغات، بازاروں، ریل گاڑیوں، لاری اڈوں، بزرگان دین کے مزاروں، مارکیٹوں، مساجد اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کی عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا۔ یہ کارروائیاں کرنے والے لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنی مساجد پر تو صحابی رسول حضرت ابوبکر صدیقؓ کا نام گرامی بڑے خوبصورت الفاظ میں نقش کرایا ہوتا ہے اور یہ حضرات اپنی مساجد اور مدارس میں ان کی زندگی کے واقعات کو متبرک سمجھتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو سناتے ہیں، لیکن بدقسمتی کہیے کہ یہ لوگ خود ان کی طرف سے دیے گئے احکامات اور ہدایات کا ذرہ برابر احترام نہیں کرتے ۔۔۔کیا اس بے ادبی پر صحابہ کرامؓ ان سے راضی ہوتے ہوں گے؟
ہماری فوج جو صحرائوں، میدانوں، سنگلاخ پہاڑوں اور برف پوش چٹانوں پر ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے فرائض سر انجام دے رہی ہے، وہ جو وطن کے اندر کسی بھی قدرتی آفت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ تن تیار ہوتی ہے، اس کو مارنے والے کون ہو سکتے ہیں؟ سب جانتے ہیں کہ تھر میں لاکھوں بچے، بوڑھے اور عورتیں بھوک سے بلک رہے ہیں، روزانہ دو یا تین بچے غذائی قلت یا مہلک بیماریوں کا شکار ہو کر لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ ان کی دن رات حفاظت اور ان کے ایک ایک جھونپڑے اور گھر تک راشن اور ادویات پہنچانے کے لیے افواج پاکستان دن رات کام کر رہی ہیں، فوج کی جانب سے قائم کیے گئے فیلڈ اورایمر جنسی ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور نرسیں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ بھوک اور بیماریوں میں مبتلا لوگوں تک راشن اور دوائیں پہنچانے والوں کو نشانہ بنانے والے بتائیں کہ وہ کون سے دین کی خدمت کر رہے ہیں؟ دین اسلام تو ان حرکتوں کی قطعاً اجازت نہیں دیتا، یہ لوگ کس مذہب کے پیروکار ہیں؟ وہ معصوم بچے جن کے تن پر کپڑے نہیں تھے وہ جواں اور بوڑھی عورتیں جو ناکافی لباس کی وجہ سے میڈیا کے کیمروں سے بچ کر کونوں کھدروں میں چھپ رہی تھیں، ان خواتین کو تن ڈھانپنے کے لیے لباس مہیا کرنے والوں کے رستوں میں اگر بارودی مواد رکھ دیا جائے تو ایسا کرنے والے کس طرح اﷲ کے احکامات کی پیروی کرنے والے کہلا سکتے ہیں؟
وہ لوگ جو سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیز اور الازہر یونیورسٹی کے مفتیوں کی جانب سے خود کش حملوں کو حرام قرار دینے کے فتوے کے بعد بھی ناسمجھ لڑکوں سے خود کش حملے کروا رہے ہیں کیا وہ اﷲ اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰٰﷺ پر ایمان لانے کے معیار پر پورے اترتے ہیں؟
http://dunya.com.pk/index.php/author/munir-ahmed-baloch/2014-04-05/6635/44003740#tab2


  1. THE DEVIANT KHAWAARIJ, HTs, TERRORISTS, TAKFIRI JIHADIES ETC - YouTube

    www.youtube.com/playlist?list=PLB183623FD78B96D7


    If a Muslim is aware that someone, maybe another Muslim, is planning to commit an .... that the suicide bombings that go on today are not permitted in Islaam at all. .... The Senior Scholars of Saudi Arabia have refuted Bin Laden BEFORE the ...... Wahhab rahimahullaah, and the current grand mufti of saudi arabia, explains:

The Debate with Zaid Hamid (Aman Muzakrat Ki... by zargham-hyder-9